Our complete multimedia library is available at alameeria youtube channel, however as youtube has been blocked in Pakistan we plan to replicate the content to other streaming channels which are accessible in Pakistan
Anwar e Ghousia
تذکرہ
علماء و مشائخ سرحد
جلد اوّل
(فقیر ) محمد امیر شاہ قادری
(سجادہ نشین) یکہ توت پشاور
مکتبہ الحسن کوچہ آقہ پیر جانؒ یکہ توت پشاور
دیبا چہ(طبع دوم)
الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ ’’ تذکرہ علماء و مشائخ سرحد ‘‘ (جلداوّل) کی دوسری اشاعت قارئین کے ہاتھوں میں آرہی ہے۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۶۴ء میں ملک دین محمد پریس لاہور سے طبع ہو کر عظیم پبلشنگ ہاؤس خیبر بازار پشاورسے شائع ہوئی جو کہ تاریخ ، دینی اور علمی حلقوں میں بہت ہی زیادہ قبولیت کی نظر سے دیکھی گئی اور تقریباً ایک برس کے اندر اندر فروخت ہو کر بالکل باپید ہوگئی۔
اس کتاب کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب نبی کریم ﷺ کے صدقے میں مآخذ کے اعلیٰ مقام سے نوازا اور پاکستان کے فضلاء ، علماء اور مؤرخین نے اس کی دوبارہ اشاعت پر بہت زیادہ توجہ دلائی۔ اس فقیر کو کتاب کی روز افزوں طلب پر احساس تھا کہ اس سے دوبارہ شائع کیا جائے تاکہ سرحد کے علماء و مشائخ کی پاکیز ہ زندگی سے خواص اور عوام کماحقہ مستفیض ہو سکیں۔ لیکن اس ’’ تذکرہ علماء و مشائخ کی دوسری جلد(جس میں ہزارہ ، مردان اور ضلع پشاور کے علماء و مشائخ کاذکر تھا) کی اشاعت میں مصروف ہوگیا جس کی بدولت پہلی جلد کی دوبارہ اشاعت تعویق میں پڑ گئی ۔ قارئین جانتے ہیں کہ مسودہ کا بیضہ کرنا پھر صوبہ سرحد کی سنگلاخ زمین میں کتابت کے گونا گوں مسائل سے عہدہ برآ ہو نا ، نیز طباعت کے افق کو چھو کر کتاب کو قارئین کے ہاتھوں تک پہنچانا کتنا کٹھن اور مشکل کام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور پیارے محبوب حضورنبی کریم ﷺ کی نظر عنایت سے اس کتاب کی دوسری جلد ۱۹۷۲ء میں منظر عام پر آئی۔ علماء و مشائخ کے مستند حالات زندگی پڑھنے والے حضرات کے سامنے اب اس کتاب کی پہلی جلد دوبارہ پیش کی جارہی ہے یہ فقیر اس ضمن میں ان تمام شائقین علم و ادب اور تاریخ و سوانخ کا انتہائی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اس کوشش کو شاندار طریقہ پر شرف قبولیت بخشا۔ نیز اس سلسلے میں اپنے مخلص اور محترم دوست جناب الحاج منظور الٰہی صاحب قادری زونل چیف سٹی ڈویژن یو۔ بی ایل خلف الرشید جناب کرم الٰہی صاحب قادری مدظلہ کا بھی شکر گزار ہے جنہوں نے اس اشاعت کے جملہ مصارف برداشت کئے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو عزت و کامرانی سے نوازے ۔ آمین ثم آمین
(فقیر) محمد امیر شاہ قادری گیلانی
یکہ توت پشاور شہر
معنون
یہ فقیر ہیچمدان اس کوشش کو اپنے مرشدارشد والد گرامی قدر عزت مآب سید السادات حافظ سید محمد زمان شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے نام نامی سے معنون کرتا ہے ۔
(فقیر) محمد امیر قادری
(سجادہ نشین)
یکہ توت پشاور
۱۱ ذی قعدہ ۱۳۸۳ھ
پیش لفظ
بادشاہوں کے پاس حکومت ہوتی ہے ، دولت ہوتی ہے ، خدم و حشم ہوتے ہیں، فوج او رسپاہ ہوتی ہے اور قوت و اقتدارکے سارے سامان ہوتے ہیں ۔ اس کے باوجود بسا اوقات ان کی حکومت لوگوں کی گردنوں سے آگے نہیں بڑھنے پاتی۔ اس کی سطوت و جبروت کے سامنے بظاہر لوگوں کی گردنیں جھکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مگر بہت کم ایسے خوش قسمت سلاطین ہوتے ہیں جن کی حکومت گردنوں کی حدود سے آگے بڑھ کر دل کی مملکت تک پھیل جائے اور لوگ خلوص نیت سے ان کی حکومت کو تسلیم کرلیں۔
اس کے مقابلے میں ہم ایک ایسے فقیر منش طبقہ کو جانتے ہیں جن کو ایک وقت کے کھانے کا سامان بھی میسر نہیں ہوتا۔ وہ اپنے کھال میں مست اور گدڑی میں مگن رہتے ہیں۔ نہ نوکر نہ چاکر ، نہ مال نہ منال ۔ مگر دنیا کے بڑے بڑے ارباب سطوت ان کے سامنے جانے سے گھبراتے ہیں۔ اور ان کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ایک لفظ اپنے حق میں نوشتہ تقدیر ٹھہراتے ہیں۔ لوگ از خود ان تاجدارن بے تاج اورسلاطین بے سلطنت کے سامنے پورے خشوع و خضوع کے ساتھ جھکتے ہیں۔ ان کے ہر حکم کو سر آنکھوں سے قبول کرتے ہیں اور ان کی ایک جنبش ابرو پر اپنی جان و مال کا متاع گرانبہا نچھاور کردیتے ہیں ۔ روحانی تاجداروں کایہی سر بلند طبقہ ہے جس کا ذکر حافظ شیرازیؒ نے نعت رسولﷺ میں یوں کیا ہے۔
غلام نرگس مست تو تاجدارانند
9خراب بادۂ لعل تو ہوشیارانند
Ïجس سعادت مند روح کو قوت و حیات کو سرچشمہ مل گیا ۔ اس کے پاس بے حساب طاقت اور بے انداز روشنی مبداء ازل سے مسلسل آتی رہے گی ۔ وہ دنیا کے رنج و غم سے آزاد رہے گا۔اور ہر محنت و ابتلاء کو اپنے لئے باعث راحت سمجھے گا۔ الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم و لا ھم یحزنون۔ الذین آمنوا و کانوا یتقون ْ لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا و فی الآخرۃ۔
یہی وہ بزرگوار ہیں جنھیں قرآن مجید نے ’’ اولیا ء اللہ ‘‘ کا پسندیدہ خطاب عنایت فرمایا ہے ۔ آج ہمارے عزیز وطن پاکستان میں اسلام کی جتنی روشنی پھیلی ہوئی ہے اور ہمارے جتنے بھائی دین کے سرفروش جانباز نظر آتے ہیں یہ سب انہی بزرگوں کی کرامت ہے اور انہی روحانی پیشواؤں کی انتھک کوششو ں کا ثمر ہے رضی اللہ عنہم و رضوانہ !
وہ انسان کتنا خوش قسمت ہے جو اس نیک خرقہ کے ساتھ اپنی نسبت قائم کر لے۔ ان کی بارگاہ میں حاضری دیا کرے ۔ ان کی جوتیاں سیدھی کیا کرے اور ان کے نور سے اپنے دل کے چراغ کو منور کرنے کی کوشش کیا کرے ۔ یا کم از کم ان کے سوانح کے مطالعہ میں مشغول رہے اور اسی طرح روحانی طور پر ان کی ہم نشینی کی سعادت حاصل کیا کرے۔ ہم جتنی دیر تک کسی بزرگ کے حالات پڑھتے ہیں اتنی دیر تک اس کی مصاحبت و مجالست سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ ہر دور اور ہر زمان میں نیک لوگوں کی کوشش رہی ہے کہ وہ آسان زبان میں بزرگوں کے سوانح عوام تک پہنچائیں اور ہمارے دوست سید محمد امیر شاہ صاحب قادری کی کتاب تذکرہ علماء و مشائخ سرحد اسی سلسلہ کی ایک اہم اور بیش قیمت کڑی ہے۔
اس کتاب میں سید صاحب نے ان اولیاء اور علماء کے حالات قلمبند کئے ہیں جنھوں نے وادیٔ پشاور میں اسلام کی علمی اور روحانی خدمت کی ہے اور اس علاقہ میں دین کی رفتار کو اپنی وسعت اور حالات کے مطابق تھوڑا بہت آتے بڑھایا ہے۔
پچھلے دو سوسال سے وادیٔ پشاور کے عظیم المرتبت باشندوں نے ان گنت دینی تحریکوں اور سیاسی انقلابات میں نمایاں کارنامے انجام دئیے ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ ان کی پشت پر ایسے ارباب قلم موجو د نہیں تھے جو ان کی قلمی تصویر اتار کر ان کو زندۂ جاوید بنا دیتے ۔ اس طرح بہت ساری بے مثال شخصیتیوں سامنے آئیں اور اپنا فریضہ ادا کر کے رخصت ہوگئیں ۔ زمانہ آگے بڑھ گیا اور وہ پیچھے رہ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج ان کے کارنامے تو موجود ہیں لیکن حالنا مے ناپید ہیں۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
Eتو نے وہ گنجہائے گرانما یہ کیا کئے
7اس لئے ہمیں جہاں اور جس جگہ سے بھی کسی بزرگ کے بارہ میں کوئی لکھا ہو ا حرف ملے وہ ہمارے لئے ’’ آب حیات‘‘ کے برابر ہے اور ہمیں حرز جان بنا کر اسے محفوظ کر لینا چاہیے۔ تغافل کر وقت گذر چکا ۔ اب قوم کے نشاۃ ثانیہ کا دور ہے اس لئے مولانا کی یہ خدمت ہر لحاظ سے قابل صد تحسین و لائق ہزار آفرین ہے کہ انھوں نے مختلف کتب خانوں کو کنگال کر ڈالا اور ان میں سے ہمارے بھولے بسرے بزرگوں کے کافی حالات جمع کئے۔ آپ کے پاس یہ کتاب ایسی حالت میں پہنچ رہی ہے کہ آپ اسے پڑھتے وقت مضامین کی دلچسپیوں اور مسائل کی افادیت میں ایسے منہمک ہوجائیں گے کہ مصنف کو بھول جائیں گے اور اسکی محنت کی داد نہیں دے سکیں گے ۔ سچی محنت کی داد ہمیشہ اسی طرح بیداد کی صورت میں ملا کرتی ہے ۔ مصنف نے پہلے جگہ جگہ سے حالات اکٹھے کئے۔ پھر اپنی ہی تشنگی کو بجھانے کے لئے گلی گلی گھومے ۔ بڑے بوڑھوں اور بڑی بوڑھیوں سے ملے اور جو کچھ ہاتھ لگا اسے آسان اور شستہ زبان میں آپ کے سامنے پیش کیا۔ اور ایک فاضل مصنف بس یہی کچھ کر سکتا ہے۔ اس مجموعہ میں دو قسم کے بزرگواروں کا ذکر آیا ہے۔ ایک وہ حضرات ہیں جن کے سوانح دوسری کتابوں میں مرتب ملتے ہیں ۔ پیرباباؒ، اخوند درویزہؒ، حضرت جی صاحبؒ اور اخوند صاحب صواتؒ اسی قسم کے بزرگ ہیں دوسرے وہ حضرات ہیں جن کا تذکرہ دوسری کتابوں میں نہیں ملتا۔ جیسے حافظ دراز ؒ اور حافظ محمد عظیمؒ مولینا غلام جیلانیؒ حاجی صاحب ترنگزئی ؒ ۔ اس دوسرے میدان میں فاضل مصنف نے جو محنت کی ہے اسے عہد قدیم میں تحقیق یا اجتہاد کہتے تھے۔ اور آج کل اسے ریسرچ کے بارعب نام سے یا دکیا جاتا ہے ۔ اس میدان میں مولانا نے جو محنت کی ہے وہ انہی کی جواں ہمت کا حصہ ہے۔
مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ مصنف نے فرضی کرامات کی داستانیں چھیڑیں، بلکہ بزرگوں کے صحیح اور مستند حالات اور ملی خدمات کا نقشہ پیش کیا جس کے لئے وہ ہمارے ’’ مشکور ‘‘ ہیں
کتاب کی زبان صاف اور سادہ ہے ۔ مصنف جواں سال ہے۔ لیکن تحریر کا طرز پختہ ہے او رہر کام جسے شوق اور خلوص سے کیا جائے اس میں یہ انداز خود بخود پید اہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور قوم کے قلوب کو اس کتاب کی طرف مائل کے کے اسے تمغہ دوام عطافرمائے۔ آمین
حافظ محمد ادریس
ایم۔ اے عربی ( گولڈ میڈلسٹ)
ایم۔ اے فارسی
فاضل ڈابھیل ، مولوی فاضل (میڈلسٹ)
منشی فاضل ، ادیب فاضل
صدر شعبہ عربی، پشاور یونیورسٹی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عرض حال
’’ تذکرہ علماء و مشائخ سرحد‘‘ (جلد اوّل )قارئین کے ہاتھوں میں ہے انشاء اللہ جلد دوم جو ضلع پشاور ، ضلع مردان ، ضلع ہزارہ ، اور جلد سوم جو ضلع کوہاٹ ، ضلع بنوں، اور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علما و مشائخ کے حالات پر مشتمل ہوگی ۔ بتدریج شائع کر دی جائے گی۔
جلد چہارم موسوم بہ ’’ تذکرہ حفاظ قرآن مجید پشاور‘‘ بفضلہ تعالیٰ مکمل ہوچکی ہے۔ اس میں ۱۲۰۰ء سے لے کر اب تک یعنی ۱۳۸۳ھ تک کے حفاظ پشاور کا ذکر ہے۔
’’تذکرہ علماء و مشائخ سرحد‘‘ لکھتے وقت یہ خیال تھا کہ یہ ایک سہل کام ہے مگر جب لکھنا شروع کیا تومعلوم ہو ا کہ یہ کتنا مشکل کام ہے بقول خواجہ شیرازیؒ
کہ عشق آساں نمود اوّل و لے افتاد مشکل ہا
مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اولیاء کرام کی روحانی برکات کی بدولت یہ مشکل کام مجھ جیسے بے بضاعت سے انجام پذیر ہوا۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذالک
’’ تذکرہ علماء و مشائخ سرحد‘‘ نقش اوّل ہے حرف آخر نہیں ۔ سرزمین سرحد وہ مقدس اور پیاری سرزمین ہے ۔ جس میں شریعت ، طریقت ، جہاد فی سبیل اللہ اور آزادیٔ وطن کی جہد و جہد کے وہ چشمے پھوٹے جن سے برصغیر پاکستان و ہند سر سبز و شاداب ہیں۔
انہی مشائخ کرام کی روحانی فیوض و برکات کی طفیل برصغیر پاک وہند میں سلوک و طریقت کی نورانی شمعیں فروزاں ہیں اور انہی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہمیں یہاں اسلام اپنے حقیقی رنگ و روپ میں نظر آرہا ہے۔
انہی نفوس قدسیہ کی برکت ہے کہ آج جگہ جگہ ہدایت و معرفت کی خانقاہیں موجود ہیں اور یہ وہ ہمت اور استقامت کے پیکر تھے جو سیم و زر اور دیگر دنیاوی وسائل سے تہی دست ہونے کے باوجود قرآن ، حدیث ، فقہ، سلوک ، طریقت ، جہادفی سبیل اللہ اور آزادیٔ وطن کا علم بلند کئے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔
یہی وہ الوالعزم مجاہدین تھے جنہوں نے اپنی زہدانہ ، عالمانہ ، مجاہدانہ ضیاء باریوں سے ایک عالم کو منور کیا۔ اور لاتعداد گم گشتگان بادیہ ضلالت کی صراط مستقیم کی طرف راہ نمائی فرمائی ، اور جب بھی کفر ،الحاد،زندقہ ، اور بدعقیدگی کا سیلاب اٹھا تو دین اسلام کے ان مضبوط اور مستحکم قلعوں سے ٹکڑا کر پاش پاش ہوگیا۔
یہی وہ بزرگ شخصیتیں تھیں جن کی گردنیں اللہ جل جلالہ اور حضوررحمۃ اللعالمین ﷺ کے احکام کی پیروی کے سوا کسی اور کے احکام کے آگے نہ جھکیں اور انھوں نے ہمیشہ کلمہ حق کو بلند رکھا۔
بعض اولیاء کرام (رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) کے حالات تو اشارۃ بعض کتابوں میں ملے (اور وہ بھی کرامات و مکشوفات کے ضمن میں) مگر اکثر علماء اور مشائخ کے حالات وکوائف کے لئے انتہائی تلاش ، جستجواور کاوش کرنی پڑی ، بالخصوص علماء کے حالات (جو ابھی تک صوبہ سرحد میں کس نے لکھے ہی نہیں بلکہ اس طرف توجہ نہیں کی ) تو بالکل نایاب اور کم یاب تھے۔
۱۹۶۳ء میں ’’ اباسین آرٹ سوسائٹی پشاور‘‘ نے ’’تذکرہ علما ء و مشائخ سرحد‘‘ کو ۱۹۶۳ء کی بہترین کتاب قرار دے کر اوّل انعام بھی دیا ۔ ذالک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء ۔
میں ان تمام حضرات کا جنہوں نے اس کتاب کی تکمیل اور اشاعت میں ہاتھ بٹایا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ خصوصاً حضرت علامہ مولٰینا مولوی حافظ محمد ادریس صاحب صدر شعبہ عربی پشاور یونیورسٹی کا صمیم قلب سے شکر گذار ہوں۔ جنہوں نے انتہائی مصروفیات کے باوجود کتاب کو مطالعہ فرمایا اور ’’ پیش لفظ‘‘ لکھ کر احسان مند فرمایا۔ نیز محکمہ اطلاعات پشاور (ٹرائبل پبلسٹی برانچ ) نے حضرت پیر باباصاحب کی مسجد اور حضرت اخوند صاحب صوات کے مزار کے بلاک اور وزارت تعمیر نو کراچی نے حضرت اخوند صاحب پنجو(رحمہم اللہ علیہم اجمعین ) کے مزار کا بلاک عنایت فرما کر کتاب کی خوب صورتی میں اضافہ کر نے کا موجب بنے۔میں ان ہردو محکمہ جات کے اس تعاون کا خلوص دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
الحمد للہ کہ کتاب کاغذ کی ہوش ربا گرانی کے باوجود چھپ کر قارئین کے پاس پہنچ چکی ہے۔ اگر اس میں کوئی غلطی یاکمی رہ گئی ہو تو درگزر فرمایا جائے اور اس کے متعلق مجھے مطلع کیاجائے تاکہ آئندہ تصحیح کر دی جائے۔
العذ ر عند کرام الناس مقبول
سگ درگاہ عالیہ قادریہ سید حسن بادشاہ صاحبؒ
(فقیر) محمد امیر شاہ قادری
یکہ توت پشاور
۱۱ ذی قعدہ ۱۳۸۳ھ
۲۶ مارچ ۱۹۶۴ئ
حضرت سید علی ترمذی المعروف پیربابا صاحب ؒ
۹۰۸ھ تا ۹۹۱ھ
آپ کا نام نامی اسم گرامی جناب سید علی ، القاب غواص بحر حقیقت ، غوث خراساں پیربابا اور ترمذ کے رہنے والے ہیں۔ آپ کی پیدائش ’’ قندس‘‘ میں ہوئی ۔آپ کے والد نام سید قنبر علی تھا ۔ آپ کے جد بزرگوار قندس سے آکر ترمذ میں آباد ہوئے ۔ آپ حضرت سیدنا امام حسین ؑ کی اولاد سے ہیں۔
آپ کے والد گرامی سیدقنبر علی ؒ بوجہ زہد و ریاضت ، مشائخیت ، تقویٰ اور ورع کے اپنی نظیر آپ تھے۔ سلسلہ مبارکہ چونکہ پدری تھا ، اس لئے مخلوقات خدا، عوام اور خواص میں آپ کی بہت عزت وتوقیر تھی ۔ اور آپ کو امیر کے نام سے پکارا جاتا، آپ کے جد ، جناب امام المسلمین سیداحمد نورصاحب سجادہ ، متبع سنت تھے، ’’ امر باالمعروف‘‘ ’’ نہی عن المنکر‘‘ کے کرنے میں کمال انہماک رکھتے تھے۔ دنیا کی طرف التفات نہ رکھتے ، اپنی عبادت و زہد میں مصروف رہتے اور بقول حضرت اخون صاحب دوریزہ ؒ حضرت پیر باباصاحبؒ ابتدا عمر میں مجذوب الحال تھے اس لئے آپ پر آپ کے داد صاحبؒ کی نظر کرم بہت زیادہ تھی ۔ اور آپ اکثر فرماتے کہ ’’ یہ دیوانہ مجھے بہت پسند ہے‘‘۔
حضرت پیرباباصاحبؒ کی ابتدائی تربیت آپ کے دادا صاحب نے فرمائی ۔
’’فقیر را بخدمت حضور مشرف ساختہ بودند ، بتحصیل علم تربیت می کردند تاآنکہ تحصیل شرح ملا را در ایام طفولیت از خدمت ایشاں دریافتم‘‘
’’ اس فقیر کو اپنے حضور میں مشرف فرما کہ علم ظاہری سے آراستہ کیا۔ یہاں تک کہ آپ کی خدمت میں رہ کر بچپن کی عمر میں ہی میں نے شرح ملا کو پڑھ لیا‘‘ چونکہ آپ کا ماحول پاکیزگی اور زہد و عبادت کا ماحول تھا اس لئے اس کا اثر آپ کی زندگی پر ضرور ہونا تھا ۔ لہذا آپ بچپن ہی سے زہد و تقویٰ کے حامل تھے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ اس علم ظاہری کے ساتھ ساتھ
’’ و طریقہ زہد و ریاضت دو دل من استحکام یافت‘‘
جس وقت آپ کے دادا جناب سیدنور صاحبؒ کا انتقال ہونے لگا تو آپ نے حضرت پیرباباصاحبؒ کو بلا کر قرآن پڑھنے کا ارشاد کیا۔ آپ نے (یعنی حضرت پیربابانے ) تین مرتبہ سورۂ ’’تبارک الذی ‘‘ تلاوت کی ،اور مجھے فرمایا
’’ اے فرزند ہر برکتے و نعمتے کہ مرا بود ، بعضی آنرا از آباو اجداد نسباًیافتہ بودم بعضی آں را از سلسلہ شریفہ کبرویہ اذناً ہمہ راتبو بخشیدم‘‘
یعنی اے میرے بیٹے ، جو برکت و نعمت مجھے حاصل تھی ، اگر وہ اپنے آباو اجداد سے ازروئے نسب کے حاصل تھی یا سلسلہ کبرویہ میں اجازت کے طور پر ، ان تمام نعمتوں او ر برکتوں کو میں نے تجھے بخشا ، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ
’’ اذن سلسلہ کبرویہ فقیر از نجاست‘‘
یہ سلسلہ کبرویہ ہمارے خاندان میں نسلا بعد نسل جنا ب شیخ جمال الدین کبریٰ سے چلا آرہا ہے۔
اسی اثنا میں آپ کے دادا حضرت امام المسلمین سیداحمد نور یوسف صاحبؒ کا انتقال ہو گیا۔ ۹۳۷ھ میں جب بابر کی وفات ہوئی تو ۹۳۷ھ ۱۳ جمادی الاول میں بمقام آگرہ ہمایوں تخت نشیں ہوا۔ جب یہ ۹۴۶ھ میں واپس کابل آیا تو جناب پیر بابا صاحبؒ کے والد کو بطور تبرک کے اپنے ہمراہ لے گیا۔
ہمایوں ہند پر غلبہ حاصل کر لیا تو آپ کے والد نے آپ کو دربار میں لے جانا چاہا۔ ایک دوبار آپ گئے بھی مگر اللہ جل جلالہ ، کو تو آپ کی ذات مقدس سے اپنے دین کا کام لینا تھا۔ مخلوق خدا کی ہدایت و سبب اور ذریعہ بنانا تھا۔ آپ خود ارشاد فرماتے ہیں۔
’’ اماچوں رب جلیل درشان من آں خواستہ کہ از دنیا و اہل آں مجتنب سازو‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ میرے لئے یہ چاہتے تھے کہ مجھے دنیا اور اہل دنیا سے بچائے۔ چنانچہ ایساہی ہوا۔ آپ نے جس طرح شاہانہ آداب تھے پورا نہ کرتے اور آپ کو ایسی مجالس سے اتنی نفرت ہوئی کہ ایک بار ایسی مجلس سے واپس آتے ہی ان تمام پہناؤں کو اتار کر علما و صلحاء کی طرف لوٹ پڑے اور علم کی تکمیل کرنا شروع کر دیا۔ حتٰی کی تکمیل علوم کر لی ۔ تکمیل علوم کے بعد روحانی فیوض و برکات کے حصول کے لئے آپ پانی پت میں حضرت شاہ شرف الدین قلند رؒ کے مزار پر حاضرہوئے ،اور فیض باطنی سے حضرت شرف الدین قلندرؒ نے آپ کو نواز ا ۔ آپ فرماتے ہیں۔
’’ توجہ حضرت شیخ در دل میں تاثیر پیدا آمد ، وجنبشی ہویدا‘‘
اس تاثیر قلبی کی کیفیت کا یہ نتیجہ نکلا کہ آپ پانی پت سے نکل کر ایک نامعلوم گاؤں میں عبادت و ریاضت میں مصروف ہوگئے۔
چونکہ آپ اکیلے بغیر کسی کو اطلاع کئے گھر سے نکلے تھے لہذا آپ کے والد کو بہت سی پریشانی لاحق ہوئی اور بہت تلاش کے بعد آپ کو دریافت کیا۔ ان لوگوں نے جنھوں نے آپ کو پایا تھا، والد کی خدمت میں پیش کیا۔ والد نے بہت نصیحت فرمائی ، مگر آپ پر کچھ اثر نہ ہوا اور والد سے اجازت لے کر اب بالکل گھر کو چھوڑ دیا، اور تلاش حق کے لئے اللہ تعالیٰ کی معرفت جاننے والوں کے لئے نکلے ۔ حضرت پیربابا صاحبؒ اثناء سفر میں مانک پور پہنچ کر حضرت امام المسلمین وارث علوم انبیاء و المرسلین شیخ سیلونہ ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ کی صحبت میں تحصیل علم میں مشغول ہوگئے۔ آپ فرماتے ہیں۔
’’ تعلیم تحصیل بکتاب ھدایہ رسانیدم‘‘
گویا آپ نے دیگر علوم کے علاوہ علم فقہہ حنفی کی بھی تکمیل کر لی۔
تکمیل کے بعد آپ نے ان سے مرید ہونے کی درخواست کی۔ مگر حضرت شیخ سیلونہؒ نے آپ کو حضرت سالار رومی ؒ کی خدمت میں اجمیر شریف بھیج دیا جب آپ حضرت سالا ر رومیؒ کے پاس پہنچے تو آپ نے حضرت پیر بابا صاحبؒ سے حسب و نسب اور دیگر کوائف دریافت کئے اور آپ نے فرمایاکہ
’’ حصول طریقہ وصول بے کیف جز بطول صحبت مرشد کامل متشرع بحصول نہ پیوندد‘‘
’’ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت متشرع مرشد کامل کی طویل صحبت کے بغیر حاصل نہ ہو سکتی ‘‘ آپ نے نہایت ہی اخلاص و محبت کے ساتھ عرصہ دراز تک آپ کی صحبت بابرکت کو حاصل کیا۔ پھر حضرت سالار رومی ؒ نے حضرت پیرباباؒ کو طریقہ چشتیہ میں خلافت عطا فر ما کر ماذوں فرمایا ۔ صاحب اجازت ہونے کے بعد عوام و خواص آپ پر ٹوٹ پڑے ۔ آپ کے اوراد و اشغال میں فرق آنے لگا، آپ نے اپنے شیخ کی خدمت میں عرض کیا کہ اس مصیبت اور بلا سے مجھے نجات دلائیے ۔ جناب سالار رومی ؒ نے حکم دیا کہ آپ کوہستان کی طرف نکل جائیے۔ اور سلسلہ چشتیہ کو فروغ دیجئے ۔ آپ اجمیر شریف سے کشمیر کی طرف روانہ ہوگئے۔ اثناء سفر میں آپ گجرات کے ایک گاؤں پنڈداؤد میں جب پہنچے ، اس گاؤں کے ایک شخص مسمی کیلاس نے آپ کو دیکھتے ہی تمام گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا ور کہا کہ جس شخص کو میں نے خواب میں دیکھا تھا وہ یہی ہے ۔ اس کی بیان کردہ خواب کے مطابق لوگوں نے آپ کا وہی حلیہ مبارک پایا۔ لوگ آپ کے معتقد ہوگئے اور کافی سے زیادہ بیعت ہوئے۔ ان لوگوں نے آپ کو کہیں بھی جانے نہ دیا۔ چند سال اس علاقہ میں سلسلہ کی اشاعت کرتے رہے ۔ مخلوق کا اژدہام ، آپ کے اوقات عبادت میں خلل انداز ہوا۔ آپ نے پھر یہیں سے واپس اجمیر شریف جانے کا قصد کیا۔
واپسی پر دوبارہ راستے میں آپ کی ملاقات والد گرامی سے ہوئی ۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جبکہ شیر شاہ کے ہاتھوں ہمایوں کو شکست ہوئی اور ہمایوں نے کابل کا رخ کیا۔ اس لاؤلشکر میں آپ کی ملاقات والد سے ہوئی ۔ آپ کے والد جناب سید قنبر علی صاحبؒ نے جب آپ کو ایک عرصہ کے بعد دیکھا اور ایک دوسری کیفیت سے دیکھا تو بہت خوش ہوئے ۔ حضرت پیرباباصاحبؒ فرماتے ہیں ۔
’’ اما آہ تحسر و تاسف میکشید کہ من بر غلط رفتہ بردم، جائی آباؤ اجداد را شما گرفتید ، دردین و دنیا کار ہمیں است کہ تو گرفتی الحمد للہ کہ بدیں رتبہ رسیدی‘‘
یعنی افسو س کرتے ہوئے فرمایا کہ میں غلطی پر ہوں، آپ نے اپنے اجداد کے راستہ کو اختیار کیا اور دین و دنیا میں یہی کام ہے جو تم کر رہے ہو۔ خداوند تعالیٰ کا شکر ہے کہ تم اس مرتبہ کو پہنچے ۔ چونکہ سیاست ملکیہ خراب تھی ہمایوں اور شیرشاہ سوری کی کشمکش سے لوگوں پر عرصہ حیات تنگ تھا۔ اس وجہ سے آپ چند دن ٹھہر کر پھر اجمیر شریف روانہ ہوئے ۔ آپ کے پیرومرشد فوت ہوچکے تھے ۔ جب آپ اجمیر شریف پہنچے تو حضرت سالا ر رومیؒ کے فرزند جناب حسین صاحبؒ(جو کہ صاحب سجادہ تھے ) مراقبہ میں تھے۔ جب انھوں نے مراقبہ سے سر اٹھایا تو حضرت پیر باباصاحبؒ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ اور فرمایا
’’ اے سید علی دریں زمان و ہمہ این اوان وہم درین مراقبہ وہم دریں مشاہدہ حضرت پدر مشفق و پیر محقق را دریافتیم بعد از ملاقات فرمود ، اے فرزند از من دو خرقہ ماندہ یکے از پارچہ پارچہ ساختہ درمیان معتقدان قسمت ساز و خرقہ دوم را بپیش آئندہ ایں حال برسان کہ حق آن جانب است پس پیش آئندہ ایں حال شمارا یافتم‘‘
یعنی اے سید! مجھے ابھی اس مراقبہ میں حضرت قبلہ گاہ نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دو خرقے باقی ہیں۔ ایک کو ٹکڑہ ٹکڑہ کر کے معتقدین میں بانٹ دو، اور دوسرا خرقہ اس کو دے دو جو ابھی آئے ، پس آپ ہی اس کے لینے میں حق بجانب ہیں کہ آئے ہیں۔
چنانچہ وہ خرقہ آپ کو پہنا دیا گیا، چند دن قیام کے بعد حضرت حسین صاحبؒ نے آپ کو ارشاد فرمایا کہ چونکہ میرے والد محترم نے آپ کو کوہستان میں رہنے کا حکم دیا تھا۔ لہذا آپ اپنے وطن کی طرف جا کر اس سلسلہ کی اشاعت کریں۔ اجمیر شریف سے روانہ ہو کر آپ براستہ پشاور قندس کی طرف روانہ ہوئے ۔ جب پشاور پہنچے تو یہاں پر ٹھیرے ۔ حاجی سیف اللہ خان صاحب اور ملک گدا جو ککیانی قبیلہ کے خوانین سے ایک خان تھا آپ سے ملے۔ آپ کی ملاقات سے یہ ہر دو ملک بہت متاثر ہوئے۔ اور آپ کو موضع دوآبہ لے گئے۔ بہت ہی احترام و عزت کے ساتھ مہان رکھا۔ آپ کے اخلاق حمیدہ ، اور نیکی و بھلائی کی تعلیم سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ شریعت کی پابندی ، سنت رسول انام ﷺ کی پابندی، کی تبلیغ شروع کردی، تدریس کا سلسلہ بھی جاری کر دیا، لوگ جوق در جوق آتے اور بیعت ہوتے۔ طلباء درس پڑھتے اکثر پیر کے دن وعظ فرماتے۔ سامعین کے ٹھٹ کے ٹھٹ بندھ جاتے، آپ کی شہرت عام ہوگئی۔ یوسف زئی علاقہ میں آپ کی تشریف آوری سے قبل دو بہت مشہور و معروف پیر تھے۔ جن کا نام پیرولی ، اور پیر طیب تھا۔ دو دونوں آزاد خیال پیر تھے۔ احکام الہٰی کی پابندی کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ بلکہ حضورﷺ کی سنت کا بھی لحاظ نہ رکھتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات پیرولی (استغفر اللہ ) اپنے آپ کو خد ا کہتا اور اس کے پیرو تصدیق کرتے، سرود سنتے بلکہ حلال سمجھ کر مجالس کا انعقاد کرتے وغیرہ وغیرہ۔آپ کو خیال تھا کہ دوآبہ میں ایک سال قیام کے بعد اپنے وطن کو روانہ ہو جاؤں مگر جب ان ہر دوپیروں کی باتیں سنیں جو مسلمانوں کو گمراہ کر رہے تھے اور شعائر اسلام سے بہکا رہے تھے تو
’’توجہ بداں حدود بر خود فرض دیدم‘‘
اس علاقہ میں تبلیغ کرنا اپنے اوپر ضروری اور لازمی سمجھا ۔ آپ ان ہر دوپیروں کے ساتھ نپٹنے کے لئے علاقہ یوسف زئی کو روانہ ہوئے۔ اور سدوم (علاقہ سدم موضع رستم سے شمال مشرق کی طرف موضع الی لنڈی میں آپ کے بیٹھنے کی جگہ اب تک موجو د ہے اور لوگوں نے اس مقام کو مبارک سمجھ کر محفوظ رکھا ہے ۔ جس کو آج کل سدم کہتے ہیں) کے مقام پر قیام کرکے تبلیغ شروع کر دی۔ ان لوگوں کو جو اس علاقہ میں آباد تھے کیا حالت تھی فرماتے ہیں۔
’’ امامردم می یافتم سادہ دل کہ درحقیقت ہمگی ایشان دین طلب و دین جویان و خداطلب بودند، جوانان ایشان از پیران در دین استوارتر ، زنان ایشان از مردان ہنوز در دین مؤکد تر اطفال ایشاں درحدطفولیت دیں طالب ودین جویاں و خادمان ایشاں نیز از مخالفت و منہیات شرعیہ گریزاں‘‘
یعنی اس علاقے کے لوگوں کو میں نے انتہائی سادہ دل ہر وقت دین کی طلب و تلاش کرنے والے اور خدا طلب ، جوان بوڑھوں سے زیادہ دین میں استوار ، عورتیں مردوں سے زیادہ دین پر مضبوط ، بچے بچپن میں دین طلب کرنے والے، او رتلاش کرنے والے اور ان کے ملازم بھی شریعت پر عامل پاتا ہوں‘‘ ان کی گمراہی اور فسق کی وجہ یہ تھی فرماتے ہیں ’’ ان میں قبولیت حق کی صلاحیت کو موجود تھی مگر اس علاقے کے لوگوں میں نہ درس تھانہ مدرسہ ، نہ علم تھا اور نہ علماء اتقیاء اس لئے شریعت سے بے بہرہ مشائخ ایسے پیروں نے جو کہ مشائخ بھی نہیں رکھتے تھے، ان لوگوں کی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ان کو غلط راستہ پر ڈال دیا‘‘ ۔آپ نے وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبولیت عطا فرمائی ۔ لوگ ایسے نام نہاد پیروں سے اجتناب کرنے لگے۔ بدعت رسم ورواج کو چھوڑ کر شریعت اسلامیہ کے پابند ہونے لگے ۔ جب آپ نے دیکھا کہ لوگ نماز باجماعت پڑھنے لگے ہیں ، سنت مطہرہ پر عامل ہورہے ہیں ، سرود وغیرہ برے اعمال سے پرہیز کرتے ہیں اور درس تدریس میں منہمک ہوگئے ہیں تو آپ نے ان دونوں پیروں سے ملنے کا ارادہ ظاہر کیا تا کہ انھوں نے جو اپنا دین بنا رکھا ہے ۔ اس پر بحث مباحثہ کیا جائے۔ آپ کے ساتھ علماء طلبا اور اس علاقہ کے لوگ بھی تھے ، ان سب کو ساتھ آپ پیرطیب اور پیرولی کے ہاں تشریف لے گئے۔ جب پیر طیب نے آ پ نے تشریف لانے کا سناتو راتوں رات ہزارہ کو نکل گیا اور پیرولی نے بھی سامنے آنے سے اعراض کیا۔ لوگ سمجھ گئے کہ پیران بے پیر ناحق پر ہے لوگ ان سے برگشتہ ہوگئے۔
چونکہ یہ آثار و قرائن سے اندازہ لگا کر غیب دانی کا دعوی کرتے تھے تو پیرطیب نے سنا تھا کہ آپ نے مستقل طور پر قندس میں رہنا ہے ، اپنے ضعیف الاعتقاد پرؤوں میں یہ تشہیر کر دی کہ
’’ سید علی را ازیں ولایت برداشتم و در قندس انداختمش‘‘
یعنی (حضرت پیر بابا صاحبؒ ) سید علی کو میں نے اس وطن سے نکال کر قندس میں پھینک دیا ہے ۔ دوستوں کے مشورہ سے اور اپنی مرضی سے ۔ آپ ایک برس تک اس علاقہ میں تبلیغ فرماتے رہے تاکہ
’’ عوام زمانہ بگفتار پیرطیب کا فر نہ شوند‘‘
علاقہ یوسف زئی کے ایک بڑے خان نے جس کا نام ملک دولت ملی زئی تھا۔ اور قبیلہ بارکشازئی سے تعلق رکھتا تھا آپ کو اپنی ہمشیرہ بی بی مریم حبالہ عقد میں دے دی ، اب آپ ایک قسم کے مستقل سکونت پذیر ہوگئے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرزند اور لڑکیاں عطافرمائیں ۔ پھر آپ قندس تشریف لے گئے تو آپ کے والد فوت ہوچکے تھے۔ والدہ زندہ تھیں، تمام حالات سے والدہ کو آگاہ کیا ۔ انھوں نے آپ کو اجازت دی کہ آپ اپنے بال بچوں کے ساتھ اسی علاقے میں رہیں اور تبلیغ کرتے رہیں۔ واپس آکر آپ مقام بونیر میں مستقل قیام پذیر ہو گئے۔ اپنے شیخ کے حکم کے مطابق کو ہستانی علاقہ میں خانقاہ قائم کر کے سلسلہ کی تبلیغ میں مصروف ہوگئے۔ لنگر جاری کر دیا۔ درس تدریس کا انتظام کیا۔ بڑے بڑے علماء اور صلحاء آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر کے سلسلہ چشتیہ میں داخل ہوئے ۔ آپ کی تاریخ بیان کرنے والے لکھتے ہیں کہ آپ سے بیعت کر کے سات اخوند ، اس سلسلہ میں ممتاز ہوئے، یعنی سات علامہ او رمتبحر عالم آپ کے مرید ہوئے ۔ ان میں پشاور کے حضرت اخوند درویزہ ؒبھی تھے۔
حضرت پیر بابا صاحبؒ کے دور میں بایزید انصاری الملقب پیرروشن المعرو ف پیرتاریک بھی اسی طرح کا ایک بے پیر ، پیر پیدا ہوا، آپ نے اس کے مقابلہ میں بھی علماء و صلحاء کے وفود بھیجے اور خود بھی اس کو دعوت مباحثہ دی ۔ آپ فرماتے ہیں۔
’’آں ہنگام درمیان اولس تفرقہ افتاد‘‘
لوگوں میں بہت ہی بے اتفاقی پیدا ہوگئی ، یہاں تک کہ لوگ اس پیر بے پیر کی دعوت پر اس کے گرد بہت تعداد میں جمع ہوگئے۔ مگر آپ نے حضرت علامہ اجل اخوندصاحب درویزہ ؒ کی قیادت میں اس بے رہرو مذہب کی پوری پوری مخالفت کی اور پیربے پیر کو مجبور کر دیا کہ وہ اس علاقہ کو چھوڑ کر نکل جائے۔ چنانچہ وہ تیراہ کی پہاڑیوں میں نکل گیا۔ اب اس نے وہاں پر اپنا مرکز بنا کر سیاست کا رنگ اختیار کیا اور حکومت مغلیہ کو بہت پریشان کیا۔
جناب سید علی ترمذی ؒ کا طریقہ مبارک تھا کہ عام لوگوں کو بیعت شریعت سے مشرف فرماتے ۔ اور علما ء و فضلاء اور صاحباں فراست کو بیعت طریقت سے منور فرماتے ، اس لئے کہ اس راہ میں جھلا کے گمراہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، لہذا شریعت حقہ اسلامیہ پر عوام کا ثابت قدم رہنا ان کی نجات کے لئے کافی ہے۔
آپ دیہاتوں میں ’’ امر بالعروف ‘‘ اور ’’ نہی عن المنکر ‘‘ کے لئے اکثر دورے کیا کرتے ، اور صرف اللہ جل جلالہ کی رضا ء کے لئے اہل بدعت اور گمراہوں سے بحث مباحثہ کرتے اور ببانگ دہل اعلان فرماتے کہ ’’ ان سے بچو ، ایسا نہ ہو کہ ہلاک کر دئیے جاؤ‘‘۔ آپ کی توجہ کاملہ اس حد کمال تک پہنچ چکی تھی کہ جو بھی طالب مولیٰ آتا آپ کی توجہ کی برکت سے قیدماسوا ء اللہ سے آزاد ہوجاتا۔ چند دنوں میں سیر باطنی مکمل کر کے فنا فی اللہ اور بقا بااللہ کے مقامات حاصل کر لیتا ۔ آپ اس شخص کو بہت پسند فرماتے جو تہذیب نفس ، طلب علم، اور طریق سلو ک کو حاصل کرنے کے لئے آتا اور جو شخص دنیاوی مطالب لے کر حاضر ہوتا اس کے لئے بھی دعا فرماتے ۔ مگر اس شخص سے خوش نہ ہوتے ، حضرت اخوند درویزہ فرماتے ہیں کہ کسی وجہ سے کچھ عرصہ میں آپ سے ملاقات نہ کرسکا ۔ آپ نے سبب پوچھا میں نے عرض کیا کہ حضورخالی ہاتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہونا مناسب نہیں سمجھتا، آپ نے اعراض کرتے ہوئے فرمایا ۔ وہ لوگ جو اونٹ ،گائے اور گھوڑے لنگر میں پیش کرتے ہیں ان کو میں دوست یا مرید نہیں خیال کرتا ۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانتا ہوں۔ مگر ہاں میرے دوست اور مرید وہ ہیں جو مجھ سے روحانی فائدہ حاصل کرتے ہیں اور میرے احوال پر نظر رکھتے ہیں۔
آپ کی طبیعت مبارکہ میں اتنی سخاوت تھی کہ کوئی سائل بھی آپ کے دروازہ سے خالی نہیں لوٹا ، مسافروں کو زاد راہ مہیا کرتے۔ بیماروں کی عیادت کے ساتھ مالی امداد بھی کرتے۔ آپ لنگر ہر وقت جاری رہتا اور ان گنت لوگ آکر روٹی اور کپڑا حاصل کرتے،، حلم اور عفو کو تو آپ کی ذات والا صفات پر ناز تھا۔ آپ کی ذات مبارک ان تمام اخلاق حمیدہ سے متصف تھی جو ایک کامل و مکمل انسان کے لئے زیب ہیں، آپ کے مکشوفات، کراما ت، خوارق عادات لاتعدو لاتحصٰی ہیں او رجو شخص مقام غوثیت پر فائز ہو اس کے لئے ان باتوں کا ذکر ہی بے سود ہے۔ اپنے وقت پر اللہ کے حکم سے سب تصرف اسی شخص کا ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ کی بخشش و عطا سے اس ہستی کے سامنے غیب و شہود کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام القا کے ذریعہ مامور ہوتا ہے۔
حضرت شیخ الاسلام و المسلمین ، غواص بحر حقیقت ، غوث وقت ، سید علی ترمذی المعروف پیربابا ؒ بمقام بنیر (کوہستان) سلسلہ عالیہ چشتیہ ، قادریہ، سہروردیہ اور کبرویہ کو کمال عروج پر پہنچا کر ۹۹۱ھ میں واصل بحق ہوئے۔ آج تک آپ کی مزار پرانوار سے ہزار ہا کی تعداد میں لوگ آ آ کر دینی ، دنیوی اور روحانی برکات حاصل کرتے ہیں۔
آپ ؒ کی اولاد بکثرت ہے۔ تقریباً ہر علاقہ میں ملتی ہے۔
صاحبان کشف فرماتے ہیں کہ آپ اپنی قبر شریف میں اس وقت بھی باذن اللہ و بطفیل سید پاک احمد مجتبےٰ محمد مصطفٰے ﷺ تصرف فرماتے ہیں۔
حضرت سید عبدالوہاب صاحب المعروف اخون پنجو صاحبؒ
۹۴۵ھ تا ۱۰۴۰ھ
آپ کا نام نامی و اسم گرامی سید عبدالوہاب ہے۔ اور والد گرامی کا نام سید غازی باباؒہے۔ آپ اخون پنجو باباؒ کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کو کتب تاریخ و سیر میں شیخ پنجو سنبھلی لکھتے ہیں۔ نیز آپ بھی اپنی نسبت سنبھل سے کرتے، آپ کے جد بزرگوار وہاں سے ہی آئے تھے ، اسی لئے آئین اکبری میں شیخ ابو الفضل نے (جو کہ جلا ل الدین اکبر کا وزیر تھا) آپ کو شیخ پنجو سنبھلی لکھا ہے ۔ پنجو آپ کو اس لئے کہا گیا کہ جب پیروان پیر تاریکی ( جس کا نام بازید انصاری اور لقب پیرروشن دین تھا)کو آپ نے ارشاد و ہدایت شروع کی تو چونکہ وہ احکام شریعت اسلامیہ پر عمل نہیں کرتے تھے بلکہ استہزاء کیا کرتے تھے ۔ اس لئے آپ نے ان کو سب سے پہلے پانچ بناء اسلام سے تعلیم دینا شروع کیا، انھوں نے بوجہ مخالفت ازروئے تحقیر کے آپ کو پنجو بابا کہنا شروع کر دیا۔ جب آپ کی خدمت میں یہ بات کہی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس سے بہتر اور کیا ہو گا کہ میرالقب ’’ پانچ بناء اسلام ‘‘ ہو اور دعا فرمائی کہ اے اللہ قیامت تک میرا یہی لقب ہو ، چنانچہ ایسے ہی ہوا۔
آپ کے بزرگوار عرب سے آکر ہندوستان میں بمقام سنبھل آباد ہوئے ۔ جب سلطنت لودھیہ کو زوال ہوا تو آپ کے والد محترم جناب سید غازی بابا صاحبؒ براستہ چھچھ ہزارہ ہوتے ہوئے علاقہ یوسف زئی میں بمقام ترکی قیام کیا۔ جناب سید غازی باباصاحبؒ نہایت ہی پرہیز گار اور زاہد تھے ۔ مذکورہ گاؤں میں قناعت اور عزلت کے ساتھ وقت بسر کرتے، جناب صالح محمد صاحب المعروف ’’دیوانہ باباؒ ‘‘ کی خالہ سے شادی کی اور اکبر بادشاہ کے زمانہ میں پشاور شہر میں آکر سکونت پذیر ہوئے اور یہیں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کا مزار قلعہ بالا حصار کے نیچے وائرلیس گراؤنڈ میں درختوں کی گھنی چھاؤں میں موجود ہے۔
۹۴۵ھ میں جناب حضرت سید عبدالوہاب صاحب المعروف اخون پنجو باباؒ موضع الکائے علاقہ یوسف زئی میں پیدا ہوئے ۔ آپ علم لدنی رکھتے تھے ۔ مگر پھر بھی ظاہر ی طور پر آپ نے علوم ظاہری سے فراغت حاصل کی۔ موضع چوہا گجر میں ان دنوں ایک بڑے عالم دین قاضی تھے ۔ ان کی خدمت میں پہنچ کر علوم متداولہ کو پڑھا ۔اس کے بعد ہندوستان تشریف لے گئے اور کافی عرصہ تک علماء سے پڑھتے رہے۔ ان ایام میں آپ زیادہ عرصہ روھیل کھنڈ میں مقیم رہے۔ تحصیل علم کے بعد واپس صوبہ سرحد لوٹے۔
۹۹۰ھ میں بعمر ۴۵ سال اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ موضع اکبر پورہ میں مستقل قیام اختیار کیا اور مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے۔حضرت علامہ شمس العلما ء قاضی میر احمد شاہ صاحب رضوانی تحفۃ الاولیاء میں فرماتے ہیں کہ تقریباً علما و مشاہیر وقت نے آپ سے علوم ظاہری میں دستار فضلیت یعنی سند حاصل کی ۔ آپ نے کافی عرصہ تفسیر ، حدیث، فقہ ،اصول ، منطق اور اخلاق کا درس دیا اور انتہائی جان فشانی کے ساتھ تبلیغ و اشاعت شریعت مطہرہ میں منہمک رہے۔
اکبر پورہ ان دنوں داؤد زئی قوم کا مرکز تھا ۔ اس گاؤں میں چالیس محلے تھے، ہر ایک محلہ میں ایک حجرہ تھا، ہر ایک محلہ کے لوگ چرس اور بھنگ پی کر رباب لئے ہوئے دن رات ان حجروں میں مست رہتے ، اور گاتے بجاتے ، دین اسلام سنت رسول کریم ﷺ اور یاد الہٰی سے قطعاً بے پرواہ ہوگئے تھے ۔ اتنے بڑے گاؤں میں ایک بھی قابل ذکر مسجد نہ تھی۔ اس تمام علاقہ کے لوگ پیرروشن المعروف پیرتاریکی کے خلیفہ ’’ سرمست ‘‘ کے مرید اور پیرو تھے۔
جناب اخون پنجو صاحبؒ نے تمام کاموں سے پہلے یہ کام کیا کہ وہاں ایک جامع مسجد تعمیر کی۔ نماز جمعہ کا قیام کیا۔ امر باالمعروف کے لئے مختلف علاقوں میں جماعتوں کو بھیجا ، اور اس بے خبر قوم کو جو فسق و فجور میں مبتلا تھی وعظ و نصیحت کرنا شروع کر دیا۔ عوام کے لئے آپ نے ابتداء پانچ بنائے اسلام سے کام شروع کیا۔ طلباء کے لئے درس و تدریس کا انتظام کیا ۔ سلوک و معرفت کے حصول کے لئے جو صاحبان طلب آئے ان کے لئے الگ انتظام کیا۔ آپ کی اس خدمت دین کا اتنا شہرہ ہوا کہ لوگ دور دور سے آنے لگے ۔ اور حسب توفبýÿÿÿ ¡¢£¤¥¦§¨©ª«¬®¯°±²³´µ¶·¸¹º»¼½¾¿ÀÁÂÃÄÅÆÇÈÉÊËÌÍÎÏÐÑÒÓÔÕÖרÙÚÛÜÝÞßàáâãäåæçèéêëìíîïðñòóôõö÷øùúûüýþÿ¥ق علوم حاصل کرنے لگے ۔ نیز وہ علماء جو کہ ہندوستان اور دوسرے علماء سے سند فراغت حاصل کر لیتے تھے ۔ تبرکا آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بھی تکمیل کی سند لیتے ۔
۹۹۳ھ میں جناب میرا ابوالفتح صاحب اقنپاچی(جو کہ شیخ المشائخ جلال الدین صاحب تھانیسریؒ کے خلیفہ تھے) پشاور شہر سے ہوتے ہوئے اکبر پورہ تشریف لائے اور آپ نے طریقہ عالیہ چشتیہ میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حضرت امیر ابوالفتح قنپاچی ؒ نے آپ کو خلافت سے نواز ا ، اور علم اور توحید باطنی سے مالا مال کر دیا۔ بیعت ہونے کے بعد آپ اب اوراد و ظائف سے فارغ اوقات دینیات کی تعلیم میں صرف کرتے ۔ اور باقی اوقات عبادت و ریاضت، ذکر و فکر ، مجاہدہ و مراقبہ میں گزارتے۔ بیعت ہونے کے بعد صائم الدھر اور قائم اللیل ہوگئے۔ ذکر و فکر سے بسا اوقات آپ پر محویت کا عالم بھی طاری ہوتا۔ جس وقت آپ پر سکر کی حالت ہوتی تو خادم آپ کو بازؤں سے پکڑ کر ’’ یا حق یا حق ‘‘ کہہ کر اٹھاتے تو آپ اٹھ کر نماز پڑھ لیتے ۔ نماز سے فارغ ہو کر پھر بے ہوش ہو جاتے اور ما سوا ء اللہ سے بے خبر ہوجاتے۔
آپ کا معمول تھا کہ صبح کی نماز کے بعد چاشت کی نماز تک ’’ذکر ‘‘ میں مصروف رہتے دوپہر تک ’’ حبس دم‘‘ اور دیگر اوراد کرتے، نماز ظہر کے بعد قیلولہ کرتے ، قیلولہ کرنے کے بعد علوم متداولہ کی کتابیں پڑھاتے ۔ عصر سے مغرب تک ’’ صلوٰۃ الوسطی ‘‘ میں مشغول رہتے۔ مغرب کے بعد قرآن حکیم کا درس فرماتے۔ عشاء کے بعد اورادو وظائف اور مراقبات میں مشغول ہوتے۔ گویا آپ کا تمام وقت یاد الہٰی ، اطاعت خدا جل جلالہ اور رسول ﷺ اور مخلوق خدا کی خدمت میں گزرتا۔
آپ پر’’ عشق الہٰی‘‘ کا اتنا غلبہ تھا کہ چہرۂ انور سے آگ کے شعلے نظر آتے تھے۔ سخت سردیوں کے دنوں میں آپ صرف ایک ململ کا کرتا پہنتے ۔ آپ کے مقربین سے ایک صاحب ’’ جناب میاں علی باباؒ فرماتے ہیں کہ انتہائی سردیوں کے ایام میں آپ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ایک باریک کرتہ اور ایک عمامہ پہنے ہوئے تھے۔ دیکھتے دیکھتے آپ پر عشق الہٰی کا غلبہ ہوا اور آپ کی پیشانی مبارک اور چہرۂ انور سے پسینہ بہنا شروع ہوگیا۔ عشاء کی نماز کے بعد آپ گھر سے اسی عالم میں نکلے ، میں بھی آپ کے پیچھے ہولیا۔ آپ کمال استغراق اور محویت کے ساتھ عشق الٰہی میں مست تھے ۔ تمام رات زخی چار باغ سے لے کر جبہ تک آتے جاتے جمال الٰہی اور عشق الٰہی میں مگن تھے۔ جب صبح ہوئی تو نہایت ادب کے ساتھ میں نے عرض کیا حضوررات کو عجب کیفیت تھی ، آپ نے فرمایا ۔ اے علی ! یہ نکتہ یاد رکھ جو اسرار ربانی سے ہے ، منصور نے محبت الٰہی کا جام چاہا اور ضبط نہ کرسکا اور حتی کہ ’’ انا الحق ‘‘ کا دعویٰ کر دیا ۔ مگر تم نے دیکھا کہ محبت کے جام پر جام آج مجھے عنایت کئے گئے اور کتنے ہی خم خالی کر دئیے گئے۔ مگر ایک قطرہ بھی باہر نہ گرا‘‘۔
چونکہ آپ کے رخ انور سے ہر وقت انوار الٰہی کی بارش رہتی اس لئے کوئی بھی جی بھر کر آپ کے چہرۂ ا نور کو نہ دیکھ سکتا ، اور جو بھی آپ کے رخ اقدس کو ’’ توجہ‘‘ اور ہمت سے دیکھ لیتا، تو عارف کامل ہوجاتا۔ اگر کسی بھی مشرک کی نظر آپ کے نورانی چہر ہ پر پڑجاتی تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیتا۔ یہی وجہ تھی کہ ہندو آپ کا نام سنتے ہی چھپ جاتے۔ ایک بار ہشتنگر سے ہندوؤں کی ایک برات اکبر پورہ آئی ۔ اس برات سے تقریباً دن نوجوان آپ کی مسجد میں آکر آپ سے ملاقی ہوئے۔ آپ کا چہرہ دیکھ کر بیہوش ہوگئے اور تڑپنے لگے ، جب ان کو ہوش آیا تو مسلمان ہوگئے۔ اور آج تک اس شیخ کا گھر اکبر پورہ میں آباد ہے۔ گویا کہ آپ کی ذات والا صفات میں اتنی ثاثیر اور اتنا جذبہ تھا کہ جو بھی اس وقت آپ کے سامنے آتا وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ جب آپ کے علم ظاہری و فیوضات باطنی کا شہر ہ چاروں طرف پھیل گیا۔ تو معاصر علماء اور مشائخ نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے بحث و مناظرہ کی ٹھانی اور اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ آپ کی مسجد میں جا کر آپ سے مناظرہ کریں اور کسی قسم کی آپ کی تعظیم و تکریم نہ کریں۔ جب وہ آپ کی مسجد میں پہنچے تو اس وقت آپ گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ کے فرزند ارجمند سید عثمان صاحبؒ نے آپ کو ان کے آنے کی خبر دی۔ آپ تشریف لائے ۔ ان علماء نے آپ کا رخ انور دیکھتے ہی فوراً قدمبوسی کی ۔ اور یک بارگی لاالہٰ کا نعرہ لگا کر بے ہوش ہوگئے، حتی کہ نماز ظہر کا وقت آگیا ، جب ظہر کے نوافل سے فارغ ہوئے تو میاں علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اگر ان کی یہی حالت رہی تو شریعت اور علم کی بہت بے قدری ہوگی اور بے حرمتی ۔ آپ ؒ نے ان پر توجہ کر کے ’’ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا تو وہ سب ہوش میں آگئے اور تائب ہو کر مرید ہوئے۔
آپ میں اتنی سخاوت تھی کہ جو بھی آپ کے پاس حاجتمند آیا خالی نہیں لوٹا۔آپ کے لنگر سے امیر و غریب سب کوبرابر کھانا ملتا ، مفلوک الحال اور غربا کی امداد کرنا آپ کا خاص وصف تھا۔ استغناء کا یہ عالم تھا کہ امیر وحکام سے تحفے قبول نہ فرماتے ۔ بادشاہ مغلیہ کی طرف سے کئی بار لنگر کے مصارف کے لئے پیش کش کی گئی ۔ مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
آپ نے حضرت پیربابا ؒ اور اخون درویزہ ؒ کی طرح بایزید انصاری الملقب پیرروشن اور ان کے پیروان کے خلاف تبلیغی اور عملی طور پر کام کیا ۔ چونکہ اس علاقہ میں اس کے متبعین بکثرت تھے، اس لئے آپ ان کی مخالفت کا پورا نشانہ تھے۔ مگر آپ نے ہمت استقلال اور کرامت کے ذریعہ اس علاقہ کو ان بے راہ رو لوگوں سے پاک کیا اور ان کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی نورانی منزلوں پر ڈال دیا۔ چرس، بھنگ اور افیون جیسے رسوائے زمانہ نشوں سے انھیں باز رکھا اور لوٹایا۔ چنگ و رباب سے چھٹکارا دلا کر یاد الٰہی میں مصروف کر دیا۔ بد اعمالیوں اور بداخلاقیوں سے توبہ کروا کے نیک اعمال وصاحب اخلاق حمیدہ بنایا۔ صاحب تحفۃ الاولیاء فرماتے ہیں کہ ۹۹۳ھ میں بایزید انصاری الملقب پیرروشن نے جب حکومت مغلیہ کے خلاف شورش کی تو جلال الدین اکبر خود مقابلہ کے لئے آیا۔ اس سفر میں اکبر بادشاہ آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ کھجور والی مسجد میں مقیم تھے۔ طالب دعا ہوا، آپ نے توجہ کاملہ کے ساتھ دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اکبر کو فتح و ظفر سے نوازا اورتاریکیوں کو پراگندہ کیا۔ اس وقت اکبر نے آپ کی خدمت میں تحائف پیش کئے تو آپ نے کلی طورپر لینے سے انکار کر دیا۔ اکبر پورہ کے بالکل ساتھ دریائے باڑہ بہتا ہے۔ آپ کے زمانہ میں اس دریائے باڑہ میں ایک عظیم سیلاب آیا۔ اس وقت پیرسرمست خلیفہ پیرروشن کا بہت بہت چرچا تھا ا اور اس کے متبعین اس کی نام نہاد کرامات اور مکشوفات کا ہر حجرہ میں بیٹھ کر خوب پروپیگنڈا کرتے تھے۔ لوگ اس سیلاب سے عاجز آکر پیر سر مست کے پاس روحانی مدد طلب کر نے کے لئے گئے تاکہ وہ کرامات کے ذریعہ گاؤں کو تباہی سے بچالے ۔ اس نے اپنی بھنگ رگڑنے کا ’’ کتلہ‘‘ ان لوگوں کو دیا اور کہا کہ جاؤ اور گاؤں کی طرف بند باندھ کر یہ میرا کتکہ کھڑا در دو ، سیلاب کم ہو جائے گا اور وہ پانی گاؤں کی طرف نہیں آئے گا۔ ہزار ہا لوگوں اس کی یہ کرامت دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے کتکہ رکھا گیا مگر پانی نہ رکا۔ اب پیر سرمست خود آیا اور نہایت دلیری کے ساتھ بند پر کھڑا ہوگیا ۔ مگر پانی کے ایک ہی دباؤ نے پیر کے ساتھ بند کو بہا دیا۔ پیرسرمست غوطے پہ غوطہ کھانے لگا۔ اس کے مریدوں نے پیرسرمست کو نکالا ، عین اسی وقت حضرت اخون پنجو بابا صاحبؒ نے اپنا عصا حضرت میاں علی باباؒ کو دیا اور فرمایا اس عصا کو پانی میں کھڑا کر دو، انشاء اللہ خداوند تعالیٰ فضل و کرم کر دے گا۔ جب حضرت میاں علی بابا نے عصا پانی میں کھڑا کر دیا۔ تو فوراً بند بندھ گیا اور سیلاب کم ہوگیا۔ گاؤں تباہی سے بچ گیا۔ جب ان ہزار ہا لوگوں نے آپ کی یہ کھلی اور روشن کرامت دیکھی تو پیرروشن المعروف پیرتاریکی کے خلیفہ سے کل طور پر برگشتہ ہوگئے او ر ہزاروں کی تعداد میں آکہ حلقہ مریدین میں شامل ہوگئے۔ تحریک روشنائی جو حکومت وقت کی لڑائیوں ، قتل و غارت ، مشائخ کرام کے بحث و مناظرے اور جد وجہد سے ختم نہ ہو سکی ۔ اس علاقہ میں آپ کی صرف ایک کرامت نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دی۔
آپ کی کرامات سے ایک زندہ کرامت یہ کہ اس وقت آپ کی ایک مسجد اکبر پورہ میں موجود ہے ۔ جس کو ہزاروں سیاح او رمؤرخ ، ہر قوم ہر مذہب اور ہرملت کے افراد دیکھنے آتے ہیں اور کسی کو اس سے انکار نہیں ہوسکتا۔ حضرت حاجی دریا خان ( جن کا مزار موضع چمکنی تحصیل پشاور میں مرجع عوام و خواص ہے) نے ایک بار آپ سے سوال کیاکہ قیامت کے علامات کیا ہیں۔ آپ نے جواب دیا ’’ میری مسجد کا محراب زمین میں جب غرق ہوجائے گا تو قیامت آجائے گی‘‘۔ اب یہ بات مشاہدہ میں آرہی ہے کہ محراب آہستہ آہستہ بتدریج زمین میں دھنس رہا ہے اور اس وقت تقریبا تہائی حصہ دھنس چکا ہے ۔ و اللہ اعلم با الصواب
آپ کی وفات شاہ جہاں بادشاہ کے عہد میں بعمر ۹۵ سال ۱۰۴۰ھ میں ہوئی ۔ اور اس آفتاب علم ظاہر ی و باطنی ، قطب الاقطاب ، غوث وقت کو اکبر پورہ سے تقریباً ایک میل سڑک شاہی کی طرف سپرد خاک کیا گیا ۔ ہزار ہا لوگ آپ کی زیادت کے لئے آتے ہیں اور بڑے بڑے مشائخ نے آپ سے فیض لیا اور اب بھی فیضیاب ہوتے ہیں۔
آپ کی تجہیز و تکفین میان عثمان صاحبؒ اخون سالک صاحب کابگرامیؒ ، میاں علی بابا صاحبؒ ، حضرت شیخ رحمکار المعروف حضرت کاکا صاحبؒ ، اور شیخ عبدالغفور صاحب المعروف چل گزی باباؒ نے کی۔
حضرت اخوند درویزہ صاحب ؒ ننگرہاری
۹۵۶ھ تا ۱۰۴۸ھ
آپ کا اسم گرامی درویزہ ، والد کا نام گدا ، دادا کا نام سعدی ، اور لقب رئیس الفضلاء ہے۔ آپ علاقہ ننگرہار ملحقہ کابل کے رہنے والے تھے۔
خواص میں آپ اخوند صاحب اور عوام میں اخون کے نام سے مشہور ہیں، چونکہ آپ متبحر عالم تھے اور بہترین مدرس بھی اس لئے آپ کو اخون کے نام سے پکارا گیا۔
جب آپ کے دادا جناب سعد ی کو ننگر ہار میں شہید کر دیا گیا تو آپ کے والد جناب گدا مہمندوں میں آکر آبا د ہوئے ۔ جناب درویزہ صاحب ؒ کی ابتدائی عمر کا بیشتر حصہ مہمندوں ہی میں گذرا ، آپ کو ابتداء ہی سے طلب علم ، اتباع سنت اور ترک بدعت، زہد و ریاضت کا شوق دامنگیر تھا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں ’’ معرف الٰہی اور ہول قیامت و قبر کا جذبہ بچپن ہی سے مجھ پر اتنا غالب تھا کہ میں بسا اوقات روتا رہتا اور نہ سمجھتا کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔ والدہ صاحبہ میری اس کیفیت کو دیکھ کر مجھے تھپڑ بھی رسید کر دیتیں ۔ مگر ذوق و شوق الٰہی کی طلب بڑھتی ہی گئی۔
آپ سب سے پہلے اس وقت کے بہت بڑے عالم حضرت مصر احمد کی خدمت بابرکت میں بطور شاگرد پیش کئے گئے۔ حضرت مولینا مصراحمد صاحبؒ جناب سید محمود صاحب بخاری ؒولی کامل کی اولاد سے تھے۔ انھوں نے درویزہ صاحب کو اپنے مکتب میں داخل کر کے اسباق میں مصروف کر دیا۔ پہلے سال میں قرآن مجید یاد کیا، چند ابتدائی کتابیں پڑھیں ۔ دوسرے برس متوسط کتابیں پڑھ لیں، آپ کا قوت حافظہ اتنا مضبوط تھا کہ آپ جو کتاب پڑھتے ازبر ہوجاتی۔
اس کے بعد مزید علم کے حصول کے لئے آپ مولینا جمال الدین ہندوستانی ؒ کے پاس حاضر ہوئے ۔ ان کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری سے آراستہ ہوگئے ۔ آپ تقریباً سات برس ان کے پاس رہے۔
علوم متداولہ سے فراغت حاسل کر کے نے بعد حصول معرفت میں کوشاں ہوئے۔ آپ خود فر ماتے ہیں ، روحانی بے قراری اور بے چینی بہت پریشان کرتی، اور حصول علم کے بعد بھی اطمینا ن قلب میسر نہ تھا۔ آپ نے اس وقت کے ایک جامع شریعت و طریقت عالم جناب ملا سنجر صاحب کی خدمت میں اپنی اس پریشانی کا اظہار کیا۔ حالانکہ اس وقت آپ کے بیسیوں شاگرد تھے اور آپ کے علم و فضل کا کافی شہرہ ہو چکا تھا۔ جناب ملاسنجر صاحب ، جناب اخون صاحب کو لے کر حضرت شیخ الاسلام و المسلمین جانشین حضرت غوث الاعظمؒ جناب سید علی ترمذی المشہور پیربابا صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ جناب اخون صاحب نے اپنے علم ، زہد ، ریاضت اور عبادت کا تمام حال عرض کیا اور ساتھ ہی اپنی پریشانی کا بھی تذکر ہ کیا۔ جناب پیربابا صاحبؒ نے متبسمانہ انداز میں فرمایا۔
’’ شیخ کامل افغانان گشتہ‘‘
یعنی افغانوں کے شیخ کامل بن گئے ہو۔ مگر ارشاد فرمایا
’’ اما خوب نرفتہ چہ اقدام نمودن برریاضت بے اذن شیخ فانی فی اللہ ، عاقبت آدمی رابضلالت اندر آرو، زیر کہ مبتدی را باید کہ اول علم زہد و ریاضت بر ہئیتی بجا آرو کہ از گفتار و کردار حضرت خیر البشر علیہ الصلوٰۃ و السلام معلوم باشد‘‘
یعنی یہ طریقہ صحیح نہ اس لئے کہ بغیر شیخ کامل کی اجازت کے زہد و ریاضت کا انجام گمراہی کے کھڈے میں گرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا مبتدی کو چاہیے کہ زہد و ریاضت اس طریقے پر کرے جو طریقہ جناب سید پاک ﷺ سے ثابت ہے اور بھی نصیحتیں فرمائیں ۔ اور اس کے بعد اخون صاحبؒ نے تجدید توبہ کروائی اور نماز باجماعت ، ایام بیض کے روزے ، صلواۃ اوابین اور دیگر واجبات و سنن پر مستقیم رہنے کی تاکید فرمائی ۔ اخون صاحبؒ فر ماتے ہیں
’’اگرچہ در انواع ایں معاملات پیش ازیں نیز مستقیم بودم ۔ اما حضرت ایشان از جہت سقوط ایں شرائط از ذمہ خویش فرمودند‘‘
تقریباً پانچ برس کے بعد حضرت مولوی حاجی محمد صاحب المشہور زنگی پاپینی کو وسیلہ بنا کر جناب اخون صاحب نے پھر درخواست پیش کی اور عرض کیا ۔’’ علم ظاہر سے آراستہ ہوں ، عبادت میں استقامت حاصل کر چکا ہوں، اب ذکر الٰہی کی تلقین کی جائے‘‘ جناب پیربابا صاحبؒ نے آپ کی درخواست کو قبول کر تے ہوئے طریقہ عالیہ چشتیہ میں داخل کر کے ’’ذکر الٰہی ‘‘ کی تلقین کی اور فرمایا کہ اس وقت کا انتظار کرو جب تمہارا قلب ذکر الٰہی کے معمور ہوجائے ، توتم مطمئن ہوجاؤ گے۔ آپ کو ذکر الٰہی میں اتنا حضور حاصل ہو گیا کہ آپ کلی طور پر مطمئن ہوگئے، اور شیخ کامل کی توجہ سے بہت تھوڑے عرصہ میں مقامات جلیلہ و عظیمہ آپ کو نصیب ہوئے۔ حضرت پیر بابا صاحبؒ نے آپ کو فرمایا کہ علوم متداولہ کی تمام کتابیں تم نے پڑھ لیں ہیں ، تصوف کی بھی چند کتابیں پڑھو تاکہ طلباء تصوف کو بھی فائدہ پہنچا سکو، چنانچ جام جہاں نما، دیوان انوار خواجہ قاسم ،لمعات، لوائح اور دیگر تصوف کی کتابیں حضرت پیر بابا صاحبؒ سے سبقاً سبقاً پڑھیں۔
آپ کو اپنے شیخ کی خدمت میں رہ کر روحانی تربیت حاصل کی اور اورادواشغال کو مکمل کیا، تو جناب پیرباباصاحبؒ نے آپ کو ارشاد فرمایا کہ اب بلا دو امصار میں جاؤ۔ ’’امر بالمعروف ‘‘ اور نہی عن المنکر ‘‘ کرو۔ نیز مختلف ممالک کی سیاحت کرو۔
چنانچہ حضرت اخون صاحب خود فرماتے ہیں
’’ پس بنا برا امر حضرت شیخ از وطن و مکان خویش پیوند بریدم و اطراف عالم رو نہادم‘‘
آپ نے ایک طویل سفر اختیار کیا، راستے میں تبلیغ اسلام ، اشاعت سنت رسول کریم ﷺ مناہی بدعات و رسول کرتے ہوئے قاشقارپہنچے ۔ ان دشوار گذار پہاڑوں کو عبور کرتے ہوئے وارد ’’کشمیر‘‘ ہوئے۔ او رپھر واپس لوٹے، اثناء سفر میں بھی آپ علما ء صلحا ء اور فقرا ء سے استفاد ہ حاصل کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں جناب فضیلت مآب حضرت ملاباسی صاحبؒ کی خدمت میں رہ کر خوب فیض پایا۔ فرماتے ہیں
’’ دلالت واضح نمودہ ودلیل گشتہ مارا بمعدن علوم حقیقی رسانید‘‘
جب واپس اپنے شیخ کی خدمت با برکت میں پہنچے تو حضرت پیر بابا صاحبؒ نے ہر چہار سلاسل میں آپ کو ماذون اور معنعن فرمایا۔ ( یعنی سلسلہ ، چشتیہ ، سہروردیہ ، کبرویہ اور شطاریہ میں) اور سلسلہ عالیہ منصوریہ حلاجیہ میں اجازت مرحمت نہیں فرمائی فرماتے ہیں۔
’’اما ایں فقیر بشرف ایں ( یعنی منصوریہ حلاجیہ) اذن مشرف نشدہ‘‘
ماذون اور صاحب اجازت ہونے کے بعد آپ مسند آرائی شریعت و حقیقت ہو کر علم ظاہری و باطنی کی اشاعت میں مصروف ہوگئے۔
حضرت اخون صاحبؒ کا دور رفض و بدعت اور الحاد و زندقہ کا دور تھا شیخ الاسلام والمسلمین حضرت پیر بابا صاحبؒ کے زیر سایہ آپ نے بھی سر دھڑ کی بازی لگا کر اس الحاد و زندقہ کا مقابلہ کیا۔ اگر اس دور میں جبکہ ہر طرف مذہب کی آزادی کا رواج تھا اور خصوصاً اکبر جیسا دین اسلام سے برگشتہ بادشاہ تھا ۔ اگر حضرت پیر بابا صاحبؒ کا شخصیت اس غیر متمدن اور دور افتاد ہ علاقہ میں تبلیغ نہ فرماتے تو اُس وقت یہ اسلام جو اپنی صورت میں نظر آتا ہے کبھی کا ختم ہوگیا ہوتا۔ اخون صاحبؒ فرماتے ہیں
’’ اگر دران حضرت شیخنا دریں حدود نبودے معلوم نیست کہ فردے از افراد ایں مردم مسلمان ماندے‘‘
آپ نے ان تما م جماعتوں ، بے پیرپیروں ، بے عمل علماء اور بدعتی مشائخ کے خلاف عملی قدم اٹھایا ۔ ان لوگوں کی دین اسلام سے بے رہروی کو اسلام کے لئے ایک خطرۂ عظیم سمجھ کر ایک مرد حق گو اور مرد خدا کی طرح اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر ، اپنے شیخ کے ارشاد پرعمل پیرا رہے ۔ اوران منکرین کے خلاف جہاد بالقلم اور بااللسان آخری دم تک جاری رکھی۔
اس وقت جن گمراہوں کے خلاف آپ نے قدم اٹھایا ، بحث و مباحثہ کیا ان میں مشہور ترین پیرپہلوان ، بابا قلندر رافضی ، پیر طیب خلجی ، پیرولی بڑچی یا بھڑائچی ، کریمداد ملحد ، ملا رکن الدین ، شیخ حسن تیراہی ، خواجہ خضر افغانی ، حاجی محمد ، حاجی عمر غوری خیل ، شیخ قاسم غوری خیل ، بایزید انصاری الملقب پیرروشن المعروف پیرتاریک ، پیر قاسم یہ لوگ تھے
آپ نے ان میں سے دوفرقوں کے خلاف اپنے شیخ کی معیت میں اور ان کے انتقال کے بعد بہت کام کیا۔ آپ اتنے مشہور ہوگئے کہ جب بھی کوئی عقائد کا دعوی وار پیدا ہوتا تو اس علاقہ کے لوگ آپ کو بلا کر تمام علاقہ کے لوگوں جمع کر کے ، اس شخص کے ساتھ آپ کی گفتگو کرواتے ، اگر وہ طریقہ اہل حق اہل سنت و جماعت پہ ہوتا تو بہتر ورنہ اس کو وہ لوگ اپنے علاقہ سے نکال دیتے ، فرماتے ہیں۔
’’ افغاناں ایں ایام را نیز سند برایں بودچہ کہ شیخ و عالم ، دراں یام درمیان الیشاں پیدا شدے ، تااز نظر شخینا وامامنا واز نظر فقیر نہ گذشتی الیشاں اقوال و افعال اور اقبول نمیکردے بل بعضی کہ خدایاں اولس جمع شاد ما او انوور ائندہ را از بہر بحث وامتحان احوال یکجا کردندے تا کیفیت احوال معلوم شدے‘‘
وہ فرقے جن کے خلاف آپ نے سختی سے قدم اٹھایا ، ایک کا پیشوا میرقاسم تھا ، یہ شخص رافضی تبرائی تھا۔ اور دوسرا بایزید انصاری الملقب پیرروشن المشہور پیر تاریک تھا اخون صاحب ؒ نے تین بار اس شخص سے مناظرہ کیا۔ ہر بار اُس نے شکست کھائی آخر چھوتھی بار فیصلہ کن مباحثہ کے لئے آپ گئے تو وہ سامنے نہ آیا۔
بقول آپ کے پیر تاریکی شریعت اسلامیہ کے بنیادی اصولوں کامنکر تھا ۔ سنت نبی کریم ﷺ کا تارک تھا۔ سرود سنتا تھا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کا ناچ کرواتا تھا نیز اس شخص میں اتنی استدراجی قوت تھی کہ ہزاروں لوگ اس پر قربان ہوتے تھے۔ اس نے اپنے پیرؤں کی باقاعدہ تنظیم کی ہوئی تھی۔ وہ خود اور اس کے خلفاء جن میں فصیح شاعر بھی تھے اس کے خیالات کی تبلیغ کرتے ۔ اس نے خود بھی عربی ، پشتو میں کتابیں لکھیں۔ بہت ہی موقع شناس اور فہیم تھا ۔ جب پیربابا صاحبؒ اور اخون صاحبؒ کی کوششوں سے اس کا مذہبی تقدس بے نقاب ہوگیا او رلوگ اس کی گمراہی سے واقف ہوئے تو اس نے یک دم مذہب کے لباس کو سیاست کے لباس میں تبدیل کر دیا۔ اور نیم فوجی تنظیم اپنے معتقدین کی بنالی ۔ یہ اس کا امام تھا۔ قافلوں کو لوٹنا ، حاجیوں کو لوٹنا ، بے گناہ مسلمانوں کو تاراج کرنا اس جماعت کا کام تھا ۔ آخر دلی کی حکومت اس کی خود سری سے متاثر ہوئی ۔ اور کافی عرصہ تک دلی حکومت کو انھوں نے پریشان رکھا۔ اگرچہ مذہبی اعتبار سے حضرت پیر بابا صاحبؒ اور اخون صاحبؒ کے بحث و مباحثہ اور مناظروں نے اس کو ختم کردیا تھا۔ مگر سیاسی اعتبار سے مغلوں کے خلاف پٹھانوں کو لڑانے میں بہت مضبوط رہا۔ اگرچہ یہ پٹھان نہیں تھا۔ مگر پٹھانوں کا لیڈر ضرور بن گیا یہی اس کا کما ل دانشمندی اور ہوشیاری تھی۔
ایک اور شخص جس کا مقابلہ اخون صاحبؒکرنا پڑا وہ میر قاسم تھا۔ علی الاعلان اصحاب ثلاثہ پر تبرا کرتا۔ امامت کے بغیر نبوت کو بے کار سمجھتا ۔ جبراً لوگوں سے اپنے خیالات منواتا ۔ شہباز قلندر کا پیرو ہونے کا دعوی کرتا ۔ آپ نے اس کے ساتھ بحث مباحثہ کر کے لا چار کر دیا۔ غرضیکہ ان کے پیچھے جا جا کر عقلی اور علمی لحاظ سے ان کے عقائد باطلہ کو عوام کے سامنے بے نقاب کردیا۔ آخر آپ نے اپنی تمام تصانیف میں (جو غالباً بیس کے قریب ہیں اور جن میں سے پانچ تو چھپ چکی ہیں) ان لوگوں کے اعمال و افعال اور ان کے اسلامی اصولوں کے خلاف سرگرمیوں کو نہایت و ضاحت کے ساتھ بیان کیا اور پھر مدلّل طریقہ پر ان کا رد بھی کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو نصیحت بھی کرتے اور فرماتے ہیں ’’ ان ظاہری ریا و نمائش کو چھوڑدو۔ یہ غیب دانی ، غیب گوئی اور استدارجی قوتوں سے لوگوں کو نہ بہکاؤ، بلکہ قرآن و سنت کے پیرو بن جاؤ ، اور جناب حضرت شیخ الاسلام و المسلمین سید علی ترمذی المعروف پیرباباصاحبؒ جیسے کامل پیر کے آگے زانوئے ادب طے کرو ، تاکہ اسلام ، قرآن اور حقیقت محمدیہ ﷺ کو سمجھ سکو۔ بدعتوں کو رواجوں کو اور خلاف شرع محمدیہﷺ طریقوں کو چھوڑ دو‘‘ یہ وہ تعلیم تھی جس کی طرف اخون صاحبؒ نے دعوت دی ۔ اس وقت کے نام نہاد پیر اور گندم نما جو فروش معلمین نے آپ کی پوری مخالفت کی او رہر ممکن طریقہ پر آپ کو بدنام کرنے کی کوشش کی ، یہاں تک کہ آپ کو ’’ دشمن اہل بیت‘‘ کے نام سے پکارا ، مگر آپ حق و راستی کا پیغام بغیر کسی خوف و حزن کے پہنچاتے رہے اور عقائد باطلہ کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے ۔ جناب اخون صاحب باوجود انتھک مسلسل تبلیغ کرنے کے شب بیدار تھے ۔ اپنے وراد و وظائف کے اوقات میں خلل پڑنے نہ دیتے ، خشیت الٰہی کایہ عالم تھا کہ جب بھی ذکر الٰہی کرتے تو آنسوؤں سے ڈاڑھی تربتر ہوجاتی۔ حضورﷺ کا محبت اتنی غالب تھی کہ آپ اکثر درود شریف ہی پڑھتے رہتے او رآہیں بھر بھر کر روتے ۔ آپ کے تصوف پر آپ کا علم غالب تھا۔ آپ سے کشف و کرامات کا صدور ہوا مگر کبھی بھی اپنی طرف ان کی نسبت نہیں کی۔اس کی یہی وجہ تھی کہ فتنہ و فساد کا دور تھا ۔ لوگوں میں علم کمیاب تھا۔ جس شخص سے بھی کوئی خرق عادت دیکھ لیتے بس اس کی پرستش شروع کر دیتے ، اسی لئے آپ نے ان امور کو بہت چھپایا ۔ آپ کے مخالفین نے تو یہاں تک لکھا کہ کرامات اولیاء کے منکر تھے ۔ مگر یہ آپ پر سراسر الزام اور بہتان ہے ۔ بلکہ آپ تو فرماتے ہیں کہ میرے پیرو مرشد حضرت پیربابا صاحبؒ نے فرمایا کہ اب جبکہ آخری بار پیرروشن المعروف پیر تاریک سے بحث تو اس دفعہ کرامات کا اظہارکر کے اس کو خائب و خاسر کردوں گا‘‘ انشاء اللہ مگر وہ سامنے نہ آیا ۔ اور آپ نے حضرت شیخ سیلونہ اور اپنے پیر و مرشد کی کتنی ہی کرامات کا ذکر مختلف مقامات پر کیا ہے ۔ تذکرہ الابرار صفحہ پر فرماتے ہیں۔
’’اگرچہ اولیاء اللہ را کشف و کرامات باشد اما دعوی نمی باشد ، چہ ایشان مامور بہ اختفاء اند‘‘
جناب اخون صاحبؒ نے بہت کتابیں لکھیں مگر محفوظ نہ رہ سکیں ، ضائع ہو گئیں یا ایسے لوگوں کے پاس جو کسی کو دکھا نا بھی گوارا نہیں کرتے۔ آپ کی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ّآپ کا علم بہت تھا ، مطالع وسیع تھا اور علوم متداولہ کے ہر ایک فن پر آپ کی نظر تھی ۔ عقائد باطلہ کے رو میں آپ نہایت ہی متشدد ہوجاتے اور اسی تشدد کی وجہ سے بعض اوقات آپ اعتدال کا دامن کو ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اگر آپ کی طبیعت میں مخالفین کے خلاف انتہا پسندی نہ ہوتی تو یقینا مخالف بھی آپ کے علم واستقامت کی تعریف کئے بغیر نہ رہتا ۔ آپ کی کتابوں میں یہ تشدد نمایاں ہے۔
آپ کی تصانیف جو کہ شائع ہوئی ہیں مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ تذکرۃ الابرار و الاشرار:یہ کتاب جیسا کہ اس نام سے ظاہر ہے علماء متقین ، اولیاا للہ اور (بقول ان کے) اس وقت کے ملحدین کے حالات پر مشتمل ہے ، اس میں پہلے تذکرہ میں جناب پیر بابا صاحبؒ کا ذکر خیر ہے ، دوسرے تذکرے میں افغان قوم کی تاریخ ، کہ اس قوم کی ابتداء کیا ہے اور کس طرح مختلف ملکوں کے تحت ہوئی ۔ ماہیت انساب کا بیان ، او راپنا اس قوم سے تعلق ، اس کے بعد سلسلہ ہائے طریقت کا ذکر، تیسرے تذکرہ میں ان تمام (بقول ان کے ) اشقیا اور ملحدین کا ذکر ہے جس کے ساتھ آپ کے پیر و مرشد یا آپ نے بحث و مناظرہ کئے ۔ یہ کتاب صفحہ ۲۳۵ پر مشتمل ہے اور آپ کے صاحبزادہ مولےٰنا عبدالکریم صاحب نے تصحیح کی ہے۔
۲۔ ارشاد الطالبین: یہ کتاب ساڑھے پانچ سو صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ۔ اس کتاب میں چار ابواب اور ایک خائمۃ الکتاب ہے ۔ پہلے باب میں چار فصلیں ہیں۔ پہلی فصل توحید، دوسری ایمان ، تیسری وضو اور چوتھی نماز کے بیان پر مشتمل ہے ۔ دوسرے باب میں چار فصلیں ہیں ۔ پہلی فصلیں توبہ ، دوسری علامات پیرکامل ، تیسری علم اور چوتھی ذکر الٰہی کے بیان پر مشتمل ہے۔ تیسرے باب میں کوئی فصل نہیں اور اس باب میں سیر سلوک یعنی سیر من اللہ ، سیر فی اللہ اور سیر مع اللہ کا بیان ہے ، چوتھا باب پھر چار فصلوں پر مشتمل ہے ۔ پہلی فصل میں اخلاق حمیدہ ، دوسری میں اخلاق ذمیمہ ، تیسری صبر، اور چوتھی فصل میں شکر کا بیان ہے ۔ خاتمہ تین فصلوں پر مشتمل ہے ۔ پہلی فصل علامات قیامت دوسری کیفیت استاذن مخلوق اور تیسری فصل میں مختلف مسائل ہیں۔
۳۔ ارشاد المریدین : آپ نے اس کتاب کی ضرورت کی وجہ یہ لکھی ہے کہ پیر اور مرید دونوں صحیح طریقہ طریقت اختیار کریں ، ملاحدہ کی اطاعت نہ کریں ، نیز مشائخانہ طریقہ کا حصول کیسے ہوسکتا ہے اور وہ کیا ہے ۔ آپ کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں
’’ می خواہم کہ رسالہ جامع لطائف احوال و اسرار ، املا سازم بعبارات واضح، تابر اہل سعادت و دیانت باشد و در یا بد کہ طریقہ حصول مشائخ چہ بودہ است وچہ گونہ است‘‘
یہ کتاب ایک مقدمہ ، سات نکات اور خاتمہ پر مشتمل ہے ، مقدمہ میں مریدین کے استفاضہ کرنے کا بیان ہے ۔اور پیران متقدمین کے اس طریقہ کا بیان ہے جس سے ہزاروں لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ نکتہ اول میں حصول طریقت کے لئے شریعت کتنی اہمیت کی حامل ہے کا بیا ن ہے ۔ نکتہ دوم میں وہ فوائد جو نکتہ اول سے مترتب ہوتے ہیں۔
نکتہ سوم ، صوفی ، شیخ ، پیر ، درویش اور مرید وغیرہ اسماء جو اہل طریقت استعمال کرتے ہیں۔ ان کا اسننبا ط کہاں سے ہوتا ہے او رہوا ہے بیان کیا گیا ہے ۔ نکتہ چہادم میں مرتبہ پیر کا حصول ، اور اس کے شرائط کا بیان ہے ۔ نکتہ پنچم ایمان لانے کا بیان ہے ۔ نکتہ ششم میں بعض اذکار متداولہ کا بیان ہے ۔ نکتہ ہفتم نماز کے بیان میں ہے ۔ خاتمہ دیگر متعلقات طریقت کے بیان پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب علم تصوف میں ایک بلند پایہ کتاب ہے اور خصوصاً اس کتاب کا مقدمہ مسائل توحید باری تعالیٰ میں اپنی نظیر آپ ہے۔
۴۔مخزن الاسلام : آپ کی یہ کتاب ادھوری رہی ۔ مگر آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولےٰنا عبدالکریم صاحب نے اس کو مکمل کیا۔ صرف یہ کتاب پشتو زبان میں ہے۔اور باقی تمام کتابیں فصیح و بلیغ فارسی زبان میں ہیں۔
مخزن الاسلام کے متعلق جناب مفتی غلام سرور صاحب لاہوری تحریر فرماتے ہیں کہ
’’ مخزن الاسلام کتابے است کہ اور امولانا بزبان افغانی (پشتو ) تالیف نمودہ است۔ امانا تمام ماند ، وبعد ایشاں مولانا عبدالکریم پسرش آں کتاب را بہ تمام رسانید‘‘
اس کے بعد اپنی رائے اظہار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔
’’آنچہ از تالیف مولانا است دروی حقائق و معارف تذکرہ احکام شریعت بسیار است، و آنچہ از تالیف پسروی است در و اکثر حقائق و معارف مذکور است‘‘
نیز اسی کتاب مخزن الاسلام کی شرح کلمات الوافیات صاحب معارج الولایت نے لکھی ہے۔
۵۔ قصیدۃ الامالی : کی شرح فارسی زبان میں آپ نے لکھی ۔ عقائد پر یہ کتاب عربی نظم میں ہے اور آپ نے فارسی میں شرح نثر میں لکھی ہے۔
۶۔ شرح اسماء الحسنٰی : اللہ تعالیٰ کے ۹۹ ناموں کی شرح فارسی میں لکھی ہے آپ کی شخصیت پر مولےٰنا مفتی غلام سرور صاحب لاہوری تبصرہ فرماتے ہیں کہ
’’ جامع علوم ظاہر و باطن بود، و جمال ولایت خود را در پردۂ تدریس و تعلیم و ملائی پوشیدہ می داشت ، و دردفع زنادقہ و ملاحدہ و رفضہ بسیار فی کوشید وہر جا کر ملحدی یا رافضی شنیدے نزد اور رسیدے ۔وبا او تذکرہ کردے ، داوارا ملزم ساختے ‘‘
آپ کے ایک فرزند جناب مولانا مولوی عبدالکریم صاحب بھی بہت متبحر عالم تھے اور حضرت پیربابا صاحبؒ کے مرید تھے ۔ تکمیل علوم اپنے والد اخون صاحبؒ سے کی ۔ خزینۃ الاصفیا میں ہے۔
’’ از محققا ن این طائفہ و عارفان ایں جماعتہ است، صاحب شریعت و طریقت و حقیقت بود‘‘
یعنی صوفیا کرام اور عارفان الٰہی کی جماعت کے آپ بھی ایک فرد تھے۔ صاحب شریعت ، طریقت اور حقیقت تھے۔ آپ کو اخوند کریمداد بھی کہتے ہیں۔ صاحب خزینۃ الاصفیا خلاصۃ البحر کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ
’’درکتاب خلاصتہ البحر ’’ محقق افغانستان ‘‘ مخاطب است‘‘
آپ محقق افغانستان کے نام سے ملقب تھے۔ اپنے والد کی کتاب ’’مخزن الاسلام ‘‘ کو مکمل کیا۔
حضرت اخوند درویزہ صاحب ؒ کا مزار پشاور سے مشرق کی طرف ایک میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور مرجع عوام ہے ۔ آپ کے مزار کے گرد میلوں میں پھیلا ہوا قبرستان بھی آپ کے نام سے موسوم ہے ۔
اس وقت تک آپ کے مزار کے احاطہ میں کوئی عورت داخل نہیں ہوتی ، باہر سے کھڑے ہو کر عورتیں فاتحہ پڑھتی ہیں۔ پشاور میں یہ بات عام طور پر موجود ہے کہ جو بچہ غبی یا کند ذہن ہو ، جس حافظ قرآن کو قرآن حفظ نہ ہوتا ہو وہ آپ کے مزار پر جا کر تین یا پانچ یا سات جمعرات قرآن پڑھے ، اللہ کے فضل سے اس کی زبان رواں ہو جاتی ہے۔ آپ کی وفات ۱۰۴۸ھ میں ہوئی ۔
اور آپ کے صاحبزادہ عبدالکریم کی وفات ۱۰۷۲ ھ میں ہوئی اور ان کا مزار علاقہ یوسف زئی میں ہے۔
حضرت شیخ المشائخ شیخ ’’رحمکار صاحب‘‘ المعروف کاکا صاحبؒ
۹۸۳ ھ تا ۱۰۶۳ھ
آپ کی اسم گرامی رحمکار ، والد کا اسم شریف شیخ بہادر المعروف ابک بابا صاحبؒ ، دادا کا نام مست بابا صاحبؒ اور پردادا کا نام غالب بابا صاحبؒ تھا۔ آپ تمام صوبہ سرحد اور اکناف و اطراف میں کاکاصاحبؒ کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا لقب ’’ شیخ المشائخ‘‘ تھا۔
شمس العلماء قاضی میر احمد شاہ صاحبؒ اکبرپوروی اپنی کتاب تحفۃ الاولیاء میں لکھتے ہیں کہ ایک رات ابک صاحبؒ نے ایک خواب دیکھی کہ ’’ میں نے چھوٹا بول کیا اور اس کی جھاگ میر ے سر سے اونچی ہوگئی ‘‘ اپنے محترم جناب اخون پنجو صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے ۔ انھوں نے فرمایااللہ تعالیٰ تم کو ایک فرزند مرحمت فرمائے گا ۔ اور اس لڑکے کی شہرت اور بزرگی تجھ سے بڑھ پڑھ کر ہوگی ۔ اللہ تعالی نے ابک بابا کو جناب کاکا صاحبؒ عطا فرمایا۔ اخون پنجو صاحبؒ کی خدمت میں آپ کو والد لے کر آئے اور اخون صاحبؒ نے دعائے خیر آپ کے لئے فرمائی ۔ ابتدائے عمر سے ہی آپ ہونہار ، نیک خصلت تھے۔ آپ کی پیشانی سے نور ولایت ہویدا تھا۔ آپ کی نیک طبیعت سے آپ کی والدہ بہت خوش تھی اور ہمیشہ آپ کو دعاؤں سے یاد کرتی اور نصیحت کرتی رہتی ۔ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے استاد اخو الدین سلجوقی جو اللہ دین کا نام سے مشہور تھے ، نے باحسن وجوہ کی اور ظاہری علم کی تکمیل کر لی۔
آپ صائم الدھر ، شب بیدار ، انتہائی راست گفتار ، متواضع ، منکر المزاج ، سخی ، صاحب قلب سلیم ، مخلوق خدا پر شفقت کرنے والے، ہر وارد و صادر پر رحمد لی کرنے والے تھے ہرایک مرید پر توجہہ باطنی فرما کر اس کو محبت الٰہی سے سرشار فرمادیتے ۔ وہ مریدین جو آپ سے دور دور ممالک میں سکونت پذیر تھے ان پر بھی آپ کی توجہات باطنی مرکوز رہتی ۔
’’و بعض از مخلصاں حضرت ایشاں را بہ غیب کہ اوشاں اگرچہ بعد مکانی داشتی مثل ہندوستاں وغیرہ بتوجہ باطنی او قدس سرہ ، فیض می رسید ے ، و آنہا مستفید گشتے ، وبہ ایشاں فائدہ رسیدہ ‘‘
یعنی آپ کے بعض مخلصین جو کہ غیر موجو د ہوتے بسبب بعد مکانی کے ، مثلا ہندوستان وغیرہ میں ہوتے تو آپ کی توجہ باطنی سے ان کو فیض پہنچتا ، اور وہ مستفید ہوتے۔
آپ تارک ماسوا اللہ ، زاہد مرتاض ، قرآن مجید کے بحر ذخار ، حقیقت و معرفت کے رموز و اسرار کے واقف تھے۔ صاحب مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ آپ کی تعریف میں لکھتے ہیں۔
’’حضرت ایشاں را اور علم ایقین و حق ایقین و عین ایقین حظ عظیم و علم کامل بود، و دریں مقامات درک وافر می داشت‘‘
یعنی حضرت کا کا صاحبؒ علم ایقین ، حق ایقین او رعین ایقین کا کامل و مکمل علم رکھتے تھے اور ان سے اور ان کے مقامات بہت عظیم اور وافر واقفیت کے مالک تھے ۔ صاحب علم لدنی تھے۔ آپ کی نظر کیمیا اثر تھی، آپ مستجاب الدعوات ھے ۔ انتہائی یک سو، گوشہ نشین اور کم گو تھے۔
حضرت کاکا صاحبؒ کسی کے دست گرفتہ نہیں تھے ۔ آپ کو طریقہ اویسی تھا۔ صاحب مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ فرماتے ہیں۔
’’ اویسی طریقہ داشت ، نوازش ز نبیﷺ یافت‘‘
یعنی اویسی طریقہ رکھتے تھے اور نبی اکرم ﷺ کی عنایت سے سرفراز تھے، ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں ۔
’’پس طریقہ حضرت اویسی بود، و مربی او نور حضرت نبی بودﷺ ‘‘
یعنی آپ کا طریقہ اویسی تھا اور حضور ﷺ کا نور مبارک آپ کی پرورش کرتا تھا۔
آپ کے فرزند جناب میاں عبدالحلیم صاحبؒ فرماتے ہیں کہ ’’ اگرچہ آپ نے کبھی نہ فرمایا ۔ مگر میرے خیال میں آپ اپنے والد حضرت شیخ بہادر صاحبؒ سے سلسلہ سہروردی کی نسبت رکھتے تھے۔
’’بخاطر رسد کہ بطریقہ سلسلہ سہروردی از جناب پدر خود شیخ بہادر ہم نسبتی دارد ، واز قول صریح او قدس سرہ، طریقہ اویسی معلوم شدہ است‘‘
آپ نے اپنی عبادت کا مقام اپنے والد گرامی کی قبر مبارک پر مقرر کیا اور جتنا بھی آپ کو فیض حاصل ہوا اور فتوحات و برکات ملے یہ سب اپنے والد عالی مرتبت کی قبر مبارک سے حاصل ہوئے ۔ آپ نے اتنی کثرت کے ساتھ کرامات کا صدور ہوا کہ ان کے جمع کے لئے پورا ایک دفتر چاہیے ۔ اس وقت آپ کی قبر مبارک سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آآ کر فیض حاصل کرتے ہیں۔ میاں عبدالحلیم صاحب لکھتے ہیں۔
’’ بعد وفات و رحلت حضرت ایشان بسیار کسان فیض ہا یافتہ ومی یا بند بدستور بعض را درخواب ، وبعض رادر حضور مزار حضرت ایشاں‘‘
یعنی آپ کی وفات سے بعد بہت لوگوں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے اور کر رہے ہیں ، بعض کو تو خواب میں بھی آپ نے فیضیاب کیا ہے اور آپ کے مزار شریف پر بہتوں کو فیض حاصل ہوا ہے ۔
حضرت شیخ دریا صاحبؒ ساکن چمکنی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حج کا ارادہ ہے اجازت مرحمت ہو، آپ نے اجازت نہ دی ، تین چار بار ایسا ہی ہوا، آخر ایک بار آپ نے ان کو اجازت دے کر فرمایا ۔
’’یا شیخ دریا ، ایں دیدن بمثل ویدن قیامت می نماید ‘‘
یعنی یہ ملاقات اس طرح معلوم ہوتی ہے جیسا کہ قیامت کو ملاقات ہو ۔ حضرت شیخ دریا صاحبؒ حج سے فارغ ہو کر جب قندھار پہنچے تو وہاں سے پتہ چلا کہ حضرت کاکا صاحبؒ کا انتقال ہو چکا ہے ۔آپ کو بہت صدمہ ہوا اور آپ کے اس کشفی قول کو یاد کر کے روتے تھے۔
فقیر جمیل بیگ صاحبؒ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت کاکاصاحبؒ نے تین رازوں سے آگاہ کیا ہے ، اوروہ ایسے راز ہیں کہ میں ان کو ظاہر نہیں کر سکتا ہوں۔ اور اگر ظاہرکر دوں تو اس میں میری ہلاکت ہے۔
’’ ادنیٰ ازاں این است کہ شیخ جی صاحب فرمودہ کہ ہر وقت من انگشت نرخودنہم از مشرق و مغرب کل جہاں بتصرف من می آید‘‘
یعنی اس راز کی ادنی بات یہ ہے کہ حضرت کاکا صاحبؒ فرماتے تھے ، کہ اگر میں اپنی نر انگلی کو برقرار رکھ دوں تو تمام جہاں میرے زیر نگیں ہو۔
آپ وفات سے ایک سال پہلے سے علیل رہتے تھے ۔ مگر باوجود علیل رہنے کے آپ نے نماز قضا نہیں کی ۔ اکثر اوقات قیام کی طاقت نہ رکھتے تو دو آدمی آپ کے بازوپکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے ۔ پھر آپ نماز کی تکمیل کر دیتے ۔ اپنے معمولات کو آخری وقت تک پورا کیا۔
۲۴رجب ۱۰۶۳ھ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے نکلا ۔ آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
آپ کی عمر اسی برس تھی گویا آپ کی پیدائش ۹۸۳ھ میں ہوئی ۔ آپ کے پانچ فرزند تھے۔ آزاد گل صاحب، محمد گل صاحب، خلیل گل صاحب، عبدالحلیم صاحب، نجم الدین صاحب۔
آپ کی اولاد میں علما ء ، فضلاء اور صاحبان دولت وحکومت ہیں، عوام میں اور خصوصاً علاقہ خٹک میں آپ کی اولاد کو بڑی قدر و منزلت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
آپ کے بہت خلفاء ہیں ان میں یہ خلفاء بہت مشہور ہیں جو صاحبان علم وفقر اور صاحب کرامات تھے۔
غازی خان صاحب، عزیز شیخ صاحب، عبدالرحیم مشہور ، شیخ رحیم خٹک ، علی گل و ملی گل (یہ دونوں آپ کے خاص خادم بھی تھے ، ان دونوں کی قبریں بھی آپ کے روضہ میں ہیں) ۔ فقیر صاحب شگی ، شیخ جمیل صاحب یہ خوشحال خان خٹک جو کہ مشہور شاعر ہے اس کا بھائی ہے اور آپ کے مرید ہونے کے بعد فقیر جمیل بیگ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ خٹک قوم کا امیر تھا ۔ میرزا گل صاحب یہ ولی کامل تھے۔ شیخ بابر صاحب، دریاخاں صاحب چمکنی ، شیخ فتح گل صاحب، شیخ اوین صاحب ، شیخ کمال صاحب ، شیخ حیات صاحب، پیرمیاں حاجی صاحب، حسن بیگ صاحب، اخوند ہلال صاحب یہ قلندر تھے ۔ اخوند اسماعیل صاحب۔
حضرت شیخ المشائخ حاجی محمد اسماعیل غوری ؒ
۹۹۶ھ تا ۱۱۱۱ھ
آپ کا نام گرامی محمد اسماعیل غوری ؒ ہے ، حصول علم کے بعد آپ نے ہفت اقلیم کا سفر اختیار کیا۔ حرمین الشرفین ، بغداد شریف ، کربلائے معلی ، بسطام بخارا یعنی تمام ممالک پھرے ۔ ان ممالک کے علماء مشائخ اور فقراء کو ملے اور طریقہ قادریہ ، چشتیہ ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کے کامل ترین افراد سے مل کر روحانی فیوضات و وافر حصہ پایا اور نہایت ہی مستفید و مستفیض ہوئے۔ اس کے بعد ہندوستان کا سفر کیا اورلاہور پہنچ کر حضرت شیخ سعدی لاہوریؒ سے بیعت کر کے سلوک و معرفت کی تکمیل کی۔ آپ نے جناب محمد اسماعیل صاحبؒ کو صاحب مجاز اور مععن کیا اور وصیت کر دی کہ ’’ کسب معاش کر کے روزی حلال کھاؤ اور اللہ جل جلالہ و رسول ﷺ کو یاد کرو‘‘ آپ نے اپنے پیرومرشد کے شیخ حضرت سید آدم بنوری ؒ کی صحبت کیمیا اثر سے بھی فائدہ حاصل کیا۔ صاحب خزینۃ الاصفیا فرماتے ہیں۔
’’ صحبت کیمیا خاصیت حضرت آدم بنوری ؒ ہم فائز گشتہ‘‘
نیز آپ کے پیرومرشد کے پیر بھائی حضرت یار محمد گل مہاری سے بہرۂ کامل اور فائدہ وافر حاصل کیا۔ اپنے مرشد کے ارشاد کے مطابق پشاور میں آکر تجارت شروع کی اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی ترویج و اشاعت میں بھی منہمک ہوگئے۔ خوردہ فروشی کی دکان کر لی تاکہ رزق حلال حاصل ہو اور عبادت کے لئے مسجد مہابت خاں پشاورکو منتخب کیا۔ صاحب روضتہ السلام شیخ شرف الدین کاشمیری فرماتے ہیں کہ آپ مسجد مہابت خاں پشاور میں جب ذکر و مراقبہ میں مشغول ہوتے تو باوجود اتنا پختہ اور مضبوط عمارت ہونے کے ہلنے اور حرکت کرنے لگتی ان کے الفاظ ہیں۔
’’ آنجناب در مسجد مہابت خان کہ عمارتش در سنگینی و استحکام ثانی ندارد ، چون بذکر و مراقبہ مشغول می شد مسجد بجنبش می آمد‘‘
غزنی بخارا اور قندھار سے لوگ آآ کر آپ سے بیعت ہوئے اور اس علاقہ میں آپ سے بھی سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی خوب اشاعت ہوئی ۔ سنت مبارکہ سید دوعالم ﷺ کے بہت ہی پابند تھے۔ اگر کسی کو بھی سنت مبارکہ کے خلاف کرتے دیکھتے تو نہایت ہی سختی سے منع فرماتے ۔ آپ کے اخلاق کا ہر ایک شخص مداح تھا ۔ تحمل و بردباری اور عفو درگذر تو کمال درجے کا تھا۔
