لائبریری : کرامات اولیاء بعد از ممات
 
Title:      کرامات اولیاء بعد از ممات
Categories:      کُتب
BookID:      21
Authors:      فقیر سید مؒحمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ
ISBN-10(13):      2345456767865
Publisher:      مکتبہ الحسن
Publication date:      1958-62
Edition:      طبع دوم
Number of pages:      48
Language:      Not specified
Price:      0.00
Rating:      0 
Picture:      cover
Ebook:      Download ebook1.jpg
Description:     

کراماتِ اولیاء بعد از ممات 

اولیاء کرام رحمہم اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کی وفات کے بعد کرامات پر ایک بہترین عالمانہ تحقیق کے صدور

ہدیہ تشکر

میں جناب حضرت علامہ مولانا مولوی سید ذکریا شاہ صاحب بنوری مدظلہ العالی کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے رسالہ (کشف الغمہ) مرحمت فرمایا جس کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے

فقیر) محمد امیر شاہ قادری)

یکہ توت پشاور

مصنف کے حالات

آپ کا نام نامی اسم گرامی سید محمد زکریا شاہ بنوری ،والد کا نام سید مزمل شاہ بنوری اور دادا کا نام سید میر احمد شاہ بنوری حنفی پشاوری تھا۔ سید محمد زکریا شاہ بنوری ’’آغا جی‘‘ کے لقب سے مشہور تھے ،آپ کا سلسلہ نسب حضرت سید آدم شاہ بنوری رحمتہ الله علیہ(اجل خلفاء حضرت مجدد الف ثانی سرہندی رحمتہ الله علیہ)سے جا ملتا ہے۔ حضرت آغا جی ذہن کے معقول اور دل کے صوفی تھے۔ انہوں نے معقول و منقول کی کتابیں اکابر علماء سے پڑھیں جو اپنے زمانہ میں فنون کے امام سمجھے جاتے تھے ۔لیکن ہندوستان کی کسی درسگاہ سے باقاعدہ سند یافتہ نہیں تھے۔ آغا جی صاحب مصنف تھے، انہوں نے کرامات اولیاء کے ثبوت میں ایک کتابچہ کشف الغمہ عربی میں تحریر کیا جو ان کی حیات میں شائع ہوا اور جس کا ترجمہ حضرت علامہ مولانا سید محمد امیر شاہ قادری الگیلانی نے ’’کرامات اولیاء بعد ازممات اولیاء‘‘ کے عنوان سے آج سے تقریباً 30 سال قبل شائع کروایا تھا، ادارہ ہذا اس کو دوبارہ شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہاہے۔

آغا جی پر حق تعالیٰ کا جو خصوصی انعام تھاوہ ان کے رویائے صادقہ تھے، جس کو قرآن پاک نے ’’لھم البشرٰی فی الحیٰوۃ الدنیا‘‘ فرمایا ہے، یعنی اس دنیا میں سچے خواب ایک مومن کیلئے حق تعالیٰ کی طرف سے اس کی خوشنودی کا نشان ہیں۔ آغا جی نے ایک ایک خواب کو بڑے اہتمام سے قلمبند کیا اور اس ضخیم مجموعہ کانام ’’المبشرات‘‘ تجویز فرمایا۔ المبشرات کو وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، یہاں تک فرمایا کہ اگر شرع اجازت دیتی تو وصیت کرتا کہ اس کو میرے ساتھ دفن کیا جائے ،وہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کے مبشرات منظر عام پر آئیں کیونکہ

میانِ عاشق و معشوق رمزیست

ان کا ایک رسالہ ’’نفس و روح ‘‘ان کی حیات میں شائع ہو چکا تھا، جو ان کی دقت نظر اور فہم رسا پر گواہ ہے ۔’’مطالع الانوار فی فضائل اہل بیت النبی المختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘بھی آپ کی تصنیف ہے جو آپ نے فصیح عربی میں حب آلِ نبیؐ کا ترکہ چھوڑا ہے ۔اسی طرح ’’ایفاح‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں وحدۃ الوجود و شہود اور مشکلات کلام پر علمی کرامت بھی شستہ اردو زبان میں چھوڑی ہے۔

حضرت سید آدم شاہ بنوری رحمتہ الله علیہ کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے آغاجی کو روحانی ترقی کا شوق و ذوق ورثہ میں ملاتھا، اپنی اس پیاس کو بجھانے کیلئے وہ تلاشِ شیخ میں نکلے۔ گنج مراد آباد میں حاضر ہو کر قطب ارشاد شاہ فضل رحمٰن رحمتہ الله علیہ اور حضرت میاں جی صاحب چشتی رحمتہ الله علیہ ی خدمت میں کچھ عرصہ رہے، یہاں روحانی سیر کے بڑے مشاہدے حاصل ہوئے، پھر بھی طبیعت کا جھکاؤ ارادت تک نہ پہنچ سکا۔ یہاں سے نکل کر سارے ہندوستان بلکہ عراق تک کا سفر اسی غرض سے کر ڈالا مگر قضائے الٰہی کا فیصلہ ان کے حق میں یہی تھا جس پر صادق آئے کہ