صاحب روضۃ السلام لکھتے ہیں کہ
’’خواجہ اسماعیل غوری جامع خوارق و کرامت بود وہر چند کہ دی باخفائی خوارق می کوشید بے اختیار ازوے سرمی زد‘‘
یعنی آپ مجسمہ خوارق و کرامت تھے اور اگرچہ آپ کی کرامات کو ہر ممکن چھپاتے اور اظہار نہ کرتے تھے، مگر آپ سے بغیر اختیار کے کرامات کاصدور ہوجاتا۔
صاحب خزینۃ الاصفیا شیخ شرف الدین سے نقل کرتے ہیں۔
’’چوں محراب آں مسجد ( یعنی مسجد مہابت خاں) از وقت بنائےýÿÿÿں آپ کو سیدحسن علاقہ ہائے کشمیر و پونچھ میں شاہ ابو الحسن ، اور صوبہ سرحد میں سید حسن بادشاہ کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اہل پشاور آپ کو ازراہ خلوص و عقیدت ’’ میراں سرکار ‘‘ کے دل پسند نام سے یاد کرتے ہیں۔ مؤخر الذکر نام حضور کی اس نسبت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو آپ کو حضرت غوث اعظم ؒ کی ذات بابرکات سے ہے ۔
نسب:- آپ کا نسب چودہ واسطوں کے بعد قطب الدائرہ حضرت سید عبدالرزاق صاحب بن حضرت محبوب سبحانی غوث اعظم سید عبدالقادر جیلانی ؒ تک پہنچتا ہے۔ اور پھر تیرہ واسطوں سے مظہر العجائب و الغرائب حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک منتہی ہوتا ہے۔
ولادت:- آپ جمادی الآخر ۱۰۲۳ھ میں ٹھٹہ (سندھ ) کے مقام پر عارف کامل عالم اجل حضرت سید عبداللہ صاحب المشہور ’’ صحابی رسول ﷺ‘ ‘ کے ہاں کے کتم عدم سے منصٔہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔
جناب سید عبداللہ صاحبؒ حما سے بغرض تبلیغ و سیاحت سند ھ تشریف لائے تھے اور سلسلہ و رشد و ہدایت جاری فرما کر سرزمین ہندوستان کو قرآن و حدیث سے منور فرمایا۔
تعلیم و تربیت:- آپ کا گھر علم و حکمت اور تصوف و عرفان الٰہی کا دارالعلوم تھا۔ آپ کا ماحول یاد الٰہی اور اتباع سنت نبوی ﷺ کی نورانیت سے جگمگا رہا تھا ۔ اسی وجہ سے آپ نے اپنی خاندانی عظمت و شرافت علمی فضلیت اور فقر نبوت سے وافر حصہ پایا۔ آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد گرامی کے زیر سایہ ہوئی ، چونکہ آپ کا گھر علم و فضل اور فقر و طریقت کا گہوارہ تھا لہٰذا آپ نے چھوٹی عمر میں ہی (یعنی ۱۶برس کی عمر میں ) جملہ علوم درسیہ کی تکمیل کر لی ۔ ۱۷ برس کی عمر میں درس تدریس کا کام سنبھالا اس کے ساتھ ساتھ کمال استقامت و استقلال سے منازل سلو ک و تصوف طے کرنے میں مصروف ہوگئے۔ جناب سیدغلام صاحب ؒ تحریر فرماتے ہیں
’’ تربیت از پدر مشفق خود بے حد و بے عدو یافتند ، وزیر سایۂ لطف ایشاں معرفت حاصل نمودند ، و بہ درجۂ انتہا رسیدند ‘‘۔
مؤرخ کشمیر مفتی سید محمد شاہ صاحب سعادتؔ ایک مرحمت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں ’’ اپنے والد سید شاہ عبداللہ صاحبؒ سے روحانی تعلیمات کا سرمایہ حاصل کیا‘‘۔
بیعت:- آپ اپنے والد محترم حضرت سید عبداللہ صاحبؒ سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے تھے ۔ نیز صاحب مجاز و معنعن بھی تھے۔ آپ کے سلسلہ عالیہ قادریہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس سلسلہ کے ہرایک فرد نے اپنے والد سے ہی فیض اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔ اور تمام فیوض باطنی کا اکتساب کیا۔ اس سلسلہ طیبہ کے سب کے سب افراد صاحب ولایت تھے۔ اور استقامت فی الدین میں درجۂ کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔ دنیوی لحاظ سے بھی ایک بلند اخلاق ، صاحب عزت و شرافت شہری تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے لے کر سید حسن صاحبؒ اور اُن کے بعد اب تک سب کے سب افراد بفضلہ تعالیٰ عالم ، فاضل ، متوریح اور مبلغ اسلام صاحب کرامت تھے۔ اور آج تک ان کے مزارات ، ان کی پاکیزہ زندگی اور عظمت کے شاہد ہیں۔ جہاں ہر وقت تلاوت قرآن مجید ، درود شریف اور یادالٰہی ہوتی رہتی ہے۔ اور یہ سلسلہ عالیہ اسی طرح اللہ کے فضل و کرم اور حضورﷺ کی برکت سے اس وقت تک جارہ ہے۔
مجاہدہ و تزکیہ:- والد گرامی کے انتقال کے بعد آپ ذکر ، فکر، مراقبہ ، ریاضات نفس اور مکمل خلوت میں مصروف تھے کہ یکایک آپ کی طبیعت میں وحشت و نفرت پید اہوئی ۔ حضرت علامہ الطریقہ سید شاہ محمد غوث صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں کہ والد گرامی سید حسن صاحبؒ فرماتے ہیں
’’دلم از انس انسان وحشت کلی گرفت ، دارخویش و بیگانہ نفرت محض پذیرفت ‘‘
اس کے بعد کیا ہوا آپ فرماتے ہیں
’’ پس بعزم ریاضات ومجاہدات درجزائر شور رفتم و ہفت سالہ چلہ کشیدم ، تاستر عورت تمام شب درمیان آب می استادم وروزانہ برکنار آب می نشتم و قوتم از برگ درختان بود کر خود می ریختند‘‘۔
یعنی آپ ریاضت و مجاہد ہ کے دریائے شور تشریف لے گئے اور مسلسل سات برس کا چلہ کاٹا رات ستر عورت تک اس پانی میں گذارتے اورتمام دن اس پانی کے کنارے پر بیٹھے رہتے آپ کی غذا درختوں کے پتے تھے ۔ جو خود بخود گرتے تھے۔ جناب حضرت محدث جلیل شاہ محمد غوث صاحب ؒ ’’ درکسب سلوک و طریقت ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں
’’در اکثر بلاد خدمت بزرگاں در خلوت و اربعین نشستہ فوائد حاصل نمودند‘‘
یعنی اکثر شہروں میں بزرگان کرام کی خدمت میں رہ کر چلے کاٹے اور فوائد حاصل کئے۔
سفر:- اپنے آبائے کرام کی سنت کے مطابق جب آپ کمالات ظاہری و باطنی سے مزین ہوگئے تو تبلیغ اسلام کے لئے ہندوستان کے کونے کونے میں پھرنے کے لئے نکلے ۔ ایک ایسے وقت میں آپ نے تبلیغی سفر اختیار کیا جبکہ مسافر کو آج کی سہولتیں میسر نہ تھیں۔ تقریباً تمام سفر پیدل کیا۔ اثنا ء سفر میں ہر قسم کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ، اور پھر یہ کہ یہ سفر کسی دنیاوی طمع یا لالچ کے لئے نہ تھا بلکہ تبلیغ اسلام ، تلاش حق ، اشاعت سنت نبویﷺ اوریاد الٰہی کے لئے تھا۔ اس سفر میں آپ کے چھوٹے بھائی الوالمکارم حضرت شاہ محمد فاضل خانیاریؒ بھی آپ کے ہمراہ تھے ۔ اس سفر میں کن کن بے دین و بداخلاق لوگوں سے آپ کو واسطہ پڑا ۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ جس علاقہ میں بھی ہم تبلیغ کے لئے گئے وہاں
’’ بغیر از کفر و بت پرستی بوئے از دین و آئین درآں سرزمیں نہ بود‘‘
یعنی سوائے کفر اوربت پرستی کے اس سرزمین کا دین و آئین نہ تھا حقیقت بھی یہی ہے کہ تاریکی میں روشنی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خشک اور بنجر زمین کو پانی کی اشد ترین حاجت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مقبول بندوں کا وجود بوجہ یاد الٰہی کے نور اوررحمت ہوتا ہے۔ جہاں بھی ایسے بابرکات حضرات پہنچتے ہیں وہاں سے تاریکیوں کے بادل چھٹے جاتے ہیں۔ کفر اور معصیت کا دور ختم ہوجاتا ہے ۔ ان حضرات کے وجود باجود کی برکت سے اس وطن کے رہنے والوں کو رحمت الٰہی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ وہی سرزمین جہاں کفر اوربت پرستی کا دورہ دورہ تھا آپ وہاں تبلیغ کا کام کرتے تھے نتیجہ کے طور پر ہزارہا لوگ آپ کے دست حق پرست پر توبہ کر کے داخل اسلام ہوتے ۔ وہ مقام جہاں پر اللہ جل جلالہ ، کا نام لینے والا کوئی نہیں تھا۔ اس کے حبیب ﷺ کی نبوت اور اوصاف حمیدہ سے کوئی واقف نہ تھا ۔ عدل و انصاف کا نام تک نہ تھا ۔ وہاں پر تھوڑی مدت میں آپ کی کوششوں سے اسلام کو اتنی ترقی ہوئی کہ ہزاروں لوگ مسلمان ہوئے۔ مساجد تعمیر کی گئیں ۔ آپ نے جہاں بھی تبلیغ کی نہایت ہی منظم طریقہ پر کی۔ مساجد بنا کر باقاعدہ قرآن مجید کی تعلیم مکتب ، اور تبلیغ کی ایک جماعت کا انتظام کرتے۔ صرف کاٹھیا واڑ اور گجرات کے علاقہ میں دوسو پچاس مسجدیں تعمیر کیں اور پانچ خلفا مقرر کئے جو باقاعدہ اپنی تبلیغی جماعت کے ساتھ دورہ کر کے ’’ امر باالمعروف ‘‘ اور ’’ نہی عن المنکر ‘‘ کرتے تھے ، ان کے مواعظ و نصیحت کا مرکزی نقطہ ’’ صدق مقال‘‘ اور ’’ اکل حلال ‘‘ ہوتا، گجرات سے ہوتے ہوئے ’’ شاہ جہاں آباد ‘‘ تشریف لائے۔ وہاں پر بھی اس نہج سے تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھیں اور مخلوق خدا کو اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول ﷺ کا راستہ بتاتے رہے ۔ غرضیکہ تبلیغ کرتے کرتے پنجاب پہنچے ۔ لاہور میں قیام فرمایا ۔ مگر وہاں بھی آپ مستقل نہ ٹھہر سکے اور آپ کیسے ٹھہر سکتے تھے ۔ جبکہ آپ کو سرکار بغداد سید شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی طرف سے پشاور میں رہ کر کشمیر ، ہزارہ ، کابل ، غزنی اور ہرات تک تبلیغ کرنے کا حکم تھا ۔ اور اس تمام علاقہ میں سلسلہ عالیہ قادریہ کے ذریعہ لوگوں کی اصلاح کروانی تھی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
ورودپشاور:-۱۰۸۲ھ میں آپ پشاور پہنچے ، پشاور سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک قصبہ (سلطان پور کے نام سے موسوم تھا اور اس کو حلقہ بگرام کہتے تھے‘‘ میں قیام کیا۔ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے آپ کو امر فرمایاکہ
’’اے بیٹا یہ تیرے رہنے کی جگہ ہے ۔ یہاں اقامت اختیار کرو‘‘
’’ ومارا درہرحال باخود مقصود داری‘‘
آپ کو جناب سرکار بغدادؒ نے اپنے عصا سے بتایا کہ اس جگہ مسجد اور جگہ مکان اور یہ تمہاری قبر ہوگی۔ اللہ جل جلالہ کو اپنے ہرکام میں کارروا اورمشکل کشا جان کیونکہ وہی اس قابل ہے اور جو کچھ میں نے بتایا ہے خود بخود ہوجائے گا۔
آپ صبح کو اٹھے اذان دی ، نماز پڑھی فرماتے ہیں
’’ ہنوزا شراق نہ خواندہ بودم کہ مردم شہر و اطراف وجوانب فوج در فوج فی آیند، بررسوخ و اعتقاد ملاقاتم می کنند ، کہ گویا آشنائے صد سالہ من بودند‘‘
پٹھانوں کے بڑے بڑے سردار اور ارباب بھی آنے لگے ، مخلوق خدا کا اژدھام ہو گیا۔ آپ نے تبلیغ کاکام شروع کر دیا، لنگر جاری کر دیا ،جس جس جگہ سرکار بغداد نے تعمیر کی جگھیں بتائی تھیں وہاں پر لوگوں نے خود بخود تعمیر کردی ، جو بھی آتا اپنی قسمت اور قابلیت کے مطابق معرفت الٰہی حاصل کرتا اور نجات اخروی پاتا، آپ ؒ فرماتے ہیں
’’ہر کہ بطلب مولیٰ می آمد استعداد تعلیمش می کردم‘‘
سفر کشمیر:- چونکہ تمام علاقوں میں آپ نے تبلیغ کاکام کرنا تھا ، لہٰذا آپ نے اس تمام علاقہ کا مرکز پشاور کو بنایا اور تبلیغی سفر کے لئے نکلے ، آپ نے ۱۰۸۹ھ میں جناب عنایت اللہ صاحب گجراتی (پنجات)کو صاحب مجاز کر کے یہاں کی خانقاہ کی تعلیم و تربیت کا تمام کام سپر د کر کے خود براستہ دھمتوڑ ، پکھلی ، ہزارہ کشمیر روانہ ہوئے۔
جناب مؤرخ کشمیر مفتی سعادت صاحب فرماتے ہیں کہ ’’ آپ نے ۱۰۹۱ ھ میں کشمیر پہنچ کر تشنگان ہدایت کو علوم باطنی سے سیرات کیا۔ خواجہ عبدالرحیم قادری، میر افضل اندارابی ، شاہ عنایت اللہ قادری وغیرھم حاضر ہو کر آپ کی توجہات اور فیوض رحمت سے بہرہ اندوز ہوئے۔ جناب حضرت علامہ وقت محمد افضل صاحب نے مرید ہو کر خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ اس سفر میں بھی حضرت ابوالمکارم شاہ محمد فاضل صاحب ؒ ہم رکاب تھے۔ بقول سید غلام ؒ
’’درمحلہ عیدگاہ درخانہ منصب داری نزول فرمودند‘‘
آپ چھ ماہ کشمیر رہے ، تبلیغ ، سخاوت ، بخشش کا طریقہ جاری رکھا ، لنگر جاری کیا۔ سینکڑوں غرباء ، فقراء، عاجز، مسافر اور بے وسیلہ لوگوں کی خدمت کی ۔خواجہ بہا الدین متو اپنی کتاب بنام غوثیہ شریف میں فرماتے ہیں ۔’’ آپ کے لنگر سے چھ سو آدمی روزانہ پیٹ بھر کر کھانا کھاتے۔ اور جو مفلوک الحال ہوتے ان کو کپڑا بھی عنایت فرماتے ۔ آپ کا اپنا ارشاد ہے ۔
’’ حق تعالیٰ چنا ں نوازشم فرمودہ است و چنا ں دولتم عطانمودہ است کہ اگر اہل مشرق و مغرب جمع شوند و ہر روز نفقہ خواہند ہمہ رابدھم وہرگز بعجز ملامتم نیابم‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتنی نوازشیں کی ہیں اور اس قدر دولت مرحمت فرمائی ہیں کہ اگر تمام دنیا کے لوگ جمع ہو کر مجھ سے نفقہ طلب کر یں تو سب کودوں اور کسی قسم کی کمی نہ ہو۔ آپ کے اس جودو وعطا کو دیکھ کر صاحب تاریخ اعظمی (کشمیر ) فرماتے ہیں
’’باوجود ازیں قلیل البضاعت احتیاج استکشاف بنود‘‘
آپ کی بے لوث تبلیغ اسلام اشاعت سنت رسول انام ﷺ ، یاد الٰہی ، خدمت فقراء اور زہد وریاضت کی شہرت اتنی عام ہوئی کہ ہر طرف سے لوگ جوق در جوق آنے لگے ۔ چھ ماہ کے بعد آپ نے واپسی کا قصد فرمایا ۔ اپنی جگہ اپنے چھوٹے بھائی حضرت ابوالمکام سید شاہ محمد فاضل ؒ کو خلافت عطا فرما کر کشمیر میں مریدین کی تعلیم و تربیت اور تبلیغ کے لئے مقرر فرما کر پشاور واپس ہوئے۔
سفر کابل:-کشمیر سے واپس پہنچ کر چند ماہ آرام فرمایا اور پھر کابل کے سفر کا ارادہ فرمایا۔
آپ نے کابل کا سفر تین بار کیا۔ ان تینوں سفروں میں صوفیاء ، علماء ، مشائخ اور فقرأ سے ملتے رہے ۔ ہزار تشنگان ہدایت کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کر کے عرفان الٰہی سے سیراب کیا۔ گورنر کابل امیر خان سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے ۔ دوسری بار گورنر کابل امیر خان کی دعوت پر کابل تشریف لے گئے ۔ آپ نے تمام حکام کو جمع کر کے ان کووعظ و نصیحت فرمائی ۔ شریعت اسلامیہ کی پابندی ، غریبوں مسکینوں کے حقوق کی حفاظت ، خصوصیت کے ساتھ غریب اور نادار طالب علموں کی اعانت کی ترغیب دی ۔ بیواؤں اور یتیموں کے وظائف ان حکام سے مقرر فرمائے۔
آپ نے کابل میں بھی لنگر جاری رکھا۔ اس سفر میں آپ غزنی ہرات اور دوردراز مقامات پر بغرض تبلیغ تشریف لے گئے ۔ تیسرا سفر بالکل تنہائی کا تھا ۔ اس سفر میں صرف ان حضرات سے ملے جو منتہی سالک تھے اور جن کا مقصد اعلیٰ مقامات اور مدارج علیا طے کرنا تھا ۔ البتہ لنگر بدستور سینکڑوں افراد کو روزانہ ملتا۔ یہ سفر صرف چند دن کا تھا۔ غرضیکہ ان تمام سفروں میں آپ نے انتہائی پختہ عزم و یقین کے ساتھ تبلیغ اسلام فرمائی ۔ قرآن مجید کی تعلیم عام کی ۔ اشاعت سنت نبوی ﷺ کے لئے کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو اس عروج وکمال تک پہنچایا کہ آج جبکہ ۲۶۷ برس آپ ؒ کو بیت چکے تھے سرزمین سرحد پنجاب ، افغانستان اور کشمیر کے گوشہ گوشہ میں آپ کی روحانی تعلیم کے چشمے ابل رہے ہیں اور لوگ ان سے فیضیاب ہورہے ہیں۔
شادی:- پشاور شہر کے قریب بطرف مغرب ایک گاؤں کوٹلہ محسن خان کے نام سے مشہور ہے ۔ اس کے ایک بڑے خان نے جس کو وہ ’’ ارباب ‘‘ کہتے ہیں ۔ اپنی صاحبزادی کی پیش کش کی ، آپ نے قبول فرمایا ۔ اس کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک فرزند عطا فرمایا ، جو اپنے کا محدث جلیل ، فقیہ اعظم ، شیخ الشیوخ بنا ۔ ان کا نام سید زین العابدین ؒ تھا ۔ اس شادی کے کچھ عرصہ بعد آپ نے موضع کنڑ کے صحیح النسب سادات گھرانے میں شادی کی خواستگاری کی یہ گھرانہ عظیم المرتبت ولی اللہ غوث خراسان حضرت سید علی ترمذی المعروف پیربابا ؒ کا گھرانہ تھا۔ یہ صاحبزادی جس کے ساتھ آپ کی شادی ہوئی حضرت پیر بابا ؒ کی پوتی تھی ۔ اور بقول صاحب خزینۃ الاصفیاء
’’در طاعات و عبادت رابعہ عصر بود‘‘
کچھ ردوقدح کے بعد آپ کی شادی اس عابدہ صالحہ بیوی کے ساتھ ہوگئی ۔ جس کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو فرزند عنایت فرمائے۔ ایک حضرت علامہ اجل ، محدث اعظم ، عارف باللہ شارح صحیح البخاری حضرت سید شاہ محمد غوث صاحبؒ پشاوری لاہوری ۔ دوسرے حضرت سید علی صاحبؒ ، ان بیوی صاحب ؒ کا مزار آپ کے پہلو میں واقع ہے۔
اخلاق:-اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو اخلاق حمیدہ اور اوصاف ستودہ سے مزین فرمایا تھا ۔ غرباء کی دلجوئی ، مسافروں کے ساتھ حسن سلوک ، امراء اور حکام سے تحائف قبول نہ کرنا ، اور ان کی غیر شرعی حرکات پر بغیر کیسی خوف وحزن کے آپ ان کو متنبہ فرماتے۔ بیواؤں اورغریب کنواری لڑکیوں کی اپنے اخراجات سے شادیاں کرواتے ۔ یہ سب وہ باتیں تھیں جو مقناطیسی کشش کی طرح قلوب خاص و عام کو شرمندۂ احسان کرتی تھیں۔
محدث جلیل حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں
’’ خدمت فقرا و مساکین بسیار فی کردند و برعام خلائق چنا ں شفقت می فزوند کہ گویا عیال ایشاں بودند‘‘
حضرت علامہ سید غلام صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں۔
’’ برعموم خلقت چنا ن شفقت و رافت و مہربانی داشتند کہ پدر باپسر داشتہ باشد‘‘
عفوو کرم ، حلم و بردباری ، تواضع و انکساری کے ایسے عمل نمونے آپ کی زندگی میں ملتے ہیں کہ گویا آپ مکمل طور پر حضورﷺ کی زندگی کی عملی تفسیر تھے۔ یہی وہ اخلاق کریمانہ تھے جن کی بدولت ہزار ہا گم گشتگان بادیہ ضلالت کو نیک اعمال کی ہدایت ہوئی۔
آپ کے استغنا کا یہ عالم تھا کہ آپ نے کبھی بھی حکام وقت سے تحفہ یا نذرانہ قبول نہیں کیا بلکہ ان لوگوں کو ان کی زندگی کاصحیح مقصد یعنی انصاف ، دیانت داری ، مساوات ، اخوت ، عدل ، غربا پروری اور حسن سلوک کی نصیحت فرماتے ۔ نیز ان لوگوں کو رقوم خرچ کر نے کا صحیح مصرف بتاتے ۔
ایک بار گورنر کابل نواب امیرخان نے اورنگ زیب عالم گیر بادشاہ سے آپ کے فرزند جناب حضرت شاہ محمد غوث ؒ کے نام گذران معیشت کے لئے قطعہ ارضی کا فرمان لکھوا کر حضرت سید حسن صاحبؒ کی خدمت میں پیش کیا ۔ آپ نے ملاحظہ فرما کر فرمایا۔
’’ یا امیر جزاک اللہ! کہ خیر خواہی فقراء مرکوز خاطر داری ، امامن طالب ایں نیستم و احتیاج ایں ندارم‘‘
کہہ کر وہ فرمان واپس کر دیا اور گورنر کابل کو نصیحت فرمائی کہ
’’ باید کہ بہ حاجت منداں ومستمنداں بدہی کہ قوت لایموت شاں شود‘‘
یعنی ان لوگوں کو جو محتاج اور ضرورت مند ہیں یہ زمین دے دو، تاکہ وہ زندگی بسر کر سکیں۔
اللہ اکبر! اتنا بڑا حاکم اپنی کما ل عقیدت سے آتا ہے ۔ اور نگ زیب عالم گیر بادشاہ کی طرف سے زمین کا ایک قطعہ دیا جاتا ہے ۔ مگر آپ اس کو قبول نہیں فرماتے ۔ نیز اس حاکم وقت کی صحیح رہنمائی فرماتے ہیں ۔ یہی وہ جذبہ کاملہ وصادقہ تھا جس کی وجہ سے بڑے بڑے امراو بادشاہ ، بوریہ نشیں فقراء کی خدمت کو مایہ صد نازش و افتخار سمجھتے تھے۔ آپ کے اس ارشاد گرامی کا ایک ایک لفظ سچائی ، دیانت ، امانت اور اخلاص کا مظہر ہے۔
کرامات: - جناب سید غلام صاحبؒ فرماتے ہیں
’’ کرامات ایشاں مثل قطرات و مطرات لا یعدو لا یحصٰی است‘‘
یعنی آپ کی کرامات باران رحمت الٰہی کے قطروں کی طرح ان گنت اور بے شمار ہیں۔
جناب محدث جلیل حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ فرماتے ہیں
’’خوارق عادات ازیں شاں سجدے ظہور یافتہ کہ تحریر آں دریں مختصر گنجائش ندارد‘‘
یعنی آپ کی کرامات اس حد تک ظاہر ہوئیں کہ ان کی تمام تفصیل اس مختصر مجالہ میں نہیں سمام سکتی۔
اولیاء کرام سے کرامات کا صدور ایک مستحسن امر ۔ مگر اولیاء کرام نے ہمیشہ شریعت مطہرہ اور حضورﷺ کی سنت مبارکہ کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا ۔ ان کی زندگی کا مقصدہی اتباع سنت ہوتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ قرب الٰہی حاصل کریں۔ دوسرے امور ان اولیاء کرام کی نظر میں ضمنی حیثیت رکھتے ہیں
سید غلام صاحب ؒ فرماتے ہیں ۔ آپ کا ایک خادم ہر وقت گذشتہ اولیاء کرام کی کرامتیں بیان کرتا اور پھر آپ سے کرامت طلب کرتا۔ آپ ؒ نے اس کو فرمایا ۔ اے درویش کرامت کے درپے نہ ہو۔ یاد الٰہی میں ہمہ تن مشغول رہ۔ حضورﷺ کی سنت مطہرہ کی متابعت کر ، کیونکہ نجات اسی میں ہے ، لیکن وہ کرامت طلب کر تا رہا۔
اتفاق ایسا ہوا کہ آپ ’’ امر بالمعروف ‘‘ کے لئے دوآبہ (ہشتنگر ) تشریف لے گئے۔ راستہ میں دریا بہتا ہے جس کو بذریعہ کشتی عبور کرنا پڑتا ہے ۔ آپ اس وقت ایک عراقی گھوڑے پر سوار تھے اور وہی خادم رکاب تھامے ہوئے تھے ۔ جب آپ کشتی کے قریب پہنچے تو آپ نے گھوڑے کو لگام کھینچی ، گھوڑا بجائے کشتی کے دریا میں کود گیا۔ وہ خادم جو رکاب تھامے ہوئے تھے دریا میں گر پڑا ۔ تمام مرید اور معتقد گھبرا گئے کہ آپ بمعہ خادم و سواری دریا میں غرق ہوگئے ہیں ۔ لیکن تھوڑی دیر بعد آپ بمعہ سواری اور خادم دریا کے دوسرے کنارے پر نظر آگئے ۔ اب حیرانگی و تعجب کا عالم تھا ۔ کوئی آپ کے قدم چومتا کوئی ہاتھ، آپ کے کپڑے گھوڑا اور خادم بالکل خشک تھے ۔ آپ ؒ نے اس خادم کو فرمایا
’’یا عبداللہ دیدی قدرت اللہ را‘‘
یعنی اے اللہ کے بندے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہر دیکھ لیا۔ اس نے عرض کیا ہاں جناب ، پھر آپ نے فرمایا کہ پہلے تو گذشتہ اولیاء کر کرامات بیان کرتا تھا اب اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ بھی دیکھ لیا ، مگر یہ بات یاد رکھنا
’’ ایں ہمہ آنچہ دیدی و شنیدی بازی طفلانست و کار دیگر است سالک راایں کار آفت است و مانع علو درجات است‘‘
یعنی ’’ یہ سب کچھ جو تم نے دیکھا اور سنا بچوں کا کھیل ہے ۔ اصلی مقصد کچھ اور ہے ۔ نیز سالک کے لئے یہ کرامات جتلانا باعث آفت ہے اور راہ سلوک میں بہت بڑی رکاوٹ ہے‘‘
جب حضرت ابوالبرکات سید حسن صاحبؒ کا انتقال ہوا تو ہر گاؤں اور ہر شہر سے لوگ آئے ۔ ان میں وہ لوگ بھی آئے جن کے آپ قرض دار بھی تھے ۔ حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ فرماتے ہیں کہ جب اس قسم کے لوگ آپس میں گفتگو کرنے لگے تو میں نے خیال کیا کہ یہ حضرات اپنے قرضہ کی وصولی کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اس لئے میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیا سرگوشیاں کرتے ہو ، تو انھوں نے جواب دیا ۔
’’اے صاحبزادہ سخن از کشف و کرامات پدربزگوار شما می گوئم و صنعت پروردگار رامی بینم کہ بندگان خدارا چساں تربیت کردہ بمراتب رسانیدہ کہ عقل در غور ایں معنی عاجز و نظر صاحب نظراں قاصر است ‘‘
حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ نے فرمایا کہ مجھے بھی اس حقیقت سے آگاہ کرو تا کہ ذوق حاصل کروں۔ انھوں نے مل کر عرض کیا کہ چند دن پہلے جب ہم نے سید حسن صاحبؒ کی شدت علالت کے متعلق سنا تو ہمیں خیال ہوا کہ اگر حضور کا انتقال ہوگیا تو ہمارے قرض کا کیا بنے گا ۔ ہم سب نے فیصلہ کیا کہ آپ نے بالمشافہ گفتگو کریں گے ۔ جب رات ہوئی تو چند اشخاص جن کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں نمودار ہوئے ان کی جیبیں اشرفتوں اور روپوں سے بھری ہوئی تھیں۔ انھوں نے ہم سب کو ایک جگہ جمع کیااور کہا کہ ہمارے ساتھ حساب کرو۔ تاکہ حضور سید حسن صاحبؒ کا قرضہ ہم ادا کریں۔ انھوں نے ہر ایک کا قرضہ چکا دیا اور تمسکات و حجتیں لے کے چلے گئے۔ جب اس بھر ی مجلس نے یہ واقعہ سنا تو سب زار و قطار رونے لگے۔ جناب شاہ محمد غوث صاحبؒ فرماتے ہیں کہ مجھے اس واقعہ کا قطعاً علم نہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ درویشی اور فقر کیا ہے ۔ ایک شخص کے لاکھوں مرید ہیں ۔ جن میں گورنر ، حکام ، امرا،فقراء اور ہر قسم کے لوگ شامل ہوں ۔ مگر اس درویش کامل کی وفات پر یہ امر عیاں ہوتا ہے کہ آپ چند ہزار روپے کے قرضدار بھی تھے ، اور قبل از وفات وہ ادا بھی کیا۔
وفات:- حضرت قطب الاقطاب سلطان العارفین غوث زماں ابو البرکات حضر ت سید حسن بادشاہ صاحب گیلانی قادری ؒ نے بروز جمعہ بتاریخ ۲۱ذی قعدہ ۱۱۱۵ھ بوقت عصر وفات پائی ۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون
حضرت شیخ یحییٰ صاحب المعروف حضرت جی صاحبؒ
۱۰۴۱ ھ تا ۱۱۳۱ھ
آپ کا اسم شریف شیخ یحییٰ والد کا نام پیرداد ، کنیت شیخ ابو اسماعیل یحییٰ اور لقب سر الاعظم تھا۔ آپ چغتائی (مغل) تھے ۔ آپ کے بزرگ ماوراء النہر ( سمر قند اور بخارا ) سے تشریف لائے تھے۔
سلسلہ نقشبندیہ میں آپ حضرت شیخ المشائخ شیخ سعدیؒ لاہوری کے دست گرفتہ تھے اور انہی سے صاحب مجاز اور معنعن تھے۔ آپ اپنے شیخ کی نظر میں بہت مقبول تھے۔ اور آپ کی بڑی قدر و منزلت تھی۔ چنانچہ جب حضرت شیخ سعدی ؒ لاہوری ۱۱۰۵ھ میں پشاور تشریف لائے تو اپنے تمام مریدین اور مخلصین کو ارشاد فرمایا کہ ’’ اب وہ جناب شیخ یحییٰ صاحب ؒ کی صحبت اختیار کریں اور ان سے فیض حاصل کریں‘‘ ۔ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے شیخ کی نظر میں آپ کا مقام کتنا بلند تھا اور روحانیت زہدہ اتقاء میں آپ کی شخصیت مثالی اور قابل تقلید تھی۔
حضرت میاں محمد عمر صاحب المعروف چمکنی بابا صاحبؒ اپنی کتاب توضیح المعانی کے دیباچہ میں رقمطراز ہیں ۔’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ سے جوراز کی باتیں معراج میں کی تھیں وہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر آشکارا کی گئیں ، اور وہ راز کی باتیں سلسلہ در سلسلہ حضرت سر الاعظم شیخ یحییٰ ؒ کو بخشی گئیں ۔ اور ان کے ذریعہ ان باتوں سے مجھے سرفراز کیا گیا‘‘۔
چمکنی بابا ؒ نے آپ کی تعریف میں ایک قطعہ لکھا ۔ فرماتے ہیں ۔
قطب ہفت اقلیم شیخ رہنما
/شیخ یحییٰ بندۂ خاص خدا
+مخزن لطف و عنایات خدا
/غوث اعظم خواجہ ہر دوسرا
Óحضرت شیخ المشائخ محدث جلیل سید شاہ محمد غوث صاحبؒ قادری پشاوری ثم لاہوری آپ کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتے ، اور آپ سے سلسلہ نقشبندیہ میں وافر حصہ پایا ، ان کی آپ پر خاص نظر عنایت تھی ۔ آپ حضرت شیخ یحییٰ صاحبؒ کے متعلق لکھتے ہیں کہ
’’حضرت یحییٰ جیو صاحب کہ از افراد زمانہ بودند‘‘
یعنی جناب شیخ یحییٰ حضرت جی صاحبؒ افراد زمانہ میں سے ایک فرد تھے ۔ آپ نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی بہت ہی ترویج و اشاعت کی ، انتہائی متبع سنت تھے ، خوش خلق، متواضع، منکسر المزاج اور سخی تھے ۔ ہر وقت یاد الٰہی میں مستغرق رہتے ۔ کوئی لمحہ بھی یاد الٰہی سے غفلت میں نہ گذارتے ، آپ کی نظر میں شاہ و گداایک تھے ۔ آپ کا لنگر ہر وقت جاری تھا اور سینکڑوں افراد سیر ہو کر جاتے ۔ ہر ضرورت مند کی حاجت پوری کرتے ۔ قدم قدم پر آپ سے کرامات کا ظہور ہوتا۔ حضرت محدث جلیل سید شاہ محمد غوث صاحبؒ فرماتے ہیں ’’چونکہ آپ (یعنی حضرت جی صاحب) حبس نفس بہت فرماتے تھے۔ اس لئے رات میں ایک ، دو یا تین دم لیتے تھے ، بڑے ریاضت کش تھے ۔ خدا کے سوا کس کی طرف دھیان نہیں لگاتے تھے۔ ان کی نظر میں خاک و زر ، شاہ و گدا یکساں تھے ۔ شغل حق کے سوا ان کو مطلق فرصت ہی نہیں ہوتی تھی ، کہ کسی چیز کی طرف متوجہ ہوں ۔ کسی کو آپ کی مجلس میں بات کرنے کی جرأت نہ تھی۔ آپ کی مجلس میں جو ہوتا خدا کی ہی طرف متوجہ رہتا ۔ چارپائی پر نہیں سوتے تھے ، تکیہ بھی نہیں رکھتے تھے ۔ ہمیشہ اپنے پیر کی زیارت کے لئے اٹک سے لاہور چودہ دن میں پیدل سفر کرتے ‘‘۔
بڑے بڑے اکابر علماء اور فضلاء آپ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے اور تکمیل سلوک کر کے اجازت و ارشاد کے رتبہ پر پہنچے ۔ آپ نے تمام عمر ارشاد و تلقین میں بسر کی ، اور آپ کے ذریعہ ہزاروں لوگ مراتب قرب تک پہنچے ۔آپ اپنے وقت میں یگانہ آفاق تھے۔ آپ کا صوبہ سرحد میں عموماً اور پنجاب کے علاقہ میں خصوصاً علم مشیخت بلند تھا۔ جس مرید پر آپ کی نظر پڑ جاتی ۔ کئی کئی دن بے ہوش پڑا رہتا اور تارک الدنیا ہو کر یاد الٰہی میں مستغرق ہوجاتا۔ آپ کے خلفاء میں صوبہ سرحد کے علاقہ میں دوعظیم شخصیتیں ہوئی ہیں جو ہر لحاظ سے جامع کمالات صوروی و معنوی تھیں ۔ ایک حضرت محدث جلیل سید شاہ محمد غوث صاحب پشاور ثم لاہوری ، دوسرے جنا ب شیخ المشائخ حضرت میاں محمدعمر صاحب المعروف میاں صاحب چمکنی رحمہا اللہ تعالیٰ علیہما ، اور ہندوستان ، پنجاب اور سندھ میں کافی خلفاء تھے۔
آپ کی دوفرزند تھے ، ایک حضرت شیخ اسماعیل اور دوسرے خواجہ محمد عیسٰے ۔آپ کی وفات ۱۱۳۱ہجری میں واقع ہوئے ۔
اس وقت آپ کا مزار پر انوار ضلع کیمبلپور ، موضع اٹک ، بلب دریائے اٹک واقع ہے اور مرجع خلائق ہے۔
حافظ عبد الغفور صاحبؒ نقشبندی پشاوری
۱۰۵۲ھ تا ۱۱۱۶ھ
آپ کا اسم گرامی عبدالغفور ، والد کا نام صالح محمد ، اور آبائی وطن کشمیر ہے۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد در س نظامی کی تکمیل کی، جب علم ظاہری سے آراستہ ہوگئے تو روحانی تسکین کے لئے مرشد کامل کی تلاش میں نکلے ، کشمیر میں سید علی ہمدانیؒ کے خانقاہ پر حاضر ہو کر روحانی فیوضات و برکات و وافر حصہ پایا ۔ کشمیر کے گرد ونواح میں بہت سے مشائخ کو ملے اور سلوک و معرفت کے علم کو سبقاً سبقاً پڑھا ۔ کشمیر سے روانہ ہو کر لاہور آئے۔ ان دنوں لاہور علماء و مشائخ کا مسکن تھا اور علم و ادب کا مرکز ۔ وہاں کے علماء اور مشائخ کی صحبت سے فیضیاب ہوکر پشاور تشریف لائے ۔ شیخ محمد عمر صاحبؒ پشاور کتاب ظواہر السرائر میں فرماتے ہیں کہ
’’ حافظ عبدالغفور اوّل درپشاور باراوت حافظ محمد اسماعیل غوری پشاوری مستفید شدو بہرۂ وافر حاصل نمود بعد از اں در لاہور تشریف آوردہ و شر ف بشرف بیعت شیخ سعدی لاہوری گروید ، و خرقہء خلافت و اجازت سلسلہ عالیہ نقشبندیہ و قادریہ و چشتیہ و سہروردیہ یافت و از کاملان وقت شدو تا دونیم سال حاضر باش خدمت اشرف ماند‘‘
پشاور میں علاوہ دوسرے علماء مشائخ کی صحبت کے جناب حضرت حافظ محمد اسماعیل صاحب غوری ؒ کی صحبت بابرکت سے خوب فائدہ اٹھایا ۔ انہی کے ارشاد کی تکمیل کرتے ہوئے آپ دوبارہ لاہور تشریف لے گئے اور حضرت شیخ سعدی لاہوری ؒ سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔ اپنے شیخ محترم کی صحبت میں مسلسل اڑھائی برس گذار کر منازل سلوک و تصوف عملاً طے کئے ۔ گیارہ برس کے بعد شیخ سعدی لاہوری ؒ نے آپ کو ہر چہار سلاسل یعنی قادری ، چشتی ، نقشبندی اور سہروردی میں خلافت عطا فرما کر اڑھائی سال کے بعد رخصت کر دیا۔
آپ کی تبلیغی مساعی اوراصلاح عام کے لئے صوبہ سرحد میں پشاور ( جو اس وقت کابل کا مضافہ تھا) کو اپنا مرکز بنا کر تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ خانقاہ قائم کر کے لنگر دینا شرو ع کیا۔ سینکڑوں بھوکے پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ۔ بیسیوں برہنہ کپڑے پہنتے اور بہت سے روحانی تعلیم کی تکمیل کرتے ۔ نیز بہت سے آپ کے مبلغ دیہاتوں میں پھر کر امر باالمعروف کر کے واپس اپنے مرکز پر آتے ۔ ان کے کھانے پہننے کا سب انتظام خانقاہ کی طرف سے ہوتا۔
آپ خود تبلیغ کے لئے گاؤں گاؤں ، قریہ قریہ ، شہر شہر پھرتے ، بدعات اور رسومات بدکے خلاف عملاً کوشش کرتے عقدبیوگاں کرواتے ، صرف نکاح پر شادیاں کرواتے ، لوگوں میں جو دشمنیا ں اور خصومتیں ہوتیں ان کا تصفیہ کروا کر ان کو بھائی بنا دیتے ۔ اگرچہ آپ کو ان مسائل کے حل کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ان مشکلات پر قابو پالیتے ۔اشاعت سنت نبی کریم علیہ التحیۃ التسلیم آپ کا خاص وصف تھا ۔ اگرکوئی شخص حضور اکرم سید دوعالم مالک و مختار احمد مجتبٰے محمدمصطفےٰ ﷺ کی سنت مطہر ہ کی پابندی نہ کرتا تو آپ اس کو سمجھاتے ، اگر نہ سمجھتا تو پھر سختی کرتے اور اس معاملہ میں کسی بڑے سے بڑے حکمران کی اور دولت مند کی بھی پرواہ نہ کرتے۔
اپنے مواعظ میں حکمران طبقہ کو غربا، فقرااور بے چارے مفلوک الحال لوگوں کی حالت زار پر خاص کر توجہ دلاتے ، غرضیکہ ہر طبقہ کے افراد کی آپ اصلاح فرماتے ، آپ کی اس غربا پروری کا شہر تمام علاقہ میں پھیلا ہوا تھا ۔ آپ کے لنگر سے بیک وقت پانچ پانچ سو آدمی لنگر کھاتے ۔ آپ کے معاضر حضرت علامہ سیدنا و مرشدنا حضر ت سید سخی شاہ محمد غوث صاحبؒ اپنی کتاب ’’ در بیان کسب سلوک و بیان طریقت و حقیقت ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں جس کو صاحب خزنیۃ الاصفیاء نے نقل کیا کہ
’’حضرت علاقہ سید شاہ محمد غوث قادری گیلانی ؒ لاہوری دررسالہ خود تحریر فرمودند ، کہ حافظ عبدالغفور پشاوری ؒ تمام شب بجس نفس و مراقبہ می گذرانیند ، و التفات بدنیا واہل دنیا نداشت ومدام درخدمت مساکین و مسافرین مشغول ماندے و قریب پان صد کس پر روز در مطبخ دی طعام می خوردند ، و دیگدان دے گاہے سرونمیشد ، و خدام عالی مقام ، از صبح تاشام در پختگی طعام و تقسیم آں مصروف می ماندند و شیخ سوائے طعام ، بحاجتمنداں نقد و لباس ہم مرحمت می فرمودند و ایں ہمہ خرچش سوایٔ دخل ظاہری صرف از خزانہ غیب بود‘‘
کہ حافظ عبدالغفور صاحبؒ پشاوری تمام رات ’’ حبس دم ‘‘ اور ’’ مراقبہ ‘‘ میں بسر کرتے ، دنیا اور اہل دنیا کی طرف التفات نہ کرتے ، ہمیشہ مساکین اور مسافروں کی خدمت میں مصروف رہتے۔ آپ کے’’لنگر‘‘ کے پانچ سو آدمی روزانہ کھانا کھاتے ، جناب حافظ صاحب کھانا دینے کے علاوہ ضرورت مندوں کو کپڑے اور نقدی بھی مرحمت فرماتے ۔آپ کو جو تعلق اللہ جل جلالہ کے ساتھ تھا وہ حضرت علامہ شاہ محمد غوث صاحبؒ کے ان الفاظ سے واضح ہوتا ہے۔
’’درعشق الٰہی بدیں آگاہی می گذرانید کہ کسے آیتے از آیات قرآن روبروئے وے می خواند یا لفظ ’’ اللہ‘‘ برزبان می آورد، گریہ و اضطراربہ حافظ طاری می شد‘‘
آپ کی توجہ کا یہ عالم تھا کہ بقول صاحب خزینۃ الاصفیاصفحہ ۶۵۷ کہ جناب حافظ صاحب ؒ جب مریدین پر توجہ فرماتے تھے تو محلہ کانپنے لگتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بہت بڑا زلزلہ آیا ہے ۔ پہلے پہل تو اہل محلہ کو خوف و ہراس دامنگیر ہوا۔ مگر جب ان کو معلوم ہوگیا تو پھر حرکت زمین کے وقت جان جاتے تھے کہ حضرت حافظ صاحبؒطلباء پر توجہ کر رہے ہیں۔
اگر آپ کے کرامات کو جمع کیا جائے تو ایک الگ مضمون بنتا ہے ۔ اس جگہ آپ کی چند کرامات لکھی جاتی ہیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ کرامات اولیاء کرام حق ہیں ’’قرب نوافل‘ ‘ کے ذریعہ اولیاء کرام کا ہر کام یعنی سماعت ، بصارت ، چھونا ، چلنا پھرنا غرضیکہ سب کام مشیت الہٰی کے تابع ہوتے ہیں ۔ علما ء اہل حق اہل سنت و جماعت اولیاء عظام سے کرامات کا صدور مستحسن امر سمجھتے ہیں۔
صاحب روضتہ السلام جناب مولےٰنا شرف الدین صاحب کشمیری فرماتے ہیں’’ کہ یہ راقم جنا ب حافظ صاحبؒ کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ حاضرین پر شرینی تقسیم کر رہے تھے۔ آپ کے خادموں سے ایک خادم نے اپنا حصہ لیا۔ اس کو دوسرا حصہ بھی دے کر فرمایا یہ تیرے بیٹے کے لئے ہیں ۔ وہ خادم فورا ً قدمبوس ہوا اور عرض کرنے لگا کہ اس وقت میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اگر حافظ صاحب کو کشف ہوا تو مجھے دو حصے دینگے ۔ آپ میرے خیال پر آگاہ ہوگئے ہیں ۔ لہٰذا میں امید کرتا ہوں کہ مجھے اس قصور پر معاف کیا جائے گا۔ آپ نے فرمایا ۔
’’حالاعفو کردم و آئندہ گاہے با متحان احوال درویشان نہ یردازی ‘‘
یہی صاحب روضۃ السلام لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ مریدین کی خبر گیری کے لئے پشاور کے دیہات میں تشریف لے گئے۔ عصر کا وقت تھا مسجد میں مریدین کے ساتھ ذکر و فکر اور مراقبہ میں مشغول ہوگئے ۔ اسی اثنا میں لٹیروں کا ایک گروہ مسجدکی طرف آیا ۔ بعض مریدین جو مراقب نہ تھے یہ ماجرا دیکھ کر شور و غوغا کر نے لگے ، قبلہ حافظ صاحبؒ نے سراٹھایا اور فرمایا کہ اس شور و غوغا سے کیا فائدہ ، بیٹھے رہو اور بخدا مشغول باشید ، سب کے سب مراقب ہوئے۔ جب ذکر الٰہی اور مراقبہ سے فارغ ہوگئے تو شیخ بمعہ مریدین کے پشاور میں اپنے سکونتی مکان پر موجود تھے۔ صاحب خزینۃ الاصفیاء لکھتے ہیں کہ سید ابوالمعالی کشمیری فرماتے ہیں کہ ’’ میں ایک دن حضرت حافظ صاحبؒکے ساتھ پشاو ر کے ایک بازار میں جارہا تھا جب میں نے آپ کے ہمراہ چند قدم لئے تو اپنے آپ کو حضرت موصوف کے ساتھ کشمیر میں موجود پایا۔ میں اور آپ زینہ کدل پر جارہے تھے ۔ یہاں تک کہ مسجد نگین (جو کاغذ فروشوں کے بازار میں ہے)پہنچ گئے۔ وہاں سے واپس ہو کر پھر زینہ کدل پہنچے ۔ تو حضرت حافظ صاحبؒ نے میرا ہاتھ چھڑالیا۔ معاً ہاتھ چھڑانے سے میں اور حافظ صاحبؒ پشاور میں تھے‘‘
آپ کی یہ زندہ کرامت ہے کہ جو شخص اپنے بدن میں جس جگہ بھی درد پاتا ہو ، آپ کے مزار پر انوار پر حاضر ہو اور آپ کے توسل سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کر ے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس تکلیف سے آرام دے دیتا ہے۔ اس فقیر کے سامنے آپ کے مزار پر ۱۴مارچ ۱۹۴۹ء کو ایک فرنگی موٹر میں پڑا ہوا آیا ۔ اس کے مسلمان بہروں نے اس کو موٹر سے اٹھا کر آپ کے مزار مبارک کے پاؤں کی طرف لٹا دیا ۔ لیٹے لیٹے وہ انگریزی میں دعائیں کرتا رہا، تقریباً آدھ گھنٹہ کے بعد وہ اٹھا بغیر سہارے کے موٹر تک گیا ، پھر واپس لوٹا اور آکر مزار پر انوار کو چار بوسے دیئے اور بالکل تندرست ہو کر چلا گیا گویا کہ اسے دردتھا ہی نہیں۔
ّآپ کی وفات بزمانہ اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ ۱۴شعبان المعظم ۱۱۱۶ھ میں ہوئی ۔ مزار پرانوارپشاور چھاوئی میں تھانہ شرقی کے سامنے مرجع عوام ہے۔
ہر سال اسی تاریخ کو جناب حضرت شیخ المشائخ سید میرا اصغر صاحب المعروف پیر آغا جان صاحب کابلی ؒ نقشبندی نہایت اہتمام سے عرس کرتے تھے اب آنجناب کے فرزند عرس کرتے ہیں۔
حضرت شیخ المحدثین سید شاہ محمد غوث صاحب ؒ
۱۰۸۴ھ تا ۱۱۵۲ھ
آپکا اسم گرامی سید محمد غوث لقب شیخ المحدثین غوث وقت اور شاہ محمدغوث کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ کے والد محترم حضرت ابو البرکات سید حسن صاحب قادری ؒ نے دوسری شادی خاندان سادات کنڑ حضرت سید علی ترمذی المشہور پیربابا صاحبؒ کی نواسی سے کی۔ یہ بی بی صاحبہ ؒ اتنی نیکوکار اور صالحہ تھیں کہ آپ کا لقب ’’ رابعہ عصر ‘‘ پڑ چکا تھا ۔ آپ اسی عفیفہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم کے زیر سایہ ہوئی ۔ چنانچہ آپ خود رقمطراز ہیں۔
’’چوں احقر درہفت سالگی رسید ہر چند قرآن می خواند ضبط نمی شد، و قاصر الفہم بود قبلہ گاہی بجناب حضر ت پیر دستگیر ؓ ، در باطن عرض کردند کہ ایں پسر را مہربانی فرمانید ، از جناب مہربانی شد کہ بہرہ از علم و ظاہر و باطن بخشید م ، بعد آں بفضل الٰہی فتح یاب علم شد ، و اندک زمان تحصیل علم ظاہر شد‘‘
یعنی جب اس احقر کی عمر سات سال کی ہوئی تو بہت ہی قرآن مجیدپڑھا مگر ضبط نہ ہوا۔ بڑا ہی قاصر الفہم تھا۔ جناب قبلہ گاہ والد صاحبؒ نے باطنی طور پر حضرت پیر دستگیر (غوث اعظمؒ) کے حضور میں عرض کی کہ اس بیٹے پر مہربانی فرمادیں۔ آپ نے عنایت فرمائی ۔ اورظاہر اور باطن کے علوم سے نوازا گیا۔ اس مہربانی کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے علوم کے دروازے کھل گئے اور بہت تھوڑی مدت میں علم ظاہری حاصل ہوگیا۔
’’چنانچہ در سن ہژدہ سالگی از تحصیل کتب متداولہ فارغ شدم ، مطول در شش ماہ خواندم ، ودیگر کتب را بسرعت تمام خواندہ شد‘‘
چنانچہ اٹھار ہ برس کی عمر میں تمام علوم کی مروجہ کتابیں پڑھ لیں، مطول کو چھ ماہ میں پڑھا لیا۔ نیز دیگر کتابوں کو بھی جلدی جلدی پڑھ لیا۔ تلویح توضیح جناب عالم علوم ظاہری و باطنی اخوند مولےٰنا محمد نعیم صاحب ؒ سے پڑھی ۔ جناب مولانا صاحب کابل کے پرگنہ ’’ محمود کار ‘‘ میں رہتے تھے۔ جب آپ نے علوم متداولہ سے فارغ ہوگئے تو احادیث پڑھنے کے لئے لاہور تشریف لے گئے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں ۔
’’کہ استماع حدیث از خدمت میاں جان محمد صاحب ؒ کلاں کہ در منڈی فالیزا بادبودہ می نمودم ، و اذن حدیث گرفتم ‘‘
یعنی استماع حدیث میاں جان محمد صاحب کلاںؒ جو کہ منڈی فالیزا باد میں سکونت رکھتے تھے، کی اور حدیث شریف کی اجازت بھی (انہی سے) لی ‘‘ بعض علوم آپ نے میاں نور محمد مدقق حاجی یار بیگ صاحبؒ ، مولانا مولوی عبدالہادی صاحبؒ اور میاں محمد مراد نابینا ؒ سے اخذ کئے ، فرماتے ہیں
’’در خدمت میاں نور محمد صاحب مدقق وحاجی یار بیگ و مولوی عبدالہادی صاحب و میاں محمد مراد صاحب نابینا کہ ایں ہمہ فضلائی کمال تحریر بودند استفادہ از بعضے علوم نمودہ شد‘‘
آپ دوران تعلیم ہی میں والد گرامی مرتبت کی خدمت میں عرض کیا کرتے تھے کہ سلوک و معرفت کے علمو م سے بھی آپ کو حصہ عطا فرمایا جاوے مگر والد محترم ہمیشہ آپ کو ارشاد فرماتے کہ پہلے علوم ظاہر کی تکمیل کر لو ، اس کے بعد دیکھا جائے گا۔فرماتے ہیں۔
’’در اثنائے تعلیم ہم شوق و طلب حق بایں فقیر غالب بود، اما قبلہ گاہ می فرمودند کہ بعد از فراغ تحصیل چیزے گفتہ خواہد شد‘‘
جب آپ تحصیل علم کر چکے تو اس وقت آپ کی عمر شریف اٹھارہ برس کی تھی ۔ جناب قبلہ والد گرامی کی خدمت میں عرض کیا کرتے تھے کہ سلوک و معرفت کے علوم سے بھی آ پ کو حصہ عطا فرمایا جاوے مگر والد محترم ہمیشہ آپ کو ارشاد فرماتے کہ پہلے علوم ظاہر کی تکمیل کر لو ، اس کے بعد دیکھا جائے گا۔ فرماتے ہیں ۔
’’دراثنائے تعلیم ہم شوق و طلب حق بایں فقیر غالب بود، اما قبلہ گاہ می فرمودند کہ بعد از فراغ تحصیل چیزے گفتہ خواہد شد‘‘
جب آپ تحصیل علم کر چکے تو اس وقت آپ کی عمر شریف اٹھارہ برس کی تھی ۔ جناب قبلہ والد گرامی کی خدمت میں عرض کیا کہ اب حصول علم سے فارغ ہوچکا ہوں ۔ راہ حقیقت کی طرف رہنمائی کیجئے ۔ جناب ابو البرکات سید حسن صاحب قادری ؒ نے آپ کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے طریقہ عالیہ قادریہ میں بیعت فرماکہ ’’ ذکر الٰہی ‘‘ کی تلقین کی ۔ خلوت میں بٹھا دیا اور چار چلے واýÿÿÿ ¡¢£¤¥¦§¨©ª«¬®¯°±²³´µ¶·¸¹º»¼½¾¿ÀÁÂÃÄÅÆÇÈÉÊËÌÍÎÏÐÑÒÓÔÕÖרÙÚÛÜÝÞßàáâãäåæçèéêëìíîïðñòóôõö÷øùúûüýþÿلد محترم کے حضور میں ہی ذکر الٰہی پورے کئے۔
’’چنانچہ چہار اربعین بحضور والد خود نشستم ‘‘
اس کے بعد آپ چھ سال تک ایک علیحدہ تنہائی کے مقام پر عبادت و زہد میں مصروف رہے اور سلوک و معرفت کے دشوار گذار منازل کو پورا کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس عرصہ میں اپنے وردات اور اپنی کیفیات اپنے والد کی خدمت میں عرض کرتا رہتا۔
’’ آنچہ صواب بود تحسین می فرمودند ‘‘ اور اگر لغزش ہوتی تو تدارک آں نمودند ، آپ کا ارشاد ہے کہ
’’ تفاصیل آں در نوشتنی نمی آید از کسب و شغل معلوم می شود‘‘
یعنی ان باتوں کی تفصیل حیطہ تحریرسے باہر ہے کرنے سے ہی ان کا علم ہوتا ہے ۔ غرضیکہ چھ برس تک آپ ذکر لسائی ، جھر ، خفیہ ، ذکر قلبی اور مراقبات میں مصروف رہے۔ چھ برس کے بعد جناب والد گرامی قدر نے اپنے فرزند ارجمند کو سلسلہ عالیہ قادریہ کا منشور خلافت تحریر فرما دیا۔
آپ نے اولیاء اللہ کو ملنے اور ان سے فیوض و برکات حاصل کر نے کے لئے متعدد سفر کئے ۔ سب سے پہلے پشاور شہر ہی میں جناب حافظ عبدالغفور صاحبؒ کشمیری نقشبندی کی صحبت میں حاضرہوئے ، آپ فرماتے ہیں ۔
’’ اگرچہ صحبت ایشاں مفید بود، لیکن فقیر را اصلاً تشفی نمی شد‘‘
یعنی اگرچہ ان کی صحبت فائد مند تھی ، مگر درحقیقت اطمینان خاطر میسر نہ تھا۔مختلف فقرا کو مل کرآپ ’’ اٹک‘‘ تشریف لے گئے ۔ اٹک میں حضرت جی صاحب یعنی یحییٰ ؒ سے ملاقات کی ۔ حضرت جی صاحبؒ آپ سے انتہائی شفقت اور محبت سے پیش آئے ۔ آپ تحریر فرماتے ہیں ۔
’’مہربانی بسیار کردند ، ذکر قلبی درصحبت ایشاں غالب بود، چنانچہ ذکر قلب و طریقہ حبس و بعضی مقامات بردر حبس ضرور بودند از صحبت ایشاں حاصل شد،و نیز اجازت طریقہ نقشبندیہ فرمودند‘‘
یعنی حضرت یحییٰ صاحبؒ نے (حضرت جی صاحب) بہت مہربانی فرمائی ، ان کی صحبت میں ذکر قلبی غالب ہوا، ذکر قلبی ، حبس کا طریقہ اور بعض دیگر مقامات جو کہ حبس کے لئے ضروری ہیں، ان کی صحبت سے حاصل ہوئے، نیز آپ نے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی اجازت بھی مرحمت فرمائی ۔ اٹک کے گرد ونواح کے فقرا کو مل کر راولپنڈی کے قریب نور پور شاہاں میں شاہ لطیف مجذوبؒ سے بھی ملے ، آپ خود رقمطراز ہیں۔
’’ توجہ در حق فقیر کردند، اثر آں در معلوم شد، لیکن بعد یک روز اثر آں معدوم گشت و باقی نماند‘‘
نوشہر ہ (نواح گجرات) میں حاجی کلگوصاحبؒ، کنجاہ میں درویش محمد جعفر صاحبؒ سے مل کر لاہور پہنچے ۔ لاہور آپ کے وقت میں علماء ، مشائخ ، فقراء اور مجاذیب کا مرکز تھا۔ لاہور کے تمام حضرات سے ملاقات کی ، آپ فرماتے ہیں۔
’’ مجاذیب و گوشہ نشینان و سالکان واہل شوق را بسیار دیدم ، درمزارات بزرگان ہم شب ہا گذرانیدہ شد‘‘
میاں جان محمد صاحب کلاںؒ ، میاں جان محمد صاحب قصاب پورہ والے ؒ ،میاں نور محمد صاحب مدقق ، حاجی یار بیگ صاحبؒ، مولوی عبدالہادی صاحبؒ ، میاں محمد مراد صاحب نابینا ؒ ، حاجی محمد سعید صاحبؒ اور دوسرے بزرگان سے ملاقات کی ۔ لاہور سے چل کر نواح سرہند شریف میں حضرت سید بھیکہ چشتی ؒ سے ملے ، آپ فرماتے ہیں
’’ اجازت و استفادہ بعضی اذکار و اشغال حاصل نمودم چنانچہ اجازت شغل سہ پایہ ہشت رکنی را ازخدمت اوشاں حاصل کردم‘‘
سرہند شریف تشریف لائے ۔ یہاں پر جناب شیخ صبغتہ اللہ صاحبؒ ، حضرت میاں عبدالاحد صاحبؒ ، المعروف بہ میاں گل صاحب اور میاں فرخ شاہ صاحبؒ سے ملاقات کی۔ حضرت میاں گل صاحبؒ نے آپ کو حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے مزار پر لے جا کر توجہ دی ۔ اور اپنی کتاب مسمٰی بہ معجزات نبوی ﷺ عنایت فرمائی ۔ سرہند شریف سے رخصت ہو کر دہلی تشریف لے گئے ۔ دہلی میں شیخ محمد چشتی اور شیخ کلیم اللہ صاحب اور دوسرے بزرگان کرام سے ملاقات کی ۔ شیخ کلیم اللہ صاحب ؒ نے اپنی مصنفہ کتاب لقیمات آپ کو عنایت فرمائی ۔ مزارات پر بھی جہاں آباد میں راتیں گذاریں ، چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔
’’ برمزار شریف حضرت خواجہ قطب الدین چندرگاہ گذرانیدم اوشاں ہم بفضلات وعنایات فرمودند‘‘
یعنی حضرت خواجہ قطب الدین صاحبؒ کے مزار شریف پر کچھ راتیں گذاریں تو آپ نے بہت ہی فضیلتوں اور عنایتوں سے نوازا ۔ دہلی سے اکبر آباد ہوتے ہوئے اجمیر شریف پہنچے ۔ اور حضرت خواجہ بزرگ عطائے رسول قطب الاقطاب حضرت خواجہ معین الدین سنجری ؒ کی مزار پر انوار پر حاضر ہوئے ، اور سلام عرض کیا ۔ آپ اپنے رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں۔
’’ درباطن مہربانی فرمودند و توجہات عنایات کردند ‘‘
اجمیر شریف سے واپس لاہور پہنچے ۔ وہی شوق اور وہی لگن اولیاء اللہ کی خدمت کا جذبہ صادقہ بدرجہ اتم موجود ہے ۔ لاہور کے قریب ایک گاؤں بنام سیام چوراسی تھا۔ وہاں ایک ولی اللہ تھے جن کا اسم گرامی عبد الغنی ؒ تھا وہ ان دنوں لاہور تشریف لائے تھے ۔ آپ اکثر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، فرماتے ہیں
’’ فقیر مکرر بخدمت ایشاں رفتہ ، اکثر صحبت الیشاں و مجلس خاص ایشاں میسر می شد، توجہ نسبت ذات بحت کردند ، چنا نچہ ازاں سبب بے خودی و بیرنگی غلبہ می کرد، و اجازت آں نسبت و دیگر مراقب ذکر و شغل ہم بفقیر دادند، چنانچہ گاہ نسبت مذکور غالب می بود و گاہی نمی باشد‘‘
یعنی مجھے ان کی خاص صحبتیں خلوت میں میسر ہوئیں نسبت ذات بحت کی توجہ کرتے تھے ۔ اسی لئے بے خودی اور بے رنگی غلبہ کرتی تھی ۔ اس نسبت ، دیگر شغل اور مراتب ذکر کی اجازت مرحمت کی چنانچہ کبھی وہ نسبت غالب کرتی او رکبھی نہ ہوتی۔
اتنا طویل سفر کرنے کے بعد جب آپ واپس پشاور پہنچے ، توارشاد فرمایا ۔
’’اکثر بزرگان رااز سالکان و مجذوباں و صلحاء و مرتاضان ، را زیارت کردہ شد ہمہ مہربانی فرمودند ، بقدر نصیب چیزے حاصل نمودہ شد ، اماآنچہ مطلوب ایں حقیر بود میسر نہ شد‘‘
ہمہ شب بزاریم شد کہ صبانداد بوئے
Gنہ دمید صبح بختم چہ گناہ نہم قضا را
¹یعنی اکثر بزرگان کرام سے ، سالکوں، مجذوبوں صلحا ء او رمرتاض لوگوں کی زیارت کی ۔ تمام حضرات نے مہربانی فرمائی ۔ جس قدر قسمت میں تھا حصہ ملا، مگر میری دلی مراد پوری نہ ہوئی ۔ آپ نے پشاور سے پھر کشمیر کا سفر اختیار کیا۔ مورخ کشمیر حضرت مفتی محمد شاہ صاحب سعادت فرماتے ہیں ۔ کہ سرزمین کشمیر میں متواتر چند دفعہ تشریف فرما کہ قدرتی مظاہر و مناظر سے لطف اٹھایا ۔ تبلیغ دین کا فریضہ بجا لائے۔ مشائخ کرام کی ملاقات سے کامیاب رہے ۔ طریقہ شریفہ کے نشر و اشاعت میں پوری توجہ سے کام لیا۔
آپ کے علم وفقر کی شہرت اتنی عام ہوئی کہ ہر کہ ومہہ کی زبان پر آپ کی دینی تبلیغ خدمت فقرا ، درس اور لنگر کا تذکرہ تھا ۔ لوگ جوق در جوق آتے اور حسب حال امداد حاصل کرکے جاتے ۔ جو تحائف اور ہدایا آتے تو آپ فقرا ء مساکین ، بیواؤں اور یتیموں پر صرف کردیتے ، مسافر کو زادراہ مہیا کرتے ، اتنے اخراجات کرنے کے باوجود آپ کے چہرۂ اقدس پر میل تک نہیں آئی اور نہ ہی آپ نے کبھی کسی حکمران وقت اور امیر سے کوئی امداد قبول کی، دربار دہلی کی طرف سے ایک بار آپ کی خدمت میں ایک ہزار اشرفیاں پیش کی گئیں ۔آپ ؒ نے یہ فرماتے ہوئے واپس کر دیں کہ ’’ مستحق افراد میں ان کو بانٹ دو مجھے ان کی ضرورت نہیں، یہ غریبوں اور مفلوک الحال لوگوں کا حق ہے‘‘
جب محمد شاہ بادشاہ ہندوستاں پر حملہ آور ہوا۔ (اس وقت آپ لاہور میں تشریف فرماتھے) تو اس نے پشاور سے آپ کے نام حکم نامہ لکھا کر دربار میں حاضر ہوں ، اور میرے لئے دعا کریں ۔ آپ نے محمد شاہ بادشاہ کو صاف جواب لکھ کر بھیج دیا۔
’’ کہ طریق پیر ما نیست کہ نزد بادشاہ روند ، وباستمدادئے پردازند ، کہ برائے ہر یک استمداد حق جل و علا کافی است‘‘
آپ کے اس جواب پر بادشاہ بہت برا فروختہ ہوا ، غصہ سے جھلا اٹھا اور حکم دیا کہ سب سے پہلے لاہور پہنچ کر حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ کو اس حکم عدولی پر سزا دوں گا۔ اس کے بعد دہلی کی طرف قدم بڑھاؤں گا۔ قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ جب محمد شاہ بمعہ لشکر دریائے اٹک پر پہنچا تو دریا میں طغیانی آگئی اور دن بدن بڑھنے لگی ۔ کافی دن محمد شاہ کو یہا ں پر لگ گئے ، اس نے امراء سے مشورہ کیا ، مشورہ کرنے کے بعد بادشاہ نے اپنی قاصد پشاور میں آپ کے خلیفہ محمد غوثؒ کے پاس بھیجا کہ وہ دعا کرے کہ ظغیانی ختم ہو ۔ آپ کے خلیفہ نے بادشاہ کو جواب لکھا۔
’’ کہ ایں ہمہ توقف از شامت ارادہ ید بادشاہ است کہ بہ نسبت حضرت سید محمد غوث اندیشدہ است ۔ اگر شاہ ازاں ارادہ باز آید ممکن است کہ از آب دریا عبور نماید‘‘
جب بادشاہ کو ایک فقیر درویش کایہ پرزہ کاغذ ملا ، تو لرز گیا ۔ توبہ کی، اللہ تبارک و تعالیٰ نے طغیانی کو ختم کردیا ۔ بادشاہ دریا عبور کر کے لاہور پہنچا ۔ محمد شاہ بادشاہ نے لاہور پہنچ کر اپنے حضور طلب کیا ۔ مگر آپ نے شدت کے ساتھ محمد شاہ کے دربار میں جانے سے انکار کر دیا ۔ بادشاہ خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اشرفیاں آپ کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ نہایت ہی اخلاق کریمانہ سے بادشاہ کو ملے ۔ مگر اشرفیاں لینے سے انکار کر دیا۔ اور فرمایا کہ ’’ میرا تقویٰ اور اعتماد اللہ جل جلالہ پر ہے اور وہی کافی ہے ‘‘۔ صاحب خزینۃ الاصفیا فرماتے ہیں ،
’’ کہ (بادشاہ ) در لاہور رسیدہ مخلصانہ ملاقات کرد‘‘
جب وقت آپ کے والد محترم حضرت ابوالبرکات سید حسن ؒ کا انتقال ۱۱۱۵ء میں ہوا تو اس کے فورا بعد بادشاہ ہندوستاں اورنگ زیب عالم گیر نے آپ کے نام حضرت ابوالبرکات ؒ کے مزار شریف کے گر د چایس جریب زمین کی سند لکھ کر بھیج دی ، مگر آپ نے قطعی جواب دے دیا کہ ’’ میں فقیر آدمی ہوں ، اللہ کا دروازہ مجھ کافی ہے وہی میرا کارساز ہے ، وہی میرا مولیٰ ہے اور وہ بہت اچھا آقا ہے ‘‘
۱۱۲۰ھ میں پشاور شہر میں خانقا ہ عالیہ قادریہ سید حسن صاحب ؒ پر باقاعدہ سلسلہ تدریس شروع کر دیا۔ درس قرآن ، درس حدیث اور طریقہ مبارکہ کے ارشادات خود فرماتے ، آپ کے درس مبارک میں اکابر علماء کے لڑے اور مشائخ کرام کے صاحبزادگان آکر علوم سے بہرہ ور ہوتے ۔ حدیث شریف کا درس اتنا وسیع تھا کہ علاوہ پنجاب و سرحد کے کابل ، ہر ات اور غزنی کے طلباء جوق در جوق آآکر شامل ہوتے نیز تمام طلباء کی رہائش لباس اور طعام کا بندوبست بھی آپ خود فرماتے ، دوسری طرف اپنے سلسلہ مبارک کی نشر و اشاعت میں انتھک کوشش کرتے۔ سینکڑوں مریدین اور متعقدمین آتے اور رشد و ہدایت سے بہر ہ یاب ہو کر واپس لوٹتے ، غرضیکہ آپ کی خا نقا ہ میں تزکیہ نفس اور تہذیت اخلاق کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی ۔ کوئی قرآن حکیم ، احادیث شریف ، فقہ شریف اور تصوف کی کتابیں پڑھ رہا ہے ، تو کوئی نفی اثبات کے ذکر میں مشغول ہے ، کوئی مراقبہ کر رہا ہے تو کوئی رابطہ قلب کے ساتھ درد و شوق بڑھا رہا ہے ۔ اس پر طرفہ یہ کہ سب پر آپ کی نظر کرم موجود ہے۔
۱۱۳۱ھ میں آپ نے بخاری شریف کی شرح لکھی ۔ آپ ۱۱۴۸ھ تک پشاور میں رہے اور پھر لاہور تشریف لے گئے ۔ چار برس تک لاہور میں بھی اسی طرح تبلیغ دین ، اشاعت سلسلہ میں منہمک رہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ آپ بادشاہ روحانی حضور غوث اعظم سید شیخ عبدالقادر جیلانی ؓ ، قطب الاقطاب کے مقام پر سرفراز ہو کر لاہور میں مقیم ہوئے۔ ذالک فضل اللہ یؤیتہ من یشاء
آپؒ جس طرح مقامات و علوم باطنی سے مشرف تھے ۔ اسی طرح علوم ظاہری سے بھی آراستہ و پیراستہ تھے۔ جناب مؤرخ کشمیر مفتی سعادت صاحب تحریر فرماتے ہیں ۔ خواجہ محمد مراد بیگ جیسے حقیقت شناس بزرگ نے آپ کی تعریف و توصیف میں لکھا ہے ۔
’’ کہ بکلی علم آراستہ است بذکر و فکر اشغال دارد‘‘
صاحب خزینۃ الاصفیا و حدیقتہ الاولیاء فرماتے ہیں۔
’’ جامع ظاہر و باطن ، کاشف رموز طریقت و حقیقت بود‘‘
جس علم وعرفان کی آپ چالیس برس تک اشاعت کرتے رہے ۔ آپ نے اس کو کتابوں میں تحریر فرمایا ۔ زبانی طور پر یہ بات خاندان میں چلی آرہی ہے کہ آپ نے تقریباً چار سو کتابیں لکھیں ۔ مگر چونکہ آپ ؒ کی تمام اولاد تبلیغ کے لئے میدانوں اور پہاڑوں میں پھرتی رہے ، اس لئے کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں ۔ جو کتابیں ملی سکی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔شرح غوثیہ:- آپ نے بخاری شریف کی یہ شرح ۱۱۳۱ھ میں فرمائی جو کہ شرح غوثیہ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ شرح علم حدیث میں ایک بحر نا پیدا کنار ہے ۔ حدیث شریف کے متعلق جتنے علوم ہیں وہ سب اس شرح میں آپ نے حل فرمائے ہیں۔ اس شرح میں علاوہ دیگر متعلقہ علوم کے بخاری شریف کے اسما ء الرجال کو مکمل بیان کیا ہے ۔ فقہہ حنفی کی تطبیق نہایت ہی احسن طریقہ پر کی ہے ۔ حضرت استاذ محترم عزت مآب صاحبزادہ حافظ علی احمد صاحب شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ نے جب یہ شرح ملاحظہ فرمائی تو فرمایا ’’ اس طرح معلوم ہوتا ہے جسے حضرت ؒ کے سامنے لوح محفوظ تھی۔ جس کو دیکھ کر آپ یہ شرح لکھ رہے تھے ‘‘ ۔ جناب مولینا عبید الحق محدث دار بنگوی فرماتے تھے کہ’’ جس طرح نوری مسلم شریف کی دیگر شروح سے بے نیاز کر دیتی ہے اسی طرح بخاری کی یہ شرح ، بخاری کی اور شروح کے بے نیاز کر تی ہے‘‘۔ یہ شرح فارسی میں ہے اور صاحبزادہ فضل صمدانی صاحب ساکن بھانہ ماڑی پشاور کے کتب خانہ میں تھی اور اب پشاور یونیورسٹی کے کتب خانہ میں ہے ۔ یہ شرح صرف پہلی جلد ہے جو کہ بخاری کے تین پاروں پر مشتمل ہے ۔تقطیع بڑی ہے اور تقریباً ایک ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔
۲۔رسالہ اصول حدیث:- یہ حدیث کے اقسام پر عربی میں آپ نے لکھا ہے ۔ اس فقیر نے اس کو چھپوایا ہے اور اکثر دارا العلوموں میں بطور درس کے پڑھایا جاتا ہے ۔ اس فقیر کے استاذ محترم صاحبزادہ حافظ علی احمد جان صاحب نور اللہ مرقدہ ، نے بخاری شریف کے اسباق کے دوران اس کا نہایت ہی نفیس و جلیل ترجمہ کیا۔ انشاء اللہ چھاپ دیا جائے گا۔
۳۔رسالہ دربیان کسب سلوک و بیان طریقت و حقیقت (فارسی قلمی)
یہ رسالہ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے تصوف پر لکھا ہے ۔ یہ رسالہ مکمل و اکمل مرشد ہے ۔ سالک و قدم قدم پر ہدایت کرتا اور سمجھاتا ہے ۔ چنانچہ آپ خود اس رسالہ میں رقمطراز ہیں کہ طالب کو اگر راہ کی طلب ہے تو
’’ اوّل مرشد کند کہ کار بدون اونکشائد و حل ایں عقدہ بوصل اوست ، اگر ایں چنیں مرشد نہ باید پس آنچہ دریں رسالہ مسطور است از محققان و صاحب کمالان حاصل نمودہ خلاصہ آں نوشتہ ، باید کہ بریں عمل نماید البتہ از فائدہ و پہنائی ایں راہ خالی نخواہد ماند، و انتفاعی خواہد شد، اگر استعداد کامل باشد، شاید بمقصود برسد‘‘۔
اس رسالہ میں ایک دیباچہ اور چھ فصلیں ہیں ۔ دیباچہ میں ’’ذکر مدام ‘‘ اور ’’فکر تمام‘‘ ،’’ اکل حلال‘‘ ،’’ صدق مقال‘‘ وغیرہ پر بحث ہے ۔ پہلی فصل شریعت کے بارے میں ہے اس فصل کی ابتدا میں فرمایا ۔
’’ اوّل سالک را لازم است کہ سعی درمتابعت نبوی علیہ الصلوٰۃ و السلام نماید و قدم از متابعت او بیرون نہ نہد ، و درعقائد ، اعمال و افعال و احوال در تبعیت آنحضرت ﷺ کو شد‘‘
نمازی کی پابندی ، نبوی استفادہ کا طریقہ ، حضورپر نور ﷺ پر درود ، طریقہ تہجد، طریقت کے کیا مراد ہے اور ذکر کے طریقوں کا بیان ہے ۔ دوسری فصل میں ان مراقبوں کا ذکر ہے جو ذکر کے بعد کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے مراقبہ حضور، مراقبہ شہود، مراقبہ معیت ، احاطہ ذاتیہ اور نور محمدی ﷺ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے ،تیسری فصل حقیقت کے بیان میں ہے۔ چوتھی فصل معرفت اور پانچویں فصل مراتب وجود اور ظہور حق کے بیان پر مشتمل ہے ۔ چھٹی فصل میں اپنے پیر ومرشد والد محترم کا تذکرہ اور خرقہ خلاف کا بیان ہے اور ان بزرگان اور علما ء کرام کا ذکر ہے جس سے آپ نے استفادہ کیا اور انہیں ملے ۔ نیز اپنا شجرہ بھی ہے۔
۴۔ رسالہ ذکر جہر:- اس رسالہ میں قرآن مجید ، احادیث شریف ، کتب فقہہ اور کتب علما ء کرام سے مدلل طریقہ سے ذکر جہر کا ثبوت دیا ہے اور نہایت ہی احسن وجوہ بیان فرمائے ہیں ۔ یہ رسالہ عربی میں قلمی ہے۔
۵۔ ترجمہ قصیدہ غوثیہ شریف (فارسی):- قصیدہ شریف کی عام فہم اور صوفیانہ شرح ہے ۔ صرف اور نحو کے مشکل مقامات کو نہایت آسان طریقہ پر حل فرمایا ہے ۔پیر عبد الغفار صاحب لاہوری نے ۱۹۱۰ ء میں شائع کی تھی ۔ اس شرح کا نام آپ نے ’’ شرح خمریہ ‘‘ رکھا ہے۔
۶۔اسرار التوحید(عربی) : - قلمی یہ کتاب توحید کے موضوع پر ہے ، کلکتہ (بھارت) میں حضرت مولانا مولوی عبدالرؤف صاحب دانا پوری مصنف اصح السلیر کے کتب خانہ میں ہے ۔ حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ نے خود اس کا تذکرہ کیا ہے ۔ آپ جب فصوص الحکم مصنفہ ابن عربی ؒ کا مطالعہ کرتے تھے تو آپ کو دو مقامات پر بہت اشکال وارد ہوئے۔ آپ فرماتے ہیں ’’ ایک تو وجہہ مطلق کی تحقیق اور اس سے کثرت کے ظاہر ہونے کی کیفیت ، دوسرا خاتم الاولیاء کا مسئلہ میری سمجھ میں نہ آتا تھا ۔ آخر ایک رات حضرت شیخ ابن عربی اور شیخ صدر الدین قونی کو جو کہ شیخ کے اجل اصحاب سے تھے ، معہ مولوی جامی کے خواب میں دیکھا (خدا ان سب پر اپنی رحمت کرے) انہوں نے ہر دو مسئلوں کو خاکسار کے سامنے حل کر کے سمجھا دیا ۔ جب میں بیدار ہوا تو میری تسلی تھی، بلکہ اس خواب کے بعد تو یہ کیفیت ہے کہ علم میں جو قضیہ واردہوتا ہے ایسا صاف ہوجاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اپنے وجدان سے حاصل ہوا ہے اور جو شخص ان مسئلوں میں تصرف کرتا ہے ۔ اس منشاء شبہ بھی سمجھ میں آجاتا ہے کہ ناسمجھی کے باعث ایسا کر رہا ہے ۔ اس کا جواب فوراً ذہن میں آموجود ہوتا ہے ۔ ذرا بھی سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ گویا اس علم کے مسئلے موجود ہیں‘‘۔ فرماتے ہیں ’’ چنانچہ اس علم میں کئی رسالے لکھے ان میں ایک کا نام اسرار التوحید عربی میں کلاں رسالہ ہے ۔ دوسرا فارسی میں، اس میں بعض وجدانی حقائق بھی درج کئے گئے ہیں‘‘ اسی طرح آپ نے قرآن مجید کا حاشیہ تحریر فرمایا ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ (ڈیرہ اسماعیل خان) کلاچی میں حضرت خواجہ نور محمد صاحب سروری قادری کے کتب خانہ میں ہے ۔ واللہ اعلم
منطق ، فلسفہ اور الہٰیات کی کتابوں پر آپ نے شروح تحریر فرمائے ۔ مگر افسوس کہ ان کتابوں کا پتہ نہیں لگ سکا ۔ اگر کسی کے پاس ہیں تو وہ بتلانا بھی گوارا نہیں کرتے۔اگر کسی صاحب کے پاس آپ ؒ کی کوئی کتاب ہو تو مطلع فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
آپ کے کشف وکرامات کو اگر جمع کیا جائے تو ایک مکمل الگ کتاب بن جائے گی۔ مگر آپ کی ذات ستودہ صفات ان باتوں سے ارفع اعلیٰ اور بہت ہی بلند ہے ۔ آپ نے خود بھی ان باتوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھا ، چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں ’’ سالک کو بعض اوقات ذکر کی حالت میں اپنے اور غیر کے قلب کا شاہد ہ ہوتا ہے اور بعض اوقات اور باتیں بھی کھل جاتیں ہیں۔ کشف قبور بھی حاصل ہوتا ہے ۔ لیکن ان باتوں کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ (سالک) مطلوب حقیقی سے محروم رہ جاتا ہے ‘‘ اور کیوں نہ ہو جب کہ آپ ایسے روحانی درسگاہ کے فیض یافتہ تھے۔ جس کے استاد والاقدر کا یہ ارشا ہے کہ
’’ ایں ہمہ (کشف و کرامات وغیرہ) آنچہ دیدی و شنیدی بازی طفلان است، و کار دیگر است، سالک را ایں کار آفات است و مانع علو درجات است‘‘
اسی وجہ سے اس میں اختصار کیا جاتا ہے اور آپ کی وہ کرامتیں لکھی جاتی ہیں جس سے آپ کا تعلق بااللہ ظاہر ہوتا ہے ۔ نیز جن کرامات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کو آپ نے کس طرح پائے استحقار سے ٹھکرایا۔
صاحب یاد رفتگان لکھتے ہیں۔ ’’ ایک دفعہ ایک نابینا آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کی کہ آپ سید آل رسول ﷺ ہیں مجھے دم کریں(تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے بینائی نصیب فرما دے) آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس کی آنکھو ں پر دم کیا اور ہاتھ پھیرا وہ شخص فورا بینا ہوگیا۔
جب آب لاہور جاتے ہوئے اٹک پہنچے ، تو ایک مہاتما بمعہ اپنے چیلوں کے آپ کی خدمت میں آیا ، اور کہا کہ آپ درویش ہیں آپ کے لنگر سے سینکڑوں آدمی روٹی کھاتے ہیں ۔ لہٰذا آپ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک ٹکڑا کیمیا کا حاضر ہے آپ جتنا چاہیں اس سے سونا بنا کر اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بہت اچھا اور وہ کیمیا آپ نے لے کر دریا میں پھینک دیا۔ وہ مہا تما بہت ہی خفا ہوا اور ناراضگی کا اظہار کیا ۔ آپ نے اس کو مخاطب کر تے ہوئے دریائے اٹک کو کلمہ طیبہ پڑھ کر اشارہ کیا۔ دریا پھٹ گیا۔ تو اس مشرک کو ہر طرف سنگ پارس ہی سنگ پارس نظر آئے ۔آپ نے اس مشرک کوکہا کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر اتنا عظیم احسان ہے جو تم نے دیکھا اور یہ احسان عظیم تم پر بھی ہوسکتا ہے ۔ بشرطیکہ ایمان لے آؤ۔ وہ مہاتما بمعہ اپنے چیلوں کے آپ کی یہ کرامت دیکھ کر مسلمان ہوگیا۔ پھر یہی مہاتما آپ کا خلیفہ بنا اور بڑے بڑے اولیاء آآ کر اس سے فیض پاتے۔ اس کی قبر آپؒ کے پاؤں کی طرف ہے ۔
صاحب حدیقتہ الاولیاء جناب مولینا مفتی غلام سرور صاحب لاہوری اپنی کتاب کے صفحہ ۲۶ پر تحریر فرماتے ہیں۔
’’ حضرت کی کرامتیں اکثر مشہور ہیں ۔ مگر چشم دیدیہ ہے ، جب رنجیت سنگھ کربعد کھڑک سنگھ جانشین حکومت لاہور ہوا تو اس کے بیٹے نونہال سنگھ نے جو بااختیار حاکم تھا حکم دیا کہ لاہور کی فصیل کے باہر چار ہزار قدم تک زمین صاف کر دی جائے ۔ مکانات گرائے جائیں ، اور درخت کاٹ دئیے جائیں۔ ایک انگریز دلا روس اس کام پر مقر ر کیا گیا۔ اُس نے مکانات گرانے شروع کر دئیے۔ آپ کے مکان کی چار دیواری بھی گرانی شروع کی گئی ۔ درخت کاٹ دئیے گئے۔ جب اندرون دیوان خاص مزار کی چار دیواری گرائی گئی تو قدرت الٰہی سے اسی روز کھڑک سنگھ مرگیا۔ اور نونہال سنگھ جب نعش جلا کر آیا تو سلامی کی توپوں کے زلزلے سے قلعہ کی دیوار کا پتھر جدا ہو کر نونہال سنگھ کے سر پر آگرا ، او روہ جوان ، جوان مرگ ہوا۔ اس کی والدہ چندر کور ڈری اور حکم دیا کہ مزار حضرت کا نہ گرایا جائے چنانچہ گرا ہوا مکان اسی وقت تعمیر کیا گیا۔
آپ کی وفات ۱۷ ربیع الاول ۱۱۵۲ھ میں ہوئی ۔ بیرون دہلی دروازہ لاہور آپ کا مزار واقع ہے۔ آپ کے چار فرزند تھے۔ ( سید میر محمد عابد شاہ صاحبؒ، سید میر شاکر شاہ صاحبؒ، میر سید شاہ میر صاحبؒ، میر باقر شاہ صاحبؒ) یہ ہر چہار آپ کے مرید اور خلفاء تھے ۔ اور آنجناب کے بہت سے اور خلفابھی تھے۔ ان میں حافظ محمد سعید صاحبؒ، حافظ محمد صدیق صاحبؒ، محمد غوثؒ اور جناب شیخ وجیہہ الدین صاحب المعروف پیر زہدی لاہوری ؒ، نیز آپ کے پوتے جناب حضرت شاہ غلام صاحبؒ بھی آپ کے مرید و خلیفہ تھے۔
حضرت غوث زماں میاں محمد عمر صاحبؒ موضع{ XE "حضرت غوث زماں میاں محمد عمر صا{ XE "ح" }{ XE "حضرت غوث زماں میاں محمد عمر صا{ XE "ح" } چکنی پشاور
۱۰۸۴ھ تا ۱۱۹۰ھ
آپ کا اسم شریف میاں محمدعمر صاحبؒ، والد کا نام ابراہیم خان ، دادا کا نام کلاخان ہے اور القاب مؤرخ عظیم ، شیخ المشائخ ، عمدۃ العلماء ، قدوۃ الفضلاء اور غوث زمان ہیں۔ پشاو رشہر کے علاقہ میں عموماً اور دوسرے شہروں میں خصوصاً میاں صاحب چمکنی شریف کے نام سے مشہور ہیں۔
آپ باجوڑ کے علاقہ کے رہنے والے تھے۔ آپ کے دادا کلاخان بہت بڑے علم دین اور طریقہ قادریہ و چشتیہ کے روحانی پیشوا تھے۔ حکمران طبقہ اور دیگر ہر قسم کے لوگ آپ کی روحانیت اور علم کے معترف تھے۔ جس کے بدولت آپ کو بڑی عزت و عظمت سے دیکھا جاتا ۔ جناب کلاخان شاہ جہان کے دورحکومت میں لاہور تشریف لے گئے ۔ لاہور میں آپ کی تشریف آوری کا جب شاہ جہاں کو پتہ چلا تو اُس نے آپ کی بہت ہی خاطر و مدارات کیں اور انتہائی عزت و تکریم سے پیش آیا ۔ اور دریائے راوی کے کنار ے موضع فرید آباد کی جائداد بطور جاگیر کے دے دی ۔ کلا خان صاحب اپنے تمام کنبہ کو لے کر فرید آباد میں آباد ہوگئے، اور تمام جاگیر کا انتظام و انصرام خود کیا۔
فرید آباد کے قریب ایک موضع تھا جس کا نام سیداں والا ہے۔ جناب کلاخان نے اس مو ضع میں ایک شریف گھرانے میں شادی کی ۔ اس بیوی کے بطن سے صرف ایک لڑکا مسمی محمد ابراہیم خان پیدا ہوا۔
جناب کلا خان اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر اور باقی قبیلہ کو فرید آباد میں رہائش پذیر کر کے اپنے آبائی وطن باجوڑ کو عازم سفر ہوئے۔ جب دریائے سندھ کو عبور کر خلہ وخیل علاقہ میں موضع کلاخان پہنچے تو وہاں پر جناب کلاخان کو شہید کر دیا گیا۔ اُن کے بیٹھے محمد ابراہیم خان نے پریشانی کے عالم میں والد کو وہاں پر دفن کر کے باجوڑ کی راہ لی ۔ جناب میاں محمد عمر صاحبؒ اس واقعہ کو پشتو کے ایک شعر میں بیان فرماتے ہیں۔
óیعنی وحدہ، لاشریک کی قضاء مبرم (نہ ٹلنے والی قضا) کوکوئی نہیں تبدیل کر سکتا۔ جب کلاخان، کلاخان پہنچے کو شہید کر دیئے گئے۔
کچھ عرصہ جناب محمد ابراہیم صاحب نے جندول علاقہ باجوڑ میں قیام کیا اور پھر فرید آباد میں اپنی جاگیر پر اور کنبے کا پاس چلے آئے۔
اتفاقا پشاور اور اس کے گردونواح میں ہولناک قحط پڑا ، بڑے بڑے زمیندار مفلوک الحال ہوگئے، افلاس اور غربت کی وجہ سے اپنی جگہیں انھیں چھوڑنی پڑیں ۔ تو موضع چمکنی کے خان ملک سعید خان بھی اپنا کنبہ لے کر فرید آباد چلاگیا، اور وہاں پر سکونت اختیا ر کر لی۔
ملک سعید خان نے اپنی لڑکی جنا ب محمد ابراہیم خان صاحب سے بیاہ کردی ، جس کے بطن سے تین لڑکے پیدا ہوئے ۔ ان میں سے ایک کا نام نامی اسم گرامی محمد عمر المشہور میاں صاحب چمکنی تھا۔
جب دور قحط ختم ہوا اور علاقہ آباد ہونے لگا تو ادھر ادھر گئے ہوئے لوگ اپنے اپنے علاقہ میں واپس آنے لگے تو ملک سعید خان بھی واپس اپنے آبائی گاؤں موضع چمکنی آکر آباد ہوگئے ۔ کچھ عرصہ کے بعد ملک سعید خان کو معلوم ہوا کہ جناب محمد ابراہیم صاحب فوت ہوگئے ہیں تو وہ فرید آبادگئے اور اپنے نواسے اور نواسیوں کو بمعہ اپنی صاحبزادی کے لے کر موضع چمکنی چلے آئے ، اس وقت جنا ب میاں عمر صاحبؒ کی عمر شریف صر ف آٹھ یا نو برس کی تھی۔
میاں صاحبؒ کی پرورش آپ کی والدہ صاحبہ کے زیر سایہ آپ کے نانا ملک سعید خان نے باحسن وجود سرانجام دی ۔ ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد اسی علاقہ کے اکابر مشائخ اور علماء کی صحبت میں رہ کر دینیات کی تکمیل کر لی۔
مولینا محمد فاضل صاحب پاپینی (نگرہار) ، شیخ فرید صاحب ساکن موضع اکبر پورہ ضلع پشاور، مولینا حاجی محمد امین صاحب ساکن پشاور چھاؤنی ، صدیقی نقشبندی، حضرت شیخ المشائخ عبدالغفور صاحب نقشبندی اور حضرت محمد یونس صاحب(جن کا مزار موضع طور ومعیار ضلع مردان میں واقع ہے) رحمہم اللہ علیہم اجمعین آپ کے اساتذہ کرام میں سے ہیں ۔ ان حضرات عالی مرتبت سے آپ نے علوم متداولہ کی تکمیل کی۔
حضرت میاں محمد عمر ؒ نے ایک کتاب بنام خزینۃ الاسرار یا سر الاسرار لکھی ہے۔ اس میں آپ نے حاجی شیخ سعدی لاہوری ؒ کے ساتھ اپنی ارادت کا مفصل بیان کیا ہے۔
آپ پہلی بار ۱۱۰۴ھ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس کے بعد جب بھی آپ اپنی جاگیر کی وصولی کے سلسلہ میں فرید آباد جاتے تو حضرت شیخ سعدی لاہوریؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اپنی ارادت ومحبت کا اظہا ر کرتے۔
جب ۱۱۰۵ھ میں جناب مولینا محمد فاضل صاحب کی جگہ مٹہ مغل خیل علاقہ دوآبہ میں شیخ سعدی ؒ تشریف لائے تو حضرت میاں عمرصاحبؒ اس وقت بھی آپ کی خدمت میں حاضرہوئے ، اور جب شیخ سعدی صاحبؒ موضع اچینہ میں شیخ ابراہیم چشتی ؒ کے پاس تشریف لائے تو میاں صاحب ؒ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ آخر میں جبکہ شیخ سعدی ؒلاہوری ۱۵ صفر ۱۱۰۶ھ کو کوہاٹ وغیرہ کا دورہ کر کے واپس پشاور آئے تو آپ نے پشاور میں ان کا استقبال کیا۔
اگرچہ آپ کی محبت اور ارادت حضرت شیخ سعدی لاہوری ؒ سے بدرجہ کمال تھی ، مگر آپ حضرت سرالاعظم شیخ یحییٰ المعروف اٹک حضرت جی صاحبؒ سے بیعت تھے اور حضرت جی صاحبؒ حضرت شیخ سعدی لاہوری ؒکے دست گرفتہ تھے۔ شیخ سعدی لاہوری حضرت آدم بنوری ؒ کے مرید تھے اور آدم بنوری ؒ ، حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒ کے مرید و خلیفہ تھے۔
جناب چمکنی میاں صاحبؒ نے توضیح المعانی شرح خلاصہ کیدانی کے دیباچہ میں اپنی بیعت کا تذکر ہ اس طرح کیا ہے ۔ فرماتے ہیں،
ترجمہ: - میرا (روحانی ) طریقہ اویسی تھا۔ حضور پرنور ﷺ کی روح پر فتوح نے میری تربیت کی تھی۔ لیکن ظاہری طور پر میرے لئے ضروری تھا کہ کسی ایک زندہ پیر کی بیعت کرتا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے اٹک کے حضرت یحییٰ صاحب المعروف حضرت جی صاحبؒ سے طریقہ نقشبندیہ میں بیعت کی۔
آپ نے تکمیل سلوک کے بعد مسند ارشاد کو زینت بخشی ، تبلیغ اسلام ، اشاعت علوم اسلامیہ اور سلسلہ نقشبندیہ کی ترویج میں مصروف ہوگئے۔ گرد ونواح کے شہروں اور بستیوں میں دورے کرتے اور ’’ امر باالمعروف ‘‘ ’’ نہی عن المنکر‘‘ فرماتے۔ تمام اوقات عبادت الٰہی اور اللہ کی مخلوق کی خدمت میں بسر کرتے ۔ لنگر جاری کیا ، ہر آنے جانے والوں کو لنگر سے کھانا ملتا ۔ مسافر کی اثنا سفر کی ضرورت بھی مہیا فرماتے ۔ تقریباً پانچسو کے قریب افراد روزانہ دونوں وقت کا لنگر سے کھاتے ۔ امرا ء اور غربا یکساں آپ کی صحبت سے فیض حاصل کرتے۔ آپ کی خانقاہ باقاعدہ طور پر سلوک و معرفت کی ایک درسگاہ تھی ، جس میں حسب توفیق ہر ایک صاحب معرفت بن کر مخلوق خدا کی ہدایت میں مصروف ہوجاتا۔
آپ انتہائی سادگی اور بے ریا زندگی بسر کرتے ۔ عموماً روزہ سے ہوتے اور اگر کبھی کبھار افطار بھی کرتے تو بہت ہی کم کھاتے ۔ بغیر ضرورت کے گفتگو نہ فرماتے ۔انتہائی درجے کے متبع سنت تھے ۔ حضور اکرم سید دو عالم ﷺ کی زندگی مبارک کی عملی تفسیر تھے۔
آپ کی صحبت بابرکت میں بڑے بڑے اعاظم علماء اور فقہا انتہائی ارادت سے آتے اور اپنی اس حاضری کو سعادت اخروی و دنیوی کا سبب سمجھتے ، یہاں تک کہ آپ سے بیعت ہو کر صاحب مجاز بھی ہوئے۔
اس کے ساتھ ساتھ کہ آپ نے طریقہ نقشبندیہ کو اپنی زندگی کا مقصد اور وظیفہ بنا رکھا تھا۔ آپ نے تحریر کے ذریعہ بھی مذہب و قوم کی خدمت کی ، جو آج تک رہنمائی کرتی ہے۔
خلاصہ کیدانی فقہہ حنفی کی ایک متداول کتاب ہے جس میں نماز کا مکمل طریقہ ہے ۔ آپ نے نہایت ہی تفصیل کے ساتھ اس کا پشتو نظم میں ترجمہ کیا۔ یہ کتاب دارالعلوم رفیع الاسلام کے مہتمم جناب مولینا سید فضل صمدانی صاحب کے کتب خانہ میں محفوظ ہے۔ جس کا نام ’’ توصیح المعانی ‘‘ ہے حضور ﷺ کے شمائل مبارکہ پر ایک کتاب ’’شمائل النبی ﷺ‘ ‘ لکھی ۔ ایک ضخیم کتاب سرالاسرار یا خزینۃ الاسرار تقریباً نو سو صفحات پر فارسی میں لکھی اس کتاب میں اپنے مشائخ کا تذکرہ اور علم تصوف کو لکھا ہے ۔ یہ کتاب بہت ہی نایاب ہے۔
محترم عبدالحلیم صاحب اثر افغانی نے اس کتاب کو کابل میں دیکھا ہے ، مفتی غلام سرور صاحب لاہوری مرحوم نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’ خزینۃ الاصفیاء ‘‘ میں اکثر اس کتاب کے حوالے دیئے ہیں۔ ایک کتاب ’’المعالی ‘‘ قصیدہ امالی (جو کہ عقائد احناف کی کتاب ہے ) کی شرح میں لکھی ، یہ بھی قلمی ہے اور بھانہ ماڑی کے کتب خانہ میں موجود ہے ۔ ’’ پشتو نسب نامہ ‘‘ بھی آپ نے ایک کتاب لکھی ہے ۔ یہ تمام کتابیں قلمی ہیں۔
آپؒ کی کرامات بے حد وحساب ہیں، آپ کے مریدین میں ’’ لوئے باباؒ‘‘ احمد شاہ ابدالی بھی تھے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب احمد شاہ ابدالی’’ لوئے بابا‘‘ ہندوستان پر حملہ آور ہونے کے لئے آپ ؒ سے طالب دعا ہوا، تو آپ نے فرمایا کہ
’’ ہمراہ خود ہمہ وقت مرا پنداری‘‘
یعنی مجھے ہر وقت اپنے ساتھ تصور کرنا۔ ادھر ’’لوئے بابا‘‘ لڑتا اور آپ ایک قینچی لے کر چمکنی کے کسی ایک باغ میں داخل ہو کر پتوں کو کاٹتے رہتے۔ ’’لوئے بابا‘‘ کہتے تھے کہ جس طرف بھی جہاد میں منہ پھیرتا مجھے حضرت صاحب موصوف کافروں کے ساتھ لڑتے ہوئے نظر آتے۔
اس وقت بھی آپ کی یہ زندہ کرامت ہے کہ جس شخص کے بدن کے کسی مقام پر درد ہو وہ آپ کے مزار مبارک پر حاضر ہوتا ہے ۔ اللہ آپ کی برکت اور طفیل سے اس کو شفا مرحمت فرماتا ہے اور سینکڑوں لوگ روزانہ حاضری دیتے ہیں۔ پشاور شہر کے علاقہ میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔
آپ کی وفات رجب المرجب ۱۱۹۰ھ میں واقع ہوئی اور موضع چمکنی میں جو کہ شاہی سڑک پر پشاور سے تین میل دور واقع ہے ، آپ کا مزار ہے۔
آپ کے خلفاء بھی اسی طرح صاحب علم ، صاحب سلوک و معرفت اورصاحب تحریر ہوئے ۔ ویسے تو آپ کے کافی خلفاء ہوئے ہیں مگر یہاں پر چند ایک نام لکھتا ہوں۔
اخوند ملا عبدالحکیم صاحبؒ ۔ موضع گجر گڑھی ضلع مردان
اخوند زادہ حاجی فضل اللہ ؒ۔ موضع آگرہ ، تحصیل چارسدہ ضلع پشاور
محمدی صاحبزادہ صاحبؒ۔ یہ آپ کے فرزند عزیزہیں ۔ آپ بہت ہی عالم وفاضل تھے۔ آپ نے ’’مقاصد الفقہہ‘‘نامی کتاب اور ’’ درود منظوم‘‘ لکھا ہے ۔ نیز برھان الاصول (اصول فقہ) عربی مولینا عبدالرحیم صاحب لائبریرین اسلام کالج تحریر کرتے ہیں۔
’’ بارھویں صدی کے علماء میں سے ہے ۔ اپنے زمانہ میں عالم متبحر تھا‘‘
عبید اللہ میاں گل صاحبؒ ۔ آپ بھی آپ کے فرزند ہیں ۔ اور صاحب تصنیف عالم ہیں۔ پشتو میں ’’عبرت نامہ ‘‘ نامی کتاب لکھی ہے۔
قاضی اخون عبدالرحمن صاحبؒ۔ پشاو رشہر
ارباب معز اللہ خان صاحبؒ۔ موضع سربند
اخوند حافظ شیر محمد صاحبؒ۔ بازار احمد خان شہر بنوں۔
محمد اخند زادہؒ۔ موضع رستم علاقہ سدوم
نور محمد قریشیؒ۔ نوے کلی تھانہ، مالا کنڈ ایجنسی
احمد شاہ ابدالی ؒ(لوئے بابا) ۔بادشاہ درانی
حضرت غلام محمد صاحب المعروف حضرت جی صاحب پشاوری نقشبندی ؒ
۱۱۰۱ھ تا ۱۱۷۵ھ
آپ کا اسم گرامی غلام محمد ، لقب قدوۃ الاولیاء اور مشہور ہیں حضرت جی صاحبؒ کلان پرآپ نسباً فاروقی ہیں، اور پانچویں پشت میں حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی ، امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی ؒ سے جا ملتے ہیں۔
سر ہند شریف علم وفضل ، سلو ک و معرفت کا مرجع تھا۔ اور آپ کے والد گرامی مرتبت حضرت علامہ غلام محمد معصوم المعروف معصوم ثانی، صاحب علم و زہد و تقویٰ سے آراستہ و پیراستہ تھے ، لہٰذا آپ کی تربیت بھی علما و فضلا کی گود میں ہوئی ۔ علم حدیث میں خصوصاً اپنے وقت کے علماء میں سب کے قافلہ سالار تھے۔ ہر ایک بات پر جوکہ عادات سے ہوتی یا عبادات سے متعلق ہوتی حدیث بیان کرتے ۔ علوم درسی سے فراغت حاصل کر کے اپنے والد محترم سے بیعت ہو کر کمالات باطنی کو درجہ کمال تک پہنچایا ۔ والد محترم نے اپنے زندگی میں ہی خلافت عطا فرما کر مسند ارشاد پر جلوہ افروز کیا۔ اور اپنی تمام اولاد مریدین و مخلصین کو آپ کے سپرد کر دیا۔
آپ کے وجود مبارک سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کو کمال عروج حاصل ہوا، اور عالمگیر شہرت نصیب ہوئی ۔ ہر چہار طرف سے عالم ، امرا ، مشائخ اور فقرا آ آ کر مریدین کے حلقہ میں شامل ہونے لگے ۔ آپ کے نواسہ حضرت عبداللہ صاحب ایک دو ورقی پمفلٹ موسوم بہ ’’ حالات حضرت جی صاحب پشاور والا‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں
’’ آوردہ اند کہ درحلقہ صبحگاہی ایشاں زیادہ از دوازدہ ہزار مردم جمع می شدند‘‘
یعنی آپ کے صبح کے حلقہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے تھے۔
جبکہ ہندوستان میں دور مغلیہ زوال پذیر ہو رہا تھا۔ شاہان مغلیہ رو بالخطاط تھے۔ اور نادر شاہ ایرانی کے ہاتھ سے تخت و تاج دہلی برباد ہوگیا تھا۔ مرہٹوں اور سکھوں کے تسلط و اقتدار میں پنجاب جا چکا تھا۔ انھیں نے مساجد اسلامیہ کو ڈھانا ، مسلمانوں کے شہروں کو برباد کرنا، مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کرنا اور مال و اسباب لوٹنا اپنا شعار بنا لیا تھا۔ اس مہیب اور خطرناک ماحول میں حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی اولاد بھی سرہند شریف چھوڑ کر دورو دراز شہروں میں چلی گئی ۔ چنانچہ آپ نے ان درندہ صفت سکھوں کے ہاتھوں سے تنگ آکر پشاور میں قیام فرمایا ۔ حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی دیگر اولاد کچھ تو رامپور ، اور کچھ خراسان کی طرف ہجرت کر گئی۔
آپ کا مقررکردہ طریقہ تھا کہ چھ مہینہ لاہور اور چھ مہینہ پشاور قیام کرتے ۔ جس طرح بادشاہوں کے قافلہ ہوتا اسی طرح سفر کرتے ۔ یعنی اولاد، بھائی ، متعلقین اور تمام ساز و سامان کے ساتھ آمد و رفت کرتے ۔ نیز موسم گرما اور موسم سرما میں ایک سو کے قریب اونٹ ، گھوڑے ، کجاوے ، پالکیاں آپ کے ہمراہ ہوتیں۔
پشاور شہر میں آپ نے باقاعدہ باغ اسد اللہ خان میں خانقاہ قائم کی ۔ یہ باغ بہت بڑا تھا۔ اس کی تمام آمدن خانقاہ کے اخراجات پر صرف ہوتی ۔ اسد اللہ خان درانیوں سے تھا اور آپ کا انتہائی مخلص معتقد تھا۔ اس باغ کے ساتھ زرعی زمین بھی تھی اور سب آپ کی وفات کے بعد سکھوں کے دور تک اس باغ اور زمین کی آمدن آپ کی درگاہ پر خرچ ہوتی۔ آپ کی وفات کے بعد ایک بہت بڑی مسجد، مسافروں کے لئے حجرے تعمیر کئے گئے ۔ یہ تمام عمارتیں سکھوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوگئیں۔ اب صرف تقریباً ایک جریب زمین ہے ، جس پر ایک خستہ ہی مسجد اور آپ ؒ کا مزار ہے۔
آپ کی اولاد کابل ، قندھار اور سندھ میں آباد ہے ۔ آپ کی اولاد میں سب کے سب عالم وفاضل اور اولیاء کاملین تھے۔ اس وقت بھی صاحبان علم اور فضل و مجاہدہ ہیں۔ نقشبندی حضرات اب بھی آپ کے مزار پر انوار پر مراقبات و ختم شریف کرتے ہیں۔ زائرین برائے ایصال و فاتحہ حاضر ہوتے ہیں۔
عیدا لفطر کی رات شوال کے مہینہ میں ۱۱۷۵ھ کو آپ نے انتقال فرمایا۔ اور اسی باغ اسد اللہ خان میں بجوڑی دروازے کے باہر شعبہ میں دفن کئے گئے۔ آپ کی قبر کے ساتھ آپ کے فرزند حضرت شاہ غلام حسن المتوفی ۱۲۰۴ھ کی قبر ہے ۔ آپ بھی عالم وفاضل اور اپنے والد محترم کے خلیفہ تھے۔ والد گرامی کی زندگی میں ہی ارشاد و ہدایت میں مشغول ہوئے۔ طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں کمالات کو پہنچے ، اور ہزار ہا مخلوق خدا کو ہدایت نصیب فرمائی۔
آپ کے خلیفہ جناب محمد صدیق صاحب نور اللہ مرقدہ کی قبر بھی اسی قبرستان میں واقع ہے۔
حضرت قطب وقت فضل احمد صاحب معصومی المعروف حضرت ’’ جیو صاحب‘‘ؒ
۱۱۵۱ھ تا ۱۱۳۲ ھ
آپ کا اسم شریف شاہ میاں غلام محمد ، لقب فضل احمد معصومی ؒ ہے اور آپ اسی لقب سے مشہور ہیں۔ عوام الناس اوباً و احتراماً آپ کو حضرت جی (جیو) کے بزرگانہ نام سے پکارتے ہیں۔
آپ کی ولادت ۱۱۵۱ھ میں بمقام سرہند شریف ہوئی ۔ آپ کا نسب حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے بڑے بھائی حضرت شاہ عبدالرزاق صاحبؒ کی وساطت سے حضرت امیر المومنین عمر فاروق ؓ تک پہنچتا ہے۔ نیز آپ اپنی دادی صاحبہ کی وجہ سے حضرت مجدد صاحبؒ کی اولاد سے ہیں۔
حفظ قرآن مجید کے بعد تعلیم مذہبی میں منہمک ہوگئے۔ مذہبی علوم سے بہرور ہو کر اپنے نانا جناب حضرت شاہ محمد رسا صاحبؒ کی خدمت بابرکت میں چوبیس برس رہ کر جامع علوم ظاہری و باطنی ، صاحب ذکر و فکر ، صاحب مجاہدہ و مشاہدہ ، صاحب استقامت و کرامت اور مکارم اخلاق سے متصف ہوئے، انہی سے بیعت ہو کر خلافت حاصل کی ، اور طریقہ عالیہ قادریہ و چشتیہ میں جناب شیخ عبداللہ صاحب بخاری المقلب حضرت میر صاحبؒ سے خرقہ خلافت حاصل کیا۔ آپ کا ارشاد ہے۔
’’ فقیر خدمت حضرت میر صاحب راہم ؒ بسیار کردہ ام ، و ایں برکات کہ یافتہ ام از اثر التفات و صحبت ایشاں است‘‘
یعنی میں نے حضرت میر صاحبؒ کی بہت خدمت کی ہے ۔ یہ تمام برکات یمن اور سعادت انہی کی محبت ، شفقت اور توجہ کاملہ کا نتیجہ ہے۔
آپ کی مریدین کو ہر چہار سلسلہ میں مرید فرماتے ۔ مگر خصوصاً سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں مرید کرتے اور اس کی وجہ خود بیان کی ۔ فرماتے ہیں
’’ دریں فساد زماں ، و بعد عہد نبوت تعلیم ایں طریقہ علیہ از تعلیم طریق دیگر اولیٰ و انسب است ، کہ التزام شریعت و متابعت سنت دریں طریقہ از طرق دیگر بوجہ اتم و اکمل موجود است‘‘
یعنی عہد رسالت مآب ﷺ سے دوری ، بدعات و رسومات جاہلیہ کی زیادتی سے بہت فساد پیدا ہوگیا ہے ۔ چونکہ اس طریقہ علیہ (نقشبندیہ) میں دیگر سلاسل کی بوجہ اتم و اکمل بہت زیادہ سنت نبوی ﷺ کی متابعت اور التزام شریعت پایاجاتا ہے ۔اس لئے اسی سلسلہ کی تعلیم عام کرتا ہوں۔
آپ نے اس سلسلہ کو سرہند شریف میں شروع کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو اتنی برکت اور اتنا تصرف عنایت فرمایا کہ جو طالب مولا آتا واصل بحق ہوجاتا اگر ناقص آتا تو کامل ہوجاتا۔ نیز آپ کی دینی تبلیغ کی وجہ سے ہزاروں لوگ صلاحیت سے سرفراز ہوئاور انھوں نے مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے ، گھر وں کو جلایا ، مساجد کو اصطبل بنایا ۔ پاک دامن عورتوں کو بے عزت کیا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو قتل کیا تو مسلمانوں نے سرہند سے ہجرت کی ۔ ان ہجرت کرنے والے لوگوں میں آپ بھی تھے ۔آپ بمعہ اہل و عیال کے براستہ چھچھ ہزارہ پشاور تشریف فرما ہوئے اور محلہ ’’ کا کا جمعدار‘‘ میں قیام کیا۔ پشاور شہر میں آپ کے اخلاق کریمانہ اور متابعت سنت کی وجہ سے آپ کو بہت قبولیت حاصل ہوئی ۔ مشہور و معروف علما آپ ؒ کی صحبت بابرکت کو سعادت دارین سمجھتے ۔ کاکاجمعدار کی مسجد بہت ہی مختصر تھی اور اژدھام زیادہ تھا تو آپ نے وہاں سے اٹھ کر محلہ فضل حق صاحبزادہ میں آکر قیام کیا ، آپ کا مزار بھی اب یہیں ہے۔
اگرچہ پشاور آپ کی مستقل قیام گاہ تھی۔ مگر آپ اکثر ماوراء سرحد کے سفر بھی کرتے پشاور سے لے کر بخارا تک آپ نے پانچ بار سفر کیا۔ ان تمام علاقوں کے لوگ جو راستہ میں پڑتے ہیں آپ کے دست گرفتہ ہوئے۔ حتی کہ بادشاہ بخارا غازی شاہ مراد اور اس کا بیٹا امیر حیدر ، بمعہ اپنے دربار کے علماء امراء کے طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوا۔
چار سو کے قریب آپ کے خلفاء تھے۔ جنھوں نے دین حق کی تبلیغ کی ، سنت نبوی کی اشاعت کی۔ اہل سنت و جماعت کے عقائد کی پابندی کی۔ طریقہ نقشبندیہ مجددیہ کی کمال اخلاص اور محبت کے ساتھ خدمت سر انجام دی ۔ ان حضرات کا ’’ امر باالمعروف ‘‘ ’’ نہی عن المنکر ‘‘ کا کرنا خاص وصف تھا۔
آپ کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ تیرہ برس کی عمر سے لے کر وفات تک صائم الدھر رہے۔ اکثر اوقات علیحدگی اور چلہ میں رہتے ۔ سفر وحضر میں دعائیں اوراد اور وظائف پڑھتے رہتے ۔ چاشت کی نماز کے بعد تفسیر حدیث کا درس فرماتے ۔ نماز ظہر کے بعد فقہہ پڑھاتے ۔ مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی ؒ کا درس دیتے ۔ عصر کی نماز کے بعد مراقبہ فرماتے ۔ مریدین پر توجہ کرتے ، اور تمام رات اللہ تعالیٰ کے حضور میں قیام کرتے۔
جناب حضرت جی صاحب ؒ اتنی عبادت، ریاضت ، مجاہدہ ، تبلیغ اسلام اور متابعت سنت نبوی ﷺ کے کرنے کے باوجود فرماتے ہیں۔
’’ ما بجز گناہ و نامہ تباہ وعصیاں فراواں و غفلت و پریشانی و سہو و نسیان و خطا و نقصان دیگر چیز ے نمی باشد‘‘
یعنی میرے پاس سوائے گناہ ، خرابی نامہ اعمال ، گناہوں کے بہتات ، غفلت ، پریشانی ، بھول ، نسیان ، غلطی اور کمزوری کے اور کچھ بھی نہیں۔اور اکثر یہ مصرعہ پڑھا کرتے اور آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوجاتا۔
’’ جو پید برسر ایمان خویش می لرزم ‘‘ اور یہ شعر پڑھا کرتے۔
ندارم ہیچ گونہ توشہ راہ
;بجز لا تقنطوا من رحمۃ اللّٰہ
úیہ آپ کا انکسار اور عاجز ی تھی جو آپ کو اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں کیا کرتے تھے۔ سخاوت کا یہ عالم تھے کہ جب آپ پشاور پہنچے تو پشاور پر چاروں طرف سے تباہیوں اور بربادیوں کے بادل امڈ امڈ کر چھارہے تھے۔ ان مصیبتوں میں سب سے بڑی مصیبت اس وقت قحط تھا۔ لوگ موت کے کنارے سسکیاں بھر رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچے والدین کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے تھے۔ آپ نے اپنے ’’ درویشانہ لنگر ‘‘ کو وسیع سے وسیع تر کر دیا۔ ہزار ہا لوگ اس لنگر سے روزانہ دووقت پیٹ بھر کر روٹی کھاتے ۔ بلکہ اکثر غربا اپنے گھروں کو بھی لے جاتے ۔
ایک بار آپ کی خدمت میں ایک طالب علم آیا۔ اس نے سید الکونین ، عالم علوم اولین و آخرین سیدنا احمد مجتبےٰ محمد مصطفٰے ﷺ کی شان اقدس سے ایک نعت پڑھی جب وہ اس شعر پر پہنچا۔
وصف و ثنا کہ لائق نعتت بود کجا است
=بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
تو آپ ؒ باربار فرماتے کہ خدا تیری زبان پر رحمت کرے ۔ جب وہ نعت ختم کر چکاتو آپ نے ایک کنواں اور پانچ جریب زمین جو کہ آپ کی اپنی ملکیت تھی اس طالب علم کو بخش دی اور فرمایا کہ یہ اسی شعر کا صدقہ ہے۔
آپ نے تین بار اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنا تمام گھر اور سازو سامان تقسیم کردیا اور چٹائی تک نہ چھوڑی ۔ ایک بار ایک سائل آیا اور سوال ۔ اس وقت آپ کے پاس کچھ نہ تھا۔ آپ ؒ نے اپنی پگڑی اور گلے سے کرتا اتار کر اس کو دے دیا اور فرمایا کہ اس کو فروخت کر کے اپنا گذارہ کر لے۔
آپ کے حلم کا ایک واقعہ ہے، ایک شخص آکر مرید ہوگیا ۔ چند عرصہ کے بعد مردود طریقت ہوگیا۔ پھر پشیمان ہو کر حاضر خدمت ہوااور اپنی جہالت وپشیمانی پر نادم ہوا اور عرض کیا کہ اپنی بردباری اور حلم کا صدقہ مجھے معاف فرمادیں ۔ آپ ؒ نے معاف فرماتے ہوئے دربارہ داخل سلسلہ کیا اور روحانی فیوض اور برکات سے نوازا۔
ہرات پر محمود شاہ غازی کی حکومت تھی ۔ زمان شاہ نے اس پر حملہ کردیا۔ محمود شاہ غازی شکست کھا کر بخارا کی طرف بھاگ گیا ۔ والی بخارا نے اس کو عزت و احترام سے رکھا ۔ اتفاقاً اس دنوں آپ بھی وہیں قیام فرماتھے ۔ محمود شاہ ہررات آپ کا دامن پکڑ کر طالب دعا ہوتا اور بعد گریہ وزاری عرض کر تا کہ مجھے میرے والد کی سلطنت دوبارہ مل جائے ۔ ایک دن محمود شاہ غازی نے آپ کو بہت تنگ کیا ۔ تو آپ نے محمود شاہ کو فرمایا’’ تم ظالم ہو، جب حکومت کے نشہ میں غرق ہوجاتے ہو تو ظلم و جور کرنا شروع کر دیتے ہو ، اگر میں تمھارے لئے دعا کروں تو میں ظالموں میں گنا جاؤں گا‘‘۔ محمود شاہ نے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ ’’ عدل و انصاف کروں گا اور کسی شخص پر زیادتی نہ کرونگا‘‘ آپ نے یہ وعدہ بھی لیا ’’ کہ جب اللہ تعالیٰ تجھ کو حکومت عطا کرے گا، تو کوئی کام شریعت محمدیہ ﷺ کے خلاف نہ کرو گے‘‘ محمود شاہ نے یہ عہد اور کہا کہ ’’ جب میں ایسا کروں تو آپ ؒ امر باالمعروف کریں اگر باز نہ آؤں تو بددعا کریں‘‘ آپ ؒ نے فرمایا ۔ کہ ’’ میں کسی کو بددعا نہیں کرتا ، نیز آپ نے فرمایا کہ کل آنا ۔ دوسرے دن وہ آیا آپ نے اس کو فرمایا کہ انتظام کرو۔’’ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس فقیر کی دعا کو قبولیت سے نوازا اور اللہ تعالیٰ انشاء اللہ تم کو اپنے والد کی سلطنت عطا فرمائے گا‘‘۔
محمود شاہ غازی چند سواروں کے ساتھ ہرات کو روانہ ہوگیا ۔ گورنر ہرات شہر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ وہاں کا انتظام ، اسلحہ ، فوج وغیرہ سنبھال کر محمود شاہ قندھار کا رخ کیا۔ قندھار کا حاکم فرار ہوگیا۔ وہاں پر قبضہ کرنے کے بعد محمود شاہ نے کابل پر ہلہ بول دیا۔ ایک دن کی لڑائی کے بعد زمان شاہ کوہستان کو بھاگ گیا ۔ اور محمود شاہ تخت حکومت پر متمکن ہوگیا ۔ اس واقعہ کو پڑھ کر آپ کی حق گوئی اور جرأت و ہمت کااندازہ ہوتا ہے۔ نیزآپ نے یہ سمجھایا کہ حکومت اسلامی قوانین اسلام کے نفاذ کے ساتھ ہے۔
جناب حضرت جی صاحبؒ کی زندگی استقامت فی الدین کی مکمل و اکمل حیات تھی ۔ آپ اپنی زندگی میں انتہائی طور پر کشف وکرامات کا اخفا کرتے مگر بغیر قصد و ارادہ کے بھی آپ ؒ سے کشف و کرامات کا صدور ہوتا۔ صاحب تحفۃ المرشد صفحہ ۱۰ پر تحریر فرماتے ہیں۔
’’ ازاں جناب ولایت مآب قدس سرہ آں قدر کرامات و خرق عادات و واقعات و حالات و اشرجات و کشوفات و الہامات از اول و آخر عمر شریف بقصد و اختیار یا بے قصد و بے اختیار باذن ملک جبار ظہور کردہ است و بوقوع آمدہ است کہ احصائی آں متعسر و متعذر ، وازحد حدود حضرت خارج است‘‘
آپ ؒ کو ’’ کشف عیانی ‘‘ اور ’’ کشف کونی‘‘ بھی تھا۔ بخارا سے واپسی پر علاقہ حصار میں ایک مخلص کے گھر ٹھہرئے ۔ آپ بمعہ متعلقین مراقبہ میں تھے ۔ دوران مراقبہ اس علاقہ کے ایک معزز سید ، سید شاہ برہان الدین صاحب چناریؒ آپ کی ملاقات کو پہنچ گئے ۔ مراقبہ کے دوران آپ اپنی جگہ سے اٹھے اور سید صاحب موصوف ؒ کے پاس آئے ان کو اٹھا کر اپنی جگہ پر بہت عزت و تکریم سے بٹھایا ۔ چونکہ آپ نے اس سے پہلے سید موصوف سے نہ ملاقات کی تھی اور نہ ہی آپ پہچانتے تھے۔ لہٰذا اہل حلقہ نے آپ سے عرض کیا کہ آپ نے ان کو کیسے پہچانا ۔ آپ ؒ نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا۔ بنانی العلیم الخبیر (مجھے کو علیم و خبیر نے غائبانہ خبر دی ہے)
فضلیت پناہ داملا عوض باقی جو نہایت ہی متورع اور متقی عالم تھے فرماتے ہیں کہ ’’ میں اکثر آپ ؒ کی خدمت میں موجود رہتا۔ آپ دینی مسائل مجھ ہی سے پوچھتے اور دیگر علماء پر مجھے فوقیت بھی دیتے ۔ مگر میرے دل میں مرید ہوئے کا خیال پیدا نہیں ہوا۔ اس لئے میلان طبیعت طریقت کی طرف نہ تھا۔ اور دوسری بات یہ تھی کہ متقدمین کی کتابیں مطالعہ کے لئے بعد مشائخ کو ان کے مطابق نہ پاتا اس لئے بھی پست ہمت ہوگیا تھا۔ ایک باریہ خیال آیا کہ جب حضرت جی صاحب ؒ متبع سنت سے مستحبات بعض اوقات رہ جاتے ہیں تو باقی مشائخ کا کیا حال ہوگا۔ فوراً آپ ؒ نے مجھے ایک طرف کر کے بلایا اور فرمایا
’’ایں را می و انم کہ در خاطر شما از چند وجہ از جانب ایں فقیر شبہ است ، بروید و امشب فلاں فلاں کتاب کہ درخانہ دارید ایں مسئلہ را بہ بینید ‘‘
یعنی اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ اس فقیر کے متعلق تمھارے دل میں چند شبہات ہیں۔ آج رات آپ فلاں فلاں کتاب جو کہ آپ کے پاس ہیں دیکھ لیں۔حضرت ملاں صاحب فرماتے ہیں’’ چناں کردم‘‘
میں نے اسی طرح کیا،تو تسلی ہوگئی کہ حضرت جی صاحبؒ کا حرکات و سکنات بھی عین سنت مطہرہ کے مطابق ہیں، جو کہ بہت وسیع مطالعہ کے بعد انسان معلوم کر سکتا ہے۔ اس کے بعد آپ کے مکشوفات کا قائل ہوگیا۔ اور مخلص مریدین کے زمرہ میں شامل ہوا۔ میرے تمام شبہات و اعتراضات زائل ہوگئے۔
آپ ؒ کی کرامات لکھی جائیں تو پوری کتاب بنتی ہے ۔ صاحب تحفت المرشد نے اپنی کتاب کے صفحہ ۱۰۱ سے لے کر صفحہ ۱۲۸ تک بیان کی ہیں۔ آپ نے مشائخی کا طریقہ وفات سے دوسال قبل ہی بہت کم کر دیا تھا۔ خانقاہ اور مریدین صاحبزادہ فضل حق صاحب کے سپرد کر دی تھی ۔ جب وفات کا وقت قریب آیا ، تو آپؒ نے تمام فرزندوں اور مریدین کو جمع کیا۔ صبر ، تقوی ، حدود اللہ کی پابندی اور سنت نبوی ﷺ کی متابعت کی وصیت کی اس وصیت کے بعد کسی اور طرف التفات نہیں اور رفیق اعلیٰ کی طرف متوجہ ہوگئے ، ذکر وفکر اور کلمہ توحید پڑھتے رہے ۔ حتی کہ ’’ رفیق اعلیٰ ‘‘ سے جا ملے ۔
آپ کی وفات یکم محرم الحرام ۱۲۳۲ھ بروز چہار شنبہ (بدھ ) صبح کے وقت ہوئی۔ حضرت صاحبزادہ فضل حق صاحب نے آپ کی وفات ’’آہ مرشد برفت‘‘ سے نکالی۔
حضرت علامہ حافظ غلام جیلانی صاحب المعروف ’’آسیا والے میاں صاحب‘‘
۱۱۹۸ھ تا ۱۱۹۲ھ
آپ کا نام نامی حافظ غلام جیلانی ، والد کا نام حافظ غلام حبیب ، لقب علامہ عصر، اور ’’میاں صاحب آسیا ‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ چغتائی خاندان تھا۔
آپ کے والد عالم وفاضل نہایت ہی متقی اور پابند سنت تھے۔ وعظ فرمایا کرتے۔ فتویٰ بھی دیا کرتے ۔ سکھوں کے خلاف محدثین ہندوستان کی بڑی مدد کی۔
حافظ غلام جیلانی صاحب نے اپنے والد سے قرآن مجید حفظ کیا اور علوم درسیہ سے فراغت حاصل کی۔ حافظ حبیب اللہ صاحب قندھاری آپ کے اساتذہ میں سے تھے۔ نیز حضرت مولانا مولوی حافظ عبدالرحیم صاحب افغان بھی آپ کے استاد تھے۔ حدیث شریف حضرت مولینا مولوی سبحان علی صاحب دہلوی سے پڑھی۔
جس وقت حافظ عبدالرحیم صاحب افغان کو قومی اور وطنی سرگرمیوں کی بنا پر بغاوت کے الزام میں انگریزوں نے دس سال قید کیا تو اس وقت حضرت میاں صاحب کو بھی ان کی تحریک کا ایک اہم رکن سمجھ کر قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا گیا اور انگریزوں کی نظر میں آپ بھی ایک کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے۔
آپ کے استاذ فاضل اکمل حافظ حبیب اللہ صاحب قندھاری اور آپ نے تحریک محدثین ہندوستان کی پوری پوری حمایت وا عانت کی تھی۔ علماء پشاور نے محدثین ہندوستان کے عقائد کی بنا پر جو وہابی ہونے کے فتوے دئیے تھے ان پر ان پر دو حضرات نے جواب میں رسالے لکھے ۔ جناب حضرت جی صاحب ، سید امیر شاہ کوٹہ ملا صاحب پر جو فتوی دیا گیا تو ’’ حضرت میاں صاحب آسیا والے‘‘ نے اس کا رد کیا۔ اللہ بخش صاحب یوسفی لکھتے ہیں۔ ’’کہ مولینا مولوی غلام جیلانی صاحب جو کہ پشاور کے مشہور عالم دین تھے ۔ تحریک مجاہدین کی حمایت میں تھے‘‘۔
صرف یہی نہیں بلکہ ۱۸۵۷ء کی تحریک آزادی (جس کو انگریزی فسطائیت نے غدر کا نام دیا) میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ کے علم کا شہرہ دور دراز ممالک تک پہنچا ہوا تھا۔ غزنی، ہرات ، ثمر قند ، بخارا اور کابل تک کے طلباء آآکر آپ سے اپنی علمی استعداد کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے اور اس چشمہ علم وحکمت سے فیضیاب ہو کر لوٹتے ، آپ علوم متداولہ کے جملہ فنون پر کامل دستگاہ رکھتے تھے ، اسی لئے آپ تمام فنون پڑھاتے ، آپ کا ذوق مطالعہ اس حد کمال تک پہنچا ہوا تھا کہ کسی وقت بھی بغیر کتاب کے نہ ہوتے ، اور آپ کے کتب خانہ کی تقریباً ہر ایک کتاب پر آپ نے کچھ نہ کچھ تحریر کیا ہے۔ جناب مولینا عبدالرحیم صاحب مرحوم لائبریرین اسلامیہ کالج پشاورتحریر فرماتے ہیں’’ تیرھویں صدی کے بہت بڑا متبحر عالم تھا ۔ ان کے تبحر علمی کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے ۔ کہ اس عظیم الشان کتب خانہ میں ایسی کتاب کم تر ہوگی ۔ جس پر علامہ موصوف نے مطالعہ کر کے کچھ حاشیئے یا کوئی مفید یادداشت نہ لکھی ہو‘‘۔
آپ کی یہ عادت تھی کہ اپنے مطالعے کے کمرے میں چراغ کی مدھم روشنی میں کتابوں کے مطالعہ میں کہنیوں کے بل بیٹھے بیٹھے رات گذار دیتے ۔ آپ کے متعلق یہ واقعہ زبان زد خلائق ہے کہ ایک بار شب جمعہ آپ کے مطالعے کے کمرے میں ایک نور ظاہر ہوا۔ دیکھا تو حضرت خضر تھے۔ حضرت خضر ؑ نے آپ سے فرمایا کہ آپ نے میری تلاش میں زندگی بسر کر دی ہے ۔ میں نے چاہا کہ آپ سے مل لوں ، اب فرمائیے کہ آپ کو کیا ضرورت ہے ۔ جناب حافظ صاحب نے مسکرا کر فرمایا ۔ اے جناب خضر! جب کچھ دینے کا وقت تھا تو آپ نہیں ملے آپ نے اپنی کہنیاں دکھاتے ہوئے حضرت خضر سے فرمایا ، دیکھئے حصول علم کے لئے میں نے شب و روز کتابوں کے مطالعہ سے اس کمرے میں اپنی کہنیاں متورم اورڈاڑھی سفید کر دی ہے۔ اب مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔
آپ کے اسی ذوق مطالعہ کا نتیجہ تھاکہ آپ نے ایک بہت ہی اعلیٰ ، کمیاب اور قیمتی کتب خانہ مہیا فرمایا۔ جس وقت آپ جب حج پر تشریف لے گئے تو وہاں سے بھی آپ بہت نایاب کتب تلاش کر کے ہمراہ لائے، چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ انجیل مقدس کا ایک قلمی نسخہ ساتھ لائے تھے ۔ جس کو آپ بہت ہی عزت و تکریم سے رکھے ہوئے تھے۔ اور بڑے بڑے عیسائی علماء اس کی زیارت کے لئے آتے ۔ آخر آپ کی وفات کے بعد جبکہ یہ کتب خانہ اسلامیہ کالج بھیجا گیا ۔ توا س انجیل مقدس کے نسخہ کو یورپ بھیج دیا گیا۔ آپ کے کتب خانہ میں تقریباً چھ ہزار کتابیں تھیں ، علوم اسلامیہ کے ہر فن پر کتابیں موجود تھیں۔ جب آپ کا انتقال ہو گیا تو اس عظیم و جلیل کتب خانہ کے مالک آپ کی بیوہ اور آپ کی دو صاحبزادیاں ٹھیریں ۔ آپ کی نرینہ اولاد کوئی نہیں تھی ۔ اس کتب خانہ کو حاصل کرنے کے لئے بادشاہ کابل امیر حبیب اللہ خان صاحب نے کوشش کی اور ڈیڑ ھ لاکھ روپیہ قیمت ادا کرنے کا خیال ظاہر کیا۔ مگر آپ کی بیوہ اور صاحبزادیوں نے اتنی بڑی رقم کو قبول نہ کیا اور بادشاہ کابل کو کتب خانہ نہ دیا۔
۱۹۱۳ء میں اسلامیہ کالج بنایا گیا ۔ منتظمین و بانی اسلامیہ کالج سر سید سرحد سر صاحبزادہ عبدالقیوم صاحب مرحوم نے انتہائی کوشش کی اور ’’ حضرت میاں صاحب آسیا‘‘ کا کتب خانہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ کتب خانہ اس وقت اسلامیہ کالج میں ’’ مکتبہ مشرقیہ داراالعلوم پشاور‘‘ کے نام سے موجود ہے ۔ سر صاحبزادہ عبدالقیوم صاحب کو اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے جنھوں نے اس دینی کتب خانہ کو محفوظ کروایا اور یہ کتب خانہ آج تک تشنگان علوم کو سیراب کر رہا ہیں ورنہ معلوم نہیں کہ اس کتب خانہ کا کیا حشر ہوتا۔
مولینا عبدالرحیم صاحب مرحوم ناظم کتب خانہ تحریر فرماتے ہیں ’’ مولینا مرحوم (یعنی میاں صاحب آسیا‘‘ کی عادت تھی کہ پہلے تو وہ ہر ایک کتاب کو اس کی اصلی صورت میں حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے کتب خانہ میں ایسی متعدد کتابیں موجود ہیں جو خود مصنفوں کے سامنے لکھی گئی ہیں۔ یا مصنف کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخے سے نقل کی گئی ہیں‘‘ یا اس نسخے کی نقل النقل ہیں، کئی ایک کتابیں بڑے بڑے علما ء سلف مثلا احمد بن عمران مقدسی، علامہ جبرتی ، شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ وغیرہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔ البتہ اگر اصلی صورت میں کتاب کا ملنا میسر نہیں ہوتا تھا تو نہایت احتیاط کے ساتھ اس کی نقل لے لیا کرتے تھے جس کی بیسیوں مثالیں کتب خانہ کے دیکھنے سے مل سکتی ہیں ۔ بڑ ی بڑی ضخیم کتابیں اس طرح مولینا ئے ممدوح کے حسن اہتمام کے نقل کی گئیں ، اور ان تمام کوششوں کا یہ نتیجہ ہوا کہ مولانا ئے ممدوح کے پاس مختلف علوم کی بہترین تصنیفات کا بیش بہا خزانہ جمع ہوگیا۔ یہ علمی خزانہ مولینا ئے ممدوح کو اتنا عزیز تھا کہ معمولی درجے کے اشخاص کو تو اس کی شکل دکھانے تک سے دریغ تک تھے۔ ہاں صحیح علمی مذاق رکھنے والوں کے لئے ان کے کتب خانہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا۔
اس کتب خانہ کی تعریف میں لکھتے ہیں ’’ کتب خانہ میں مختلف علوم و فنون کی تین ہزار کتابیں موجود ہیں۔ جس میں سے اکثر کتابیں اپنی قدامت ، کمیابی ، خوشخطی اور دیگر خصوصیت کی وجہ سے نہایت اہمیت رکھتی ہیں، بعض کتابیں کو ایسی نایاب ہیں کہ ہندوستان بھر کے کتب خانوں میں ان کا وجود نہیں ملتا‘‘ ۔ ۵ دسمبر ۱۹۱۵ء کو جب حاذق الملک حکیم محمد اجمل خان صاحب دہلوی نے اس کتب خانہ کا معائنہ کیا تو باوجود اس وسعت نظر کے جوان کو فن طب میں حاصل ہے۔ انھوں نے بعض طبی کتابیں خاص طور پر نکلوائیں ۔ غور و امعان سے دیر سے ان کا مطالعہ کیا اور ان کو در نایاب سے تعبیر کیا۔ مولینا عبدالرحیم صاحب اس کتب خانہ کی اہمیت کو واضح فرماتے ہوئے تحریر کرتے ہیں’’ اس کتب خانہ کی اہمیت ایک دوسرے طریقہ پر بھی ظاہر ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس وقت ہندوستان بھر میں سرکار عالیہ حیدر آباد دکن کا کتب خانہ آصفیہ ایک چوٹی کا کتب خانہ ہے ۔ جس کی مفصل فہرست اس وقت نیاز مند موئف کے پیش نظر ہے ۔ لیکن جب اس کی موجودہ کتابوں کا اس کتب خانہ کی موجودہ کتابوں سے بہ نظر دقیق مقابلہ کیا جاتا ہے توواضح ہوتا ہے کہ کتب خانہ ہذا کی اکثر کتابوں میں جو امتیازی خصوصیتیں پائی جاتی ہیں ۔ وہ کتب خانہ آصفیہ کی کتابوں میں مفقود ہیں، یا بہت کم ہے۔یہ اور بات ہے کہ کتب خانہ آصفیہ میں کتابوں کی تعداد کس قدر زیادہ ہے‘‘۔
۱۲۳۶ء میں جناب ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ صاحب ایم ۔ اے ، پی ۔ایچ ۔ ڈی (لنڈن) نے اس کتب خانہ کا مطالعہ کیا اور ایک تحقیقی مقالہ لکھا ۔ اس میں آپ نے لکھا ہے کہ ’’ دینی علوم کے علاوہ دنیاوی علوم میں بھی بہت سی نادر کتابیں موجود ہیں مثلا علم کیمیا میں مفاتح الرحمت از طغرائی ، علم طب میں زبدۃ الطب ، علم جراحی میں کتاب الاقناع ، علم ہند سہ (جیومیڑی) میں کتب اقلیدس اور شرح اشکاالتاسیس وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں‘‘
آگے چل کر تحریر کرتے ہیں’’ کچھ عرصہ ہوا جب میں یہاں کے مخطوطات کو دیکھ رہا تھا تو فن جہاز رانی پر دو نہایت نایاب کتابیں نظر سے گذریں جن کے متعلق خیال تھا کہ وہ ’’ پیرس ‘‘ کے کتب خانہ قومی کے سوا اور کہیں موجود نہیں ایک کا نام ’’ العمدۃ ‘‘ اور دوسری کا نام’’ النھاج الفاخر بحر الذاخر ‘‘ یہ دونوں کتابیں سلیمان بن احمد الہری کی تصنیف سے ہیں جو بحر الہند کا ایک تجربہ کار کپتان تھا ۔ فرانسیسی متشرق جبرئیل فیران (GABRIEL FARRANE) نے اس کپتان اور اس کی تصانیف کے متعلق بہت کچھ تحقیق کی ہے اور اس کے چند ایک رسالوں کو بھی شائع کیا ہے‘‘۔
اس آرا کی روشنی میں ’’ حضرت میاں صاحب آسیا‘‘ کا علمی ذوق و شوق تلاش تجسس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے کتنی کاوش و تفحص کے بعد یہ کتب خانہ جمع کیا ہوگا۔
مولینا عبدالرحیم صاحب ناظم کتب خانہ نے ان تمام کتابوں کی فہرست مرتب کر کے شائع کی ہے ۔ یہ فہرست تقریباً ساڑھے چار سو صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔
جب آپ حج مبارک سے ارادہ سے روانہ ہوئے تو آپ نے پشاور سے لے کر مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور پھر واپس پشاور تک پہنچے کا باقاعدہ روزانہ کا سفر نامہ لکھا ہے جو کہ فارسی میں ہے اور اسلامیہ کالج کی لائبریری میں عدد مسلسل ۵۵۹ پر موجود ہے۔
آپ ۱۶شوال ۱۲۸۸ھ کو بذریعہ شکرم یعنی ٹانگہ کے پشاور سے لاہور تک گئے اور پھر لاہور سے بذریعہ ریل گاڑی بمبئی گئے اوربمبئی سے بحری جہاز کے ذریعے حرمین الشریفین تشریف لے گئے۔ ۳ ربیع الاول ۱۲۸۹ھ کو واپس پشاور پہنچے پشاور میں آپ کا شاندار استقبال کیا گیا اور پرانی کوتوالی کے قریب آپ کو شکرم سے اتار کر پیادہ سر آسیا تک لے جایا گیا۔
بیان کیا جاتا ہے کہ حج کی واپسی سے تقریباً تین برس بعد آپ کا انتقال ہوا ۔ اس طریقہ سے آپ کا سن وفات ۱۲۹۲ھ بنتا ہے۔
حضرت علامہ حافظ محمد احسن صاحب المعروف حافظ دراز صاحبؒ
۱۲۰۲ھ تا ۱۲۶۳ھ
آپ کا اسم گرامی حافظ محمد احسن والد کا نام حافظ محمد صدیق اور دادا کا نام محمد اشرف تھا۔ ’’حافظ دراز ‘‘ کے نام سے مشہور تھے ۔ ’’استاذ العلماء ‘‘ لقب تھا۔
آپ موضع خوشاب (پنجاب ) کے رہنے والے تھے۔ مگر مستقل طور پرپشاور شہر کو اپنی قیام گاہ بنا لیا تھا۔ آپ کے تمام خاندان علم و فضل اور قرآن مجید کے حفاظ کا گھرانہ تھا۔ یہاں تک کہ آپ کے گھرانے کی عورتیں بھی حافظ قرآن پاک تھیں اور زیور علم سے آراستہ تھیں۔ صاحب حدائق الحنفیہ صفحہ ۴۷۵ پر لکھتے ہیں’’ اور خاندان علم و فضل سے تھے ‘‘ ۔ صاحب تذکرہ علمائے ہند فرماتے ہیں ’’ علمی خاندان کے فرد تھے‘‘۔
آپ نے علوم متداولہ کا بیشتر حصہ اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کیا۔ مولوی فقیر محمد صاحب جہلمی لکھتے ہیں
’’ اکثر علوم اپنی والدہ ماجدہ سے جو کہ ایک بڑی عالمہ فاضلہ تھی ، حاصل کئے اور مسند افادت و اضافت پر متمکن ہو کر تمام عمر تدریس و تالیف میں صرف کی‘‘۔
چونکہ آپ ایک عالمانہ گھرانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے اپنے خاندان کے اس علم کے ورثہ کو پورا پورا حاصل کیا۔ اور ’’ استاذ العلماء ‘‘ کے معزز لقب سے پکارے گئے۔ آپ کا مکان اور مسجد باقاعدہ ایک دار العلوم کی صورت اختیار کئے ہوئے تھا۔ جس میں پشاور ، مضافات ، علاقہ آزاد، کابل ، قندھار ، غزنی ، ہرات ، ثمر قند اور بخارا تک طلباء علوم متداولہ حاصل کرتے ، اور فراغت حاصل کرکے صاحب فتویٰ اور صاحب درس بن کر اپنے اپنے ممالک کو لوٹتے ، اس تمام علاقہ میں آپ کے متبحر علم کی شہرت تھی ۔مولوی غلام رسول مہر اپنی کتاب ’’ اسماعیل شہید‘‘ میں لکھتے ہیں۔
’’ مولینا حافظ محمد احسن صاحب بن محمد صدیق ؛معروف بہ حافظ دراز پشاوری متبحر عالم علوم عقلیہ و نقلیہ کے ماہر ، سرحد سے ثمر قند تک ان کے علم کا چر چا تھا‘‘
آپ پشاور کے علماء میں چوٹی کے عالم اور مرکزی حیثیت کے مالک تھے۔ مذہبی اور سیاسی دونوں حیثیتوں سے اس وقت آپ مسلمانوں کی قیادت کرتے تھے۔ جس وقت پشاور کے علماء کی طرف سے محدثین ہندوستان کی تحریک پر نہیں ، عقائد پر تنقید شروع ہوئی تو مولوی اسماعیل صاحب دہلوی نے ان کے شکوک و شبہات کے جواب میں دو خط لکھے ، سب سے پہلے جس عالم کو اپنے خطوط میں انھوں نے مخاطب کیا تو وہ آپ ہی کی ذات تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس وقت کے علماء میں بہت ہی بلند اور ارفع مقام کے مالک تھے۔
آپ ایک ایسے دور میں فقہہ ، اصول فقہہ ، حدیث ، اصول حدیث، اور تفسیر کی اشاعت و ترویج میں مصروف تھے۔ جس دور کو ’’ پر فتن دور ‘‘ کہا حقیقت پر مبنی ہے ، درانیوں کا زوال ، افغانوں کی خانگی جنگیں اور ایک دوسرے کو برباد کرنے کی ریشہ دوانیاں سکھوں کے ظالمانہ راج پر منتج ہوئیں۔ یہ سکھوں کا دور ایک ایسا دور تھا۔ جس میں ہر ظلم کا نام انصاف تھا۔ ہر شریف اور باعزت شہر ی کو بے عزت اور ذلیل کرنا ان کا نزدیک شریفانہ فعل تھا۔ مساجداور خانقاہوں کو تباہ کر کے گھوڑوں اور خچروں کے اصطبلوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس قسم کے ابتلاء اور آزمائش کے ایام میں علم کی مشعل کو روشن رکھنا ، تصنیف و تالیف کرنا، مجالس وعظ قائم کرنا ، آپ کی ہمت و استقلال کا روشن ثبوت ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی ؒ کے ایک نواسہ جناب حضرت قطب برحق شاہ غلام محمد صاحب معصومی المعروف حضرت جی صاحب پشاوری ؒ جب سرہند شریف سے ہجرت کر کے پشاور تشریف لائے ، تو حافظ دراز صاحب بسا اوقات آپ نے ملنے محلہ فضل حق صاحبزادہ علاقہ یکہ توت میں آیا کرتے ۔ حضرت جی صاحبؒ علماء اور صلحاء کے بڑے قدردان تھے۔ دوبار ہفتہ میں لوگوں کی اصلاح کے لئے مجلس وعظ کا اہتمام فرماتے ۔ چنانچہ ہفتہ میں ایک دن حافظ دراز صاحب کے وعظ کے لئے مخصوص ہوتا تھا ۔ صاحب تحفۃ المرشد فرماتے ہیں۔
’’ بروز جمعہ حافظ دراز صاحب را کہ عالم متبحر بود۔ نزد خود برائے وعظ طلب می کردند‘‘
یعنی جمعہ کے دن (حضرت جی صاحبؒ ) حافظ دراز صاحب کو جو کہ ــ ’’ متبحر عالم ‘‘ تھے ۔ اپنی مجلس میں وعظ کے لئے بلواتے ، آپ کے مواعظ ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے عقائد حقہ ، اہل سنت و جماعت کی اشاعت پر مبنی ہوتے۔ اور نہایت ہی مدلل اور موثر طریقہ پر وعظ فرماتے ۔ آپ کا وعظ اتنا پر درد ہوتا کہ سامعین زار و قطار روتے رہتے۔ بڑی بڑی دور جگہوں سے لوگ آ آ کر مستفیض ہوتے۔ ظہر کی نماز کے بعد عصر کی نماز تک وعظ کی مجلس رہتی ۔ یہی وجہ ہوئی کہ آپ ’’ حافظ دراز صاحب واعظ ‘‘ کے نام ہی سے مصروف ہوگئے۔
آپ اتنے نڈر اور بے خوف تھے کہ حق کہنے میں کسی کی پرواہ نہ کرتے، بزرگوں نے بتایا کہ ایک بار آپ نے اپنے واعط میں وقت کے حاکم جرنیل ابی طویلہ اطالوی کو مظالم پر خوب برا کہا اور مظالم کرنے سے منع کیا۔ ابو لبیلہ اتنا ظالم و جابر حاکم تھا کہ لوگ اس کا نام سن کر کانپ جاتے تھے۔ اس نے گو رگٹھڑی میں آپ کو طلب کیا بس پھر کیا تھا ۔ پشاور شہر میں کہرام مچ گیا ۔ مشائخ اور علما مسجدوں اور خانقاہوں سے باہر نکل آئے ، بجائے اس کے کہ ابو طبیلہ آپ کو سخت سست کہتا، یہ عالم دیکھ کر اس نے آپ کو عزت سے اکرام سے رخصت کر دیا۔ آپ نے وعظ و نصیحت ، درس و تدریس کے ساتھ ساتھ سلسلہ تصنیف و تالیف بھی جاری رکھا۔ چانچہ بخاری شریف کی شرح بنام منح الباری شرح صحیح البخاری فارسی میں لکھی ، حضرت محدث جلیل مولینا مولوی میاں نصیر احمد صاحب المعروف ’’ میاں صاحب قصہ خوانی‘‘ نے اس شرح کے پہلے پارہ کے تصحیح کر کے چھپوائی ۔آپ کا قلمی نسخہ مہتمم دارا العلوم رفیع الاسلام بھانہ ماڑی جناب مولینا سید فضل صمدانی صاحب مدظلہ کے پاس تھا جو کہ اب ان سے پشاور یونیورسٹی نے خرید لیا ہے۔
اس شرح میں آپ اسماء الرجال کی پوری زندگی بیان کر دی ہے۔ احادیث کی تطبیق کی ہے ، فقہہ حنفی کو احادیث بخاری سے ثابت کیا ہے ۔ ضروری ضروری ، صرفی نحوی ترکیبیں کیں ہیں۔ لغات حدیث کو حل کیا ہے۔ اور عقائد حقہ اہل سنت و جماعت کو احادیث بخاری سے کھول کھول کر بیان فرمایا ہے ۔ زبان انتہائی سلیس اور آسان ہے۔ غرضیکہ ہر علم کو یہ کتاب اپنے پہلو میں لئے ہوئے ہے۔ قاضی مبارک پر عربی میں ایک مبسوط حاشیہ لکھا ہے۔ یہ حاشیہ اپنی جامعیت کی وجہ سے اتنا مقبول ہوا کہ بطور درس کے پڑھایا جاتا ہے۔ تتمہ اخوند یوسف پر حواشی لکھے۔ سورۂ یوسف اور والضٰحی سے لے کر آخری سورۃ تک کی تفاسیر لکھی ۔ معراج نامہ اور وفات نامہ نامی رسالے لکھے۔
بادشاہ بخارا نے آپ سے چند نہایت ہی اہم سوالات دریافت کئے ۔ آپ نے ان تمام سوالات کے جواب التفصیل دئیے جو کہ اسلامیہ کالج کی لائبریری میں عدد مسلسل ۷۹۶میں محفوظ ہے۔
آپ نے بہت ہی قیمتی اور بیش بہا کتب خانہ چھوڑا تھا۔ شومی ٔ قسمت سے برلب کٹھ اندرون قصہ خوانی بازار میں آپ کے مکان کے ساتھ آگ لگ گئی ۔ جس کی وجہ سے وہ آگ آناً فاناً آپ کے مکان تک پہنچ گئی ۔ آپ کے نواسے مکان سے سامان تک نہ نکال سکے ۔ تمام سامان بمعہ کتابوں کے جل کر خاکستر ہوگیا۔ اور وہ بیش قیمت کتب خانہ ضائع ہوگیا۔
آپ کی وفات بعمر ۶۱ برس ۱۲۶۳ھ میں واقع ہوئی۔
حضرت بحر العلوم حافظ محمد عظیم صاحبؒ المتخلص بہ واعظؔ
۱۲۰۵ھ تا ۱۲۷۵ھ
آپ کا اسم شریف محمد عظیم ، لقب بحرالعلوم ، تخلص واعظؔ اور حافظ جی صاحب گنج والے کا نام سے مشہور ہیں، جامع مسجد گنج کے امام ، خطیب اور مدرس تھے۔
آپ کا خاندان کے ایک بزرگ جنا ب مفتی فضل کریم صاحب فرماتے ہیں کہ آپ حضرت قدوۃ السالکین خواجہ نور محمد صاحب مہاروی ؒ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
چونکہ آپ کا خاندان علم ظاہری و باطنی کا مرکز تھا۔ اس لئے آپ بہت تھوڑی عمر میں (یعنی ۱۶ برس کی عمر میں ) تکمیل علوم فرما کر مسند درس پر متمکن ہوئے۔ چند برس درس و تدریس فرمانے کے بعد اچانک طبیعت میں انقلاب آیا۔ درس کو چھوڑ کر سلوک و معرفت کے حصول کے لئے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ۔ آپ پنجاب سے نکل کر پشاور میں گنج دروازہ کے باہر سڑک کے کنارے پر ’’ تہہ خانے والے ملا صاحب ‘‘ کے قبرستان میں ایک چھوٹی مسجد ہے اس میں ٹھہرے اور عبادت و ریاضت میں مصروف ہوگئے۔ یہاں پر آپ نے درس کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔
آپ کے زہد وتقوی اور علم کی شہرت پشاور اور اس کے گرد ونواح میں پھیلی ، علماء ، مشائخ اور عوام میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقبول کر دیا۔علاقہ گنج کی جامع مسجد (جو کہ مسجد خواجہ معروف کے نام سے موسوم ہے) میں مدرس، امام اور خطیب بنائے گئے۔
جب پنجاب میں سکھوں کے جبرا استبداداور مظالم سے تنگ آ کر مسلمانوں نے وہاں سے ہجرت کرنا شروع کر دیا تھا تو ان مہاجرین میں حضرت قلب برحق شاہ غلام محمد صاحب المعروف ’’ حضرت جی صاحب ؒپشاوری‘‘ بھی سرہند سے ہجرت کر کے پشاور تشریف لائے اور علاقہ یکہ توت میں مقیم ہوئے ، حضرت بحرالعلوم صاحب بھی آپ کی ملاقات کے لئے آیا کرتے تھے،اور یہ مراسم یہاں تک بڑھے کہ بقول مصنف تحفۃ المرشد حضرت جی صاحبؒ آپ کو ہر جمعرات کے دن اپنی مجلس میں بلوا کر وعظ کرواتے ، الفاظ یہ ہیں۔
’’وبروز پنجشنبہ حضرت حافظ محمد عظیم صاحب واعظؔ کہ بحرالعلوم بود برائے وعظ نزد خود طلب می فرمودند‘‘
نیز آپ نے جناب ’’ حضرت جی صاحب‘‘ معیت اور صحبت میں رہ کر علوم باطنی کا وافر حصہ پایا اور آپ سے ہی ہر چہار سلاسل میں بیعت ہوئے اور بقول حضرت محمد حسن بن حضرت امام محمد نوحانوی
’’ ونیز بحرالعلوم حافظ محمد عظیم واعظؔ پشاوری، از خلفائی حضرت جیو (جی ) صاحب بودند‘‘
یعنی حضرت بحر العلوم حافظ محمد عظیم واعظ پشاوری حضرت جی صاحب ؒ کے خلفاء میں سے تھے۔
حضور سید دوعالم احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ کے ساتھ آپ کی محبت کا جو عالم تھا وہ احاطہ تحریر سے باہر ہے ۔ ایک بار جناب بحر العلوم صاحبؒ حضوررحمۃ اللعالمین ﷺ کے دیدار پر انوار سے مشرف ہوئے تو آپ نے عرض کیا۔ ’’ یارسول اللہ ﷺ! آپ کے دیدار پر جمال سے مشرف ہونے کے بعد یہ آنکھیں اب اور کسی کو نہ دیکھیں‘‘ ۔ جب آپ ؒ بیدار ہوئے تو نابینا تھے۔ آپ کی بہت ہی خوب صورت اور موٹی موٹی آنکھیں تھیں۔ سبحان اللہ کیا عشق محمدیﷺ تھا۔ اور آپ کی پیارے محبوب مالک و مختار ﷺ کے ساتھ کتنی والہانہ محبت تھی۔ حضور عالم ماکان و ما یکون ﷺ کی اس محبت و عشق کا یہ نتیجہ تھا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت بحرالعلوم ؒ کو علم لدنی سے نوازا ۔
بغیر بینائی کے معقول و منقول کی کتابیں پڑھاتے۔ ہر ایک استفتاء کا جواب املا فرماتے ۔ کتاب کا نام ، صفحہ اور سطر تک لکھواتے۔ صاحب تاریخ پشاور لکھتے ہیں۔ ’’ یہ صاحب (یعنی حافظ محمد عظیم صاحبؒ) عالم باعمل تھے۔ ان کی نسبت لوگ اعتقاد ولایت رکھتے ہیں اور تمام عمرا ن کی تعلیم علوم میں باوجود نا بینا ہونے کے گذری ‘‘۔ آپ کو صحاح ستہ کی تمام اسانید زبانی یاد تھے۔ جناب مولانا غلام رسول مہر ؔ لکھتے ہیں ۔ ’’حضرت بحر العلوم حافظ محمد عظیم علم وفضل اور زہد و تقویٰ میں شیخ وقت ، صحاح ستہ کے اسانید زبانی یاد تھے‘‘۔آپ کے علم اور بزرگی کا شہر ہ ملک کے طول و عرض میں پھیلا ۔ آپ کے درس میں مختلف علاقوں کے طلباء جوق در جوق آنے لگے ، اور ہر قسم کے علوم سے بہرہ یاب ہو کر مشہور عالم و فاضل ہوئے۔ حضرت خواجہ معروف کی مسجد دارالعلوم اسلامیہ کی شکل اختیار کر چکی تھی ۔ طلباء کی روٹی ، رہنے کی جگہ ، اور کپڑا بھی آپ خود مہیا کرتے۔ آپ کے ساتھ آپ کے اس دارا العلوم میں مشہور و معروف دو عالم جناب اخونزادہ عبداللہ صاحب اور مولینا قاضی مسعود صاحب بھی علوم متداولہ کا درس پڑھاتے ۔ آپ کے دور میں صوبہ سرحد پر سکھوں نے غلبہ اور اقتدار حاصل کیا ہوا تھا۔ سکھوں کا دور یہاں کے لوگوں کے لئے جبر و استبداد کا اور ظلم و تعدی کا دور تھا۔ یہ ایک ایسا دور تھا کہ جس میں ظلم کا نام انصاف ، جبرو ستم کا نام رحم وکرم ، اور تباہی و بربادی کا نام آباد کاری تھا خانقاہوں کی عمارتوں کو ملیامیٹ کر دیا گیا ۔ مساجد کو اصطبل کی صورت میں تبدل کر دیا گیا ۔ اسلام پر ہر طرف سے کفر کی یلغار تھی۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں انتہائی بے بضاعتی اور کم مائیگی کے عالم میں قرآن و حدیث اور فقہہ حنفی کی ترویج و اشاعت کرنا۔ وعظ کی مجالس کا انعقاد کرنا بہت ہی کٹھن اور مشکل کام تھا۔ مگر آپ نے کمال ہمت و استقلا ل کے ساتھ کسی قسم کے خطرات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے دارالعلوم اور مجالس وعظ کو جاری رکھا۔ سکھوں کا جرنیل ابوطبیلہ اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے اب تک یاد کیا جاتا ہے۔ یہ جرنیل اطالوی تھا اور اتنا ظالم و جابر تھا کہ یوسف زئی اس کے جبر و استبداد کے تختہ مشق بنے ہوئے تھے ۔ یہ جرنیل ابوطبیلہ ۱۸۳۸ء سے لے کر ۱۸۴۲ء تک پشاور میں مقیم رہا ۔ ایک دفعہ اس نے آپ کو حکم بھیجا کہ آپ میرے پاس حاضر ہوجائیں ۔ مگر آپ نے نہایت ہی دلیری اور جرأت کے ساتھ اس کے قاصد کو کہہ دیا کہ گورنر کو ضرورت ہے تو اس فقیر کے پاس آئے۔ چنانچہ ابوطبیلہ خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
آپ کے شاگردان رشید میں سے مشہور و معروف شاگرد حضرت شیخ المشائخ شیخ الاسلام و المسلمین مجاہد اعظم حافظ عبدالغفور صاحب المشہور بہ اخون صاحب صواتؒ ، حضرت عالم اجل فاضل اکمل عالم علوم اسرارالہٰی سید اکبر شاہ صاحب ساکن بھانہ ماڑی ، حضرت علامہ وقت فھامہ عصر مولانا بالفضل اولنا مرید محی الد ین صاحب نوشہروی ، وغیر ہ وغیرہ بیان کئے جاتے ہیں۔ نیز بقول مولینا غلام رسول صاحب مہرؔ ،جناب مولانا مولوی سید امیر صاحب المشہور کوٹہ ملا صاحب بھی آپ کے شاگرد تھے۔
محدثین ہندوستان نے جناب سید احمد صاحب شہید کی قیادت میں سکھوں کے خلاف جو جنگیں کیں ابتداء میں آپ نے ، آپ کے شاگردوں نے اور آپ کے معتقد مشائخ کرام نے خوب گرم جوشی سے حصہ لیا۔ محدث جلیل فقیہہ عصر شیخ المشائخ سیدنا و مرشدنا حضرت سید غلام صاحب المعروف بہ آغا میر جی صاحبؒ نے گور گٹھڑی میں اس جماعت محدثین کی دعوت کی اور یہ دعوت اس صورت میں تھی کہ کھانے کا تمام سامان یعنی دنبے ، چاول ، گھی ، مصالحہ اور لکڑی سب دے دیا گیا اور انہوں نے خود پکا کر کھایا ۔ مگر بعد میں مذہبی اور سیاسی اختلاف کی بنا پر حضرت بحرالعلوم نے بمعہ متعلقین کے یکسوئی اختیار کر لی۔
مولینا مولوی غلام رسول صاحب مہر محدث اپنی کتاب ’’ اسماعیل شہید‘‘ کے صفحہ ۲۸۱ جلد دوم میں لکھتے ہیں ۔ ’’ شاہ اسماعیل کے مجموعہ مکاتیب میں دو مکتوب ایسے ہیں جو پشاور کے دس علما ء کے نام بھیجے گئے۔ پہلا ۹ ربیع الثانی ۱۲۴۴ھ(۲۰اکتوبر ۱۸۲۹ء) کو دوسرا ۱۷ شوال ۱۲۴۵ھ (۱۱ اپریل ۱۸۳۰ء) کو ۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علماء کی طرف سے سید صاحب اور آپ کے رفقا ء کئی الزام لگائے گئے تھے۔ مثلاً
۱۔ سید صاحب اور آپ کے رفقا الحاد و زندقہ میں مبتلا ہیں ۔ ان کا کوئی مذہب و مسلک نہیں ہے۔ نفسانیت کے پیرو ہیں اور لذات جسمانی کے جویا۔
۲۔ وہ ظلم اور تعدی کے خوگر ہیں۔
۳۔ بلاوجہ شرعی ، مسلمانوں کے اموال و نفوس پر دست درازی کرتے ہیں۔
۴۔ سید صاحب انگریزی رسالہ میں ملازم تھے۔ مولینا اسماعیل اور بعض دوسرے لوگوں نے انھیں مہدی موعود قرار دیا ۔ انگریزوں نے ان کو ملک سے نکال دیا۔
۵ ۔ وہ مکہ معظمہ پہنچے وہاں سے براہ مسقط و بلوچستان قندھار گئے۔
۶۔ خادی خان کو ملا عبدالغفور (اخون صاحب صوات) کے ذریعہ صلح کے بہانے بلایا اور قتل کرا دیا۔
۷ ۔ وہ افغانوں کی لڑکیوں کو جبرا ’’ جدید الاسلام ‘‘ ہندوستانیوں کے حوالے کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کو علم ہیں کہ یہ الزام کہا ں تک درست ہیں ۔ مگر ثابت ہوتا ہے کہ پشاور کے علماء کرام نے محدثین سے اختلاف کیا۔ اور یہ اختلاف معمولی نہ تھا ۔ بلکہ بنیادی اختلاف تھا۔ جن کے نام یہ خطوط لکھے گئے۔ مولانا غلام رسول صاحب مہر ان کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ ’’ مولانا حافظ محمد احسن صاحب بن محمد صدیق معروف بن حافظ دراز پشاور ، متبحر عالم علوم عقلیہ و نقلیہ کے ماہر سرحد سے سمر قند تک ان کے علم کا چرچا تھا ۔ دوسرے یہی بزرگ ہیں جس کی تعریف میں لکھتے ہیں ۔ حضرت بحرالعلوم حافظ محمد عظیم صاحب علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں شیخ وقت ، صحاح ستہ کے اسانید زبانی یاد تھے۔ روتے بہت تھے ۔ آخری عمر میں نا بینا ہوگئے تھا۔ تیسرے مولانا غلام حبیب صاحب جو کہ میاں صاحب آسیا والے غلام جیلانی کے والد تھے یہ بہت بڑے عالم تھے۔ (۴) مولینا مفتی محمد احسن صاحب بن مولانا مفتی محمد احمد متبحر عالم تھا۔ محلہ کوٹلہ رشید گنج پشاور ۔ (۵) مولینا مفتی حافظ احمد صاحب(۶) مولانا مولوی عبدالمالک اخونزادہ (۷) مولانا مراد اخونزادہ (۸) مولینا قاضی سعد الدین (۹) مولینا محمد مسعود (۱۰) مولینا عبداللہ اخونزادہ ۔
حضرت بحر العلوم صاحب اپنی مواعظ میں عقائد حقہ اہل سنت و جماعت کومدلل طریقے سے بیان فرماتے اور فرق باطلہ کا مسکت طریقہ پر رد فرماتے۔ یہ بات عام طور پر پشاور میں مشہور ہے بلکہ زبان زد خلائق ہے کہ جس وقت منبر پر رونق افروز ہوتے۔ تین بار ’’ الصلوٰۃ و السلام علیک یا رسول اللہ‘‘ بلند آواز سے پڑھتے ۔ آپ کے معاصر علماء سے حضرت مولانا مولوی غلام جیلانی صاحب المشہور ’’ میاں صاحب آسیا‘‘ نے اعتراض کیا ۔ آپ نے ان کو کہلا بھیجا ، کہ آئیے اور جمعہ کے وعظ میں یہ مسئلہ سن لیجئے ۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ جناب ’’ میاں صاحب آسیا‘‘ بمعہ اپنے معتقدین کے آپ کی مجلس وعظ میں تشریف لائے۔ اس وقت علماء کے وعظ کا یہ طریقہ تھا کہ نماز جمعہ سے بعد عصر تک وعظ کیا کرتے تھے۔ حسب قاعدہ آپ نے دردو و سلام پڑھ کر اسی مسئلہ ندا پر تقریر شروع کر دی، تمام وقت آپ کی تقریر سے لوگ اتنے متاثر ہوئے کہ حضور سرور دوعالم ﷺ کے عشق و محبت میں آہ و بکا کرتے رہے اور یہی عالم ’’ آسیا والے میاں صاحب‘‘ کا بھی تھا۔ ’’آسیا والے میاں صاحب‘‘ مطمئن ہو کر چلے گئے۔
حضور محبوب سبحانی قطب ربانی سید شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے ساتھ حضرت بحر العلوم کو والہانہ عقیدت تھی اور عقیدت عشق کی حد تک پہنچ چکی تھی۔ ہر وقت خواہ آپ درس میں ہوتے یا وعظ فرماتے حضور غوث الثقلین ؓ کے ہی کمالات اور کرامات بیان فرماتے ۔ ایک بار جو کچھ آپ کے پاس تھا سب کچھ طلباء کو دے دیا، یہاں تک کہ آپ پر گیارہ وقت کا فاقہ گذرا تو آپ نے بغداد شریف کی طرف منہ کر کے عرض کیا۔ مفتی فضل کریم مرحوم فرماتے تھے کہ مجھے والد صاحب نے فرمایا کہ معاً ایک شخص دروازے پر آیا اس کے پاس چاولوں کی ایک غوری تھی کہا کہ ’’ محمد عظیم کو کہو کہ خود آکر لے جائے ، حضرت خود دروازے پر آئے اور وہ غوری لے کر گئے ، اس غوری میں سے ہر لقمہ کے ساتھ ایک ایک اشرفی نکلی، جب آپ نے گیارہ لقمے لے لئے اور گیارہ اشرفیاں ہو گئیں ، تو فرمایا کہ حضورغوث اعظم ؒ کے گیارہ ناموں کا صدقہ یہ گیارہ اشرفیاں ہیں۔ اب میری غیرت گوارانہیں کرتی کہ بارھواں لقمہ لوں۔ آپ کی یہ والہانہ عقیدت آپ کی اولاد کو بھی نصیب تھی( اس طرح مفتی فضل کریم صاحب مرحوم حضورغوث پاک ؓ کے ساتھ عقیدت و محبت رکھتے تھے۔اور انتہائی شوق و جذبہ کے ساتھ حضورکا اسم گرامی لیتے تھے)ýÿÿÿ ¡¢£¤¥¦§¨©ª«¬®¯°±²³´µ¶·¸¹º»¼½¾¿ÀÁÂÃÄÅÆÇÈÉÊËÌÍÎÏÐÑÒÓÔÕÖרÙÚÛÜÝÞßàáâãäåæçèéêëìíîïðñòóôõö÷øùúûüýþÿصاحب حدائق الحنفیہ لکھتے ہیں ۔ ’’ اس کثرت و ہجوم سے لوگ آپ کے جنازے پر حاضر ہوئے کہ شہر کے لوگ تعجب کرتے تھے کہ اس قدر بے شمار خلقت کہا ں سے آگئی ‘‘۔
حضرت آقا سید پیر جان صاحبؒ
۱۲۰۵ھ تا ۱۳۱۵ھ
آپ کا نام و نامی و اسم گرامی سید اکبر شاہ صاحب، والد کا اسم مبارک سید عیسٰی شاہ صاحبؒ، لقب’’ قطب وقت ‘‘ تھااور’’ آغا پیرجان صاحب‘‘ کے نام سے مشہور تھے ۔ اسی مشہور نام نے آپ کے اصلی نام کی جگہ لے لی ۔ آپ کا سلسلہ نسب پانچ واسطوں کے بعد حضرت ابوالبرکات سید حسن صاحب قادری ؒ پشاوری سے مل جاتا ہے۔
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم کے زیر سایہ ہوئی ۔ بہت ہی تھوڑی عمر میں آپ نے علوم مروجہ سے فراغت حاصل کر لی ۔ اپنے بڑے بھائی حضرت علامہ اجل سید غلا م صاحب المعروف میر جی ؔصاحبؒ سے طریقہ عالیہ قادریہ حسنیہ میں بیعت کرکے خلافت حاصل کی اور صاحب مجاز و معنعن ہوئے۔ مسند آرائی خلافت ہونے کے بعد سلسلہ رشد و ہدایت شروع کر دیا ۔ سلسلہ قادریہ حسنیہ کی اشاعت و تبلیغ میں کسی دقیقہ کی فروگذاشت کو روانہ رکھا ۔ اس سلسلہ میں کشمیر ، ہندوستان ، کابل اور عرب کے متعدد سفر کئے۔
آپ کے دور میں پشاور پر سکھوں کا غلبہ تھااور دواور اس کے ساتھی تھے ۔ ان تینوں نے ایک مجلس میں جس میں آپ ؒ تشریف فرماتھے دین اسلام کی توہین کی ۔ آپؒ سے برداشت نہ ہوسکا اور آپ نے ان تینوں کافروں پر حملہ کر کے قتل کردیا۔ چونکہ آپ ؒ کا اقتدار بھی عوام میں کافی سے زیادہ تھا ۔ اور آپ سیاسی اور روحانی پشاور کے پیشوا تھے۔ اس لئے حکمران طبقہ نے آپ پر ہاتھ نہ ڈالا مبادا کہ بلوا عام ہوجائے۔ مگر آپ ؒ نے فرمایا کہ اب اس وطن میں جہاں دین اسلام کی توہین ہوتی ہو میں رہنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا آپؒ کابل کو ہجرت کر کے چلے گئے ۔ کابل میں آپ کی بہت عزت و تکریم کی گئی ۔ آپ ؒ نے وہاں کافی دن وہاں گذارے ۔ آپ ذکر و افکار میں مشغول رہے اور نہایت ہی مشکل ترین ریاضتیں کیں۔ دریائے کابل میں تین برس تک لاالہ الا اللہ کا ذکر کیا۔ جس وقت اس تین برس کے چلہ کے بعد آپ کو پانی سے نکالا گیا تو آپ کا وجود پانی نے کھایا ہوا تھا۔ اور روٹی کا دودھ و شوربے میں بگھو کر آپ کے منہ میں قطرات گرائے جاتے ۔ یہاں تک کہ آپ صحت یاب ہوئے ۔ اسی طرح قصیدہ غوثیہ شریف کا ایک برس کا چلہ کاٹا۔ آپ مغرب کی نماز کے وضو کے ساتھ صبح کی نماز ادا فرماتے ۔ گویا تمام رات عبادت الہٰی میں گذرتی ۔ آپ ؒ کے وجود کی برکت سے اس علاقہ میں ذکر الہٰی اتباع سنت نبوی ﷺ کی خوب اشاعت ہوئی ۔ اگرچہ آپ کی ارادت میں امراء ، حکام ، علماء ، اور عوام بکثرت شامل تھے ۔ مگر آپ کی طبیعت ان تمام ارادتمندیوں سے بے نیاز تھی ۔ آپ کا تعلق صرف اور صرف ذات الہٰی اور حضور فخر عالم ﷺ سے وابستہ تھا ۔ اسی وجہ سے آپ نے کسی وقت بھی کلمہ حق کہنے میں دریغ نہیں کیااور نہ کسی کی پرواہ کی۔ امیرشیر علی خان والی کابل ہندوستان کے سفر کے لئے پشاور پہنچا تو پشاور کے حاکم اعلیٰ نے جو کہ اس وقت انگریز تھا ۔ امیر صاحب کی ایک خاص ضیافت کی ۔ اس میں علما ء اور عمائد ین شہر کو بھی بلایا گیا۔ چونکہ آپ کا تعلق امیر کابل سے تھا اور وہ آپ کا معتقد تھا تو اس کی خواہش پر آپ ؒ کو بھی دعوت دی گئی ۔ آپ کو انگریزوں سے بڑی سخت نفرت تھی ، اس لئے آپ نے دعوت میں تو تشریف لے گئے مگر کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ امیرکابل جناب امیر شیر علی خان صاحب نے اصرار کیا تو آپ نے صاف طور پر جواب میں ارشاد فرمایا ’’ کہ اے امیر یہ فرنگیوں کی ضیافت ہے اس لئے میں نہیں کھاتا‘‘ ۔ امیر کابل کو غصہ آگیا اس نے کہا کہ اچھا جو وظیفہ کابل کی حکومت کی طرف سے آپ نے لئے مقرر ہے وہ ضبط کیا جاتا ہے ۔ آپ ؒ نے متبسمانہ لہجہ میں ارشاد فرمایا۔
’’ اے بادشاہ فقیر کی فقیر ی قیامت تک رہے گی ۔ مگر تیری بادشاہت نہ رہیگی ‘‘
آپ اس مجلس سے فورا اٹھ کر چلے آئے ۔ آپ کی طبیعت مبارکہ پر اس گفتگو کا اثر بہت برا پڑا ۔ چانچہ اس طرح ہوا جب امیر کابل واپس پہنچا تو اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ مگر آج تک اس فقیر کا ارشاد اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ روشن ہے۔
آپ کو قانوں انگریزی سے انتہائی نفرت تھی ۔ حتےٰ کہ کسی غیر اسلامی عدالت سے رجوع بھی پسند نہ فرماتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ؒ پر مزار سید حسن بادشاہ صاحبؒمتعلق دعویٰ دائر کر دیا ۔ آپ ؒ پہلی بار جب عدالت میں پیش ہوئے تو انگریز مجسٹریٹ مسڑ جمیز کرسٹی کو کہا’’ میں شریعت اسلامیہ محمدی کا پابند ہوں ، جو فیصلہ شریعت محمدیہ کرے مجھے قبول ہے۔ چونکہ تم شریعت اسلام نے ناواقف اور نا بلد ہو اس لئے یہ قضیہ کسی مسلمان عالم و فاضل کے پاس بھیج دو تا کہ وہ فیصلہ کرے‘‘ ۔ دوسرے فریق نے نہ مانا ۔ مجسٹریٹ نے اس کا مقدمہ خارج کردیا۔
آپ ؒ نے بہت طویل طویل سفر کئے ۔ حج بیت اللہ شریف کے ارادے سے جب بمبئی پہنچے تو بحری جہاز میں حضرت قدرۃ السالکین خواجہ اللہ بخش صاحب تونسوی ؒ بھی اسی جہار میں ہمسفر ہوگئے۔ (آپ کے ساتھ آپ ؒ کے داماد حضرت قبلہ عالم آقا الحاج سید سکندر شاہ صاحبؒ بھی تھے) اثناء سفر میں آپ ؒ کے مراسم حضرت قبلہ تونسوی ؒ سے نہایت ہی مشفقانہ قائم ہوئے ۔ ایک دن حضر ت تونسوی ؒ نے ارشادفرمایا کہ ’’ شاہ صاحب ، ہندوستان میں لوگوں نے تنگ کر دیا ہے ۔ اب ارادہ ہے کہ حج پر جا کر بیت اللہ شریف میں ٹھہر کر اللہ تعالیٰ کو یاد کروں‘‘ ۔ آپؒ نے فرمایا ’’ حضرت صاحب اگر آپ اس غرض کے لئے جارہے ہیں تو ایک گذارش اس فقیر کی بھی سن لیجئے ۔ جس طرح یہ فقیر آپ کو مشورہ دیتا ہے کوئی شخص آپ کے پا س نہیں ٹھہرے گا۔ اور آپ لوگوں کے اژدھام سے رہائی حاصل کر لیں گے‘‘۔ انھوں نے فرمایا کہ فرمائیے کہ ’’ وہ کیا طریقہ ہے ‘‘ ۔ آپ ؒ نے فرمایا ’’ آئیے یہاں سے ہی اپنے خادموں کو رخصت کر دیجئے ، آپ آٹا دال لائیے اور میں لکڑیاں لاؤں گا۔ میں کھانا تیار کروں گاآپ کپڑے دھوئیے ۔ اکھٹے چلا پھرا کریں گے تو پھر کوئی بھی آپ کے پاس آکر آپ کو تنگ نہیں کرے گا۔ جس قدر آپ خلوت میں رہیں گے۔ اسی قدر لوگ آپ کے دیدار کے مشتاق ہوں گے۔ اور خواہ مخواہ خلوت میں مداخلت کر کے آپ کے ذکر اذکار میں فرق پیدا کرتے ہیں اور جب آپ کو ہر وقت گھومتا پھرتا دیکھیں گے ۔ تو لازماً اس قدر اشتیاق نہ رہے گا‘‘ ۔ تو خواجہ صاحب ؒ نے فرمایا ۔ سید صاحب ’’ میں یہ طریقہ اختیار نہیں کر سکتا ہوں‘‘ تو آپ ؒ نے فرمایا کہ ’’ پھر آپ ضرور حج کو تشریف لے جائیں‘‘ ۔آپ ؒ کی طبیعت مبارکہ میں تحقیق حق کا جذبہ بوجہ اتم موجود تھا ۔ ہر وقت آپ ؒ کی مجلس میں علماء اور فضلاء سے بھر پور ہوتی اور کسی ایک مسئلہ پر گفتگو ہوتی رہتی ۔ چنانچہ ایک بار حضرت شیخ الاسلام و المسلمین حافظ عبدالغفور صاحب اعنی صاحب صوات ؒ کے ہاں سے علماء نے فتویٰ دیا کہ ’’ بغیر محراب کے نماز باجماعت نہیں ہوتی‘‘۔ یہ بات پشاور پہنچی چونکہ آپ ؒ کی ذات والا صفات پشاور شہر میں سیاسی اور مذہبی اعتبار سے قابل احترام اور مرکزی حیثیت رکھتی تھی، اس لئے حضرت سر آمد علماء جناب میاں صاحب آسیا یعنی حافظ میاں غلام جیلانی صاحبؒ اور استاذ الاساتذہ حضرت مولانا مولوی میاں نصیرا حمد صاحب المعروف بہ ’’ میاں صاحب قصہ خوانی ‘‘ ؒاور چند دیگر علماء یہ فتویٰ لے کر آپ ؒ کے پاس آئے ۔ آپ ؒ خود بھی بحمد اللہ عالم و اکمل تھے۔ آپ نے علماء کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد فرمایا کہ ’’ حضرت صوات ‘‘ بہت ہی قابل قدر ہستی ہیں اور انتہائی متبع شریعت محمدی ہیں بجائے اس کے کہ تم صاحبان یہاں سے ہی تنقید شروع کر دو۔ آؤ کہ ہم سب مل کر ان کے پاس سیدو شریف جائیں تاکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلہ کو طے کر لیا جائے۔ چنانچہ آپ خود بمعیت صدر الافاضل حضرت میاں صاحب قصہ خوانی ، حضرت الحاج آقا سید سکندر شاہ صاحبؒ اور جناب مولانا مولوی سراج الدین صاحب لاہوری سید و تشریف لے گئے ۔ حضرت قدوۃ السالکین زبدۃ العارفین شیخ الاسلام و المسلمین اخون صاحب صواتؒ نے آپ ؒ کی بہت ہی قدرو منزلت کی ، دوسرے دن مسئلہ پر گفتگو شروع ہوئی ، وفد کی طرف سے حضرت میاں صاحب قصہ خوانی بحث کرتے اور دوسری طرف سے تین علماء تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ تین دن تک یہ بحث کا سلسلہ جاری رہا۔ مسئلہ حل ہوا اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بابا جی صاحب صوات ؒ نے دوسرا فتویٰ دیا کہ ’’ بغیر محراب کے بھی نماز با جماعت ہوتی ہے‘‘ اتنا تکلیف دہ سفر آپ ؒ نے ایسی حالت میں کیا جبکہ آپ بہت معذور ہوچکے تھے ۔ مگر دین اسلام کی تڑپ اور سنت نبوی ﷺ کی خاطر آپنی تکالیف کا کوئی احساس تک نہیں کیا۔ اور سفر کی صعوبتیں جھیل کر امت محمدیہ ﷺ کو متحد و متفق کیا۔ یہی وہ مقدس افراد تھا جن کے قلوب میں دین اسلام کی سچی لگن تھی ۔ وہ پاک باز لوگ قوم کو آپس میں الجھا کر اقتدار حاصل نہیں کرتے تھے۔ ان اللہ والوں کی زندگی تو اس لئے تھی کہ لوگوں میں اتفاق ہو ، اتحاد ہو یکجہتی ہو، اور مسلمان قوم بنیان مرصوص ہو ۔ حضورﷺ کے محبت و اطاعت کا مکمل نمونہ ہو۔ مسائل دینیہ میں ان میں کوئی اختلاف اور تفرقہ نہ ہو۔ آپ کے اس جذبہ صادقہ کے صدقہ میں امت محمدیہ ﷺ ایک عظیم افتراق و تشتت سے بچ گئی ۔ ورنہ بعد میں صرف رفع سبابہ اور نسوار کے مسائل پر کیا کچھ نہ ہوا۔ایک تاریخ کے طالب علم سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ نیز آج کل بھی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کہ قسما قسم نازک مسائل کو چھیڑ کر علماء ملت اسلامیہ پاکستان کو باہم لڑا رہے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کو بھلا کر اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔ یہ علماء کیوں آپس میں بیٹھ کر ان مسائل کو حل نہیں کرتے ۔ تاکہ امت اسلامیہ اس تشت و افتراق سے نجات حاصل کرے ۔ کتنے برگذیدہ انسان تھے وہ جو خود تکلیف اٹھا کر امت محمدیہ ﷺ میں اتحاد و اتفاق پیدا کرتے تھے۔
آپ ؒ بڑے متوکل تھے۔ کبھی بھی کسی امیر یا صاحب و جاہت کے ہاں تشریف نہیں لے گئے ۔ بلکہ ہمیشہ ارشاد فرماتے کرتے کہ’’ اس فقیر کو ایک اللہ تعالیٰ کا در کافی ہے‘‘۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ آپ ؒ کی تمام ضروریات کو پورا فرماتا۔ نور محمد زرگر بیان کرتا ہے کہ ایک دن آپ مراقبہ کر رہے تھے کہ گھر سے جواب آیا۔’’ حضرت آج گھر میں ہر چیز ختم ہے‘‘ آپ ؒ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ’’ آج ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں ‘‘ ۔ اس کارساز حقیقی نے اس وقت کار سازی فرمائی اور چندمنٹوں کے بعد ایک شخص آکر پوچھتا ہے کہ ’’ آغا پیر جان ؒ کون ہے ‘‘ بیٹھے ہوئے افراد نے آپ ؒ کا تعارف کروایا ۔ اس شخص نے آپؒ کی خدمت میں ایک بیش قیمت گھوڑا اور ایک رومال جس میں تقریباً دو سو روپیہ تھا پیش کیا اور رخصت ہوگیا ۔ آپ ؒ نے اپنے احباب کو مخاطب کر کے فرمایا ، کہ ’’تم نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی عمدہ مہمانداری فرمائی ‘‘۔
آپؒ سے اتنی کثرت سے کرامات کا صدورہوا اور مکشوفات ہوئے کہ اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو ایک مکمل کتاب بن سکتی ہے ۔ آپ ؒ نے ہمیشہ کرامات کو چھپایا اور کبھی بھی ظاہر ہونے نہیں دیا ، اور دین مبین پر استقامت فرمارہے۔
الحاج ملک محمدزرین صاحب بیان کرتے تھے کہ ہمیشہ دریائے باڑہ میں سیلاب آتا اور تباہی اور بربادی مچا دیتا ۔ یہاں تک کہ ہماری زمینوں کو بھی خراب کر کے گاؤں کو منہدم کر دیتا ۔ جس کی وجہ سے ہم گاؤں گاؤں پھرتے رہتے ۔ میرے دادا صاحب نے جناب آغا پیر جان صاحبؒ کا شہر ہ سنا تو وہ آپ ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور انہی پریشانیوں اور مصیبتوں کا رونا رویا اور دعا کی التجا کی، آپ ؒ نے اس کو تین مٹی کے ڈھیلے دم کر کے دئیے اور فرمایا کہ ’’ اپنی زمین کی پل پر کھڑے ہو کر دریائے باڑہ کی طرف یہ ڈھیلے پھینک دو۔ انشاء اللہ جس جگہ تک یہ ڈھیلے پہنچیں گے اس سے آگے سیلاب کا پانی نہیں آئے گا۔ چنانچہ اس واقعہ کے بعد اب تک اس مقام سے آگے سیلاب کا پانی نہیں ۔ آیا ۔ بڑے بڑے خطرناک سیلاب آئے۔ اس گاؤں کے ساتھ کے گاؤں ، کڑوی زخی بانڈہ شیخ اسماعیل کو نقصان پہنچا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس گاؤں کو نقصان نہیں ہوتا۔
ایک بار آپ جوئے شیخ (شیخ کے کھٹہ) پر اپنے دوستوں کے ساتھ ’’ سیر ‘‘ کے لئے گئے ۔ خورد و نوش کا انتظام کیا گیا ۔ آپ کے ساتھ تقریباً اس سو دوست احباب تھے۔ جس نے سنا کہ آج آغا پیر جان ؒ کا ’’ سیر‘‘ ہے وہ جوئے شیخ پر پہنچ گیا۔ کہتے ہیں کہ کوئی آٹھ سو آدمی جمع ہوگئے ۔ آپ کے باورچی نور محمد زرگر نے تقریباً سو آدمی کا کھانا تیار کیا تھا ۔ آکر عرض کیا کہ ’’ جناب تقریباً آٹھ سو دوست احباب جمع ہیں اور پچاس کے قریب فقیر درویش آگئے ہیں اور کھانا سو نفر کا ہے کیا نبے گا‘‘ ۔ آپ ؒ نے تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’ اللہ تبارک و تعالیٰ پورا کر دے گا۔ ہم فقیر ون کا کارساز وہی جل جلالہ ہے‘‘۔
جب کھانے کا وقت آیا چند احباب اور بھی پہنچ گئے ، آپ ؒ نے اپنے ہاتھ سے ان تمام مسکینوں اور فقیروں کو سب سے پہلے کھانا کھلایا اور ان کے بعد اپنا روما ل دیگ پر ڈال دیا ، پھر تمام احباب کو کھانا کھلایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کھانے میں انتی برکت ڈالی کہ ہزار گیارہ سو آدمیوں نے سو آدمی کے لئے پکا ہوا کھانا کھا لیا جو بچ گیاوہ آپ ؒ نے اور آپؒ نے باورچی نور محمد زرگر نے کھایا۔آپؒ نے باورچی کو کہا ۔ ’’ میرے اللہ نے سب کو کھانا کھلا دیا ۔ وہی رزاق ہے ، میں اور تم تو کام کرنے والے ہیں‘‘
آپ ۲۸ جمادی الاول ۱۳۱۵ھ بروز سہ شنبہ رات کے ساڑھے بارہ بجے اٹھے ، غسل فرمایا ، کپڑے بدلے ، تسبیح لے کر مصلّٰے پر تشریف فرما ہوئے۔ اچانک طبیعت خراب ہوئی ۔ اپنے پوتے جناب آقاسید محمد زمان شاہ صاحب مرحوم ؒکو بلایا ۔ بیعت کر کے تسبیح اور مصلّٰے عطا فرمایا اور کہا کہ قرآن پڑھو ، جب آقا سید محمد زمان شاہ صاحبؒنے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا تو آپ ؒ نے اسم ذات کا ذکر کرنا شروع کر دیا اور چند ساعت کے بعد ذکر الہٰی کرتے ہوئے اس جہان فانی سے آپؒ کی روح مبارکہ قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
آپ ؒ کے انتقال کے وقت پشاور میں کہرام مچ گیا ۔ تمام شہر بند ہوگیا۔ ہر محلہ سے ذکر الہٰی کرتے ہوئے لوگ آپ ؒ کے مکان پر جمع ہو رہے تھے اور ہزار ہا کی تعداد میں پشاور کے چاروں طرف سے دیہاتی لوگ اکھٹے ہوگئے ۔ آپ ؒ کا جنازہ اٹھایا گیا تو ہر شخص کی زبان پر ذکر الہٰی جاری تھا ۔ پشاور کے زرگروں نے آپؒ کے جنازے پر سونے اورچاندی کے پھول صدقہ کئے۔ شام کے قریب یہ آفتاب رشد و ہدایت اور ولایت مقبرہ حضرت سلطان العارفین سید حسن ؒ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت عبدالغفور صاحب یعنی اخون صاحب صواتؒ
۱۲۰۹ھ تا ۱۲۹۵ھ
آپ کا اسم گرامی عبدالغفور صاحب لقب شیخ الاسلام اور اخون صاحب سوات کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ مہمندوں کے قبیلہ صافی سے تعلق رکھتے تھے۔
’’اخون ‘‘’’ اخوند‘‘ کامرخم ہے یعنی اخوند کا لفظ زبان پر ثقیل تھا اس لئے اخوند کے آخری حرف کو گرا دیا گیا ۔ تو اخوند سے ’’ اخون‘‘ بن گیا ۔ یہ تورانی لفظ ہے اور بہت بڑے متبحر عالم کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چونکہ آپ بھی عالم اجل اورشیخ الاسلام تھے ۔ اس لئے آپ کو عام زبان میں اسی لقب کے ساتھ پکارا گیا۔
آپ کی پیدائش ۱۱۸۴ھ میں ہوئی ۔ ابتدائی عمر سے آپ کو دینی تعلیم کا شوق تھا ۔ لہٰذا اپنے علاقہ ہی میں مختلف اساتذہ سے ابتدائی تعلیم کر کے مزید تعلیم کے حصول کے لئے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں رہ کر آخر مردان سے پشاور پہنچے ۔ پشاور میں آپؒـ’’ گنج والے حافظ جی صاحب کی خدمت میں پہنچے اور تقریباً چار برس رہ کر سند فراغت حاصل کی چونکہ حافظ صاحب ؒ صوفی کامل تھے ۔ اس لئے اپنے استاد کی صحبت بابرکت نے آپ ؒ کو بھی اصلاح نفس کی طرف متوجہ کیا۔ تحصیل علم کے بعد آپ فقراء کی تلاش میں نکلے۔ اس وقت پشاور شہر میں جناب شاہ میاں غلام محمد صاحب المعروف حضرت جی صاحب ؒیکہ توت والے کا بہت شہرہ تھا۔ اور حضرت اخون صاحب ؒ خود فرماتے ہیں کہ ـ’’ ہزاروں لوگ آ آ کر فیض حاصل کرتے تھے۔ مجھے آٹھ دن کے بعد آپ سے ملاقات کا موقعہ ملا۔ چنانچہ حضرت جی صاحبؒ نے آپ ؒ کو فرمایا کہ میرے پاس تمھارے لئے فقر نہیں ۔ مگر’’ استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم و اتوب الیہ ‘‘ پڑھا کرو۔ اسی طرح آپ ؒ مختلف فقراء اور مشائخ سے ملے ۔ آخر آپ وہاں پہنچ گئے جہاں سے آپ کو فقر ملنا تھا ۔ بفحوائے
آخرآمد ز پس پردۂ تقدیر پدیر
یعنی آپ حضرت شیخ المشائخ صاحبزادہ محمد شعیب صاحب ؒساکن تورڈھیری کی خدمت میں پہنچ کر طریقہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہو کر ریاضیت و مجاہدات میں مشغول ہو گئے۔ دریائے کابل اور دریائے سوات کے جنگلوں میں کافی عرصہ زہد و عبادت میں گذارا ۔ جب سلسلہ عالیہ قادریہ کے اسباق طریقت کو مکمل کر کے اپنے پیر و مرشد کے حضور میں پہنچے ۔ تو حضرت صاحبزادہ صاحب ؒ مرحوم نے آپ کو ہر چہار سلاسل یعنی قادریہ ، نقشبندیہ ، چشتیہ اور سہروردیہ میں ماذون اور صاحب مجاز فرمایا۔
صاحب مجاز ہونے کے بعد آپ نے ’’ امر باالمعروف ‘‘ اور ’’ نہی عن المنکر ‘‘ کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ آپ گاؤں گاؤں پھر کر لوگوں کو اتباع سنت اور اوامر الہٰی کی مطابعت کی تبلیغ کر تے۔ عقد بیوگان کرواتے ۔ لوگوں کو شرعی احکام کے مطابق عمل کرواتے اور ان کے تمام جھگڑے شریعت کے مطابق کرواتے ۔ بدعات و رسوم بد سے لوگوں کو باز رکھتے ، لنگر دیتے ، جہاں جس سے ہزار ہا لوگ روٹی ، کپڑا ، زاد راہ حاصل کرتے ۔ آپ کی للہیت اور خلوص کو دیکھ کر جوق در جوق عوام آپ ؒ کی بیعت ہوئے اور آپ پر پروانہ وار قربان ہوتے تھے۔ غرضیکہ آپ ؒ نے اس سلسلہ مبارکہ کی بہت اشاعت کی ۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ آپ کے نام سے موسوم ہو کر قادریہ چشتیہ نقشبندیہ کا ایک خانوادہ مشہور ہوگیا۔اب آپ کا سلسلہ صرف صوبہ سرحد ہی نہیں ، بلکہ کابل، ہرات ، غزنی ، ہندوستان اور عرب تک پھیل چکا تھا اور ہر جگہ آپ ؒ کے خلفاء مصروف تبلیغ تھے، اور اشاعت سنت نبوی ﷺ کر رہے تھے۔
آپ ؒ نے اس زہد و تقویٰ ، مشاہد ہ و مراقبہ ، ذکر وفکر ، امر باالمعروف نہی عن المنکر اور اشاعت سلسلہ کے ساتھ ساتھ ’’ جہاد باالسیف ‘‘ بھی کیا۔ نہایت ہی شجاعت ، ہمت اور استقلال کے ساتھ وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے جو رہتی دنیا تک زندہ رہیں گے اور جن کی یاد ہمیشہ رہے گی ۔ جب کبھی مورخ تاریخ مجاہدین سرحد لکھے گا تو وہ آپ کے جہادوں کو فراموش نہیں کرے گا اور نہ ہی کر سکتا ہے۔
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
=ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما
محدثین ہندوستان کی جو جماعت حضرت سید احمد صاحب شہید کی زیر قیادت ہندوستان سے روانہ ہو کر اس علاقہ میں سکھوں کے ساتھ لڑنے کے لئے آئی تھی ۔ آپ ؒ نے اس کے ساتھ مل کر پشاور سے سکھوں کو نکالا اور خوب جہاد کیا۔ اور سکھوں کے مظالم جبرو استبداد سے مسلمانوں کو نجات دلوائی ۔ جب پشاور فتح ہوگیا تو محدثین نے اپنے عقائد و اعما ل کو عملاً نافذ کرنا شروع کر دیا۔ جہاں تک بدعات ، رسومات بد ، اور دیگر برائیوں کا تعلق تھا ۔ حضرت اخون صاحب سواتؒ محدثین کے ساتھ ان تمام برائیوں کو ختم کر نے میں پیش پیش تھے۔ مگر عقائد کا مسئلہ آیا تو آپ ؒ ان سے الگ ہو گئے اور واضح طور پر ان کے عقائد کارد کیا اور ان سے اختلاف کیا۔ اور یہی وجہ تھی کہ آپؒ نے محدثین کی اس تحریک کے سرگرم رکن جناب حضرت مولونا مولوی سید امیر صاحب المعروف’’ کوٹہ ملا صاحب‘‘ اور ان کے متبعین پر ’’ وہابی ‘‘ کا حکم صادر کیا۔ مصنف یوسف زئی پٹھان بھی اپنی کتاب ’’ یوسف زئی پٹھا ن ‘‘ کے صفحہ ۳۸۰ پر لکھتا ہے ۔
’’ آخر میں یہ درج کر دینا بھی معلومات میں اضافہ کا باعث ہوگا کہ جس وقت حضرت اخوند صاحب سواتؒ تحریک مجاہدین کی اس کے مذہبی عقائد کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے ۔ اس وقت علاقہ صوابی کے موضع کوٹہ کے مشہور مذہبی رہنما حضرت سید امیر صاحب المعروف کوٹہ ملا صاحب اس تحریک کی حمایت میں تھے ‘‘۔
بلکہ آپؒ کے خلفا ء نے آپ کے ایما پر ان عقائد کے خلاف مبسوط کتابیں لکھیں ، ان میں حضرت مولانا مولوی مریدمحی الدین صاحب نوشہروی اور پشاور شہر کے مشہور معروف علامہ اجل حضرت مولانا مولوی میاں نصیرا حمد صاحب المعروف بہ میاں صاحب قصہ خوانی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ حضرت میاں صاحب قصہ خوانی نے تقویۃ الایمان مصنفہ شاہ اسماعیل صاحب کا رد بنام ’’ احقاق حق‘‘ عربی میں لکھا جس میں ان تمام عقائد کا رد ہے ۔جو کہ اہل سنت وجماعت کے عقائد حقہ کے خلاف ہیں۔
حضرت اخون صاحب ؒ پر ان واقعات کا اثر بہت براپڑا اور آپ سوات کی طرف چلے گئے ۔ آپ ؒ نے سلسلہ کی اشاعت امر باالمعروف کو جاری رکھا ۔اور اسی طرح رسومات بد اور بدعات کے خلاف عملاً کام کرتے رہے۔ نیز آپ نے اس تمام علاقہ کے قبائیلیوں کو منظم کرنا شروع کر دیا ۔ آپؒ کی مومنانہ فراست نے وہ سب کچھ دیکھا لیا تھا جو پیش آنے والا تھا۔ محدثین کی تحریک کی ناکامی ، سکھوں کا اس علاقہ سے نکل جانا ۔ ملکوں اور خوانین کی خانہ جنگی یہ سب ایسے اسباب تھے جن کی وجہ سے انگریز نے اپنی شیطانیت کی چالوں سے پشاور پر قبضہ کر لیا تھا ۔ آپ جانتے تھے کہ اگر یہاں یعنی سوات میں تنظیم نہ ہوئی اتحاد نہ ہوا ۔ کوئی امیر نہ ہوا تو فرنگی کا مقابلہ نہیں ہوسکتا ۔ آپ ؒ کی شبانہ روز مسلسل کوشش و سعی سے سوات کے لوگوں نے اپنا بادشاہ سید اکبر شاہ کو بنا لیا ۔ اگر چہ لوگ آپ ہی کے دست حق پرست پر بیعت امارت کرنا چاہتے تھے مگر آپ ؒ نے سب موصوف کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور حضرت اخون صاحب سوات کو شیخ الاسلام بنا یا گیا۔
تمام مقدمات تنازع اور جھگڑے آپ ؒ شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلے فرماتے ۔ آپ کی انتھک کوشش سے سوات میں امن قائم ہوگیا اور ہر طرف سنت نبوی ﷺ کی اشاعت ہونے لگی ۔ ’’امر باالمعروف ‘‘ اور ’’ نہی عن المنکر ‘‘ عملاً ہونے لگا۔ تقریباً سات برس تک سید اکبر شاہ نے حکومت کی اور ۱۱ مئی ۱۸۵۷ء کو وفات پائی ۔ سید صاحب کی وفات کے بعد سوات اور بنیر پر خانہ جنگی شروع ہوگئی ۔ اور وہ وطن جو سات برس تک امن و امان کو گہوارہ تھا جہنم زار بن گیا۔ حضرت اخون صاحبؒ اس تباہی و بربادی اور اختلاف و انتشار کو دیکھ کر بہت پریشان اور مشوش ہوئے۔ ادھر انگریزوں کی سازشیں اور چالیں کہ یہ لوگ اور زیادہ کمزور ہوجائیں آپس میں لڑیں تاکہ ہمارے زیر نگیں اور ماتحت ہوجائیں۔ آپ ؒ کے لئے اور زیادہ دکھ کا سبب تھا۔ انگریزوں نے اس افتراق اور تشتت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سوات کا رخ کیا۔ آپ ؒ نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا ۔ اپنے تمام متعلقین ، مریدین اور قبائلیوں کو لے کر میدان جہاں میں نکلے ۔ اس جہاد کا نام ’’ امبیلہ ‘‘ کی جہاد مشہور ہے ۔ انگریزوں نے دیکھا کہ سوات اور بنیز وغیرہ علاقوں کا اتحاد ہے تو ان میں پھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ حضرت اخون صاحبؒ انگریزوں کی شرارت کو سمجھ گئے ۔ انھوں نے بنیز کے لوگوں کو خصوصاً اور تمام لوگوں کو عموماً و نصیحت کی ، سمجھایا ۔ اور حملہ کے لئے تیار کیا۔ آپؒ کے ارشادت کا بہت زیادہ اثر ہوا ۔ لوگوں میں جوش جہاد پیدا ہوا اور شوق شہادت ہر ایک کو میدان جہاد کی طرف کھینچ لایا۔ چنانچہ نہایت ہی بے جگری کے ساتھ مجاہدین اسلام نے انگریزوں پر حملہ کر دیا۔ یہاں تک کہ دست بدست لڑائی کی بھی نوبت آئی ۔ مجبوراً فرنگیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔ چند دنوں کے بعد حضرت صاحب ؒ نے مجاہدین کو لے کر کڑاکڑ کے مورچے پر حملہ کردیا۔ یہ لڑائی بڑی ہیبت ناک تھی۔ مجاہدین انگریز وں کی فوج کی صفوں میں گھس گئے اور دست بدست لڑائی کی اور یہ مورچہ فتح کر لیا۔ اس مقام پر بہت قتل مقاتلہ ہوا۔ اس لئے اس جگہ کا نام ہی ’’ قتل گڑھ ‘‘ پڑ گیا۔ چند دن ٹھہر کر انگریزون نے پھر لڑنے کا بندوبست کیا۔ اور ایک بہت مدبر انگریز افسر کو کمان دے کر بھاری فوج کو میدان جنگ میں بھیج دیا۔ ادھر حضرت اخون صاحب ؒ نے بھی مجاہدین کی صفوں کو ترتیب دیا۔ لڑائی ہوئی مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ مجاہدین کے حق میں نہ نکلا ۔ باجوڑ وغیرہ کے لوگ واپس ہونے لگے ۔ مجاہدین میں بددلی پیدا ہوئی ۔ مگر آپ ؒ ایک مقام پر کھڑے ہوگئے اور جو لوگ لڑائی سے واپس جارہے تھے ان کو روکا اور فرمایا کہ آج زندگی اور موت کا سوال ہے ۔ اسلام کی عزت اور بے عزتی کا مسئلہ ہے ۔ دشمن کا مقابلہ جوانمردی ، ہمت اور شجاعت کے ساتھ کرنا چاہیے ۔ آپؒ کی تقریر ہمیشہ کے لئے تاثیر سے بھرئی ہوئی ہوتی تھی ۔ اس دفعہ بھی آپؒ کی تقریر سے بہت اچھا اثر ہوا ۔ اور مجاہدین پھر کمر ہمت باندھ کر میدان جہاد میں کود پڑے ۔ انگریزوں نے اپنی سازش اور پالیسی کے مطابق چند خوانین کو خرید کر مجاہدین پر حملہ کر دیا۔ مجاہدین نے نہایت ہی پختہ عزم اور استقلال کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ مگر اپنوں کی غداری کی وجہ سے کامیابی نہ ہوئی اور مجاہدین منتشر ہوگئے ۔اور آپ ؒ خود سیدو تشریف لے گئے۔ امر بالمعروف اور سلسلہ کی اشاعت میں مصروف ہوگئے ۔ قوم و ریاست کے تمام جھگڑے خود فیصلہ کرتے یا علماء سے کرواتے ۔ عرب و عجم میں آپؒ کے مریدین لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ کابل ، علاقہ آزاد قبائل اور صوبہ سرحد کا تو تمام علاقہ آپؒ ہی کے سلسلہ میں منسلک ہے اور آج جو طور طریقہ اس علاقہ میں اسلام کا نظر آرہا ہے یہ سب آپؒ ہی کی کوششوں اور مساعی جمیلہ کا مرہون منت ہے ۔ تقریباً آپ ؒ کے ساڑھے چار سو قریب خلفاء تھے جو صاحب علم و عمل ، اور صاحب تلوار بھی تھے ۔ آپ ؒ کے وہ خلفاء جو آزاد قبائل میں رہتے تھے تمام عمر جہاد کرتے رہے۔
آپؒ کا لنگر عام تھا۔ ہر ایک کو باقاعدہ روٹی اور سالن ملتا ۔ کوئی تفریق یا امتیاز نہ تھا۔ طالبان علم کو آپؒ کپڑا اور نقدی بھی مرحمت فرماتے ۔ سادات کی بڑی قدرو منزلت کرتے ۔ نادار اور یتیم لڑکیوں کو اپنی گرہ سے شادی کرواتے ۔ غرضیکہ جو بھی آپؒ کے پاس حاجت مند آتا ، بامراد لوٹتا۔
آپؒ کے مکشوفات اور کرامات بے حدو بے حساب ہیں ۔ چونکہ آپ ؒ مقام غوثیت پر فائز تھے اس لئے آپ کے کرامات کا صدور امر واقعی تھا ۔ اگر آپ کی کرامات اور مکشوفات کو جمع کیا جائے اور اس کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے۔ تبرکاًآپؒ کی ایک کرامت درج کرتا ہوں ورنہ آپؒ کی کرامات کا اس جگہ ذکر کرنا کیا معنی رکھتا ہے ۔ جبکہ آپ ؒ کا وجو د مبارک ایک زندہ کرامت تھا اور اس وقت بھی سالکان طریقت کے لئے مشعل راہ ہدایت ہے۔
جناب حضرت شیخ دین محمد صاحب المعروف شیخ صاحب شکر پورہ ؒ فرماتے تھے کہ مجھے میرے شیخ یعنی حضرت ہڈہ ملا صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ ایک بارآپؒ سے پوچھا گیا۔ کہ ’’ غوث‘‘ کی کیا شناخت ہے ۔حضرت اخون صاحب سوات ؒ نے فرمایا کہ اس کوٹھے کی چھت پر جو لکڑیاں پڑی ہوئی ہیں اگرغوث کہہ دے کہ یہ ایک لکڑی سونے کی ہے اور ایک لکڑی چاندی کی تو ایسے ہی ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ حضرت ہڈہ ملا صاحبؒ نے فرمایا کہ جب ہم نے چھت کی طرف دیکھا تو ایسے ہی تھا یعنی ایک لکڑی سونے کی تھی اور ایک چاندی کی ۔ مگر فوراً آپ ؒ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ کہہ دے کہ یہ لکڑیاں ہی ہیں تو وہ لکڑیاں ہوتی ہیں ۔ ہڈہ حضرت صاحبؒ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے دیکھا تو وہ لکڑیاں ہی تھیں ۔ جناب شیخ صاحبؒ نے فرمایا کہ حضرت ہڈہ ملاصاحب نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ہم سمجھ گئے کہ آنجناب مقام غوثیت پر فائر ہیں۔
حضرت اخون صاحب سوات ؒ کے دو فرزند بنام عبدالحنان میاں گل اور عبدالخالق میاں گل تھے ۔ موجودہ بادشاہ سوات عبدالخالق میاں گل صاحب کے فرزند ارجمند عالی مرتبت میاں گل عبدالودود صاحب ہیں۔ آپ نے خود بنفس نفیس اپنی حکومت ۱۲ دسمبر ۱۹۴۹ء میں اپنی بیٹے شہزادہ محمد عبدالحق جہان زیب خان کو عطا کر دی ، حکومت پاکستان نے والی سوات کو میجر جنرل کا اعزاز دیا۔
حضرت اخون صاحبؒ مجاہد اسلام پیکر عزم و استقلال ، مجسمہ سنت نبوی ، سرشار عشق لم یزلی سرگروہ سلسلہ قادریہ زاہدیہ غوث وقت ، حضرت عبدالغفور صاحب ۷محرم الحرام ۱۲۹۵ھ مطابق ۱۲جنوری ۱۸۷۷ء بروز پیر واصل بحق ہوئے اور سیدو شریف میں دفن کئے گئے ۔ آپ ؒ کے مزار پر ہزاروں زائر آکر حسب توفیق فیض حاصل کرتے ہیں۔
مو لینا مولوی قاضی طلا محمد صاحبؒ طلاؔ پشاوری
۱۲۱۴ھ تا ۱۲۹۷ھ
آپ کا اسم گرامی قاضی طلا محمد صاحب اور طلاؔ تخلص فرماتے ۔ والد کا اسم گرامی قاضی محمد حسن اور اور ـ’’ خان علماء‘‘ لقب تھا۔
خاندان:-آپ کا مورث اعلیٰ اخوند ترکمان بن تاج خان مغلیہ بادشاہ اورنگ زیب عالم گیر کے عہد سلطنت میں جنوب مشرقی قندھار کے غوڑہ مرغہ مقام سے پشاور کے علاقہ یوسف زئی میں بمقام امازئی آکر آباد ہوئے ۔ چونکہ یہ ایک عالمانہ گھرانہ تھا۔ اس لئے اس علاقہ میں بھی اسی صفت کی وجہ سے اس خاندان کو عزت و تکریم کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔
محمد غوث:- اخوند ترکمان صاحب علم و فضل تھے ۔ لہٰذا آپ نے اپنے لڑکے محمد غوث کی تعلیم و تربیت میں کوئی دقیقہ بھی فروگذاشت نہیں کیا۔ اور اپنے لڑکے کو علم وعمل سے آراستہ و پیراستہ کر دیا۔ یہاں تک کہ حضرت محمد غوث صاحب اپنے وقت کے ’’علامہ ‘‘ کہلائے۔
جناب محمد غوث صاحب صرف شریعت اسلامیہ کے ہی نہیں بلکہ طریقت محمدیہ ﷺ کے بھی امام تھے ۔ آپ سلسلہ عالیہ قادریہ میں حضرت شاہ محمد غوث صاحب پشاوری ثم لاہوری کے صاحب مجاز خلیفہ تھے۔ آقا عبدالحی حبیبی لکھتے ہیں۔
’’ کہ فرزند دے اخوند محمد غوث بعد از ۱۱۶۰ھ از طرف (لوئے بابا) احمد شاہ ابدالی قاضی پشاور مقرر شد و خانوادۂ قاضی خیلان پشاور از نسل دے یند‘‘
یعنی اخوند ترکمان کا بیٹا اخوند محمد غوث ۱۱۶۰ھ کے بعد (لوئے بابا) احمد شاہ ابدالی کے حکم سے پشاور شہر کا قاضی مقرر کیا گیا ۔ نیز موجودہ خاندان قاضی خیلان انہی کی نسل سے ہے۔ صاحب تعلیقات نے لکھا۔ ’’ آپ علم معقول اور منقول میں حاجی محمد سعید واعظ کے شاگرد تھے ۔ آپ صاحب تصنیف بھی تھے ۔ چنانچہ میرزا کلان پر حاشیہ لکھا اور بقول آقا حبیبی ایک کتاب ’’ شرح الشرح‘‘لکھی جو تین سو صفحات پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب لوئے بابا احمد شاہ ابدالی نے تصوف کے اسرار و رموز پر نثر میں لکھی تھی۔ پھر خود لوئے بابا کے کہنے پر آپ نے اس کی یہ شرح لکھی اور انہی کے نام پر معنون کی۔
آپ صاحب کرامت مستجاب الدعوات اور نہایت ہی حق گو اور نڈر تھے۔ مفتی غلام سرور صاحب لاہوری فرماتے ہیں کہ جس وقت نادر شاہ بادشاہ ہندوستان پر حملہ آور ہونے کی نیت سے پشاور پہنچا تو نیک لوگوں سے طالب دعا ہوا اسے معلوم ہوا کہ لاہور میں حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ بہت بزرگ ہیں ان سے دعا کروائی جائے ۔ اس نے لاہور حکم نامہ لکھا کہ حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ پشاور آئیں ۔ مگر آپؒ نے حکم نامے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صاحب انکار کر دیا ۔ اس نے ارادہ کر لیا کہ جس وقت لاہور پہنچوں گا ۔ سب سے پہلے حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ کو گرفتار کر کے حکم عدولی کی سزا دوں گا۔ اس کے بعد دہلی کا رخ کر وں گا۔ جب دریائے اٹک کے کنارے پر نادر شاہ پہنچا تو طوفان اور سیلاب کی وجہ سے دریا عبور نہ کرسکا ۔ آخر سمجھ گیا کہ یہ کوئی ناگہائی آفت ہے۔
’’ آخر ناچار شدو برائے استمداد و دعا بخدمت محمد غوث کر مرید شاہ محمد غوثؒ بود شخصے فرستاد‘‘
یعنی مجبور ہو کر طلب مدد اور دعا کے لئے (پشاور میں ) حضرت محمد غوث کی خدمت بابرکت میں آدمی بھیجا اور یہ صاحب حضرت شاہ محمد غوث لاہوری کے مرید تھے ۔ مگر آپ نے کیا خوب جواب دیا۔ فرمایا!