نظر ہے ابر کرم درخت صحرا ہوں

کیا خدا نے نہ محتاجِ باغباں مجھ کو

چنانچہ خود ہی مجاہدہ پر کمر بستہ ہوگئے۔ ناسک (موجودہ صوبہ مہاراشٹر کا ایک شہر) کے جنگلوں میں پہاڑکی چوٹیوں پر ہر طرف سے یکسو ہو کر مہینوں چلہ کشی کی اور صوفیوں کی اصطلاح میں فتح حاصل کر کے اورواصل باﷲ ہوکر لوٹے۔ حضرت آغا جی رحمتہ الله علیہ صاحب کشف الکرامات انسان تھے۔ جنگلوں کے درندے اُن کی چاکری کرتے۔ جو بات بے ساختہ ان کی زبان سے نکل جاتی وہ واقع بن کر سامنے آجاتی تھی مگر اپنی حیات کے آخری برسوں میں وہ ان سب زوائد سے دامن جھاڑ کر اور ہر غیر مقصود سے منہ موڑکر صرف مطلوب حقیقی کے اشارہ ’’ارجعی الٰی ربک‘‘ کے منتظرہو بیٹھے تھے،اکثر پرنم آنکھوں کے ساتھ فرماتے کہ اب تومدت سے بس منتظر بیٹھا ہوں کہ کب ادھر سے بلاوا آتا ہے دعا کرو ۔

ضروری گزارش

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ملت اسلامیہ الحاد اور دہریت کے ایک مہیب اور خوفناک دور سے دوچار ہے، ہمارا نوجوان طبقہ خصوصاً اور عوام عموماًنام اورنسل کے اعتبار سے تو مسلمان ہیں مگر تہذیب، وضع قطع اور افعال و کردار کے لحاظ سے قرآن و سنت سے بہت دورہیں۔ آج ہماری آنکھیں اسلام کے ان نوجوانوں کو دیکھنے کیلئے ترس گئی ہیں جن کی نگاہوں میں فرشتوں کا حیاء اور تقدس تھا ،جن کی زبان ہر وقت یادِ الٰہی میں مصروف تھی جن کا دل خوفِ الٰہی سے ہر وقت لرزاں تھا اور جن کا عمل و اعتقاد سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس سنت کا بہترین نمونہ تھالیکن جب ہم اپنے اعمال و اعتقادات پر غور کرتے ہیں تو قلب کو صرف صدمہ ہی نہیں پہنچتا بلکہ شرم کی وجہ سے ہماری گردنیں جھک جاتی ہیں۔ بجائے اسکے کہ ہم قرآن و سنت کی پیروی کریں، ہم اسلام ہی کو فرسودہ سمجھنے لگے ہیں، سنت اورفقہ کا انکار کیا جا رہا ہے، تصوف اور طریقت کا کھلے بندوں مذاق اڑایاجاتا ہے، اولیاء اﷲ کی کرامات کا انکار کیا جاتا ہے اور یہ تمام اعتراضات وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان ہونے کامدعی سمجھتے ہیں ۔اسلام پر تو اس وقت سے ہی اعتراضات ہوتے چلے آرہے ہیں جبکہ مکہ مکرمہ کی گلیوں اور بازاروں میں اس کی تبلیغ شروع ہوئی مگر اﷲ تعالیٰ خود اس دین اسلام کا محافظ اور حامی و ناصر ہے۔اس نے اس کو اتنی قوت بخشی کہ تمام ادیان پر غالب فرمایا۔

اس بات پر دکھ نہیں کہ غیر مسلم اعتراض کرے اور انکار کی راہ تلاش کرے مگر دکھ تو اس وقت ہوتا ہے جب باغبان ہی گل چیں بن جاتا ہے، اس گھر کو گھرکے چراغ ہی خود آگ دکھانے لگے۔ وہ لوگ جو خود کو ضابطہ اسلام کا پابند کہہ کر بھی اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا ہادی اور پیشوا مان کر حضورکے ارشادات سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کو حجت تسلیم کر کے احادیث کا انکار کرتے ہیں ۔کیا یہ دین اسلام کے ساتھ کھلی دشمنی نہیں کرتے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع سے بغاوت نہیں کرتے؟

رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی پہ معاف

آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

عوام تو ہیں ہی عوام،علماء کا یہ عالم ہے کہ علی الاعلان کرامات اولیاء اﷲ کا انکارکرتے ہیں اور کرامت اولیاء اﷲ تسلیم کرنے والوں کو مشرک اور بدعتی کالقب دینے میں ذرا سی جھجک بھی محسوس نہیں کرتے۔

کافی دنوں سے خیال تھا کہ اس مسئلہ پر ایک رسالہ لکھوں ؍اتفاقاً ایک روز حضرت علامہ مولانا سید زکریا شاہ صاحب بنوری مدظلہ العالی سے اس مسئلہ پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے اپنا عربی میں تحریر کردہ یہ رسالہ مرحمت فرمایا جس کا ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہاہوں۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس رسالہ سے لوگوں کے اعتقادات کو درست فرما دے اور اہل حق اہل سنت والجماعت پر قائم رکھے ۔۔۔۔آمین!

نا سپاسی ہوگی اگر مولانا مولوی حافظ عبدالحمید صاحب نقشبندی کا بھی شکریہ ادا نہ کروں جنہوں نے ترجمہ کرنے اور ترتیب دینے میں مدد فرمائی۔

فقیر) محمد امیرشاہ قادری گیلانی)

یکہ توت پشاور

Read online
Please past text to modal
JSN Epic is designed by JoomlaShine.com