’’ ایں ہمہ توقف از شامت ارادۂ بد بادشاہ است کہ نسبت سید محمد غوث ؒ اندیشید است۔ اگر شاہ ازاں ارادۂ بدباز آید ممکن است کہ از آب دریا عبور نماید ‘‘
یہ رکاوٹ بادشاہ کے اس برے ارادہ کی وجہ سے ہے کہ جو اس نے حضرت سید شاہ محمد غوث صاحبؒ کے متعلق اختیار کر رکھا ہے ۔ اگر بادشاہ اس برے ارادہ سے باز آجائے تو ممکن ہے کہ دریا کو عبور کر لے۔
مجھے میرے دادا صاحب آقا سید سعید احمد شاہ ؒ نے فرمایا تھا کہ جس وقت بادشاہ پشاور سے روانہ ہوا تو اس وقت ہی قاضی صاحبؒ نے فرما دیا تھا کہ انشاء اللہ جب تک یہ توبہ نہیں کرے گا ، اٹک سے ادھر نہیں ہو سکے گا۔ اور یہ آپؒ کی قبولیت دعا کا اثر تھا کہ بادشاہ نے جب تک توبہ نہ کی اٹک کو عبور نہ کر سکا۔
قاضی محمد حسن خان علماء:-قاضی محمد غوث صاحب ؒ کے دو بیٹے تھے ۔ قاضی محمد اکبر شاہ اور قاضی داد اللہ ، دونوں عالم فاضل تھے ۔ قاضی محمد اکبر شاہ کے ایک فرزند قاضی محمد حسن تھے۔ یہ بڑے عالم و فاضل تھے ۔ تعلیقات نوائے معارک میں آقائی حبیبی لکھتاہے۔
’’ مرد علم و سیاست بود کہ بدربار بادشاہ شجاع مرتبت بزرگے داشت و محل اعتماد تمام آں بادشاہ گشت ، و لقب ’’ خان علماء ‘‘ یافت‘‘
یعنی یہ شخصیت صاحب علم و سیاست تھی اور بادشاہ شجاع کے دربار بلند مرتبہ کا مالک تھا اور بادشاہ کا اس پر کلی اعتماد تھا ۔ نیز ’’ خان علماء‘‘ کے لقب سے ملقب ہوا۔
تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ’’ خان علماء ‘‘ نے اپنا سارا وقت شاہ شجاع کے ساتھ لدھیانہ ، سند ھ پشاور اور قندھار میں گذارا۔ بحیثیت ، پیش امام ، سفیر اور مدار المہام کے رہا۔
قاضی طلامحمد طلاؔپشاوری:-قاضی محمد حسن صاحب’’ خان علماء‘‘ کے تین فرزند تھے ۔ قاضی فضل قادر صاحب ، قاضی غلام قادر صاحب اور قاضی طلامحمد صاحبؒ، قاضی غلام قادر اور فضل قادر عالم ہونے کے باوجود ایک بلند پایہ سیاسی ذہنیت رکھتے تھے۔ درانیوں کے زوال کے بعد انگریزوں سے ان ہر دو بھائیوں کے تعلقات بہت استوار تھے اور فرنگیوں کے معتمد علیہ تھے۔
قاضی طلا محمد صاحب طلاؔ ’’ خان علماء ‘‘ کے تیسرے فرزند تھے ۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی پشاور میں ہی بالکل سیاست سے الگ و تھلگ رہ کر بسرکی ، حکمرانوں کی قربت سے پرہیز کیا۔
آپ صاحب اخلاق حمیدہ اور مالک فضائل شریفہ تھے ۔ اپنے تمام ہمعصر علماء کے ساتھ آپ کے بہت ہی پسندیدہ تعلقات تھے۔ پشاور شہر کے علماء کی تاریخ ہائے وفات آپ نے لکھیں ، باوجود آزاد مسلک ہونے کے مشائخ پشاور اور سوات کے ساتھ آپ کو عقیدت ، محبت اور اخلاص تھا ۔ اور مشائخان سوات کے سلسلہ ہائے طریقہ کو نظم کیا۔
آپ نے اپنی تمام عمر علم و ادب کی خدمت میں گذاری ، علم حدیث فقہہ ، منطق اور ادب کی کتابوں کو بمعہ حواشی مفیدہ کے چھپواتے جو کہ اس وقت ایک نہایت ہی اہم دینی خدمت تھی ۔ آپ کی تعریف و توصیف آقا عبدالحی حبیبی ان الفاظ میں کرتا ہے
’’ کہ در علوم عربیہ وادب عربی و فارسی و درحسن خط و انشاء و شعر ہر دو زبان آیتی بود‘‘
یعنی علوم عربی ، عربی فارسی ادب ، بہتر ین خط و انشاء اور شعر میں (عربی فارسی ) ہر دوزبانوں میں حجت تھے۔ ’’ قاضی صاحب مسلکاً آزاد خیال اہل حدیث تھے۔ سردار ان کابل اور خصوصاً سردار غلام محمد خان صاحب طرزی افغان کے ساتھ آپ کی عالمانہ اور ادبیانہ خط و کتابت رہتی ۔ بقول صاحب تعلیمات برنوائے معارک آپ کی یادگار آٹھ کتابیں ہیں۔
(۱)دیوان فارسی (۲) دیوان عربی (۳)جواہر النظر (۴) صلوٰۃ التقریر فی ترجمۃ التحریر (۵) نفحۃ المسک(۶) تسلیۃ العقوق فی تحطتئۃ الففول(۷)صلواۃ الکیئب لمن لا یحضرہ الحبیب(۸) قصیدہ بائیہ عربی در عمل باالحدیث۔
ایک کتابچہ چند قصائد اور منظوم شجرہ ہائے طریقت پر مشتمل ہے۔
غالباً آپ کی وفات ۱۲۹۷ھ یا ۱۲۹۸ھ میں واقع ہوئی۔
حضرت آغا میر جانی صاحبؒ قلندر
۱۲۱۷ھ تا ۱۳۰۰ھ
آپ کا اسم شریف آغا میر جانی شاہ صاحب، لقب قلندر ، والد کا نام سید نجم الدین شاہ صاحب ؒ تھا۔ آپ کے والد معروف بزرگ اور ولی اللہ تھے ۔ مستجاب الدعوات تھے۔ مرجع خلائق تھے ۔ آپ کا مزار سنڑل جیل پشاور کی چار دیواری کے اندر آگیا ہے ۔
آغا میرجائی شاہ صاحب کے ایک چچا تھے ۔ جن کا مزار ضلع جہلم (پنجاب ) موضع کانسی ملال میں ہے اس کا اسم سید شاہ صاحب تھا۔ آپ کے دوسرے چچا سید محمد شاہ صاحب تھے جن کا مزار پشاور چھاؤئی میں مال روڈ پر وزیر اعلیٰ کے بنگلہ کے پیچھے واقع ہے۔
آپ مجذوب الحال تھے ۔ ایک سیاہ کمبل اوڑھے رہتے تھے ۔ پشاو رشہر کے لوگ آپ کو بڑی قدر ومنزلت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اور آپ کا بڑا ادب و احترام کرتے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جس وقت بھی پشاور شہر کے بہت بڑے عالم اور علامہ عصر میاں صاحب آسیا یعنی میاں غلام جیلانی صاحبؒ ادھر سے گذرتے تو آپ کے مکان سے دور گھوڑے سے اتر جاتے اور فرماتے کہ آگے قلندر بادشاہ کا گھر ہے ، ادب کرو ، ادھر آپ فرماتے کہ چرس وغیرہ کی چلم وغیرہ لٹادو کہ علم کا بادشاہ آرہا ہے ۔ اور آپ ان کو ملنے اپنے حجرہ سے باہر نکل آتے۔
آپ ؒکا سلسلہ طریقت حضرت بری امام عبداللطیف قلندر نور پور شاہاں راولپنڈی سے ملتا ہے ۔ اسی لئے شریعت کی پابندی آپ بہت کم کرتے ۔ طوائفوں کا گانا خوب سنتے اور بری امام عبداللطیف کی ڈالی کے تمام مراسم آپ ادا کرتے اور اب تک آپ کی صاحبزادی کی اولاد وہ سب مراسم ادا کرتی ہے۔
آپ والد کی طرح صاحب اللفظ اور مستجاب الدعوات تھے ، جو فرماتے اسی طرح ہوجاتا ۔ آپ کی کرامات اور خوق عادات عام طور پر زبان زد خلائق ہیں۔ آپ کا ایک مرید تھا جس کا نام سائیں کالا تھا۔ پشاور کے قریب ایک گاؤں ہے۔ ڈھیری باغبانان اس کا رہنے والا تھا ۔ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ کمبل اوڑھے جذب و شوق کے عالم میں اس کی طرف چلے جاتے تھے ۔ ایک دن جب آپ اس کے ہاں تشریف لے گئے تو بہت ہی خفا بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ سائیں کالا آج خفا کیوں ہوا اور ایک دو سنا بھی دیں۔ اس نے ادب سے عرض کیا کہ حضور میری زمین کے ساتھ ایک زمین ہے اور مالک اس کو فروخت کر رہا ہے ۔ میرا ایک خاندانی دشمن ہے وہ کی شاعری غالب ہوگئی تھی۔ اسی لئے آپ کی شہرت بحیثیت شاعر کے زیادہ ہے۔
آپ کے فرزند ارجمند الحاج میاں نصیر احمد صاحب نے صوبہ سرحد کے علماء سے علوم متداولہ کی تکمیل کی۔ اپنے وقت کے علامہ اجل فاضل اکمل مفسر قرآن ، شارح حدیث حضرت مولانا مولوی محمد احسن صاحب پشاوری سے سند فراغت حاصل کر کے مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے ۔
آپ کے تحبر علمی کا شہرہ سن کر دور دراز سے طلبا آنے لگے ۔ اورآپ کے وجود نے ایک علمی مرکز کی حیثیت حاصل کرلی ۔ آپ کے درس میں کابل ، بلخ اور بخارا تک کے طالبان علم موجود تھے ۔ فارغ التحصیل علماء آپ سے اکتساب علوم کرتے۔
پشاور شہر میں آپ نے ایک جامع مسجد تعمیر کروائی ، یہ مسجد تبلیغ و تدریس کا مرکز تھی۔ اس مسجد کا نام ہی آپ کے نام سے موسوم ہے۔ یعنی ’’ مسجد میاں صاحب قصہ خوانی ‘‘ الحمد للہ کہ اسی طرح یہ مسجد عقائد حقہ اہل سنت و جماعت کی تبلیغ کا مرکز ہے اور حضرت صاحب کے وقت سے لے کر اب تک اس مسجد سے احیا ء دین ہو رہا ہے اور اسی طرح قرآن و حدیث کا درس جاری ہے۔
آپ نے بہت کتابوں پر تبصرے لکھے ۔ کافی کتابوں کی تصحیح کی۔ حواشی لکھے، اور عقائد باطلہ پر کتابیں لکھیں ۔ منح الباری شرح صحیح البخاری پارۂ اوّل مصنفہ ، حافظ دراز صاحب پشاوری ؒ کی تصحیح کر کے چھپوائی ۔ ’’ اسرار الطریقت ‘‘ مصنفہ قطب العالم سید شاہ محمد غوث پشاوری ثم لاہوری کی تصحیح کی اور شائع کی۔ ’’اسماء الحسنی ‘‘ کی شرح فارسی میں لکھی ۔ علم نحو کی مشہور کتاب ’’ کافیہ ‘‘ کی مکمل ترکیب لکھی ۔ ’’ شاطبی ‘‘ پر حواشی لکھے ، اور غیر مقلدین کے رد میں عربی میں ایک مستقل کتاب مسمی بہ ’’ احقاق الحق ‘‘ لکھی جس میں تفصیل کے ساتھ اس فرقہ کا رد فرمایا ہے۔
آپ کے کتب خانہ میں تقریباً چھ ہزار کتابیں تھیں ، بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔
حضرت میاں صاحب کے ویسے تو ہزاروں شاگرد تھے ، مگر اس جگہ چند گرامی قدر حضرات کے اسماء لکھتا ہوں ۔ جو اپنے اپنے فنون کے امام تھے ۔ افسوس کہ آج ہم صرف ان کے ناموں سے واقف ہیں ۔ مگر ان کی تاریخ سے قطعاً بے بہرہ ہیں۔ جناب ملا منصور صاحب معقولی ، جناب حافظ سر بلند صاحب، جناب قاضی صاحب بڈھنی (جن کی فقاہت کا سکہ صوبہ سرحد میں بیٹھا ہوا ہے اور آپ کا فتویٰ جاری ہے) جناب حافظ صاحب بدھائی ، جناب مفتی عظیم اللہ صاحب ، جناب قاضی سراج الدین صاحب ، جناب مفتی صاحبزادہ شکر دین صاحب معقولی ۔ استاذ کل حضرت پیر علی شاہ صاحب ڈھکی نعلبندی ۔ حضرت شیخ المشائخ الحاج آقا سید سکندر شاہ صاحب قادری چشتی ؒ، جناب خان بہادر کریم بخش صاحب سیٹھی ، وغیرہ وغیرہ ان میں سے ہر صاحب ، علوم متداولہ میں مکمل گذرے ہیں۔ صوبہ سرحد میں دین اسلام کے روشن اور جگمگاتے ستارے تھے۔ کوئی قرآن ، حدیث اور فقہہ میں خصوصیت رکھتا تھا تو کوئی عرفان الہٰی اور سلوک و تصوف کا حامل تھا۔ توکوئی علوم عقلیہ و نقلیہ میں یکتائے وقت تھا۔ اور آج تک ان کے فیض یافتہ اور شاگرد ہمت و استقلال کے ساتھ دین محمدی ﷺ کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ آپ میں تحقیق حق کا جذبہ صادقہ اپنی نرالی شان رکھتا تھا۔ معاصر علماء کے اختلاف کو آمنے سامنے بیٹھ کر تحقیق فرماتے۔
ایک بار علماء سوات نے بسر کردگیء شیخ الاسلام و المسلمین حضرت اخوند صاحب سوات ؒ فتویٰ دیا کہ بغیر محراب کے جماعت نہیں ہوتی ، یہ مسئلہ پشاور پہنچا آپ دیکھ کر حیران ہوگئے۔ یہاں سے شیخ المشائخ حضرت آقا پیر جان صاحب قادری ؒ، حضرت آقا سید سکندر شاہ صاحب قادری چشتی ؒ ، مولینا مولوی سراج الدین لاہوری کو ساتھ لے کر تحقیق حق کے لئے سوات تشریف لے گئے۔ حضرت شیخ الاسلام والمسلمین باباجی صاحب سواتؒ کے ہاں قیام کیا اور مسلسل تین دن تک ان علماء سے گفتگو ہوئی۔تحقیق حق کی گئی اور پہلے فتویٰ پر نظر ثانی کرنے کے بعد دوبارہ شریعت محمدیہ کے مطابق فتویٰ دیا گیا ۔ جناب حضرت اخوند صاحب سوات ؒ نے ان صاحبان کی بڑی قدر و منزلت کرتے ہوئے رخصت کیا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے ستراسی سال پیشتر ہمارے علاقہ میں شریعت اسلامیہ کے مسائل کی تحقیق و تفتیش کا کتنا زبردست دینی جذبہ موجود تھا۔ اور اگر کسی دینی مسئلہ میں نزاع پیدا ہوجاتا تو علماء اور مشائخ یکجہتی کے ساتھ مسئلہ کو حل فرماتے تاکہ امت محمدیہ ﷺ تشتت و افتراق کا نشانہ نہ بنے ۔
الحاج میاں صاحب، سلسلہ قادریہ کے خانوادہ نوشاہیہ میں اپنی خاندنی نسبت رکھتے تھے ۔ نیز طریقہ عالیہ قادریہ زاہدیہ میں حضرت شیخ الاسلام و المسلمین اخون صاحب سوات ؒ سے بیعت تھے۔
آپ کا فتویٰ صرف پشاور ہی میں نہیں بلکہ تمام علاقہ میں نافذ و رائج تھا۔ باہر علاقہ کے علماء کرام جب تک کسی فیصلہ پر آپ کی مہر تصدیق نہ دیکھتے دستخط ثبت نہ کرتے بلکہ آپ ؒکے پاس بھیج دیتے ۔
علاوہ ازیں کہ آپ کے عالم و فاضل بھی تھے ، بہترین شاعر بھی تھے ۔ بہت سے پندونصائخ نظم فرمائے۔ بزرگان کرام کی تعریف و توصیف میں خمسیں، غزلیں اور نظمیں اردو فارسی میں لکھیں ۔ ایک دفعہ الحاج قبلہ محترم عزت مآب آغا سید سکندر شاہ صاحب قادری چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے آپؒ کو کہا کہ ہمارا شجرۂ طریقت نظم فرماویں ۔ آپ نے بزرگان کرام کے اسماء طلب کئے اور اسی وقت نظم فرمادئیے۔ ہر ایک شعر ایک در بے بہا ہے ۔ تمام شجرہ طیبہ گویا کہ ایک موتیوں میں پرویا ہوا ایک خوب صورت ہار ہے۔
غرضیکہ آپ کی ذات ستودہ صفات ایک مکمل و اکمل ، عالم اجل ، فاضل اکمل ، عارف کامل اور بے نظیر شاعرتھی ۔ آپ کی وفات بعمر اسی برس ۱۸ رجب المرجب ۱۳۰۸ھ بروز جمعہ بوقت عصر ہوئی ۔ آپ کی وفات پر شہر بند کر دیا گیا ۔ پشاور شہر اور صوبہ سرحد کے ہزاروں لوگوں نے آپ کی نماز جنازہ ادا کی۔ آپ کی وفات پر کافی سے زیادہ تاریخ ہائے وفات لکھی گئیں ۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔
صاح لمامات مولانا نصیر احمد
9الذی درساو فتویٰ مثلہ لایعلم
Aقال قوم صف لنا تاریخ تلک الواقعہ
Cقلت موت العالم واللّٰہ موت العالم
۱۳۰۸ھ
فارسی کی تاریخ ہے : نصیر احمد شب شنبہ بمرد
حیف آں آفتاب علم نہفت
۱۳۰۸ھ
ایضاً:شمس العلوم ازمابرفت
۱۳۰۸ھ
ایضاً:چراغ جناں
۱۳۰۸ھ
آپؒ کے تین فرزند تھے۔ (۱) مولوی میاں محمد صاحب ، آپ کے والد محترم ہی سے فارغ التحصیل ہوئے اور آپ کے زیر سایہ قضاو افتا کا کام کرتے تھے۔ نہایت کریم النفس تھے۔ خوش وضع اور خوش لباس جوان تھے۔ غالباً پچاس برس کی عمر میں بعارضہ نمونیہ وفات پائی۔
(۲)الحاج حافظ علامہ مولینا مولوی گل فقیر احمد صاحب مدظلہ العالیہ (اپکے حالات الگ تحریر ہیں)
(۳)حافظ میاں گل نظیر احمد صاحب، مرحوم آپ نے عمر کا پیشتر حفظ کلام شریف میں بسر کیا۔اور سینکڑوں افراد نے آپ سے قرآن مجید حفظ کیااور ناظرہ پڑھا ۔ تقریباً۶۶ برس کی عمر میں وفات پائی۔
محدث اعظم صوبہ سرحد حضرت مولانا مولوی محمد ایوب صاحبؒ
۱۲۵۰ھ یا ۱۳۳۵ھ
آپ کا اسم محترم محمد ایوب لقب محدث تھا۔ آپ موضع زخی چار باغ میں مولانا مولوی لطیف اللہ صاحب کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ آپ قبیلہ بے سود سے تعلق رکھتے تھے۔ چونکہ آپ کا گھرعلم و حکمت کا مسکن تھا اس لئے خاندانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آپ کے والد نے آپ کی تعلیم وتربیت پر پوری پوری توجہ دی۔
مولانا محمد ایوب صاحب ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد صوبہ سرحد کے مشاہیر علماء کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور علوم معقول و منقول سے فراغت حاصل کی۔
جناب حضرت شیخ اکمل علامہ صاحبزادہ صاحب اتمان زئی (چارسدہ ) اور حضرت استاذ کل مولانا مولوی سعید احمد صاحب المشہور کافور ڈھیری مولینا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر علوم متداولہ کو مکمل کیا۔ حضرت علامہ محدث جلیل ’’ مولینا صاحب ڈاگی یارحسین ‘‘ کی خدمت میں رہ کر حدیث شریف کی تکمیل کی اور سند اجازت لی۔
جب آپ نے ان اکابر و اعاظم علماء سے علوم اسلامیہ میں کمال حاصل کر لیا۔ تو حرمین الشریفین تشریف لے گئے اور وہاں کے محدثین کرام سے دوبارہ حدیث شریف پڑھ کر سند حدیث حاصل کی ۔ آپ کی سند حدیث ’’ سند مکی ‘‘ کہلاتی ہے جو کہ مسمٰی ہے ’’ ثبت امیری‘‘ سے اس سند مبارکہ کی دو نقلیں ہوئی جو کہ بطور سند ایک اس فقیر کے استاذ محترم ، محدث اعظم ، فقیہہ بے نظیر ، خطیب اسلام ، صوفی باکمال حضرت علامہ حافظ گل فقیر احمد صاحب ، مدظلہ العالیہ اور دوسری سند حضرت عموی محترم ، عالم و فاضل ، فخر علماء ، سید السادات حضرت آقا سید مقبول شاہ صاحب ساکن چاہ کالا پشاور نور اللہ مرقدہ کو مرحمت فرمائیں۔
آپ چار بار زیادت بیت اللہ شریف سے مشرف ہوئے اور آخری بار دو برس تک کاشانہ اقدس حضور شفیع المذنبین صاحب لواء حمد ، مالک شفاعت کبریٰ احمد مجتبےٰ ، محمد مصطفےٰ ﷺ کے قریب درس حدیث مبارک پڑھایا۔
حرمین شریفین سے واپس تشریف لا کر پشاور شہر میں مستقل سکونت اختیار کی ، پشاور کے مشہور تاجر سیٹھی کریم بخش مرحوم نے آپ کو مدرسہ جٹاں میں (جو کہ تعلیم القرآن کے نام سے موسوم تھا) صدر مدرس بنایا۔
۱۲۹۰ھ سے لے کر ۱۳۳۵ ھ تک حضور ﷺ کی حدیث شریف کی اس علاقہ میں اشاعت و ترویج آپ ہی کی ذات کی کوششوں کی رہین منت ہے۔ صوبہ سرحد ، وزیر ستان ، قندہار ، بخارا ، غزنی ، ہرات ، سوات، باجوڑ اور تمام علاقوں سے سینکڑوں طلبا آپ کے درس میں حاضر ہوئے اور فارغ التحصیل ہو کرلوگوں کی ہدایت کا سبب بنے۔ آپ ہی کی ذات گرامی تھی ۔ جس کی سعی سے ان علاقوں میں حدیث مبارک کی ایمان افروز مشعلیں روشن ہوئیں ۔ علم وحکمت کے دریا بہے اور شائقین علوم اسلامیہ آپ کے چشمہ علم سے سیراب ہوئے۔
آپؒکے شاگردوں میں جلیل القدر علماء ، محدث ، مفسر فقیہہ اور مفتی پیدا ہوئے۔ جن کے اسماء گرامی سے صوبہ سرحد کا بچہ بچہ واقف ہے ۔ شیخ الاسلام مفتی اعظم سرحد، فقیہہ عصر ، حضرت مولانا مولوی سید حبیب شاہ صاحب مرحوم خطیب جامع مسجد مہابت خان ، استاذ محترم ، محدث اعظم عالم علوم باطنی حضرت مولانا مولوی حافظ گل فقیر احمد چشتیؒ خطیب جامع مسجد قصہ خوانی مدظلہ العالیہ ، استاذ محترم محدث جلیل فقیہہ بے نظیر صدر المدرسین واعظ بے بدل حضرت مولانا مولوی صاحبزادہ حافظ علی احمد جان صاحب نقشبندی ؒ خطیب جامع مسجد کچہری ہا موحوم ، حضرت علامہ فاضل اکمل ، عالم باعمل عارف بااللہ سید السادات آقا سید مقبول شاہ صاحب نوراللہ مرقدہ ، حضرت علامہ استاذالاساتذہ ، عالم قرآن و سنت ، مولانا مولوی عبدالجلیل صاحب شیخ الحدیث ساکن اتمان زئی حال مدرس ستہ دارا العلوم چارسدہ ، حضرت مولانا مولوی علی اللہ صاحب المعروف صریخ مولینا صاحب ، حضرت مولینا مولوی سیف الرحمان صاحب المعروف بہ میاں صاحب نصیرزئی دوآبہ ، حضرت مولینا مولوی حافظ عبداللہ صاحب ساکن لنڈی اور صوبہ سرحد کے مشہور و معروف عالم وفاضل اور شاعر بے نظیر حضرت مولینا مولوی محمد غفران صاحب المشہور ’’ شہباز گڑھی مولینا صاحب‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔
غرضیکہ آپ کے تمام شاگردوں نے اپنی زندگی قرآن و حدیث اور علوم متداولہ کی تعلیم و اشاعت اور دین محمدی کی خدمت کیلئے وقف رکھی اور جو بقید حیات ہیں اس وقت بھی دین اسلام کی خدمت میں کمر بستہ ہیں۔
سلسلہ درس تدریس کے ساتھ ساتھ جناب مولانا محمد ایوب صاحب محدثؒ نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔ چنانچہ آپ نے درسی کتب پر حواشی لکھے ۔ شرح نخبۃ الفکر اور شرح تہذیب پر لکھے ہوئے حواشی طلباء کے لئے بہت ہی نفع بخش ہیں۔ رسالہ ’’ ہدیۃ المسلمین یارۃ سید المرسلین ‘‘ ’’مواہب المنان فی مناقب ابی حنیفۃالنعمان‘‘’’ درالحکمۃ فی ظھر الجمعہ‘‘ ’’ ھدیقۃ النصیحہ فی الخلۃ و الغرلۃ‘‘ ’’ عیون الاولۃ لرویۃ الاھلۃ‘‘ ’’ حلیۃ الاولیا ء و جنوۃ الاصفیا‘‘ ۔’’ تحفۃ الفحول فی الاستغاثۃ باالرسول‘‘ اسی طرح مختلف مسائل پر آپ ؒ کے کئی رسالے لکھے ہوئے ہیں اور آپ کی تمام تحریریں عربی میں ہیں۔
بروز چہار شنبہ (بدھ)عشاء کی نماز کے اندر سجدہ کے عالم میں بتاریخ ۷ربیع الثانی ۱۳۳۵ھ میں آپؒ کی روح مبارکہ قفس عنصری سے عالم جاودانی کی طرف پرواز کر گئی ۔ اس وقت آپ کی عمر ۸۵ برس تھی۔ اس آفتاب علم کو اپنے آبائی قبرستان موضع زخی چار باغ میں دفن کیا گیا۔
آپ کے تین فرزند تھے ۔ ایک تو لاولد ہی فوت ہوئے ۔ دوسرے جناب محمد نعمان صاحب ،تیسرے مولوی حکیم عبداللہ جان صاحب ہر دو عالم تھے۔ حکیم عبداللہ جان صاحب تو قومی اور سیاسی کارکن بھی تھے۔ اتمان زئی میں حکمت کی دوکان کرتے تھے۔ آپ کے صاحبزادہ مولوی حکیم عبدالباری صاحب والد کی جگہ حکمت کی دکان کرتے ہیں اور مدرس بھی ہیں۔
مولینا قاری حافظ میاں محمد صاحبؒ (بھانہ ماڑی)
۱۲۵۵ھ تا ۱۳۴۵ھ
آپ کا اسم گرامی حافظ میاں محمد والد کا نام مولینا قاری حافظ غلام محی الدین صاحب تھا۔ آپ عربی الاصل ہیں۔ قاری غلام محی الدین صاحب مکہ مکرمہ سے ہندوستان ہوتے ہوئے پشاور پہنچے اور بمقام بھانہ ماڑی قیام کیا۔
قرآن مجید پڑھاتے اور حفظ کرواتے تھے ۔آپ کے والد کی وفات کے بعد آپ کے چچا جناب ملا محمد عظیم صاحب مرحوم نے آپ کی پرورش و تربیت کی، قرآن مجید یاد کرنے کے بعد دینیات کی تعلیم شروع کی، اپنے چچا سے ابتدائی کتابیں پڑھ لیں، مسجد قوۃ الاسلام محلہ اللہ داد (رامدداس)میں نظم کی کتابیں میاں غلام صاحب پڑھاتے تھے۔ ان کے پاس تشریف لے گئے اور نظم کی کتابوں کی تکمیل کر لی۔ باقی فنون کی کتابیں اپنے وقت کے علامہ عصر حضرت سید اکبر شاہ صاحب مرحوم ساکن بھانہ ماڑی سے پڑھ کر علوم متداولہ سے فراغت حاصل کر لی۔
آپ نے اپنے اساتذہ کی بہت خدمت کی ، یہاں تک کہ پشاور سے کوہاٹ تک اپنے استاذ حضرت سید اکبر شاہ صاحب مرحوم کے ہمراہ پیدل جاتے اور استاذ گھوڑے پر سوار ہوتے ، تمام راستے میں اپنے اسباق پڑھتے اور پھر اسی طرح کوہاٹ سے واپس آتے ۔
انتہائی ملنسار، متواضع اور مہمان نواز تھے۔سادات کرام کا بہت ہی ادب احترام کرتے، خود بھوکے رہ جاتے اور غریب سائل کو سب کچھ دے کر رخصت کر دیتے۔
بازار اللہ داد(رامداس) میں بزازی کی دکان کرتے تھے۔ ایک طرف کپڑے فروخت کر رہے ہیں اور ساتھ ہی درس جاری ہے۔ نظم کی کتابیں بہت ہی اعلیٰ طور پر پڑھاتے دور دور سے طلباء آپ کے پاتے آتے۔ آپ ان کو پڑھانے کے علاوہ کپڑا اور کھانا بھی مہیا کرتے۔ نظم پڑھانے میں آپ بہت مشہور تھے۔
قرآن مجید کا درس چالیس برس تک دیا۔ ناظرہ پڑھاتے اور قرأت کے ساتھ حفظ کرواتے۔ بیسیوں شاگرد تھے اور ایسے شاگرد تھے جو کہ تدریس بھی کرتے تھے۔
آپ قرآن مجید لکھا بھی کرتے تھے۔ نہایت ہی خوش نویس تھے ۔ آپ کی وفات شب جمعہ ۲۸رمضان المبارک ۱۳۴۵ھ کو ہوئی۔
حافظ میاں محمد صاحب مرحوم کے دو فرزند تھے۔ حافظ مولانا فضل محمود صاحب اور مولینا مولوی فضل الرحمن صاحب مبلغ اسلام حافظ فضل محمود صاحب نے اپنے والد سے ابتدائی قرآن مجید کے چند پارے حفظ کئے، اور باقی قرآن مجید حافظ لال صاحب و حافظ میراحمد صاحب نا بینا سے یاد کیا۔ علم قرأت والد صاحب سے پڑھی ، درس نظامی حضرت علامہ سے اکبر شاہ صاحب مرحوم ساکن بھانہ ماڑی سے مکمل پڑھا ۔ اپنی آبائی مسجد (جو کہ بھانہ ماڑی میں ہے) میں امامت کرتے ۔ جمعہ کی نماز جناب حضرت علامہ سید حبیب شاہ صاحب مرحوم کی غیر موجودگی میں جامع مسجد نمک منڈی اور مسجد مہابت خان پشاور میں پڑھاتے ۔ لوگ آپ کے اخلاق حمیدہ سے بہت خوش تھے۔ نہایت ہی حق گو اور نڈرواعظ تھے۔ تحریک مسلم لیگ میں حصہ لیا اور پاکستان بنانے کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ سادات کرام کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے۔ حضرت قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے۔ عقائد حقہ اہل سنت و جماعت کو علی الاعلان بیان فرماتے تھے۔ تمام عمر قرآن مجید کے درس تدریس میں گذاری ۔ آپ کے بیسیوں شاگرد ہیں۔ ستر برس کی عمر میں یکم جمادی الثانی ۱۳۸۰ھ یعنی ۱۹۶۰ء میں انتقال کیا۔ آپ کے ایک فرزند حافظ قاری فضل احمد ہیں جو متداولہ کتابیں پڑھ چکے ہیں ۔ مگر زندگی سیاسیات میں گذار رہے ہیں۔ مسلم لیگ نیشنل گارڈ میں سالار ہیں ۔ گھڑی سازی کاکام کرکے گذر اوقات کرتے ہیں۔ دوسرے صاحبزادہ مولانا مولوی غلام احمد صاحب ہیں۔ آپ نے دارا العلوم کراچی سے سند فراغت حاصل کی ہے اور کراچی ہی میں مدرس اور خطیب ہیں۔
جناب حافظ میاں محمد صاحب مرحوم کے دوسرے فرزند مولینا مولوی فضل الرحمان صاحب مبلغ اسلام ہیں۔ مولینا فضل الرحمن صاحب نے اپنے بڑے بھائی مولوی حافظ فضل محمود صاحب سے قرآن مجید پڑھا اور درس نظامی کی تکمیل مختلف اساتذہ سے کی۔ خصوصاً مولینا مولوی غلام محمد صاحب ساکن گاڑیخانہ خطیب مسجد چھاؤنی پشاور سے تکمیل علم کی۔
اعلیٰ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ؒ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور سلسلہ قادریہ چشتیہ میں منسلک ہوگئے۔ سیاسی زندگی میں اپنے تمام اوقات مسلم لیگ میں گذارے ۔ ۱۹۴۶ء و۱۹۴۷ء میں صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کی تحریک سول نافرمانی میں انتہائی سرگرمی سے حصہ لیا اور جیل میں بھی گئے۔ اب تک مسلم لیگی ہیں۔ وہ جمعیۃ العلماء جس کی سرپرستی مولینا شبیر احمد عثمانی کر رہے تھے۔ اس کی صوبہ سرحد شاخ کے ناظم اعلیٰ تھے۔ کانگرسی علماء کی جمعیۃ العلماء کے مقابلہ میں علما کی تنظیم کی۔
مسجد قوۃ الاسلام (آسیا) میں خطیب اور محلہ بڑھ کی مسجد میں امام ہیں۔ آپ مبلغ اسلام ہیں ۔ پشاور میں جو بھی مجلس وعظ ہو اس میں آپ کو دعوت دی جاتی ہے اور دو دو تین تین گھنٹے مواعظ حسنہ سے لوگوں کو مستفید کرتے ہیں، وعظ میں اہل سنت و جماعت کے عقائد حقہ کو بہت ہی احسن دلائل کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور فرق باطلہ کا خصوصاً ’’ وہابیوں ‘‘ کا رد کرتے ہیں ۔ متصوفین کی روش کو اپنائے ہوئے ہیں۔ نہایت ہی متواضع منکسر المزاج ، مہمان نواز اورصاحب اخلاق حمیدہ واوصاف کریمانہ کے مالک ہیں۔ تمام دن قرآن مجید ناظرہ کا درس دیتے ہیں۔ انتہائی دوست نواز ہیں ، سادات کا ادب و احترام مزاج میں کوٹ کوٹ کر بھر ا ہے۔ اس وقت آپ کی عمر ۷۰ برس کے قریب ہیں ۔ آپ کے ایک صاحبزادہ حافظ سیف الرحمن صاحب حافظ قرآن ہیں کراچی میں پولیس لائن کی مسجد میں امام اور خطیب ہیں قرآن مجید کا ناظرہ درس کرتے ہیں ۔ اخلاق حمیدہ کے مالک ہیں۔
سید ملک شاہ صاحب قادری نوشاہی ؒ
۱۲۶۲ھ تا ۱۳۴۲ھ
آپ کا اسم گرامی سید ملک شاہ صاحب ، والد کا نام سید غلام جیلانی شاہ صاحب ہے اور سلسلہ قادری نوشاہیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ گیلانی سید تھے۔
آپ کے پر دادا سید محمد شاہ صاحب جو کہ سید سلطان محمد شاہ صاحب کے والد تھے، پشاور تشریف لائے، اور انھوں نے یہاں پر سلسلہ عالیہ قادریہ نوشاہیہ کی ترویج و اشاعت کی۔ آپ پنجاب کے ضلع گجرات میں گجرات سے پانچ میل کے فاصلہ پر موضع کھوکھر کے رہنے والے تھے۔
سید ملک شاہ صاحب ۱۲۶۲ھ میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد کے زیر سایہ دینی تعلیم سے بہرور ہو کر والد ہی کے دست گرفتہ ہوئے اور سلوک و معرفت کے مقامات طے کئے۔ والد کے انتقال کے بعد صاحب سجادہ ہوئے ۔ آپ نے اپنے تمام عمر پشاور میں ہی گذاری ۔ آپ کا ایک مرید بیان کرتا ہے ’’ آپ نے کبھی بھی کسی سیاسی تحریک میں حصہ نہیں لیا۔ ہر وقت علماء اور فقرا کی صحبت میں رہتے ۔ اورادووظائف میں مشغول رہتے اور دنیا وی جھمیلوں میں نہ پھنستے بلکہ ہمیں بھی نصیحت فرماتے رہتے کہ ان دھندوں سے الگ رہ کر یاد الہٰی میں مصروف رہو‘‘۔اکثر پشاور کے علماء میں سے حضرت مولینا مولوی عبد الحکیم صاحب مشہور ’’مولوی صاحب گاڈیخانہ‘‘آپ کے پاس تشریف لاتے اور دینی مسائل پر خوب مجلس قائم ہوتی ۔ آپ فقہہ حنفی کے بہترین عالم تھے جو بھی کوئی مسئلہ دریافت کرتا آپ اس کو تسلی بخش جواب دیتے۔
چونکہ آپ اپنے آبائی سلسلہ قادریہ نوشاہیہ کے شیخ تھے۔ اس لئے آپ نے پشاور ، صوبہ سرحد ، سوات ، دیر ، چترال ، باجوڑ اور کابل کے علاقہ میں اس سلسلہ کی اشاعت و ترویج میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ بلکہ اپنی زندگی ہی اسی تبلیغ کے لئے وقف کر دی تھی۔
خاص کر پشاور میں آپ نے اپنے مریدین کا ایک حلقہ ترتیب دیا اور ہر مرید کو اپنے حلقہ میں توجہ فرماتے اور مریدین مرغ بسمل کی طرح وجد و حال میں تڑپنے اور تزکیہ نفس کر کے اخلاق پاکیز ہ سے متصف ہوتے۔
آپ کے وقت میں اور بھی سلسلہ قادریہ نوشاہیہ کے خلفاء موجود تھے ۔ مثلاً علاقہ یکہ توت میں حاجی میاں محمد صاحب پیزاردوزالمعروف’’ حاجی لما‘‘۔ علاقہ گنج میں خلیفہ طلا محمد مرزا ، گند یویٹرہ میں عبدالمجید زمیندار المعروف خلیفہ متیو محلہ فضل حق صاحبزادہ میں خلیفہ میراحمد صاحب، ہشنگری دروازہ میں جناب آغا میرجی صاحب اور دیگر خلفاء بھی اپنے اپنے طور پر سلسلہ کی اشاعت کرتے تھے مگر آپ کی ذات ان سب کے لئے قابل احترام وقابل عزت تھی۔ چنانچہ جب بھی آپ کے معاصر خلفاء نوشاہیہ میں اگر کوئی تنازعہ پیدا ہوتا تو آپ ہی کے گھر پر آپ کی صدارت میں فیصلہ کیا جاتا۔
امیر کابل غازی حبیب اللہ خان صاحب مرحوم کو بھی آپ سے بہت عقیدت تھی اور ہر برس آپ کو ایک خلعت اور مبلغ پانچ سوروپیہ نذرانہ پیش کرتا۔
آپ اپنے بزرگان کرام کے عرس مبارک نہایت احترام کے ساتھ منعقد کرتے خصوصاً ربیع الثانی میں حضور غوث اعظم سید شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کا عرس نہایت شاندار طریقہ پر کرتے ، تمام دن لنگر تقسیم ہوتا بکثرت اژدھام ہوتا۔ اور تمام رات یادالہٰی کے حلقہ ہائے ذکر ہوتے۔
آپ کی توجہ بہت کامل تھی ، اور بہت ہی کرامات کا صدور آپ سے ہوتا تھا۔ مگر آپ نے قطعاً کرامات کو ظاہر ہونے نہیں دیا۔ اور نہ ہی کبھی اپنی طرف نسبت کی۔آپ کے مریدین موضع مشئی گل بیلہ میں بکثرت ہیں ، ان میں فضل سبحانی بادشاہ بہت ہی بزرگ اورنیک آدمی تھے۔ ان کے ہاں شادی کے موقع پر آپ بھی مدعو تھے۔ آپ حسب قاعدہ اپنے ہمراہ چند مریدین اور چند قوال لے کر تشریف لے گئے ۔ قوالی شروع ہوئی اور آپ کے مریدین پر وجد و حال طاری ہوا، چونکہ گاؤں تھا اور آپکی مجلس سے لوگ ناواقف تھے۔ انہوں نے ہنسنا شروع کردیا ۔ آپ نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی ، مگر ان کا استہزا بڑھتا جارہا تھا ۔ یہاں تک کہ آپ کے ایک مرید نے آپ کو متوجہ کیاکہ یہ لوگ اب بالکل گستاخ ہوگئے ہیں ان پر فکر کیجئے۔آپ نے ان پر توجہ کی تو بس پھر کیا تھا تمام مجلس و جد ورقص میں لگ گئی ۔ جو مذاق اور استہزا کر رہے تھے وہ روتے پیٹے اور چلاتے تھے ۔ آپ کی اس توجہ کاملہ کی برکت اور کرامت کو دیکھ یہ تمام علاقہ آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گیا ۔ اور اس کے بعد اس تمام علاقہ میں سلسلہ نوشاہیہ کی خوب اشاعت ہوئی اور فضل سبحانی بادشاہ نے آپ کی نیابت میں بہت کام کیا۔ اب تک فضل سبحانی صاحب کا عرس بہت ہی اعلیٰ پیمانہ پر ہوتا ہے اور بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے۔
آپ بہت ہی متوکل ، مہمان نواز صاحب حلم و بردبار تھے۔ آپ کے اخلاق حمیدہ کا ہر ایک معترف ہے۔ آپ بعمر ۸۰ برس ۱۳۴۲ھ میں اس دار فانی سے راہی عالم جاودانی ہوئے۔
آخری برس گیارھویں شریف کے عرس کے موقعہ پر اجتماع میں آپ نے اپنے پوتے شاہ محمد غوث صاحب کو صاحب سجادہ مقرر کیا۔
آپ کے تین صاحبزادے تھے۔ رسول شاہ ، مقبول شاہ ، شریف شاہ ، ہر سہ کا انتقال ہوگیا ہے ۔ رسول شاہ کا فرزند عبداللطیف شاہ صاحب بقید حیات ہے۔
مقبول شاہ کے پانچ فرزند تھے جس میں سے ایک شاہ محمد غیاث فوت ہو چکا ہے۔ اور دوسرے چار چار شاہ محمد غوث ، عبدالرزاق ، امداد حسین اور شاہ محمد طریف زندہ ہیں۔
شریف شاہ صاحب کے تین فرزند تھے۔ فیاض حسین شاہ صاحب فوت ہوچکے ہیں۔ مشتاق حسین شاہ صاحب اور لال حسین شاہ صاحب بقید حیات ہیں اور سلسلہ نقشبندیہ کی اشاعت و ترویج میں مصروف ہیں۔
حضرت خواجہ عبدالرحمن صاحب چھوہروی ؒ (ہری پور)
۱۲۶۲ھ تا ۱۳۴۲ھ
آپ کا نام نامی واسم گرامی خواجہ عبدالرحمن صاحب، والد کا نام خواجہ خضری صاحب لقب غوث وقت ہے۔ آپ نسباً علوی، مذہباً حنفی اور مشرباً قادری تھے ۔ آپ کی پیدائش بمقام چھوہر شریف ۱۲۶۲ھ ہوئی ۔
آپ کے والد اپنے وقت کے اولیائے کاملین میں سے ایک تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کی تربیت طریقت حضرت خضر علیہ السلام نے کی ۔ آپ کے وجود مبارک میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے عشق کی آگ ہر وقت اور آن بھڑکتی رہتی ، اور درد وعشق کا یہ عالم تھا کہ آپ کے سینہ پر سات زخم ہوگئے تھے۔ روزانہ ہلدی کو گھی میں تل کر ان زخموں پر پھایہ لگایا جاتا اور عبادت کا یہ حال تھا کہ برف باری کے ایام میں عشاء کی نماز کے وضو سے صبح کی نماز ادا فرماتے ۔ حضورﷺ کی حضوری کی یہ کیفیت تھی کہ چونکہ آپ امی تھے اور جب آپؒ سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا اگر معلوم ہوا بتلا دیتے اور اگر نہ معلوم ہوتا تو فرماتے تھوڑا صبرکرو ، حضورﷺ سے دریافت کر کے جواب دوں گا۔ آنکھیں بند نہ کرتے اور نہ ہی مراقب ہوتے ۔ تھوڑی دیر کے بعد فرماتے میں نے حضورﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کر لیا ہے ایسا نہ ایساہے۔ جناب حافظ صاحب تحریر فرماتے ہیں ۔’’ آپ ؒکے کمالات ظاہری و باطنی اور کرامات و خرق عادات لا تعداد وحد شمار سے باہر ہیں۔ حضرت خواجہ عبدالرحمن صاحب کی عمر ابھی آٹھ برس کی تھی کہ آپ کا وصال ہوگیا۔
حضرت خواجہ عبدالرحمن صاحب نے والد گرامی کی وفات کے بعد بہت ہی ریاضت اور محنت شاقہ اٹھائی ۔ آپ نے کسی کے سامنے زانوئے ادب طے نہیں کیا۔ آپ قطعاً محض امی تھے ۔ آپ نے بچپن کی عمر میں چلے کاٹے اور عبادت الہٰی میں مصروف ہوگئے۔آپ ؒ کے خلیفہ مجاز حضرت علامہ عارف علوم ظاہری و باطنی جناب حافظ سید احمد صاحب سری کوٹی نو ر اللہ مرقدہ فرماتے ہیں ’’ جب آپ کے والد بزرگوار عالی مقدار حضرت خواجہ خضری قدس اللہ سرہ العزیز ، دار فانی سے تشریف فرمائے عالم جاودانی ہوئے تو اسی خردسالی اور نابالغی کی حالت میں آپ نے چلہ کا ارادہ فرمایا۔ آپ نے مکان میں دریافت فرماتے میری خدمت کون کرے گا۔ قریبی رشتہ داروں میں سے کسی نے وعدہ کیا کہ آپ کی خدمت میں کروں گا ۔ آپ ؒ نے فرمایا کہ میرے پاس ایک برتن رکھ دو۔ چنانچہ روزانہ وقت مقررہ پر آپ اپنے منہ مبارک کو اس برتن کی طرف جھکا کر خون قے کر لیتے ، کھانا پینا بند تھا۔ ہر روز آلائشیات عناصر اربعہ و تکدرات قوائے بہمیہ اور ثقالت و کثافت جسمانی کا اخراج بذریعہ خونی قے کے فرماتے ، کچھ ایام تک خون آتا رہا ۔ جب بدن مبارک سے خون خلاص ہوگیا تو قے میں پانی آنا شروع ہوگیا ۔ یہاں تک کہ چالیس دن پورے ہوگئے‘‘۔حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’ اس غضب کا چلہ اولیاء اللہ میں نہ کسی نے کیا اور نہ سنا ۔ اس ریاضت شاقہ کے ذریعہ سے جسم عنصری کی ثقالت و کثافت و اخلاق بہمیہ کے ظلمات من کل الوجود مستہلک ومحو ہو کر لطافت کل و روحانیت نامہ نصیب ہوئی ‘‘۔
اس چلہ سے آپ بہت کمزور اور نڈھال ہوگئے تھے۔ جب وجود مبارک میں کچھ طاقت آگئی تو آپ حضرت شیخ الاسلام غوث وقت حافظ عبدالغفور صاحب المشہور اخون صاحب سوات کو ملنے کے لئے اپنے چند بزرگوں کے لے کر سوات تشریف لے گئے۔آپ جب سیدو شریف آپ کی قیام گاہ پر پہنچے تو لوگوں کا اژدھام تھا ۔ اور حضرت اخون صاحبؒ کی ملاقات ناممکن تھی۔ احباب نے مشورہ کیا کہ چونکہ ملاقات نہیں ہوسکتی اس لئے رات گذار کر صبح واپس چلیں ، جب صبح ہوئی تو احباب نے عرض کیا کہ صاحبزادہ واپسی کا انتظام کرو کہ چلیں۔ آپ نے فرمایا کہ اتنی دور سے آئے ہیں۔ جس وقت اشراق کے بعد حضرت اخون صاحبؒ اپنی مسجد کی سیڑیوں پر بیٹھ کر عام دعا کر کے لوگوں کو رخصت کر دیتے ہیں ہم بھی آپ کی زیارت دور سے کر کے رخصت ہوجائیں گے۔ اسی اثناء میں حضرت اخون صاحب کے خادم عام لوگوں میں آواز کر رہے تھے کہ جو صاحبزادہ ہزارہ کا آیا ہے حضرت صاحب اس کو طلب فرمارہے ہیں۔ چنانچہ آپ کے احباب کے بتانے پر آپ کو وہ خادم گود میں اٹھا کر حضرت اخون صاحب کی خدمت میں خلوت خانہ میں لے گئے۔ جناب اخون صاحب نے جب آپ کو دیکھا کو فرمایا کہ ’’ دغہ دے ۔ دغہ دے ۔ دغہ دے‘‘ ۔ یعنی یہی ہے، یہی ہے ، یہی ہے۔ اور حضرت اخون صاحب نے فرمایا کہ ’’ اس یتیم کے لئے دعا کرو‘‘۔ خواجہ عبدالرحمن صاحبؒ فرماتے ہیں کہ جس وقت حضرت اخون صاحب سوات نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو مجھے ایسے محسوس ہوا کہ گویا ساتوں آسمانوں کا بوجھ مجھ پرآگیا ہے، اور جب دعا سے فارغ ہوئے تو وہ بوجھ وسعت و فرحت و انبساط کے ساتھ بدل گیا۔
حضرت اخون صاحبؒ نے آپ کو فرمایا ۔’’ کیا رات کو خواب میں کچھ دیکھا ہے ‘‘۔ آپ نے جواب دیا کہ ’’ جس مقام پر چلہ کرتا ہوں وہ جگہ دیکھی ہے‘‘۔ حضرت اخون صاحبؒ نے فرمایا ،’’ اسی جگہ پر جا کر قیام پذیر ہوجئے، کہیں مت جائیے ۔ آپ کے پیر صاحب آپ کے پاس آکر آپ کے مکان میں آپ کو مرید کر لیں گے‘‘۔چنانچہ اس طرح ہوا ۔ کچھ عرصہ کے بعد حضرت یعقوب شاہ صاحب گن چھتری ؒ کشمیر سے ہزارہ تشریف لائے اور یہاں پر آپ کو دریافت کر کے آپ کے مکان پر آئے۔ آپ اپنی عبادت گاہ سے باہر تشریف لائے اور حضرت شاہ صاحب کا استقبال کیا۔ حضرت شاہ صاحب آپ کے خلوت خانہ میں تشریف لائے ۔ اور آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کر کے بہت بہت روحانی عنائتیں اور بخشش کیں، اور اپنے والد گرامی ؒ کا جانشین بنایا اور صاحب مجاز ہو کر معنعن ہوئے۔ آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ کی انتہائی کوشش کے ساتھ اشاعت کی۔ صرف ہزارہ ہی نہیں، بلکہ آپ کے مریدین کا سلسلہ کشمیر ، صوبہ سرحد ، افغانستان ، عرب، ہندوستان ، برمااور خصوصاً بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔ جتنی سعئی پیہم آپ نے سلسلہ کی تبلیغ کے لئے کی اسی طرح آپ نے علوم اسلامیہ کی اشاعت کے لئے کوشش کی، اپنے گاؤں سے ایک میل کے فاصلہ پر ہزارہ کے مشہور شہر ہری پور میں ۱۳۲۱ھ میں ایک عظیم الشان دار العلوم کی بنیاد رکھی ۔ جس کا نام ’’ دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور‘‘ رکھا گیا اس کے مصارف اور تعمیر کا خرچ برما اور بنگال کے علاقہ کے مریدین نے برداشت کئے۔ اس داراالعلوم میں درسی نظام کا مکمل انتظام ہے اور دورۂ حدیث بھی ہوتا ہے ۔ داراافتا بھی ہے۔ اس دارا العلوم کے ساتھ پرائمری مدرسہ بھی ہے جس میں چھوٹے بچوں کے لئے دینیات اور تعلیم قرآن مجید کا بہت ہی اعلیٰ انتظام ہے ۔ آپؒ کی خواہش کے مطابق دن دگنی رات چوگنی اس دارالعلوم نے ترقی کی۔اس دارا العلوم کے فاضل بھی مخلوق خدا کی اصلاح میں مختلف شہروں میں بحیثیت خطیب کے مصروف ہے۔
اس سال یعنی ۱۳۸۲ھ میں ۲۷رمضان المبارک بروز جمعہ ۶۱برسی کے موقع پر صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان بمعہ وزیر تعلیم چودھری فضل القادر صاحب (بنگالی) کے اس تقریب میں شامل ہوئے اور مبلغ پچاس ہزار روپیہ مرکزی گورنمنٹ کی طرف سے بطور عطیہ کے داراالعلوم کو مرحمت فرمایا۔ سابق صوبہ سرحد میں صرف یہ ایک دارا العلوم ہے۔ جس میں صحیح العقیدہ اہل سنت و جماعت علماء تیار ہوتے ہیں۔
جس وقت ۱۹۱۳ء میں اسلامیہ کالج کی تعمیر شروع ہونی شروع ہوئی تو کالج کی بنیاد رکھتے وقت جب جناب حضرت حاجی صاحب ترنگزئی ؒ نے انکار کیا تو حضرت خواجہ صاحبؒ نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ۔
آپ کے اخلاق حضور فخر دو عالم سید الکونین خلق عظیم احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ کے ارشادات عالیہ کے عین مطابق تھے۔ سنت نبوی علیہ التحیۃ وا لثنا کا اتباع آپ کی زندگی کا مقصد تھا۔ آپ سے مستحبات بھی کبھی ترک نہیں ہوئے۔ مہمانوں کی خدمت خود کرتے۔ آپ کی خانقاہ اور مجلس میں بدعات اور مخترعات خلاف شرع کا نام تک نہ تھا۔ آپ نہایت ہی متواضع ، خلیق صاحب حلم ، عفو و درگذر کرنے والے، منکسر المزاج اور پردہ پوش تھے۔ علماء فقراء وسادات کی قدر ومنزلت اور انتہائی ادب و احترام کرتے۔ آپ کی خانقاہ انتہائی سادہ اور ہر قسم کی آرائش وزبیائش سے پاک تھی۔ تمام اوقات مسجد ہی میں بسر ہوتے ۔ طالب علموں کی خدمت اپنے لئے سرمایہ آخرت سمجھ کر بہت ہی محبت اور اخلاص سے خود کرتے۔ ’’ دارالعلوم رحمانیہ اسلامیہ‘‘ کے ابتدائی دور میں طلباء کے لئے کھانا وغیرہ چھوہر شریف سے تیار ہو کر ہری پور آتا۔ ایک دن بہت بارش تھی رات بھی تاریک تھی ۔ آپ ؒ نے خادموں سے فرمایا کہ طلباء کے لئے روٹی پہنچا دو۔ مگر کسی میں ہمت نہ ہوئی ۔ آپ بنفس نفیس روٹی اور کھانا اٹھاکر طلباء کے لئے موسلاد ھار بارش میں لے گئے۔ سنت نبوی ﷺ کی اتباع کا یہ عالم تھا کہ ایک بار حدیث شریف میں دیکھا کہ حضورﷺ نے مسجد کی چٹائی لے کر درست فرمائی ہے۔ آپؒ نے بھی اپنی مسجد کی چٹائی جو کہ پھٹی ہوئی تھی سینی شروع کردی ۔ اسی اثنا میں ایک بزرگ شاہ ولی بابا تشریف لے آئے اور آپ سے عرض کے اٹھو اور میرے لئے گھر سے مکھن لاؤ ۔ آپ نے چٹائی سینے میں کچھ دیر لگائی تو شاہ ولی بابا فرمانے لگے کہ تما م چٹائی کا سینا سنت نہیں ہے۔ سنت ادا ہوگئی ہے ، اٹھو اور مکھن لا دو۔ مجھے دیر ہوتی ہے۔ آپ ؒ نے فرمایا کہ مجھے شاہ ولی بابا کی اس صفائی پر ہنسی آگئی ۔ جناب حافظ سید احمد صاحب فرماتے تھے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کشف زمانی و مکانی اور عیانی مکمل و اکمل عطا فرمایا تھا۔ مگر آپ نے دو چیزوں سے توبہ کر لی تھی۔ ایک تو ’’ کشف کے اظہار سے ‘‘ اوردوسرے ’’ ضروریات زندگی کے خیال سے ‘‘ ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بغیر طلب و خیال کے ضروریات زندگی مہیا اور پوری فرماتا تھا۔ چنانچہ ایک بار آپ گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ میرے لئے سیاہ رنگ کی دوہری چادر بناؤ۔ باہر تشریف لے گئے ۔ پھر گھر تشریف لے گئے اور منع فرما دیا۔ دوسرے دن ایک شخص آیا اور عرض کی میں باہر کہیں جاتا ہوں اور یہ سوت حاضر ہے بنوائی اور رنگائی کی مزدوری بھی پیش خدمت ہے ۔ آپ اپنے لئے چادر بنوالیں ۔ آپ نے فرمایا ’’ کہ میں نے اب اپنی ضروریات زندگی کا خیا ل بھی ترک کر دیا اور توبہ کرلی ہے اور جس روز سے توبہ کی ہے اللہ تعالیٰ بغیر خیال و طلب کے موسم گرما میں گرمائی کے کپڑے اور موسم سرما میں سرمائی کے کپڑے عنایت فرمادیتا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت قبلہ عالم حضرت اعلیٰ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ نے آپ کو فرمایا کہ آپ کے مہمان زیادہ آتے ہیں اور آمدنی آپ کی کم ہے ۔ میں آپ کو فلاں وظیفہ کی اجازت دیتا ہوں۔ اس کے پڑھنے سے آمدنی زیادہ ہوگی ۔ آپ چپ رہے۔ حضرت پیرصاحبؒ کے مکرر سہ کر ر اپنے خیال کا اظہار فرمایا تو آپ نے فرمایا کہ ’’ پیرصاحب خدا شرم آتی ہے کہ باہر سے لوگ پیر خیال کر کے آویں اور اندر سے پیسوں کے لئے وظیفہ پڑھا جاوے‘‘۔
کشف کے اظہار سے توبہ کا واقعہ اس طرح فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا میں بیٹھا ہوا تھا وہ شخص کپڑے اتار کر نہانے لگا ۔ جب فارغ ہوا تو میں نے اس کو کہا کہ تم نے زنا کیا ہے ۔ اوّل تو منکر ہوا جب میں نے پکڑا تو اعتراف کے اور معافی مانگنے لگا۔ فرماتے ہیں میں نے دل میں خیال کیا کہ اللہ پاک اپنے بندوں کے گناہ دیکھ کر پردہ پوشی فرماتا ہے اور میں صاحب کشف ہوا تو پردہ دری کرتا ہوں۔ اسی روز سے اس فکر کے بعد میں نے کشف کے اظہار سے توبہ کرلی۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو توجہ کاملہ سے نوازا تھا۔ آپ کے ایک مرید احمد الدین برادر یوسف ترکھانہ سکنہ چوہر نے ایک عجیب و غریب واقعہ آپ کی توجہ کاملہ و تصرفات کا بیان کیا۔ احمد دین کہتا ہے کہ آپ حج کے لئے تشریف لے گئے اثنائے سفر میں ایک پیر صاحب بھی ہمسفر ہوگئے۔ جب ہم عرب پہنچے تو ایک درویش ہم دونوں کو ملا اور اس نے بہت آہ وزاری کی اور کہا کہ میں ایک بڑی مصیبت میں مبتلا ہوں میری فریاد رسی کیجئے ۔ اس درویش نے بیان کیا کہ میں فلاں گاؤں میں رہتا ہوں اور میری عادت ستاربجانے کی ہے ۔ میری گاؤں کے عالم نے مجھ پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے ۔ آپ دونوں بڑے نیک آدمی ہیں۔ عالم ہیں میرے ساتھ چل کر اس عالم کو سمجھائیں کہ مجھ کافر نہ کہے۔ میں ان کے اس فتویٰ سے بڑا تنگ ہوں۔ فرماتے ہیں کہ میں اور وہ پیرصاحب دونوں اس عالم کے پاس گئے ۔ اس پیر صاحب نے اس عالم سے پوچھا کہ آپ نے اس شخص پر کفر کا فتویٰ کیوں دیا ہے ۔ اس عالم نے جواب دیا کہ یہ ستار بجاتا ہے ۔ اس لئے میں اس پر کفر کا فتویٰ دیا ہے ۔ اگر ستار بجانے سے بازآ جائے تو کفر کا فتویٰ بھی واپس ہوجائے گا۔ وہ پیر صاحب درویش کو چاہتے تھے کہ ستار بجانے سے منع کریں کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے پیر صاحب کو کہا کہ آپ اس وقت ان کے درمیان فیصلہ نہ کریں جب ہم لوگ حج کے مناسک ادا کر لیں پھر آکر ان کے درمیان فیصلہ کر لیں گے۔ جب ہم واپس آئے تو درویش کے ہمراہ اس کے گاؤں میں گئے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مفتی صاحب درسگاہ میں طلباء کے درمیان تشریف فرمارہیں ۔ اور بڑے ذوق و شوق سے ستار بجارہے ہیں۔ ہم دونوں کو دور سے دیکھ کر مفتی صاحب تعظیماً کھڑے ہوگئے۔ میں خاموش تھا ۔ پیر صاحب نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ یہ کیا حال ہے آپ کا، آپ تو ستار بجانے کو کفر کہتے ہیں اور آج خود اس کفر میں مبتلا ہوگئے ہیں۔مولینا صاحب نے جواب دیا کہ آپ دونوں میں سے کسی کی برکت سے یہ نعمت میں نصیب ہوئی ، دعا کرو کہ جب تک زندہ رہوں ستار بجاتا رہوں ۔ جب مروں ستار بجاتے مروں اور قیامت کے دن جب اللہ پاک کے سامنے جاؤں ستار بجاتے جاؤں ، پیر صاحب نے آپ سے فرمایا کہ فقیر صاحب یہ کیا کھیل بنایا آپ نے، فرمایا کہ آپ نے ہی کچھ کیا ہوگا۔ پیرصاحب نے کہا کہ میں جو کچھ ہوں خوب جانتا ہوں آپ بتائیے کہ اصل قصہ کیا ہے ۔ آپ ؒ نے فرمایا کہ آپ ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرمادیتے ، درویش آپ کے کہنے پر ستار نہ بجاتا تو جس وقت اس کو اپنی روحانی غذا کی ضرورت ہوتی تو وہ نہ ملنے پر مر جاتا۔ اس کا خون آپ کے ذمہ ہوتا۔ تو میں نے چاہا کہ آپ اس کے خون سے محفوظ رہیں اور دوسری بات یہ تھی کہ یہ مفتی صاحب اپنے علم پر نازاں اور فرحاں ہو کر درد مندوں کو کافر کہتے ہیں ان کو بھی درد سے آشنا کر دیا جائے۔ چنانچہ یہ بھی صاحب درد ہوگئے۔ یہ واقعہ لکھنے کے بعد حافظ صاحبؒ فرماتے ہیں’’ آپ میں جذبات و تصرفات خضر ؑ جلوہ گر وتھے۔ جس شخص میں جو کیفیت پیدا کر نے چاہتے ادنی ٰ توجہ سے پیدا کر دیتے۔ کیفیات عشقیہ و جذبات صدریہ پر آپ بوجہ اتم متصرف تھے۔ جس طرح بنی نوع انسان پر آپ کے تصرفات ، اسی طرح بناتات اور حیوانات پر بھی آپ کے? نیند کو اپنے پاس امانت رکھ لے۔ پھر آپ نے میرے لئے دعا فرمائی ۔ میں آپ سے رخصت ہو کر حسن ابدال ریلوے اسٹیشن پہنچا ۔ وہاں سے بمبئی کا ٹکٹ لے کر بمبئی پہنچا۔ اس تمام ریل کے سفر میں صرف دو تین منٹ کی اونگ آتی ۔ جس سے میری طبعیت آسودہ ہو جاتی، نیند قطعاً نہیں آئی ، بمبئی سے جہاز میں سوار ہو کر جدہ ، مکہ مکرمہ پہنچا ۔ تمام مناسک ادا کر کے اور ضروریات سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوا ۔ تمام تحائف متعلقہ لوگوں کوپہنچا کر واپس چھوہر شریف پہنچا۔ اور اس تمام سفر میں نیند نہیں آئی ۔ جب آستانہ پر پہنچکر آپ نے ملاقات ہوئی تو فرمایا کہ اپنی امانت لے لی۔ بس پھر کیا تھا نیند نے آد بوچا ۔ مسجد میں جا کر سو گیا ۔ نیند کے غلبہ سے چند وقت کی نماز بھی قضا ہوگی۔ آدھی رات کو آپ نے خود بنفس نفس آکر جگایا اور فرمایا کہ روٹی کھا کر پھر سو جاؤ۔ یہ واقعہ نقل کر نے کے بعد قبلہ سید صاحب نے لکھا۔ ’’اس سے معلوم ہوا کہ غیرذوی العقول اور بناتات وغیرہ مخلوقات بھی آپ ؒ کے تصرف میں تھی ، نیز بشری لوازمات نوم و یقظہ وغیرہ کیفیات غیر محسوسہ بھی آپ کے تصرف میں منسک تھے‘‘۔
آپ کی اسی توجہ کاملہ کی برکت اور نورانیت سے ہزاروں میل دور آپ کے اور آپ کے خلفاء کے میریدین نیکوکار ، نماز گذار ، تہجد گذار اور اولیابن گئے۔ بڑے بڑے فاجر اور بدکار جب آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوئے تو اور لوگوں کے لئے ہادی بن گئے۔
حضرت خواجہ عبدالرحمن صاحبؒ امی (بے پڑھے ) تھے، صرف قرآن مجید اپنے استاذ سے پڑھا تھا، باقی علوم متداولہ تفسیر ، حدیث ، فقہہ اصول، منطق وغیرہ آپ نے کسی سے نہیں پڑھے اور نہ ہی خط آپ نے کسی سے لکھنا سیکھا۔ مگر اللہ جل جلالہ نے آپ کو علم لدنی سے نوازا تھا، علماء بہت ہی الجھے ہوئے مسائل لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ نہایت ہی سہل طریقہ پر ان مسائل کو حل فرمادیتے اور علماء اقرار کرتے کہ آپ صاحب علم ’’لدنی‘‘ ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی میں ان روحانی تصرفات ، کرامات ، مکشوفات اور تدابیر عالم اجسام کے علاوہ دوکارنامے ایسے کئے کہ ہر ایک حق شناس اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس سے فائدہ حاصل کر ے گی۔ ایک تو ’’ داراالعلوم رحمانیہ اسلامیہ‘‘ ہری پور۔ اور دوسرا آپ کی تصنیف لطیف ، ’’ محیر العقول فی بیان کمالات علق العقول المسمٰی بہ مجموعہ صلوٰت الرسول‘‘ ہے ۔ اس کتاب کو آپ نے بارہ سال، آٹھ مہینے اور بیس دن میں لکھا۔ یہ کتاب درودشریف کی طرز پر تیس پاروں میں منقسم ہے۔ ہر پارہ کا الگ عنوان ہے اور وہ عنوان حضور اکرم عالم علوم اولین و آخرین احمد مجتبےٰ محمد مصطفےٰ ﷺ کی سیرت و شمائل پر ہے۔ یہ کتاب پہلی بار آپ ؒ کے ہی ارشاد پر آ پ کے خلیفہ اعظم حافظ سید احمدصاحب سری کوٹی نے چھپوائی اور اس کے اخراجات سیٹھ احمد اللہ صاحب کباؤ اور رنگون کے دوسرے مریدین نے برداشت کئے۔ پھر دوسری بار ۱۹۵۳ء میں حافظ سید احمد صاحب نور اللہ مرقدہ نے زر کثیر خرچ کر کے تین جلدوں میں پشاور سے شائع کی۔ اس کتاب کی تعریف و توصیف بیان سے باہر ہے ، اس کتاب کی قدر و ہی کر سکتا ہے جو اس کا مطالعہ کرے۔
حافظ سید احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ’’ آپ نے اپنے علوم و معارف ، اپنے جذبات عشقیہ اور تصرفات عالم ملکوت و ناسوت اور علوم حقائق و جوبیہ قدیمیہ ازلیہ اجمالیہ ، اور علوم مراتب صفاتیہ امکانیہ تفصیلیہ اور اقسام مراتب توحیدیہ ، وجودیہ اور شہودیہ وغیرہ کمالات کو اس کتاب میں اجمالاً و تفصیلاً اشارۃ ً و کنایۃً بیان فرما دیا ہے ۔ یہ کتاب آپؒ کے کمالات پر شاہد عدل ہے ۔ یہ کتاب آپؒ کے حسن و جمال کا مظہر اتم ہے‘‘۔
اس کتاب کے علوم کا ماخذ و منبع قرآن حکیم و احادیث رسول کریم ﷺ ہے۔اس کے اوراد ، اور وظائف سو سے زائد کتب معتبرہ سے نقل کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب برزخ وجوب امکان کے معیت میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے ۔ دائرہ اولیہ امکانیہ کے مرکزاعلیٰ سے اس کتاب کے علوم لئے گئے ہیں۔ چونکہ ذات محمدیﷺ صفت علمیہ واجب الوجود ہے۔ اس واسطے قرآن حکیم نے حضور پرنور ﷺ کے کمالات ذاتیہ اجمالیہ کا اظہاری فرمایا اور یہ کتاب حضور پر نور ﷺ کے کمالات صفاتیہ تفصیلیہ کو طرق متعدد کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ چونکہ ذات محمدی ذات واجب الوجود کے لئے صفت اولیٰ اورممکنات کے لئے ہیولیٰ ہے اجمالاً اور صفات و کمالات محمدیﷺ واجب الوجود کے صفت ظاہر کے لئے مظہر اتم ہیں ۔ تفصیلاً ، تو شاہنشاہ زمان خواجہ خواجگان حضرت خواجہ عبدالرحمان صاحب قدس سرہ العزیز نے اپنی کتاب لاجواب میں عقل اول یعنی صفت حقیقیہ ذاتیہ اولیہ محمدیہ ﷺ کے حسن ذاتی و کمال صفاتی کو اجملاً و تفصیلاً بطرز عجیب و ترتیب غریب اس طور پر بیان فرمایا ہے کہ بڑے بڑے علمائے کاملین و عرفائے راسخین حیرت در حیرت ہیں‘‘ اور کتاب ایک امی نے لکھی جو علوم مروجہ سے بابلد تھا ۔ جس کا کوئی استاذ نہیں تھا‘‘ ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔
آپ کے تین صاحبزادے تھے (۱) مولانا مولوی فضل الرحمان صاحب المعروف ’’چن پیر ‘‘ یہ فوت ہو چکے ہیں۔ (۲) صاحبزادہ حاجی محمد فضل سبحان صاحب(۳) صاحبزادہ محمود الرحمن صاحب ، یہ صاحب سجادہ ہیں آپ کے صاحب زادہ شاب الصالح عالم وفاضل مولینا مولوی طیب الرحمان صاحب ہیں اللہ تعالیٰ زندگی عطا فرمائے ۔آمین۔
حضرت خواجہ عبدالرحمن صاحبؒ کی وفات بعمر اسی برس بروز شنبہ بعد از نماز مغرب بتاریخ یکم ذی الحج ۱۳۴۲ھ بمقام چھوہر شریف ہوئی۔
حضرت آقا سید سکندر شاہ صاحب قادری چشتی ؒ
۱۲۶۶ھ تا ۱۳۳۱ھ
آپ کا اسم گرامی سید سکندر شاہ صاحب والد گرامی کا اسم شریف سید میر محی الدین صاحب، لقب سلطان المشائخ ،اور گور گھٹڑی والے ’’ آغا والے‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔
آپ حضرت ابوا لبرکات سید حسن صاحبؒ کے فرزند ارجمند حضرت محدث اعظم مرشد نا و مولینا سید شاہ محمدغوث صاحب ؒ کی اولاد سے ہیں۔
پشاور میں آپ کے چچا حضرت سید میر عیسیٰ شاہ صاحب ؒ۱۲۱۸ھ میں تشریف لا چکے تھے۔ آپ کے والد اور آپ کے چچا حضرت میر رسول شاہ صاحب کو حضرت میر عیسیٰ شاہ صاحب نے کشمیر سے بلوا کر اپنی دوصاحبزادیاں ان ہر دو حضرات کے حبالہ عقد میں دے دیں۔ سید میر رسول شاہ صاحب کی اولاد بچپن ہی میں فوت ہوگئی ، اور جناب سید میر محی الدین شاہ کو اللہ تعالیٰ نے دو فرزند عطا فرمائے ایک آنجنابؒ اور دوسرے سید میر اسحاق شاہ صاحب۔
جناب آقا سید سکندر شاہ صاحبؒ نے دینی تعلیم کے حصول کے لئے بہت ہی محنت شاقہ اٹھائی اور ریاست کشمیر و جموں کے اساتذہ سے بھی دینی تعلیم حاصل کی۔ پشاور میں جناب حضرت العلامہ سرآمد علماء مولینا مولوی میان نصیر احمد صاحبؒ بھی آپ کے اساتذہ میں سے تھے۔ آپ نے کافی سفر کر کے دینی تعلیم کو مکمل کیا اور علوم مروجہ سے فراغت حاصل کر کے عالم وفاضل ہوگئے۔
سلسلہ عالیہ قادریہ میں حضرت علامہ شیخ المشائخ آقا سید اکبر شاہ صاحب المعروف آغا پیر جان صاحب پشاوری ؒسے فیض حاصل کیا اور سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شمس العارفین خواجہ شمس الدین صاحب سیالوی ؒ سے فیض حاصل کیا ۔ آپ بڑے بڑے اکابر مشائخ کرام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فیوضات باطنی سے مالا مال ہوئے۔ گوالیار میں ایک فقیر صاحب کی خدمت میں پہنچے ان سے بھی آپ کو بہت فائدہ پہنچا تھا۔
آپ کی ذات والا صفات پشاور، لاہور ، چونیا ں، قصور اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں جو آپ کے ہزار ہا کی تعداد میں مریدین تھے باعث رحمت و افتخار تھی، آپ انتہائی درجے کے متورع ، زاہد مرتاض ، عالم و فاضل اور عارفین کاملین سے تھے ۔ اگرچہ آپ عزلت پسند تھے اور شہرت سے نفرت کرتے تھے مگر آفتاب کسی کے چھپائے چھپ نہیں سکتا ، اس آفتاب ولایت کی شعاعین خود ہی بتارہی ہیں کہ آفتاب موجود ہے۔
آپ کی مجلس میں علماء فقرا، صلحاء اور امرأ کا ہر وقت اجتماع رہتا اور کسی نہ کسی دینی مسئلہ پر گفتگو رہتی ۔ پشاور میں آپ کی ایک ایسی شخصیت تھی جس نے سلسلہ چشتیہ کو روشن کیا اور حلقہ ارادت قائم کیا۔ تمام بزرگان کرام کے عرس نہایت ہی اہتمام اورادب و احترام کے ساتھ منعقد کرتے ۔ اور خصوصاً ربیع الثانی شریف کی گیارھویں تاریخ کو حضور غوث اعظم قطب ربانی محبوب سبحانی سید شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے عرس مبارک کو بہت ہی شان اور عظمت سے کرتے ۔ تمام دن لنگر تقسیم ہوتا اور تمام رات ذکر الہٰی کے حلقے رہتے اور آپ توجہ کاملہ کے مالک تھے ۔ جب مریدین پر توجہ فرماتے تو مرغ بسمل کی طرح مریدین تڑپتے رہتے۔ آپ کے مریدین پر ’’ حال ‘‘ اور ’’جذبہ‘‘ بہت غالب تھا۔ صاحب اسرار التوصف فرماتے ہیں ’’ آپؒ کی توجہ باطنی میں کچھ ایسی کشش و تاثیر ہے کہ کیسا ہی منکر ہو ایک ہی توجہ میں اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ اپنے فیوض باطنی میں سے مالا مال کر دیتے ہیں ۔اسی کشش دلی و جذب باطنی سے بے شمار مرید صاحب سیر سلوک ہوگئے ہیں‘‘۔
پشاور کے سادات میں یہ قاعدہ ہے کہ جب ان سادات میں میت ہوجائے تو جنازے کے آگے ذکر الہٰی کے حلقے کرتے ہوئے میت کو شہر کے دروازے تک پہنچا کر دعا کر دیتے ہیں۔ چنانچہ آپؒ کے خاندان میں ایک میت ہوگئی ، جنازہ گور گھٹڑی کے سامنے پہنچا۔ میت کے آگے آپؒ کا حلقہ ذکر ، ذکرالہٰی میں مصروف تھا۔ آپ حلقہ کے وسط میں مراقب تھے۔ حلقہ میں چیف جسٹس جناب شیخ عبدالحمید صاحب کے والد شیخ غلام رسول صاحب مرحوم وجد و حال میں مصروف تھے۔ ۔ تحصیل کے دروازے پر ایک پویس کا سپاہی ڈیوٹی پر تھا وہ جناب شیخ صاحب مرحوم کے وجد و رقص پر مذاق اور ہنسی کر رہا تھا۔ آپ نے مراقبہ سے سر اٹھا کر اس سپاہی کی طرف دیکھا اس کی مذاق اورہنسی کو دیکھا ۔ جناب آقا صاحب مرحومؒ نے اس پر توجہ فرمائی ۔ آپ کے دیکھنے کے ساتھ ہی وہ سپاہی بندوق وردی کے حلقہ ذکر میں وجد و حال میں مصروف ہوگیا اور روتا پیٹتا رہا۔ آپ نے اس کو حلقہ سے باہر نکلوا دیا۔ سپاہی کے حواس بجانہ رہے اور وہ تھانہ میں بھی بدستور روتا پیٹتا رہا۔ آخر پویس افسران اس کو لے کر دوبارہ حلقہ ذکر میں لائے ۔ اس وقت میت چوک قصاباں کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ آپ نے اس کی طرف نظر کرم سے دیکھا اور وہ شخص ہوش میں آگیا۔ اور اس سے وہ کیفیت جاتی رہی ۔ آپؒ نے اس کو نصیحت فرمائی کہ اللہ والی مخلوق پر مت ہنساکرو،اور فرمایا
خاکساران جہاں را بحقارت منگر
Aتوچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد
پشاور شہر اور لاہور میں آپؒ کے مریدین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ ہر طبقہ کے افراد آپؒ سے عقیدت رکھتے اور آپؒ سے اصلاح پذیر ہوتے ۔ جہاں پر آپ فقرأ اور متوسط طبقہ کی اصلاح فرماتے ۔ وہاں پر آپ امرأ اور حکام کی بھی اصلاح فرماتے چنانچہ صوبہ سرحدکے اعلیٰ حاکم جناب کرنیل محمد اسلم خان آپ کی خدمت میں حاضر ہونا اپنی سعادت سمجھتے اور خان بہادر غلام صمدانی خان صاحب تو آپ کے اتنے معتقد تھے کہ انھوں نے اپنی دو صاحبزادیاں آپ کے ہر دو صاحبزادگان کے حبالہ عقد میں دیں۔ اسی طرح پشاور کے سردار خیل اور قاضی خیل اور دوسرے کئی خاندان آپ کے حلقہ مریدین میں داخل ہوئے ۔ آپ کے وجودسے سلسلہ عالیہ چشتیہ کو صوبہ سرحد میں اس دور میں کافی ترقی ہوئی ۔ اس وقت اس علاقہ میں اس مبارک سلسلہ کا کوئی شیخ نہیں تھا جو طریقہ چشتیہ کی تبلیغ و ترویج کرتا اور اس سلسلہ کی اشاعت اس علاقہ میں ایک بہت ہی مشکل اور کٹھن کام تھا ۔ اس علاقہ میں طریقہ قادریہ اور نقشبندیہ کا انتہائی اثر و نفوذ تھا۔ خصوصاً سلسلہ سوات صاحبؒ جو اپنے آپ کو ’’ قادریہ نقشبندیہ زاہدیہ ‘‘ سے نسبت کرتے تھے ۔ سماع کا سننا انتہائی گمراہی اور بے دینی سمجھتے تھے ۔ آپ نے اس ماحول میں (جبکہ پرائے تو تھے ہی ، دشمن اپنوں سے بھی بحث و مباحثہ اور بسا اوقات مناظرہ تک توبت آتی) ہمت و استقلال اور اخلاق حمیدہ کے ساتھ اس سلسلہ کو گھر گھر پہنچا یا اور وجد و حال کی مجالس کو قائم رکھا۔
آپ کے تصرفات کا یہ عالم تھا کہ ادھر آپ نے توجہ فرمائی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے وہ کام پورا فرما دیا۔ آپ کے روحانی کمالات کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو آپؒ کی مجلس میں حاضر ہوتا ہو۔ آپ کے ایک مرید بیان فرماتے ہیں کہ مجلس سماع میں جس وقت آپ توجہ فرماتے تھے تو سالک سیر فی اللہ اور سیر مع اللہ میں مصروف ہوجاتے اور یہ تمام آپ ؒ کی نظر کرم اور توجہ کاملہ کا طفیل ہوتا۔
آپ نے بہت سفر کئے۔ حج کا سفر اپنے شیخ گرامی حضرت آغا پیر جان صاحبؒ ہمراہ کیا، اور جس جگہ اور جس شہر میں بھی سنا کہ کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے آپ وہاں پر جاتے اور اس شخص کی ملاقات کرتے۔ آپؒ نے سنا کہ گوالیار میں ایک فقیر ہے ۔ آپ نے رخت سفر باندھ کر گوالیار کی راہ لی اور اس حضرت کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ جس آپ اس کو ملے تووہ بہت ہی خوش ہوئے۔ حکیم حسن محمد چونیوی لکھتے ہیں
’’چنانچہ حضرت قبلہ عالم ؒ خود فرماتے ہیں کہ بس دنیا میں صرف ایک شخص یعنی فقیر صاحبؒ کو دیکھا ہے ۔ جو بالکل حضورﷺ کے قدم مبارک پر قدم رکھ کر چل رہے ہیں‘‘
اور فقیر صاحبؒ نے آپ ؒ کے متعلق یہ فرمایا کہ
’’ سید صاحب آپ کی ہستی کا کوئی بزرگ ہندوستان میں نہیں ہے۔ اور نہ ہی کوئی آپ کی تسلی کرسکتا ہے‘‘
آپ ؒ نے ان سے خوب فیض باطنی حاصل کیا۔ حضرت شیخ المشائخ میاں شیر محمد شرقپوری ؒ بھی آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے ۔ بلکہ آپ کو ایک بار شرقپورشریف آنے کی دعوت دی اور آپؒ تشریف بھی لے گئے۔ جلال پور شریف میں آپ حضرت سید حیدر شاہ صاحب سجادہ نشین سے ملے۔ یہ آپ کے پیر بھائی تھے یعنی خواجہ شمس الدین صاحب ؒ سیالوی کے مرید تھے۔ حضرت قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے بھی آپ کی اکثر ملاقات رہتی ۔ لاہور میں حضرت مولینا مولوی غلام قادر صاحب بھیروی خطیب مسجد بیگم شاہی (یہ بھی حضرت سیالوی ؒ کے خلیفہ تھے)اور جناب مولینا مولوی سراج الدین صاحب چشتی جو کہ لاہور کے اکابر علماء سے تھے۔ آپؒ کے پاس آیا کرتے اور فیض و برکات حاصل کرتے ۔ موہڑہ شریف میں اس وقت جناب پیرقاسم صاحب نقشبندی زندہ تھے ۔ آپ ان کی ملاقات کے لئے بھی تشریف لے گئے۔ مگر ان کی گفتگو سے آپ کی تسلی نہ ہوئی ۔ کشمیر کی سیاحت کی۔ اولیا ء کرام کے مزارات پر حاضر ہوئے اور بزرگ شخصیتوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
حکیم حسن محمد صاحب لکھتے ہیں۔
’’قاضی فضل حق صاحب چونیوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت قبلہ عالم ؒ نے ایک مرتبہ مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ قاضی صاحب آدمی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اگر ستر صوفیوں کے درمیان بیٹھا ہو تو ہر ایک کے باطن پر نظر ہو، اور ہر ایک کے دل کی گہرائی کو دیکھ رہا ہو ، اور ان کے دل کو وہ ستر صوفی نہ دیکھ سکیں۔ چنانچہ اس بات کے ثبوت میں حضرت میاں صاحب شرقپوری ؒ فرماتے ہیں کہ قاضی تمھارے دل کو میں اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے ہتھیلی ۔ لیکن حضرت قبلہ عالم ؒ کے قلب کی طرف جب خیال کرتا ہوں تو میرے دل کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے کہ میری نظر باطنی وہاں پہنچ ہی نہیں سکتی ‘‘
’’ قاضی فضل حق صاحب چونیوی نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں پشاور میں حاضر ہوا تھا کہ ایک مولوی یا صوفی صاحب حضرتؒ کی خدمت میں حاضر تھے اور انھوں نے توحید کے بارے میں عرض کیا کہ اولیاء اللہ کے اندر جب اللہ تعالیٰ کا نور روشن ہو جاتا ہے ۔ توبندہ بندہ نہیں رہتا بلکہ خدا ہوجاتا ہے ۔ حضرت قبلہ عالم ؒ نے ذرا تھوڑی دیر خاموشی اختیار کر کے ارشاد فرمایا کہ مولوی صاحب ذرا سوچ کر کلام کرو، یہ مقام توحید ہے ۔ آپ اس کی کیفیت نہیں سمجھ سکتے اور آپ نے فرمایا غور کرو کہ جب بندہ بندہ ہے تو خدا کیسے ہوگیا۔ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور جب کسی مکان میں چراغ روشن کر دیا جائے تو روشنی ہوجاتی ہے۔ یہی حالت اولیاء اللہ کی ہوتی ہے۔ آپؒ نے فورا ً فرمایا مولینا جب چراغ بجھا دیا جاتا ہے تو پھر اندھیرا کہاں سے آجاتا ہے ۔ گویا اندھیرا اندر ہی موجود تھا کہیں نکل نہیں جاتا۔ مطلب یہ ہوا کہ بندہ بندہ ہے اور خدا خدا ہے ۔ اگر نورانیت پید اہوجائے تو پھر بھی بندہ بندہ ہی رہتا ہے‘‘
چودہ رمضان المبارک ۱۳۳۱ھ بروز پیر آپؒ کا انتقال ہوا ۔ آپ ؒ کے انتقال پر تمام پشاورکے بازار بند کئے گئے ۔ ہر شخص اشک بار نظر آتا تھا۔ جنازہ پر اتنا بڑا ہجوم تھا کہ بہت مشکل سے کندھا دینے کا موقع ملتا۔ آپ کے دوصاحبزادے تھے۔ ایک کا اسم گرامی سید محمد سعید جان صاحب المعروف آغا جان صاحبؒ اور دوسرے کا نام نامی و اسم گرامی سید تجمل حسین صاحب المعروف آغا گل صاحبؒ۔
آغا سید محمد سعید جان صاحبؒ نہایت ہی خوبصورت ، بارعب اور انتہائی صاحب عقل سلیم تھے۔ نہایت ہی پاکیزہ اور ستھرا لباس زیب تن کرتے ۔ علمی لحاظ سے ایک بلند پایہ محقق عالم تھے ۔ علوم متداولہ کی تکمیل کی ہوئی تھی ۔ حضرت مولانا لطف اللہ صاحب علیگڑھی سے حدیث و ادب پڑھا تھا۔ بے نظیر فقیہ تھے ۔ نہایت متقی اور پرہیز گار پابند صوم و صلوٰۃ تھے۔ شاہانہ زندگی بسر کی ۔ راہ طریقت میں تیز گام ، حقیقت و معرفت کے رموز وحقائق کے عالم اور شعرائے متصوفین کے کلام پر کافی عبور تھا ۔ ۵۶برس کی عمر میں ۷ رمضان المبارک ۱۹۳۵ء کو انتقال کیا۔
جناب آغا سید شریف حسین صاحب صاحب سجادہ ہوئے جو آپ کے بڑے فرزند تھے ۔ آپ کے دوسرے فرزند سید حسن سعید صاحب بی ۔ ایس۔سی ہیں اور وہ جنگلات میں ڈسڑکٹ فارسٹ آفیسر ہیں۔
جناب آقا سید سکندر شاہ صاحبؒ کے دوسرے صاحبزادے آغا سید تجمل حسین صاحب المعروف آغا گل صاحب ؒ بہت بڑے عالم ، فقیہ اور معقولی تھے۔ بڑے بڑے اکابر علماء سے تکمیل علوم کیا۔ مگر آپ کی طبیعت مبارک پر سوز و گداز اورعشق الہٰی کا جذبہ غالب تھا۔ فراغت تعلیم کے بعد آپ کی زندگی کا اکثر حصہ استغراق اور محویت میں گذرا۔ جب آپ پر یہ عالم طاری ہوتا تو آپ دنیا و مافیہا سے بالکل بے فکر ہوجاتے۔ بیوی صاحبہ ، بچوں ، احباب اور مریدین سے قطع تعلق ہوجاتا اور بے خبری کے عالم میں کئی کئی مہینے بلکہ سال تک گذر جاتے۔ آخری مرتبہ ۴۶ء میں جب یہ عالم وارد ہواتو چھ ماہ تک نہ کھانے کی خبر نہ پینے کا عالم ۔ بلکہ آپ ؒ نے نہ چھوٹا پیشاب کیا اور نہ بڑا ۔ اسی عالم میں حضرت نورا المشائخ ملا صاحب شور بازار ؒ آپ کو دیکھنے کے لئے چونیاں (قصور پنجاب)تشریف لے گئے ، مگر آپ نے کوئی بات وغیرہ نہیں کی۔حضرت نور المشائخ صاحبؒ نے آپ کے لئے دعا کی اور واپس ہوئے۔
حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ میں پہلو کے قریب دفن کئے گئے ۔ آپ کے دو صاحبزادے ہیں ایک کا نام سید احمد شاہ صاحب بی ۔اے اور دوسرے کا نام علی جواد صاحب ہے۔
فخر المجاہدین شیخ المشائخ حضرت فضل واحد صاحب المعروف حاجی صاحب ترنگزئیؒ
۱۲۶۸ھ تا ۱۳۵۶ھ
آنجناب کا نام نامی و اسم گرامی فضل واحد، لقب فخر المجاہدین ، شیخ الافاغنہ اور مشہور حاجی ترنگزئی ہے۔ آپ ؒپیر بودلہ کی نسل سے اور خاندان پیران ترنگزئی سے ہیں۔
آپ کی پیدائش اسی گاؤں میں ۱۸۴۸ھ میں ہوئی ۔ ابتدائی دینی تعلیم کے حصول کے بعد علاقہ آزاد قبائل کے مشہور و معروف مجاہد کبیر عالم اجل ، صاحب استقامت و کرامت حضرت نجم الدین صاحب المعروف’’ ہڈہ ملا صاحب‘‘ کی خدمت میں بمقام چمر کنڈ حاضر ہوئے اور مرید ہوئے ۔ کافی عرصہ مرشد عالی مقام کی خدمت میں رہ کر مجاہدات و ریاضات کئے۔ذکر و فکر ، مراقبہ و مشاہدہ میں مصروف رہے۔ نیز اپنے مرشد گرامی مرتبت کی معیت میں انگریزوں کے خلاف جہاد میں بھی مصروف رہے ۔ جناب مجاہد اعظم ’’ ہڈہ ملا صاحب ‘‘ کی وفات کے بعد سلسلہ مبارکہ کے باقی اسباق اپنے پیر و مرشد کے خلیفہ مجاز جناب حضرت صوفی صاحب نوراللہ مرقدہ سے مکمل کر کے صاحب مجاز و معنعن ہوئے۔
صاحب مجاز ہونے کے بعد ارشاد و تبلیغ شروع کر دی ، اور اپنے گاؤں ترنگزئی میں سلسلہ عالیہ قادریہ کا ’’لنگر ‘‘ جاری کر دیا۔ آپ اپنے گاؤں میں بیٹھے نہیں بلکہ اصلاح اعمال اور تہذیب نفوس کے لئے گاؤں گاؤں پھرے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ آ کر داخل بیعت ہوئے اور ذکر الہٰی میں مشغول ہوگئے۔
آپ نے اپنے مشائخ کرام(رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ) کے طریقہ پر چلتے ہوئے ’’امر باالمعروف ‘‘ اور ’’ نہی عن المنکر‘‘ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ غیر اسلامی مراسم اور بدعات کے خلاف عملاً جہاد کیا۔ عقد بیوگان کرواتے ۔ لوگوں کے جھگڑے اور تنازعات شریعت محمدیہ ﷺ کے مطابق فیصلے کرتے ۔ آپ کے یہ مساعی جمیلہ دیکھ کہ علماء کا ایک خاصہ گروہ آپ کے گرد جمع ہوگیا۔ جن کو آپ نے مختلف مرکزی مقامات پر مدارس بنا کر مدرس کر کے مخلوق خدا کی ہدایت کے لئے مامور فرمادیا۔ نیز آپ نے ان تمام علماء اور رفقاء کو ایک منظم صورت دے کہ ذہنی بیداری کی ایک تحریک شروع کر دی ۔ آپ نے ایک تعلیمی بورڈ بنا جو کہ پچاس مدارس اور ایک مرکزی دارالعلوم (جو گدر کے مقام پر تھا) کی مکمل نگرانی کرتا۔ اس مجلس میں چیدہ چیدہ علماء اور انگریزی تعلیم یافتہ حضرات تھے ۔ وہ مجلس ان حضرات پر مشتمل تھی۔
۱۔ تاج الدین صاحب بی ۔ اے ، سکنہ بغدادہ مردان۔
۲۔مولینا مولوی شاکر اللہ صاحب، سکنہ اتمانزئی۔
۳۔ مولینا مولوی قاضی سمیع الحق صاحب کڑوی۔
۴۔ مولینا مولوی قاری عبدالمستعان صاحب، اکبر پورہ۔
۵۔ مولینا مولوی سید زمان شاہ صاحب ساکن لاہور۔ تحصیل صوابی۔
۶۔ مولینا مولوی عبدالعزیز صاحب، اتمان زئی۔
ان میں سے کچھ تو آپ کے ساتھ بعد میں ہجرت کر گئے اور کچھ انگریزں کی جیلوں میں فوت ہوئے ۔ ان مدارس میں نصاب تعلیم عربی، اردو، فارسی ، حساب ، جغرافیہ ، تاریخ ، دینیات ، طبیعات اور انگریزی تھا۔ مذہبی تعلیم لازمی مضمون تھا۔ ۱۹۰۸ء سے لے کر ۱۹۱۳ ء تک یہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ جب آپ نے ۱۹۱۳ ء میں ہجرت کی تو یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔
آپ کی ان سرگرمیوں کو فرنگیوں نے بہت ہی مشکوک نظروں سے دیکھا اور ۱۹۱۰ ء میں آ پ کو بمعہ رفقاء کے گرفتار کر لیا اور پھر آپ کو ضمانت پر رہا کر دیا۔ مگر آپ کے رفقاء کو تین تین سال قید کر دیا۔ اس عرصہ میں آپ کو بڑی بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ، مگر آپ کے پائے استقلال میں ذرہ برابر لغزش پیدا نہ ہوئی۔
۱۹۱۳ء میں سر صاحبزادہ عبدالقیوم صاحب نے صوبہ سرحد میں ایک کالج کھولنے کا انتظام و انصرام کیا۔ چند مقتدر اور معتمد حضرات بمقام حاجی آباد یعنی آپکی خانقاہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ’’ہم صوبہ سرحد میں ایک اسلامی دارالعلوم بنانا چاہتے ہیں اس لئے آپ بنفس نفس اس دارا لعلوم کی سنگ بنیاد رکھیں‘‘ اس وفد میں پشاور شہر کے مشہور و معروف تاجر سیٹھی کریم بخش صاحب مرحوم بھی تھے ۔ جنھوں نے اسلامیہ کالج کا جامع مسجد کا تعمیر کا ذمہ لیا تھا ۔ انھوں نے آپ کو بہت مجبور کے اکہ اس مسجد کا سنگ بنیاد آپ ہی رکھیں گے۔ آپ نے منظور کر لیا۔ تاریخ مقررہ پر آپ بمعہ اپنے رفقاء کے پہنچ گئے ۔ مگر انگریزی تعلیم کے مقابلہ میں دینی تعلیم کے نہ ہونے پر آپ نے سنگ بنیاد رکھنے سے انکار کر دیا ، اور بھرے اجتماع سے بمعہ متعلقین کے اٹھ کر چلے گئے ۔ اسی روز آپ کافور ڈھیری سے براستہ متھرا ، میاں گجر، بانڈہ ملا حان تشریف لے گئے۔ رات وہاں قیام کیا او رصبح کو براستہ نستہ ، ترنگزئی پہنچے ، آپ اس وقت سفید گھوڑی پر سوار تھے ۔ اب ارباب حکومت نے آپ کے خلاف ایک انتقامی صورت اختیار کر لی ، اور آپ کی تبلیغ ، اصلاح اور ارشاد پر کڑی نگرانی رکھ کر آپ کو بہت زیادہ پریشان کیا گیا یہاں تک کہ پھر آپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے ۔ آپ کو جب اس بات کا علم ہوا ۔ تو آپ بمعہ اپنے تینوں فرزندوں اور بعض رفقاء کے اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر کے علاقہ آزاد کے مہمند قبائل کی بے آب و گیاہ پہاڑیوں کی طرف کوچ کر گئے ۔ انگریزوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے اس مرد مومن کی مسجد کی دیواروں کو مسمار کردیا۔ اس پیکر صداقت و استقامت کی زمین کوڑیوں کے مول نیلام کر دی گئی ۔ آپ کا تعاقب کیا گیا مگر اللہ تعالیٰ کی امداد سے آپ برطانیہ کی عملداری سے بخریت نکل گئے۔
حضرت حاجی صاحبؒ نے علاقہ آزاد مہمند میں اپنا مرکز قائم کر کے سلسلہ رشد و ہدایت شروع کر دیا۔ لنگر بھی جاری کیا ۔ جس طرح ترنگزئی میں اژدھام تھا اب اس سے بڑھ چڑھ کر لوگوں کی آمدو رفت شروع ہوگئی ۔ آپ ارشاد و تبلیغ کے لئے بنیر، باجوڑ اور دیگر قبائل میں بھی تشریف لے جاتے ۔ انگریزوں کے لئے آپ کا ان پہاڑوں میں نکل جانا بہت بڑے خطرے کا باعث سمجھا جانے لگا۔ اور فرنگی کا طریقہ ہے کہ ایک چیز کا سرا دوسری چیز سے ملاتا رہتا ہے ۔ انھوں نے اپنے سازشی دماغ سے حاجی صاحب کو بھی ایک چالباز سیاسی آدمی سمجھ رکھا تھا۔(استغفر اللہ ) اور وہ آپ کو ہندوستانی ہندوؤں کا ایجنٹ سمجھ کر آپ کوپریشان کرتے تھے۔ حالانکہ آپ غریب ، نادار ، مفلس ، مفلوک الحال ، اور دین اسلام سے غافل مسلمان کی اصلاح کر کے اس کو اپنے پاؤں پر خود کھڑا کرنے چاہتے تھے۔ اور مصلح اور لیڈر ان کے نقش قدم پر چلنا اپنے لئے عزت اور فخر سمجھتے تھے۔ آپ کا اپنا طریق تبلیغ تھا، اپنا سلسلہ طریقت تھا اپنا طریق جہاد تھا ۔ اور انسانیت دوستی کا اپنا طریق درس تھا۔ آپ اپنے مشائخ حضرت امام المجاہدین اخون صاحب سوات، حضرت مجاہد اعظم ہڈہ ملا صاحب وغیرہ وغیرہ کے طریق ہدایت کے پیرو تھے۔ ان کا اپنا معرفت الہٰی کے حصول کا نبوی طریقہ تھا۔ ان کے اپنے وطن کا اپنا ماحول تھا جس کو سمجھ کر وہ خود اپنے مسائل کو حل کرتے تھے۔ کسی ہندوستانی کے پیرو یا مقلد نہیں تھے۔ بلکہ افغان قوم کو اسلام کی برادری کی بنا متحد و متفق کرنا آپ کا کام تھا۔ اسی لئے آپ ’’ شیخ الافاغنہ‘‘ کہلائے۔
آپ نے ہجرت کے بعد تمام آزاد قبائل میں سلسلہ عالیہ قادریہ کا فیض عام کیا۔ بڑے بڑے علماء ملک خوانیں اور امرأ آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوئے۔آپ کے اس اثر و نفوذ سے انگریزوں کی خارجہ پالیسی( جو آزاد قبائل کے بارے میں تھی )کو مستقل خطرہ لا حق ہوگیا، آپ کے بنیر کے قیام میں انگریزوں نے بھاری فوج کے ساتھ بنیر پر حملہ کردیا۔ حضرت شیخ الافاغنہ ؒ بمعہ مریدین مخلصین اور معتقدین کے بمقام ’’سرکاوی‘‘ انگریزی فوج کے مقابل ہوئے ۔ مسلمانوں کے اس لشکر کا سپہ سالار حضرت حاجی صاحبؒ کا بڑا صاحبزادہ جناب فضل اکبر المعروف بادشاہ گل صاحب مدظلہ العالی تھے۔ اس لڑائی میں پشاور شہر کے مشہور سیاسی کارکن اور مجاہد حکیم محمد اسلم سنجری ، اکبرپورہ کے مشہور قاری محمد ادریس صاحب مرحوم ، مٹیارہ کے قاضی شیر رحمان اور سید توران شاہ وغیرہ وغیرہ کافی اصحاب شریک تھے۔ اس لڑائی میں اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو فتح اور نصرت عطافرمائی اور انگریزوں کو شکست فاش نصیب ہوئی ۔ اس شکست کے بعد انگریزوں نے دولت کے خزانے کھول دئیے۔ علاقہ بنیر کے خوانین اور ملکوں نے چھ ماہ تک آپ کا ساتھ دیا ، مگر پھر دولت کے لالچ نے ان کو اندھا کر دیا اور انھوں نے آپ کا ساتھ نہ دیا۔ آپ نبیر سے نکل کر سوات تشریف لائے ۔ سوات کے لوگوں نے آپ کو آؤ بھگت بہت کی ۔ مگر جہاد کی فضاساز گار نہ دیکھ کر آپ ریاست دیر تشریف لے گئے ۔ نواب دیر نے انتہائی گرم جوشی کے ساتھ آپ ؒ کا استقبال کر کے نہایت ہی مایوسانہ جواب دیا۔ آپ نواب کے ہاں نہ ٹھیرے اور قافلہ آزاد قبائل مہمند کی سینکڑوں میل با پیادہ سفر طے کرتے ہوئے مجاہد آباد چمر کنڈ میں آکر رکا ۔ آپ نے مجاہد آباد میں بیٹھ کر قبایل کی طرف وفود بھیجے اور جہاد کے لئے ایک منظم تحریک چلانے کے وسائل پر غور کیا۔ آپ نے حضرت مجاہد کبیر نجم الدین صاحب المعروف ہڈہ ملا صاحب کے بزرگ اور مقدس خلفاء کو دعوت نامے لکھے ان مجاہدین کے اسماء یہ ہیں:-
ملا صاحب چکنور، ملا صاحب تگاؤ، ملا صاحب ماکڑہ ، ملا صاحب سرکائی ، بادشاہ صاحب اسلام پورہ اور استاد صاحب ہڈہ شریف ، ان تمام حضرات نے آپ کی دعوت کو قبول کیا۔ سردار ان قبائل مہمند ، موسیٰ خیل ، صافی ، کوڈا خیل ، قندھاری ، حلیم زئی اور ترک زئی بھی آپ کی دعوت پر مجاہد آباد پہنچ گئے ۔ ان تمام مشائخ اور سرداروں نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ مہمندوں میں مستقل سکونت اختیار کریں ۔ حاجی صاحب نے فرمایا کہ ’’ میر ا نصب العین جہاد فی سبیل اللہ ہے اور مخالفت برطانیہ ، انگریزوں نے علاقہ بنیر میں میری تحریک کو ناکام بنانے کے لئے دولت کے ڈھیر لگا دئیے اور لوگوں نے دولت کے لالچ میں آکر مجھے اور میرے رفقاء کو تکلیف پہنچائی ۔ مجبوراً مجھے بینر ، سوات اور دیر کو چھوڑنا پڑا، اگر آپ لوگ دولت کی لالچ میں آکر میدان جہادسے فرار اختیار کر لیں تو اسی صورت میں یہی بہتر ہو گا کہ آپ مجھے اسی جگہ یعنی مجاہد آباد میں آرام سے رہنے دیں اور واپس چلے جائیں‘‘۔
تمام قبائل کے سرداروں نے آپ ؒ کو یقین دلایا اور ایک تحریری معاہدہ پر تمام علماء مشائخ اور سرداران قبائل نے دستخط کر دئیے ۔ اسی وعدہ کے مطابق حضرت حاجی صاحب ؒ اس جگہ پر جہاں آپکی آخری آرام گاہ ہے یعنی ’’ غازی آباد ‘‘ میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ اس جگہ آپ کو بہت تکالیف و مصائب کا سامنا کر نا پڑتا تھا۔ مگر ایک تکلیف بہت ہی پریشان کن تھی اور وہ یہ کہ اس مقام پر پانی نہیں تھا صرف ایک معمولی سا چشمہ تھا جس کے گرد جناب گڈ ملا صاحب نے ایک چھوٹا سا تالاب بنا رکھا تھا اس میں پانی جمع ہوتا تھا تو کل بارہ آدمی اس سے وضو بناتے تھے۔ آپ کا یہ قافلہ ایک سو تیس افراد پر مشتمل تھا اور پانی مشکیزوں میں بہت دور سے لایا جاتا جو کہ ایک جانکاہ مسئلہ تھا۔
جناب حضرت حاجی صاحب ؒ ایک دن صبح کی نماز کے بعد ان ساتھیوں کو ساتھ لے کر چشمہ آب پر تشریف لائے ۔ آپ نے دعا فرمائی اور اپنے دست مبارک کو اس چشمہ کے منہ پر رکھ کر یہ دعا پڑھی
یا مفتح الابواب افتح لنا ابواب الخیر والرحمۃ
آپؒ نے جب دست مبارک اٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے اس چشمہ کے سوتے کھول دئیے ۔ وہ چشمہ جس سے تمام دن میں پانی جمع کرنے کے بعد صرف بارہ آدمی وضوکر تے تھے۔ اب اسی چشمہ سے آپؒ کی کرامت سے چار پن چکیاں چل رہی ہیں اور اس کے گرد ونواح کی زمین تقریباً چار میل تک اس چشمہ سے سیراب ہو رہی ہے۔ ذالک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء
آپؒ نے تبلیغ شروع کر دی ، وہی ’’ امر المعروف ‘‘ اور ’’ نہی عن المنکر ‘‘ ہو رہا ہے۔ وہ پہاڑ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے گونج رہے ہیں ، مجاہدات و ریاضت ہو رہی ہے۔ ہر طرف سے یاد الہٰی کی مقناطیسی قوت لوگوں کو کشاں کشاں کھینچ رہی ہے۔ انگریز اسی طرح اپنی سازشوں اور چالوں سے باز نہیں آتا۔ اگر رحمانی طاقت انسان کی اصلاح و فلاح کے لئے جدوجہد میں مصروف ہے تو دوسری طرف شیطانی طاقت تباہی و بربادی پر کمر بستہ ہے ۔ یہ دستور جہاں ہے۔
موسیٰ و فرعون ، شبیر و یزید
9ایں دو قوت از حیات آید پدید
üانگریزوں نے قبائل میں تشتت و افتراق پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہی قبائل میں سے ایک قبیلہ کو آپ کے خلاف بھڑکایا ۔ آپ یہ تمام سازش جانتے تھے ۔ آپ نے جہاد کی تیاری شروع کر دی ۔ آپ نے براستہ ’’ حافظ کور‘‘ قلعہ شب قدر پر (جہاں انگریز اس قبیلہ کے ساتھ مل کر ان مجاہدین کے خلاف منصوبے بنار ہے تھے) حملہ کر دیا ۔ حلیم زئی قبیلہ کے چند افراد آپ کے مقابلہ پر آئے، آپ نے اعلان عام کر دیا۔
’’ چونکہ ہم جہاد کر رہے ہیں اس لئے جو مسلمان قبیلہ بھی انگریزوں کے ساتھ مل کر ہمارے مقابلہ میں آئے گا وہ مسلمانوں کا اور اسلام کا دشمن متصور ہوگا اس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو کافروں کے ساتھ ہوگا‘‘
جب اس قبیلہ کے ان افراد نے یہ اعلان سنا تو وہ فوراً انگریزوں کا ساتھ چھوڑ کر میدان سے لوٹ آئے ۔ حضرت حاجی صاحب ؒ کو اللہ تعالیٰ نے لڑائی میں فتح و ظفر عطا فرمایا۔دشمن ہزیمت اٹھا کر واپس ہوا۔ یہ لڑائی ۱۹۱۶ء میں ہوئی ۔ اس ہزیمت کا اثر حکومت سرحد پر بہت برا پڑا ،حکومت کے حواس باختہ ہوگئے۔ اگر اس وقت صوبہ سرحد میں غریب عوام کا کوئی بہی خواہ لیڈر ہوتا تو ایک مکمل انقلاب برپا ہوسکتا تھا۔ جس کی وجہ سے صوبہ سرحد سے انگریزی حکومت کا جنازہ نکل جاتا۔
جب انگریزوں کی اور افغانستان کی تیسری جنگ شروع ہوئی تو یہ مجاہد فی سبیل اللہ اللہ پر توکل کر کے افغانستان کی حمایت میں میدان میں نکل آیااور حکومت برطانیہ کے علاقہ میں بمقام ’’گنبد‘‘ داخل ہوگیا۔ مگر انگریزوں نے جن قبائل کو اپنی مدد کے لئے حاصل کیا تھا وہ آڑے آئے۔ اور آپ کو ان قبائل کی وجہ سے خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی اور آپ واپس لوٹ آئے۔
۱۹۲۶ء میں حکومت برطانیہ نے ان تمام خطرات پر قابو پانے کے لئے جو اس کو شمال مغرب کی طرف سے ہوسکتے تھے، مہمندوں کے علاقہ میں سٹرکیں تعمیر کرنے شروع کر دیں۔ ادھر یورپ میں جنگ چھڑی ہوئی تھی، آپ نے تمام قبائل کو جمع کیا اور ان سٹرکوں کی تعمیر کا پس منظر بتایا اور سمجھایا ۔ قبائل بھی یہ برداشت نہ کرتے تھے کہ ان پر انگریزوں کا کوئی سیاسی اور اقتصادی اقتدار ہو۔ ان تمام قبائل نے آپ کے ساتھ مل کر جہاد کا عہد و پیمان باندھا ، اور فیصلہ کیا کہ اس سے پہلے کہ انگریزوں پر حملہ کیا جائے ان قبائلیوں کے خلاف قدم اٹھایا جائے جنھوں نے انگریزوں کی حمایت میں دولت ایمان کو فروخت کر رکھا ہے۔ چنانچہ ۱۹۲۷ء میں ان قبائل پر ہلہ بول دیا۔ وہ قبائل مقابلہ کی تاب نہ لا کر انگریزوں کے پاس پناہ گزین ہوگئے۔ انگریزوں نے وفادار قبائل کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس قبائلی چھڑپوں پر تقریباً چار برس مسلسل گذر گئے، ادھر صوبہ سرحد کے اندر تحریک آزادی پورے عروج پرتھی۔ ۱۹۳۰ء کی سیاسی زندگی ایک خون سے بھری ہوئی داستان ہے جس پر صوبہ سرحد کا چپہ چپہ گواہ ہے ، غریب عوام پر جبر ، استبداد ، قید وبند ، ظلم وجورکا ایک الم ناک دور تھا جو گذر رہا تھا ۔ اور علاقہ آزاد پر غاصبانہ قبضہ سڑکور کی تعمیر کے بہانے پر ، یہ تمام واقعات حضرت حاجی صاحبؒ کی مومنانہ فراست کی نظر سے پوشیدہ نہیں تھے۔ علی الاعلان انگریزوں کا ان قبائل کی حمایت پر آجانا حضرت شیخ الافاغنہ نے اعلان جنگ تصور کر کے اس کو قبول کر لیا۔ ۱۹۳۲ء میں آپ نے ایک لشکر جرار تیار کیا ، اور اس مجاہدین کے لشکر کی قیادت حضرت بادشاہ گل صاحب مدظلہ کو سونپی گئی ۔ ایک طرف جہاز ، توپیں ، مشین گنیں ، اور مسلح افواج۔دوسری طرف پھٹے پرانے کپڑے ، ناکافی اسلحہ اور کھانے کے لئے ستو۔ مگر ہاں ان تمام طاقتوں پر غالب طاقت جس کا نام اللہ تعالیٰ کی مدد ہے ۔ وہ ان روزہ دار، ذکر الہٰی کرنے والوں کے ساتھ تھی ۔ اس شرح پر معاہدہ ہو گیا کہ حکومت برطانیہ کوئی ایساکام نہ کرے گی جس سے یہ شک پیدا ہو کہ برطانیہ اس علاقہ پر اپنا کسی قسم کا اقتدار پیدا کرنا چاہتی ہے، اور حاجی صاحب ؒ کے پیرو حکومت انگلیشیہ کے حمایتیوں سے تعرض نہ کریں گے۔ مگرانگریزوں نے اپنا وعدہ پورانہ کیا اور حلیم زئی قبیلہ کے زیر نگرانی ۱۹۳۳ء میں پھر سٹرک کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا۔ حضرت حاجی صاحبؒ نے حضرت بادشاہ گل صاحب کے زیر قیادت پندرہ سو مجاہدین کا لشکر بھیجا ۔ حلیم زئی کے گھروں کو نذر آتش کیا اور موسیٰ خیل کی طرف سے جو سڑکیں بنائی جارہی تھیں، انھیں عملاً بے کار کر دیا ۔ انگریزوں نے فوراً توپ خانہ اور مسلح دستے روانہ کر دئیے ۔ خوب گھمسان کر لڑائی ہوئی ۔ مجاہدین نے شجاعت و ہمت کا ثبوت دیا اور حضرت بادشاہ گل صاحب نے شجاعت ودلیری کے وہ کارہائے نمایا ں کئے کہ انگریزصلح پر مجبور ہوگئے۔چنانچہ اس شرط پر صلح ہوگئی کہ ’’ سڑک تعمیر نہیں ہوگی‘‘۔ مگر حکومت برطانیہ نے حسب سابق اپنی طاقت و قوت پر اتراتے ہوئے صلح کی اس شرط کو پورا نہ کیا اورتعمیر سڑک کا منصوبہ پھر تیار کیا۔ چنانچہ مرکزی اسمبلی کے ۱۹۳۵ء کے بجٹ میں یہ منصوبہ رکھ دیا گیا۔ ڈاکٹر خان صاحب مرحوم نے انتہائی شدت کے ساتھ اس سکیم کی مخالفت کی ، اور کافی اکثریت کے ساتھ یہ سکیم نامنظور ہوئی۔ مگر وائسرائے نے اپنی خصوصی اختیارت کے ساتھ اس سکیم کو منظور کر کیا ۔ جب اس اللہ کے مقبول عبد نے انگریزوں کی وعدہ خلافی کا یہ عالم دیکھا تو اعلان کر دیا کہ برطانیہ کو اپنے کسی بھی عہد و پیماں کا پاس نہیں۔ اس لئے آزادی کی جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ۔ تمام قبائل جو کہ بہت ہی غریب ، نادار اور مفلوک الحال تھے مگر اپنی آزادی کوبرقرار رکھنے پر اپنی کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ حضرت حاجی صاحبؒ آواز پر لبیک کہہ کر میدان میں آ گئے۔ حضرت بادشاہ گل صاحب کو پھر سپہ سالار بنا دیا گیا ۔ آپ لشکر لے کر دریائے سوات کو عبور کر آگرہ تک پہنچ گئے۔ انگریز اپنے منصوبہ یعنی ’ ’ کھڑپہ‘‘ کی سڑک کی تعمیر کرنے میں کامیاب نہ ہوئے ۔ اس مجاہدین کے لشکر نے انگریزوں کے تمام ارادوں پر پانی پھیر دیا۔
آج کھڑپہ کی سڑک شہدائے اسلام کی شہادت پر گواہی دی رہی ہے اور انگریزوں کی وعدہ خلافی ہوس ملک گیری اور مفلوک الحال ، نادار ، غریب لوگوں پر بے پناہ ظلم کی یاد تازہ کرواتی ہے۔
جب بھی کوئی سیاح اس سٹرک پر سے گذرے گا تو شہدا کی ہمت و استقامت ، استقلال و صبر کو سنہری حروف سے لکھے گا۔ اور انگریزوں کی سازشوں ، چالبازیوں اور ریشہ دوانیوں پر نفرین و ملامت کر یگا۔
آخرکار یہ افلاک کی وسعتوں میں مسلسل تکبریں بلند کر نے والا مجاہد اعظم ، غوث وقت ، شیخ المشائخ ، شیخ الافاغنہ ۱۰ شوال ۱۳۵۶ھ بمطابق ۱۴ دسمبر ۱۹۳۷ء بروز منگل ظہر اور عصر کے درمیان بمقام غازی آباد واصل بحق ہوئے۔
خواجہ عبدالرحمن صاحب نقشبندی ؒ بہادر کلی پشاور
۱۲۷۰ھ تا ۱۳۴۰ھ
آپ کا اسم شریف عبدالرحمن ، والد کا اسم گرامی فیض محمد صاحب اور ’’ بحر ذخار ‘‘ کے خطاب سے ملقب تھے۔
آپ کے والد کابل (افغانستان ) سے پشاور تشریف لائے ، اور پشاور کے محلہ گل بادشاہ جی علاقہ جہانگیر پورہ میں قیام کیا۔ آپ حضرت شیخ الاسلام و المسلمین جناب پیرباباصاحبؒ بنیری کی اولاد سے ہیں۔
آپ ؒ کی ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم کے زیر سایہ ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد پشاور شہر کے مشہور و معروف محدث جلیل حضرت مولانا مولوی محمد ایوب صاحب حنفی ؒ کے حلقہ تلامذہ میں شامل ہوگئے ۔ علوم متداولہ سے فراغت حاصل کر حضرت علام سے سند حدیث حاصل کی۔
یہاں سے تعلیم کے حصول کے بعد آپ نے ہندوستان کا سفر اختیار کیا۔ لاہور، سہارنپور ، دہلی ، کانپور ہوتے ہوئے کلکتہ پہنچے ۔ کلکتہ میں مدرسہ عالیہ میں حضرت مولانا مولوی لطائف گل صاحب (جو کہ مدرس تھے) کے درس میں شامل ہوگئے۔ دوبرس کے بعد مدرسہ عالیہ کلکتہ ہی میں تدریس کے فرائض انجام دینے پر مامور ہوئے اور چار برس تک علوم متداولہ کی کتابیں پڑھاتے رہے ۔ آپ کے علم کا شہر ہ تمام بنگال میں پھیل گیا ۔ یہاں تک کہ علماء نے آپ کو ’’ بحر ذخار‘‘ سے مخاطب کیا۔
چونکہ آبائی طور پر زہد و تقویٰ ، ریاضت و مجاہدہ آپ کو ورثہ میں ملا تھا اس لئے آپ کی طبیعت تصوف کو باقاعدہ طور پر حاصل کر نے کا رجحان پیداہوا۔ آپ کلکتہ سے پشاور تشریف لائے اور والدہ ýÿÿÿشاہ تمھیں ملے گا وہ تمھارا پیر طریقت ہے ، اس کے ہاتھ پر بیعت کرلو‘‘۔ آپ پشاور مسجد شیخاں پہنچے ۔ تو حضرت سید اصغر شاہ صاحبؒ مسجد میں تشریف فرما تھے ۔ آپ کو دیکھتے ہی فرمایا ’’ بیٹا آؤ، پیر بابا صاحبؒ نے بھیجا ہے اور مجھے پیر بابا صاحب ؒ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کو بیعت کرلو‘‘۔ چنانچہ آپ اسی وقت سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوگئے۔ آپ کے پیرو مرشد موضع دیہ بہادر میں ایک برس تک آپ کے پاس رہے ۔ ظاہری علم سے بہت کم واقف تھے۔ اسی لئے مثنوی مولانا روم آپ سے پڑھی اور آپ ان کے فیوضات و برکات سے مستفید ہوتے رہے۔
آپ کچھ عرصہ کے بعد موسیٰ زئی تشریف لے گئے تاکہ اپنے شیخ کے مرشد کی خدمت میں بھی حاضر ہو کر روحانی تربیت حاصل کریں ۔ جب آپ موسیٰ زئی پہنچے تو معلوم ہوا کہ جناب خواجہ محمد عثمان صاحب ؒ حج کے ارادہ سے روانہ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ آپ نے بھی وہاں سے حج کا ارادہ کیا اور عازم کراچی ہوئے ۔ آپ کی ملاقات جناب خواجہ محمد عثمان صاحبؒ سے جہاز میں ہوگئی ۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ کے دادا پیر نے تجدید بیعت کر کے طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں خرقہ خلافت عطا فرما کر صاحب مجاز و معنعن فرمایا ۔ واپسی پر اپنے ننہال کے گاؤں موضع ’’ بہادر کلی‘‘ میں اقامت کر کے سلسلہ رشد وہدایت شروع کی اور خانقاہ قائم کردی۔
ہزاروں لوگ آ آ کر سلسلہ نقشبندیہ میں آپ کے دست حق پرست پر بیعت کرنے لگے اور ذکر الہٰی ، تلاوت قرآن ، اوراد و وظائف میں مشغول ہوگئے۔ آپ نے صوبہ سرحد اور صوبہ سرحد کی ریاستوں میں سلسلہ نقشبندیہ کی خوب اشاعت کی اور قرآن و سنت کی اتباع کی دعوت دی ، دور دراز کے سفر کئے ۔ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا جذبہ پیدا کیا۔
۱۹۲۳ء میں نواب شجاع الملک ، نواب چترال پشاور آئے ۔ آپؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت ہی متاثر ہوا۔ اور بقول مصنف ’’ نئی تاریخ چترال (اردو) ‘‘ ’’اعلیٰحضرت مرحوم سر شجاع الملک کو آپ کے والد (یعنی خواجہ عبدالرحمن صاحب) حضرت مغفور سے ۱۹۲۳ء میں پشاور کے سفرکے موقع پر ملاقات کے دوران میں روحانی اخلاص ومحبت کا واسطہ پیدا ہوا تھا۔ جس کی تکمیل کے لئے اعلیٰحضرت مرحوم نے ان کی خدمت میں ایک خط لکھا کہ پشاور میں آپ کا نیاز خاطر خواہ میسر نہ ہوا تھا۔ اس کمی کو کسی دوسرے موقع پر پورا کرنے کی خواہش رکھتا ہوں‘‘۔ چنانچہ نواب صاحب آپ ؒ کے مرید ہوئے ۔ مصنف نئی تاریخ چترال لکھتے ہیں۔’’ستمبر ۱۹۳۲ء میں حقائق و معارف آگاہ الحاج حضرت محمد عبدالرحمن صاحب نقشبند ، یہ خانقاہ بہادر کلی پشاور بادشاہ کی بار بار دعوت پر اپنے مرشد زادہ حافظ محمد ابراہیم صاحب خانقاہ موسیٰ زئی اور متعدد ہمراہیوں کے چترال تشریف لائے ۔ چونکہ اعلیٰحضرت علماء مشائخ کے بے حد قدردان اور اخلاص و عقیدت کے رازدان ہیں، دونوں مشائخ کا مناسب احترام کیا اور ان کے تعارف و تالیف سے نہایت محظوظ ہوئے ‘‘۔
لارڈ برٹن سرٹی جلال الدین ایک انگریز تھا اور وہ مسلمان ہوا تھا۔ اس کی ملاقات بھی آپ سے اکتوبر ۱۹۳۲ء میں چترال میں ہوئی ۔وہ بھی اس ملاقات میں آپ سے اس درجہ متاثر ہوا کہ فوراً آپ سے بیعت کر لی۔ مصنف نئی تاریخ چترال رقمطراز ہیں ۔ مشائخ کرام میں سلسلہ نقشبندیہ سے حضرت عبدالرحمن صاحب بہادر کلی پشاور ان دونوں چترال میں موجود تھے۔ محترم نومسلم لارڈ جلال الدین ان کی قیام گاہ میں تشریف لے گئے ، ملاقات کے لئے بھی ہاتھ آگے بڑھایا اور ان سے بیعت بھی کی ۔ غرضیکہ اگر آپ کے دست مبارک پر عام لوگ بیعت ہو کر نیک بنے تو علماء و امرأ اور صاحبان فہم و فراست بھی آپ کے اہتھ پر بیعت کر کے اصلاح و ارشاد کے حامل ہوئے۔ تقریباً دو ماہ چترال میں قیام کر کے واپس پشاور تشریف لائے اور دوبارہ حج کوگئے ۔ پھر تیسری بار ۱۹۳۵ء آپ حج کو تشریف لے گئے ، اور اس بار پشاور شہر سے (آپ نے بہ نیت حج ) احرام باندھا۔
آپ نہایت ہی کریم النفس ، منکسر المزاج ، متواضع ، ملنسار ، شریف النفس ، صابر، اور بردبار تھے، ایک بار آپ نے اپنے مریدین کو فرمایا کہ لوگ مجھے کافر بھی کہیں تو تم میری طرف سے جواب نہ دو۔ آپ علم لدنی سے نوازے ہوئے تھے اور جس وقت بھی کوئی مسئلہ آپ کے سامنے پیش کرتا تو آپ بلاتوقف اس کو حل فرماتے ۔ آپ سہارنپور تشریف لے گئے تو علماء کرام کی ایک مجلس میں آپ نے ببانگ دھل فرمایا کہ’’ ایک علماء کرام اگر آپ کو کسی مسئلہ میں کوئی علمی اشکال ہوں تو اس وقت بیان کریں یہ فقیر انشاء اللہ اس مسئلہ کو حل کر دے گا‘‘۔ مولینا مولوی محمد شریف صاحب محدث فرماتے ہیں کہ یہی وجہ تھی کہ علماء نے آپ کو ’’ بحر ذخار ‘‘ کا خطاب دیا تھا۔
آپ کے زہد و تقویٰ ، نجابت و شرافت کی وجہ سے پشاور شہر کے علماء صلحاء اور عوام آپ کی بہت ہی عزت و توقیر کرتے۔ آپ جس وقت بھی سفید گھوڑی پر سوار چادر سر پر ڈالے پشاور کے بازاروں سے گذرتے تو لوگ ادباً احتراماً اپنی دکانوں پر کھڑے ہو کر آپ کو استقبال کرتے اور انتہائی شفقت و محبت کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے مسجد مہابت خان نماز کے لئے چلے جاتے۔
آپ کا وصال ۵ ذی الحج ۱۳۴۰ھ بروز جمعرات عشاء کی نماز کے بعد ہوا اور یہ آفتاب سلسلہ نقشبندیہ جمعہ کے دن سپرد خاک کر دئیے گئے۔
آپ نے اپنے بعد کافی خلفاء چھوڑے جو اب تک اصلاح ، رشد وہدایت میں مصروف ہیں۔ ان میں سے بعض کے اسما یہ ہیں:-
مولینا مولوی عبدالمنان صاحب پلوسی، مولینا مولوی سعید الرحمن صاحب مرحوم ساکن محلہ مروی ہا پشاور، مولینا مولوی حافظ غلام محمد صاحب مرحوم پنڈ سلطانی ۔ مولینا مولوی صوفی محمد یعقوب صاحب مدرس ڈھاکہ۔ مولینا مولوی پائندہ گل صاحب (سوات میں زندہ ہیں) مولینا مولوی رحمان الدین (پڑانگ چارسدہ میں زندہ ہیں) سید زرغن شاہ صاحب (گلگت میں تھے) مشہور و معروف حاجی عمران صاحب جو تقریباً تمام عمر ہر سال حج پر جاتے تھے آپ کے ہی مرید تھے۔
آپ کے پانچ صاحبزادے تھے۔ اپنے دوسرے صاحبزادہ جناب حضرت مولینا مولوی محمد عزیز الرحمن صاحب کو مرید کر کے خلافت سے نوازا اور خلافت نامہ تحریر کرکے بھی دیا۔ آپ کے سلسلہ کی اشاعت میں آپ بہت ہی جانفشانی کے ساتھ کوشش کرتے ہیں۔ آپ نے جب علوم متداولہ کی تکمیل مکمل کر لی تو پھر آپ کو سند خلافت مل گئی۔
صاحبزادہ محمد عزیز الرحمن صاحب والد کی وفات کے بعد پشاور سے کراچی چلے گئے۔ وہاں سے پلوسی سون سکیسر ہوتے ہوئے چترال میں مقیم ہوگئے ۔ صاحب نئی تاریخ چترال (اردو) لکھتے ہیں۔
’’موصوف زبدۃ العارفین الحاج محمد عبدالرحمن صاحب مرحوم سجادہ نشین خانقاہ بہادر کلی کے صاحبزادہ ہیں اور ان کا اسم گرامی محمد عزیز الرحمن صاحب ہے ۔ دوتین سال سے چترال میں بمعہ خاندان قیام پذیر ہیں۔ انھوں نے اپنے والد بزرگوار سے مسند ارشاد سنبھالا ، ان کے خلیفہ و مجاز مطلق جانشین ہیں، کتب تصوف و سلوک کے باوصف متعدد علوم ظاہری کی تکمیل کی اور سر کردہ فضلاء سے ہیں اور اپنے والد بزرگوار کے فیوضات و توجہات عالیہ سے ہر مقام پر مستفید ہیں‘‘۔
باوجود اس کے کہ آپ کے تعلقات بہت ہی وسیع ہیں ۔ علماء امرأ اور حکام ریاست سب کے سب آپ کے معتقد اور مخلصین تھے ، حتیٰ کہ والی ریاست بھی آپ کا انتہائی متعقد اور آپ کی ارادت میں منسلک تھا۔ مگر آپ نے کبھی بھی ان سے کوئی طمع یا لالچ نہیں رکھا ، اور نہ ہی کوئی وظیفہ لیا۔ صاحب نئی تاریخ چترال لکھتے ہیں ’’ آپ کے نفقہ کا کوئی انتظام ریاست سے جاری نہیں، لیکن پھر بھی آپ کسی کے محتاج نہیں۔ نفقہ الغیب سے روزی کا سامان موجود ہے‘‘۔
آپ کے یہی توکل اور استغنا ہے۔ جس سے متعقدمین صوفیاء کرام کے اخلاف ہویدہ ہیں۔ تمام علماء اور فضلاء آپ کے اخلاق حمیدہ اور علمی کمالات و فضائل کے معترف ہیں۔ صاحب تاریخ چترال لکھتے ہیں ۔’’ چترال کے علماء جب آپ سے ملتے ہیں تو علمی فضائل کے مباحث سے اعتراف کرتے ہیں کہ آپ کے علمی کمالات بلند و سیع ہیں اور آپ کے سلسلہ کلام نہایت موثر و جاذب قلوب ہوتا ہے ‘‘۔
آپ نے ایک تاریخ بھی لکھی ہے جو قلمی ہے اور شاہی کتب خانہ چترال میں موجود ہیں ۔ لفٹینٹ مرزا غلام مرتضیٰ رقمطراز ہیں ’’ حضرت صاحب کا ایک بینظیر مجموعہ روز گار تحفہ کتاب تاریخ باسم حبیب السیر شاہی کتب خانہ میں موجود ہیں جو نہایت خوش خط زر افشان قلمی نسخہ ہے‘‘۔
حضرت حاجی عبدالرحیم صاحب نقشبندی ؒ ساکن کوٹلہ محسن خان پشاور
۱۲۷۴ھ تا ۱۳۶۹ھ
آپ کے اسم گرامی عبدالرحیم ، والد کا نام حاجی گل نواز، موضع کوٹلہ محسن خان کے رہنے والے تھے۔ آپ کی پیدائش ۱۲۷۴ء بتائی جاتی ہے۔
دینی تعلیم سے فراغت حاصل کرکے حج کرنے بیت اللہ شریف لے گئے ۔ ابتداء ہی سے زاہدانہ زندگی اپنائے ہوئے تھے۔ نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھے رہتے ۔ بزرگان کرام کی مزارات پر بھی حاضر ہوئے اور استفادہ کیا۔ صحیح العقیدہ اہل سنت و جماعت تھے اور اسی مسلک کی تبلیغ و اشاعت فرماتے ۔ بزرگان کرام کی توہین کر نے والوں کی صحبت سے منع فرماتے ، اور کہتے کہ ان کے دل پر ایک ایسا داغ پیداہو جاتا ہے۔ جو ان کے تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے ۔ یہی آپ کی نیک سیرتی تھی۔ جو آپ کو نہایت ہی عقیدت ، محبت ، اورادب و احترام کے ساتھ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں لے گئی ۔ حضور سید دو عالم ﷺ کی بارگا ہ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ ’’ یا رسول اللہ ﷺ اس فقیر کو پیر کی تلاش اور ضرروت ہے آپ ہادی الضلین ہیں رہنمائی فرمائیے‘‘۔ بارگاہ مقدس و معطر و معلی سے ارشاد ہوا کہ ’’ سرہند شریف جاؤ تمھیں وہاں پیر مل جائے گا‘‘ چنانچہ آپ مدینہ منورہ سے سید ھے سرہند شریف پہنچے حضرت امام ربانی محبوب سبحانی کاشف علوم حروف مقطعات قرآنی مجدد الف ثانی احمد سر ہندی ؒ نے آپ کو فرمایا ،کہ ’’جاؤ تمھیں اسٹیشن پر پیر مل جائیگا‘‘۔ جناب حاجی صاحبؒ جب اسٹیشن پر پہنچے تو آپ کو ایک بزرگ صورت آدمی ملا۔ اور حاجی صاحب کو کہا ’’کہ رامپور کا ٹکٹ لو۔ اور وہاں پہنچ کر محلہ چاہ شور پر حافظ عنایت اللہ صاحب ؒ رامپوری رہتے ہیں ان سے بیعت کر لو‘‘ ۔ فرماتے ہیں کہ ’’ سیدھا ان کے پاس رامپور پہنچا ۔ جب ان کے سامنے ہوا تو آپ وہ شخص تھے جو کہ سرہند کے اسٹیشن پر مجھے ملے تھے ۔ اور وہ خود حافظ عنایت اللہ صاحب تھے‘‘ ۔ ۱۸۹۵ء میں آپ حافظ صاحب ؒ کے بیعت ہوئے۔
آپ پر اپنے شیخ کی خاص نظر اور توجہ تھی اور کیوں نہ ہوتی جبکہ حاجی صاحبؒ خاص پر طور پر مدینہ پاک کی بارگاہ عالیہ سے بھیجے گئے تھے۔ نتیجۃً بہت ہی قلیل عرصہ میں یعنی صرف تین ماہ میں سلوک کی تکمیل کر لی، آپ اس عرصہ میں لطائف ستہ سے سرفراز کئے گئے۔ اور شیخ نے اپؒ کو خلاف سے نواز کر معنعن وصاحب مجاز کر دیا۔ اور ساتھ ہی حکم دیا ’’کہ اپنے وطن جا کر سلسلہ نقشبندیہ کی اشاعت و تبلیغ شروع کرو‘‘۔ خوب فتوحات ہوئے لوگ جوق در جوق آنے لگے ، اور فیض حاصل کر کے بامراد لوٹتے ۔ مریدین کو تعلیم سلوک و تزکیہ نفوس کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھاتے ۔ اور مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے مشکل مقامات کو آسان پیرایہ پر بیان فرماتے اور نہایت ہی سہل طریقہ پر ذہن نشین کروادیتے ۔ ہر قسم کے سیاسی جھگڑوں اور کشمکش کے کنارہ کش رہے۔ بلکہ ایسے تمام جھمیلوں سے نفرت کرتے اور اپنے مریدین کو بھی منع فرماتے ۔ آپ مریدین پر عموماً مغرب کی نماز کے بعد توجہ فرماتے۔
آپ ؒنے بہت سفر کئے ، اجمیر شریف بھی شریف لے گئے ۔ آپ ؒ فرماتے تھے کہ ’’ روحانی طور پر حضرت خواجہ بزرگ عطائے رسول خواجہ اجمیری ؒ سے مجھے کافی فیض ہوا ہے‘‘۔ افغانستان میں ’’ حضرت صاحب چار باغؒ‘‘ سے آپ کی اکثر ملاقات رہتی ۔ آپ ؒ ان کی بہت تعریف کرتے ، یہاں تک فرماتے کہ ’’ آپ یعنی حضرت صاحب چار باغؒ مجھے سے اپنے گھر میں یعنی پشاور میں جسمانی طور پر ملاقات کرتے ہیں حالانکہ وہ افغانستان میں ہوتے تھے‘‘ ۔ جناب حاجی صاحب فرماتے تھے ک’’ہ مسلسل آٹھ برس تک بیداری کے عالم میں جسمانی طور پر حضورفخر دوعالم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے ساتھ میرا تعلق رہا ہے‘‘۔
ٍآپ کے مریدین صوبہ سرحد، آزاد قبائل اور مغربی و مشرقی پاکستان میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ منبع سنت اور صاحب حال ہیں۔ اپنے شیخ ؒ سے بہت ہی عقیدت اور عشق رکھتے ہیں۔ آپ اپنے مریدین کی تکمیل سال کے عرصے میں کردیتے تھے۔
آپ کے ایک خلیفہ جناب ملک ابرار حسین نقشبندی بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب میں دوسری بار رامپور اپنے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو شیخ نے فرمایا کہ کہ حاجی عبدالرحیم قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ میں نے عرض کی حضورمیری عینکیں پشاور میں رہ گئی ہیں۔ میرے پیرو مرشد نے مجھے فرمایا ’’حاجی میں نے عینکوں کا نہیں بلکہ قرآن پاک کی تلاوت کا کہا ہے‘‘۔ حاجی صاحبؒ نے کہا کہ آپؒ نے اس ارشاد گرامی کے بعد یہ ہوا کہ ’’۱۹۵۰ء تک ایک سو آٹھ برس کی عمر میں بھی بغیر عینک کے روزانہ دس پارہ قرآن مجید پڑھتا ہوں‘‘۔آپ کے ملنے کے لئے تہکال بالا پشاور کے ایک بزرگ جناب ارباب صاحب ملنے کے لئے آئے ۔ ارباب صاحب بھی جناب حاجی صاحب ؒ سے ایک مسئلہ پر الجھ گئے۔ حاجی صاحبؒ نے فرمایا کہ ارباب صاحب ابھی آپ کو نماز پڑھنی نہیں آتی اور آپ فقیروں سے الجھ رہے ہیں ، ارباب صاحب نے کہ آپ نے ہی نماز پڑھا دیجئے ۔ حاجی صاحبؒ نے فرما اٹھ اور دو رکعت نفل کے لئے کھڑا ہوجا، ارباب صاحب بھی اٹھ کھڑے ہوئے ۔ جب نماز پر کھڑے ہوئے اور ادھر حاجی صاحب سر بحبیب مراقبہ ہوگئے۔ ارباب صاحب کی نماز کے دوران ہی کیفیت بدل گئی اور گریہ طاری ہوگیا۔ بیعت کر کے حاجی صاحب کے ہو رہے۔ یہ رونا اس وقت سے آپ پر اتنا غالب ہوا کہ عشق رسول ﷺ میں مرتے وقت تک روتے رہے اور بقول ملک ابرار حسین صاحب ارباب صاحب فرماتے کہ حاجی صاحب کی توجہ کاملہ اور نظر عنایت سے روزانہ صبح نماز سے پہلے حضور فخر دو عالم ﷺ ، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اور حضور غوث افخم سید شیخعبد القادر جیلانی ؒ کی زیارت نصیب ہوتی ہے‘‘۔
آپ کے مریدین صوبہ سرحد ، آزاد قبائل ، مغربی اور مشرقی پاکستان میں بکثرت پائے جاتے ہیں ، متبع سنت اور صاحب حال ہیں۔اپنے شیخ سے بہت ہی عقیدت اور عشق رکھتے ہیں۔ آپ اپنے مریدین کی تکمیل ایک برس میں کرتے تھے ۔ آپ کے ۲۵ کے قریب خلفاء ہوں گے ۔ ان میں سے اکثر سلسلہ نقشبندیہ کی اشاعت و ترویج کی۔ اس وق آپ کا اپنا بیٹا جناب عبداللہ خان صاحب جو کہ آپ سے بیعت ہے اور خلیفہ تیر املا صاحب سے خلاف حاصل کر کے اپنے آبائی سلسلہ کو فروغ دے رہا ہے۔
ملک ابرار حسین صاحب نقشبندی بیان کرتے ہیں کہ جب میں آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں علمی طور پر توحید باری اور دیگر مسائل علم کلام میں بہت الجھا ہوا تھا۔ میں نے عرض کی اللہ تعالیٰ کی توحید پر کوئی دلیل ہو تو فرما ویں۔ آپ نے نہایت ہی سادگی سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو بغیر دلیل کر ماننا چاہیے ۔ میں نے پھر عرض کیا کہ میں ذہنی اور علمی طور پر ان مسائل میں الجھا ہوا ہوں اور یہ عقدہ مدلل طور پر حل کیجئے ۔ میری طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا اچھا تمھیں دلیل مل جائے گی ۔ اس گفتگوکے بعد ایسا ہوا کہ جس وقت بھی کوئی ایسا سوال میرے ذہن و قلب میں پیداہوتا تو میں محسوس کرتا کہ ایک شخص میرے شانے کے قریب کھڑا ہے اور اس مسئلہ کے متعلق تقریر کر رہا ہے اور میری اس تقریر سے تسلی ہوجاتی ، تمام شکوک زائل ہوجاتے اور میں مطمئن ہوجاتا اور یہ معاملہ چھ ماہ تک ہوتا رہا ۔ حتی کہ اب بالکل مطمئن ہوں۔
وفات ۱۸رمضان المبارک ۱۹۴۹ء میں ہوئی۔
جناب فقیر خدا بخش صاحب نوشاہی ؒ
۱۲۷۵ھ تا ۱۳۶۵ھ
آپ کا اسم شریف خد ابخش صاحب، والد کانام میاں عبد الغفار صاحب اور’’ فقیر صاحب‘‘ کے نام سے مشہور تھے ۔ آپ آنکھوں سے معذور تھے۔
آپ کے والد میاں عبدالغفور صاحب کوچہ گل بادشاہ جی صاحب، علاقہ جہانگیر پورہ پشاور کے رہنے والے تھے اور مشہور و معروف چرم کے سوداگر تھے۔
بقول جناب پیر بخش خان صاحب ایم ۔اے۔ ایل ۔ایل۔ بی ، ابتدائے عمر سے ہی عشق کا جذبہ آپ کو ودیعت ہو چکا تھا ، جس کے آثار بچپن ہی میں نمودار تھے ۔
آپ تلاش معرفت الہٰی میں خوب پھرے اورجس جگہ بھی کسی فقیر ، درویش اور اللہ والے کا پتہ چلا وہاں پہنچے ، اور کسب فیض کیا۔ بالآخر کامیاب و کامگار ہوئے۔صاحب مصباح السالکین لکھتے ہیں’’ عہد شباب میں وہ فقرأ اور اہل اللہ کی تلاش میں رہتے تھے ۔ دنیوی کاروبار سے رغبت قطعاً نہ تھی ۔ چنانچہ انھوں نے ہر جگہ سے قلبی فیض حاصل کرنے کی کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے‘‘۔
آپ سلسلہ قادریہ نوشاہیہ میں جناب حضرت عباس علی شاہ صاحب نوشاہی ؒ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور صاحب مجاز ہو کر سلسلہ کی اشاعت و ترویج میں مصروف ہوگئے ۔ آپ کے مرشد نے آپ کا نام غلام علی شاہ رکھاتھا۔
ساری زندگی زہد وریاضت ، عبادت خداوندی اور ذکر الٰہی میں بسر کی ۔ اپنے طریقہ کے معمولات اور وظائف کے انتہائی پابندتھے ، او رجو کچھ خود کرتے اسی کی تلقین بھی کرتے ۔ آپ کے مریدین اور عقیدتمندوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ دور دور سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے اور آپ کی توجہ کاملہ سے استفادہ حاصل کرتے ۔ جناب پیر بخش خان صاحب ایم ۔ اے ، ایل ۔ ایل ۔ بی ایڈوکیٹ لکھتے ہیں۔
’’ شب وروز ذکر الہٰی میں مصروف رہتے ۔ آپ کے اردگرد ہمیشہ طالبان حق کا مجمع جمع رہتا تھا اور ان کو احکام خداوندی کی پابندی کی تلقین کرتے ہوئے قلوب کو آلائش سے پاک رکھنے کی ہدایت کرتے ۔ آپ کے مریدان خاص کا حلقہ صرف پشاور شہر یا اس کے مضافات تک ہی محدود نہ تھا۔ بلکہ دور دراز تک کے لوگ ان سے روحانی فیض حاصل کرتے تھے۔ قرآنی احکام اور سنت کے مطابق توحید خالص کی تبلیغ فرماتے تھے۔ سختی کے ساتھ صوم و صلوٰۃ کی پابندی کرتے اورکرواتے تھے ۔ آپ کی زندگی اس تعلیم کاعملی نمونہ تھی ‘‘۔
رضائے خداوندی ، زندگی کے آلام و مصائب پر صبر و استقامت ، خوف الہٰی سے قلب پر خشیت کا عالم طاری ، بلندخیالی ، اور عزت نفس پر حد درجہ مصر، ہر کام پر انتہائی محنت اور کوشش کرنے والے تھے۔
آپ ؒکی زندگی کا نقشہ صاحب مصباح السالکین نے بہت ہی عمدہ الفاظ میں کھینچا ہے۔ صفحہ ۳۰ پر لکھتے ہیں ’’ صاحب حال تھے، قلب جاری رکھتے تھے اور صاحب توجہ تھے۔ ہمیشہ یہ افسو س کرتے تھے کہ کاش صرف نوجوان جواں پاکیزہ سیرت میسر ہو جائیں جو مجھ سے صرف ذات خداوندی کے طالب ہوں تاکہ میں ان کو پوری روحانی توجہ سے صاحب حال بنا دوں۔ اپنی تمام عمر انتہائی صبر، استقلال اور پامردی کے ساتھ گذری ، غایت درجہ خود دار ، غیور تھے۔ بنی نوع انسان کی خدمت ان کا نصب العین تھا۔ آپ صاحب کشف و کرامات تھے ۔ تمام زندگی یادالہٰی میں گذری اور عشق الہٰی میں تڑپ تڑپ کر آخر اپنی جان اس جہان آفریں کے حوالے کر دی ۔
آپؒ کا انتقال بروز سہ شنبہ بتاریخ ۷رمضان المبارک ۱۳۶۵ھ مطابق ۶اگست ۱۹۴۶ء بوقت قریب ظہر ہوا، اور دوسرے روز انھیں میرے باغ نزد وزیر باغ میں دفن کیا گیا۔
مفتی سرحد حضرت مولینا عبدالحکیم صاحب پوپلزئی
۱۲۸۴ھ تا ۱۳۴۸ھ
آپ کا اسم گرامی عبد الحکیم لقب مفتی سرحد اور رئیس العلماء تھا۔ پوپلزئی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد محترم میاں محمد امین صاحب حافظ قرآن ہونے کے علاوہ صاحب علم تھی تھے۔ جناب مفتی سرحد صاحب ؒ کی ’’ بسم اللہ شریف ‘‘ آپ کے والد صاحب نے خود فرمائی ۔ انہی سے قرآن مجید حفظ کیا اور تمام ابتدائی تعلیم کی تکمیل کی ۔ ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد دیو بند تشریف لے گئے ۔ وہاں علوم متداولہ کو مکمل کر کے لکھنؤ تشریف لے گئے ۔ اپنے علم کی پیاس کو لکھنؤ میں خوب سیراب کیا۔ وہاں سے رامپور کے علماء سے استفادہ کرتے ہوئے اجمیر شریف دارالعلوم معینیہ میں صدر مدرس مقرر کئے گئے(آج تک اجمیر شریف اور دہلی میں آپ مفتی پشاور کے نام شے مشہور ہیں) ۔ ہندوستان کے مشہور و معروف پیر اور بزرگ حضرت جہانگیر شاہ صاحب مرحوم کے فرزند ارجمند جناب اقبال شاہ صاحب ؒ چشتی صابری آپ ؒ کے ہی شاگرد تھے ۔ سینکڑوں کی تعداد میں علاقہ غیر ، پنجاب ، ہندوستان اور صوبہ سرحد کے علماء آپ کے شاگرد تھے۔
ہندوستان سے واپس تشریف لا کر پشاور شہر میں مدرسہ جٹان ’’ دارالعلوم القرآن‘‘ میں صدر مدرس مقر ر کئے گئے۔ آپ کے علم کا شہر ہ دور دراز تک پھیلا ۔ اور قرآن ، حدیث ، فقہ، اور معقول کے امام تسلیم کر لئے گئے ۔ فارغ التحصیل علماء آآکر آپ سے دوبارہ علوم پڑھتے ، سنت نبوی علیہ التحیۃ و الثنا کا مکمل نمونہ تھے ۔ اخلاق حمیدہ و کریمانہ کو آپ کی ذات پر نازتھا۔
اگرچہ آپ کی سلسلہ میں بیعت نہیں تھے۔ مگر مشائخ کے ساتھ انتہائی ادب رکھتے اور مشائخ آپ کو انتہائی عزت و تعظیم کے ساتھ پیش آتے ۔ شیخ المشائخ حضرت آقا پیرجان صاحب ؒ قادری پشاوری اور آپ کے صاحبزادہ جناب سیا و تپاہ آقا سید سعید احمد شاہ صاحب مرحومؒ کے ساتھ آپ کی والہانہ محبت و عقیدت تھی اور آقا سید پیر جان صاحبؒ کی تاریخ وفات آپ ہی نے لکھی ہے ۔ ہر برس گیارھویں شریف کا ابتدائی فاتحہ آقا صاحب مرحوم ؒ کے گھر آپ ہی فرمایا کرتے اور یہی طریقہ حضرت مفتی اعظم سرحد مولینا عبدالرحیم صاحب پو پلزئی ؒ تک جاری رہا ۔ حضرت محبوب اولیاء حضرت فقیر احمد صاحب میروی ؒ بھی بڑی عقیدت رکھتے تھے ۔ غرضیکہ اولیا ء کرام کی محبت و مودت آپ ؒ کی طبیعت مبارکہ میں موجزن تھی اور اسی محبت اولیاء کا نتیجہ تھا کہ آپ نے اپنے فرزند ارحمند مفتی اعظم سرحد حضرت علامہ مولینا عبدالرحیم صاحب پوپلزئی کی ’’ بسم اللہ خوانی ‘‘ حضرت فقیر صاحب میروی ؒ سے میرہ شریف حاضر ہو کر کروائی۔
جس طرح آپ کی شخصیت علماء فقراء اور مشائخ کے ہاں قابل احترام اور قابل عزت تھی ۔ اس طرح صاحبان سیاسئین میں بھی آپ ممتاز سمجھے جاتے ہیں ۔ تحریک خلافت میں آپ نے عملی طور پر حصہ لیا اور آپ کو صوبہ سرحد کی خلافت کمیٹی کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ جب آپ صدر منتخب ہوگئے تو صوبہ سرحد اور ملحقہ علاقہ کے علماء اور مشائخ نے آپ کو مفتی اعظم سرحد کا عظیم اعزاز دیا۔ پشاور کی مرکزی جامع مسجد ، مسجد قاسم علی خان کی امامت اور خطابت بھی آپ کو سونپ دی گئی ۔ آپ نے اپنی عزیز زندگی دین اسلام کی سربلندی ، اشاعت سنت نبوی ﷺ اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے وقف کر دی تھی ۔ پشاو رشہر کے معزز ترین فرد اور ٹھیکیدار غلام صمدانی صاحب (جو جامع مسجد قاسم علی خان مرحوم کے متولی تھے) کے ساتھ حج بیت اللہ شریف تشریف لے گئے اور حرمین الشریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔
آپ مسائل دینیہ کے بیان کرنے کے وقت کسی جابر سے جابر حاکم کی بھی پروا نہیں کرتے تھے ، اور جو شخص بھی شریعت اسلامیہ کی مخالفت کرتا ۔ اسی وقت اس کو روکتے اور منع کرتے ۔ ایک بار انگریز ڈپٹی کمشنر کے سامنے آپ نے مسئلہ جہاد انتہائی دلیری اور شجاعت کے ساتھ بیان کیا۔ جس پر وہ سیخ پا کباب ہوگیا ، مگر تمام عوام نے آپ ؒ کا ساتھ دیااو روہ اپنی سازشوں اور چالوں میں جو وہ آپ کے خلاف کرتا تھا ناکام و نامراد ہوا۔
چونکہ آپ مفتی اعظم تھے اس لئے روزہ آپ کے ارشاد پر رکھا جاتا ۔ عید آپ کے حکم پر کی جاتی ، اور ہر شرعی مسئلہ پر آپ کا ارشاد و حکم نافذ سمجھا جاتا۔
جناب مولینا صاحب نے دو شادیاں کی تھیں ۔ پہلی شادی کوہاٹ میں مولوی عبدالحکیم صاحب کی ہمشیرہ سے کی ۔ یہ شادی ہندوستان جانے سے پہلے کی ۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک لڑکا عطا فرمایا جس کا نام میاں عبدالرشید رکھا گیا ۔ یہ صاحبزادہ اپنے ماموں صاحب کے ہاں رہا۔ اس کی پرورش وہیں ہوئی اور جوانی کے عالم میں ہی انتقال کر گیا۔
آپ کی دوسری شادی جس وقت آپ دیوبند سے لکھنؤ پہنچے تو آپ کے اخلاق کریمانہ اور اعلیٰ علم کی قابلیت سے متاثر ہو کر مولینا عبدالحمید صاحب کابلی نے اپنے لڑکی آپ کے حبالہ عقد میں دی۔
یہ بیوی صاحبہ نہایت متقیہ ، پابند صوم و صلوٰۃ اور قرآن خوان تھیں۔ یہ بیوی صاحبہ گاڈیخانہ میں اپنے گھر قرآن مجید کا درس فرماتیں ۔ بلکہ حفظ بھی کرواتیں۔ ہزاروں عورتوں اور بچوں نے آپ سے قرآن مجید حفظ بھی کیا اور ناظرہ بھی پڑھا۔
اس نیک بخت اور بزرگ بیوی رحمۃ اللہ علیہا کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار صاحبزادے عطا فرمائے اور تیں صاحبزادیاں۔ ایک صاحبزادی حضرت علامہ اجل محدث اعظم حضرت مولینا مولوی گل فقیر احمد صاحبؒ کے حبالہ عقد میں آئی۔
(۱) حضرت مفتی اعظم علامہ دوراں حضرت مولینا عبدالرحیم صاحب پوپلزئی مرحوم(۲) حضرت مولینا مولوی مفتی سرحد عبدالقیوم صاحب پوپلزئی مدظلہ ، (۳) میاں عبدالبصیر صاحب مرحوم (۴) میاں عبدالنصیر صاحب مرحوم
میاں عبدالبصیر صاحب اور میاں عبدالنصیر صاحب اٹھتی جوانی کی عمر قرآن مجید حفظ کرتے ہوئے فوت ہوئے۔(مولینا عبدالرحیم صاحب کے حالات الگے لکھے گئے ہیں)۔ مولینا مولوی مفتی عبدالقیوم صاحب نے ابتدائی تعلیم پشاورمیں مکمل کر کے دیو بند تشریف لے گئے۔ وہاں سے دہلی تشریف لے گئے۔ علوم متداولہ سے فراغت حاصل کر کے پشاور آئے ۔ درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ۔ بڑے بھائی حضرت علامہ مولینا عبدالرحیم صاحب کی وفات پر علماء پشاور نے آپ کو ان کا جانشین بنا یا اور آپ مفتی سرحد کہلائے ۔ مجلس احرار اسلام کی پوری تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔علم کی خدمت کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنی عمر سیاسیات میں گذاری ۔ مجلس کو یہاں پر آپ ہی نے قائم کیااور اسی جماعت سے وابستہ رہے۔ اگرچہ پشاور شہر میں یہ جماعت کامیاب نہ ہوئی ، مگر عوام آپ کے خاندانی وقار کا لحاظ اب بھی کرتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد آ پ نے کسی سیاسی جماعت میں عملاًحصہ نہیں لیا۔ مارشل لاء میں نظام العلماء (دیوبند) کی مجلس کے آپ سرپرست رہے ۔ پشاور شہر میں اس تنظیم کے قیام پر آپ نے انتہائی محنت و خلوص اور انتھک کوشش کی۔ مارشل لا کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ جمعیۃ العلماء اسلام کا احیاء کیا اور اس کی تنظیم میں کوشاں ہیں۔ آپ نے مسلم لیگی سیاست سے کبھی بھی اتفاق نہیں کیا۔ آپ نے بہت دفعہ انگریزوں کے خلاف قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں ہیں، اور پاکستان کے دور میں بھی قادیانوں کے خلاف مردان میں تقریر کی بناء پر ایک سال قید گذاری، اور اس وقت جب کہ ڈاڑھی سفید ہوچکی ہے ۔ مگر خطابت اسی طرح دلیرانہ ، اورجوان ہے۔ انتہائی نڈر عالم ہیں حکومت کو نہایت ہی حق گوئی کے ساتھ ان کی برائیوں کی نشاندہی کرواتے ہیں ۔ اگرچہ مسلم لیگ والوں نے حکومت کے دوران آپ کو مفتی سرحد کے اعزاز سے ہٹانے کی کوشش کی ، مگر عوام میں آپ اسی طرح مفتی سرحد کے لقب سے موسوم ہیں۔ محکمہ اوقاف نے آپ کو عید گاہ کی خطابت سے الگ کر دیا ہے نیز مسجد قاسم علی خان سے بھی ظلم و جبر کے ساتھ الگ کرنے کی کوشش کی۔ مگر عوام کے آگے وہ ناکامیاب ہوئے۔ غرضیکہ مولینا صاحب کی زندگی مسلسل مصیبتوں ، صعوبتوں اور جدوجہد کی زندگی ہے۔
حضرت مولینا مولوی مفتی اعظم عبد الحکیم صاحب نے (۱۳۴۸ھ) وفات پائی۔
حضرت میر آغا (آغو)جان صاحب کابلی
۱۲۸۴ھ تا ۱۳۶۹ھ
آپ کا اسم گرامی سید میر اصغر صاحب المعروف میر آغا جان ، والد کا نام سید میر اکبر صاحب ہے ، حضور غوث الاغیاث سید شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی اولاد ہیں۔
آپ کے جدا علیٰ کا مزار خاص شہر کابل میں گذر شہیدان پر ’’ شاہ شہید‘‘ کے نام سے مرجع عوام و خواص ہے۔ ’’ شاہ شہید ‘‘ بغداد شریف سے کابل تشریف لائے تھے۔
جناب سید میر اکبر شاہ صاحب بلند پایہ عالم اور صاحب اثر و وجاہت تھے۔تمام افغانستان کے لوگ آپ کے زہد و عبادت و سیادت کی وجہ سے انتہائی احترام کرتے۔آپ کا سلسلہ مبارکہ آبائی قادریہ تھا ۔ آپ کا خصوصی شغل تہجد کی نماز سے لے کر صبح کی نماز تک ذکر جہر کرنا تھا۔
جناب حضرت میر آغا(آغو) جان صاحب کی عمر تین برس تھی کہ آپ کے والد کا انتقال ہوگیا۔ جناب میر آغاجان صاحب کی پرورش آپ کے بڑے بھائی جناب سید میر احمد شاہ صاحب اور والدہ ماجدہ نے کی۔ آپ کی پرورش و تربیت بطریق احسن کی گئی ۔ چونکہ آپ کے ماموں اور بھائی قالین اور قراقلی کی پوست کی تجارت کرتے تھے۔ اس لئے انھوں نے آپ کو بھی (جبکہ آپ کی عمر بیس برس کی ہوئی تھی ) اپنی تجارت میں شامل کر لیا جس وقت آپ نے تجارت شروع کی تو اس وقت عمر بیس برس کی تھی آپ کی تجارت بہت ہی وسیع پیمانہ پر تھی۔ کابل مرکز تھا۔ پشاور، دہلی ، کلکتہ ، بمبئی اور کوئٹہ میں شاخیں پھیلی ہوئی تھیں۔ آپ اکثر پشاور اور دہلی میں رہتے۔
پشاور میں قالین اور پوست کا ایک مشہور دلال تھا جس کا نام اویس قندھاری تھا۔ یہ دلال آپ کا کام بھی کرتا تھا۔ بزرگان کرام کی باتوں باتوں میں اس نے آپ سے حافظ عبدالغفور صاحب نقشبندیؒ پشاور کا تذکرہ کیا۔ آپ اس کے ساتھ حضرت حافظ صاحبؒ کے مزار پر حاضر ہوئے ۔ آپ ؒ کا حافظ صاحبؒ کے ساتھ ایسا مضبوظ تعلق او ر رابطہ قائم ہوا کہ وفات تک بلکہ وفات کے بعد تک بھی نہ ٹوٹا۔ آپ نے پہلے تو اس تعلق کا کافی عرصہ تک کسی سے اظہار نہ کیا۔ خود فرماتے تھے میں دس برس تک روزانہ حضرت حافظ صاحب ؒ کے مزار پر حاضر ہوا۔ مگر میں نے کسی سے اظہار نہیں کیا۔ اور جس اپنے اس تعلق کا اظہارکیا تو وہ بھی ایک خاص واقعہ کی بناء پر ۔ آپ فرماتے تھے کہ ’’ میں سامان تجارت لے کر ہندوستان جارہا تھا کہ اثناء سفر میں میرٹھ کے ریلوے اسٹیشن پر ایک انگریز سے ملاقات ہوگئی۔اس انگریز نے کہا کہ اگر کابل کا کوئی ٹکٹ ہو تو مجھے دے دیجئے ، اتفاقاً اس وقت میرے پاس کوئی ایک سو ٹکٹ تھا اور یہ ٹکٹ ہم لوگوں کو کسٹم سے ملا کرتے تھے ہم لوگ ہر بنڈل پر یہ ٹکٹ لگاتے جس سے پتہ چلتاکہ اس مال پر کسٹم ادا ہوچکا ہے ، او ریہ ٹکٹ عموماً تاجر لوگ بجائے بنڈل پر چسپاں کرنے کے اپنے پاس ہی رکھتے ۔ آپ فرماتے ہیں میں نے ٹکٹ اس انگریز کو دے دئیے ۔ اس انگریز نے کہا کہ اس قسم کے دو ہزار ٹکٹ مجھے منگوا دیں‘‘ آپ نے اپنے بھائی کو دہلی پہنچ کر خط لکھا کہ یہ کسٹم والے دو ہزار ٹکٹ مہیا کر کے ایک لکڑی کے ڈبہ میں مجھے بھیج دو۔ فرماتے تھے کہ ’’ دہلی میں میں نے رات کو واقعہ میں دیکھا کہ امیر عبدالرحمان والی کابل میرے سامنے تلوار سونت کر کھڑا ہے او رکہہ رہا ہے کہ تو میری حکومت کے ٹکٹ فروخت کرتا ہے ، کیا کروں کہ حافظ عبدالغفور صاحب پشاور یؒ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا ہے ورنہ میں تجھے اس تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں‘‘ ۔ فرماتے تھے کہ جب صبح ہوئی تو میں بہت پریشان اور مشوش تھا۔ دوسرے دن کابل کے تاجر سامان تجارت لے کر پہنچے توپتہ چلا کہ آپ کے سامان میں ایک ٹکڑی کے ڈبہ سے ٹکٹ برآمد ہوئے ۔ اور کسٹم والوں نے سامان لانے والے کو گرفتار کر لیا ہے ۔ چند دن میں آپ کے بھائی کا خط بھی آپ کو ملا ۔ جس میں لکھا تھا کہ ’’ تمھاری وجہ سے والی کابل امیر حبیب اللہ خان صاحب کے سامنے ہمیں پیش ہو نا پڑا ۔ بادشاہ نے ہمیں تو بر ابھلا کہہ کر چھوڑ دیا ہے ، مگر تم کو نہ چھوڑے گا‘‘ آپ اسی پریشانی اور تشویش میں پشاور تشریف لائے ۔ آپ روزانہ بدستور حضرت حافظ عبدالغفور صاحبؒ کے مزار پر حاضری دیتے ۔ یہاں تک کہ اس فکر مندی میں چھ ماہ کا عرصہ گذر گیا۔ آپ فرماتے تھے کہ ایک دن بہت ہی بے صبری اور پرپشانی کے عالم میں مزار پر بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت حافظ صاحبؒ نے مجھے فرمایا
’’پریشان نہ ہو ، شیر کی طرح کابل جا، اور شیر کی طرح واپس آ۔ تیرا کوئی بھی کچھ نہ بگاڑ سکتا ہے ‘‘
آپ فرماتے تھے کہ میں نے چالیس روپے پر ایک گھوڑا خریدا ، بیس روپے پر زین خریدی اور دوسری دن کابل روانہ ہوگیا۔ جب میں اپنے گھر پہنچا ، تو گھر میں ایک کہرام برپا ہوگیا کہ حکومت آپ کو گرفتار کر لے گی اور بہت سخت سزا دے گی۔ مگر آپ نے فرمایا کہ
’’ آپ لوگ نہ گھبرائیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم فرمائے ‘‘
چنا نچہ آپ کابل میں رہے ، والی کابل سے کئی بار ملے ۔ مگر کسی نے آپ کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔
۱۹۱۱ ء میں آپ کا ایک نوجوان عالم وفاضل فرزند سید میر جعفر صاحب دو دن بیمار رہ کر انتقال کر گئے ۔ اس وقت آپ بڑے تاجر تھے ۔ اور تقریباً تین لاکھ روپیہ آپ کے پاس تھا۔ آپ فرماتے تھے کہ مجھے خیال آیا کہ کوئی ایسا طریقہ ہو میری ساری دولت خرچ ہوجائے ۔ مگر میرا یہ پیار ابیٹا دوبارہ زندہ ہوجائے ۔ مگر ایسا ناممکن تھا۔ بس اس خیال نے آپ کی زندگی کاورق الٹ دیا۔ آپ نے جس جس شخص کا حساب دینا تھا۔ اسے بلا کر ادا کردیا۔ اور جس سے لینا تھا اسے بخش دیا۔ باقی جتنی دولت تھی راہ خدا میں بانٹ کر درویشی و قناعت کی راہ اختیار کر لی۔
آپ نے فرمایا کہ ’’ ایک دن میں حافظ صاحبؒ کے مزار پر مراقب تھا کہ آپ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بھی ( یعنی عالم ہو، زاہد ہو، فقیر و درویش ہو) اگرچہ اویسی ہی کیوں نہ ہو ، اس کو ظاہری بیعت کرنی چاہیے۔ لہٰذا تم لاہور جا کر حضرت میر جان صاحب نقشبندی ؒ کی بیعت کرو‘‘ آپ لاہور میں حضرت میر جان ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت میرجان صاحب بیعت کرنے سے گریز کرتے تھے۔ اور قطعاً عام طور پر مرید نہیں کرتے تھے۔ مگر جب آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بغیر کسی قسم کی گفتگو کرنے کے حضر ت میر جان صاحب ؒ نے آپ کو فرمایا ’’ اگرچہ میں کسی کو مرید نہیں کرتا۔ مگر آپ کو حضرت بابا جی صاحب( حافظ عبدالغفور صاحبؒ ) نے میرے پاس بھیجا ہے اس لئے مجھے مجال انکار نہیں ‘‘ اور آپ کو بیعت کر لیا۔
آپ اپنے شیخ کی خدمت میں تین برس تک رہے اور خدمت شیخ میں اپنے آپ کو فنا کر دیا ، تکمیل سلوک کے بعد آپ کے شیک نے آپ کو معنعن کر کے صاحب مجاز بنا کر خلافت سے نوازا ، آپ جب مسند ارشاد پر جلوہ افروز ہوئے تو اپنی زندگی سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی ترویج و اشاعت کے لئے وقف کردی ، زہد و عبادت اور ذکر الہٰی میں اپنے تمام اوقات کو صرف کرتے ۔ دن کو روزہ اور رات کو قیام میں بسر کرتے ۔ تمام زندگی اتباع سنت نبوی ﷺ میں گذاری اور آپ کا یہ اتباع اس کمال تک پہنچ چکا تھا کہ آپ نے بسکٹ تک نہ کھایا اسلئے کہ یہ بسکٹ فرنگیوں کے تبتع میں بنا اور کھایا گیا ۔ جو شخص بھی متبع سنت ہوتا وہ آپ کو بہت ہی محبوب اور پسند ہوتا اور جو سنت نبویﷺ کا پابند نہ ہوتا اس شخص کو آپ بہت ہی ناپسند فرماتے ۔ اگرچہ بڑے سے بڑا حکمران یا بڑے سے بڑا تاجر ہی کیوں نہ ہوتا۔
بچپن سے لے کر وفات تک آپ نے تہجد کی نماز قضا نہ کی ، ختم خواجگان اور اپنے اوراد باقاعدہ پابندی کے ساتھ روزانہ پورے کرتے ۔ صبح کی نماز کے بعد مراقبہ کرتے ۔ تہجد کی نماز کے بعد صبح کی نماز تک ذکر جہر میں مصروف رہتے۔
آپ اپنے حالات اور واقعات کو بہت ہی راز داری سے رکھتے ، اور کمال درجے کا انکسار تھا ۔ تواضع تو آپ ؒ کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھر ی ہوئی تھی ۔ آپ کا انکسار اس حد تک تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بھٹکی ہوئی مخلوق سے زیادہ محبت کرتے اور ان کے ساتھ اخلاص کرتے ۔ بلا امتیاز مذہب و ملت ہر ایک کی خدمت کرتے ۔ اور اسی کی وصیت کرتے ۔ اہل دنیا سے بہت نفرت کرتے ۔ سادات اور علماء کی عزت و احترام میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرتے۔
آپ نے بیعت میں بہت تھوڑے افراد کو داخل کیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ آپؒ استعداد اور اہلیت کو دیکھ کر مرید کرتے ۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ اس فقیر نے تو اپنے شیخ کے لئے زندگی وقف کی ہے ۔ جو مرید ہوتا ہے کم از کم پانچ برس تو شیخ کی صحبت میں گذارے ‘‘ بہرحال آپ صاحب استعداد اور اہلیت والے افراد کو بیعت فرماتے۔
آپ کی صحبت میں سادات، علماء صلحا اور عابد حضرات آتے ۔آپ ہر ایک کے ساتھ اس کے منصب اور حیثیت کے مطابق گفتگو کرتے ، اور پوری پوری توجہ کے ساتھ ہر ایک کے ساتھ پیش آتے۔ طلباء اور علماء کی ہر ممکن خدمت کرتے۔
آپؒ کا کابل سے ہجرت کرکے پشاور آنا بھی دینی حمیت پر مبنی تھا ۔ امیر امان اللہ خان والی کابل جب یورپ سے دورہ کرکے واپس کابل پہنچے تو انھوں نے باغ حضوری (کابل) میں تمام حکمران ، امرأ ، علماء اور سادات کو جمع کر کے جلسہ کیا۔ دوران تقریر میں والی کابل نے کہا ’’ کہ حضورﷺ بھی ایک معلم تھے ، انھوں نے بھی قوم کو ایک آئین دیا تھا ۔ میں بھی بحیثیت بادشاہ کے معلم ہوں ۔ میں اب اپنا آئین بنا کر قوم کو دیتا ہوں ۔ دین اسلام کی اب ان باتوں کو چھوڑ دو یہ پرانی ہو گئی ہیں‘‘ ۔ آپ ؒ اس جلسہ سے اٹھ کر چلے آئے ۔ تین دن تک آپ کو آرام نہیں آیا۔ تیسرے دن آپ نے کابل سے ہجرت کی اور پشاور تشریف لے آئے اور تمام زندگی یک سو رہ کر عبادت الہٰی میں حضرت حافظ عبدالغفور صاحبؒ کے قدموں میں گذار دی ۔ اگرچہ امرأ کابل نے اکثر اوقات آپ کو کابل آنے کی دعوت دی ، یہاں تک کہ سردار ہاشم خان مرحوم نے خود آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اب آپ تشریف لے آویں ۔ مگر آپ یہ فرماتے کہ ’’ حافظ صاحبؒ جب اجازت دیں گے تو کابل جاؤں گا‘‘
پشاور شہر میں بھی آپ نے پنا سارا وقت عبادتوں ، ریاضتوں اور مجاہدوں میں گذارا ، فیاضی اور سخاوت کا یہ حال تھا کہجو کچھ آپ کے پاس لوتا اللہ تعالیٰ کی رضا اور کوشنوسی کے لئے صرف کر دیتے ۔ اگر کوئی حاجت مند یا سائل آتا اور آپ کے پاس کچھ نہ ہوتا تو اوڑھے ہوئے کپڑے اس کو دے دیتے ، مگر ضرورت مند کو خالی جانے نہ دیتے۔
آپ روزانہ حضرت حافظ عبدالغفور صاحبؒ کے مزار پر حاضر ہو کر ختم خواجگان کرتے ۔ پشاور میں مختلف علاقوں میں آپ رہے ہیں اور آخر کار بیرون نیا دروازہ قیام کیا۔ ہرسال پندرہ شعبان کو حافظ صاحبؒ کا شاندار اہتمام کے ساتھ عرس کرتے۔
آپ ؒ کثیر الکرامات تھے ۔ مگر اپنا حال کسی پر ظاہر ہونے نہیں دیتے تھے۔ بلکہ نہایت عاجزی کرتے اور عاجزی کرنے کی نصیحت بھی فرماتے۔
آپ کی وفات بعمر ۸۵ برس بروز بدھ ۲۷ ربیع الاول ۱۳۶۹ھ میں ہوئی اور چھاونی میں حافظ عبدالغفور صاحبؒ نقشبندی کے پہلو میں اس آفتاب ولایت کو سپرد خاک کیا گیا۔
آپ ؒ کے دو فرزند ہیں اور دونوں صاحب اخلاق حمیدہ اور اوصاف پاکیزہ ہیں اپنے والد کی طرح یکسوئی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ ذکر و فکر میں مصروف ہیں۔ بڑے کا اسم گرامی سید غلام مجدد المعروف آغا گل صاحب اور چھوٹے کا اسم گرامی سید غلام ربانی المعروف گل آغا جان ہیں ۔ دونوں حضرت حضرت نور المشائخ صاحب کابلیؒ مرحوم کے مرید اور تکمیل سلوک کر چکے ہیں۔
حضرت مولانا سید حبیب شاہ صاحب
۱۲۹۳ھ تا ۱۳۷۳ھ
آپ کا اسم گرامی سید حبیب شاہ صاحب ، والد کا اسم گرامی حضرت مولینا سید اکبر شاہ صاحب اور لقب مفتی اور ڈسڑکٹ خطیب تھا ۔ آپ ؒ جس گھر میں پیدا ہوئے وہ علم وسیاست کا مرکز تھا ، آپ کے والد کوہاٹ (جو کہ پشاور ڈویژن کے ایک ضع کا شہر ہے) کے رہنے والے تھے ۔ وہ اپنے والد سید علی شاہ سے اجازت لے کر حصول علم کے لئے گھر سے نکلے ، اور ہندوستان تشریف لے گئے ۔ مختلف علماء سے تعلم حاصل کی اور پھر پشاور تشریف لائے۔
پشاور میں حضرت علامہ شارح صحیح البخاری حافظ محمد احسن صاحب المشہور حافظ دراز صاحب ؒ اور جناب مولینا مولوی مفتی محمد احسن صاحب ساکن کوٹلہ رشید خان سے علوم متداولہ پڑھا، نیز کافی وقت بحرالعلوم حضرت حافظ محمد عظیم صاحب المشہور گنج والے حافظ جی صاحبؒ کی خدمت میں رہ کر مسند علم و افتاء پر جلوہ افرýÿÿÿ ¡¢£¤¥¦§¨©ª«¬®¯°±²³´µ¶·¸¹º»¼½¾¿ÀÁÂÃÄÅÆÇÈÉÊËÌÍÎÏÐÑÒÓÔÕÖרÙÚÛÜÝÞßàáâãäåæçèéêëìíîïðñòóôõö÷øùúûüýþÿوز ہوئے ۔ تقریباً چالیس برس تک علم و معرفت کا درس پشاور میں دیا۔ آپ کے کتب خانے میں علم معقول و منقول کی کوئی ایسی کتاب نہیں جس پر آپ کا تحریر کردہ حاشیہ موجود نہ ہو ، پشاور شہر کا ہر فرد علمی مسئلہ کی دریافت کے وقت آپ کی طرف رجوع کرتا اور اسی لئے ہر شخص کے دل میں آپ کی انتہائی عقیدت و محبت کوٹ کوٹ کر بھر ی ہوئی تھی ۔ آپ اپنے وقت کے مفتی اعظم تھے۔ آپ کے علم کی خدمت کے ساتھ تصوف کی خدمت بھی کی۔ تصوف کی کتابوں کا درس دیتے ۔ مثنوی ، لوائح جامی، کتاب اللمعہ ، منطق الطیر ، مکتوباب امام ربانی مجد د الف ثانی ؒ سر ہندی ، پڑھاتے تھے ، گویا آپ ؒ کی ذات میں علم و معرفت کا اجتماع تھا۔ اپنے آبائی سلسلہ قادریہ میں صاحب مجاز و معنعن تھے۔ اور اسی سلسلہ کی اشاعت کی ۔ صاحب کشف و کرامت تھے ۔ میری نانی صاحبہ فرماتی تھیں کہ پشاور میں ایک بار سخت وبا پھوٹ پڑی سینکڑوں لوگ روزانہ مرنے لگے اور لوگ میتوں کی دفن کرنے سے عاجز ہونے لگے جن مشائخ کرام کے ساتھ لوگوں کا تعلق تھا وہ ان حضرات کی خدمت میں دعا کے لئے حاضر ہوئے ۔ چنانچہ ہمیں بھی اپنے والد تمام گھروالوں کو لے کر آپؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر طالب دعا ہوئے۔ آپ جس جگہ عبادت کرتے تھے اس جگہ کھڑے ہوگئے اوراپنا کرتہ مبارک دامن سے پکڑ کر اٹھایا اور فرمایا کہ تم سب اس کے نیچے سے گذر جاؤ ۔ ہم اس دامن کے نیچے سے گذر گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ؒ کی برکت سے ہمیں اس وباء سے محفوظ رکھا ۔آپ بہت ہی بابرکت ، متواضع ، منکسر المزاج ، صاحب اخلاق حمیدہ ، اور نہایت ہی مہمان نواز تھے۔ آپ کی وفات ۱۳۱۲ھ میں ہوئی ۔
سید حبیب شاہ صاحب آپ کے فرزند ارجمند ہیں ، آپ علم و حکمت ، سیاست و تدبر کی گود میں پروان چڑھے ، اپنے وقت کے قابل ترین علماء کے آگے زانوئے ادب طے کیا اور علوم متداولہ سے فراغت ھاصل کر کے مسند درس و افتا پر متمکن ہوئے۔علاقہ چھچھ اس وقت علم معقول کا مرکز تھا ۔ آپ نے علماء چھچھ سے علم معقول کی تعلیم کو مکمل کیا۔ فقہہ کا مرکز صوبہ سرحد تھا ۔ آپ نے علماء صوبہ سرحد سے فقہ شریف کو مکمل کیا ۔ اس وقت کے فقہ کے امام حضرت شیخ الفقہ خفے مولینا صاحب آپ کے اساتذہ میں سے تھے۔ حدیث شریف کی تکمیل پشاور کے مشہور و معروف عالم محدث اعظم جناب مولانا محمد ایوب صاحب خطیب و امام جامع مسجد سنگ مرمر پشاور سے کی۔
صاحب اخلاق حمیدہ ، مہمان نواز ، علماء اور مشائخ کے انتہائی قدردان اور صاحب ہمت و استقلال نڈر عالم تھے۔ نہایت کی وجیہہ تھے۔ علماء کی مجلس میں ہمیشہ آپ ہی صدر الصدور ہوتے ۔ آپ کے فتویٰ پر تمام علماء سرحد تصدق فرماتے ، آپ کی ذات شریف عقائد حقہ اہل سنت و الجماعت کی حفاظت کے لئے ایک مضبوط اور مستحکم فولادی دیوار تھی جو بھی آپ کی زندگی میں ان عقائد سے ٹکرایا ایک بہادر اور شجاع جرنیل کی طرح ہرقسم کے خطرات سے بے نیاز ہو کر آپ اس کے مقابلہ میں آئے ۔ اور جس وقت بھی گمراہوں کے اجتماع میں آپ کے آنے کی خبر ہوتی اور آپ پہنچ جاتے تووہ گمراہ میدان سے بھاگ جاتے۔
جس طرح آپ دین اسلام شریعت محمدی ﷺ اور فقہ حنفی کی اشاعت میں مستعد تھے ۔ اسی طرح سیاست میں بھی آپ نے عملی طور پر ہمت و استقلال کے ساتھ کام کیا ۔ سیاسی اعتبار سے آپ کانگرس کے بہت سخت مخالف تھے اور مسلمانوں کی الگ اپنی جمعیت اور جماعت کے حامی تھے ۔ا سی لئے آپ نے کانگرس کے بہت سخت مخالف تھے اور مسلمانوں کی الگ اپنی جمعیت اور جماعت کے حامی تھے ۔ اسی لئے آپ نے کانگرس کے ساتھ شمولیت اختیار نہیں کی ، اور ہمیشہ مسلم لیگ کا ساتھ دیا۔ اسی وجہ سے ہمیشہ کانگرسی حضرات نے آپ پر قسم قسم کے اتہامات لگائے ۔ یہاں تک کہ آپ کو انگریزوں کا ایجنٹ تک کہا گیا ۔ مگر ان سب پر اپیگنڈوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ، آپ نے مسلمانوں کی سربلندی اور مسلمانوں کی اپنی جمعیت کے لئے اپنی زندگی بسر کر دی ، یہ دور ایک خالصاً سیاسی دور تھا ۔ خدائی خدمتگار تحریک، خاکسار تحریک اور احرار تحریک کی مخالفت کرنا آسان کام نہیں تھا ۔ تمام علماء یا کانگرسی تھے یا احراری ، مگر صرف علماء میں ایک آپ تھے کہ اس وقت بھی آپ نے مسلم لیگ کے مقابلہ میں ہر اس تحریک کی علی الاعلان مخالفت کی جس سے مسلمانوں کی سربلندی مسلمانوں کی جمعیت کو نقصان پہنچتا تھا۔
جس غازی امان اللہ خان مرحوم یورپ کی سیاحت پر گئے اور کابل میں خلاف شرع امور رونما ہونے لگے تو آپ نے بھی پشاور میں ان کی شدت کے ساتھ مخالفت کی تھی ، اس وقت پشاور کے تمام عوام نے آپ کی بڑی مخالفت کی ، مگر آپ اپنی رائے پر جمے رہے۔
جس وقت جمعیۃ العلماء ہند سے الگ ہو کر مولینا محمد شفیع صاحب دیوبندی مولینا مولوی شبیر احمد صاحب دیوبندی اور مولینا مولوی ظفر احمد صاحب تھانوی نے جمعیۃ العلماء اسلام کی بنیاد رکھی تو آپ نے یہاں کے علماء کو جمع کیا اور یہاں پر بھی جمعیۃ العلماء اسلام بنائی گئی ، آپ اس جمعیت کے صوبہ سرحد میں پہلے صدر تھے۔ اس جمعیت نے بھی مسلم لیگ کی جمایت میں سیاست میں عملی کام کیا۔
پشاور شہر کے سادات کی تنظیم میں آپ بہت ہی دلچسپی لیتے اور ہر وقت آپ کی کوشش ہوتی کہ علم اور سیاست میں سادات پشاور ، پشاور کے عوام کی رہبری کریں۔ جب تک آپ زندہ رہے انجمن سادات پشاور کے آپ صدر رہے اور انتہائی گرم جوشی کے ساتھ آپ نے اس انجمن کی خدمت کی۔
۱۹۴۸ء میں جب مسلم لیگ صوبہ سرحد میں برسر اقتدار آگئی اور زمام حکومت خان عبدالقیوم خان کے ہاتھ آیا اور وہ وزیر اعلی مقرر کئے گئے تو ان کے مشورہ کے ساتھ وزیر تعلیم میاں جعفر شاہ صاحب نے محکمہ اوقاف کو سنبھال کر اس میں اصلاحات کیں۔ ان اصلاحات میں ایک یہ سکیم بھی تھی کہ صوبہ سرحد میں ڈسڑکٹ خطیب مقر ر کئے جائیں اور تمام مذہبی امور میں ان کی طرف رجوع کیا جاوے ۔ چنانچہ صوبہ سرحد کے ہر ایک ضلع میں ایک ڈسڑکٹ خطیب مقر ر کیا گیا ۔ پشاور کے ضلع کیلئے جناب مولانا مولوی سید حبیب شاہ صاحب کو خطیب مقرر کیا گیا ۔ جب آپ کو خطیب مقرر کیا گیا تو حکومت کے اس اقدام کو پشاور کے لوگوں نے عموماً اور سادات کے خصوصاً بہت سراہا ، اور آپ کو اس کے بعد پشاور کی مرکزی جامع مسجد مہابت خان کی خطابت اور عیدگاہ کی خطابت بھی سپرد کر دی گئی ۔ آپ نے تمام زندگی ان ذمہ داریوں کو باحسن وجوہ پورا کیا۔
اسی وقت سے آپ پشاور کا مفتی اور خطیب اعظم بھی سمجھا جانے لگا ۔ اگر چہ اس سے پیشتر بھی علاقہ خلیل مہمند اور آفریدیوں کے تمام قبائل آپ ہی سے اپنے شرعی فیصلے کرواتے تھے ۔ مگر اب حکومت پاکستان کی طرف سے بھی آپ ضلع پشاو رکے خطیب اور مفتی ہوگئے۔
آپ بڑے سخی ، جواں ہمت ، متواضع ، انتہائی مہمان نواز ، قدردان ، بہترین اخلاق حسنہ کے مالک تھے۔ پر وجیہہ شکل و صورت ، حضورﷺ کی سنت مطہرہ کا مکمل نمونہ نظر آتی تھی ۔ فقہ حنفی کو آپ پر ناز تھا ۔ پشاو ر کا ہر فرد آپ کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا تھا اور اب بھی جب آپ کا ذکر ہوتا ہے تو ادب و احترام سے ہوتا ہے۔
۱۳۷۳ھ میں اس دنیائے فانی سے عالم جاودانی کو سدھار ے ۔ ایبٹ آباد میں آپ کا انتقال ہوا ، اور پشاور میں آپ اپنے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کئے گئے۔
آپ کے صاحبزادہ مولینا سید مبارک شاہ فاضل دیو بند کو آپ کی جگہ مسند افتا سپرد کی گئی اور جناب جعفر شاہ صاحب کاکا خیل وزیر اوقاف نے آپ کی جگہ مولانائے موصوف کو ڈسڑکٹ خطیب مقرر کر دیا۔
حضرت شیخ الحدیث صاحبزادہ حافظ علی احمد جان صاحب
۱۳۰۱ھ تا ۱۳۷۶ھ
آپ کا اسم گرامی صاحبزادہ علی احمد جان صاحبؒ ، والد کا نام صاحبزادہ محمد عبدالقیوم صاحب ، لقب شیخ الحدیث ، رئیس الواعظین ہے۔ آپ کا گھر حفظ قرآن اورعلم و حکمت کا گھر تھا ۔ یہاں تک کہ آپ ؒ کے گھر میں عورتیں بھی قرآن مجید کی حافظہ تھیں۔ آپ نے بارہ برس کی عمر میں جناب حافظ خان محمد صاحب ؒآسیا والے سے قرآن مجید حفظ کر لیا۔ اور تیرہ برس کی عمر میں تراویج میں قرآن پاک سنا ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشأ۔
بچپن ہی میں آپ کو تحصیل علم کا شوق تھا۔ حفظ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ ابتدائی کتابیں صرف و نحو ، منطق ، اصول فقہ ، فقہ اور دیگر کتب حضرت مولینا مولوی بجوڑ ملا صاحب ؒ سے پڑھ لیں۔ ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد استاذا لاساتذہ حضرت مولینا مولوی پیرعلی شاہ صاحبؒ ساکن ڈھکی نعلبندی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور علوم متداولہ کو ان سے تکمیل تک پہنچایا۔
حضرت محدث جلیل مولینا مولوی محمد ایوب صاحب ؒصدر المدرسین مدرسہ جٹاں کی میں حاضر ہو کر صحاح ستہ کا مکمل دورہ کیااور ان سے سند حدیث حاصل کی ، آپ کی سند حدیث مکی تھی اور مسمٰی تھی ثبت امیری سے۔
علوم متداولہ کے حصول کے ساتھ ساتھ آپ ؒ نے فن تحریر بھی اس وقت کے باکمال اساتذہ سے سیکھا ۔ چنانچہ اس فن میں بھی آپ ؒ نے کمال حاصل کیا۔ اس فن میں آپ کے استاذ سید گوہر علی شاہ صاحبؒ تھے ، آپ کے یہ استا د اپنے فن میں یگانہ روزگار تھے ۔ گرجا گھر پشاور میں جو تحریر ہے وہ بھی آپ کے استاد محترم کا شاہکار ہے در س نظامی کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر آپ ؒ نے ۱۷ برس کی عمر میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔
آپ ؒ نے ملازمت اختیار کی ہوئی تھی ۔ یعنی آپؒ محافظ دفتر تھے اور اگر ملازمت کے سلسلہ میں کہیں باہر بھی تشریف لے گئے تو باقاعدہ درس وتدریس وعظ و نصیحت جاری رہتا ۔ایک بار آپؒ کی تبدیلی شب قدر ہوگئی تو وہاں پر بھی شب قدر کی مسجد میں درس قرآن جاری کیا۔ جمعہ کی نماز میں وعظ ارشاد فرماتے اور جب تک پشاو رمیں رہتے تاآخری دم تک ضلع کچہری کے خطیب تھے ۔ باوجود ملازمت میں ہونے کے کبھی بھی آپؒ حق گوئی سے باز نہ آئے ۔ افسران اور حکومت کو ہمیشہ علی الاعلان ٹوکتے ۔ بلکہ آپؒ کی اس سچائی پر آپ ؒ کے مکان کی تلاشی بھی لی گئی ۔ آپ ؒ سے جواب طلبیاں بھی کی گئیں، مگر آپؒ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔
شدھی سنگھٹن تحریک کے خلاف آپ ؒ نے حضرت امیر شریعت پیر جماعت علی شاہ صاحبؒ کے ہمراہ تمام ہندوستان کا سفر کیا، اور ہر مقام پر ہزار ہا مخلوق کو وعظ و نصیحت فرمائی ۔ تقریباً پانچ ماہ یہ سفر جاری رہا ۔ آپؒ کی اس انتھک مساعی اور پر اثر مواعظ کو دیکھ کر آپ ؒ کو رئیس الواعظین کا لقب حضرت امیر شریعت نے عطا فرمایا۔
بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ یعنی امیر شریعت کے ہمراہ تقریباً پچاس کے قریب علماء تھے جو وعظ بیان کرتے ۔ مگر جناب صاحبزادہ صاحب ؒکے وعظ کااتنا اثر ہوتا کہ ہر جگہ آپؒ ہی ان واعظین کے پیشرو ہوتے اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آپؒ کے وعظ کے دوران ہر طرف شوق و ذوق میں لوگ نعرہ ہائے ’’ اللہ ہو ‘‘ بلند کرتے اور لوگوں پر اتنی رقت ہوتی کہ بے ہوش ہوجاتے ۔ غرضیکہ آپ ؒ نے شدھی سنگھٹن تحریک کی نہایت ہی شدت کے ساتھ مخالفت کی ۔ اور آپ ؒ کا یہ سفر بہت ہی کامیاب رہا۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنان دین اسلام کے منصوبوں کو خائب و خاسر کیا۔ آپ ؒ حقیقی طور پر پشاور شہر میں عقائد اہل سنت و جماعت کے داعی تھے۔ آپؒ کے مزاج میں ہی نہیں بلکہ آپ ؒ کی رگ و بے میں حضور نورمجسم ، سید کائنات احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ کی محبت موجزن تھی ۔ ادب و احترام کی وجہ سے آپ حضورﷺ کا نام نامی و اسم گرامی نہیں لیتے تھے بلکہ حضورﷺ کے صفاتی اسماء بیس بیس تک لے کر حضورﷺ کا ذکر فرماتے ۔ اور جب سید پاک ﷺ کی تعریف و توصیف میں منہمک ہوتے تو آپ ؒ پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہوتی اور اس کیفیت کا اثر سامعین پر بھی ہوتا۔
آپ نے اپنے گھر کے سامنے مسجد شریف میں ’’مدرسہ تعلیم القرآن و الحدیث حنفیہ ‘‘ قائم کر رکھاتھا ۔ عصر سے لے کر عشاء تک آپ بنفس نفس اس دارالعلوم میں درس فرماتے ۔ عصر سے لے کر مغرب تک حدیث شریف کا اور مغرب سے عشاء تک قرآن مجید کا درس ہوتا۔ تہجد کی نماز پڑھ کر آپ اپنی آبائی مسجد ڈھیری باغباناں تشریف لے جاتے ، صبح کی نماز وہاں ادا کرتے۔
پشاور شہر کا بچہ بچہ آپ کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا ۔ آپ متواضع، ملنسار ، منکسر المزاج ، صاحب اخلاق حمیدہ ، اور انتہائی مہمان نوار تھے ۔ آپ کے درس میں علماء صلحاء امرا اور غربا غرضیکہ ہر قسم کے لوگ آکر فیض حاصل کرتے۔
خلافت کی تحریک میں بھی آپ نے جناب حضرت مولینا مولوی سید مقبول شاہ صاحب کے ہمرار خوب تن دہی سے حصہ لیااور پھر ہجرت کی تحریک میں خود غرض لوگوں کی وجہ سے آپ بددل ہوگئے اور عملی طور پر سیاسیات سے یکسوئی اختیار کر کے صرف اور صرف دینی تبلیغ اور تعلیم وتعلم کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ آپ کے درس میں خان بہادر ڈاکٹر حکیم اللہ خان صاحب، خان بہادر نقشبند خان صاحب ، حضرت آقا سید چن بادشاہ صاحب ، جناب مولونا مولوی حافظ عبدالحمید صاحب، پروفیسر عبیدالرحمن صاحب، جناب نصیرالدین پی ۔ اے ڈائرکٹر محکمہ تعلیم ، جناب عبدالرشید صاحب ارشد، چیف انجینئر ٹیلیفون ، جناب مشاق احمد صاحب صدیقی بے ۔ اے، حافظ تاج محمد صاحب، جناب غلام سرور صاحب سپر نٹنڈنٹ محکمہ کیمٹرولر، وغیرہ وغیرہ شامل ہوئے اور قرآن و حدیث سے وافر حصہ پایا۔ آپ کے درس کی برکت سے کہ اب تک آپ کے شاگردوں میں تبلیغ دین اور اشاعت قرآن و سنت کا جذبہ اور لگن موجود ہے۔ جو بھی جہاں ہے حسب المقدور دین محمدی کی خدمت کرتا ہے۔
پشاور شہر میں مجلس سیرت النبی ﷺ کی بنیاد رکھنے والوں میں آپ کی ذات ستودہ صفات پیش پیش تھی۔ جس اِس مجلس پر اہل حدیث حضرات کا غلبہ ہوا، تو آپ نے شاہی مہمان خانہ میں ایک نہایت ہی عظیم الشان اجتماع میں حضور ﷺ کی تعریف و توصیف پر تقریر کرکے اس مجلس سے علیحدگی اختیار کی ، اور پھر مجلس میلاد کے اہتمام میلاد شریف کے موقعہ پر جلوس کا اہتمام کروایا۔
پہلا جلوس ۱۳۴۲ھ میں اس فقیر کے زیر اہتمام یکہ توت سے نکلا جو رات کے تو بجے آپ کے دولت کدہ پر ختم ہوا اور پھر میلا د النبی ﷺ کا جلسہ ہوا۔ یہ آپ کے ہی جذبہ صادقہ کی برکت ہے کہ آج پشاور میں ہر ایک محلہ اور کوچہ میں میلاد شریف منائی جارہی ہے ۔ اس کی بنیاد آپ ہی رکھنے والے ہیں ۔ بلکہ اب تو ربیع الاول شریف کا تمام مہینہ میلاد شریف کے جلسوں میں گذر جاتا ہے۔
آپ نے صرف درس و تدریس مواغط کے ذریعہ ہی تبلیغ نہیں فرمائی بلکہ تحریر کے ذریعہ بھی دین حق کی اشاعت کی۔ آپ نے پشاور شہر میں چھوٹے چھوٹے پمفلٹوں کے ذریعہ اسلام کے بنیادی احکام عوام تک پہنچائے ۔ چنانچہ آپ نے احکام شب برات ، فضلیت رمضان ، سراج المشکوٰۃ فی مسائل الزکوٰۃ رسائل لکھ کر شائع کئے ۔ سراج المشکوٰۃ کا بنگالی زبان میں آپ کے شاگرد آغا محمد جان نے ترجمہ کروا کے بھی شائع کیا۔
حدیث شریف کے درس کے دوران میں اصول حدیث پر حضرت شاہ محمد غوث صاحب قادری ؒ کا رسالہ اصولِ حدیث آپ نے شامل درس فرمایا تھا۔ اِس کا ترجمہ نہایت ہی اعلیٰ فرمایا۔ انشاء اللہ وہ یہ فقیر بہت جلد شائع کروے گا۔ آپ نے قرآن پاک کا حاشیہ بھی تحریر کرنا شروع کیا تھا، مگر وہ پورا نہ ہو سکا۔
آپ کو جو بھی استفتاء آتا اس پر فقہہ حنفی کی روشنی میں مدلل جواب تحریر فرماتے واقعہ یہ ہے کہ آپ کی فقہاہت اور استنباط مسائل کا علم اس وقت ہوتا ہے جب کہ ان فتوؤں کو مطالعہ کرے جو آپ نے وقتاً فوقتاً دئیے۔
ایک بار آپ کو تپ محرقہ کا حملہ ہوا اور بہت شدید تھا۔ ڈاکٹر ، حکیم ، دوست احباب ، شاگر د آپ کی زندگی سے مایوس ہوگئے۔ آپ پر نیم بیہوشی سی طاری تھی، ذرا سنبھل گئے اور فرمایا کہ میں اس بیماری سے نہیں مرتا ۔ کیونکہ ابھی حضور ﷺ تشریف لائے ہیں اور حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ دس برس تجھے اور زندگی دے دی گئی ہے۔ چنانچہ آپ دس برس تک زندہ ہے۔
ایک بار میں حدیث شریف آپ کے سامنے بیٹھے پڑھ رہا تھا کہ آپ پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہوگئی فرمایا حضور ﷺ تمہارا یہ حدیث شریف کا پڑھنا سن رہے تھے اور بہت خوش تھے۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔
آخری ایام میں تو آپ بالکل از خود رفتہ ہوگئے تھے۔ اپنی ہستی کو فراموش کر دیا تھا اور ذات مبارک سید دوعالم ﷺ میں ہر وقت مراقب رہتے ۔
۱۳رمضان المبارک ۱۳۷۶ھ میں یہ علم و معرفت کا آفتاب غروب ہوگیا ، اور اپنے آبائی قبرستان میں ۱۴رمضان المبارک کو سپرد خاک کر دیا گیا۔
حضرت مفتی اعظم علامہ دوراں مولینا عبدالرحیم صاحب پوپلزئی ؒ
۱۳۱۰ھ تا ۱۳۶۴ھ
’’ دنیا کی سب قوموں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے لیکن انگریز قوم ہرگز قابل اعتماد نہیں‘‘
یہ الفاظ ہیں حضرت مفتی اعظم مولانا عبدالرحیم صاحب پوپلزئی مرحوم کے ۔ جنھوں نے سرزمین بے آئین میں رہ کر استبداد و تشدد کے طوفان میں انگریز سامراج کی مخالفت اور عوام مزدور اور دہقان کی حمایت کی ، جنھوں نے آخری سانس بھی قوم ووطن کی محبت پر نثار کر دیئے، جو کہ ایک بہت بڑے انقلابی لیڈر نڈر رہنما ، فاضل اجل ، عالم باعمل ، حریت پرور اور انسان دوست فرد تھے اور جن کی انتھک مساعی اور بے لوث قربانیوں کی بدولت اب تک فضائے سرحدمیں صحیح انقلاب کی گونج باقی ہے۔
آپ کا نام نامی و اسم گرامی عبدالرحیم ، مفتی اعظم لقب ہے اور پوپلزئی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ۱۸۹۰ہ میں بمقام پشاور حضرت مفتی سرحد مولینا عبدالحکیم صاحب کے گھر تولد ہوئے۔ آپ کے والد بزرگوار مفتی سرحد مولینا عبدالحکیم تھے، علمی حلقے میں آپ کا شہر ہ صرف صوبہ سرحد ہی میں نہیں ، بلکہ کابل ، قند ھار ، غزنی اور ہرات تک پھیلا ہوا تھا۔ ان تمام علاقوں کے لوگ جوق در جوق آآکر آپ کے وسیع علم سے مستفیض ہوتے۔ سیاسی اعتبار سے بھی آپ کی شخصیت نہایت اہم تھی ، آپ خلافت کمیٹی کے صدر تھے۔ مولینا عبدالرحیم صاحب کے دادا حضرت علامہ محمد امین صاحب کا شمار بھی صوبہ سرحد کے ممتاز ترین علماء میں ہوتا تھا۔
حضرت استاذ گرامی مرتبت مفتی اعظم مولینا عبدالرحیم صاحب پوپلزئی مرحوم نے ۱۹۰۸ء تک پشاور میں مختلف علماء سے اور بالخصوص اپنے والد محترم سے تعلیم حاصل کی ۔ کتب درسیہ سے فراغت حاصل کر کے ۱۹۰۸ء میں رامپور ہوتے ہوئے دارالعلوم دیو بند میں داخل ہوئے ۔ یہاں اس وقت شیخ الہند علامہ محمود الحسن صاحب شیخ الدرس تھے ۔ ۱۹۱۲ء میں آپ دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ اپنے استاد کا جس وقت بھی درس میں نام لیتے تو نہایت ہی ادب و احترام سے لیتے اور فرماتے ۔’’ کہ مجھے فخر ہے کہ شیخ الہند جیسے مجاہد میرے استاد ہیں‘‘۔
تعلیم سے فراغت حاصل کر کے آپ نے استاد کے ارشاد پر سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا ۔ ۱۹۱۹ء اور ۱۹۲۰ء میں جب ہجرت کی تحریک شروع ہوئی ، تو آپ نے نہایت ہی جانفشانی کے ساتھ اس تحریک میں قوم کی خدمت کی ۔ اپنی پر خلوص اور بے لوث خدمات کا سکہ ہر ایک کے دل پر بٹھا دیا۔ درحقیقت آپ کی سیاسی زندگی کا زمانہ کھلے طور پر یہیں سے شروع ہوتا ہے ۔ آپ کی حیثیت اس تحریک میں ایک قائد کی تھی۔
۱۹۲۷ء میں آپ نے ایک ہفت روزہ صحیفہ ’’سرفروش‘‘ کا اجراء کیا، جس میں تقریباً تمام مقالات ، شذرات اور مضامین آپ ہی کے رشحات قلم کا نتیجہ ہوتے تھے۔ صوبہ سرحد میں اِس وقت جبکہ ظلم و جور کی جابرانہ قوت نے جمہوریت اور آزادی کو دبا رکھا تھا۔ یہ اپنی قسم کا واحد اخبار تھا۔ جو کہ غریب عوام ، محنت کش، مزدور، اور مفلوک الحال لوگوں میں بیداری اور اپنے حقوق کی حفاظت کا جذبہ صادقہ پیدا کرتاتھا۔ انگریزی سامراج پر جائز اور تعمیری نکتہ چینی کرنا بغیر کسی خوف و خطر کے اِس اخبار کا طرۂ امتیاز تھا۔ آج اگر ہم یہ کہیں تو بے محل نہ ہوگا، اور بے جا بھی نہ ہوگا کہ صوبہ سرحد کی سیاسی بیداری میں اس اخبار کو بہت دخل رہا ہے۔
مولینا صاحب کی مسلسل کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ ۱۹۲۸ء میں یہاں کانگرس کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی ۔ مگر جب آپ نے دیکھا کہ کانگرس میں ایسے افراد ہیں جو سرمایہ دارانہ خیالات کے مالک ہیں اور غریب عوام کی خدمت نہیں کرتے ۔ نیز آپ مکمل اشتراکی خیالات رکھتے تھے۔ لہٰذا آپ نے چند اشتراکی رفیقوں کے تعاون سے ’’ نوجوان بھارت سبھا ‘‘ کے نام سے ایک الگ جماعت کا قیام عمل میں لائے ۔ آپ کا اس جماعت کا سرپرست بنایاگیا۔ صوبہ سرحد کا نوجوان اور باعمل طبقہ آپ کے ساتھ مل گیا ۔ آپ نے آنے والے انقلاب کو دیکھتے ہوئے صوبہ سرحد کے قریہ قریہ ، گاؤں گاؤں اور شہر شہر کا دورہ کیا۔ ایک بہادر ، شجاع اور نڈر انقلابی کی طرح دنیا کو یہ پیغام دیا۔ ’’دنیا چین و آرام کی زندگی بسر کرے ۔ ملک کا نظام حکومت معاشی اور اقتصادی خوش حالی کا کفیل ہو۔عدل وانصاف کا دورہ دورہ ہو، ظلم و استبداد کا استیصال کیا جائے، ظالم کی حمایت نہ ہو اور نہ مظلوم کی حق تلفی ہو‘‘۔
اس کے بعد آپ نے آزادقبائل کا دورہ کیا۔ اس سفر میں آپ کے ساتھ بڑے بڑے علما اور سیاسی کارکن بھی تھے۔ آپ کے اِس سفر کا ایک اہم مقصد (علاوہ دیگر مقاصد کے )یہ بھی تھا کہ انگریزوں کی اُن ریشہ دوانیوں کو طشت ازبام کیا جائے جو امان اللہ خان مرحوم سابق والئی افغانستان کے متعلق کی جارہی تھیں۔ چنانچہ آپ آزاد قبائل کے مشاہیر علماء مشائخ اور خوانین سے ملے اور انھیں حقیقت حال سے آگاہ کیا۔ اِس سفر میں آپ کو مصائب وآلام کا سامنا کر نا پڑا ۔ مگر آپ نے ان تمام تکالیف کا مقابلہ کیا۔ اور اواخر ۱۹۲۹ء میں واپس پشاور لوٹے ، اور اس تمام روئداد کو قلم بند کر کے عوام الناس کی معلومات کے لئے شائع کر دیا۔ اب آپ کی انتھک کوشش اور سعی پیہم سے تمام لوگ اور خصوصاً غریب عوام جہاد آزادی کے لئے بالکل تیار ہو چکے تھے۔ سوم نافرمانی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ جلسوں میں آپ کی تقاریر سے غریب اور نادار عوام آزادی کی تڑپ اور ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کے نعروں سے اپنے قلوب گرما رہے تھے۔
گورنمنٹ انگریزی نے ۲۳اپریل ۱۹۳۰ء کی صبح آپ کو مع دوسرے رفقاء کے گرفتار کر لیا۔ اسی دن ان لوگوں کی گرفتاری پر عوام میں بے چینی پھیل گئی ، مکمل ہڑتال کی گئی ، جلوس نکلے ، انگریزوں نے فوج طلب کر کے نہتے اور مظلوم عوام پر اندھا دھند مسلسل ساڑھے تین گھنٹہ تک گولی چلائی ، قصہ خوانی بازار شہدا ء کے خون سے لالہ زار بن گیا۔ قدم قدم پر لاشیں اور زخمیوں کی کراہنے کی آوازیں تھیں۔ کتنے نوجوان تھے جو اس دن شہید ہوئے اور کتنے بچے اس دن یتیم ہوئے۔ان تمام مصیبتوں اور تکالیف کا برداشت کرنا اور وطن عزیز کی آزادی کے لئے بیش اوبیش قربانیاں کرنا آپ ہی کی بے پناہ کوشش اور حصول آزادی کے لئے تیار کرنے کا نتیجہ تھا ۔ پشاورسے آپ کو گجرات جیل منتقل کر دیا گیا۔ ۱۹۳۰ء میں گاندھی ارون پیکٹ کے تحت آپ رہا ہوئے اور آخر ۱۹۳۱ء میں انگریزی سامراج کے خلاف ’’ اتمان زئی ‘‘ کے ایک عظیم الیشان جلسہ میں صدائے احتجاج بلند کی۔ اس جرم کی پاداش میں آپ کو تین سال قید کر دیا گیا او رہری پور جیل میں رکھا گیا۔ ۱۹۳۴ء میں آپ نے رہائی حاصل کی ۔ جب آپ گھر پہنچے تو آپ کو میونسپل حدود میں نظر بند کر دیا گیا۔ اِس دوران میں آپ نے بیت اللہ شریف کے سفر کا ارادہ کیا ۔ گورنمنٹ نے آپ کو سفر کی اجازت نہ دی ، تو آپ نے احکام توڑنے کی دھمکی دی ۔ نتیجہ گورنمنٹ نے آپ کو اجازت دے دی ۔ دو سال تک آپ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں رہے۔ جب آپ واپس تشریف لائے تو اسی طرح آپ نے آزادی وطن کی خاطر اپنی سرگرمیان شروع کر دیں۔ ۱۹۳۶ء میں اصلاحات کے تحت کانگرس نے یہاں اپنی حکومت بنائی ۔ ڈاکٹرخان صاحب وزیر اعظم مقرر ہوئے ۔ اب کانگرس جس کا یہ دعوی تھا کہ وہ غریبوں ، بھوکے ، ناداروں اور مفلوک الحال زمینداروں کے لہواور ہڈیوں پر بنی ہے سریر آراء حکومت ہو چکی ہے۔ حضرت مولینا مرحوم نے اس کانگرسی حکومت کو نواب آف طورو کے ظلم و جور سے آگاہ کیا جو اُس نے اپنے کمزور اور بے کس کسانوں پر روا رکھے تھے، مگر وہ حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ آپ نے برابر پراونشل کانگرس کو بھی اس اہم مسئلہ کی طرف متوجہ کیا۔ مگر اس طرف سے بھی کوئی جواب نہ ملا۔ آخر کار آپ کی ’’سرپرستی‘‘ میں ’’غلہ ڈھیر‘‘ تحریک شروع ہوگئی ۔ آپ نے ایک بہادر انقلابی کی طرف مفلوک الحال زمینداروں کی حمایت میں ’’ اپنی حکومت ‘‘ کے مقابلہ پر آکر ۱۹۳۷ء میں سینہ سپر ہوگئے۔ آپ کو حکومت کی طرف سے ہر قسم کا لالچ دیا گیا، مگر آپ کا ارشاد ہے۔
’’اس میں شک نہیں کہ زمانے کے دل فریب کرشمے مضبوط سے مضبوط ارادے کو بھی متزلزل کر سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ کامیابی کا راز عزیمت میں ہے اور چشمک آرزو کے فریب خوردہ ارادے دنیائے عزیمت کے حدود سے خارج ہیں‘‘
آپ نے اپنا یہ ارشاد سچا کر دکھایا اور مردان عزیمت ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ آپ نے انتہائی ہمت عزم اور استقلال کے ساتھ اس تحریک کو چلایا ۔ آخر اس اپنی حکومت نے ایک سرمایہ دار کی حمایت کرتے ہوئے مولینا صاحب کو گرفتار کر لیا اور ایک سال قید کی سزا دی ، نیز جیل میں عام قیدیوں سا سلوک آپ کے ساتھ کیا۔ اس قید کو بھی آپ نے صبر و استقامت کے ساتھ پورا کیا۔
۱۹۳۸ء میں رہا ہونے کے بعد وہی جذبہ صادقہ غریبوں کی امداد ، بیچاروں اور بیکسوں کی حمایت ، آپ نے ضلع ہزارہ کے غریب زمینداروں اور کسانوں کی حمایت کے لئے ہزارہ کسان کانفرنس‘‘ منعقد کی ۔ تمام ہزارہ کا دورہ کرنے کے بعد ۱۹۳۹ء میں پہلی ہزارہ کانفرنس منعقد کی جس کی صدارت کے فرائض آپ نے خود انجام دیئے ۔ غریب عوام کے مطالبات آپ نے کانگریس کے سامنے پیش کئے ۔ آخر پر اونشل کانگرس کمیٹی کا اجلاس ایبٹ آباد میں کروا کر مزارعین کے مطالبات منظور کروادیئے۔
اواخر ۱۹۳۹ء میں جب برطانوی استبدادیت نے غریب اور لاچار وزیرستانیوں پر ہوائی جہازوں کے ذریعہ بمباری ، توپوں کے ذریعے آتشیں گولے، مشین گنوں اور مسلح موٹروں کے ذریعے گولیوں کی آگ برسائی تو آپ نے اس ظلم وجبر کے خلاف بنوں میں جلسے منعقد کر کے حکومت کے خلاف تقاریریں کیں، اور عوام الناس کو ان مظالم سے آگاہ کیا، چنانچہ اس کلمہ حق کہنے پر آپ کو گرفتار کر کے پانچ سال قید کر دیا گیا، اور قید بھی بامشقت تھی۔ ایڈوئزری دور حکومت میں گورنمنٹ نے آپ کو اس شرط پر کہ آپ صرف بنون نہیں جائیں گے، رہا کرنے کافیصلہ کیا۔ مگر اس پیکر حق و صداقت اور علمبردار حریت نے کمال بے باکی اور جرأت سے جواب دیا ’’ کہ جب میں اس حکومت کو ہی عملاً تسلیم نہیں کرتا تو کسی شرط کے قبول کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ آخر تین سال کی قیدکے بعد آپ کو رہا کیا گیا۔ اس قید کے درمیان آپ کو پلورسی کی بیماری ہوئی اور اسی سے انتقال ہوا۔
چونکہ آپ کے خیالات غریبوں کی حمایت ، بیکسوں کی داد رسی کرنا تھا اِس لئے رجعت پسند طبقہ اور وہ کانگرسی طبقہ جو سرمایہ دارنہ ذہنیت رکھتا تھا آپ کے خلاف مذہب کی آڑ لے کر لغو اور فحش پراپیگنڈہ کیا کرتا تھا ۔ آپ کو طعنوں سے نوازا جاتا تھا۔ بالخصوص آپ یہ الزام لگایا جاتا کہ آپ کا طریق ملی مفاد کے خلاف ہے اور خطرناک ہے۔ مذہب کو اس سے نقصان پہنچتا ہے۔ مگر آپ تمام الزامات کا جواب کمال بردباری اور عمل کے ساتھ دیتے اور معاف فرما دیتے ۔ چنانچہ ایک موقع پر آپ نے جواب دیا۔ ’’آخر مجھے کوئی یہ تو بتائیے کہ قوم کی بہبودی ، ملک کی ترقی وخوش حالی ، مظلوم کی ہمدردی ، غمزدوں کی تشفی ، بیکسوں کی دلجوئی ، ظالم سے اعراض ، بنی نوع انسان کے ساتھ سلوک و رواداری ، کس مذہب میں منع ہے ، کس دین میں جرم اور کس تہذیب کے خلاف ہے۔ کیا اِسلام نے ان امور کی دعوت نہیں دی ، شریعت نے ان کا احساس نہیں دلوایا‘‘۔ فرماتے ہیں ’’ اگر جواب اثبات میں ہے تو بتلائیے کہ ۱۹۲۹ء سے لے کہ اسوقت تک میری متعدد تحریریں اور تقریریں کس موضوع پر تھیں۔ کیا ان میں اور متذکرہ بالا کے سوا مواد موجود ہیں جن کی وجہ سے مذہبی و ملی مفاد کو خطرہ پہنچتا ہے‘‘۔
آپ نے کابل کے تین سفر کئے تھے۔ ایک سفر والئی کابل غازی امان اللہ خان کے زمانہ میں، دوسرا سفر حضرت مولانا عبیداللہ صاحب سندھی مرحوم کی خواہش پر اور تیسرا سفر آپ نے قندھار تک کیا تھا۔
۱۹۳۴ء میں بیت اللہ شریف کا سفر کیا۔ آپ دوسال تک حرمین شریفین میں مقیم رہے ۔ بادشاہ ابن سعود نے آپ کو مہمان رکھا اور بہت خاطر و مدارات کی۔
حضرت علامہ اگرسیاست کے میدان میں ظلم وجور کے خلاف ایک بہادر نڈر اور انقلابی مجاہد کی طرح سینہ سپر کھڑے رہے تو اس کے ساتھ علم و ادب اور عرفان کے دریابھی بہاتے رہے۔
اپنے مکان (واقعہ محلہ گاڈیخانہ پشاور) پر تمام دن درس جاری رہتا۔ طلباء کا جمگھٹا ہوتا۔ کوئی تفسیر پڑھ رہا ہے تو کوئی حدیث شریف ، کوئی فقیہہ پڑھ رہا ہے تو کوئی اصول فقہہ ، کوئی تصوف کی کتابیں پڑھ رہا ہے تو کوئی اخلاق کی ۔ کوئی منطق پڑھ رہا ہے تو کوئی فلسفہ ۔ غرضیکہ ہر علم وفن کا درس جاری ہے۔ جب کوئی استفتاآتا تو آپ قلم برداشتہ اُ س کا جواب لکھ دیتے۔ وعظ فرماتے تو حکمت اور موعظمت کے موتی بکھیرتے آپ کو اِسی دینی خدمت پر متفقہ طور پر صوبہ سرحد او را س کے تمام ملحقہ آزاد قبائل نے مفتی اعظم تسلیم کیا۔ صوبہ سرحد ، کابل، قندھار، تاشقند اور آزاد قبائل میں سینکڑوں کی تعداد میں آپ کے شاگرد موجود ہیں۔
تصوف میں آپ جناب مجاہد کبیر حضرت نجم الدین صاحبؒہڈہ کے پیرو تھے ۔ اِسی لئے مجاہد جلیل صاحب فقر وغنا جناب حضرت حاجی صاحب ترنگزئی ؒ سے بہت متاثر تھے۔
جب یہ پیکر صبر و استقلال آخری بار قید سے رہا ہوئے تو بہت ہی کمزور اور نحیف ہوچکے تھے۔ دوران قید ہی آپ کو پلورسی اور گردہ درد کا مہلک دورہ پڑاتھا۔ مگر اس سے کچھ سنبھل گئے تھے۔ پھر جب دوسری بار دورہ پڑا تو اس دورہ ے جان بر نہ ہوسکے۔ بیماری کے ایام میں جب کبھی حاضری کا موقع ملا، تو فرماتے’’ امتحان کے پرچے دے رہا ہوں ۔ دیکھو کب امتحان ختم ہوتا ہے‘‘۔ تقریباً دس ماہ علیل رہ کر ۵۴ برس کی عمر میں بروز بدھ ۳۱مئی ۱۹۴۴ء کو یہ آفتاب ِعلم و عمل غروب ہوگیا۔
حضرت قدوۃ السالکین سید شریف حسین صاحب شاکر بغدادیؒ
۱۳۳۰ھ تا ۱۳۷۹ھ
آپ کا اسم شریف یہ شریف حسین تخلص شاکر ، والد کا اسم گرامی سید محمد سعید جان صاحب، دادا کا اسم مبارک حضرت الحاج آقا سید سکندر شاہ صاحب (رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)تھا اور ’’شاکر بغدادی‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔ آپ کی عمر صرف تین ماہ کی تھی کہ والدہ صاحبہ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا ۔ جب عمر چار برس کی ہوئی تو حضرت حافظ جی سید ولایت شاہ صاحب مرحوم سے قرآن مجید شروع کرایا گیا۔ اور دیگر فارسی اُردو کی کتابیں بھی پڑھنی شروع کیں۔ ساتھ ہی پرائمری سکول میں ا نگریزی تعلیم بھی شروع کر دی گئی ۔ آپ نے الف ۔ اے (انگریزی کی ) کلاس پاس کی اور فارسی میں منشی فاضل کیا۔ عربی کی تعلیم حضرت علامہ وقت صدار المدرسین داراالعلوم رفیع الاسلام بھانہ ماڑی مولینا مولوی سید محمد ایوب شاہ صاحب سے تکمیل کی۔
کچھ مدت مشن ہائی سکول اور خالصہ ہائی سکول میں فارسی پڑھاتے رہے ، بردارم مسعود انور صاحب شفقی ایڈیڑ روز نامہ انجام نے آپ کے سکول کی زندگی کے متعلق لکھا۔ ’’آغا صاحب (مرحوم) سکول کے ماحول میں بہت بلند کردار اور حد درجہ کے خود دار تھے ، وہ فارغ اوقات میں ہمیشہ سکول کی لائبریری میں مطالع میں مشغول دیکھے گئے ۔ میں نے کبھی بھی ان کو دوسرے استادوں سے بے تکلف ہوتے نہیں دیکھا اور نہ ہی وہ کبھی کسی سے مرعوب نظر آئے ۔ ہمیشہ انھوں نے اپنے آپ کو عام ماحول سے بلند رکھا، اور دوسرے کو اپنے اخلاق کی بلندی اور کردار کی پاکیزگی سے مجبور کیا کہ وہ ان کی ضرورت ہر قدم اور ہر مرحلہ پر محسوس کریں‘‘۔
جناب خلیفہ عبدالرشید صاحب تحریر کرتے ہیں’’ آپ بچپن ہی سے بڑے فیاض اور سخی تھے ۔ کسی سائل کا سوال رد نہیں فرماتے تھے ۔ بچپن ہی سے اولیاء اللہ اور مزارات سے بڑا اُنس تھا۔ جب کسی بزرگ یا مزار کا پتہ ملتا تھا۔ فوراً وہاں تشریف لے جاتے تھے اور فیوض و برکات حاصل کرتے تھے‘‘۔
آپ کے والد کا ۱۹۳۵ء میں جب انتقال ہو ا۔قل کے دن سردار عبدالرب صاحب نشتر مرحوم سابق گورنر پنجاب کی ایک مختصر سی تقریر کے بعد آپ کے چچا جناب حضرت آغا سید تجمل حسین صاحب نے آپ کو اپنے والد کی جگہ صاحب سجادہ مقرر کر دیا اور سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں بیعت کر کے صاحب مجاز و معنعن بھی کردیا، اور جب تک زندہ رہے آپ کی تربیت کرتے رہے۔
صاحب سجادہ ہونے کے بعد اپنے آباواجداد کی طرح اپنے سلسلہ کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہو گئے۔ آپ کی محبت بھری شخصیت اور اخلاق کریمانہ نے تمام مریدین و مخلصین کو آپ کو گرویدہ بنا رکھا تھا۔ ہندوستان پنجاب اور افغانستان کے اکثر سجادہ نشین آپ سے بڑی محبت کرتے اور آپ کی بڑی عزت کرتے تھے۔ ذکر اذکار کی محفلیں منعقد کرتے اور مریدین کو ہمیشہ ذکر باالجہر کرنے کی تلقین کرتے۔ آپ کے حلقہ ذکر میں ہمیشہ ایسی گرمی اور یمن و برکت ہوتی تھی کہ لوگ بیتاب ہو کر وجد و حال میں تڑپتے تھے۔نماز، روزہ اور شریعت کی انتہائی پابندی کرتے تھے۔ اور باقاعدہ نماز تہجد ادا کرکے اپنے اورا دو اشغال میں مصروف ہوجاتے۔ سلسلہ چشتیہ میں لاہور، چونیا ، قصور کے اکثر احباب کو مرید کیا۔ سماع کی محفل میں انتہائی آداب کی پابندی کرتے اور آپ کی توجہ اور نظر کرم سے اہل محفل ماہی بے آب کی طرح تڑپتے رہتے ۔ آپ پر خود بھی وجد و حال کی کیفیت رہتی ۔ باوجود ان سب باتوں کے ہمیشہ اپنی ذات کی نفی فرماتے ۔
آپ نے معرفت الہٰی کے حصول کے لئے دور دراز کے سفر کئے ۔ مزار شریف، کابل ، بغداد شریف ، نجف اشرف ، کربلائے معلی اور ہندوستان کی تمام مزارات (باالخصوص اجمیر شریف تو ہر سال تشریف لے جاتے تھے)پر حاضر ہوئے۔ اثنائے سفر میں خدا رسیدہ لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں اور فیوض و برکات حاصل کئے۔
آپ کو ادب اردو، اور شعر وشاعری میں بڑا درجہ اور مقام حاصل تھا ۔ آپ حضرت علامہ سید وحید الدین صاحب بے خود دہلوی ؒ کے شاگر تھے۔ جناب بے خود صاحب کو بھی آپ سے بڑی محبت تھی۔ جب کبھی بھی دہلی تشریف لے گئے تو جناب بے خود صاحب خاص طور پر آپ کی خاطر مشاعرہ کی مجلس ، آپ کی صدارت میں منعقد کرواتے۔ ایک بار لائل پور میں عظیم الشان مشاعرہ ہوا۔ جس میں ہندوستان کے چیدہ چیدہ شعراء مدعو تھے۔ ان میں آپ کے اُستاد بھی تشریف لائے تھے۔ آپ کو اِس مشاعرہ میں خاص طور پر دعوت دی گئی تھی اور ایک نشست کی صدارت بھی فرمائی ۔ ملک کے بلند پایہ ادبی رسائل میں آپ کے مضامین اور اشعار اکثر شائع ہوتے رہتے تھے۔آپ نے اپنا کافی کلام چھوڑا ہے۔ جس میں توحید، نعت اور غزل ہے ۔ کلام پر طبیعت کے مطابق تصوف کا رنگ غالب تھا۔
آپ کی صحت بہت اچھی تھی ۔ایک بار آپ مری تشریف لے گئے۔ مری میں آپ پر ’’وجع القلب ‘‘ کا دورہ پڑا، اس تکلیف میں آپ نے چند دن گذارے اللہ تعالیٰ نے آپ کو آرام عطا فرمایا۔ ایک برس کے بعد لاہور سے پشاور آتے ہوئے ریل گاڑی میں رمضان المبارک کے مہینہ میں آپ پر شدید قسم کا دورہ پڑا ۔ اب آپ کی طبیعت نہ سنبھلی ۔ پشاور شہر کے معروف ڈاکٹر سید علی رضاصاحب آپ کے معالج تھے۔ نماز عید حسب سابق حضرت سلطان العارفین سید حسن صاحبؒ کی مزار پر ادا کرنے کے بعد گھر تشریف لائے دو دن کے بعد رات کے دو بجے تیسری بار آپ پر قلب کا انتہائی شدید قسم کا دورہ پڑا ۔ جس کی وجہ سے تکلیف بڑھ گئی اور آپ لیڈی ریڈ نگ ہسپتال میں داخل کرا دیئے گئے۔ تیسرے دن یعنی ۷ شوال ۱۳۷۹ ھ کو اچانک آپ نے ایک نعرہ ’’اللہ ‘‘ کا لگایا اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔ انگریزی کی ۴ اپریل ۱۹۶۰ء پیر کا دن تھا۔
آپ کی وفات کی خبر تمام پشاور میں بجلی کی طرح پھیل گئی ۔ پشاور کے بڑے بڑے بازار بند ہوگئے ۔ دوسرے دن آپ کا جنازہ صبح دس بجے اُٹھایا گیا ۔ ہزار ہا لوگ پشاور، مضافات ، راولپنڈی ، لاہور، قصوراور چونیاں اور ہزارہ سے آئے اور جنازہ میں شامل ہوئے۔ محترمی سلطان محمد صاحب زار نے اِس قطعہ سے آپ کی تاریخ وفات نکالی۔
زارؔ محسن مرے، میرے مشفق
9چل دئیے چھوڑ کے ، مجھے مغموم
3فکر تاریخ پہ یہ آئی ندا!
/وائے داغ شریف جان مرحوم
¦آپ کا صرف ایک ہی سات سالہ فرزند سید محی الدین عابد فوزی الگیلانی ہے، سلمہ الرحمن۔
حضرت مولینا سید فضل صمدانی صاحب بنوری مدظلہ العالی
۱۳۰۰ھ (ابھی زندہ ہیں)
آپ کا اِسم شریف سید فضل صمدانی صاحب ہے۔ والدکا اسم سید فضل ربانی صاحبؒ تھا۔ آپ حضرت آدم بنوری ؒ کی اولاد ہیں۔ حضرت غوث زماں میاں محمد عمر صاحب المعروف چمکنی بابا صاحبؒ نے آپ کے اجداد کو لوئے بابا احمد شاہ ابدالی درانی کے دور حکومت میں بنور سے بلاکر یہاں پر مقیم کیا۔ آپ اپنے آبائی سلسلہ طریقت میں جو نقشبندیہ مجددیہ آدمیہ سے منسوب ہے۔ منسلک ہیں۔ آپ کا خاندان نسلا بعد نسلا علماء و فضلا ء اور مشائخ کا گھرانہ چلا آتا ہے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد حضرت مولینا مولوی شاہ رسول صاحب بالا گھڑی مدرس مدرسہ حافظ جی صاحب گنج ، مولینا مولوی غاز والدین صاحب امازو گھڑی ، اور دیگر علماء وفضلاء سے درس نظامی کی تکمیل کرکے علوم متداولہ سے فراغت حاصل کر لی۔
حضرت قاری دلاور صاحب گھڑی باغباناں سے فن قرأت و تجوید کو پورا کیا ۔ حضرت قاری دلاور صاحب جب وقت تلاوت قرآن مجید کرتے تو اگر مشرک بھی آپ کی تلاوت سنتا تو زار زار روتا۔
تعلیم علوم السلامیہ سے فارغ ہوکر آپ نے ۱۳۴۱ھ میں اپنے مکان کے ساتھ ہی ایک دارالعلوم کی بنیاد رکھی ، جس کے ساتھ پرائمری تک مروجہ تعلیم کا بندوبست کیا۔ اس دارالعلوم کا نام ’’ رفیع الاسلام ‘‘ رکھا۔ اس دارالعلوم میں درس نظامی پڑھانے کا اہتمام کیا گیا۔ ’’استاذ العلماء ‘‘ جناب حضرت مولینا مولوی سید محمد ایوب شاہ صاحب مدظلہ مدرس بنائے گئے۔ پانچ مدرسین دیگر علوم و فنون پڑھانے پر مقرر کئے گئے۔ چار مدرس درجہ پرائمری میں مقرر کئے گئے۔ اس دارالعلوم میں بیک وقت تین سو طلباء تعلیم حاصل کرتے ۔ اس دارا لعلوم کے فضلاء اس وقت ’’شیخ الحدیث ‘‘ کے ممتاز عہدوں پر مختلف مدارس میں مامور ہیں اور بعض کالجو ں میں عربی اور اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ اس دارالعلوم میں طلباء کا لباس ایک ہی قسم کا تھا ۔ یعنی سفید لباس، سیاہ شیروانی اور ترکی سرخ ٹوپی۔
آپ نے اِس دارالعلوم کے لئے کبھی بھی سرکار انگریزی سے کوئی رعایت اور مدد طلب نہیں کی ۔ اور اگر برطانوی حکومت نے کبھی امداد وغیرہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے اُس قطعاً قبول نہیں کیا۔ یہ دارالعلوم ۳۵ برس یعنی ۱۳۷۶ھ تک جاری رہا۔
آپ کے پاس ایک انتہائی نایاب اور نادر کتب خانہ ہے، جس میں تقریباً آٹھ اور دس ہزار کے قریب کتابیں تھیں۔ ان میں تقریباً چار ہزار قلمی نوادرات تھے۔ ہندوستان اور پاکستان کے عظیم مورخ اور اکابر علماء ان کتابوں کو دیکھنے اور مطالعہ کرنے کے لئے دوردراز سفر کرکے آتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے ۔ تقریباً نصف کتابیں پشاور یونیورسٹی نے تو اپنی لائبریری کے لئے خرید لی ہیں اور اور چند کتابیں نیشنل لائبریری کراچی نے خریدی ہیں ۔ اس وقت بھی آپ کے پاس بہت ہی نایاب کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔
آپ نے دوبار حرمین الشریفین کا سفر کیا۔ اور ایک بار باقاعدہ طور پر ہندوستان کا سفر کیا۔ جس میں مشائخ اور علما سے ملے، اور ان کی صحبتوں میں رہے مگر آپ فرماتے ہیں کہ ’’ اگر میں شریعت اسلامیہ کی اتباع میں مطمئن ہوں تو ان تمام مشائخ اور علماء میں صرف حضرت خواجہ نجم الدین صاحب ہڈہ ملا صاحب سے مطمئن ہوا ہوں‘‘۔
سیاسیات میں آپ نے جمعیۃ العلماء ہند کے ساتھ تعلق رکھا اور آپ اپنے سرحد کے علاقہ کے جنرل سیکرٹری تھے۔ جمعیۃ العلماء ہند نے جنگ آزادی کے لئے جو جو پروگرام بنائے ۔ آپ نے اس علاقہ میں اس کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی، بلکہ بڑی گرم جوشی سے اس پر عمل پیرا ہوئے۔ جمعیۃ العلماء ہند کا امروہہ شہر (یوپی) میں جب سالانہ اجتماع ہوا تو وہاں پر جمعیۃ کے اکابرین نے ہندو کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا لائحہ عمل مرتب کیاتو آپ ہی ایک فرد واحد تھے جنہوں نےýÿÿÿدث سے حاصل کی (آپ کی یہ سند ، ’’سند مکی ‘‘کہلاتی ہے جو مسمٰی ہے ’’ثبت امیری ‘‘ سے) فصوص الحکم ، فیوحات مکیہ ، مثنوی حضر ت مولینائے روم اور دیگر رسائل تصوف ، حضرت قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ (جو کہ تصوف کے علوم میں مجدد تھے) سے سبقاً سبقاً پڑھے۔ نیز اعلیٰ حضرت قبلہ پیر مہر علی شاہ صاحب ؒ سے سند حدیث بھی حاصل کی ۔ ایک عرب محدث گولڑہ شریف تشریف لائے تھے۔ آپ کو انھوں نے بھی سند حدیث مرحمت فرمائی تھی ، گویا استاذ گرامی قدر کے پاس حدیث مبارک کی تین مستند سندیں ہیں۔
آپ نے سلسلہ چشتیہ میں حضرت قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی سے بیعت کی ، منازل سلوک طے کر کے قبلہ پیر صاحبؒ نے آپ کو معنعن اور صاحب مجاز کیا۔ آپ پر قبلہ پیر صاحبؒ کی توجہات اور عنایات سب سے زیادہ تھیں۔ اسی لئے آپ کا سینہ مبارک عرفان الٰہی کا مرکز انوار و تجلیات بن گیا۔ جس وقت آپ جمعہ کا وعظ ارشاد فرماتے تو عوام اور خواص سب حسب مراتب آپ کے مواعظ حسنہ سے سیراب ہوتے ۔ وعظ شریف کے دوران ایک عجیب روحانی کیفیت ہوتی ، کوئی اللہ ہو کے نعرے بلند کرتے ، کسی کے آنسو نہ تھمتے اور کوئی محوحیرت و استغراق ہوتا۔ ہر جمعہ کی نماز کے بعد حلقہ ذکر الٰہی فرماتے۔
آپ نے چالیس برس تک اپنے والد عالی مرتبت کی مسجد یعنی درسگاہ میں قرآن مجید، بخاری ، مسلم ،ترمذی ، ابو داؤد اور ابن ماجہ کا مکمل و اکمل درس دیا۔ مثنوی شریف اور تصوف کی دیگر کتب پڑھائیں۔
آپ کی وسعت علمی کا وہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ جو آپ کے درس میں یا آپ کے مواعظ میں مستقل طورپر بیٹھے ہوئے ہوں۔ نیز جنہوں نے آپ کو اِ س مقدمہ کے پڑھا ہو جو آپ نے قبلہ عالم حضرت گولڑوی ؒ کی ان فارسی تقاریر کے مجموعہ پر لکھا ہے، جو حضرت قبلہ پیر صاحب فصوص الحکم پر فرمایا کرتے تھے۔ وہی جان سکتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو کتنے بحر بے کراں علم سے نوازا ہے اور اپنے شیخ محترم کا عشق آپ پر اتنا مستولی اور غالب ہے کہ ہروقت اپنے شیخ کا ہی تذکرہ آپ کی زبان فیض ترجمان پر رہتا ہے۔ او ر انہی کے ارشاد عالیہ سے مجلس کو منور کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت اور اس دور میں مسئلہ ’’وحدت الوجود‘‘ کے علم اور سمجھانے میں آپ مجتہد اور امام ہیں ، اتنے مشکل اور پیچیدہ مسئلہ کو آپ کا علم نہایت ہی آسان اور مختصر الفاظ میں حل فرما دیتا ہے۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ۔ اس وقت اگرچہ آپ کی عمر اسی برس سے بڑھ چکی ہے۔ مگر آپ کا علم اسی طرح پختہ اور جوان ہے۔ فتوحات مکیہ ، فصوص الحکم اور صوفیاء کی عبارات زبانی پڑھاتے ہیں اور اولیائے کرام کے اشعار بھی متعلقہ مسئلہ پر پیش فرماتے ہیں۔
آپ کے شاگرد اس وقت بھی صاحب افتاء ااور صاحب درس ہیں او رہزار ہا لوگوں نے آپ کے درس سے فیض پایا ہے۔ آپ نہایت ہی خلق محمدی ﷺ کا نمونہ ہیں۔ متواضع ، منکسر المزاج ، مہمان نواز ، کریم النفس اور کمال درجے کے شفیق و مہربان ہیں۔ آپ کے اسی علم و فضل اور اخلاق حمیدہ کا وجہ سے پشاور کا ہرفرد آپ کی تعظیم و تکریم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہم سب پر قائم رکھے ۔ آمین
آپ کے دو فرزندہیں۔
جناب بشیر احمد صاحب آج کل آپ اپنے والد محترم کے جانشین ہیں۔ درس کا کام آپ خو د کرتے ہیں ۔ ہفتہ میں تین دن ترجمہ و تفسیر پڑھاتے ہیں اور تین دن حدیث شریف پڑھاتے ہیں ۔ جمعہ اور عیدین کے خطبات وغیرہ بھی دیتے ہیں۔ بہت ہی بلند اوصاف اور اوصاف حمیدہ کے مالک ہیں۔ علوم کی تکمیل اپنے والد گرامی سے کی ہے اور منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا ہے۔ اِس وقت آپ کی عمر ۳۵برس ہے۔
دوسرے فرزند مولینا مولوی غلام احمد صاحب ہیں ، پشاور میں آپ کو ’’شیر سرحد‘‘ اور ’’ڈپٹی صاحب‘‘ کے القاب سے مشہور ہیں۔ شاعر بھی ہیں، کامل تخلص کرتے ہیں۔ دینی تعلیم والد صاحب کے زیرسایہ کی ۔ انھوں نے بھی منشی فاضل کیا ہے۔ بہترین واعظ ہیں، تین تین گھنٹہ مسلسل فرق باطلہ کا مدلل رد کرتے ہیں اللّٰھم رد فزد ۔ اس وقت آپ کی عمر ۲۸ برس ہوگی ۔
گویا پشاور شہر میں میاں صاحب کا گھرانہ مسلسل نوے برس ے قرآن و حدیث کی خدمت کر رہا ہے۔
حضرت استاذ الاساتذہ سید محمد ایوب شاہ صاحب جعفری
۱۳۱۶ھ (ابھی زندہ ہیں)
آپ کا اسم شریف سید محمد ایوب شاہ صاحب جعفر ی، بن سید عمر قدس سرہ بن محمد حسن ، بن محمد اکرم ، بن محمد امان ، بن پیر محمد صاحبان ہے۔ آپ کا لقب صدر المدرسین اور اُستاذ الاساتذہ ہے۔ جناب حضرت سید محمد امان صاحب علاقہ کابل (افغانستان ) موضع چار دیہی کے رہنے والے تھے، وہاں سے چل کر موضع تہکال بالا میں قیام کیا۔ کچھ عرصہ کے بعد کیمبل پور تشریف لے گئے۔ سرداران موضع موسیٰ نے آپ کو دو سو جریب زمین بطور ہدیہ کے نذرانہ پیش کی، آپ نے قبول کر لی اور مستقل سکونت موضع موسیٰ میں اختیار کر لی۔
حضرت مولینا محمد اکرم صاحب نے دینی علوم حاصل کئے اور اپنے لڑکے محمد حسن صاحب کو بہت اچھی طرح تعلیم و تربیت سے پروان چڑھایا ۔ جن صاحب نے کافیہ پر کابلی اور باسولی شرحیں لکھیں وہ جناب مولینا سید محمد اکرم صاحب کے شاگر د تھے۔
جناب مولینا سید محمد ایوب شاہ صاحب جعفری کے والد جناب سید عمر صاحب قدس سرہ، بہت بلند پایہ عالم اور محدث تھے۔ یوسف زئی کے علماء سے علوم معقول و منقول کی تکمیل کی۔ پشاور شہر کے علاقہ بھانہ ماڑی کے مشہور و معروف عالم جناب سید اکبر شاہ صاحب مرحوم سے منطق پڑھی ۔ جناب سید عمر صاحب مرحوم اپنے وقت کے صدر المدرسین تھے۔ پنجاب و سرحد کے بڑے بڑے اکابر و اعاظم علماء آپ کے شاگر د تھے۔ حضرت استاذی مولینا مولوی سید محمد ایوب شاہ صاحب جعفر ی نے اپنے والد سے علوم اسلامیہ پڑھے ۔ حضرت مولینا مولوی علامہ وقت قطب الدین صاحب بن شہاب الدین صاحب ساکن غورغشتی ، حضرت فقیہہ اعظم مولینا مولوی محمد صدیق صاحب بن عبدالرحیم صاحب ساکن ڈاگی یارحسین ، حضرت مولینا صاحب ڈھیری میاں گان نزد صوابی ، حضرت مولینا میاں صاحب مولوی محمد شریف صاحب ساکن نروبی ، حضرت علامہ فقیہہ عصر ملا صاحب شاہ منصور اور اسی طرح آپ نے کئی اور اُستاذان کاملین سے علم تفسیر ، اصول تفسیر ، فقہ، اصول فقہ ، منطق ،فلسفہ ، الہٰیات ، فصاحت و بلاغت ، ہیئت، نجوم کا علم حاصل کیا۔ علم حدیث اور اصول حدیث حضرت محدیث جلیل علامہ اجل مولینا مولوی شاہ رسول صاحب ساکن بالا گھڑی نزد مردان سے مکمل پڑھ کر سند حاصل کی۔ جب آپ نے سند فراغت حاصل کی تو اسی مدرسہ میں جس میں کہ آپ کے اُستاذ حدیث مدرس تھے(یعنی مدرسہ اسلامیہ خواجہ معروف صاحب گنج پشاور) مبلغ ۱۵روپیہ ماہوار پر مدرس مقرر کئے گئے۔
۱۹۲۵ء سے لے کر ۱۹۳۹ء تک یعنی پورے چودہ برس دارالعلوم رفیع الاسلام بھانہ ماڑی پشاور میں بحیثیت صدر المدرسین درس نظامی کا مکمل درس دیتے رہے۔ استفتاء کاکام آپ ہی سرانجام دیتے ، اور دیگر مقدمات اور جھگڑے جو آتے وہ آپ ہی فقہہ حنفی کی روشنی میں فیصلہ کرتے۔
۱۹۳۹ء سے لے کر ۱۹۴۰ء تک گورنمنٹ ٹریننگ سکول ، میں ایس ، دی کی کلاسوں کو پڑھاتے رہے۔ پھر ۱۹۴۰ء سے لے کر ۱۹۵۰ء تک یعنی دس برس اسلامیہ ہائی سکول (گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۳) میں عربی مدرس رہے۔ ۱۹۵۸ء سے لے کر ۱۹۶۲ء تک آپ مردان کی اکبر مموریل کالج کی جامع مسجد المعروف ’’ مسجد زبیدہ‘‘ میں خطیب رہے ۔ اور درس بھی پڑھاتے۔
سلم ، میر زاہد، قطبی ، کندیا اور قاضی مبارک وغیرہ منطق کی کتابیں زبانی یا د ہیں۔ مناظرہ سے آپ ہمیشہ یکسو رہتے ہیں۔ مگر تحقیق حق آپ کا شعار ہے۔ مجتہدانہ خیالات کے حامل ہیں۔ حافظ الفقہہ اور حافظ الحدیث ہیں۔
اعتقاداً حنفی سنی ہیں۔ آپ نے فرمایا ’’ کہ میں اعلیٰ حضرت احمد رضاخان کی تحقیق کو حق سمجھتا ہوں اور اولیاء کرام کی کرامات زندگی اور موت کے بعد حق جانتا ہوں‘‘۔ نیز آپ آج کل کے بدمذہبوں کا رد بڑی شدت سے کرتے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل اور مولوی فاضل کی سند بھی لی ہے۔
آپ کے شاگردوں کا حلقہ بھی وسیع ہے۔ صوبہ سرحد اور افغانستان کے علاقہ میں ہرجگہ آپ کے شاگرد صاحب درس و افتاء ہیں، اور علم کے مدارج علیا پر فائز ہیں۔ صرف آپ کے شاگرد صاحب علم وفضل ہی نہیں ، بلکہ صاحب سلوک و سجادہ نشین بھی ہیں۔ اسی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ذات علم اور تصوف کی جامع ہے۔
برصوات میں بیرے بابا صاحب ، پشاور شہر میں جناب آقا سید شریف حسین صاحب قادری چشتی ، علاقہ لیلونڑے صوات میں حضرت مولینا مولوی محمداسماعیل صاحب صاحبان سجادہ تھے اور موخر الذکر اپنے علاقہ کے قاضی کے عہدہ پر فائز ہیں۔
جناب مولینا مولوی سید محمد ایوب جان صاحب بنوری ، آپ نے بھی ریاضی اور مطول تک کتابیں آپ سے پڑھیں ۔ آج کل دارالعلوم سرحد کے مہتمم ہیں اور حدیث شریف (صحاح ستہ) پڑھاتے ہیں۔ جناب مولانا مولوی عبداللطیف صاحب ، شیخ الحدیث دارالعلوم سرحد ، جناب مولینا مولوی عبدالودود صاحب قریشی مہتمم دارالعلوم اشرفیہ پشاور ، جناب مولینا مولوی حاجی غلام سرور صاحب ساکن بکٹ گنج مردان، آپ مردان میں خطیب ہیں۔ جناب حضرت مولینا مولوی سید مبارک شاہ صاحب ڈسٹرکٹ خطیب بھانہ ماڑی پشاور، جناب مولینا مولوی محمد یعقوب صاحب اور جناب مولینا مولوی محمدصاحب ساکناں کٹہ خٹ، علاقہ مردان اور جناب سیٹھی محمد اسماعیل صاحب ایم۔اے پرنسپل گورنمنٹ کالج پشاور اور اس فقیر کو بھی آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے۔
اگرچہ اس وقت آپ پر ہلکا سافالج کا حملہ ہوا ہے جس کا اثر بینائی پر بھی ہوا۔ مگر پھر بھی آپ کا ذہن اور علم اسی طرح جوان ہے۔ حافظہ بہت ہی اعلیٰ ہے۔ آپ کی عمر ۶۷برس ہے۔
تکملہ
حضرت شیخ جنید پشاوری ؒ
۱۰۶۹ھ تا ۱۱۹۶ھ
آپ کا مشہور اسم گرامی شیخ جنید پشاوری ہے۔ اور القاب شیخ المشائخ ، بحر معانی اور جنید ثانی ہیں۔
آپ حیدر آباد (سندھ) میں ۲۷رجب المرجب ۱۰۶۹ھ بروز پنجشنبہ (جمعرات ) پیدا ہوئے۔ حیدر آباد میں ہی سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے ایک بزرگ ولی اللہ جناب حضرت میاں عبدالحی صاحب سندھی سے طریقہ نقشبندیہ مجددیہ میں مرید ہو کر خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے۔ جناب حضرت میاں عبدالحی صاحب نقشبندی سندھی نے ۱۶شوال ۱۰۴۹ھ میں حضرت گرامی منزلت شیخ سعد اللہ صاحب وزیر آبادی سے بیعت ہو کر سند خلافت حاصل کی تھی ۔
حضرت شیخ جنید صاحب ؒ جب سلسلہ نقشبندی میں سلوک و معرفت کے منازل طے کر چکے تو سیاحت کے لئے رخت سفر باندھا۔ حیدر آباد سے روانہ ہو کر آپ ملتان پہنچے ۔ اس وقت ملتان میں حضرت قطب الاقطاب شیخ احمد ملتانی قادری کا سلسلہ عالیہ قادریہ میں علم مشیخیت بلند تھا۔ آپ ان کی خدمت میں حاضرہو کر سلسلہ عالیہ قادریہ میں مرید ہوگئے اور زہد و ریاضت و چلہ کشی شروع کر دی۔
آپ زاہد مرتاض تھے۔ قائم اللیل اور صائم الدھر تھے، زہد اور ریاضت آپ کا شعار تھا۔ سلسلہ ہائے طریقت کی اشاعت و ترویج آپ کی زندگی کا مقصد تھا۔ اور شریعت محمدیہ و اتباع سنت کا آپ مظہر اتم تھے۔
ملتان سے روانہ ہوکر مختلف ممالک میں تبلیغ ، امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوئے پشاور پہنچے ۔ پشاور کے مشرقی جانب گنج دروازہ کے باہر آپ نے ایک جھونپڑی بنا کر یاد الٰہی کی تعلیم شروع کردی۔ جو بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا حسب توفیق سلوک و معرفت کی تعلیم حاصل کرتا۔
ہندوستان میں آپ نے طریقہ نقشبندیہ کو خوب پھیلایااور جناب حضرت شاہ عبدالکریم رامپوری کو سند خلافت عطافرمائی ۔ ویسے تو اس سلسلہ میں آپ کے بہت خلفاء تھے مگر حضرت شاہ عبدالکریم رامپوری آپ کے خلیفہ اکبر تھے۔
صوبہ سرحد ، آزاد قبائل ، افغانستان کا تمام علاقہ ، ہرات ، غزنی تک آپ سے سلسلہ عالیہ قادریہ پھیلا، اس تمام علاقہ میں آپ کا سلسلہ ’’قادریہ زاہدیہ ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کے خلیفہ اکبر جناب حضرت حافظ محمد صدیق صاحب پشوئی ؒ تھے۔ آپ کے سلسلہ میں بڑے بڑے اکابر مشائخ گذرے ہیں جو کہ زاہد اور مجاہد بھی تھے۔ حضرت مجاہد جلیل و عظیم جناب اخوند صاحب صوات، حضرت مجاہد اعظم جناب خواجہ نجم الدین صاحب المعروف ’’ہڈہ ملا صاحب ‘‘ اور جناب مجاہد کبیر حضرت حاجی صاحب ترنگزئی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین آپ ہی کے سلسلہ کے بزرگ ترین شیخ تھے۔
آپ کی تربیت روحانی بطریق اویسی حضرت اکرم ﷺ نے بھی فرمائی تھی، اس لئے آپ کے سلسلہ میں اویسی نسبت غالب ہے۔
آپ مصدر کرامات تھے۔ پشاور شہر کا ہر فرد آپ کے فیوضات باطنی و ظاہری کا معترف ہے اور ہروقت آپ کے مزار پر زائرین کا اژھام ہوتا ہے۔
آپ کی وفات ۲۸شوال ۱۱۹۸ھ میں بروز جمعہ ہوئی ۔ آپ کا مزار گنج دروازہ کے باہر مرجع عوام و خواص ہے۔
حضرت حاجی سید اکبر شاہ صاحب بخاری نقشبندی ؒ
۱۲۷۷ھ تا ۱۳۴۷ھ
آپ کا اسم گرامی سید میر اکبر شاہ صاحب بخاری والد کا نام شریف سید میر حیدر شاہ صاحب بخاری تھااور لقب ’’ پیر بخاری ‘‘ تھا۔ پشاو ر شہر کے محلہ ریتی میں سکونت پذیر تھے۔
پشاور کے علماء سے دینی تعلیم کی تکمیل کی ۔ آپ بچپن ہی سے زہد و عبادت کی طرف مائل تھے۔ اِسی فکر کے تحت آپ موہڑہ شریف (کوہ مری) حضرت خواجہ قاسم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اُنھوں نے آپ کو سلسلہ نقشبندی میں داخل کیا۔ سلوک کی تکمیل کے بعد آپ کو خلافت سے نوازا ۔ اُنھوں نے آپ کو صرف نقشبندیہ سلسلہ کی اجازت ہی مرحمت نہیں فرمائی بلکہ دیگر تینوں سلاسل یعنی چشتی ، سہررودی اور قادری سلسلہ کی بھی اجازت دے کر معنعن فرمایا۔ آپ نے پشاور شہر میں سلسلہ کی اشاعت و ترویج میں ہر ممکن کوشش کی۔ چونکہ آپ صاحب علم وعمل تھے اس لے آپ کی صحبت بابرکت کا بڑا اثر تھا۔ آپ نے مشائخانہ طریقہ کو فائم کر کے حلقہ ذکر قائم کیااور نہایت ہی احسن طریقہ پر اس حلقہ کو تادم حیات قائم رکھا۔
آپ نہایت ہی محبت ، پیار اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی مخلوق سے پیش آتے ۔ انتہائی سادہ وضع بااخلاق اور اوصاف حمیدہ کے مالک تھے۔ صاحب کرامات اور بابرکت تھے۔ ۲۱رمضان المبارک کو ہمیشہ اپنے گھر پر حضرت اسد اللہ مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا عرس مبارک بڑے اہتمام سے منعقد کرتے ۔ تمام رات ذکر الٰہی کے حلقہ میں گذار دیتے۔ آپ پر اپنے شیخ کی خاص توجہ تھی ، جس کی برکت سے آپ فتوحات ، کشف اور کرامات کے دروازے کھل گئے تھے۔ آپ کے کشف و کرامات کے دو واقعات نقل کرتا ہوں۔
جب آپ کا وصال ہونے لگا تو اُس دن آپ نے فرمایا ، کہ ’’آج تقریباً ۹بجے عشاء میری روح پرواز کر جائے گی (چونکہ رمضان شریف کی اکیسویں رات تھی اور آپ ہمیشہ حضرت اسد اللہ الغالب مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا عرس مبارک اسی رات کرتے تھے) لہٰذا میری وفات پر رونا نہیں بلکہ میرے وجود کو نیچے کمرے میں رکھ دینا اور باقاعدہ ختم شریف پڑھنا ۔ عرس سے فارغ ہو کر میری فوتیدگی کا اعلان کرنا‘‘۔ نیز فرمایا کہ ’’ میرا جنازہ پڑھانے کے لئے خود بخود وہاں یعنی جنازہ گاہ میں ایک مولانا آموجود ہوگا وہ میری نماز جنازہ کی امامت کروائے گا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب جنازہ پڑھنے کے لئے چارپائی رکھی گئی تو ایک بزرگ صورت مولانا صاحب بغل میں جائے نماز لئے ہوئے آ موجود ہوئے اور جو حلیہ اور پتہ آپ نے بتایا تھا ۔ یہ وہی صاحب تھے ۔ انہوں نے نماز جنازہ پڑھا دی۔
یہی خلیفہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ’’ ایک ہندو کی چوری ہوگئی اور اس کا کافی ما ل چوری ہوگیا تھا۔ آپ اپنے گھر کے اندر تشریف فرما تھے اور میں بھی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے مجھے فرمایا ،خلیفہ دروازہ پر ایک ہندو کھڑا ہے اس کو اندر بلالاؤ۔ جب میں دروازہ پر گیا تو واقعی ایک ہندو کھڑا تھا ۔ میں نے اُس کو آپ کی خدمت میں پیش کردیا۔ اُس نے اپنی چوری کا ذکر کیا اور طالب دعا ہوا۔ آپ نے فرمایا ، گھبراؤ نہیں تمہار مال تمہیں مل جائے گا۔ وہ چلا گیا۔ چار دن کے بعد وہ ہندو مٹھائی وغیرہ لے کر حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ میرا مال آپ کی دعا اور برکت سے برآمد ہوگیا ہے اور یہ شیرینی حاضر ہے۔ آپ نے فرمایا ، یہ شیرینی واپس لے جاؤ اور اپنے بھائی بندوں میں تقسیم کر دو‘‘۔
آپ کی وفات ۲۱رمضان ۱۹۲۷ء میں ہو ئی ۔
آپ کے دو فرزند تھے سید یعقوب شاہ صاحب بخاری اور سید فرمان شاہ صاحب، ہر دو حضرات صاحب سلسلہ تھے اور والد صاحب کی طرح ذکر و فکر میں مشغول رہے۔ سید یعقوب شاہ صاحب بخاری ۱۹۳۱ء میں فوت ہوئے ۔
آپ کے پانچ فرزند ہیں۔ سید محسن شاہ صاحب ٹھیکیداری کا کام کرتے ہیں ۔ سید پھول بادشاہ صاحب پاکستان کے بڑے تاجروں سے ایک تاجر ہیں اور پاکستان کی ایوان ہائے تجارت کی انجمن کے صدر ہیں۔ سید الحاج تاج میر شاہ صاحب او رسید جماعت علی شاہ صاحب بھی لوہے کی تجارت کرتے ہیں ۔ جناب الحاج سید ظفر علی شاہ صاحب اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر مذہبی اور قوم ’’قابل قدر‘‘ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ۱۹۵۲ء میں آپ نے پشاور شہر میں ایک مذہبی ادارہ ’’ادارہ تبلیغ الاسلام ‘‘ کے نام سے تشکیل دیا۔ اس ادارہ کے زیر اہتمام محرم شریف کے دس دن اور ربیع الاوّل شریف کے بارہ دن معرکۃ الآرا تاریخی اجتماعات کا انعقاد ہوتا ہے ۔ ان جلسوں میں پاکستان بھر کے جید اور چوٹی کا علماء کرام تشریف لا کر قوم کو خطاب کرتے ہیں۔ یہ اجتماعات اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی بابرکت اور سعادت کے حامل ہوتے ہیں۔ آپ اس ادارہ کے صدر ہیں۔
۱۹۶۲ء میں پشاور شہر کے مقتدر اصحاب نے مل کر ’’ ادارہ اصلاح معاشرہ ‘‘ بنایا جس کا مقصد جاہلی رسم و رواج اور بدعات کے خلاف عملی کام کرناتھا۔ اس ادارہ کا صدر بھی آپ کو منتخب کیا گیا۔
مسلم لیگ کی تحریک آزادی میں آپ نے بڑھ چڑھ کا حصہ لیا اور عملی طور پر لیگی سیاست میں نمایاں کارکردگی سرانجام دی ۔
۱۹۶۰ء میں آپ نے حرمین الشریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے اور اس وقت آپ کی عمر ۳۷ برس ہوگی ۔
ماخذ
۱۔اسرارالطریقت:حضرت شاہ محمد غوث صاحب قادریؒ
۲۔اسرارالتصوف:(قلمی)
۳۔انوارالشیخ فی تذکرۃ الشیخ:(قلمی) حکیم محمد حسن صاحب چونوی (قصور)
۴۔بحرالجمان:سید غلام محبوب شاہ صاحب توی(ہزارہ)
۵۔تذکرۃ الابرار و الاشرار:حضرت اخوند درویزہ صاحب ننگر ہاری ؒ
۶۔تاریخ پشاور:لارڈ ہیسٹنگزوغیرہ
۷۔تاریخ کشمیر اعظمیٰ:خواجہ محمد اعظم شاہ صاحب کشمیری
۸۔تاریخ کبیر کشمیر:
۹۔تاریخ یوسف زئی پٹھان:جناب اللہ بخش صاحب یوسفی
۱۰۔تاریخ اقوام کشمیر:جناب محمد دین صاحب فوق
۱۱۔تازہ نوریٔ معارک:آقائے عبدالحی حبیبی
۱۲۔تحریرات قلمی:مؤرخ کشمیر جناب مفتی سعادت
۱۳۔تحفۃ المرشد:مرزا نظام الدین نقشبندی کابلی
۱۴۔تذکرۂ علمائے ہند:مولوی رحمان علی صاحب
۱۵۔حالات حضرت جی صاحب پشاور والا:جناب عبداللہ نقشبندی
۱۶۔حدائق الحفیفہ:مولوی فقیر محمد صاحب جھلمی
۱۷۔حدیقتہ الاولیا:مفتی غلام سرور صاحب لاہوری
۱۸۔خزینۃ الاصفیا:مفتی غلام سرور صاحب لاہوری
۱۹۔دبستان مذاہب:مؤبد
۲۰۔رساک کسب سلوک:(قلمی ) حضرت شاہ محمد غوث صاحبؒ
۲۱۔رسالہ خوارق عادات سید حسن بادشاہ صاحبؒ:(قلمی) حضرت سید غلام صاحب قادری ؒ
۲۲۔’’روحانی تڑون‘‘ : (قلمی پشتو) عبدالحلیم صاحب اثر افغانی
۲۳۔روزنامہ انجام پشاور:
۲۴۔سر الاسرار:(قلمی ) حضرت میاں محمد عمر صاحب نقشبندی چمکنی ؒ
۲۵۔سفر نامہ مولینا غلام جیلانی صاحب (قلمی )از حضرت موصوف
۲۶۔سیرت سید احمد شہید:از جناب غلام رسول صاحب مہر
۲۷۔غوثیہ شریف : (قلمی ) حضرت بہاؤ الدین متو کشمیری
۲۸۔لباب المعارف العلمیہ:فہرست کتب اسلامیہ کالج پشاور
۲۹۔مآثر الامراء:
۳۰۔ماہنامہ طور:اپریل ۱۹۳۶ء
۳۱۔مجموعہ صلوٰۃ الرسول:حضرت خواجہ عبدالرحمان صاحب چھوہروی ؒ
۳۲۔مصباح السالکین:جناب خان پیر بخش خان صاحب ایم ۔ اے ، ایل ۔ ایل ۔بی
۳۳۔مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ :میاں عبدالحلیم صاحب ؒ
۳۴۔نئی تاریخ چترال:مرزا محمد غفران مرحوم مصنفہ مرزا غلام مرتضیٰ (فرزندیش) مؤلفہ
حواشی
حضرت پیر باباصاحبؒ
تذکرۃ الابرار و الاشرار،ص۱۱
ایضاً
تذکرۃ الابرار و الاشرار،ص ۱۱
ایضاً
تذکرۃ الابرار و الاشرار،ص۲۸
یہ پیر خلجی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ پیر بریچی قبیلہ سے متعلق تھا۔
بایزید ۱۵۲۵ء میں عبداللہ صاحب کے گھر جالندھر (یہ شہر پنجاب میں واقع ہے اور آج کل بھارتی پنجاب میں ہے) میں پیدا ہوا۔ صاحب دبستان مذاہب نے صفحہ ۲۴۷پر لکھا ہے کہ ’’ بہفت پشت شیخ سراج الدین انصاری فی رسد۔ یعنی ساتویں پشت میں شیخ سراج الدین انصاری سے بایزید انصاری جا ملتا ہے۔ بایزید انصاری کسی کا مرید نہیں تھا۔چونکہ اس کے والد کی دوبیبیاں تھیں ، اس لئے یہ والد کی نظروں میں محبوب نہیں تھا۔
بڑا عقلمند ، ہوشیار ، معاملہ فہم اور نکتہ رس تھا ۔ عقائد میں آزاد خیال تھا ۔ اپنا فکر اور اپنا طریق عبادت رکھتا، صاحب الہام ہونے کا دعویٰ رکھتا، توحید کے متعلق اپنے نظریات رکھتا تھا۔ اخلاق کو بھی اپنی تعلیمات کی روشنی میں پروان چڑھواتا۔ اس کی اس خود سری کا نتیجہ نکلا کہ بقول صاحب دبستان مذاہب بر صفحہ ۲۵۰،۲۵۱’’ او خود را نبی دانستی و مرد مرا بریاضت فرمودی ‘‘یعنی اپنے آپ کو نبی سمجھتا اور لوگوں کو ریاضت کی تعلیم دیتا۔ اور لکھا’’نماز بگذاردے امام جھتہ تعین را از میان برداشت ، کہ فا نیما تولوا فثم وجھ اللّٰہ۔ یعنی نماز پڑھتا مگر قبلہ مبارکہ کے تعین کو ختم کر دیا ۔ کیونکہ وہ کہتا کہ جدھر بھی رخ کرو ادھر اللہ تعالیٰ ہے۔ غسل کو ضروری نہ سمجھتا ، سوائے اپنے ماننے والوں کے باقی تمام نبی نوع انسان کو نوع حیوان سمجھتا اسی لئے ان کے قتل اور ذبیح کا حکم دیتا۔ وغیر ہ وغیرہ (اللہ تعالیٰ ان ہذلیات سے محفوظ رکھے) عالم نہیں تھا مگر ایک کامل سیاسی اور منطقی دماغ رکھتا تھا۔ گفتگو میں کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں ہوتا تھا۔ ابتداً بحیثیت ایک پیر کا متعارف ہوا۔ کافی لوگ اس کے پیرو ہو گئے ۔ اور اس پر پروانوں کی طرح قرباں ہوتے ۔ اپنی دولت اور بال بچے تک قربان کرتے ، اس نے حالنامہ خیر البیان ، مقصود المومنین اور صراط التوحید نامی رسائل لکھے۔جن میں اپنے الہامات ، مکشوفات اور اپنی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی۔ اس کے مریدین اس کو باقاعدہ اس علاقہ کا بے تاج بادشاہ سمجھتے ۔ اگرچہ اس کی موجودگی میں یہ صرف اور صرف ایک مذہبی گروہ تھا۔ جس کا اپنا دین وآئین تھا۔ جب علماء اور مشائخ نے اس کی مخالفت کی اور اس کو ختم کرنے کے لئے بحث و مباحثہ اور جنگ تک نوبت پہنچی ۔ اور علماء مشائخ نے اسکو پشاور کے علاقہ سے نکلنے پر مجبور کردیا تو یہ آفریدیوں کے دوردراز پہاڑی علاقوں میں چلاگیا۔
اب اس نے بجائے پشاور کے علاقہ کے اپنا رخ کابل کی طرف موڑ دیا۔ اس علاقہ کے علماء اس کے مقابلہ میں نہیں آ سکتے تھے۔ آخر ۹۹۴ہجری میں ’’بہتہ پور‘‘ میں انتقال کیا۔ اس کی عمر ۶۳ برس تھی۔ یعنی ۱۵۸۱ء میں مرا۔ یہاں بایزید نے سلطنت دہلی کو خوب پریشان رکھا ، اور خوب لوٹ کھسوٹ کی ۔ اگر یہ شخص مذہبی معتقدات میں رخنہ اندازی نہ کرتا تو مطالعہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقہ میں یہ اپنی پادشاہت قائم کرلیتا۔ مگر افسوس ہے کہ اس قسم کے سیاسی بیدار مغز لوگ خواہ مخواہ مذہب میں مداخلت کر کے اپنے آپ کو ختم کروا دیتے ہیں۔ علماء اور مشائخ مجبور ہوتے ہیں کہ جو شخص بھی چاہے جس مقصد کے پیش نظر اٹھے۔ اگر مذاہب سے ٹکراتا ہے یا مذہب میں رخنہ اندازی کرتا ہے توپھر یہ حضرات مدافعت کرتے ہیں اور اگر یہ مدافعت نہ کرتے تو یقینا آج مذہب اسلام اس علاقہ میں موجود نہ ہوتا۔ بلکہ اس کی شکل کچھ اور ہی ہوتی۔ میرے پشاور کے ایک بزرگ نے یوسف زئی پٹھان نامی کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۲۵۴ سے لے کر صفحہ ۲۹۳ تک پھیلے ہوئے تبصرہ پر میں نے ایک الگ مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے ۔ ’’بایزید کی تحریک پر تبصرہ‘‘ ۔ صرف اصولاً ایک بات یہاں بیان کرتا ہوں جس کا تعلق اس مضمون سے ہے اور وہ یہ ہے معاصر عزیز اللہ بخش صاحب یوسفی پشاوری ، اپنی کتاب کے صفحہ ۲۵۳ پر لکھتے ہیں۔ ’’ اب گویا ایک علاقہ میں یا ایک قوم میں دو سجادہ نشین دکھائی دے رہے ہیں ۔ دونوں اپنے اپنے مخصوص طریقہ سے تعلیم اسلام پیش کر رہے ہیں۔ صراط المستقیم کی طرف دعوت دے رہے تھے ، لیکن ان دونوں میں اتفاق نہ ہو سکا‘‘۔
حیرانگی ہے کہ یہاں بایزید ’’سجادہ نشین ‘‘ کس طرح بنا ۔ صاحب سجادہ تو وہ ہوتا ہے جو حضرات صوفیائے کرام رحمہم اللہ علیہم اجمعین کے کسی ایک سلسلہ (قادریہ ، چشتیہ ، نقشبندیہ اور سہروردیہ) سے منسلک ہو کر ان اوراد و اعمال کی تکمیل کر کے اپنے شیخ کی طرف سے سند ارشاد لے کر صاحب سجادہ ہو تو تب سجادہ نشین بنتا ہے۔ معلوم نہیں کہ جناب یوسفی صاحب نے بایزید انصاری کو کون سے سلسلہ کا شیخ تسلیم کیا ہے۔ حالانکہ میاں بایزید انصاری کسی سلسلہ میں منسلک نہیں تھا۔ بلکہ وہ تو غیب سے الہام سن کر مذہب میں رخنہ اندازی کر رہا تھا۔ یقینا حضرت پیر بابا صاحب ؒ کا اس کے ساتھ اتفاق اور اتحاد نہیں ہو سکتا تھا۔ الحاد و زندقہ کے ساتھ ایک اللہ تعالیٰ کا ولی کس طرح اتفاق و اتحاد کر سکتا ہے۔ اس دور میں جبکہ تحقیق حق ناپید ہے ۔ یقینا ایسی ہی غیر ذمہ دارانہ تحریریں سامنے آئیں گی ۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا نام خرد
Aجو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
5باقی رہا اس کا صراط مستقیم اور اسلام کی دعوت، تو میر اخیال ہے کہ جناب یوسفی صاحب نے دبستان مذاہب صفحہ ۲۴۷ سے لے کر صفحہ ۲۵۱ کے آخر تک کا مطالعہ نہیں کیا۔
حضرت اخون پنجو صاحبؒ
اخون، اخوند کا مرخم ہے ۔ یعنی آخری حرف گرایا گیا ہے۔ اخوند تورانی لفظ ہے اور متبحر عالم کے لئے استعمال ہوتاہے۔ چونکہ آپ بلند پایہ مدرس تھے اور سینکڑوں علماء آپ کے شاگرد تھے اس لئے آپ کو اخوند کے لقب سے پکار ا گیا۔
بروایت شمس العلماء قاضی میر احمد شاہ صاحب رضوانی مرحوم ساکن اکبر پورہ
یہاں اصطلاح میں جو غیرمسلم مسلمان ہوجائے تو اس کو شیخ کے لقب سے پکارتے ہیں۔
تحفۃ الاولیاء ، از شمس العلماء
بایزید انصاری کے حالات حضرت پیرباباصاحب اور اخون درویزہ کے ضمن میں دیکھئے ۔
حضرت اخوند درویزہ صاحبؒ
’’اخون‘‘ اخوند کا مرخم ہے ، یہ تورانی لفظ ہے جس کے معنی متبحرعالم کے ہیں ۔ ہم اپنی اصلاح میں اس کے معنی علامہ کر سکتے ہیں۔ ترخیم اس وقت ہوتی ہے جبکہ آخری حرف زبان پر ثقیل ہو۔ چونکہ یہاں بھی دال جو کہ آخری حرف ہے زبان پر ثقیل تھا ، لہٰذا دیا گیا اور ’’ اخوند‘‘ سے ’’ اخون ‘‘ رہ گیا۔
تذکرۃ الابرار و الاشرارص۱۲۲
حضرت اخون صاحب کے استاد حضرت ملا صاحب پاپینی نے اس کا نام ’’ پیر تاریک‘‘ رکھا۔
خزنیۃ الاصفیا ص۴۶۶
ایضاً ص۴۷۰
ایضاً ص۴۷۱
کاکا صاحبؒ
ابک بابا صاحب ، حضرت اخون پنجو صاحبؒ اکبرپورہ سے عقیدت رکھتے اور ان کی صحبت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ آپ کا مزار تحصیل نوشہرہ میں کاکا صاحب ایک مزار سے دور واقع ہے۔ بڑی بابرکت مزار ہے۔
مست بابا صاحب ، آپ کی مزار بھی تقریباً کاکا صاحبؒ کے مزار سے سات میل دور ہے ۔آپ کی زیارت مرجع خلائق ہے۔
غالب بابا ، آپ کی مزار چراٹ کے پہاڑ کے نیچے واقع ہے بڑا دشوار گذار علاقہ ہے مگر لوگ زیارت کرتے ہیں۔
موضع اکوڑہ، دریائے لنڈہ کے کنارے آپ کا مزار ہے۔
’’مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ‘‘
ایضاًص۷۷
آپ کے مرزند میاں عبدالحلیم صاحب مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ ص۱۹ پر لکھتے ہیں، کہ ایک روز میں نے اپنے شیخ سے عرض کیا ’’ کہ یا حضرت شیخ ، پیر شما کیست‘‘آپ کا پیر کونسا ہے۔ تو فرمایا’’درد نخواہم دید‘‘ اور اکثر اوقات یہ بھی کہتے ’’ شیخی بشیخان بخشیدم ، و پیری بہ پیراں بخشیدم و سلوک بہ سالکاں بخشیدم و تصوف بصوفیاں بخشیدم ، ومن برآنم کہ اللہ تبارک و تعالیٰ زنجیر بندگی در گردن من انداختہ و او تعالیٰ زنجیر از گردن من بدرنگروانند‘‘۔
ص۱۹ مصنفہ میاں عبدالحلیم صاحب فرزند ارجمند کاکا صاحبؒ
ایضاً ص۲۰۔ایضاً ص۲۱۔ایضاًص۲۲
حضرت شیخ دریا صاحب کی مزار چمکنی کے باہر ہے۔ شیخ دریا صاحب پہلے حضرت آدم نبوریؒ کے مرید ہوئے ، پھر کاکا صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر خلافت سے نوازے گئے ۔ یہ بڑے صاحب کرامات بزرگ تھے۔
ایضاً ص۱۷۰
حضرت حاجی محمد اسماعیل غوریؒ
حضرت شیخ سعدی لاہوری ، حضرت سید آدم بنوری ؒ کے خلیفہ اعظم تھے ۔ شیخ سعدی لاہوری کی پرورش بھی سید آدم بنوری نے کی تھی، پھر مرید اور خلیفہ بنایا۔ آپ مادر زار ولی تھے اور طریقہ اویسی بھی رکھتے تھے ۔ صاحب کرامات اور اخلاق حمیدہ تھے ۔ اپنے شیخ کی محبت کو ایمان سمجھتے تھے۔ بروز بدھ ۳ ربیع الثانی ۱۱۰۸ہجری میں وفات پائی۔
جب مسجد مہابت خان کی تعمیر ہوئی ، تو مسجد کا قبلہ کج دکھائی دیتا تھااورمرمت کے قابل ہوگئی تھی ۔ اس کے لوگوں نے آپ کی طرف توجہ کی یاحضرت توجہ فرما دیں کہ یہ کج قبلہ جو نظر آتی ہے درست ہوجائے اور مرمت بھی ہوجائے ۔آپ نے اہل محلہ کی درخواست پر ایسی توجہ فرمائی کہ راتوں رات قبلہ کی کجی بھی جاتی رہی اور مسجد کی مرمت بھی ہوگئی۔
آپ کے پہلو میں سورج ڈوبتے کی طرف آپ مرید حضرت عبدالغفور صاحبؒ دفن ہیں۔
ابو البرکات سید حسن باد شاہ صاحب قادریؒ
خزنیۃ الاصفیاء
تاریخ کبیر کشمیر ، تاریخ اعظمٰی، تاریخ اقوام کشمیر از محمد دین فوق، قلمی مسودہ مفتی محمد شاہ صاحب مفتی و مورخ کشمیر
تاریخ پشاور
قلمی رسالہ از سید غلام صاحبؒ
حضرت مورخ کشمیر سے ۴۶ء و۴۷ میں مسلسل ملاقات رہی ۔ علاقہ کشمیر میں آپ تاریخ میں سند تسلیم کر لئے گئے ہیں۔ اس وقت آپ کی عمر ۸۵برس تھی ۔ معلوم نہیں کہ اب زندہ ہیں یا نہیں؟
قلمی رسالہ
مورخ کشمیر کے کتب خانہ میں جو کہ سرینگر میں واقع ہے۔ یہ قلمی کتاب ۴۶ء میں دیکھی ۔
آپ کا مزار پر انوار کشمیر کے دار الخلافہ سری نگر کے قلب میں موسوم بہ ’’خانیار‘‘ مرجع عام خلائق ہے آپکی وفات ۱۱۱۷ھ میں ہے۔
آپ کا مزار ضلع ہزارہ میں تحصیل ہری پور میں حویلیاں ایلوے اسٹیشن سے ہری پور روڈ پر ، سلطان پور گاؤں میں واقع ہے ۔آپ کی وفات ۱۱۶۹ھ میں ہوئی ۔
آپ کی وفات ۹۹۱ھ میں ہوئی اور آپ کا مزار بونیر میں مرجع خلائق ہے۔
بنت محمد جمال بن سید عبدالوہاب المعروف میاں عبدل مزارموضع تختہ بند علاقہ بنیر بن سید مصطفےٰ محمد المعروف میاں مصطفےٰ بن سید پیر بابا ؒ ، مزار موضع و نائی پشت علاقہ کنڈ، سمت مشرقی ، (افغانستان)
حضرت جی صاحبؒ
سرالاسرار مصنفہ حضرت میاں عمر صاحبؒ ساکن موضع چمکنی پشاور۔
شیخ سعدی لاہوری ۱۱۰۸میں فوت ہوئے ۔ شیخ سعدی لاہوری حضرت سید آدم بنوریؒ کے مرید تھے اور حضرت آدم بنوری ؒ حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے خلیفہ تھے۔
سرالاسرار
قلمی رسالہ از حضرت موصوف
حافظ عبدالغفور صاحبؒ
خزنیۃ الاصفیاص۶۱۸
حضرت سید شاہ محمد غوث صاحبؒ
خزنیۃ الاصفیا ص۱۷۵’’ دراطاعات و عبادات رابعہ عصر بود‘‘
قلمی رسالہ از حضرت موصوف ص۵۱،۵۲
میاں جان محمد صاحب کلاں، جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب کے مدرس اور خلیفہ تھے۔ صاحب خزنیۃ الاصفیاص۷۸۳پر لکھتے ہیں ’’ در طریقت و شریعت و فقہہ و حدیث عالم کامل و مقتدائی زمانہ بود‘‘ آپ کی تاریخ وفات ۱۱۲۰ھ ہے۔
بری امام کے نام سے مشہور ہیں
میاں فرخ شاہ صاحب کے متعلق تحریر فرماتے ہیں ’’ کہ جامع علم ظاہر و باطن و اعلم زمان و مصنف وقت ، ومحدث بودند‘‘
یہ حملہ محمد شاہ نے بعہد نادر شاہ ۱۱۵۱ھ میں کیا تھا
خزنیۃ الاصفیا ص۱۸۵
یہ محمد غوث ، حضرت شاہ محمد غوث ؒ صاحب کا خلیفہ تھا اور مزار مبارک سید حسن ؒ میں مقیم تھا مستجاب الدعوات تھا۔
یہ سند آپ نے واپس کی تو پھر وہاں سے واپس کی گئی ۔ درگاہ مبارکہ کے منتظمین خلفاء نے یہ سند قبول کر لی تھی ۔ مگر آپ نے نہ مانا ۔ وہ سند اس فقیر کے پاس نسلاً بعد نسل پڑی ہوئی تھی ۔ اس فقیر نے وہ سند محبی و مخلصی مہتم عجائب خانہ پشاور جناب محمد شکور صاحب ایم۔ اے کے وساطت سے نیشنل میوزم کراچی کو دے دی۔
لاہور سے ’’ اللہ والے ‘‘ کتب فروش نے آپ کا ایک رسالہ جس میں اس رسالہ کو کچھ حصہ شامل ہے ’’ اسرار طریقت ‘‘ کے نام سے اردو میں شائع کیا ہے ۔ یہ رسالہ نہایت ہی نامکمل ہے ۔ اس میں صفحہ ۳۱سے لے کر صفحہ ۳۹ تک کا مضمون جناب حضرت محمد غوث صاحب گوالیاری ہے جو کہ اصل کتاب میں قطعاً نہیں ، نیز ترجمہ کرنے والے نے بھی ترجمہ میں کمی بیشی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمائے۔ آمین
رسالہ دربیان کسب سلوک و بیان طریقت و حقیقت شائع شدہ پشاور ، حضرت علامہ مولینا مولوی الحاج حافظ نصیر احمد صاحب المتوفی ۱۳۰۸ھ خطیب اسلام المشہور میاں صاحب قصہ خوانی ؒ
یہ قول کے آپ کے پیر و مرشد حضرت ابو البرکات سید حسن بادشاہ صاحب قادریؒ پشاور ی کا ہے۔
یادرفتگان کا مصنف محمد دین فوق امرتسری ہے۔
صاحب خزنیۃ الاصفیا ص۱۰۰۰ پر لکھتے ہیں’’ بیعت سلسلہ قادریہ بخدمت حضرت شاہ محمدغوث گیلانی ؒ کرد و خرقہ خلافت یافت‘‘ آپ کی تعریف میں لکھتے ہیں ’’ از کمل مشائخ متاخرین و اعاظم اولیائے روئے زمین است، جامع علوم ظاہری و باطنی و مورد فیوض ھوردی ، معنوی و واقف اسرار جلی و خفی مقتدائی زمانہ یکتائی وقت خود بود‘‘۔ آپ کی وفات ۱۱۴۰ھ میں ہوئی ، آپ کی قبر لاہور سے باہر مزنگ میں واقع ہے۔
حضرت میاں محمد عمر صاحبؒ
شاہ جہان ۱۰۳۶ھ میں تخت شاہی پر بیٹھا اور ۱۰۶۸ھ میں فوت ہوا۔
ایک کا نام محمد موسی اور دوسرے کا نام محمد عیسیٰ تھا۔
سرالاسرار ص۴۰۰بحوالہ ’’ روحانی تڑون‘‘ از عبدالحلیم صاحب اثر افغانی قلمی
یہ کتاب پشتو میں ہے۔
لباب المعارف العلمیہ فی مکتبہ دارالعلوم الاسلامیہ ص۱۰۳
حضرت جیو صاحبؒ
صاحب’’تحفۃ المرشد‘‘ فرماتے ہیں کہ ’’ تاریخ ولادت حضرت جیو صاحب ظہرولی یعنی حضرت جی صاحب کی تاریخ ولادت بحروف ابجد ’’ظہر ولی‘‘ سے نکلتی ہے یعنی ظ، ھ،ر، و ل ، ی ۔ مجموعہ ۱۱۵۱ھ بنتا ہے۔
میاں غلام محمد صاحب المعروف حضرت جی صاحب بیرون بجوڑی گیٹ دوسرے بزرگ ہیں جن کا تذکرہ الگ موجود ہے۔
’’تحفت المرشد‘‘ـ ص۷
مثلاً رئیس المحدثین حافظ محمد احسن صاحب المشہور حافظ دراز صاحب، جناب حافظ محمد عظیم صاحب
تحفۃ المرشد ص۴۰
آپ کا فرزند تھے ۔ آپ کی مزار والد کے پہلو میں ہے ۔ اب یہ محلہ جہاں آپ کا مزار ہے فضل حق صاحبزادہ کا نام سے ہی موسوم ہے۔
حضرت علامہ حافظ غلام جیلانی صاحبؒ
۱:مولانا عبدالرحیم صاحب مرحوم لابئریرین اسلامیہ کالج پشاور ’’لباب المعارف العلمیہ فی مکتبہ دارالعلوم اسلامیہ کے صفحہ ۱۱۳ پر حافظ حبیب اللہ کے متعلق لکھتے ہیں ’’بارہویں صدی ہجری کے ایک عالم متبحر ہے۔ مولانا غلام جیلانی مرحوم ایک واسطے سے ان کے شاگرد تھے‘‘۔
فاضل حبیب اللہ قندھاری اپنے وقت کے علامہ تھے ۔ آپ نے بہت کتابیں لکھیں ،شیخ فقیر اللہ شکار پوری ؒ(سندھ) آپ کے شیخ الشیخ تھے ۔ آپ کے علم کا شہرہ بخارا تک تھا ۔ اِس وقت اسلامیہ کالج کے کتب خانہ میں آپ کی مندرجہ ذیل کتابیں موجود ہیں ’’مغتمم الحصول فی علم الاصول (عدد مسلسل نمبر۶۳۲) یہ کتاب اصول فقہ میں ایک معرکتہ الآراکتاب ہے۔ رسالہ ’’احادیث موضوعۃ‘‘ ’’اھانۃ الملۃ فی المتوقف عن تکفیر اہل القبلہ‘‘ ’’عدم تکفیر اہل قبلہ‘‘ ہر دو رسالہ عربی میں ہیں اور عدم تکفیر اہل قبلہ فارسی میں ہے ۔ (عدد مسلسل نمبر ۸۰۱پر)
۱:میر قاسم ادیب پشاور نے مندرجہ ذیل عبارت مولانا عبدالرحیم افغان مرحوم کے ایک قلمی روزنامچہ پر نقل کی ہے۔ یہ قلمی روزنامچہ قاسم صاحب نے رحیم بخش صاحب اصرار مدیر ماہنامہ ’’دیدہ ور‘‘کے پاس دیکھا ہے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ جب میں مدیر’’دیدہ ور‘‘ کے پاس گیا تو اُس نے کتاب بتلانی بھی گوارہ نہ کی ۔ مولانا عبدالرحیم افغان آسیا محلہ بڑھ کی مسجد کے امام تھے ۔ عابد و زاہد اور متبحر عالم تھے۔ پشاور شہر کے اکثر علماء آپ کے ہی شاگرد تھے ۔ انگریزوں کے بہت ہی سخت مخالف تھے ۔ وائیسرائے ہند نے جو ان دنوں کلکتہ میں مقیم تھا حافظ صاحب کو لکھا’’از جانب گورنر جنرل (کلکتہ) مکتوب بدیں مضمون گورنر جنرل اول (ہند) مولانا حافظ عبدالرحیم صاحب افغان نوشۃ ، شمارا اطلاع باید کہ آلے دور مغلیہ ختم شد ، دور برطانیہ قائم شد دریں اثناء اطاعت حکومت انگلیشیہ بہر حال لازم است‘‘۔
آپ نے انتہائی دلیری اور جرأت کے ساتھ حق بات کا واضح اور علی الاعلان اظہار کیا اور جواب میں لکھا’’مابرائے ہندوستان لفظ برطانیہ پسند نمی توانم ، چرا کہ ایں اسلامیہ ہند است ، مابرائے سلطنت مسلمین دوبارہ تحریک می کنم ‘‘ انہی وطنی سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کو حکومت انگریزی نے دس سال قید کیا۔
۲: حافظ غلام جیلانی صاحب کے قلمی فتویٰ کا مجموعہ جو کہ ملا مجید علاقہ ہشتنگری پشاور کی مسجد کے امام کے پاس ہے ۔ یہ ایک بہت قیمتی مجموعہ ہے ، جو کہ تقریباً ۱۲۰۰ صفحات پر ہے۔
۳: تاریخ یوسف زئی پٹھان صفحہ ۳۸۰
۱:لباب المعارف العلمیہ صفحہ ۹۸
۱:لباب المعارف العلمیہ فی مکتبہ دارالعلوم الاسلامیہ از مولانا مولوی عبدالرحیم صاحب ناظم مکتبہ شرقیہ دارالعلوم اسلامیہ سرحد۔
۱:مکتبہ شرقیہ دارالعلوم اسلامیہ پشاور کی فہرست نمبر ۳،۴ ’’چند ایک تمہیدی باتیں‘‘
۱: ایضاً
۱:ماہنامہ ’’طور‘‘ اپریل ۱۹۳۶ء لاہور
حافظ دراز صاحبؒ
۱:حدائق الحنفیہ صفحہ ۵۷۴ از مولوی فقیر محمد صاحب جہلمی
۲: پشاور کے لوگ آپ کو حافظ دراز کے نام ہی سے جانتے ہیں اور آپ کا اصلی نام سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ آپ کو دراز یعنی لمبا اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ کا قد غیر معمولی لمبا تھا ۔ میرے استاذ گرامی قدرمحدث صوبہ سرحد صاحبزادہبýÿÿÿ ¡¢£¤¥¦§¨©ª«¬®¯°±²³´µ¶·¸¹º»¼½¾¿ÀÁÂÃÄÅÆÇÈÉÊËÌÍÎÏÐÑÒÓÔÕÖרÙÚÛÜÝÞßàáâãäåæçèéêëìíîïðñòóôõö÷øùúûüýþÿ حافظ علی احمد جان نور اللہ مرقدہ فرماتے تھے کہ ایک بار موضع چمکنی میں حافظ دراز صاحب جوتی بنوانے کے لئے تشریف لے گئے ۔ ایک پیزار دوز اپنے مکان کی چھت پر بیٹھے جوتی بنا رہا تھا ۔ آپ نے اس کے کوٹھے پر اپنے سر کو اٹھا کر فرمایا ۔او جوتی والے میرے پاؤں کی جوتی ہے ۔ اُس نے جواب میں کہا کہ مولانا گھوڑے سے نیچے اُتر کر اوپر آجا ۔ آپ نے فرمایا کہ میں تو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوں ۔ وہ یہ سن کر گھبرا گیا ، کہ یہ اتنے لمبے قد کا آدمی ہے ۔ کوٹھا چھوڑ کر بھاگ گیا۔
۱:صفحہ ۱۸۵از مولوی رحمن علی مرحوم شائع کردہ بسلسلہ ریگل سوسائٹی کراچی ۔
۲: حدائق الحنفیہ صفحہ ۴۷۵
۳: جلد دوم صفحہ۲۸۱
۱:کتاب ’’اسماعیل شہید‘‘ جلد دوم صفحہ ۲۸۱، از مولانا غلام رسول مہر لاہوری
۱:حضرت جی صاحب ؒ کا مزار بھی اسی محلہ میں مرجع خلائق ہے
۲: صفحہ؟؟؟
حافظ محمد عظیم صاحبؒ
۱:جناب مفتی فضل کریم صاحب حضرت بحر العلوم کے نواسہ کے فرزند تھے ۔ آپ نے بعمر ۷۵ برس ۷ رمضان المبارک ۱۳۸۲ ھ بمطابق ۲ فروری ۱۹۶۳ء بروز ہفتہ وفات پائی ۔ نہایت ہی ملنسار ، متواضع اور منکسر المزاج تھے ۔
مجھے جناب حافظ تاج الدین صاحب گلکار نے بیان کیا کہ مفتی صاحب کے دفن کے چھٹے دن جب میں مفتی صاحب کی قبر بنانے لگا کہ قبر کو پاؤں کی جانب سے کھولا تو قبر سے خوشبو ہی خوشبو آرہی تھی اور ایسے معلوم ہوتا تھا کہ گویا کسی نے منوں بھر گلاب کا عطر ڈالا ہوا ہے اور یہ خوشبو تمام قبرستان میں پھیل گئی ۔
۱:صفحہ ۳ برحاشیہ ، تحفۃ المرشد کا مصنف مرزا نظام الدین صاحب مزار شریف (کابل) کا متولی ہے اور حضرت جی صاحب کا خلیفہ بھی رہا ہے اور آپ کے صاحبزادہ فضل حق صاحبؒ کے ارشاد پر یہ کتاب آپ کے حالات میں لکھی ہے۔
۱:تحفۃ المرشد کا حاشیہ صفحہ ۱۹ امام محمد رضا نومانوی حضرت جی صاحب کے خلیفہ تھے ، ڈیرہ اسماعیل خان میں زکوڑی شریف میں آپ کا مزار ہے۔
۱:ازلالہ کنہیا لاو کپتان اے جی ہسٹنگز صفحہ ۷۰۹
۲: کتاب اسماعیل شہید جلد دوم صفحہ ۲۸۱، صفحۃ ۲۸۲
۱:یہ روایت جناب فضل کریم صاحب مرحوم نے مجھے بیان کی ۔
۲: کتاب اسماعیل شہید جلد دوم صفحہ ۲۸۱،۲۸۲
۱:بروایت جناب حضرت قطب وقت آقا سید سعید احمدشاہ مرحوم ؒجدام
۲: افسوس ہے کہ مولانا مرحوم نے وہ خطوط نہ چھاپے ، اگر وہ خطوط سامنے ہوتے تو یہ مسئلہ کافی مبرہن ہو جاتا۔
۱:مجھے یہ واقعہ چاچا غلام سرور صاحب مرحوم نے بیان کیا جو کہ میاں صاحب آسیا کے انتہائی معتقد تھے اور وہ اس مجلس میں موجود تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ اُس وقت میری عمر چودہ پندرہ سال کی تھی ۔
۱:صفحہ ۷۰۹ از لالہ کنہیا لال و کپتان اے جی ہسٹنگز
۱:صفحہ۴۷۸،۴۷۹
۱:ایضاً
آقا سید پیر جان صاحب ؒ
۱:اس فقیر کے جد امجد ہیں اس فقیر کا والد کانام سید حافظ زمان شاہ صاحب ولد سید سعید احمد شاہ صاحب ولد آغا پیر جان صاحبؒ
۲:آقا سید میر جی صاحب ؒ ، بہت ہی عالم وفاضل ، زاہد و عابد اور شیخ وقت تھے ۔ صوبہ سرحد ، کابل ، پنجاب اور کشمیر کے اکابر علماء آپ کے حلقہ ارادت میں شامل تھے ۔ کثیر الکرامت تھے ، سخاوت میں جواب نہیں رکھتے تھے ۔ دنیا او دنیاوالوں سے مستغنی تھے ۔ فارسی کے بہترین شاعر تھے ۔ دوچار منقبتیں اُردو میں بھی لکھیں ہے ۔ آپ کی وفات ۲۰ شعبان ۱۲۸۳ھ بروز جمعہ ہوئی اور بروز ہفتہ درگاہ عالیہ سید حسن ؒ میں دفن کئے گئے ۔
۱:بروایت حضرت قدوۃ السالکین آقا سید سکندر شاہ صاحب ؒ
۱:حاجی صاحب مرحوم تحصیل نوشہرہ میں موضع بانڈہ ملاخان کے رہنے والے تھے ۔ نیک سیرت انسان تھے ۔حاجی صاحب نرتگزئی کے مرید خاص تھے۔ مشہور و معروف سیاسی کارکن تھے ۔ صوبہ سرحد کی سیاسی زندگی میں آپ کی بہت کوشش رہی ہے ۔ خدائی خدمت گار تحریک میں پیشرو تھے۔ ’’افغان جرگہ ‘‘ کی بنیاد رکھنے والے تھے۔ پھر تحریک پاکستان میں انتہائی گرمی جوشی سے حصہ لیااورمسلم لیگ کے ساتھ افغان جرگہ کا الحاق آپ کا ہی رہین منت تھا ۔ پشاور سے چکلہ کی لعنت دور کرنے میں آپ نے ہر قسم کی قربانی دی ۔ غرضیکہ آپ کی زندگی مسلسل دینی اور سیاسی جدوجہد سے بھرپور زندگی تھی ۔ بعمر ۷۵برس ۱۳۸۲ھ میں انتقال کیا۔
۱:’’سیر‘‘ پشاوری اصطلاح ہے ۔ بہار یا گرمی کے دنوں میں دوست احباب جمع ہو کر کسی چشمہ یا نہر یا کسی تفریحی باغ میں چلے جاتے ہیں او رتمام دن کھانے پینے اور نہانے میں گذار دیتے ہیں ۔ اس کو ’’سیر‘‘ کہتے ہیں۔
۱:نور محمد زرگر آپ کا مرید تھا اور آپ کا کھانا وغیرہ پکاتا تھا ۔ حاجی تاج محمد صاحب تاج جیولر چوک یادگار کا دادا تھا ۔
۲:اس وقت آپ کی عمر بارہ برس کی تھی اورآپ کی سورۂ بقرہ حفظ کر لی تھی ۔
حضرت عبدالغفور صاحبؒ
۱:آپ کا اسم گرامی حافظ محمد عظیم تھا۔ آپ مسجد کلاں گنج کے خطیب ، مدرس اور امام تھے ۔ آپ کے حالات پر ایک مضمون ہے ۔ آپ کی وفات ۱۲۷۵ھ میں ہوئی ۔
۱:یہ روایت حضرت شیخ صاحب شکر پورہ کی زبانی ہے ۔ آپ حضرت سوات صاحب کے سلسلہ میں اعاظم خلفاء سے تھے ۔ آپ کی وفات بعمر تقریباً اسی برس ۹ ذی الحجہ ۱۳۶۶ھ میں ہوئی ۔
۱:سید اکبر شاہ ، حضرت غوث خراسان سید علی ترمذی ؒ کی اولاد سے تھے۔
۱:پشاور سے ہشتنگر روڑ پر دس میل دور ، دریائے شاہ عالم پر یہ گاؤں ہے ۔ شیخ صاحب مرحوم کا مزار وہاں پر واقع ہے ۔ آپ ہندو تھے ۔ حضر ت ہڈہ صاحب کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ۔ بیعت ہو کر صاحب مجاز ہوئے ، صاحب کرامت تھے۔
مولانا قاضی طلا محمد صاحبؒ
۱:تعلیقات برتازہ نوائے معارک صفحہ ۸۳۵ مطبوعہ سندھی ادبی بورڈ کراچی
۱:خزینۃ الاصفیاء صفحہ ۱۸۸، ۱۸۹
۱:صفحہ ۸۳۲
حضرت میاں نصیراحمد صاحبؒ
۱:حضرت مفتی محمد احسن صاحب پشاور میں علاقہ گنج کے کوٹلہ رشید خان کے محلہ میں رہتے تھے ۔ آپ کی تصحیح کے سا تھ بہت کتابیں چھپ چکی ہیں۔ صوبہ سرحد کے اکثر و بیشتر علماء آپ ہی کے شاگرد ہیں ۔ بلکہ بلخ ، بخارا اور غزنی تک آپ کے شاگرد ہیں۔ ۸ شعبان المعظم ۱۲۸۳ھ بروز ہفتہ انتقال ہوا۔
مولانا محمد ایوب صاحبؒ
۱:آپ علم منقول و معقول میں یگانہ روزگار تھے ۔ آپ نے میر زاہد شرح تہذیب ، میرزاہد امور عامہ پر بہترین حواشی لکھے ہیں جو طلباء کے لئے ان کتابوں میں مشعل راہ ہیں۔
۱:اس رسالہ کا ترجمہ اُردو میں اس فقیر نے کیا ہے۔
قاری حافظ میاں محمد صاحبؒ
۱:یہ حافظ صاحب فتح جنگ (پنجاب) کے رہنے والے تھے اور بھانہ ماڑی میں مقیم تھے ۔ صاحب درس تھے ۔ جید حافظ تھے۔
سید ملک شاہ صاحب قادری ؒ
۱:اس کا نام حاجی محمد ولد نظام دین قلعی گر ہے ۔ اس نے اپنی ساری زندگی آپ کے گھر میں بحیثیت ایک گذاری ہے ۔ اس وقت اس کی عمر ۶۵ برس ہے۔
۱:’’لما‘‘ پشاور ی لفظ ہے ، چونکہ آپ کا قدر لمبا تھا اس لئے اسی نام سے مشہور ہوئے۔
حضرت خواجہ عبد الرحمن صاحب چھوہروی ؒ
۱:مقدمہ مجموعہ صلوات الرسول از جناب حافظ سید احمد صاحب قدس سرہ ، صفحہ ۷
۲:چھوہر ہری پور (ضلع ہزارہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں ہے۔
۱:مقدمہ صلوٰۃ الرسول از حافظ مذکور ، صفحہ ۸
۱:مقدمہ مذکورصفحہ۹
۲:آپ کا سلسلہ عالیہ قادریہ اس طرح ہے۔ حضرت یعقوب شاہ صاحب مرید ہیں شیخ محمد انور شاہ صاحب اور یہ مرید ہے حضرت شیخ عبداللہ صاحب کے او ریہ مرید ہیں شیخ محمد رفیق صاحب کے او ریہ مرید ہیں حضرت خواجہ گل محمد صاحب کنگال کے اور یہ مرید ہیں حضرت خواجہ عبدالصبور کے اور یہ مرید ہیں حضرت خواجہ حافظ احمد بارہ مولہ کے اور یہ مرید ہیں حضرت شیخ عنایت اللہ شاہ صاحب اور یہ مرید ہیں حضرت سید عبداللہ صاحبؒ کے ۔ حضرت شاہ عبداللہ صاحبؒ ابوالبرکات سید حسن ؒپشاوری کے والد ہیں ۔ باقی سلسلہ انہی کا ہے ۔
۱:جناب عزت مآب فضل القادر صاحب چودھری ، حضرت چھوہروی ؒ کے خلیفہ حضرت سید احمد شاہ رنگون والے کے مرید ہیں۔
۱:یہ تقریب اور یہ عطیہ ۲۲ فروری ۱۹۶۳ء کو ہوئی ۔
۱:بروایت جناب حافظ سید احمد صاحب رنگون والے مرحوم
۱:مقدمہ مذکورہ صفحہ ۱۷
۱:مقدمہ مذکورہ بالا صفحہ ۱۸،۱۹
سید سکندر شاہ صاحبؒ
۱:الحمد للہ کہ آج کے دن تک آپ کی خانقاہ قائم ہے اور اسی طرح عرس ہوتے ہیں۔
۲: صفحہ ۱۱۶
۳:آقا سید بزرگ شاہ صاحب گنج والے کی اہلیہ تھی۔
۱:حکیم صاحب موصوف نے ایک کتاب انوار الشیخ فی تذکرۃ الشیخ آپ کے حالات میں لکھی ہے غیر مطبوعہ ہے ، صفحہ ۷۸
۱:انوار الشیخ فی تذکرۃ الشیخ (قلمی) صفحہ ۶۹قاضی فضل حق صاحب آپ کے صاحب مجاز خلیفہ تھے اور نہایت ہی مؤدب ، متواضع صاحب اخلاق حمیدہ بزرگ تھے ۔ اپنے شیخ کے عشق میں ہر وقت مستغرق رہتے ۔
۱:ان کا حال الگ لکھا گیا ہے۔
حضرت فضل واحد صاحب المعرو ف حاجی صاحب ترنگزئی ؒ
۱:موضع ترنگزئی ، تحصیل چارسدہ میں، چارسدہ سے تقریباً اڑھائی تین میل پر ایک گاؤں ہے۔
۲:آپ حضرت شیخ الاسلام والمسلمین اعلیٰحضرت اخون سوات صاحب کے خلیفہ تھے۔
۱:موضع گدر ، تحصیل صوابی ضلع مردان میں ہے۔
۱:پھر غالباً خواجہ عبدالرحمن صاحب چھوروی (ہری پور) نے سنگ بینا د رکھا۔
۲: بانڈہ ملا خان میں الحاج ملک محمد زریں صاحب مرحوم کے ہاں مہمان تھے۔
۱:’’غازی آباد‘‘ کا اصل نام ’’سرخ کمر‘‘ ہے سرخ کمر ایک خشک پہاڑی ہے ۔ جس کے اردگرد تینوں طرف بلند بلند فلک بوس پہاڑ ہیں۔ زمین بہت سخت پتھریلی ہے۔
۱:گڈ ملا صاحب کی شخصیت بھی عجیب و غریب شخصیت تھی ۔ یہ صاحب اس سرخ کمر میں کافی عرصہ سے مقیم تھے ۔ تقریباً حاجی صاحب کی اس جگہ کے آمد سے پہلے یہ صوفی فقیر منش بزرگ ۲۰ برس پہلے یہاں ایک بہت بڑی مسجد تعمیر کر رہا تھا ۔ آپ کے ساتھیوں نے آپ کو کہا کہ حضرت یہاں پر عید اورجمعہ کو بھی دس بارہ آدمی ہوتے ہیں تو اتنی بڑی مسجد کی کیا ضرورت ، آپ نے فرمایا ! کہ اس مسجد کو اللہ تعالیٰ ایک عظیم المرتبہ انسان عطاء فرمائے گا جس کی وجہ سے یہاں اس قدر ہجوم ہو گا کہ یہ مسجد بھی اس کو ناکافی ہو گی ۔آپ کا یہ کشف حاجی صاحب کی تشریف آوری پر سچا ثابت ہو گیا کہ اس مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔
خواجہ عبدالرحمن صاحب نقشبندی ؒ
۱:مولانا لطائف گل صاحب بھی ضلع پشاور تحصیل نوشہرہ ، موضع پیر پیائی کے رہنے والے تھے۔
۱:سید اصغر شاہ صاحب پیشن علاقہ قندھار کے رہنے والے تھے ۔ موسیٰ زئی شریف کے حضرت خواجہ محمد عثمان ؒ سے طریقہ نقشبندیہ میں بیعت ہو کر ولایت صغریٰ تک پہنچے ، صاحب تصرف تھے اور کرامات سے موصوف تھے۔
۱:نئی تاریخ چترال اُردو مصنفہ مرزا محمد غفران مرحوم مولفہ لفٹینٹ مرزا غلام مرتضیٰ (فرزند مصنف) صفحہ ۴۰۷
۲: ایضاً صفحہ ۲۱۲
۳: صفحہ ۲۱۲
۱:صفحہ ۴۰۷
۱:۴۰۸
۲:ایضاً
حاجی عبدالرحیم صاحب نقشبندیؒ
۱:کوٹلہ محسن خان پشاور سے مغرب کی طر ف ایک میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
۱:تیراہ ملا صاحب ، حاجی صاحب کا خلیفہ ہے اور لاہور میں امام مسجد ہے بہت ہی برگذیرہ صاحب اوصاف حمیدہ اور صلاحیت کا مالک ہے۔
جناب فقیر خدا بخش صاحب نوشاہی ؒ
۱:مصباح السالکین صفحہ ۲۵، مصباح السالکین آنجناب نے چھوٹے سائز کے ۶۴ صفحات پر مشتمل ایک رسالہ فقیر صاحب کے حالات پر قلمبند کیا ہے۔ یہ مختصر سا رسالہ چار اجزا پر مشتمل ہے ۔جز اول میں پیغام اسلام ، صحیفہ آسمانی ، حقیقت روح ، نظریہ توحید او رمقام انسانیت ، روح انسانی کے مدارج یعنی نفس امارہ ، لوامہ ، مطمئنہ پر بحث کی گئی ہے۔ جز دوم میں فقیر صاحب کی مختصر سوانح عمر ی ہے، جز سوم میں ختم شریف اوراد ، دعائیں اور شجرہ شریف ہے۔
حضرت میرآغا صاحبؒ
۱:حضرت میرجان صاحب ، میاں محمد مظہر صاحب مجددی کے بیعت تھے ۔ آپ کا مزار حضرت ایشاںؒ کے مقبر ہ لاہور میں واقع ہے۔
سید حبیب شاہ صاحبؒ
۱:عید گاہ میں مفتی مولانامولوی عبدالقیوم صاحب پوپلزئی کو ہٹا کر محکمہ اوقاف نے آپ کو خطیب مقرر کیا۔
صاحبزادہ حافظ علی احمد جان صاحب ؒ
۱:بجوڑ ملا صاحب پشاور شہر کے قریب بھانہ ماڑی کے باہر سکونت پذیر تھے۔ بہت ہی بڑے علامہ تھے ۔ معقول و منقول میں اپنا جواب خود تھے ۔ آپ کی قبر بھی ڈھیری باغباناں کے راستہ پر واقع ہے۔
سید شریف حسین صاحب شاکر بغدادیؒ
۱:چونکہ آپ کا سلسلہ نسب حضرت شاہ بغداد محبوب سبحانی قطب ربانی شہباز لامکانی سید شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی ؒ سے ملتا ہے ۔ اسی لئے اسی نسبت سے آپ اپنے آپ کو بغدادی لکھتے تھے۔
۱:روزنامہ ’’انجام‘‘ ۱۵ اپریل ۱۹۶۰ء
سید محمد ایوب شاہ صاحب جعفری
۱:سید اکبر شاہ صاحب مرحوم کے صاحبزادہ حضرت علامہ سید حبیب شاہ صاحب مرحوم پھر جناب مولانا مولوی سید عمر صاحب کے شاگرد تھے۔
۲:حضرت محدث جلیل علامہ اجل شاہ رسول صاحب نے سند حدیث حضرت محدث اعظم مولانا مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی سے حاصل کی تھی ، آپ مدرسہ اسلامیہ خواجہ معروف صاحب گنج میں مدرس تھے ۔ اس مدرسہ کے بانی بیوی ذکری صاحب ،حکیم عبداللطیف صاحب اور سید مقبول شاہ صاحب کلاہ فروش تھے۔
حضرت شیخ جنید پشاور یؒ
۱:مندرجہ بالا معلومات خادم درگاہ حضرت شیخ جنید صاحبؒجناب عبدالقیوم سے ایسے وقت میں فراہم ہوئیں جبکہ کتاب کی کتابت مکمل ہو چکی تھی اس لئے مجبوراً آخر میں تکملہ کے طور پر یہ مضمون شامل کر دیا گیا۔
۲:حضرت میاں عبدالحی صاحبؒ ۱۱ ذی القعدہ ۹۹۹ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۳ شوال ۱۱۱۷ھ میں فوت ہوئے۔
۱:جناب حضرت سعداللہ صاحب وزیر آبادی نے ۱۹ ذی الحجہ ۱۱۰۲ھ میں انتقال کیا۔
۱:آپ کی وفات ۱۷ ماہ صفر المظفر ۱۱۸۹ھ میں ہوئی ۔
حاجی سید اکبر شاہ صاحب بخاری نقشبندی ؒ
۱:بروایت خلیفہ کا لا خان ، یہ صاحب آپ کے خلیفہ ہیں اور اس وقت زندہ ہیں ان کی عمر اسی برس کے قریب ہو گی ۔
روزے کے احکام
روزے کے احکام
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
روزے کے احکام
رمضان شریف کا روزہ ہر مسلمان عاقل و بالغ مرد و عورت پر فرض ہے۔ اگر کسی مجبوری سے رمضان شریف کے مہینہ میں ادا نہ کرسکے تو اس کی قضا کرنا فرض ہے۔ رمضان شریف کے روزہ کی نیت رات کو اور دن کو دوپہر سے قبل تک جائز ہے اوریہی حکم نفل روزے کی نیت کا بھی ہے اور قضا و کفارہ اور نذر غیر معین کے روزہ کی نیت کا رات کو ہی کرلینا ضروری ہے ورنہ روزہ ادا نہ ہوگا۔ مریض اور مسافر کیلئے رمضان شریف میں روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں ہی جائز ہے مگر نہ رکھنے کی صورت میں تندرستی کے بعد یاسفر سے واپس آنے کے بعد قضا کرنا فرض ہے اور ایسا بوڑھا شخص جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس پر روز ایک مسکین کو کھانا کھلانا لازم ہے۔
نوٹ: یاد رہے کہ روزہ تین طرح کا ہے: ایک عام لوگوں کا ،ایک خاص لوگوں کا اور ایک اخص الخواص کا۔ عام لوگوں کا روزہ یہ ہے کہ صبح صادق سے آفتاب غروب ہونے تک کھانے پینے اور جماع سے باز رہنا۔ اور خاص لوگوں کا روزہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو کھانے پینے اور جماع سے بچانے کے علاوہ زبان کو بری باتوں کے بولنے اور کان کو بری باتوں کو سننے سے اور آنکھوں کو ناجائز چیزوں کے دیکھنے سے بچانا اور اخص الخواص کا روزہ یہ ہے کہ مذکورہ تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ اپنے خیال کو بھی ہر وقت اﷲ کی طرف لگائے رکھنا۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد روزہ کے مندرجہ ذیل مسائل فقہ امام ہمام سیدنا ابو حنیفہ سے اخذ کرکے درج کیے جاتے ہیں اگرچہ یہ مسائل بہت مختصر ہیں لیکن عام الوقوع ضروریات کو حاوی ہیں۔ اگر کوئی شخص ان کو ضبط کرے تو حدیث شریف کے مضمون کے مطابق اجر عظیم پائے گا۔
(۱): اگر کوئی مسافر سفر سے واپس آکر اورمریض اپنے مرض سے کچھ دن اچھا رہ کر انتقال کر جائے اور اس کے ذمہ رمضان شریف کے روزے باقی ہوں تو مریض جتنے دن اچھا رہا اور مسافر جتنے دن گھر پر آکر رہا اتنے دن کے روزے کی قضا کے بدلہ اس کے وارث بعوض ہر روزہ ایک مسکین کو کھانا کھلادیں۔
(۲): رمضان شریف کاچاند اگر کوئی شخص تنہا دیکھے اور آسمان پر اس روز گردو غبار یا بادل نہ ہوں تو اس شخص پرروز ہ رکھنا ضروری ہوجائے گا اور دوسرے لوگوں پر فرض نہ ہوگا۔ اور اگر بادل یا گرد و غبار ہو تو ایک عادل مسلمان کی گواہی کی بدولت سب لوگوں پر روزہ فرض ہوجائے گا خواہ گواہی دینے والامرد ہو یا عورت آزاد ہو یا غلام۔
(۳): اگر آسمان صاف ہو تو ایک جماعت کی گواہی سے تمام لوگوں پر روزہ فرض ہوجائے گا لیکن عید کا چاند اگر دو عادل اشخاص نے دیکھا ہو اور آسمان پر گردوغبار ہو تو ان دونوں کی گواہی پر عید کی جائی گی اور اگر گرد و غبار نہ ہو تو ایک جماعت کی گواہی کا اعتبار ہوگا۔
(۴): بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(۵): رمضان شریف کے دنوں میں احتلام ہوجانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔
(۶): سر میں تیل ڈالنا حالت روزہ میں جائز ہے۔
(۷): تھوڑی ہو یا زیادہ اس سے روزہ خراب نہیں ہوتا لیکن قصداً قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا لازم ہے۔
(۸): حلق میں گردوغبار اور دھواں کے گھس جانے سے روزہ خراب نہیں ہوتا۔
(۹): حلق میں مچھر یا مکھی کے چلا جانے سے روزہ نہیں خراب ہوتا۔
(۱۰) : کان میں تیل ڈالنے سے روزہ خراب ہوجاتا ہے اور قضا لازم ہوگی۔
(۱۱): کسی نے روزہ کی حالت میں غرغرہ کیا اور پانی حلق میں چلا گیاتو روزہ ٹوٹ گیا اور اس روزے کی قضا فوری ہے۔
(۱۲): حالت روزہ میں حقنہ لینے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے۔
(۱۳): قصداً کھانے پینے اور جماع کرنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے۔ اس ایک روزہ کے عوض ساٹھ روزے لگا تار رکھنے ہوں گے اور اگر ساٹھ روزوں کے قضا کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا ہوگا، اس کو شرع میں کفارہ کہتے ہیں۔
(۱۴): کسی نے روزہ میں دانت کی پھنسی ہوئی چیز کو باہر نکالا اور پھر کھالیا تو روزہ فاسد ہوگا اور اگر بغیر نکالے کھالیا تو اس کی دو صورتیں ہیں: (اول) اگر چنا کے برابر ہے تو روزہ فاسد ہوگا، (دوم) اگر چنے سے کم ہے تو روزہ نہ ٹوٹا۔
(۱۵): حالت روزہ میں بالکل خاموش رہنا مکروہ ہے۔
(۱۶): کمزوری کا خیال کرتے ہوئے پچھنا لینا یا فسد لینا مکروہ ہے۔
(۱۷): روزہ میں بعد ظہر بلکہ ہر وقت مسواک کرنا جائز ہے۔
(۱۸): روزہ کی قضا لگاتار اور چھوڑ کر دونوں ہی جائز ہے۔
(۱۹): ایک سال کے روزہ کی قضا دوسرے سال جائز ہے مگر بلا عذر تاخیر اچھی نہیں۔
(۲۰): فرض روزہ کو نیت کے بعد بلا عذر توڑ دینے پر ساٹھ روزے رکھنا لازمی ہیں اور نفل روزہ توڑنے پر ایک ہی روزہ کی قضا لازمی ہے۔
(۲۱): سحری کھانے میں تاخیر اور افطار میں تعجیل (جلدی کرنا) مستحب ہے پس چاہئے کہ نماز مغرب سے پہلے افطار کرے اور نیت یہ ہے کہ افطار کے وقت یہ کہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اَمَنْتُ
وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَعَلٰی رِزِقِکَ اَفْطَرْتُ
ترجمہ:اے میرے مالک میں نے محض تیرے لئے روزہ رکھا اور تجھی پر ایمان لایا اور تجھی پر توکل کیا اور تیرے رزق پر افطار کرتا ہوں ۔
اور نیت کرتے وقت ان کلمات کا زبان پر لانا مسنون ہے:
وَ بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانْ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْ
ترجمہ: رمضان کے مہینہ میں میں کل کے روزہ کی نیت کرتا ہوں ،اے میرے مولا میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دے۔
(۲۲): سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(۲۳): اگر کوئی شخص کسی روزہ دار کو بھول کر کھاتے ہوئے دیکھے تو اگر اس میں اتنی قوت دیکھے کہ رات تک روزہ تمام کرلے گا تو مختار یہ ہے کہ اس صورت میں اس کو یاد نہ دلانا مکروہ ہے اور اگر یہ گمان غالب ہوجائے کہ یہ شخص روزہ سے ضعیف ہوجائے گامثلاً کمزور یا بہت بوڑھا ہو تو اب اگر اس کو خبر نہ کرے تو جائز ہے۔
(۲۴): اگر روزہ دار کے منہ میں آنسو داخل ہوں تو اگر تھوڑے ہیں جیسا کہ ایک یا دو قطرے یا اس کے مثل تو اس کا روزہ فاسد نہ ہوگا اور اگر زیادہ ہوں اور ان کی نمکینی اپنے منہ میں پائے اور بہت سے جمع ہوجائیں پھر ان کو نگل جاوے تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر چہرہ کا پسینہ روزہ دار کے منہ میں داخل ہوا تو بھی یہی حکم ہے۔
تراویح اور وتر کے مسائل
تراویح سنت مؤکدہ ہے۔ یہ رمضان شریف میں بیس رکعتیں دو دو رکعت میں سلام پھیر کر بعد نمازِ عشاء یعنی فرض وسنت کے بعد وتر سے قبل پڑھی جاتی ہیں۔ اس کیلئے جماعت سنت کفایہ ہے ۔ اگر کسی محلہ یا بستی میں جماعت تراویح قائم نہ ہوئی تو اس محلہ بستی کے تمام لوگ گنہگار ر و قابل ملامت ہوں گے۔
ہر چہار رکعت نماز تراویح کے بعد چار رکعت کے مقدار بیٹھ کر تین مرتبہ تسبیح پڑھنا بہتر ہے اور تراویح میں ایک ختم قرآن مجید پڑھنا سنت ہے اور دو ختم کرنا فضلیت ہے اور تین ختم کرنا افضل ہے۔ ہر رکعت میں پورا ماہ دس دس آیت پڑھنے سے صرف ایک ختم ہوگا۔ بیس بیس آیت پڑھنے سے دو ختم قرآن مجید اور اگر تیس تیس آیتیں ہر رکعت میں پڑھی جائیں تو تین ختم ہوں گے۔ اگر کوئی حافظ نہ ملے تو اہل محلہ سورتوں کی تراویح جماعت کے ساتھ پڑھیں اور اس کے پڑھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ سورہ والضٰحی سے شروع کیا جائے اور بیسویں رکعت و الناس پر ختم کی جائے ۔دوسرا طریق (تجنیس) میں اس طرح مرقوم ہے کہ الم ترکیف سے لے کر والناس تک دس رکعتیں پوری کرے اور پھر اسی طرح باقی دس میں ان دس سورتوں کو پڑھے۔
مسائل
(۱): مسائل اولیٰ یہ ہے کہ جس نے فرض نماز کی امامت کی ہے وہی وتر پڑھائے اور اگر دوسرا شخص وتر پڑھائے تو اسی کی اجاز ت سے پڑھائے۔
(۲) :ضروری: اکیلا فرض نماز ادا کرنے والا جماعت کے ساتھ وتر و تراویح پڑھ سکتا ہے۔
(۳) : اگر کسی کی تراویح کچھ چھوٹ گئی ہو اور جماعت وتر شروع ہوجائے تو اس کو وتر میں شریک ہوجانا چاہئے اور بعد وتر تراویح پوری کرلے کیونکہ بعد وتر بھی بصورت مجبوری تراویح جائز ہے۔ یہ مسئلہ بہت ضروری ہے کیونکہ اکثر لوگ اس سے غافل ہیں۔
(۴): جو شخص بغیر فرض نماز ادا کئے تراویح میں شریک ہوجائے اس کی تراویح نہ ہوگی۔
(۵)جو شخص فرض نماز عشاء کی جماعت سے ادا کرے اور تراویح اکیلا پڑھے وہ وتر کی جماعت میں شریک ہوسکتا ہے۔
(۶): اگر تراویح دو رکعت یا زیادہ فاسد ہوجائے تو جس قدر قرآن مجید ان رکعتوں میں پڑھا گیا ہو اس کا دُہرانا ضروری ہو جائے گا ورنہ ختم ناقص ہوگا ۔اگر تراویح میں دوسری رکعت کی بیٹھک بھول گیا اور تیسری رکعت کے رکوع کے بعد اس کو یاد آگیا تو بیٹھ کر سجدہ سہو کے ساتھ نماز ختم کردے، تراویح درست ہوجائے گی اور اگر تیسری رکعت کا سجدہ کرچکا ہو تو اس میں چوتھی رکعت اور ملالے اور سجدہ سہو کے ساتھ نماز تمام کرے۔ اب ان چار رکعتوں میں سے دو رکعت کو تراویح میں شمار کرے اور دو رکعت کو نفل میں اور اگر دوسری رکعت کی بیٹھک کے بعد یہ صورت پیش آئی ہو اور چاررکعت پوری کی ہوں تو چاروں رکعت تراویح میں شامل ہونگی۔ یہ تینوں صورتیں یاد رکھنے کے قابل ہیں کیونکہ ان کا وقوع اکثر ہوتا رہتا ہے اور حفاظ ان سے نا واقف ہوتے ہیں۔
(۷): رمضان شریف کے ماہ میں وتر کی جماعت افضل ہے اور امام اس کے اندر تراویح یافرض نماز کی طرح بلند آواز سے قرأت ادا کرے گا۔
(۸): تینوں رکعت کے اندر امام کی قرأت کے وقت مقتدی خاموش رہیں گے لیکن دعائے قنوت سب لوگ پڑھیں گے اور امام بھی دعائے قنوت بلند آواز سے نہیں پڑھے گا۔
(۹): تروایح کی قضا نہیں ہے۔
(۱۰): اگر ایک جماعت نے رمضان میں فرض عشاء جماعت سے پڑھے لیکن تراویح علیحدہ علیحدہ پڑھ لی تو اب یہ جماعت و تر جماعت سے نہیں پڑھ سکتی۔
شب ِقدر
مسلمانوں کیلئے رمضان شریف کا مہینہ ایک نعمت غیر مترقبہ ہے کیونکہ اس کے آخری عشرہ میں شب قدر کا طاق راتوں میں دورہ ہوتا ہے۔ پھر علماء و محققین کی ایک بڑی جماعت اس امر کی قائل ہے کہ شب ستائیسویں رمضان مبارک ہی شب قدر ہے۔ صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ سورہ قدر میں لیلۃ القدر تین مقام پر یعنی تین دفعہ مذکور ہے اور لیلۃ القدر کے نو حروف ہیں جب نو کو تین سے ضرب دی جائے تو ۲۷ نکل آتا ہے۔
صاحب ’’نزہتہ المجالس‘‘ نے فرمایا ہے کہ میرے والد شیخ ابو الحسن صاحب نے فرمایا کہ جب سے میں بالغ ہوا ہمیشہ شب قدر پاتا رہا۔ کبھی بھی مجھ سے شب قدر فوت نہ ہوئی اور اس کے پانے کے متعلق اپنے تجربہ کی بنا پر یہ قاعدہ بیان فرمایا کہ اگر پہلی رمضان اتوار اور بدھ کو ہو تو شب قدر ۲۹ کو ہوتی ہے اور پہلی تاریخ دو شنبہ (پیر) کو ہو تو شب قدر ۲۱ کو ہوگی اور اگر پہلی رمضان منگل یا جمعہ کو ہو تو ستائیسویں رات سمجھو۔ اور اگر پہلی تاریخ رمضان جمعرات کو ہو تو ۲۵ کو یقین جانو اور اگر پہلی رمضان شنبہ (ہفتہ) کو ہو تو ۲۳ کو اس کا نتظار کرو۔(ترجمہ نزہتہ المجالس،جلد اول، صفحہ ۱۴۹)
واضح ہو کہ بعض صحابہ نے اس شب قدر کو کھارے پانی کو میٹھا پایا ،سمندر میں سکون پایا اور درختوں کو سجدہ کرتے ہوئے پایا ۔اﷲ تعالیٰ ہر ایک طالب ِشب قدر کو یہ رات عبادت سے زندہ رکھنے کی توفیق و ہمت بخشے--- آمین۔
اعتکاف
مسجد میں بہ نیت عبادت ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے۔(۱) سنت مؤکدہ(۲) کفایہ و نفل۔
(۱)اعتکاف سنت مؤکدہ کفایہ ہے کہ رمضان شریف کے آخری عشرہ میں اکیس تاریخ سے ختم ماہ تک اس مسجد میں بہ نیت عبادت ٹھہرے جس میں پنج گانہ نماز ہوتی ہو۔ یہ اعتکاف ہر محلہ کے کم از کم ایک آدمی کیلئے کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی بھی نہ کرے گا تو تمام محلہ کے تمام لوگ گنہگار ہوں گے۔ پورے نو یا دس دن کا اعتکاف کامل اعتکاف ہے اور اعتکاف کیلئے اقل مدت ایک دن ایک رات ہے۔ اعتکاف مغرب کے وقت شروع کرے اور اسی وقت ختم کرے ۔
اعتکاف کرنا اس سنت کی پیروی ہے جس کو سرکار دو عالمنے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ تشریف لا کر ادا کیا اور پھر کبھی بھی ترک نہ فرمایا اور آپ کے بعد تمام صحابہ کرام، ازواج مطہرات ، تابعین ، تبع تابعین رضوان اﷲ تعالیٰ علیم اجمعین ہمیشہ اس کو ادا کرتے رہے۔ شروع شروع میں حضور اکرمنے رمضان شریف کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا تھا تو جبرئیل امین تشریف لائے اور کہا ’’آپ جس چیز کو تلاش کرتے ہیں یعنی لیلۃ القدر وہ آخری عشرہ میں ہے‘‘ اسکے بعد برابر حضورآخر کے عشرہ میں اعتکاف کرتے رہے آپ نے اس کی فضلیت میں فرمایا ہے
من اعتکف یوماً ولیلاً من رمضان یرید بہ وجہ اﷲ ولا یرید ریاء و
سمعہ اعطاء اﷲ ثواب ثلٰثمائۃ شھید قتلوا فی سبیل اﷲ صابرین محتسبین
ترجمہ: جس شخص نے محض اﷲ تعالیٰ کی رضا کیلئے رمضان کے مبارک ماہ میں ایک رات اور ایک دن کیلئے اعتکاف کیا اور کسی کو دکھانے سنانے کیلئے اﷲ تعالیٰ اس کو ایسے تین سو شہیدوں کا ثواب دے گا جو محض اﷲ تعالیٰ کی رضا کیلئے اور ثواب حاصل کرنے کیلئے اس کے راستہ میں قتل کئے گئے۔
مسائل
(۱)معتکف کا خاموش رہنا مکروہ ہے۔ معتکف اپنے اوقات کو درود وظائف نماز و نوافل ، تلاوتِ قرآن مجید اور درس و تدریس علوم دینیہ میں گزارے۔ یا بزرگان کرام کی کتابوں کے مطالعہ کرنے میں گزارے۔
(۲)حاجت ضروری کیلئے باہر جانا جائزہے لیکن فارغ ہو کر پھر جلدی مسجد میں چلا آنا چاہئے۔
(۳)مسجد میں معتکف کیلئے کھانا، پینا اور سونا جائز ہے۔
(۴)اگر کوئی شخص اس کا کھانا لانے والا نہ ہو تو گھر جا کر کھانا کھا سکتا ہے مگر کھانے سے فارغ ہو کر وہاں نہ بیٹھنا چاہئے بلکہ فوراً مسجد میں چلا آنا چاہئے۔
(۵)بہتر ہے کہ اعتکاف ایسی مسجد میں ادا کرے جہاں نماز جمعہ ادا ہوتی ہو اور اگر یہ فضلیت نصیب نہ ہوسکے تو جمعہ کی نماز کیلئے کسی ایسی مسجد میں چلا جائے جہاں نماز جمعہ ادا ہوتی ہو۔ مگر ایسے وقت میں جائے کہ چار رکعت سنت ادا کرنے کے بعد خطبہ شروع ہوجائے یعنی بہت قبل نہ جائے اور بعد نماز جمعہ چھ رکعت سنت ادا کرکے پھر اپنی مسجد میں چلا جائے۔
(۶)معتکف کیلئے خرید و فروخت اگرچہ جائز ہے لیکن سودا مسجد سے باہر رکھ کر عقد کرے۔ اگر اس طرح نہ کرے تو اعتکاف درست نہیں۔
مندرجہ ذیل امور سے اعتکاف باطل ہوجاتا ہے:
(الف) دیر تک بلا ضرورت مسجد اعتکاف سے باہر رہنا۔
(ب) حالت اعتکاف میں قصداً یا بھول کر جماع کرنا۔
جب اعتکاف باطل ہوجائے تو اس کی قضا ضروری ہے اور اس کے ادا میں روزہ شرط ہے لیکن نفلی اعتکاف کیلئے نہ روزہ شرط ہے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی خاص وقت مقرر ہے۔ ایسا اعتکاف ایک ساعت کیلئے بھی جائز ہے اور ہمیشہ ہر زمانہ میں اس اعتکاف کا ادا کرنا درست ہے۔ عورت کیلئے بہترین اعتکاف یہ ہے کہ وہ اپنے گھر میں ادا کرے لیکن اس کو ثواب اسی قدر ملے گا جتنا کہ مرد کو ایک جامع مسجد میں اعتکاف ادا کرنے کا ملتا ہے۔ (عالمگیری)
صدقہ فطر
ہر آزاد مسلمان صاحب نصاب پر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے اس کیلئے نصاب مال وہی ہے جو زکوٰۃ کیلئے وجوب کا باعث بنتا ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا موجود ہو۔ یا اس کے برابر قیمت کے اسباب ضروریاتِ فاضل موجود ہوں اگر چہ تجارت کیلئے نہ ہوں تو اس پر صدقہ فطر کا ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔
زکوٰۃ کے وجوب کیلئے نصاب مال پر سال گزرنا شرط ہے لیکن صدقہ فطر کیلئے یہ شرط نہیں، صرف نصاب کا پایا جانا شرط ہے (سال گزرے یا نہ گزرے) ۔صدقہ فطر اپنی طرف سے اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے اور اپنے خادموں کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے۔
(الف)گیہوں، آٹا، ستو، انگور اگر دینا چاہے تو نصف صاع یعنی ایک سیر تیرہ چھٹانک اور یہ وہ سیر ہونا چاہئے جس کا وزن اسی تولہ ہو۔
(ب)اگر خرما، جو یا جو کا آٹا دینا چاہے تو ایک صاع یعنی تین سیر دس چھٹانک دینا ہوگا۔ یہ مقدار فی کس کے حساب سے دینا ہوگا۔
(ج)اگر چاول، چنا، مسوردال، دینا چاہے تو فقہاء نے اجازت دی ہے لیکن اوپر کی چیزوں سے قیمت لگا کر ادا کرے۔
(د)قیمت کا ادا کرنا بہت بہتر ہے، جس میں فلسفہ یہ ہے کہ فقراء و مساکین اپنی حاجت کی چیزوں کو مناسب سمجھ کر خرید سکتے ہیں۔
مسائل
(۱): صدقہ فطر آخری عشرہ رمضان سے لے کر عید کی نماز کے قبل تک ادا کرنا دینا بہتر ہے۔ پھر جو شخص عید کی نماز کے وقت تک ادا نہ کرسکے اس پر واجب ہے کہ عید کی نماز کے بعد ادا کردے۔ پھر جو صاحب نصاب ہو کر بھی صدقہ فطر ادا نہ کرے وہ سخت وعیدکا مستحق ہے کیونکہ سرکار دو عالمنے ارشاد فرمایا:
لم یزل صومکم معلقًا بین السمآء
والارض الی ان یودی احد کم زکٰوۃ صومہ
ترجمہ: جو شخص باوجود شرطِ وجوب کے صدقہ فطرادا نہ کرے ،اس کے روزے آسمان اور زمین میں معلق رہتے ہیں اور دربار لم یزلی میں پیش نہیں ہوتے۔
(۲) : اگر کسی شخص کے پاس ایک ایسا مکان موجود ہو جو اس کے رہائشی مکان کے علاوہ ہو اور اس کی قیمت نصاب تک پہنچ گئی ہو تو اس پر صدقہ فطر واجب ہوجائے گا۔
(۳) : اگر نابالغہ لڑکی کی شادی ہوگئی ہو تو اس کا صدقہ فطر اس کے ماں باپ پر واجب نہیں۔
(۴): زکوٰۃ کی طرح صدقہ فطر کا مال کافر کو دینے سے ادا نہیں ہوسکتا۔
(۵) : صدقہ فطر یا زکوٰۃ کا مال مسجد ، مدرسہ ،حوض، تالاب، مسافرخانہ، غسل خانہ اور قبرستان پر صرف کرنا نا جائز ہے۔
(۶) : صدقہ فطر یا زکوٰۃ کا مال سب سے پہلے اپنے خاندان کے غربا و مساکین پر صرف کرے پھر پڑوس کے لوگوں پر پھر محلہ کے غریب لوگوں پر پھر شہر کے مساکین پر اگر ان سب کو ضرورت نہ ہو تو دوسرے شہر کے غربا کو تلاش کرے ۔اگر اپنے محلہ کے لوگوں سے دوسرے محلہ کے لوگ زیادہ حاجت مند ہوں تو دوسرے محلہ کے لوگوں میں تقسیم کردینا اولیٰ ہے۔
(۷) : بنی ہاشم کیلئے صدقہ فطر کا مال اور زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے۔ بنی ہاشم سے مراد حضرت عباس، حضرت علی، حضر ت جعفر، حضرت عقیل اور حضرت حارث رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین کی اولاد مراد ہے۔
(۸) : مالدار شخص کے غلام کو صدقہ فطر دینا بھی ناجائز ہے۔
(۹): اپنی اولاد ،اولاد کی اولاد، باپ ،دادا، ماں ،نانی اور دادی اور اپنے غلام کو صدقہ فطر دینا ناجائز ہے۔ چچا ، پھوپھی اور ان کی اولاد کو بھائی بھتیجا اور ان کی اولاد کو بہن، بھانجی، بھانجا اور ان کی اولاد کو ماموں ممانی خالہ اور ان کی اولاد کو صدقہ فطر دینا جائز ہے بشرطیکہ غربت افلاس اور مسکنت پائے جائیں۔
(۱۰) : جو شخص عید کی صبح سے پہلے مسلمان ہوگیا ہو، جو بچہ نماز عید سے پہلے تولد ہو ان کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے۔
شوال المکرم کے چھ روزی
بزرگانِ دین اور اولیاء کرام کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے ہمیشہ رکھا کرتے تھے کیونکہ نبی کریمنے ارشاد فرمایا جو شخص تیس روزے رمضان کے اور چھ روزے شوال کے رکھے گا اس کو تمام سال میں روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا ۔اس میں مخفی حکمت یہ ہے کہ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہ‘ عَشْرُ اَمَثْالِھَا (الانعام۶:۱۶۰) یعنی جو نیک کام کریگا اس کو اس کے بدلہ دس گنا ثواب ملے گا کے مطابق ایک ماہ (رمضان )کے بدلے دس ماہ ہوگئے اور چھ (شوال) کو دس سے ضرب دیں تو ساٹھ روز یعنی دو ماہ بنتے ہیں پس میزان ۱۰+۲=۱۲ ہو گیا تو گویا تمام سال کے روزوں کا ثواب مل گیا اور حدیث شریف کے الفاظ مبارک مندرجہ ذیل ہیں:
من صام رمضان واتبعہ لستۃ من شوال فکا نما صام دھرًا کلہ
ترجمہ: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھ کر چھ روزے شوال کے رکھ لئے تو اس نے پورے سال کا روزہ رکھا۔
مسئلہ:۔ شوال کے روزوں کو لگاتار نہ رکھنا بہتر ہے۔
سیر السلوک الی ملک الملوک
از مولانا القاسم صاحب متی
اردو ترجمہ
فقیر) محمد امیر شاہ قادری گیلانی)
پیش لفظ
حضرت زبدۃ العارفین قدوۃ السالکین مولانا قاسم صاحب نے تصوف پر ایک بلند پایہ کتاب ’’سیر السلوک الی ملک الملوک ‘‘ کے نام سے تصنیف فرمائی جو علمائے متصوفین کی نظر میں سالکانِ راہِ طریقت کیلئے ایک نادر تحفہ ہے۔ چنانچہ شاہ محمد غوث اکیڈیمی کی طرف سے متلاشیانِ حق کیلئے اس کتاب کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اس کو سمجھ کر اور اس پر عمل پیرا ہو کر تزکیہ نفس، اطمینان اور اخلاقِ تصوف سے بہرہ مند ہو سکیں۔ امید ہے اس سلسلہ میں قارئین کرام اپنے نیک مشوروں سے مستفید فرمائیں گے ۔
وما توفیقی الا باﷲ
(فقیر) محمد امیر شاہ قادری گیلانی
یکم نومبر ۱۹۹۲ء
الحمد ﷲ رب العالمین و العاقبۃ للمتقین و الصلوۃ و
السلام علی خیر خلقہ محمد والہ و اصحابہ اجمعین--- اما بعد !
اچھی طرح سمجھ لو کہ تصوف معرفت حق کا راستہ ہے ، یہ طریقہ انبیاء و مرسلین اور اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے اخلاقِ حسنہ کا نام ہے ۔ یہ مخلص بندے وہ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا
اِنَّ عِبَادِیْ لَےْسَ لَکَ عَلَےْھِمْ سُلْطَانٌ (الحجر ۱۵: ۴۲)
ترجمہ: بیشک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں ۔
اور یہ (تصوف) ممکن العمل اور آسان ہے ان کیلئے جن پر اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور یہ لوگ کامل ترین استعداد اور سالم ترین مزاج کے مالک ہیں اور یہی وہ پاکیزہ صفت اصحاب ہیں جو نہ تو دنیا کی عارضی لذتوں کی طرف کسی قسم کی رغبت رکھتے ہیں او رنہ ہی آخرت کے انعام کے لالچ سے اس کی عبادت کرتے ہیں بلکہ ان کا مقصد وحید تو رِضائے الٰہی اور قربِ الٰہی کا حصول ہوتا ہے ۔ درحقیقت ان کے قلوب ہر وقت آپنے آقا و مولیٰ کی یاد میں مستغرق رہتے ہیں، ذکر الٰہی کے بغیر ان کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور یادِالٰہی کے علاوہ ان کا گزر ہی نہیں ہوتا۔ دن کو (اللہ کی یاد میں) کوٹھڑیوں میں گزارنا پسند کرتے ہیں جبکہ رات کو اس طرح محبوب رکھتے ہیں جس طرح پرندہ اپنے آشیانے کو ۔۱
پس جب رات کی تاریکی چھا جاتی ہے اور ہر ایک محبت کرنے والا اپنے محب کے پاس
۱یعنی جس طرح پرندے دن کو دانہ دنکا کی تلاش میں رہتے ہیں اور غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی اپنے آشیانوں کا رخ کرتے ہیں اور آپس میں مل جاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے یہ مخلص بندے رات کو اپنے آقا و مولاکی عبادت اور اس کے ساتھ راز و نیاز میں گزار دیتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی یہ صفت یوں بیان فرمائی ہی
وَالَّذِےْنَ یَبِےْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّ قِےَامًا(الفرقان۲۵:۶۴)
ترجمہ: اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کیلئے سجدہ او ر قیام میں ۔
نیز حضرت جامی نے اس مضمون کو اپنے اس شعر میں نہایت ہی مناسب انداز میں بیان فرمایا ہے
شب آمد سازگار عشق بازاں
از اں بر روز شاں شب اختیار است
3شب آمد راز دار عشق بازاں
کہ آں یک پردہ در دیں پردہ دار است
íتنہائی حاصل کر لیتا ہے تو ان کے قدم بھی اپنے محبوبِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اس کی شان کے مناسب راز و نیاز میں سرگوشیاں کرتے ہیں اور اس کے انعام کے حصول کیلئے اتنہائی لجاجت کرتے ہیں۔
اور یہ (تصوف) اس شخص کیلئے بہت مشکل ہے جو گٹھیا عادات کا شکار ہو جائے اور انتہائی پستیوں میں گر کر حیوانی صفات کا مظہر بن جائے ۔ نیز خواہشات وشہوات اور لذاتِ نفسانی میں مبتلا ہو کر معصیت کے چنگل میں پھنس جائے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے وقت اپنے مخلص بندوں کو جس نور سے بہرہ مند فرمایا تھا اس نور سے اسے کچھ نہ ملا اور اس کی خلقت تاریکیوں میں ہی ہوئی یعنی یہ ازلی سیاہ بخت ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے ’’پس یہ اپنی گمراہی میں منہمک رہتے ہیں اور ہر گز ہدایت نہیں پاتے ‘‘ ۔
اور سالکین طریقت کو تصوف کے مقامات اور منازل معلوم ہیں جو کہ سات ہیں جن کو ہم عنقریب تفصیل سے بیان کریں گے ۔ ان مقامات اور منازل کو سالک یکے بعد دیگرے طے کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ آخری منزل پر پہنچ جاتا ہے ( مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے ) کہ سالک تصوف کے تمام مقامات اور منازل تو طے کر لیتا ہے مگر انوار و تجلیاتِ معرفت ختم نہیں ہوتے کیونکہ ان کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے ۔ نیز ترقی درجات و نزولِ انوار کا سلسلہ سالک پر موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
سالک کا حال منازلِ سلوک کے طے کرنے میں ایک مسافر کی مانند ہے جو کہ عالم محسوسات میں اپنی منزلیں طے کرتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ جیسا کہ مسافر کو اپنے سفر کے دوران ایک کامل رہنما ،جو منازل کی راہ و رسم سے واقف ہو ،راستہ کیلئے توشہ ، سواری ، رفقائے سفر اور دشمن کے سامنے آجانے کے صورت میں اسے بھگانے کیلئے اسلحہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔اسی طرح سالک طریقت کیلئے بھی مرشد کامل جو خود اس راستہ کو عبور کر چکا ہو اور اس کے خیر و شرسے پوری طرح آگاہ ہو ، راستہ کا توشہ یعنی تقویٰ، سواری یعنی سالک کی بلند ہمتی، رفقائے سفر یعنی اس کے ساتھی پیر بھائی اور اسلحہ یعنی اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ کا ذکر جس سے وہ اپنے دونوں دشمن نفس اور شیطان کو ڈراتا ہے کی ضرورت ہوتی ہے۔
جس طرح کہ ایک مسافر شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھرتا اور قیام کرتا ہوا اپنی منزلِ مقصود کی طرف متوجہ رہتا ہے ا سی طرح سالک بھی اپنی سیر کے دوران ان مقامات سے گزرتا ہے جو کہ اولیاء اللہ میں مشہور ہیں او روہ سات ہیں۔
اولیاء اللہ کی ان سات منازل میں سے پہلی منزل ’’مقام ظلمات الاغیار ‘‘۱ ہے اور اس مقام پر نفس کا نام ’’امارہ بالسوء ‘‘۲ ہے اور دوسری منزل ’’مقام الانوار‘‘ ۳ہے اور یہاں پر نفس کا نام ’’لوامہ ‘‘ ۴ہے اور تیسری منزل ’’مقام الابرار‘‘ ۵کہلاتی ہیں اور اس میں نفس کا نام ’’ملہمہ ‘‘۶ہے اور چوتھی منزل ’’مقام کمال‘‘ ۷ہے اور اس جگہ نفس کو’’ مطمئنہ ‘‘۸کہا جاتا ہے اور پانچویں منزل ’’مقامِ وصال ‘‘ ۹ہے اور اس مقام پر نفس کا نام ’’راضیہ ‘‘ ہے ۔۱۰
۱ :ظلمت کی جمع ظلمات ہے ،اس کے معنی اندھیرا تاریکی، سیاہی کے ہیں او رغیر کی جمع ہے اغیار جس کے معنی ہیں اجنبی، بیگانہ ، سوا، دشمن وغیرہ یعنی اس مقام پر انسان اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے دشمن شیطان اور نفس کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے :وَالَّذِےْنَ کَذَّبُوْا بِاَےٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُکْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ(الانعام۶: ۳۹) یعنی جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔
۲ : امارہ امر سے ہیں جس کے معنی حکم دینے کے ہیں، یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور سوء کے معنی ہیں برائی ، آفت ، گناہ، برا کام، عیب۔ امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں ہر وہ چیز جو انسان کو غم میں مبتلا کر دے اسے سوء کہا جاتا ہے خواہ وہ امورِ دنیوی سے ہو یا اخروی امور سے اور اسکا تعلق احوالِ نفسانیہ سے ہو یا بدنیہ سے (امام راغب ، مفردات القرآن، مکتبہ قاسمیہ لاہور ۱۹۶۳ء ، صفحہ ۴۶۶) قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْئِٓ (یوسف: ۵۳) یعنی بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے۔ یعنی نفس امارہ ہر وقت برے کاموں کا حکم کرتا رہتا ہے اور خواہشاتِ نفس کی پیروی میں ا نسان ظلمت میں بھٹکتا رہتا ہے ۔
۳ :نور کی جمع انوار ہے اور یہ ظلمت کی ضد ہے ، ارشاد ربانی ہے: اَﷲُ وَلِیُّ الَّذِےْنَ اٰمَنُوْا ےُخْرِجُھُمْ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ(البقرۃ ۲:۲۵۷)یعنی اللہ والی ہے ایمان والوں کا، انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے ۔
۴ :لوامہ کے معنی ہیں بہت ملامت کرنے والا یعنی مرشد کامل کی رہنمائی میں سالک جب ظلمت سے نکل کر نور کی طرف آتا ہے تو اس پر اپنے نفس کی برائیاں آشکارا ہو جاتی ہیں چنانچہ وہ اپنے نفس کو اس پر ملامت کر تا ہے او ر امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نفس مومن ہے جو ہمیشہ اپنے آپ کو ملامت کرتا رہتا ہے خواہ کتنی ہی نیکی کرے یہی کہتا ہے کہ اس سے زیادہ کیوں نہ کی اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اس نفس کی قسم کھائی ہے ، ارشاد ہے وَ لَاُقْسِمُ بِالنَّفِسِ اللَّوَّامَۃِ(القیامۃ۷۵:۲)ترجمہ: اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر بہت ملامت کرے ۔
(حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں)
اور چھٹی منزل ’’تجلیاتِ افعال‘‘ ۱کی ہے ، اس مقام پر نفس کا نام مرضیہ۲ ہے ۔ ساتویں اور
بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ:
۵ :ابرار جمع ہے البار کی ،اسکے معنی ہیں نیکوکار، بھلائی کرنے والا متقی ۔ ان کی شان اس آیۂ کریمہ سے ظاہر ہو رہی ہے ۔ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِےْمٍ (الانفطار۸۲:۱۳)یعنی بیشک نیکوکار چین میں ہوں گے
۶:الہمہ کے معنی ہیں کسی چیز کا دل میں ڈالنا ۔ امام راغب فرماتے ہیں الہام کے معنی کسی دل میں کوئی بات القاء کر دینے کے ہیں۔ قرآن کریم میں آتا ہے فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَہَا وَ تَقْوٰھَا (الشمس ۱۹:۸)یعنی پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیز گاری دل میں ڈالی ۔یعنی سالک جب مقامِ ابرار میں پہنچ جاتا ہے تو ا س کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پرہیز گاری کے کاموں کیلئے پے در پے الہام ہوتا رہتا ہے۔
۷ :کمال کے معنی ہیں پورا ہونا، اس مقام پر سالک کا مقصد پورا ہوجاتا ہے یعنی اسے اللہ کی یاد سے اطمینان حاصل ہوتا ہے ،اسلئے اسے مقامِ کمال سے یاد کیا گیا ہے۔
۸ :مطمئنہ:اس کے معنی ہیں سکون پانے والے نفس ۔ حضرت غوث الاعظم ص فرماتے ہیں نفس کا مطمئن ہونا یہ ہے کہ وہ دل کی باتوں کو قبول کر لے اور باطن کا ساتھ دے اور احکام و نواہی میں اس دونوں کی اطاعت کرے ،جو دیا جائے اسے کافی سمجھے اور جو نہ ملے اس پر صبر کرے ۔ اس طرح وہ نفس مطمئنہ بن کر قلب سے مل جائیگا اور سکون پائیگا ۔ تقویٰ کا تاج سر پر اور قرب کی خلعت بدن پر نظر آئیگی ۔ (غوث اعظمص، الفتح الربا نی ، شیخ غلام علی لاہور ۱۹۶۸ء، صفحہ ۱۵۱)
۹ :وصال کے معنی ہیں ملنا ، ملاقات ، مرجانا ، انتقال کرنا، اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ص فرماتے ہیں جب تک اہل اللہ کو اپنے رب کا وصل حاصل نہ ہو جائے اس کے غم کو نہ خوشی نصیب ہوتی ہے ،نہ اس کے سر سے بوجھ اترتا ہے ،نہ اس کی آنکھوں کو سرور اور نہ اس کی مصیبت کو سکون ملتا ہے ۔ (غوث اعظم ص ، الفتح الربانی ، شیخ غلام علی لاہور ۱۹۶۸ء ، صفحہ ۱۹۹)
۱۰ :راضیہ سے مراد راضی ہونا ، خوش ہونا ،پسند کرنا ہے۔ نفس مطمئنہ جب مقامِ وصال پر فائر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے یوں مخاطب کیا جاتا ہے یٰٓاَےَّتُھَا النَّفَسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ اِرْجِعِیْ ٓ اِلَی رَبِّکَ رَاضِےَۃً (الفجر: ۲۷) یعنی اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف واپس لوٹ ، یوں کہ تو اس سے راضی ہو۔واضح رہے کہ بندہ کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ قضائے الٰہی سے اس پر وارد ہو وہ اسے خوشی خوشی برداشت کرلے (امام راغب، مفردات القرآن ، صفحہ ۳۵۷)
حواشی موجودہ صفحہ:
۱: تجلیات تجلی کی جمع ہے، جس کے لغوی معنی ہیں پردہ ہٹنا، اچھی طرح ظاہر ہونا، عیاں ہونا، روشنی، نور، چمک۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے وَالنَّھَارُ اِذَا تَجَلَّی (اللیل ۹۲:۲) یعنی اور قسم ہے دن کی جب وہ چمک اٹھے۔ اور تصوف کی اصطلاح میں تجلی سے مراد حجاباتِ بشری کا اٹھ جانا ہے اور تجلیات مختلف طریق سے ظاہر ہوتی ہیں،جیسے تجلی بطریق افعال، تجلی بطریقِ صفات اور تجلی بطریق ذات(شہاب الدین سہروردی، عوارف المعارف، مدینہ پبلشنگ کراچی، ۱۹۸۹ء صفحہ ۶۹۶)۔
۲: مرضیہ کے معنی ہیں اﷲ تعالیٰ کا بندے سے راضی ہونا، علامہ راغب اصفہانی فرماتے (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے )
آخری منزل ’’مقامِ تجلیات الصفات و اسماء‘‘ ہے او ریہاں پر نفس کا نام کاملہ ۱ہے اور سالک جب بھی ان مقامات میں سے کسی ایک مقام پر ہوتا ہے تو وہ بعد میں آنے والے مقام سے محجوب۲ ہوتا ہے پس جب پہلے مقام پر ہوتا ہے تو وہ اغیار کے حجاب میں ہونے سے انوار کا
بقیہ حاشیہ:
ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے بندہ سے راضی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اسے اپنے اوامر کا بجا لانے والا اور منہیات سے روکنے والا پائے (امام راغب، مفردات القرآن، مکتبہ قاسمیہ لاہور، ۱۹۶۳ء ، صفحہ ۳۵۷)۔ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے رَضِیَ اﷲُ عَنْہُمْ وَ رَضُوا عَنْہُ (المائدہ ۵:۱۱۹) یعنی اﷲ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اﷲ سے خوش۔ سالک جب ممنوعات سے بچتے اور احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے یادِ الٰہی کے دوام سے اطمینان اور سکون حاصل کر لیتا ہے نیز اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتا اور مصیبتوں پر راضی رہتا ہے تو اﷲ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ان الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا جاتا ہے یٰٓاَےَّتُھَا النَّفَسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ اِرْجِعِیْ ٓ اِلَی رَبِّکَ رَاضِےَۃً مَّرْضِیَّۃً(الفجر۸۹: ۲۸-۲۷) یعنی اے نفس مطمئن واپس چلو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔
حواشی موجودہ صفحہ:
۱: جس کے اجزاء پورے ہوں، جس کی صفات پوری ہوں اسے کامل کہا جاتا ہے، ناقص اس کی ضد ہے ۔ امام راغب لکھتے ہیں کسی شے کے کامل ہونے سے مراد وہ غرض پوری ہو جانا جس کیلئے وہ وجود میں آئی تھی، چنانچہ جب کسی چیز کے متعلق کمل ذالک کہا جاتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ اس سے مقصود تھا اس سے حاصل ہو گیا (امام راغب، مفردات القرآن، صفحہ ۸۱۹) یعنی ناقص بندہ جب اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم، آنحضرت کی محبت واطاعت و مرشد ارشد کی مہربانی و توجہ اور تزکیہ نفس و تصفیہ قلب کی بدولت کامل بن جاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اسے راضیۃ مرضیہ کے خطاب کے بعد یوں بشارت ملتی ہے فادخلی فی عبادی (الفجر۸۹: ۲۹) یعنی پس شامل ہو جاؤ میرے خاص بندوں میں ۔ ایک شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے
میں تو کہتا ہوں میں تمہارا ہوں
3تو بھی کہہ دے یہ ہمارا ہے
µکتنے عظیم اور خوش قسمت ہیں وہ بندے جنہیں مولیٰ تعالیٰ اپنے خاص بندوں میں شامل کر لے، یہ انتہائی بلند ترین مقام ہے اور اس مقام پر عبد چونکہ عبدی کا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے لہٰذا اسے مقامِ کاملہ کہا گیا ہے۔
۲: محجوب کے لغوی معنی ہیں مخفی ، پوشیدہ، حجاب کیا ہوا، پردہ میں، اندھا۔ حجاب پردہ کو کہتے ہیں اور پردہ دو چیزوں کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ حضرت غوث الاعظمص فرماتے ہیں یہ بات یقینی ہے کہ ہر شے جو تخلیق کی گئی ہے بندہ اور اس کے رب کے درمیان حجاب ہے پس وہ بندہ جس چیز کے ساتھ ہو گا وہی حجاب بن کر چھپا لے گی (غوث الاعظم، الفتح الربانی، شیخ غلام علی ، لاہور، ۱۹۶۸ء صفحہ ۳۲)۔ یعنی سالک پہلے مقام پر اغیار کے پردوں میں چھپا ہوتا ہے لہٰذا اگلا مقام جو انوار کا ہے اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتا یعنی سالک اور مقامِ انوار کے درمیان اغیار کا پردہ حائل ہوتا ہے۔پھر دوسرے مقام پر انوار کے پردوں میں ہوتا ہے لہٰذا انوار کو نہیں دیکھ سکتا--- علیٰ ہذا القیاس۔
مشاہدہ نہیں کر سکتا جو دوسرے مقام پر ہوتا ہے تو انوار کے حجاب میں ہونے کی وجہ سے کمال کو نہیں دیکھ سکتا۔ جو چوتھے مقام پر ہوتا ہے تو وہ کمال کے حجاب میں ہونے کی بدولت وصال کو نہیں دیکھ سکتا۔ جو پانچویں مقام پر ہوتا ہے وہ وصال کے حجاب میں ہونے سے تجلیات افعال کو نہیں دیکھ سکتا ۔ جو چھٹے مقام پر ہوتا ہے وہ تجلیات افعال کے حجاب کے باعث تجلیات اسماء وصفات کانظارا نہیں کرسکتا اور جو ساتویں مقام پر ہوتا ہے وہ تجلیات اسماء و صفات کے حجاب کی وجہ سے تجلیاتِ ذات کا مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ اور تجلیات ذاتی کا ورود سالک پر روک دیا گیا ہے کیونکہ وہ اس کیلئے حجاب ہے جیسا کہ سورج کی طرف دیکھنے والے کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں گویا کہ اسے کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ اسی لئے فرمایا (صاحبانِ سلوک و معرفت نے ) کہ بیشک حق تعالیٰ موجودات۱ پر بعینہٖ تجلی ٔذات ظاہر نہیں فرماتا بلکہ اسماء وصفات کی آڑ میں اس کا ظہور ہوتا ہے پس یہاں پر اعلیٰ ترین مقام تجلی اسماء وصفات کا مقام ہے اور اگرچہ تجلی ٔذات کے ظاہر نہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے لیکن پھر بھی حضرات صوفیائے کرام رضی اللہ عنہم نے اس تجلی ٔذات کے ورود اور معرفت کا ذکر کیا ہے اور عنقریب ہم تجلیاتِ افعال ، تجلیاتِ اسماء وصفات اور تجلیاتِ ذات کا ذکر تفصیل سے اس کتاب کے مقدمہ میں کریں گے۔
اور خوب اچھی طرح جان لے کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ (بلاکیف ) اور اس کے بندہ کے درمیان ستر (۷۰) حجابات ۲ہیں اور یہ حجابات نور (روشنی ) اور ظلمت (تاریکی ) کے ہیں اور ان پردوں کی نسبت بندوں کی طرف ہے ،اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف ان پردوں کی نسبت کی جائے تو یہ اللہ تعالیٰ پر غالب ہوں گے حالانکہ حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے اپنے بندوں پر ۳۔پس محجوب (چھپاہوا) درحقیقت بندہ ہے اور حجابات سے مراد
۱: موجودات موجود کی جمع ہے ،وہ تمام چیزیں جو خدا نے پید ا کی ہیں، کائنات، مخلوقات وغیرہ یہان پر مراد سالکین ہیں۔
۲:حجابات حجاب کی جمع، پردے ، ماسویٰ اللہ کے خیالات کو حجاب سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ وصول الیٰ المطلوب کی راہ میں رکاوٹ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔(سر دلبران ، صفحہ ۱۴۱)
۳:یہاں پر قرآن حکیم کی اس آیہ مبارکہ کی طرف اشارہ ہے وھو القاھر فوق عبادہ (الانعام۶: ۱۸) یعنی اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر ۔
بندہ اور اس کے رب کے درمیان مناسبت کی دوری ہے(یعنی بندے کی اللہ جل شانہ کی ذاتِ اقدس کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مناسبت نہیں ہے)۔ پس خوب اچھی طرح سمجھ لے کیونکہ یہ ایک بہت ہی مشکل مسئلہ ہے او ریہ عقیدہ نہ رکھ کہ حجاب امورِ حسیہ سے ہیں اور نہ ہی دوری سے مراد فاصلہ کی دوری ہے جیسا کہ کم فہم اور کم علم لوگ سمجھتے ہیں ۔
پس بیشک اللہ تعالیٰ ظاہری دوری اور قربِ حسی دونوں سے پاک ہے نیز اللہ تعالیٰ جہت (سمت ، طرف) اور مکان و زمان و ہر قسم کے حدوث (پیدائش، وجود میں آنا ، یہ قدیم کی ضد ہے یعنی اللہ تعالیٰ زمان ومکان اور اطراف وغیرہ کی قیود سے پاک اور بری ہے ۔ نیز جو امور واقع ہونے والے ہیں ان سے بھی پاک ہے) سے پاک ہے اور جان لے کہ سلوک ایک سچا راستہ ہے جو ان ستر حجابات کو طے کرنے کیلئے بنایا اور مقرر کیا گیا ہے اور ان (حجابات) کو سات مقامات سے یاد کیا جاتا ہے جن کا ذکر کیا جا چکا ہے ۔پس نفس ان میں سے ہر ایک مقام پر دس حجابات میں چھپا ہوتا ہے اور ان میں سے پہلا حجاب دوسرے حجاب سے زیادہ کثیف (گاڑھا ، دبیز ، موٹا) ہوتا ہے اور دوسرا حجاب تیسرے سے زیادہ کثیف ہوتا ہے اور ایسے ہی دسویں حجاب تک یہی حال ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر نفس کا حجاب دوسرے نفس کے حجاب سے زیادہ کثیف ہوتا ہے یہاں تک کہ ساتویں نفس تک یہی کیفیت ہوتی ہے ۔جب تو ان مقامات سے واقف ہو گیا ہے تو جان لے کہ بندہ اور اس کے رب تعالیٰ کے درمیان بہت زیادہ بُعد (دوری ) پہلے مقام پر ہوتا ہے کیونکہ اس مقام پر نفس امارہ بالسوء (برائی کا حکم کرنے والا نفس) ہے عنقریب ہم نفس امارہ کے باب میں اس کے اوصاف بیان کریں گے ۔ نیز باقی چھ نفس کے اوصاف بھی ذکر کریں گے یہاں تک کہ سالک خوب اچھی طرح جان لے کہ وہ ان سات مقامات میں سے کس مقام پر ہے؟ اور نفوس میں سے کس نفس کی صفات۱ ، عالم۲، محل اور وارد کا حامل ہے۔
۱ :صفات صفت کی جمع ہے ،اسکے معنی ہیں تعریف، خوبی، خاصیت، خصلت، عادت ۔ہر مقام پر نفس کی یہ خاصیت بدلتی رہتی ہے مثلاً نفس امارہ کی خاصیت ہے برائی ، نفس لوامہ کی خوبی ہے ملامت کرنا اور نفس مطمئنہ کی صفات میں اطمینان اور سکون شامل ہیں۔ (حاشیہ نمبر ۲ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرماویں)
اور نفس امارہ ظلماتی (تاریک) پردوں کے اندر چھپا ہوا ہے جبکہ نفس امارہ کے علاوہ باقی نفو س نورانی پردوں میں ڈھاپنے ہوئے ہیں ۔ پس جس وقت سالک پہلے مقام (نفس امارہ) میں ہوتا ہے تو وہ اپنے آقا یعنی مرشد کامل سے اسم اول لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ کا ورد لیتا ہے اور پھر مداومت کے ساتھ صبح وشام اٹھتے بیٹھتے اور پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے کثرت سے ذکر جہر(اونچی آواز سے، دوسرے بھی سن سکیں) و خفی (آہستہ دل میں ذکر کرنا جسے دوسرے نہ سن سکیں) کرتا ہے تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کے دل کی آنکھ میں ایک ملکوتی چراغ روشن کر دیتا ہے ۔پس وہ اپنے دل کی آنکھ سے ان برائیوں کو دیکھ لیتا ہے جو اس کے دل کو گھیرے ہوئے ہیں او راپنے اندر موجود ان برائیوں سے بے زاری اور نفرت کرنے لگتا ہے او رجو اوقات یادِ الٰہی کے بغیر گزرگئے ان پر افسوس کرتا ہے کہ وہ غفلت کی وجہ سے برائیوں کو نیکیوں سے حقیقی طور پر نہ پہچان سکا مگر صرف زبان کی حد تک ۔ پس اب وہ ظاہری برائیوں جیسے کہ شراب خوری، زنا اور ریشم کے لباس کو چھوڑنے کا ارادہ اور کوشش کرتا ہے اور اس کے علاوہ باطنی خرابیوں (یعنی) کبر ، کینہ و حسد وغیرہ سے نجات پانے کی بھی بھر پور کوشش کرتا ہے اور یہ ایک ثابت شدہ امر ہے اس کا انکار وہی کرے گا جس نے اس کو آزمایا نہیں۔
او ریہ پہلی بزرگی ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے سالک بندہ کو نوازتا ہے تاکہ اس راہ کی منازل کو طے کرنے میں اس کی استعانت (مدد) کرے اور اس سالک کو ہر ایک مقام پر بزرگیاں عطاء کی جاتی ہیں اور ابھی جس ملکوتی چراغ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد پہلا رحمانی جذبہ ہے اور جب سالک مجاہدہ کے ساتھ ذکر پر مداومت کرتا ہے تو یہ جذبہ مضبوط تر ہو کر کمال
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)
۲ :عالم سے مراد یہ چار مقامات ہیں یعنی عالم ناسوت (اجسام و محسوسات کی دنیا ) عالم جبروت (آسمانی دنیا ستاروں سے اوپر کا مقام) عالم ملکوت (فرشتوں او رنفوس و ارواح کی دنیا) ا ور عالم لاہوت (مقامِ فنا، یہ جہات و حدود سے منزہ ہے)
: ایک شاعر نے یہ مضمون اس مصرے میں یوں بیان کیا ہے۔
ذوق این بادہ نہ دانی بخداتانہ چشی
یعنی جس نے یہ شراب نہ چکھی وہ اس کے لطف سے بے خبر ہے۔
کے اعلیٰ درجات تک پہنچ جاتا ہے ۔ پھر اس امانت کو اٹھانے اور تجلیات کو قبول کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔
اور جب سالکین میں سلوک کے راستہ کے اعلیٰ درجات کے حصول میں سستی اور کاہلی عام ہو گئی اور وہ مشائخ عظام کے طریقہ سے بھٹک گئے نیز اس طریقہ کے ارکان کی ادائیگی جاتی رہی اور اس کے نشانات بوسیدہ ہوگئے ، اہل تصوف گزر گئے اور سوائے نام کے کچھ باقی نہ رہا تو میں نے یہ رسالہ لکھا اور اس میں سلوک کی کیفیت، سالکین کے احوال ودستور، سلوک کی منازل کو طے کرنے کے لوازمات اور حقائق کو پانے کی ضروریات بیان کی گئی ہیں تاکہ سلوک کی طرف رغبت نہ رکھنے والوں کے بہانے ختم ہو جائیں اور رغبت رکھنے والوں کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا عزم مضبوط ہو جائے اور اس میں شک نہیں کہ جو شخص اس راہ پر چلتا ہے وہ وصال حق کو پاجاتا ہے اور یہ سچائی کا راستہ نہایت واضح ہے لیکن شیطانی وسوسوں اور نفسانی شہوتوں کی بدولت اس کی روشنی نظر نہیں آتی ۔
میں نے اس (رسالہ )کا نام’’سیر السلوک الیٰ ملک الملوک ‘‘ رکھا اور اسے ایک مقدمہ ، دس ابواب اور ایک خاتمہ پر مرتب کیا ۔ پس اسکے مقدمہ میں محققین صوفیاء کی اصطلاحات کی تعریف بیان کی گئی جن کی اس موضوع (تصوف) کے سلسلہ میں کمال درجہ کی ضرورت ہے تاکہ جب کوئی ایساکلمہ نظر سے گزرے جس کے معنی مشکل ہوں تو مقدمہ میں اسے تلاش کرنا چاہئے پس اس کی وضاحت ایسی عبارت میں کی گئی ہے جسے تو سمجھ جائے گا کیونکہ جو شخص اس مقدس قوم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اصطلاحات سے آگاہ نہ ہو وہ انکے کلام کو سمجھنے سے قاصر ہے۔
پہلا باب دنیا کی حقیقت اور اس کی خواہشات کی مذمت کے بیان میں ہے۔ دوسر ے باب میں سالک کو رغبت دلانے کیلئے اس مقدس طریقہ کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ نیز کمال تک پہنچنے میں حائل رکاوٹوں اور اس مرتبہ کمال پر پہنچانے والی صفاتِ حمیدہ کا ذکر کیا گیا ہے ۔
تیسرے باب میں ان حجابات کابیان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اسکے بندہ کے درمیان ہیں۔ لطیفہ انسانی سے ان حجابات کو ہٹانا بہت ضروری ہے اور ان کو دور کرنے کیلئے بندہ کو توبہ (رجوع) انابت اور اسباب ظاہری سے تجرد (علیحدگی) وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔
چوتھے باب میں نفس امارہ اس کی سیر ، اس کے علم ’’جہان‘‘ اور برائیوں کا بیان ہے۔ نیز اس مقام سے نجات حاصل کرنے کی کیفیت اور اگلے مقام پر نفس لوامہ میں ترقی کرنے کے بیان میں ہے۔ پانچواں باب نفس لوامہ ، اس کی خوبیوں، برائیوں اور صفات کے بیان میں ہے ۔ چھٹا باب نفس ملہمہ اور اس کی اچھی صفات کے بیان میں ہے اور اس چیز پر مشتمل ہے جو اچھائیوں اور برائیوں کو اس میں جمع کر دیتی ہے مگر یہ خطرہ کا مقام ہے۔ ساتویں باب میں نفس مطمئنہ اور اس میں دیگر نفوس کی نسبت زیادہ کمال کے ہونے کا بیان ہے ۔ آٹھواں باب نفس راضیہ اور اس کی خوبیوں کے بیان میں ہے ۔ اور دسواں باب نفس کاملہ ،اس کے قرب و عبودیت (بندگی ) کے بیان میں ہے۔ اور خاتمہ میں مرشد اور اس کے احوال اور اوصاف کا ذکر ہے اور اس کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے کہ کون مرشد بن کر اصلاح کا کام کر سکتا ہے اور کون اصلاح کا کام نہیں کر سکتا۔ نیز مرید کی صفات بھی بیان کی گئی ہیں کہ کون سا مرید اس راہِ سلوک کی منازل طے کرنے کے قابل ہے اور کون اس قابل نہیں۔ نیز شیطان کے اثر و نفوذ اور اس کے ظاہر ہونے کی انواع کے بیان میں ہے اور شیطان کس طرح اس راہ میں ہر مقام پر اہل سلوک کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔
وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد و علی الہ
و اصحابہ اجمعین رب یسر و لا تعسر و انت الکریم الرحیم
المقدمہ
اس میں حضرات محققین کی ان اصلاحات کا بیان ہے جن کو سمجھنے کیلئے انکی تعریف کی ضرورت پڑتی ہے اور ان میں سے درج ذیل اصطلاحات اس مقدمہ میں بیان کی گئی ہیں۔
تصوف:اس کا دار مدار شریعت کے ظاہری اور باطنی (پوشید ہ) آداب پر ہے، ان دونوں اقسام کے آداب کی بجاآوری سے وہ کمال حاصل ہوتا ہے جس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں ہے۔
شریعت: یہ اوامر۱ پر عمل کرنے اور منہیات۲ سے باز رہنے کا نام ہے ۔
طریقت: یہ نبی آخرالزمان جناب محمد مصطفیکے افعال کی پوری پوری متابعت کرنے اور ان پر عمل کرنے کانام ہے۔
طب روحانی: یہ قلوب کے کمالات، ان کی آفات، ان کے امراض، ان کے علاج، ان کی صحت کے بچاؤ کے طریقے اور قلوب کو اعتدال پر رکھنے کا علم ہے۔
مرشد : یہ وہ شیخ کامل ہوتا ہے جو اس طب روحانی کو جانتا ہو ، نیز رہنمائی پر کامل دسترس رکھتا ہو۔
مشاہدہ: کائنات کے ذرّے ذرّے میں اللہ تعالیٰ کی جلوہ گری کا نظارہ دیکھنا اس اعتبار کے ساتھ کہ رب تعالیٰ ان تمام چیزوں سے منزہ (پاک) ہے جو اس کی عظمت و شان کے مناسب نہیں ہیں ۔ حضرت شیخ سعدیفرماتے ہیں
ہر ورق دفتریست معرفت کردگار
شہود: حق تعالیٰ کو حق تعالیٰ ہی سے دیکھنا۔
تجلی : سالک کے قلب پر غیب سے جو انوار منکشف (ظاہر) ہوتے ہیں اس کو تجلی کہتے ہیں، اگر تجلی کا سرچشمہ ذاتِ الٰہی ہو اور صفاتِ الٰہیہ میں سے کسی صفت کا واسطہ بیچ میں نہ ہو تو اسے تجلی ٔذات کہتے ہیں۔ اگر تجلی کا منبع اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کوئی ایک صفت ہو تو اسے تجلی صفات کہتے ہیں اور اگر تجلی کی اصل افعالِ الٰہی میں سے کوئی فعل ہوتو اسے تجلی افعال کہا جاتا ہے۔ پس تجلی اسماء وہ ہے جو سالک کے قلب پر اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ میں سے کسی اسم
۱ :اوامر: یہ امر کی جمع ہے ،اس سے مراد وہ تمام امور ہیں جن کے کرنے کا حکم شریعت محمدیہ میں دیا گیا ہے۔
۲ :منہیات منہی کی جمع ہے ۔ وہ تمام امور جن کے کرنے سے شریعت محمدیہ میں منع کیا گیا ہے۔
مبارک کے ساتھ منکشف ہوتی ہے پھر جب اس اسم کی تجلی سالک پر پڑتی ہے تو وہ اس اسم کے انوار کے حلقہ (دائرہ) میں داخل ہو کر یہ شان حاصل کر لیتا ہے کہ جب کوئی اللہ تعالیٰ کو اس اسم سے پکارتا ہے تو وارفتگی میں یہ سالک (اسے) جواب دیتا ہے ۔
اور تجلی صفات وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات سے سالک کے قلب پر کوئی ایک صفت ظاہر ہو پس جب اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں سے کسی صفت کی تجلی سالک پر ڈالتا ہے تو سالک کی اپنی صفات کے فنا ہونے کے بعد اس پر اس صفت کے کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جب سالک کے قلب پر حق تعالیٰ کی طرف سے تجلی سمع (سماعت) کا ظہور ہو اور سالک اپنی صفت سماعت سے فنا کر چکا ہو تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی صفت سمع سے بہرہ مند ہو کر جمادات(جماد کی جمع، بے جان چیزیں جیسے دھات،پتھر، پہاڑ وغیرہ) اور نباتات ( نبات کی جمع جیسے گھاس اور درخت وغیرہ ) وغیرہ کی باتیں سننے اور سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے اور دیگر صفات کی تجلیات کو بھی اسی پر قیاس کیا جائے۔
تجلی افعال وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے افعال کے ذریعہ اشیاء میں ظاہر ہو کر سالک پر منکشف ہوتی ہے۔ پس سالک متحرک چیزوں کی حرکت اور ساکن چیزوں کے سکوت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کو ملاحظہ فرما لیتا ہے ۔ اور جان لے کہ تجلی افعال صفات اور اسماء کی تجلیات سے پہلے وارد ہوتی ہے ۔ پس اگر سالک اس مقام پر ثابت قدم اور اپنے نفس کو مکمل طور پر شریعت کی قائم کردہ حدود کے تابع کر کے احکامِ الٰہی کی پابندی کو اپنا شعار بنالے تو افعال کی تجلی سے اسماء اور صفات کی تجلیات کی طرف ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور اگر خدا نخواستہ تجلی افعال کے مقام پر ہی اس کے قدم ڈگمگا جائیں تووہ زندیق ۱ہو جاتا ہے اور سلوک کے راستہ سے بھٹک کر ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گھر جاتا ہے۔(اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فضل و کرم اور پیارے محبوبکے وسیلہ سے ایسی حالت سے محفوظ رکھے---آمین)
۱:زندیق : تصوف میں زندیق شریعت میں مرتد کی مانند ہوتا ہے جس طرح کہ شریعت میں مرتد کافر سے زیادہ برا ہے اس طرح تصوف میں زندیق، فاسق (بدکار) سے بڑھ کر مجرم ہے ۔ زندیق ظاہری طور پر زبان سے تو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے لیکن بباطن کافر ہوتا ہے۔
حال: اور ان میں سے ایک اصطلاح حال کی ہے۔ یہ ایک کیفیت ہوتی ہے جو کسی قسم کی
بناوٹ، کوشش اور کسب (محنت و مشقت) کے بغیر سالک کے دل پر طاری ہوتی ہے اور یہ کیفیت خوشی،غم، قبض (تنگی ) ،بسط(فراخی)، کسی ہیت یا اس کے سواء کسی اور صورت میں وارد ہوتی ہے ۔ پس اگر سالک کے دل سے یہ کیفیت جاتی رہے تو اسے حال کا نام دیا جاتا ہے اور اگر یہ کیفیت سالک کے دل پر ہمیشہ طاری رہے اور غلبہ حاصل کر لے تو اسے مقام کہتے ہیں۔
حق الیقین۱: اور ان میں سے ایک اصطلاح حق الیقین کی ہے ۔اس کی تعریف یہ ہے کہ بندہ کی صفات کا حق تعالیٰ کی صفات میں گم ہو جانا اور اس طرح سے کہ بندہ جب عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے، اپنی عاجزی کا اظہارکرتا اور تمام ایسی صفاتِ ذمیمہ (برائیاں) ترک کر دیتا ہے جو بندگی کے خلاف ہیں تو جو صفت ذمیمہ اس سے دور ہوجاتی ہیں ان کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے صفاتِ حمیدہ بخش دیتا ہے ۔ پس جب اللہ تعالیٰ اپنے عاجز بندہ کو اپنی بخشش وعطا سے نواز دیتا ہے تووہ اپنے مالک یعنی اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے ارادہ سے مخلوقات میں تصرف کرتا ہے اور یہ یقین نہ رکھ کہ بندہ کی ذات حق تعالیٰ کی ذات میں گم ہو جاتی ہے اور پھرسوائے حق تعالیٰ کے باقی کچھ نہیں رہتا۔ پس یہ اعتقاد گمراہی اور جہالت
۱: علم کے تین درجات ہیں: علم الیقین ، عین الیقین اور حق الیقین ۔اس کی مثال یوں ہے کہ اگر کسی شخص نے آگ کو جلتے ہوئے نہ دیکھا ہو بلکہ اس کی جلانے کی صفت کے متعلق کسی دوسرے سے سن رکھا ہو تو آگ کے متعلق اس کا اعتقاد علم الیقین کہلاتا ہے۔ لیکن جب وہ خود آگ کو جلتا ہوا دیکھ لے تو یہ عین الیقین کا درجہ حاصل کر لے گا یعنی وہ اپنی آنکھوں سے آگ کو جلتا ہوا دیکھ لیتا ہے پھر جب وہ آگ کے قریب ہو کر اپنے وجود پر اس کی تپش او رجلن کو محسوس کر ے تو یہ حق الیقین کہلائے گا۔
حضرت داتا گنج بخش اس کے ضمن میں لکھتے ہیں’’ صوفیاء کے نزدیک علم الیقین دنیوی معاملات سے متعلقہ احکام و اوامر کو جاننا ہے۔ عین الیقین سے مراد عالم نزع اور سفر آخرت ہے اور حق الیقین کا مطلب حشر کے دن رویت باری تعالیٰ اور اس کی کیفیت سے مستفید ہونے کا نام ہے۔ الغرض علم الیقین علماء کا مقام ہے کیونکہ وہ شرعی احکام و امور پر ثابت قدم ہوتے ہیں، عین الیقین عارفانِ حق کا مقام ہے کیونکہ وہ کل موجودات سے روگردان رہتے ہیں۔ علم الیقین کی بنیاد مجاہدہ پر ہے عین الیقین کی محبت حق پر او رحق الیقین کی مشاہدہ حق پر ۔پہلی چیز عام ہے دوسری خاص اور تیسری خاص الخاص (سید علی ہجویریکشف المحجوب، صفحہ ۵۲۴)۔
(ناسمجھی ) ہے۔
الشطح: اور ان میں سے ایک اصطلاح شطح۱ کی ہے اور اس سے مراد ایسی بات ہے جس میں بڑائی کا اظہار اور دعویٰ پایا جائے او ریہ سالکین کی لغزشوں میں سے ایک لغزش ہے۔
السّر:یہ ایک لطیفہ ربانی ہے جو کہ روح کے باطن میں ہوتا ہے ۔پس جب یہ لطیفہ ایک درجہ نیچے آتا ہے تو اسے روح کا نام دیا جاتا ہے اور جب دوسرے درجہ میں مزید نیچے آتا ہے تو اسے قلب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔۲
الملکوت: اس کا تعلق عالم غیب سے ہے جو کہ ارواح کیلئے مختص ہے۔
المرتبۃ الاحدیۃ:یہ ایک ایسا مرتبہ ہے کہ جس میں سالک سے تمام اسماء وصفات فنا (گم) ہو جاتے ہیں اور اس کو جمع الجمع۳بھی کہا جاتا ہے۔
۱ :چوتھی صدی ہجری کے ممتاز صوفی اور بلند پایہ محقق عارف باللہ حضرت ابو نصر سراج طوسی نے شطح پر اپنی کتاب ’’اللمع‘‘ میں مفصل بحث کی ہے اور اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
’’صوفی کے قلب پر حالت وجد میں جو انوار و تجلیاتِ الٰہی کا ورود ہوتا ہے ان کے غلبہ کی کیفیت کو وہ ایسی غیر معروف زبان میں ادا کرتا ہے جو سننے والوں کے فہم میں نہیں آسکتے۔ البتہ جو اس کے اہل ہوتے ہیں وہ اسے سمجھ جاتے ہیں مگر جو شخص سلوک و معرفت اور اس کی واردات کی حقیقت سے بے خبر ہو اس کی سلامتی اسی میں ہے کہ وہ ان کلمات پر گفتگو نہ کرے اور اس معاملہ کو اللہ کے سپرد کر دے ‘‘۔(ابونصرسراج ، کتاب اللمع فی التصوف ، اردو ترجمہ ڈاکٹر پیر محمد حسن ، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی ، اسلام آباد ، ۱۹۸۶ء ، صفحہ ۵۳۷تا ۵۳۹)
۲ :قلب: روح اور باطن کے تعلق اور ان کے مقام و مرتبہ پر حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش نے یوں روشنی ڈالی ہے:’’حق تعالیٰ نے دلوں کو اجسام سے سات ہزار برس پہلے پیدا کیا اور مقامِ قرب میں رکھا، روحوں کو دلوں سے سات ہزار برس قبل پیدا کیا اور انس کے مقام پر رکھا، با طن کو روحوں سے سات ہزار برس پیشتر پیدا کیا اور مقامِ وصل میں رکھا۔ ہر روز تین سو ساٹھ بار اپنے جمالِ ظاہر سے باطن پر تجلی فرمائی او ر تین سو ساٹھ بار روحوں کو اپنی عنایت سے کلمہ محبت سنایا اور تین سو ساٹھ لطائف سے دلوں کو نوازا ۔ سب نے عالم کائنات پر نظر کی تو اپنے سے بڑھ کر کسی کو نہ پایا، غرور و تفاخر رونما ہوا، حق تعالیٰ نے اسی واسطہ انہیں آزمائش میں ڈال دیا، باطن کو روح میں ، روح کو دل میں اور دل کو جسم میں مقید کر دیا۔ پھر عقل کو ان میں سمو دیا۔ انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ احکام دئیے اور اس طرح سب اپنے اپنے مقام کے جویا ہوئے ۔ نماز کا حکم ہوا تو جسم نماز میں مشغول ہو گیا ،دل محبت سے سر شار ہوگیا روح کو قربِ حق کی تلاش ہوئی اور باطن وصل حق میں تسکین کا طالب ہوا‘‘۔(سید علی ہجویری ، کشف المحجوب، اردو ترجمہ فضل الدین گوہر ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ، ۱۹۸۵ء ،صفحہ ۴۲۲)
۳ :جمع الجمع کے ضمن میں ڈاکٹر پیر محمد حسن صاحب لکھتے ہیں ’’جو شخص محض رِضائے الٰہی (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے)
العبودیتہ: یہ وعدوں کو پورا کرنے، شریعت کی حدود کی حفاظت کرنے اور سالک کو جو کچھ مل جائے اس پر راضی رہنے اور جو نہ ملے اس پر صبر کرنے کو کہتے ہیں۔
اطمس : سالک جب مجاہدہ او رریاضت سے اپنی تمام صفاتِ ذمیمہ کو فنا(گم) کر دیتا ہے اور صرف اس کی صفاتِ حسنہ ہی باقی رہ جاتی ہیں تو اس کیفیت کو اطمس کہا جاتا ہے۔
الفہوانیۃ:یہ عالم مثال میں حق تعالیٰ کی طرف سے سالک کیلئے ایک خطاب ہے ۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہاتو اس کی تعریف عنقریب کتاب کے پانچویں باب میں کی جائے گی۔
القبض و البسط: قبض اور بسط کی دو حالتیں ہیں جو کہ سالک کو سلوک کی منازل کے وسط میں حاصل ہوتی ہیں جس طرح کہ مبتدی۱ پر خوف اور امید کی حالتیں طاری ہوتی ہیں۔ قبض اور بسط کا ورود سالک کے دل پر بغیر کسی سبب کے خود بخود ہوتا ہے۔ خوف اور امید کا تعلق مستقبل کے امور سے ہوتا ہے اور قبض کی حالت میں سالک کے دل پر کراہت اور بسط کی حالت میں رغبت کا غلبہ ہوتا ہے۔
حجاب : حجاب سالک کے دل پر مخلوقات کی محبت کی شکل میں نقش ہوتا ہے جو کہ تجلی حق کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے ۔ جب تک سالک کے دل میں غیر اللہ کی محبت موجود ہوتی ہے تو اس کا دل حق تعالیٰ کی تجلی سے حجاب (پردہ) میں رہتا ہے ۔ جب دل میں غیر اللہ کی کثرت ہو جاتی ہے تو حجاب بھی بڑھ کر ظلمت ( تاریکی) کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔
النفس : اور ان اصطلاحات میں سے ایک اصطلاح النفس کی ہے ۔ نفس کی دو قسمیں ہیں: ایک نفس شہوانی اور دوسرا نفس ناطقہ ۔پس پہلے نفس کی تعریف یہ ہے کہ وہ ایک لطیف (نازک) بخار (بھاپ) ہے جو کہ حیات (زندگی)، حس اور حرکت پر محمول کرتا ہے اور حکماء (فلاسفر) اس
(بقیہ حاشیہ از صفحۂ گزشتہ)
کیلئے کیا جانے والا فعل اپنی طرف خیال کرتا ہو تو یہ تفرقہ کہلائے گا اور جس نے یوں سمجھا کہ یہ افعال اس سے محض عنایت ربانی کی وجہ سے صادر ہوتے ہیں تو اس نے ان افعال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشاہدہ کیا، یہ صورت جمع کہلائے گی ۔پھر جس نے عمل کرنے کے بعد نہ اپنی طرف دھیان کیا اور نہ اپنے فعل کی طرف بلکہ ان سب سے غافل ہو کر اللہ ہی کے دھیان میں لگا رہا تو یہ جمع الجمع ہو گا۔‘‘(ڈاکٹر پیر محمد حسن ،اردو ترجمہ و تعلیقات رسالہ قشیریہ ،ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد ۱۹۸۸ء ، صفحہ ۷۶۱)
کو روحِ حیوانی کہتے ہیں ۔اگر یہ جسم کے ظاہر او ر باطن دونوں پر ظاہر ہو تو اسے بیداری حاصل
ہوتی ہے اور اگر یہ صرف بدن کے با طن پر ظاہر ہو تو اس پر نیند طاری ہو جاتی ہے۔ اور اگر اس کا ظہور قطعی طور پر منقطع ہو جائے تو اس پر موت واقع ہو جاتی ہے۔
اور دوسرا نفس ناطقہ ہے جو کہ ایک جوہر ہے ۔ یہ جوہر اپنی ذات کے لحاظ سے تو مادہ سے جدا ہے لیکن اپنے افعال کی رو سے یہ مادہ کے بہت قریب ہے اور اس نفس کو درج ذیل ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔
۱: نفس امارہ۲:نفس لوامہ۳:نفس ملہمہ۴:نفس مطمئنہ
۵: نفس راضیہ ۶:نفس مرضیہ ۷:نفس کاملہ
ان کی تفصیل حسب ذیل ہے :
(۱) :پس جب کبھی یہ نفس، نفس شہوانی کی طرف پھر جائے اور اس نفس شہوانی کی موافقت اختیار کرکے اس کے حکم کے تابع ہو جائے تو اسے نفس امارہ کہتے ہیں۔
(۲) : اور اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت قرار پکڑ کر متابعت الٰہی پر اعتماد حاصل کر لے لیکن شہواتِ نفسانی کی طرف رحجان ابھی باقی ہو تو اس نفس لوامہ کہتے ہیں۔
(۳): پس جب خواہشات کی رغبت زائل ہو کر نفس شہوانیہ کی مخالفت پر غلبہ حاصل ہو جائے اور عالم قدس کی طرف توجہ بڑھ جائے نیز الہامات کا القاء شروع ہو جائے تو اس نفس ملہمہ کہتے ہیں۔
(۴): پھر جب اس کی اضطرابی حالت کو سکون نصیب ہو جائے اور نفس شہوانیہ کے حکم کا واقعی کوئی اثر باقی نہ رہے اور اس کی تمام آرزوئیں فنا (گم) ہو جائیں تو اسے نفس مطمئنہ کہتے ہیں۔
(۵) : جب اس درجہ سے ترقی پا کر تمام مقامات کو اپنی نظروں سے گرا دیتا ہے اور ا س کے دل سے تمام تمنائیں جاتی رہتی ہیں تو اسے نفس راضیہ کہتے ہیں۔
(۶): اور جب اس کیفیت میں مزید اضافہ ہو تا ہے تو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک یہ نفس مرضیہ بن جاتا ہے ۔
(۷) : اور اگر اس مقام پر پہنچنے کے بعد سالک کو بندوں کی طرف لوٹا کر ان کی ہدایت او ر تکمیل انسانیت پر مامور کر دیا جائے تو یہ نفس کاملہ کہلاتا ہے۔
پس خوب اچھی طرح جان لے کہ مقام اول تاریکی کا مقام ہے اور نفس ناطقہ اس مقام سے ایسے علاج اور ادویات کے ذریعہ ترقی حاصل کرتا ہے جو کہ آنحضرتنے ارشاد فرمائی ہے اور وہ یہ ہیں۔
روزہ رکھنا ، کم سونا ، کم بولنا ، خلو ت اختیار کرنا یعنی لوگوں سے الگ رہنا ، ہمیشہ ذکر کرنا اور فکر تمام کرنا یعنی زبان سے ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہنا اور دل میں ہر لحظہ اللہ تعالیٰ کی یاد کا دھیان رکھنا ۔ حرام کو ترک کرنا اور اس طرح کے عمل کرنا وغیرہ وغیرہ ۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم آنے والے ابواب میں شریعت کے دائرہ سے ذرّہ برابر انحراف کئے بغیر انکے متعلق تفصیل سے بیان کریں گے کیونکہ جو کوئی بھی شریعت کی دوا کو چھوڑ کر نفس کی روحانی بیماریوں کا علاج کرتا ہے تو اس کی بیماری ہرگز دور نہیں ہوتی بلکہ اس طرح ایک بیماری بڑھ کر دوسری بیماری پیدا کرتی چلی جاتی ہے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
بابِ اول
پہلے باب میں د نیا کی حقیقت ، اس کی خرابیوں اور لذائد دنیا کی مذمت کا بیان ہے ۔ پس اچھی طرح جان لے کہ دنیا سے وہ تمام اشیاء مراد ہیں جو موت سے پہلے خیر (بھلائی) یا شر (برائی) پر مشتمل ہیں۔ اسی لئے آنحضرتنے دنیا کی مذمت بیان کرتے ہوئے ان چیزوں کو الگ فرمایا جو اچھی ہیں۔ پس فرمایا دنیا ملعون(وہ چیزیں جن پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کی گئی ہو) ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ مردود (راندۂ درگاہ، قابل نفرت، بری) ہیں لیکن (اچھا ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر ، عالم دین ، علم دین کا طالب علم ۔
ان دونوں یعنی علماء و طلباء سے محبت کرنے والا، نیکی کا حکم کرنے والا اور برائی سے منع کرنے والا اور دنیا کے ذریعہ رضائے الٰہی کے حصول میں جدوجہد کرنے والا پس یہ سات اقسام دنیا سے علیحدہ کی گئی ہیں حالانکہ یہ سب اس عالم دنیا میں موجود ہیں۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز جو موت کے بعد فائدہ دینے والی ہو تو وہ بری نہیں اگرچہ وہ اس دنیا میں موجود ہو اور ہر وہ چیز جو مرنے کے بعد فائدہ نہ دے تو وہ بری ہے جیسا کہ گناہ اور ایسے مباحات ۱جو ضرورت سے زیادہ ہوں۔
باقی رہ گئی تیسری قسم یعنی دنیا کی لذتیں تو یہ مذکورہ بالا دونوں اقسام کے وسط میں ہے اور اس میں ہر وہ دنیوی چیز شامل ہے جو عاقبت کے سنوارنے کیلئے نیک اعمال کے سلسلہ میں سالک کی معاونت کرتی ہے جیسے کہ بقدرِ ضرورت کھانا، پینا لباس اور نکاح اور یہ دنیا کی وہ اچھی قسم ہے جو آخرت میں شمار کی گئی ہیں اسلئے کہ یہ اس کی معاون ہے اور ایسا اس وقت ہوتا جب سالک کھانا کھاتے ہوئے نصف پیٹ بھرے یعنی شکم سیری نہ کرے تو اس طرح وہ طعام سے بھی لطف اندوز ہو جاتا ہے او راپنے مولیٰ تعالیٰ کو بھی راضی کر لیتا ہے ۔ اس طرح اس میں دنیا اور آخرت دونوں کا حصہ ثابت ہو گیا ۔ اسی وجہ سے نبی کریمنے فرمایا کھاؤ پیونصف کیونکہ یہ جزوِ نبوت ہے ۔
جب آپ نے اس کو پہچان لیا تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ دنیا ہر اس چیز کا نام ہے جو آپکو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کر تی ہے اور ہر وہ چیز بھی دنیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت دلانے میں آپ کی مدد کرتی ہے پس یہ دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت بھی ہے حالانکہ یہ ظاہری طور پر دنیا میں شمار کی جاتی ہے کیونکہ دنیا میں موجود ہے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے دنیا کی حقیقت اپنے اس ارشاد مبارک میں بیان فرمائی اور دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آزمائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا۲ سوائے اس کے نہیں
۱: یہ مباح کی جمع ہے جس کے کرنے سے کوئی گناہ نہ ہو یعنی جائز ہو لیکن جب ایسے کام حد سے زیادہ تجاوز کرجائیں تو سلوک میں یہ بھی گناہوں میں شامل ہونے لگتے ہیں۔
۲: ؟؟؟؟؟؟
کہ یہ خباثت ان سات چیزوں کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے اور انہی میں پائی جاتی ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں یوں فرمایا ہے ’’لوگوں کے دلوں میں خواہشات، عورتوں، بیٹوں اور سونے چاندی کے خزانوں، نشان والے گھوڑے، چوپائے اور کھیتی کی محبت پیدا فرما دی ‘‘ (آل عمران) اور یہ سات چیزیں ہر قسم کی برائیوں اور خرابیوں کے جمع کرنے میں اعانت کرتی ہیں اور حقیقت میں یہ چیزیں خراب نہیں ہیں بلکہ یہ تو عاقبت کو سنوارنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں بشرطیکہ ہم موقع محل کے مطابق ان کا درست استعمال کریں ۔ اور نبی کریمنے فرمایا ’’مال کی صفت میں حسد جائز نہیں ہے لیکن دو آدمیوں کے ساتھ ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت عطاء کی ہو اور وہ اسے رات دن اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے ۔ دوسراوہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطاء کیا ہو یعنی وہ قرآن کا قاری ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا ہو‘‘۔
بابِ دوم
دوسرا باب حصولِ طریقت کی طرف رغبت دلانے اور اسکی فضلیت کے بیان میں ہے۔ جان لے کہ سلوکِ طریقت میں اخلاقِ حسنہ کے ذریعہ کمال حاصل ہوتا ہے اور وہ اوصافِ حمیدہ سے آراستہ ہونے اور عاداتِ ذمیمہ سے چھٹکارا حاصل کرناہے ۔ عاداتِ ذمیمہ میں بے علمی، غصہ، حسد، بغض، بخل، تکبر،دکھاوا، غرور، رِیاکاری ، عہدے او رحکومت کی طلب، کثرتِ کلام ، طنز و مذاق، لوگوں میں شہرت حاصل کرنے کی کوشش کرنا، باہم فخر کرنا، ہنسنا، صلہ رحمی کو قطع کرنا، تعلقات توڑنا، عورتوں کی متابعت کرنا، لمبی امیدیں باندھنا، لالچ اور بداخلاقی شامل ہیں۔
جبکہ اوصافِ حمیدہ سے حلم، بردباری، تزکیہ نفس، سخاوت،نرم روی اختیار کرنا، حیاء، انکساری ، صبر،شکر، زہد، توکل، محبت، شوق، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رِضا چاہنا، خلوص، سچائی، مراقبہ کرنا، نفس کا محاسبہ کرنا، فکر کرنا، شفقت کرنا، مخلوق کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا، اللہ تعالیٰ کیلئے محبت کرنا اور اللہ جل شانہ ٗ ہی کیلئے بغض رکھنا، تمام امور میں میانہ روی اختیار کرنا،رونا، غم کرنا، شہرت سے پرہیز کرنا، یکسوئی کو پسند کرنا، تصفیہ قلب، نصیحت کرنا، کم بولنا، اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ،اس کے حضور میں دل کی گہرائیوں سے اپنی عاجزی و انکساری کا اظہار کرنا اور بہترین اخلاق مراد ہیں۔
اور سلوکِ تصوف کے حصول سے یہی اوصاف مراد ہیں اور یہی کام مطلوب ہیں جن کا حکم شارح ں کی طرف سے دیا گیا ہے جو کہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔ یہ احادیث شریف تصوف کی کتابوں احیائے علوم الدین، طریقہ محمدیہ اور دیگر تصانیف میں بیان ہوئی ہیں۔
جان لے کہ ہم نے جو اوصافِ ذمیمہ کا ذکر کیا ہے تو یہ ان عاداتِ قبیحہ میں سے چند ہیں جو انسان پر حاوی ہوتی ہیں۔ تمام بری عادات کا ذکر کرنا یہاں پر ممکن نہیں ہے لیکن جو طریقت اختیار کر لے تو ہم اس کیلئے آنے والے ابواب میں اس طرح ذکر کریں گے کہ وہ تمام عاداتِ رذیلہ سے خلاصی حاصل کر لے گا اور ظاہری وپوشیدہ آفات سے نجات پائے گا کیونکہ طریقت کا سچا طالب ان سب برائیوں کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے پس اس پر ان کا حقیقتاً کوئی اثر باقی نہیں رہتا اور ان بیماریوں (عاداتِ رذیلہ ) کی بیخ کنی کیلئے جس علاج سے وہ مدد حاصل کرتا ہے اس کا ذکر ہم آنے والے ابواب میں کریں گے او رجو کوئی راہِ طریقت کو چھوڑ کر مذکورہ برائیوں سے چھٹکارہ پانے کا ارادہ کرے تو درحقیقت یہ ناممکن ہے اسلئے ایسے نیکوکار دیکھے جا سکتے ہیں جو صفاتِ ذمیمہ کو دور کرنے کیلئے طریقت سے ہٹ کر کوشش کرتے ہیں اور اس طرح اگر وہ ان سے خلاصی حاصل کر لیں تو پھر وہ ایسی عادت کا شکا ر ہو جائیں گے جو پہلی صفات سے زیادہ بری ہیں او رایسا اسلئے ہوتا کہ وہ مقربین کی راہ پر نہیں چلے جس پر چل کر سالک تمام آفات سے نجات پا جاتا ہے ۔ اگر یہ ان مذکورہ برائیوں سے نجات حاصل کرنے میں مخلص ہوں تو وہ ایک عظیم خطرہ سے دو چار ہیں کیونکہ آنحضرتنے فرمایا کہ ’’مخلصین بڑے خطرہ میں ہوتے ہیں ‘‘۔
اب جبکہ آپ نے مقربین کے راہِ طریقت کا فائدہ جان لیا جو کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے جس کا ادنیٰ فائدہ عاداتِ ذمیمہ اور آفات سے نجات پانا ہے اور اس میں اعلیٰ فائدہ جو اصل مقصود بالذات ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں قرب کی منازل تک پہنچنا، اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی تجلیات اور خلافت کبریٰ یعنی غوثیت اور صدیقیت کا مقام حاصل کرنا ہے ۔ پس اے طالب! تجھ پر اس طریقت کا حاصل کرنا لازم ہے تاکہ تو عاداتِ ذمیمہ اور آفات سے بچ جائے تجھے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے، تجھ پر مذکورہ تجلیات کا نزول ہو او رتجھے حاصل ہو جائے خلافت اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی جو بہت بڑا مقام ہے اور یہ فوائد کسی کو بھی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتے جب تک کہ وہ طریقت کی راہ اختیار نہ کرے ۔عنقریب ہم آنیوالے ابواب میں اسے بیان کریں گے-- ان شاء اﷲ
تیسرا باب
اس باب میں ان حجابات کا ذکر ہے جو کہ بندہ اور اس کے رب تعالیٰ کے درمیان ہیں اور جنہیں لطیفہ انسانی سے دور کرنے کی سالک کو بہت ہی احتیاج ہے جیسے کہ توبہ، رجوع الیٰ اللہ، دنیاوی اسباب سے خلاصی حاصل کرنا اور اسی طرح دیگر اسباب وغیرہ جن سے چھٹکارا حاصل کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے اور اچھی طرح جان لے کہ درحقیقت عظیم ترین روح (حیات) انسانیت کاملہ ہی ہے جو میرے رب تعالیٰ کا امر ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا راز ہے اور اس راز کی حقیقت کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جان سکتا۔ اور عالم کبیر(اس سے مراد زمان و مکان سے ماوراء جہان کا نام ہے) میں جو کہ عالم علوی بھی ہے اس روح انسانی کیلئے اسماء (نام ) ہیں۔ اور عالم صغیر(اس سے مراد یہ زمان و مکان کا جہان ہے) جو کہ عالم انسان کے نام سے موسوم ہے ۔ اس میں بھی اس کے چند اسماء (نام) ہیں ۔
پس عالم کبیر کے نام یہ ہیں: پہلا عقل اول ، دوسرا قلم اعلیٰ ، تیسرا لوح ، چوتھا حقیقت محمدیہ، پانچواں روحِ محمدیہ ، چھٹا نور اور ساتواں نفس کلیہ ۔
اور عالم صغیر (جہان انسانی) میں وہ نام یہ ہیں: پہلا اخفیٰ، دوسرا سر ، تیسرا سر السر ،چوتھا روح، پانچواں قلب، چھٹا نفس ناطقہ اور لطیفہ انسانیہ ۔ اور یہ پہلے سے موجو دتھا جسے اللہ تعالیٰ نے ایجاد فرمایا اور یہی اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اکبر (نائب اعظم) ہیں اور تو جانتا ہی ہے کہ یہ جو قلب ہے تو یہی روحِ اعظم ہے اور اس کی دو جہتیں (اطراف) ہیں ۔ اس کی ایک جہت ۱عالم موجود کی طرف ہے اور دوسری جہت عالم غیب۲ کی طرف ہے ۔اور اسی وجہ سے لطیفہ قلب تمام اشیاء (چیزوں) سے بڑھ کر برگزیدہ ہے ۔ لہٰذا تجلیاتِ الٰہیہ کا مقام (مرکز) ٹھہرا ، اللہ تعالیٰ کے اسرار (بھیدوں)کا خزانہ اور جملہ حقائق کے ثبت کرنے کا محل ہے اور (یاد رکھو) کہ اس قلب سے مراد گوشت کا وہ ٹکڑا نہیں ہے جو انسان کے سینہ کے اندر ہے کیونکہ گوشت کے اس ٹکڑہ میں تو تمام انسان اور حیوان برابر کے شریک ہیں اور تو جانتا ہے کہ کبھی تو یہ (لطیفہ ) قلب نعمتوں ، دنیاوی لذتوں اور نفسانی خواہشات کے اعتبار سے جسم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ستر حجابات میں چھپ جاتا ہے، اس مقام پر (لطیفہ) قلب کا نام نفس امارہ ہے اسلئے کہ اس وقت یہ نفس امارہ صفاتِ ذمیمہ جیسے کبر، غضب، دکھاوا، غرور، بداخلاقی وغیرہ اور ان تمام برائیوں سے متصف ہوتا ہے جن کا ذکر دوسرے باب میں کیا جاچکا ہے او ریہ ذاتِ الٰہی سے دور لے جانے والی ہیں۔
اچھی طرح جان لے کہ توبہ ۳اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے فی الفور۴ واجب ہے کہ ’’اے ایمان والو اللہ کے حضور میں سچے دل سے توبہ کرو‘‘(التحریم۶۶:۸) ۔اور تحقیق توبہ کے واجب ہونے پر امت محمدیہکا اتفاق ہے اور نبی کریم نے ارشادفر مایا کہ توبہ
۱ :جہت : جانب ، گوشہ جس کی طرف تم توجہ کرو ۔ (عبدالحفیظ بلیاوی ، مصباح اللغات، صفحہ ۹۲۱) ۔
۲ :عالم غیب : وہ جہان جو حواسِ خمسہ اور حس عقلی و علمی سے محسوس نہ کیا جا سکے۔
۳:توبہ : یہ عربی زبان کا لفظ ہے ،اسکے حقیقی معنی رجوع کرنے کے ہیں اور اصطلاحِ شریعت میں توبہ سے مراد یہ ہے کہ شریعت میں جو کچھ مذموم ہے اس سے لوٹ کر قابل تعریف شے کی طرف آجائے ۔ (امام ابوالقاسم، رسالہ قشیریہ ، اردو ترجمہ پیر محمد حسن، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اسلام آباد، ۱۹۸۶ء ، صفحہ۲۴۲)
۴ :اس کے معنی یہ ہیں کہ گناہ کے بعد فوری توبہ کرنی چاہئے ۔
کرنے والا گناہ سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔
اور یہ توبہ (گناہ کے بعد) فوراً واجب ہے کیونکہ کہ گناہوں کو ہمیشہ کیلئے چھوڑنا واجب
ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری بھی ہمیشہ واجب ہے پس تحقیق حضرت امام نووی نے نقل فرمایا کہ اس بات پر علمائے امت کا اجماع ہے کہ فوراً توبہ کرنا واجب ہے چنانچہ توبہ میں تاخیر کرنے سے جتنا وقت گزرتا ہے اس سے لازمی طور پر گناہ د گنا ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ پہلا گناہ توبرے عمل کی وجہ سے ہوا اور دوسرا گناہ فی الفور توبہ نہ کرنے کی بدولت حاصل ہوا اور اس طرح یہ دو چند ہو گیا ۔
پس (اے سالک) اگرتو انصاف اور شفقت سے اپنے نفس پر نگاہ ڈالے تو تو دیکھے گا کہ تجھے کھانے، پینے اور ٹھکانے(مکان)سے زیادہ توبہ کی حاجت ہے اسلئے کہ گناہ تیرے لئے حجاب بن چکا ہے جو کہ پوشیدہ بھیدوں سے تجھے بے خبر رکھتا ہے ۔ یہ تیرے اور تیرے ہر ایک محبوب کے درمیان حائل ہے اور یہ گناہ بندہ اور اس کے رب تعالیٰ کے درمیان بہت بڑا حجاب ہے۔کیونکہ یہ ظلماتی (تاریک) حجاب ہے اور اس کے علاوہ بندہ اور خداوندتعالیٰ کے درمیان جو حجابات ہیں وہ نورانی حجابات ہیں اور نورانی حجاب بندہ کو اپنے پرودگار سے کلی طور پر دور نہیں لے جاتے اور قلب کی آنکھ جسے بصیرت بھی کہتے ہیں اور قرآن حکیم میں اسے رین۱ ، طبع۲ اور ختم۳ کے نام سے یاد کیا گیا ہے جب تک گناہوں کی تاریکیوں میں چھپی ہوئی ہو تو ایساقلب اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات ذرّہ برابر بھی ملاخطہ نہیں کر سکتا اور ایسے قلب کا مالک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کرتا۔ پس یہ آدمی گناہوں کی دلدل سے نکلنے کیلئے جب توبہ کرتا ہے تو اسکے قلب کی آنکھ سے گناہوں کے حجابات ہٹادئیے جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر جاتا ہے، اسکے دل میں ثواب کی امید پیدا ہو جاتی ہے
۱:طبع: اس کے اصل معنی کسی چیز کو ڈھال کر کوئی شکل دینے کے ہیں ، مثلاً طبع اسکتہ یعنی سکہ ڈھالنا ،یہ ختم سے زیادہ عام ہے ۔ (مفردات القرآن ،صفحہ ۵۵۴)۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے فطبع علی قلوبھم (تو ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے ) (المنافقون ۶۳:۳)
۲ :ختم : اس کے معنی مہر کرنے کے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ختم اﷲ علی قلوبھم اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہیں (البقرہ :۷)
اور برائیوں سے بچتے ہوئے اطاعت خداوندی میں دوام حاصل کرنے لگتا ہے۔
پس اے سالک! جب تمہارا قلب یہ اشارہ (رمز) جان لے کہ گناہوں سے توبہ کرنا فوراً واجب ہے او ریہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا قرب بغیر توبہ کے حاصل نہیں ہو سکتا تویہ بھی سمجھ لے کہ نبی کریمنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کیلئے ستر(۷۰) حجابات ہیں اور ایک روایت میں آیا ہے کہ نور وظلمت کے سترہزارحجابات ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنا حقیقی جلوہ ظاہر فرما دے تواسکی ذات کے انوار و تجلیات سے کائنات کی یہ تمام اشیاء جل جائیں جو تاحد نظر مخلوق کو نظر آرہی ہیں ۔
او رظلماتی حجابات سے مراد وہ حجابات ہیں جو کہ گناہوں اور لغزشوں کی ظلمت(تاریکی) سے حاصل ہوتے ہیں اور نوارنی حجابات سے مراد ایسے حجابات ہیں جو آخرت میں جنت کی لذات ،اس دنیا میں کرامات ، تجلیات اور اسی قسم کے دیگر احوال و مقامات کی طرف سالک کی نظر التفات کی بدولت راہِ سلوک میں حائل ہوتے ہیں ۔اس طرح جب تک سالک کے دل میں اللہ تعالیٰ کے سوا اشیاء میں سے کسی شے کی رغبت موجود ہو تو یہ سالک کیلئے حق تعالیٰ سے حجاب بنی رہتی ہے یعنی وہ چیز جس کی طرف سالک کے دل میں محبت و الفت پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اور سالک کے درمیان حجاب کی صورت میں موجود رہتی ہے۔ اور اسی کی وجہ سے راہِ سلوک کی منزل طویل ہو جاتی ہے ۔بعض لوگ سلوک کی ایک چوتھائی منزل طے کرنے کے بعد واپس ہو جاتے ہیں ،بعض نصف راہ تک پہنچنے کے بعد واپس ہو جاتے ہیں۔
پس توبہ اور ندامت سالک کے قلب سے ظلماتی حجابات کو دور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ قلب کی سیاہی دور کرنے والے اسباب اور ذرائع میں سب سے بڑھ کر کلمہ طیبہ کا ذکر ہے سالک جب لا الہ الا اﷲ کا ذکر پر دوام حاصل کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے قلب میں ا یک ملکوتی چراغ روشن کر دیتا ہے جس کے متعلق گزشتہ ابواب میں بیان کیا جا چکا ہے ۔ تو اس ملکوتی چراغ کی روشنی میں اس کی باطنی (اندرونی) تاریکیاں دور ہو جاتی ہیں اور اسے اپنی غلاظتیں اور فتنے نظر آجاتے ہیں جو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری اور سعادت سے روکتے ہیں ۔
اور جان لے کہ توبہ کی تین قسمیں ہیں۔ ایک عوام کی توبہ ہے ،دوسری خواص کی اور تیسری خواص الخصواص کی ۔ پہلی قسم اپنے گناہوں پر ندامت کرنا ہے کیونکہ آنحضرت نے فرمایا کہ گناہوں پر نادم ہونا توبہ ہے ۔ دوسری قسم میں ان تمام اشیاء سے توبہ کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکتی ہیں اور تیسری قسم میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں دوری اور لاپرواہی سے توبہ کرنا ہے اور یہ صدیقین کی توبہ ہے ۔ صدیقین وہ ہیں جو پاک ہیں اور اپنے سانسوں کی قدر وقیمت سے آگاہ ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے سانسوں میں ہر سانس (جو اللہ تعالیٰ کی یاد میں لیا جارہا ہے ) دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔
چوتھا باب
چوتھا باب نفس امارہ کے بیان میں ہے۔ مقام اول میں نفس کو نفس امارہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور اس پہلے مقام کو مقامِ ناسوت بھی کہتے ہیں۔ اس نفس امارہ کی سیر، عالم (جہان)، حال (کیفیت) ، وارد ہونا (داخل ہو نا ) اس کی صفا ت (علامات) چھٹکارا پانے کا طریقہ اور دوسرے مقام کی طرف ترقی (بڑھنے)کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ۔او ر اس دوسرے مقام پر نفس کو نفس لوامہ کہا جاتا ہے اور اس مقام میں اس نفس لوامہ کی سیر الی اللہ کا عالم (جہان) عالم شہادت (موجود) ہے اور اس کا محل (وجود میں جگہ) صدر یعنی سینہ ہے اور اس کا حال (کیفیت) میلان ہے اور اس کا وارد (ملوک میں داخل ہو نا) شریعت کی پابندی ہے اور اس نفس لوامہ کی صفات عنقریب بیان کی جائیں گی اور جب سالک کو درج ذیل علامات اپنے نفس میں دکھائی دیں تو جان لے کہ وہ مقامِ اول میں ہے اور یہ ظلمات (تاریکیوں) کا مقام ہے ۔گویا اس مقام پر سالک کا نفس بہت زیادہ برائیوں کا حکم کرنے والا ہوتا ہے جیسے کہ نادانی ، بخل، حرص، تکبر، غصہ، فساد، خواہشات نفسانی، حسد، غفلت(بے خبری) برے اخلاق اور برے کاموں میں مشغولیت یعنی فضول وقت ضائع کرنا، ٹھٹھا مذاق، بغض، زبان و ہاتھ سے دوسروں کا تکلیف دینا اور اسی طرح کی دیگر برائیاں نفس خبیثہ کی علامتیں ہیں۔ نبی کریمنے ارشاد فرمایا ’’تیرا سب سے سخت دشمن تیرا نفس ہے جو کہ تمہارے دونوں پہلوؤں کے درمیان (سینہ میں) ہے ۔اور یہ نفس (امارہ) ہے اور پیارے محبوبنے فرمایا ’’ہم لوٹ آئے ہیں جہادِ اصغر (چھوٹا جہاد) سے جہادِ اکبر (بڑا جہاد) کی طرف ‘‘ ۔پس کافروں کے ساتھ لڑنے کو جہادِ اصغر کا نام دیا ہے اور اپنے نفس کے ساتھ لڑنے کو جہادِ اکبر فرمایا ۔
او ریہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی طبیعت (مزاج) میں ظلمت (نافرمانی ) پائی جاتی ہے ۔ پس اس نافرمانی کی موجودگی حق و باطل (سچ اور جھوٹ ) میں تمیز مٹا دیتی ہے اور یہ نافرمانی خیر و شر (بھلائی اور برائی ) کا امتیاز ختم کر دیتی ہے اور شیطان اس نافرمانی کی وساطت سے انسا ن پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ پس اے بھائی ! تو اپنے نفس سے خوف کر اور اس کی طرف سے بے فکر نہ رہ اور اگر کوئی اس کو تکلیف پہنچائے تو تو اپنے نفس کی اعانت نہ کر بلکہ اس تکلیف دینے والے کا مددگار بن جا۔
اور (اے سالک) نفس کی اس ظلماتی کیفیت (نافرمانی) سے چھٹکارا حاصل کرنے اور دوسرے مقام پر ترقی پانے کا طریقہ یہ ہے کہ تو کم کھانا، کم پینا، کم سونا، کم بولنا، لوگوں سے یکسو رہنا اور حرامخوری کو چھوڑنا اپنے اوپر ضروری ٹھہرا لے تا کہ یہ نفس کمزور پڑ جائے اور اس طرح تیرے لئے نفس کی نافرمانی سے خلاصی پانا آسان ہو جائے اور اس مقام پر تیرا ذکر لآ الہ الا اﷲ (نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ تعالیٰ کے) ہے اور اس میں لآ پر مد ہے یعنی اس کو کھینچ کر پڑھنا ہے اور الہ کے ہمزہ کو پورا ادا کرنا ہے یعنی الف کو واضح کر کے پڑھنا ہے اور الہ کی ھا پر زبر ہے اور اس زبر کو ہلکا پڑھنا ہے اور اللہ کے آخری حرف یعنی ھا پر جزم ہے اور یہ ذکر کرتے ہوئے الہکی ھا اور تیرے قول الا اﷲکے درمیان جدائی نہیں ہوئی چاہئے اور تجھے الہ کے ہمزہ کی پوری پوری ادائیگی کرنے میں سستی سے بچنا چاہئے کیونکہ اگر تو نے اس ہمزہ کو واضح طور پر ادا نہ کیا تو تو اسے یاسے بدل دیگا اور اس طرح تیرا ذکر یوں ہو جائیگا لایلا الہ اﷲ اور پھر یہ ذکر کلمہ توحید نہیں رہے گا اور اس ذکر سے تمہیں کوئی ثواب نہیں ملے گا اور نہ ہی اس کے بار بارپڑھنے سے کوئی اثر ظاہر ہو گا اور اکثر ذاکرین اس میں مبتلا ہیں یعنی اس طریقہ سے ذکر کرتے ہوئے غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں اور اس کلمہ مبارکہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے، پہلوؤں کے بل لیٹتے ہوئے ہر وقت بلند آواز سے شدت اور کثرت سے کر کیونکہ اس ذکر کے جو اثرات مطلوب و مقصود ہیں وہ اس وقت تک حاصل نہیں ہوتے جب تک کہ رات دن بلند آواز کے ساتھ کثرت سے ذکر نہ کیا جائے اور جب تک برائیوں کا حکم دینے والے نفس امارہ کے مذکورہ اوصاف تمہاری اندر موجود ہیں اس وقت تک ذکر پر مداومت اختیار کر اور جب تو لا الہ کے قول کے ساتھ نفی کرے تو اپنے دل میں خفیہ طور پر پر معبود کی نفی کا تصور پیدا کر اور الا اﷲ کہتے ہوئے قوت اور شدت کے ساتھ سینہ کے بائیں طرف ضرب لگا اور اپنی آنکھیں بند کر کے انتہائی حضورِ قلب او رخشوع و خضوع کا اظہار کرتے ہوئے اپنی سماعت کو بھی ذکر پر مرکوز کر دے او رباوضو رہنا اپنے اوپر لازم کر لے ۔ حرامخوری سے اپنے آپ کو بچا لے کیونکہ جملہ عیوب کا باعث اور ہر قسم کی برائیوں کا سرچشمہ وہ پیٹ ہے جو حلال غذا سے پُر نہ ہو ۔ پس برائیوں کے سرزد ہونے میں اس شخص کا کیا حال ہو گا جس کا پیٹ حرام غذا سے بھرا ہوا ہو۔
اور راہِ سلوک میں جن چیزوں کی حاجت پڑتی ہے ان سے واقفیت بہت ضروری ہے جیسے علم فقہ کے مسائل یعنی پانی کے پاک ہونے، وضو کرنے، نجاست (پلیدی) کو دور کرنے اور نماز کے فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات وغیرہ کو جاننا اور دیگر ان دینی ضروریات کا علم جن سے چھٹکارا ممکن نہیں ۔
اسی طرح علم العقائد سے کسی قدر آگاہی جیسے ذات باری تعالیٰ، اس کی صفات کے قدیم ہونے نیز جو اللہ تعالیٰ کیلئے واجب ہے جو اس کی ذاتِ اقدس کے منافی ہے اور جو اس کیلئے جائز ہے ان کی پہچان بھی ضروری ہے ۔ اور اے سالک ! ہم نے جن علوم کا ذکر کیا ہے ان کے بغیر کوئی دوسرا شغل اس وقت تک اختیار نہ کر جب تک کہ تو ان مذکورہ سات امور پر عمل پیرا ہو کر ایک طویل مدت تک مجاہدہ کے ذریعہ تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب حاصل نہ کر لے ۔ اور وہ سات امور یہ ہیں ۔ کم کھانا، کم سونا، کم بولنا، لوگوں سے الگ رہنا، ہمیشہ ذکر کرنا، کامل فکر کرنا، حرام کو ترک کرنا اور ہر وقت باوضو رہنا ۔ یہ اشغال طریقت میں انتہائی اہم ہیں اور تزکیہ نفس حاصل کرنے سے پہلے نفس کو عادات کے خول سے باہر نکلنے اور آئینہ قلب کو جِلا دینے کیلئے یہ از حد ضروری ہیں اسلئے کہ یہ سالک کے قلب کے آئینے سے وہ زنگ دور کر دیتے ہیں جو کہ اشیاء کی حقیقتوں اور علوم کی باریکیوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتا ہے کیونکہ اس مقام پر تکبر، لالچ، حسد، غرور، کینہ اور شہوت کے دھبے پڑ کر تیرے آئینہ قلب کی چمک دمک کو ختم کر چکے ہیں۔ پس اے سالک! تم پر لازم ہے اور دوسری چیزوں کی نسبت اس زنگ کی صفائی تمہاری انتہائی اہم ذمہ داری ہے کہ اس مقام پر تم ان پلیدیوں سے چھٹکارا حاصل کرو جو تمہارے آئینہ قلب پر پوشیدہ رازوں کے آشکارا ہونے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
اور سوائے اسکے نہیں کے مشائخ کرام نے نہایت ہی قوت و طاقت کے ساتھ ذکر جہر کرنیکا حکم دیا ہے تاکہ اعضا (اندام) غفلت سے بیدار ہو جائیں پس اے سالک !تم پر لازم ہے کہ تم قوت اور کثر ت سے ذکر جہر کرو اور شریعت اسلامیہ کے احکام پر استقامت اختیار کرو،ہر وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو اور اسے موت، عذاب، قبر،قیامت کی مصیبت اور جہنم کے عذاب، سانپ و بچھوؤں سے ڈراتے رہو کیونکہ اس مقام پر تمہارے اوپر دو کیفیات طاری ہوتی ہیں :ایک خوف اور دوسری امید کی اور ان دو حالتوں کے ورود کے بعد جب تمہارا مقام بدلے گا تو خوف تمہارے اوپر قبض ( دل کی تنگی ) اور امید ( دل کی کشائش ) کی صورت میں ظاہر ہو گی اور جب تو کمال کے پہلے درجہ کو پہنچے گا تو قبض، خشیت (ڈر) میں بدل جائیگا اور بسط (انس) میں تبدیل ہو جائیگا اوراسکے بعد جلال و جمال کی طرف عرو ج حاصل ہوگا ۔
پس اس سے پہلے مقام کو نفس امارہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے پس تمہیں چاہئے کہ خوف کے اسباب کو یاد کرکے ان سے عبرت حاصل کرو اسلئے کہ یہ تمہارے لئے امید سے زیادہ فائدہ مند ہے اور جب مقام خوف تجھے حاصل ہو جائے او رتم پر مکمل طور پر مایوسی چھائے تو اس وقت ضروری ہو جاتا ہے کہ تم امید کے اسباب کو یاد کر کے ان سے نصیحت حاصل کرو یعنی اللہ تعالیٰ کے بے پناہ عطاء بخشش و مہربانی کو یا دکرو اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور میں عاجزی و انکساری اختیار کرو اور اس مقام سے خلاصی پانے کیلئے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کو یاد کر کے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ دعا کرو ۔ ناامیدی اختیار نہ کرو او رنہ ہی یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ میری دعا کو قبول نہیں کرتا کیونکہ یہ بات مرید کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے اور (اے سالک) تجھے اس مقامِ اول میں ا ن چیزوں پر مستعدی سے عمل کرنا چاہئے جن کا ہم عنقریب پانچویں باب میں نفس لوامہ کے ضمن میں ذکر کریں گے ۔ پس اے بھائی جان اچھی طرح (اس بات کو ) سمجھ لے اور نہایت ہی ( غور و فکر کے ساتھ) جان لے کہ ان چیزوں سے غفلت برتنا تیری ہلاکت کا باعث ہے اور پورے طور پر متوجہ ہو جا ان اسباب کی طرف سے جو تجھے اس غفلت سے بے نیاز کر دیں اور جیسا کہ تیرے لئے حدیث قدسی میں آیا ہے ’’اے میرے بندے اگر تو ایک بالشت میرے قریب آئے تو میں تیری طرف ایک گز بڑھ کر آؤں گا اور اگرتو ایک گز میرے قریب آئے تو میں تجھے اپنے پہلو میں لے لوں گا اور اگر تو چل کر آئے تو میں دوڑتا ہوا تیرے پاس آؤں گا۔
پس تو سستی چھوڑ دے اور اس چیز سے منہ موڑ لے جو تجھے مشغول رکھ کر اپنے مولیٰ تعالیٰ سے لاپرواہ کر دیتی ہے اور تو صبر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ اس چیز کے ساتھ جو تیرے ہاتھ میں ہے اگرچہ تھوڑی ہے ۔اور فنا ہونے والی لذتوں کو دنیا والوں کیلئے چھوڑ کر خود ذاتِ حق کے ساتھ مشغول ہو جا جو تجھے اس سے بے نیاز کر دیگا ۔ نیز توبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے میں دیر نہ کر کیونکہ تو نہیں جانتا کہ تیری کتنی عمر باقی ہے اور نبی کریم نے ارشاد فرمایا ’’دنیا کو دنیا والوں کیلئے چھوڑ دو کیونکہ جس نے اپنی حاجت سے زیادہ حصہ لے لیا تو درحقیقت اس نے اپنے لئے ہلاکت حاصل کر لی لیکن اسے اس بات کی سمجھ نہیں‘‘۔
اور اے بھائی جان! تو جو اس وقت مقام اول میں ہے تجھ پر واجب ہے کہ برے اخلاق و عادات کو اچھے اور عمدہ اخلاق و عادات میں تبدیل کرنے کا ارادہ کرکے اپنا مقصود بنا لے ۔ پس جھوٹ کو سچ ،متکبر کو عاجزی، بغض کو محبت ،دکھاوے کو اخلاص اور شہرت کو گمنامی میں بدل لے ،عنقریب اس باب کے بعد آنے والے باب میں ہم شہرت اور عوام الناس میں بزرگی کے چرچہ کی آفات کا ذکر کریں گے اور جب تو یہ عمل کرنے لگے یعنی یہ مذکورہ تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کر لے تو بعض حیرت انگیز اسرار تیرے مشاہدہ میں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ نیکی کو خوب جاننے والا ہے۔
پانچواں باب
پانچواں باب نفس لوامہ کی سیر، اس کے عالم (جہان)، اس کے مقامِ ورود اور اس کی صفات کے بیان میں ہے۔ نیز اسکے مصائب و مشکلات سے بچنے کی تدابیر اور تیسرے مقام پر نفس ملہمہ کی طرف ترقی پانے کے بیان میں ہیں۔
پس اس کی سیر اللہ تعالیٰ کی جانب ہے اور اس کا عالم (جہان) عالم برزخ ہے ،اس کا مقام دل ہے ۔اور اس کے واردات طریقت ہیں اور اس کی صفات ملامت کرنا ، فکر، دکھاوا، مخلوق پر اعتراض کرنا، خفی رِیا کاری اور شہرت اور امارت کو پسند کرنا ہیں ا ور اس کے علاوہ بعض و ہ صفات جن کا ذکر نفس امارہ میں کیا گیا ہے لیکن ان (بری) صفات کے باوجود وہ حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ برے اوصاف ہیں لیکن ان سے نجات حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس مقام پر نفس مجاہدہ کی طرف رغبت اور شریعت کی موافقت رکھتا ہے اور اعمالِ صالحہ جیسے رات کو قیام (عبادت کرنا) دن کو روزہ رکھنا، صدقہ و خیرات کرنے کے علاوہ دیگر نیکی کے افعال سرانجام دیتا ہے لیکن اس کے نفس میں خود بینی او ر خفی رِیاکاری داخل ہوجاتی ہے ۔پس اس نفس لوامہ کا مالک یہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ان اعمالِ صالحہ پر مطلع ہو جائیں جو وہ کرتا ہے حالانکہ وہ انہیں لوگوں سے چھپاتا ہے اور ان پر ظاہر نہیں کرتا اور نہ ہی عمل صالح وہ لوگوں کو دکھانے کیلئے کرتا ہے بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کیلئے کرتا ہے اوریہ ہی خفی رِیاکاری ہے مگر یہ کہ اسکے اعمالِ صالحہ کی وجہ سے اس کی تصدیق وتوصیف کی جائے ۔ اگر چہ وہ اس عادت کو پسند نہیں کرتا لیکن اپنے دل سے اس کو دور کرنا بھی اس کیلئے ممکن نہیں کیونکہ اگر وہ کلی طور پر اسے ہٹا دے تو پھر یہ بغیر کسی اندیشہ کے مخلص بن جائیگا ۔
او رحال یہ ہے کہ مخلصین عظیم خطرے میں مبتلا ہوتے ہیں جیسا کہ آنحضرتنے ارشاد فرمایا کہ ’’ تمام لوگ ہلاکت میں ہیں سوائے عالموں کے اور تمام عالم ہلاکت میں ہیں سوائے عاملوں کے اور تمام عامل ہلاکت میں ہیں سوائے مخلصوں کے اور تمام مخلص ہلاکت میں ہیں سوائے مقربین کے ‘‘ اور یہ اسلئے کہ مخلصین چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں پہچان لیں کہ یہ مخلص ہیں۔اور یہی رِیائے خفی ہے اور رِیائے جلی وہ عمل ہے جو لوگوں کو دکھانے کیلئے کیا جائے اور یہ شرکِ خفی ہے۔
نیز جب تم ان صفات سے متصف ہو جاؤ تو تم جان لو کہ مقام ثانی میں ہو اور تمہارے نفس کو نفس لوامہ کہا جائیگا اور اس مقام پر نفس لوامہ کا مالک خطرہ سے محفوظ نہیں رہتا اگرچہ وہ اپنے اعمال میں مخلص ہوتا ہے جیسا کہ تم نے جان لیا اور وہ آخری مقام ابرا ر کا ہے جو نسبت کے لحاظ سے مقربین کے سلوک پر ہیں او ریہ وہ ہیں جو اپنے نفسوں سے فنا چاہتے ہیں او راپنے رب کے حضور میں بقاء طلب کرتے ہیں او روہ اپنے وقت مقررہ سے پہلے موت کا حکم دیئے گئے ہیں جیسا کہ حضور نبی کریمنے ارشاد فرمایا ’’مر جاؤ مرنے سے پہلے ‘‘ پس اپنے نفسوں کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو ابرار ہیں تو یہ مقامِ ثانی کی آخری منازل کے مالک ہیں، ان کے مقامات بلند ہیں اور اسی لئے کہا گیا ہے کہ ’’ابرار کی حسنات (نیکیاں)مقربین کے ہاں سۓات کی مانند ہیں ‘‘ اور مقربین اس مقامِ ثانی پر قرار نہیں پاتے بلکہ اس سے اگلے مقامات کی طرف ترقی کرتے ہوئے ساتویں مقام پر پہنچ جاتے ہیں ۔ پس ان کیلئے اس مقام ثانی کے بعد پانچ مقامات ہیں او ریہی وجہ ہے کہ مقربین مقامِ ثانی پر نہیں ٹھہرتے کیونکہ اس میں عظیم خطرہ ہے اگرچہ یہ مقامِ ثانی اخلاص کا اعلیٰ درجہ ہے اور مخلصین عظیم خطرہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔
اور اس پُر خطر مقام سے نجات پانے کا سوائے اس کے کوئی علاج نہیں کہ سالک اخلاص پر توجہ دینے سے بالکل کنارہ کش ہو کر (اس حقیقت کو ) پیش نظر رکھے کہ ہر چیز کو حرکت دینے اور ساکن رکھنے والی ہستی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے۔ چنانچہ جس سالک کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے یعنی وہ ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف حق تعالیٰ کی طرف مائل ہو جاتا ہے تو اسے اخلاص کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ اس کے دل میں اس کا شائبہ بھی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ کسی بھی عمل کے سلسلہ میں اپنے نفس پر توجہ نہیں دیتا کہ وہ اس میں مخلص ہے اور نہ ہی غیر اللہ کی طرف دیکھتا ہے جب اس کی طرف سے اسے تکلیف پہنچتی ہے ۔پس یہی وجہ ہے کہ تم انہیں (سالکین) کو غم وفکر سے آزاد پاتے ہو اور سب لوگ ان سے محبت کرتے ہیں اسلئے کہ ان سے صرف نیکی ہی کے کاموں کا صدور ہوتا ہے جبکہ اسکے باوجود یہ حسد کرنے والوں سے نہیں بچ سکتے لیکن ان کا حسد انہیں (سالکین کو) کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ پس جب کبھی حاسد انہیں تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی سازش سے بچا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان حاسدوں کو ان کی اپنی ہی چال میں پھنسا دیتا ہے ،دنیا اور آخرت کے امور میں اللہ تعالیٰ ہی ان کی کفایت کرنے والا ہے۔
پس اے بھائی جان! اگر آپ انکے راستہ پر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور تمام مصائب سے چھٹکارا حاصل کرکے دائمی راحت کے خواہشمند ہیں تو ان کا طریقہ اختیار کریں تو اس طرح آپ ایک مقام سے دوسرے مقام تک عروج حاصل کرتے ہوئے ساتویں مقام پر پہنچ جائیں گے۔
پس اس مقام پر آپ عجیب و غریب حقائق ملاخطہ فرمائیں گے بلکہ ہر مقام پر آپ کچھ ایسے نظارے دیکھیں گے جن سے آپ کو خوشی ہوگی اور اگلے مقام پر پہنچنے کا شوق پیدا ہو گا پھر ایک مقام سے دوسرے مقام تک عروج اور مقامِ اعلیٰ یعنی ساتویں مقام تک ترقی مجاہدہ اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ کے شغل سے حاصل ہوتی ہے۔
پس ہر ایک مقام پر آپ خدا کے اسم مبارک کا ذکر کریں گے جو کہ اس مقام کے ساتھ خصوصیت رکھتا ہے جب آپ اسمائے الٰہی میں زیادہ مشغول رہیں گے تو اس راستہ کی منزل تمہارے قریب آجائے گی اور جب سستی اختیارکریں گے اور ذکر کرنا چھوڑ دیں گے تو منزل آپ سے دور ہو جائے گی ۔پس اس حال میں تم سوائے اپنے نفس کے کسی کو ملامت نہ کرو اور سلوک کے تمام مقامات پر مجاہدہ آپ کیلئے انتہائی ضروری ہے اور مجاہدہ اس طریقہ میں اصل رکن ہے اور طریقت میں مجاہدہ کے بغیر سالک کو کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔پس مجاہدہ آپ پر لازم ہے اور ا س سے مراد یہ ہے کہ تمام عادات (بری) اور مرغوبات(نفس کی پسندیدہ اشیاء) کو ترک کر دیا جائے اگر چہ اس کا شمار ممکن نہیں لیکن مشائخ کرام نے سات چیزیں بیان کی ہیں اور یہی ارکان طریقت ہیں جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ۔پس یہ سالک کیلئے ضروری ہیں او روہ تاحیات ان پر کاربند رہے گا البتہ سالک جب چوتھے مقام پر پہنچ جائے تو گوشہ نشینی کا حکم اس سے ساقط ہو جاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو عنقریب چوتھے مقام کا ذکر ہم تفصیل سے بیان کریں گے۔ اور جن چیزوں کو ترک کرنا ہے وہ یہ ہیں خوراک، نیند اور باتوں کا کم کرنا، لوگوں سے علیحدگی اختیار کرنا، ہمیشہ ذکر کرنا، کامل فکر کرنا او رحرام کو چھوڑ دینا نیز طہارت بھی طریقت کی شرائط میں سے ہے اسلئے کہ یہ مومن کا اسلحہ ہے ،قلب کا نور اور ایمان کا حصہ ہے اور ان اشیاء کو ترک کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان میں ا عتدال اور میانہ روی اختیار کی جائے۔
اسی لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ خوراک کو کم کیا جائے، یہ ہرگز نہیں کہا گیا کہ خوراک بالکل چھوڑدی جائے ۔پس اس طریقت میں سالک کیلئے فائدہ اس میں ہے کہ جب تک اسے اچھی طرح بھوک نہ لگے کھانا نہ کھائے اور جب بھی کھانا کھائے تو شکم سیر ہو کر نہ کھائے بلکہ نصف پیٹ بھر جائے تو کھانا چھوڑ دے کیونکہ یہ جزوِ نبوت ہے جیسا کہ پہلے باب میں دنیا کی مذمت کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے ۔
پس صبح و شام کے کھانے میں یہی روش اپنائی جائے اور سالک اگر رات کو شکم سیر ہو یعنی بھوکا نہ ہو تو عشاء کا کھانا نہ کھائے صبح کے وقت بھی ایسا ہی کرے یعنی اگر (رات کے کھانے کی بدولت) صبح اسے بھوک نہ ہو تو ناشتہ نہ کرے بلکہ رات کو ہی کھانا کھائے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی طریقہ تھا اور اسی طرح انواع و اقسام کے کھانے تناول نہ کرنا بھی سلوک کے مقاصد میں شامل ہے اور اسکا طریقہ یہ ہے کہ ایک وقت میں دو مختلف قسم کے کھانے دسترخوان پر جمع نہ کئے جائیں۔
اور اس مقامِ ثانی پر اسم ثانی یعنی اللہ کے ذکر کے ساتھ مشغول ہو جائیں او راللہ کے آخری حرف یعنی ھا کو ساکن کریں،نیز تمام اسمائے مبارکہ میں یونہی کیا کریں یعنی تمام اسماء میں آخری حروف کو ساکن کریں۔ صاحبانِ تحقیق (اہل معرفت) فرماتے ہیں کہ اس اسم یعنی اللہ کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو کیونکہ اس وقت تک نہ اس کا فائدہ ہوتا ہے نہ ہی حقائق اشیاء منکشف ہوتے ہیں جب تک کثرت سے ا س کا ذکر نہ کیا جائے اور وہ یوں کہ آپ صبح شام، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ، او رپہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اس کا ذکرکریں اور اپنے لئے ایک وقت مقرر کرکے اس وقت قبلہ رخ ہو کر بیٹھیں اور آپ کیلئے جس قدر ممکن ہو سکے اس اسم اعظم کا ذکر کریں آنکھیں بند کر کے بلند آواز کے ساتھ اپنے سر کو اوپر اٹھا کر اپنے سینہ پر ضرب لگائیں اور دائیں بائیں توجہ نہ کریں جس طرح کہ مقامِ اول پر اسم اول یعنی لا الہ الا اﷲ کا ذکر کرتے ہوئے آپ دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے اور اللہ کے ہمزہ یعنی الف کو ثابت (ظاہر) پڑھیں اور ھا کو ساکن پڑھیں جبکہ ھا سے پہلے آنے والے الف (لام پر جو کھڑی زبر ہے ) اسے لمبا کر کے پڑھیں اور اس اسم مبارک کی ادائیگی میں جلدی سے بچیں اور اس طرح اسم اول یعنی لا الہ الا اﷲ پڑھتے ہوئے بھی جلدی نہ کریں ۔
خوب اچھی طرح جان لیں کہ اس مقام میں بہت زیادہ اندیشے اور وسوسے (آپکے دل میں ) پیدا ہوں گے، خاص طور پر اس وقت جب آپ ذکر جہر (بلند) اور ذکر خفی ( پست) کے درمیان متوسط آواز سے ذکر کریں گے تو یہ وسوسے اور اندیشے زیادہ پیدا ہو ں گے لیکن جب جہر ، قوت اور شدت کے ساتھ ذکر کریں گے تو یہ آپ سے دور ہوں گے کیونکہ یہ اسم ہر قسم کے اندیشوں اور وسوسوں کیلئے آگ (کی مانند) ہے جو انہیں جلا کر خاکستر کر دیتا ہے اور ان سے فوری طور پر خلاصی پانا ممکن نہیں کیونکہ آپ کا دل مخلوق کی طرف مائل ہے اور یہ اٹل حقیقت ہے کہ جب آپکا دل کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ چیز دل پر نقش ہو جاتی ہے اور آپ کے دل پر مخلوق کی شکلیں، ان کے افعال، خوبیاں، برائیاں،حرکات وسکنات اور ان کی باتیں ثبت ہو چکی ہیں اور اگر تو انہیں ناپسند کرتا ہے اور ان کو اپنے دل سے دور کرنا چاہتا ہے تو اس وقت تک انہیں اپنے آپ سے دور نہیں کر سکتا جب تک کہ تو تمام مخلوقات سے منہ موڑ نہ لے، یعنی ان کی شکلوں کی طرف نہ دیکھے ،نہ ہی ان کی باتیں سنے اور ہر قسم کی لذات (خواہشات) کو ترک کردے ، یعنی ان کی بو بھی نہ سونگھے اور نہ ہی اس کا ذائقہ چکھے اور تمہاری زندگی میں کوئی شے باقی نہ رہے۔
اور ہم نے ابھی جن چیزوں کا ذکر کیا ہے اگر تم ان سے منہ نہ پھیر سکے ہو تو تم ان اندیشوں او روسوسوں میں پھنسے رہو گے اور اس دکھ میں مبتلا رہو گے اور مخلوق کے حجاب کے باعث اللہ تعالیٰ سے محجوب رہو گے اگر تم معرفت الٰہی کے وصال کے پیاسے ہو تو مخلوق سے علیحدگی اختیار کرواور دنیوی لذات کو ترک کردو کیونکہ یہی وہ باکمال مجاہدہ ہے جس کے نتیجہ میں مشاہدہ نصیب ہوتا ہے۔
اور اچھی طرح جان لے کہ یہ (سلوک) کا طریقہ محنت اور کوشش کا راستہ ہے پس جو جدوجہد کریگا تو اپنی مراد حاصل کر لے گا اور اپنے تصورات سے بڑھ کر پائیگا جبکہ سستی، کاہلی اور ناراستی کرنے والا اس راستہ سے دور ہو جاتا ہے ۔
اور اس راستہ سے جدا کرنے والے بہت سے (عوامل) ہیں جن میں سب سے بڑھ کر مخلوق کی طرف رغبت، میلان، ان کے ساتھ محفلیں سجانا، باتیں کرنا، مذاق کرنا اور ہنسنا وغیرہ ہیں ۔پس اگر آپ بلند مقامات تک رسائی حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تو اپنے تمام دوست احباب اور اہل و عیال کے دامِ محبت سے نکل کر اپنے رب تعالیٰ بزرگ وبرترکی یاد میں مشغول ہو جائیں اور تمام مخلوق سے یکسوئی اختیار کر لیں یہاں تک کہ لوگ آپ کو مجنون کہہ کر پکارنے لگیں ۔
جب خالق کائنات کی محبت میں اس مقام تک پہنچ جائیں گے تو ان شاء اللہ آپ پر حقائق منکشف ہوں گے چنانچہ یہ جو کچھ آپ نے سماعت فرمایا اگر اس پر عمل پیرا نہ ہوئے تو آپ کی زندگی مصائب و مشکلات میں بسر ہو گی اور آپ اپنے مقصد کو بالکل حاصل نہ کر سکیں گے اسلئے محنت اور کوشش کرکے نفس امارہ کی علامات یعنی برائی، حسد، بغض اور رِیاکاری وغیرہ کو اپنے آپ سے دور کریں جن کے اثرات ابھی تک باقی ہیں اسی طرح دیگر برائیوں سے بھی اپنے نفس کو پاک کریں جیسے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ برا گمان رکھنا، ان پر اعتراض کرنا پوشیدہ یا ظاہری طور پر (یعنی پیٹھ پیچھے ان پر اعتراض کرنا یا ان کی موجودگی میں اعتراض کرنا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دل میں اعتراض کا پیدا ہونا اور اس اعتراض کا زبان سے اظہارکرنا)۔
اور (اے سالک یادرکھ ) اس وقت تک تم کلی طور پر ان برائیوں سے نجات حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم مخلوق سے یکسونہ ہو گے اور ظاہری و باطنی طور پران سے کنارہ کش نہ ہو گے یہاں تک کہ اس مقام پر امر بالمعروف (نیکی کا حکم کرنا ) او ر نہی عن المنکر (برائی سے منع کرنا) بھی آپ پر ضروری نہیں ہے کہ ان دونوں کاموں پر جو لوگ مامور ہوتے ہیں ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ عاجزی اور نرمی کے ساتھ انہیں انجام دینے کی قدرت رکھتے ہوں اور اس مقام پر آ پ ابھی اس کی طاقت نہیں رکھتے اور نبی کریمکا ارشادِ گرامی ہے کہ جو شخص نیکی کا حکم کرے تو وہ خود بھی نیک ہو۔
لہٰذا یہ ( مخلوق سے یکسو ہونا) آ پ کیلئے اتنہائی اہم ہے جو آپ کے نفس کو دائمی ہلاکت (تباہی ) سے بچاتا ہے اور آپکے دل کو ان آفات سے پاک کرتا ہے جو حق کے مشاہدے میں آپ کے سامنے رکاوٹ بنی ہوئی ہیں کیونکہ دل ہی حق تعالیٰ کے مشاہدہ (دیکھنے ) کی جگہ (آنکھ) ہے ۔اسی لئے اسکا پاک کرنا فرض عین اور ضروری ہے تاکہ اس (اللہ تعالیٰ) کا مشاہدہ کر سکے اور بغیر ظاہری اسکے اس سے مخاطب ہو کر راز و نیاز کر سکے اور تصفیہ قلب (دل کی پاکی ) سے پہلے اس دعا کو
یا مصرف القلوب صرف قلبی علی طاعتک
ترجمہ: اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے ۔
اور تصفیہ قلب نصیب ہو جانے کے بعد یہ دعا وردِ زبان کر لے
یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک
ترجمہ: اے دلوں کو پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطاء فرما۔
اور یہ دونوں دعائیں سورج کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کے وقت پڑھیں۔ اس دوسرے مقام پر آنحضرتکے اس ارشادِ گرامی کا بھید آپ پر ظاہرہوگا ’’بندوں کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں (بلاکیف جیسا کہ اسکی شان کے مناسب ہے) وہی آپ کو مجاہدہ پر ابھارے گا ،راہ سلوک کی طرف راغب کرے گا اور سوائے حق تعالیٰ کے ہر چیز آپ کو ناپسند ہوگی ا ور یہ اس وقت ظہور پزیر ہوگا جب آپ وہ سب کچھ کریں جو کچھ آپ نے سنا مجاہدہ کے متعلق او روہ یہ کہ تمام مخلوق سے منہ موڑنا ہے اور اگر آپ نہ کر سکے تو آپ کو پریشانیوں او ردکھوں سے واسطہ پڑے گا ۔پس اگر مجاہدہ کئے بغیر آپ پر کوئی راز آشکارا ہو تو یہ آپکے نفس کا دعویٰ ہے (یعنی فریب ہے ) جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مشاہدہ کیلئے مجاہدہ کی ضرورت ہے اور بغیر مجاہدہ کے مشاہدہ حاصل نہیں ہوتا۔
پس اے سالک ! تم اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ کرو اور زبان کو ذکر الٰہی کے ساتھ حرکت دینے پر ہی مطمئن نہ رہو اور جب کوئی دعویٰ کرتا ہے ایسی چیز کا جو اس میں موجود نہ ہو تو آزمائش کے دوران ثبوت کی بناء پر اسے جھٹلایا جاتا ہے تو اے سالک تم بھی اپنے نفس کو پرکھو اور ا سکے دعوؤں کی تصدیق نہ کرواور اس پر کڑی نظر رکھتے ہوئے اس کا احتساب کرتے رہو۔ اور جب کبھی تمہاری نفس میں کوئی ایسی چیز ظہور پزیر ہو جو شریعت مطہرہ کے خلاف ہوتو اسے جھڑک دو ،اس کی مخالفت کرواور اپنے مرشد ارشد سے بیان کرو اور نفس کی برائیوں سے کوئی بھی چیز اپنے شیخ طریقت سے نہ چھپاؤ۔
چنانچہ طلب حق اور مجاہدہ میں سچائی اختیا رکرو تو تمہارے قلب پر اسرار و حقائق کھل جائیں گے اور مجاہدہ کے ذریعہ تم عالم مثال میں داخل ہوجاؤ گے اور یہ (عالم مثال)اس جہان سے الگ عالم ہے جس میں کہ تم رہ رہے ہو اور اسے وہی جانتا ہے جو مقام قلب پر فائز ہو ۔ اور یہ (مقام قلب) اس کتاب میں بیان کئے گئے سات مقامات میں سے دوسرے مقام کی آخری حد ہے اور یہ مقربین کا پہلا مقام ہے اور اس مقام میں سالک ایسے امور کا مشاہدہ کر لیتا ہے جنہیں ظاہری حواسِ خمسہ کے ذریعہ نہیں پایا جا سکتا۔
اور (اے سالک) شریعت محمدیہکی متابعت اختیار کرو جو کہ نبی کریمکے ارشاداتِ مبارک ہیں اور طریقت کو اپناؤ جو کہ نبی اکرمکے افعال ہیں جیسے زیادہ بھوکا رہنا، کم سونا اور زیادہ خاموش رہنا ، کم ہنسنا ۔ اگر تم ان دونوں پر عمل پیرا ہو جاؤ تو حکمت و دانائی کے سر چشمے تمہارے قلب سے نکل کر زبان پر جاری ہو جائیں گے اور تم مقربین کے طریقہ پر چل پڑو گے نیز ان امور پر عمل کرتے ہوئے تم ابرار سے فوقیت حاصل کر لو گے۔تمہارے سلوک پر چلنے کے ارادہ کو تقویت حاصل ہو گی، شوق و ذوق میں اضافہ ہو گا او ر تمہارے قلب میں حب الٰہی کی آگ بھڑک اٹھے گی، تمام نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسے تم سے دور ہو جائیں گے۔
اور اگر ان میں سے کوئی چیز باقی رہ جائے تو اسے روحانی جذبے ختم کر دیں گے نیز یہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ اس مقام پر ان نفسانی خواہشات کو دور کرنا مقصود ہے جو اپنی نسبت کے لحاظ سے دوسرے مقام کیلئے تاریکی کا باعث ہیں۔
اور اچھی طرح جان لے کہ سالک کیلئے عالم مثال میں داخل ہونا نیند اوربیداری کی درمیانی صورت میں پیش آتا ہے اور اسے ’’واقعہ ‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور اس کیفیت کے دوران وہ بیٹھا ہوتا ہے، جو کچھ ملاخطہ کر تا ہے اس میں اسے اپنی جائے سکونت اور وقت کے ادراک کا احساس رہتا ہے ۔نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں ہے لیکن جب ایسا نہ ہو تو جو کچھ اس نے ملاخطہ کیا خواب ہے اور اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
اور جب ابتداء میں سالک پر نیند اور بیداری کی یہ درمیانی کیفیت طاری ہوتی ہے تو نیند کا اثر بیداری پر غالب ہوتا ہے لیکن جب سالک وقت گزرنے پر ترقی کرتا ہے تو پھر بیداری کا اثر غلبہ حاصل کر لیتا ہے اور نیند او ربیداری کلی طور پر غالب آجاتی ہے اور وہ روحانی حضرات کو دیکھتا ہے چنانچہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے سامنے اسی حالت میں حضرت جبرئیل ں ایک دیہاتی کے روپ میں تشریف لائے اور سالک اس حالت میں روحانی طور پر جناب نبی کریمکی زیارت کا شرف حاصل کر لیتا ہے اور اس کیفیت کو مشافہہ کہا جاتا ہے۔
سالک کو اس مقام پر منزلِ مقصود پر پہنچنے کیلئے جن بڑی بڑی مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے اور سالک کو جن کی ضرورت پڑتی ہے وہ خوراک اور لباس کی خواہشات کو منقطع کرنا ہے پس جب کبھی سالک کے نفس میں کھانے او رپہننے کی بعض اشیاء کی طرف رغبت پیدا ہو تو اس پر مذکورہ سات چیزوں کا مجاہدہ لازمی ہو جاتا ہے ۔ نیز اسے کم کھانا چاہئے تاکہ اس کے نزدیک ہر قسم کے کھانے اور ہر قسم کے لباس برابر ہو جائیں یعنی ادنیٰ واعلیٰ خوراک اور قیمتی و سستی پوشاک اس کیلئے برابری کا درجہ حاصل کر لیں تو اس وقت کہا جائے گا کہ اس سالک نے اپنے نفس کے شر سے خلاصی حاصل کر لی او ریہ کمال کا پہلا درجہ ہے۔
اور کمال کے عروج تک کئی دوسرے درجات بھی ہیں جن تک رسائی کیلئے سالک کو اپنی خوراک و پوشاک کی خواہشات و لذات کو ترک کرنا پڑتا ہے اور ان سے منہ موڑ کر کلی طو رپر اپنے دل کو عالم قدس کی طرف مائل کرنا ہے لیکن جب تک انسان شہوتوں کا پرستار رہے اور مجاہدہ کر کے انہیں چھوڑ نہ دے تو اس وقت تک وہ سلوک کی حقیقی اور سچی راہ پر چلنے والوں میں سے نہیں اور اگر وہ دعویٰ کرے تو شیطان و گمراہ ہے اور دوسروں کا بھی گمراہ کرنے والا ہے۔
لہٰذا سالکین کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایسے شخص سے بچ جائیں۔ اس کی صحبت میں ان کے بھی گمراہ ہونے کا ڈر ہے کیونکہ اس طریقت سے مراد ان تمام اشیاء (خواہشات ولذات) کی مخالفت کرنی ہے جن میں کہ لوگ مبتلا ہیں چنانچہ جو شخص اپنے نفس سے تمام خواہشات کو جلا کر ختم نہ کردے ، اس سے کرامات کا ظہور نہیں ہو سکتا۔
اور سالک جب ان عادات (خود و نوش) کی مخالفت کرے تو یقینا وہ عام لوگوں کے خلاف کرتا ہے چنانچہ لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ یہ پاگل ہے اور (اے سالک) آپ اس وقت تک سلوک کے بلند مقامات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ مخلوق سے کنارہ کش نہ ہو جائیں جس طرح کہ پاگل دنیا سے لاتعلق ہو جاتا ہے اور جب تک آپ کے دل میں دنیا کی کسی بھی چیز کی طرف رغبت ہو گی تو اس وقت تک آپ اس محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے کٹے ہوئے ہوں گے ۔ اگر آپ نے قربِ الٰہی کے حصول کا مصمم ارادہ کر لیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے سے قصداً منہ موڑلیں یعنی اپنے دل سے ہر چیز کی محبت ختم کر دیں او رکسی بھی انسان کی صحبت اختیار نہ کریں یہاں تک کہ اگر کوئی شخص آپ سے یہ کہے کہ ’’ میں خضر ں ہوں ‘‘ تو اس سے بھی دور رہیں اسلئے کہ مشائخ کرام نے حکمت کو دل کے اندر ایک ایسے کمرہ کے اندر جلنے والی شمع سے تشبیہ دی ہے جس کے پانچ دروازے ہیں ،جب یہ پانچوں دروازے مضبوطی سے بند کر دئیے جائیں تو شمع کی روشنی سے یہ کمرہ منور ہو جائیگا لیکن جب دروازے کھول دیے جائیں تو شمع بجھ جائیگی اور کمرہ میں تاریکی پھیل جائیگی ۔
یہی عالم دل کے اندر حکمت کا ہے اور حواسِ خمسہ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چھونا اور چکھنا دل کے پانچ دروازوں کے طرح ہیں لہٰذا جب تک سالک سننے، دیکھنے، سونگھنے، چھونے اور چکھنے والی چیزوں کی طرف متوجہ رہیگا یعنی دنیا کے لذائد میں پھنسارہا تو حکمت ضائع ہو جائیگی، نورِ بصیرت جاتا رہیگا اور دل تاریک ہو جائیگا اور اگر سالک نے مخلوق سے یکسوئی اختیار کر کے طریقت کے مذکورہ بالا سات ارکان پر عمل پیرا ہو کر مجاہدہ جاری رکھا نیز حواسِ خمسہ اور دیگر ہر قسم کی خواہشاتِ نفسانی سے لطف اندوزہونا چھوڑ دیا تو اسکے دل سے حکمت کے چشمے پھوٹ کر اسکی زبان پر جاری ہو جائینگے او ریہی وہ نور ہے جسکی طرف پیغمبر اسلامنے اس حدیث مبارک میں اشارہ فرمایا ہے کہ ’’ جس وقت دل پر نور اترتا ہے تو اس پر علم وحکمت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور قلب میں کشادگی پیدا ہو جاتی ہے‘‘ ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی کہ اے اللہ تعالیٰ کے پیارے رسولکیا ا سکی کوئی نشانی ہے ؟ تو حضور نبی پاکنے ارشاد فرمایا ہاں اس فریبی دنیا سے دامن سمیٹ لینا، جنت کی طرف مائل ہو جانا اور موت سے پہلے اس کی تیاری کر لینا یعنی دنیا کی لذتیں چھوڑ کر آخرت کی طرف پورے طور پر متوجہ ہو جانا اور عمل صالح کی زادِ راہ تیار کر لینا۔ حضور نے نورِ حکمت سے معمور قلب رکھنے والے سالک کی یہ تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔
اور یہ اسلئے فرمایاگیا کہ قلب کی دو جہتیں (رخ ) ہیں، ایک جہت عالم شہادت (نظر آنیوالا جہان) کی طرف ہے اور ظاہری طو پر اس کا تعلق حواسِ خمسہ سے ہے کیونکہ دل حواسِ خمسہ ہی کے ذریعہ کسی چیز کو محسوس کرتا ہے ۔جبکہ دل کی دوسری جہت (رخ) عالم غیب (نظر نہ آنے والاجہان) کی طرف ہے ۔
چنانچہ دل جب ان دونوں میں سے کسی ایک جہان کی طرف توجہ کرتا ہے تو دوسرا اس سے رہ جاتا ہے اور یہ عالم شہادت تو حق تعالیٰ جل جلالہ کے قرب سے بہت دور ہے ،جب دل اس عالم شہادت کی طرف متوجہ ہو کر عالم غیب کو چھوڑ دیتا ہے تو گویا کہ وہ نہ بولنے والا جانور ہے پس آپ دیکھیں گے اسے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات اور غیض و غضب کا اسیر ہے، بے تحاشا کھانے، بہت زیادہ سونے اور بے فائدہ کاموں میں انتہائی جستجو کرنے والا اور اس طرح کے دیگر عیوب سے آراستہ ہے۔
اور جان لے جب سالک کا دل عالم غیب کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہو گا جب سالک اﷲ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرے اور جن چیزوں سے اﷲ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرے نیز تمام لغو اور بے ہودہ امور جیسے بے معنی گفتگو، بلا ضرورت سونے اور غیر ضروری طور پر کھانے وغیرہ سے منہ موڑ لے تو اس طرح سالک صفاتِ ملائکہ سے متصف ہو جائیگا اور غصہ و خواہشاتِ نفسانی اس کے تابع ہو جائیں گی اور اپنی مرضی کے مطابق ان دونوں کو استعمال کریگا ۔
پس اس وقت یہ انسان کامل ہو کر مقام امانت کا حامل ہو جائے گا اور اﷲ تعالیٰ کا نائب ہو جائے گا اور اگر اس کے سوا یہ غصہ اور خواہشاتِ نفسانی کے تابع ہو گیا تو یہ بشکل انسان حیوان ہو گا بلکہ حیوان اس سے بہتر ہے کیونکہ وہ مکلف (امورِ شریعت کا پابند) نہیں ہے اور نہ ہی اس کیلئے عذاب ہے۔
پس (اے سالک) کوشش کر کے خواہشاتِ نفس کو چھوڑ دے اور محنت کر نیکیوں کے حصول کی طرف، سستی کو چھوڑ دے اور اعلیٰ مقامات کی طرف ترقی کی تلاش و جستجو کو جاری رکھ جو ساتواں مقام ہے اور اپنے نفس کو حیوانیت کے مقام سے نکال اور ترقی درجات کیلئے مدد طلب کر مجاہدہ اور ریاضات جیسے بھوک، شب بیداری، یکسوئی، خاموشی، ذکر، فکر، اور شکر کے ساتھ۔
اس طرح آپ اپنے غصہ اور نفسانی خواہشات پر قابو پالیں گے۔ آپ کو کشادگی قلب نصیب ہو گی، غم و فکر جاتا رہے گا اور جس بوجھ نے آپ کی کمر کو دوہرا کر رکھا ہے وہ آپ سے دور ہو جائیگا۔ آپ کے اندر وہ بشری لوازمات باقی نہیں رہیں گے جو گناہ کا سبب بنتے ہیں۔ پس آپ اخروی سعادتوں کے حصول کیلئے تیار ہو جائیں۔ آپ کا ذکر آپ ہی کیلئے بلند کیا جائے گا اور آپ کے دشمن ڈرا کر بھگا دئیے جائیں گے اور آپ ان کے مکر سے نجات حاصل کر لیں گے اور اسی طرح اخروی سعادتوں کے ساتھ ساتھ دنیوی سعادتوں کے حصول کیلئے بھی کمر بستہ ہو جائیں چنانچہ جو سالک بھی ان کیفیات کا حامل ہو ااس کے نائب اﷲ ہونے میں کوئی شک نہیں ۔
اور (اے سالک) یہ بات بھی آپ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ اس دوسرے مقام پر آپ دو چیزوں کبر و خود پسندی سے بری الذمہ نہیں ہوتے جو کہ غصہ کا سبب ہیں اور حضور اکرم نے بہت سی احادیث میں ان کی مذمت بیان فرمائی ہے جو ’’احیاء العلوم‘‘، ’’طریقہ محمدیہ‘‘ اور دیگر کتابوں میں موجود ہیں لہٰذا آپ غصہ کا یہ مادہ کبر و خود پسندی جڑ سے کاٹ کر قطع کر دیں اور ان دونوں مذموم صفتوں سے قطعی طور پر چھٹکارا پانے کیلئے مقربین کا طریقہ اپنانا پڑتا ہے جو گزشتہ سطور میں بیان کی گئی ہے سات اشیاء جنہیں ارکان طریقت بھی کہتے ہیں، کے ساتھ مجاہدہ کرتے ہوئے نفس کو کمزور کر دینا ہے ۔
اور یہ بات بھی خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لے کہ سالک کیلئے چار امور کا جاننا ضروری ہے۔ اول یہ کہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ دوم یہ کہ اﷲ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے، سوم یہ کہ اﷲ تعالیٰ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے اور چہارم یہ کہ اﷲ تعالیٰ کے تمام کام بھلائی پر مبنی ہیں چنانچہ جس شخص نے ان چار امور کی معرفت حاصل کی اور ان کی تصدیق کی تو اس کیلئے حسد کرنے والوں کو مکرو فریب اور انسانوں و شیطانوں کی طرف سے کوئی خوف نہیں۔
پس اے بھائی آپ کیلئے لازمی ہے کہ آپ ان چار امور کو سچا جانیں اور ان کے معانی پر غور کریں ۔ پس تحقیق اﷲ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی تصدیق آپ کو رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے اور قبولیت کے یقین کے ساتھ اس سے مانگنے کی ہمت عطا کرتی ہے اور اس ڈھنگ اور طلب کرنے والے کو محروم نہیں لوٹایا جاتا اور آپ کی یہ تصدیق کہ اﷲ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا، سب مہربانوں سے زیادہ مہربان اور اس کے تمام افعال بھلائی پر مبنی ہیں۔ آپ کو توکل، رِضا، شوق اور محبت وغیرہ پر ثابت قدم رکھنے میں مفید ثابت ہوتی ہے نیز مقاماتِ عالیہ، پسندیدہ احوال اور تیسرے مقام پر ترقی کے حصول کا باعث بنتا ہے اور انہیں چار امور کی بدولت چوتھے، پانچویں، چھٹے اور ساتویں مقام تک ترقی حاصل ہوتی ہے ۔
اور یہ بھی جان لے کہ یہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کی عادتِ جاریہ ہے کہ طریقت میں دوسری مقام سے تیسری مقام کی طرف ترقی عارفِ مسلک کے ہاتھ میں ہوتی ہے یعنی عارف کے ذریعہ ممکن ہوتی ہے لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اﷲ جل شانہ اپنی اس عادتِ جاریہ کے خلاف بغیر شیخ طریقت کے دوسرے مقام سے تیسرے مقام پر ایسے سالک کو ترقی سے ہمکنار کر دے جو فہم و فراست کا مالک ہو خصوصاً جو اس کتاب کے مطالعہ سے مستفید ہو کر اس پر عمل کرے جو کچھ کہ اس میں تحریر کیا گیاہے کیونکہ اس کے تمام ابواب میں سے ہر ایک باب آنے والے باب کیلئے مقدمہ کی مانند ہے ۔
پس جب سالک دوسرے باب میں تجویز کی گئی مذکورہ روحانی دواؤں پر عمل کرنا شروع کر دے تو وہ تیسرے باب پر مشتمل مقام کی طرف ترقی پا لے گا اور یہ عمل جاری رکھے یہاں تک کہ اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے جو ساتواں مقام ہے جس کا ذکر دسویں باب میں ہے اور جہاں تک کہ تیسرے مقام سے چوتھے مقام تک ترقی کے حصول کا تعلق ہے تو وہ عارفِ مسلک کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ البتہ پانچویں چھٹے اور ساتویں مقام پر ترقی پانے میں عارفِ مسلک کی مدد کی بہت کم ضرورت پڑتی ہے لیکن ان مقامات تک پہنچنا سالک کی اپنی ہمت اور پیچھے ذکر کی گئی سات اشیاء کے ساتھ مجاہدہ کرنے پر موقوف ہے اور اﷲ تعالیٰ جسے چاہ سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا ہے ۔
چھٹا باب
چھٹا باب نفس ملہمہ کے بیان میں ہے جس میں اس نفس ملہمہ کی سیر، اس کے جہان، اس کے مقام، اس کے حال، اس کے وارد (نزولِ انور) اور اس کی صفات کا ذکر ہے نیز اس مقام سے نکلنے کا نہایت مؤثر طریقہ اور چوتھے مقام کی طرف ترقی کا بیان ہے۔ اس مقام پر سیر علی اﷲ سے مراد یہ ہے کہ سالک کی نظر اﷲ تعالیٰ جل جلالہ کی ذات انور کے سوا کسی دوسری شے پر نہ پڑے تاکہ باطنی طور پر ایمان کی حقیقت کا مکمل ظہور ہو جائے اور صفت ایمان کے شہود میں وہ کمال حاصل ہو جائے کہ ماسویٰ اﷲ بالکل فنا ہوجائے اور اس نفس ملہمہ کے جہان سے مراد عالم ارواح ہے اور اس کے حال (کیفیت) سے مراد عشق الٰہی ہے اور اس کے وارد (نزولِ انوار) سے مراد معرفت الٰہی ہے اور اسکی صفات سے درج ذیل اخلاقِ حسنہ مراد ہیں۔
سخاوت، قناعت، تواضع، علم، صبر، حلم (بردباری)، تکالیف کو برداشت کرنا، لوگوں کو معاف کرنا، ان کی اصلاح کرنا، ان کے عذر کو منظور کرنا، شوق، گریہ ، اضطراب، مخلوق سے یکسو ہونا، حق کے ساتھ مصروف ہونا، پے در پے قبض (تنگی) بسط (کشادگی) کا ہونا، مخلوق سے نہ ڈرنا نہ ہی اس سے امید رکھنا، خوبصورت آوازیں سن کر ان سے لطف اندوز ہونا، ہر آن ذکر الٰہی سے محبت کرنا، چہرہ پربشاشت (خوشی) کا اظہار کرنا، اﷲ تعالیٰ کے اسم مبارک کے ساتھ قلبی خوشی حاصل کرنا، دانائی و معرفت کی باتیں کرنا اور مشاہدہ حق کرنا۔ پس یہ اور اس کی مانند دیگر نفس ملہمہ کی صفات ہیں اسی لئے اس کا نام ملہمہ رکھا گیا ہے پھر اس کے دل میں ڈال دیا اور اس کی نافرمانی اور اس کی پارسائی کو۔
یہ نفس ملہمہ بغیر حواسِ خمسہ کے سماعت کرتا ہے اور یہ سماعت کبھی تو فرشتے کے ذریعہ ہوتی ہے اور کبھی شیطان کے ذریعہ۔ اور کہا گیا ہے کہ اس مقام پر نفس ملہمہ کیلئے نہ سننے کی نسبت اسلئے کی گئی ہے کہ یہ مقامِ حیوانات کے زیادہ قریب ہے ۔ اسی لئے یہ اس مقام پر کبھی تو فرشتے کے واسطہ سے سن لیتا ہے اور کبھی شیطان کے واسطہ سے۔ تویہ مقام انتہائی سخت اندیشہ کا مقام ہے، سالک اس مقام پر کامل سالک ( مرشد کامل) کا محتاج ہوتا ہے تاکہ وہ مرشد ارشد اسے شبہات کی تاریکیوں سے نکال کر انوار و تجلیات کی روشنی میں لے آئے۔
اسلئے کہ درحقیقت اس مقام میں سالک بہت ہی ناتواں ہوتا ہے ۔ وہ جمال اور جلال میں تفریق نہیں کر سکتا اور نہ ہی القائے شیطانی و القائے رحمانی میں تفریق کر سکتا ہے کیونکہ اس مقام پر بشری تقاضے اس سے دور نہیں ہوتے اور اس کیلئے یہ خطرہ ہو سکتا ہے کہ سجین اور اسفل السافلین میں نہ گر جائے یعنی وہ مقامِ اوّل جس میں نفس کو نفس امارہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے پس واپس لوٹ جاتا ہے اس ابتدائی مقام کی طرف جس میں کہ وہ پہلے تھا جیسے بہت زیادہ کھانا، پینا، سونا، مخلوق کے ساتھ میل جول کرنا اور کبھی تو اس کا عقیدہ بگڑ جاتا ہے، اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری چھوڑ دیتا ہے، گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے اور گمان یہ کرتا ہے کہ موحد ہے، حقائق اشیاء کے کشف کا مالک ہے بلکہ اہل کشف صوفیائے کرام سے ہے نیز یہ بھی گمان کرتا ہے کہ فرمانبرادری میں سوائے اسکے کوئی دوسرا اس مقام کوجاننے والا نہیں ہے ۔
پس اگر اس کا عقیدہ بگڑ گیا تو وہ تباہ ہوا اور مشرکوں کے ساتھ مل گیا۔ اس کے دل پر طبیعت کی آگ بھڑک اٹھی اور اس کے دل سے نورِ ایمان کی شعاع جل گئی، اس کی محبت و کوشش رائیگاں چلی گئی وہ گمراہ اور گمراہ کرنے والا شیطان ہو گیا ۔ جب اس پر شیطانی خیالات کا ورود ہوتا ہے تو وہ یہ گمان کرتا ہے کہ یہ رحمانی تجلیات ہیں اور بہت سے سالک اس مقام پر آ کر ہلاکت میں پڑ گئے اور گمراہ و گمراہ کرنے والے بن گئے ۔
نیز وہ فریب خوردہ ہے اسی لئے اپنے آپ کو درجہ کمال پر فائز سمجھتا ہے اور مذکورہ پر افترا باندھتا ہے یعنی مجاہدہ کرتا نہیں لیکن اس کا دعویٰ کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور مرشد کامل کی صحبت کو ترک کر دیا چنانچہ ترقی مدارج میں یہ کمال حاصل نہ کر سکا اور ساتویں مقام پر پہنچنے سے محروم رہا ۔
پس اے بھائی! اس مقام میں تم پر اپنے پیر کامل کی پوری پوری مطابعت کرنا لازمی ہے اور اگر تمہارے نفس پر یہ خیال غالب آ جائے کہ تم اپنے مرشد طریقت سے بھی بڑھ گئے ہو اور یہ کہ تم موحد ہو اور وہ محجوب ( ناکامیاب) ہے تو تم پر شریعت کی پیروی کرنا، ادب کو ملحوظِ خاطر رکھنا، اپنے اوراد مقررہ کی تلاوت پر اپنے نفس کو مجبور کرنا اور اسے شرائط طریقت کا پابند بنانا لازمی ہے جو کہ سات امور مذکور اور ان کے علاوہ دیگر امور کا مجاہدہ کرنا ہے ۔
اور اگرچہ سالک کے نفس پر یہ مجاہدہ گراں گزرتا ہے کیونکہ اس مقام پر اس کا نفس آزادی کی طرف میلان رکھتا ہے جبکہ مجاہدہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسے پابند کر دیا جائے یہاں تک کہ اسے اطمینان حاصل ہو جائے اور یہ اطمینان چوتھے مقام پر پہنچ کر حاصل ہوتا ہے اور اس چوتھے مقام پر نفس کو نفس مطمئنہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یہ دونوں جہانوں کی بھلائی ہے۔ سالک جب چوتھے مقام میں قدم رکھتا ہے تو اﷲ تبارک و تعالیٰ کی امداد سے نفس کی تمام آفات (مشکل و مصائب) اور بشریت کے جملہ شہوانی تقاضوں سے خلاصی حاصل کر لیتا ہے۔
پس ان تمام اشیاء (امور پر مداومت اختیار کریں یہاں تک کہ یہ آپ کو اس تیسرے مقام پر مرتبہ انکشاف تک پہنچا دیں یعنی پوشیدہ رازوں سے پردے ہٹنے لگیں اور حقیقت آپ پر آشکارا ہونے لگے) تو آپ خطرات سے نجات پا لیں گے اور آپ کے کشف میں اضافہ ہو گا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ حسب سابق اس مقام پر مجاہدہ مذکورہ پر عمل پیرا رہیں ۔ نیز مرشد کامل کا دامن مضبوطی سے تھامے رہیں۔
ہم عنقریب اس کتاب کے آخر میں پیر کامل کی صفات بیان کریں گے چنانچہ مرشد ارشد کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے دل میں پیدا ہونے والے اچھے یا برے خطرات(وسوسے) مرشد طریقت کی خدمت میں عرض کر دیا کریں اور مرشد کامل کی ذات اقدس پر یقین کامل پیدا کریں ۔
آپ کے اس اعتقاد میں جس قدر اضافہ ہو گا اسی قدر عالم قدس کی طرف آپ کی رغبت قوی ہو گی اور ذوق و شوق ترقی کرتا چلا جائے گا اور اس حقیقت کو قطعی طور پر مان لیں کہ آپ کی نجات پیر کامل کے دست اقدس میں ہے ۔ اس کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں اور اس کے سامنے مردہ کی مانند ہو جائیں جس طرح کہ مردہ غسل دینے والے کے ہاتھوں میں ہوتا ہے (یعنی مردہ کو غسل دینے والا اسے پاک و صاف کرنے کیلئے جس طرف چاہے حرکت دیتا رہتا ہے لیکن مردہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی حرکت نہ ہوتی ۔ اسی طرح سالک کو چاہئے کہ وہ بھی اپنے مرشد کامل کے حضور میں اپنے آپ کو مردہ تصور کرے تاکہ اس کے تذکیہ نفس و تصفیہ قلب کیلئے پیر کامل جس طرح چاہے تصرف فرمائے اور اسے آلائشوں سے پاک و صاف فرما دے۔
نیز مرشد کامل کے حالات میں کسی بھی حال کو ناپسند کرنے سے اپنے آپ کو بچائیں، جب کبھی مرشد کے کسی بھی فعل پر انکار (مخالفت) کی گنجائش پیدا ہو تو اس (ناپاک خیال) سے فوراً رجوع کر کے توبہ کریں اگرچہ کبھی کبھی مرشد ارشد کی طرف سے آپ کو ایسے حالات پیش آئیں گے جو انکار (مخالفت) کا باعث بنیں گے جیسے کسی ادنیٰ چیز کے گم یا ضائع کر دینے پر مرشد کی طرف سے اپنے خادم کو ڈانٹنا، پیٹنا اور تکلیف دینا تو آپ اس انکار (مخالفت) کو فوراً دور کریں اور اسے ہرگز اپنے دل میں جگہ نہ دیں اسلئے کہ کاملین کے احوال کو دوسرے لوگوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا اور ان کی حقیقت اﷲ تعالیٰ کے سواء کوئی نہیں جانتا ( اس کی وضاحت کیلئے درج ذیل شعر پر غور و فکر کریں)
کارِ پاکاں را قیاس از خود مگیر
گرچہ مانند در نوشتن شیر و شِیر
یعنی اولیاء اﷲ کے افعال کو اپنے افعال پر قیاس نہ کر ،انہیں اپنی طرح مت سمجھو اگرچہ وہ ظاہر میں تمہارے ہی افعال ہی جیسے کیوں نہ ہوں لیکن تم ان کی حقیقت کو جاننے سے قاصر ہو جیسے کہ لکھنے میں تو شیر اور شِیر ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن دونوں کی حقیقت میں بڑا فرق ہے شیر جنگلی درندہ ہے جو انسان کو چیز پھاڑ دیتا ہے جبکہ شِیر دودھ کو کہتے ہیں جو انسان کی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے لہٰذا ظاہری یکسانیت پر نظر رکھنے کی بجائے حقیقت کو مدر نظر رکھنے سے ہی انسان غلطی کے ارتکاب سے بچتا ہے بصورتِ دیگر گمراہی و بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے ۔
اور (اے سالک) اگر آپ کو مرشد کا مل کی صحبت میسر نہ ہو تو اپنے نفس کی بیماریوں کے علاج کیلئے شریعت مطہرہ کی متابعت اختیار کرو، اپنے مقررہ اوراد کو ضرور پورا کرو اور کثرت سے نبی کریمپر درود شریف بھیجو، لاحول ولا قوہ الاباﷲ العلی العظیم کا ورد بھی زیادہ سے زیادہ کیا کرو اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو، جب کبھی خطرہ میں گھر جاؤ اور تمہارے نفس کا شر (برائی) تمہارے نفس کی خیر (نیکی) پر غالب آ جائے تو مذکورہ تمام اعمال کثرت سے انجام دو اور جب خطرہ نہ ہو اور نفس کی خیر اس کے شر پر غلبہ حاصل کر لے تو خوش و خرم ہوکر وسیع القلبی اختیار کرو اور جنت و دوزخ کی فکرچھوڑ دو۔
الغرض یہ تیسرا مقام خیر و شر کا جامع ہے یعنی اس میں خیر کا ورود بھی ہوتا ہے اور شر کا خطرہ بھی رہتا ہے پس جب نفس کے شرپر خیر غلبہ پا لے تو سالک کو بلند مقامات کی طرف عروج حاصل ہوتا ہے اور اگر اس کے بر خلاف خیر پر شر غالب آ جائے تو سالک پستیوں کی طرف اسفل السافلین میں گر کر خواہشاتِ نفسانی کی غلا می میں پھنس جاتا ہے چنانچہ اس مقام پر سالک کیلئے ضرری ہے کہ وہ اپنے نفس کو تکلیف دے، اس کی تحقیر کرے اور اسے مجاہدہ کا پابند بنائے (تاکہ اس کی سرکشی ختم ہو جائے )۔
آپ کے نفس پر شر کی بجائے خیر کے غالب آ جانے کی علامت یہ ہے کہ آپ کا اپنا باطن نورِ ایمان کی حقیقت سے منور نظر آئے وہ اس طرح کہ آپ کے قلب میں یہ یقین پختہ اور پایہ تحقیق کو پہنچ چکا ہو کہ تمام موجودات اﷲ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق کام کر رہے ہیں اور نظام کائنات اسی کی قدرتِ کاملہ کے تحت چل رہا ہے۔ نیز آپ کا ظاہر شریعت اسلامیہ سے آراستہ ہو، وہ یوں کہ اطاعت الٰہی و اطاعت رسول اﷲ پرکابند ہو۔ کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے اجتناب کرے چاہے لوگوں میں موجود ہو یا تنہائی میں ہو۔
اور نفس کی خیر پر شر کے غلبہ پا لینے کی نشانی یہ ہے کہ سالک اپنے باطن میں نورِ ایمان کی مضبوط حقیقت کا مشاہدہ تو کرتا ہے لیکن اس میں کچھ بشری لوازمات کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔ نیز سالک کا ظاہر شریعت اسلامیہ کا کامل نمونہ پیش نہیں کرتا چنانچہ اگر وہ بندگی کو ترک کر کے بعض گناہوں کا ارتکاب کرے تو اس مقام پر یہ تعجب خیز نہیں ہوتا اور سالک کو یہ حقیقت بھی خوب اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کی رِضا اور تجلیات، اطاعت ( بندگی) کے دروازہ سے سالک کو حاصل ہوتی ہیں اور نیز اس کی ناراضگی، اس کی طرف سے قعر مذلت میں گرنا اور اسکے قرب سے دوری معصیت (نافرمانی) کے دروازہ سے سالک تک پہنچتی ہے۔
لہٰذا (اے سالک) انتہائی عجز و انکسار کے ساتھ شریعت کے دروزاہ پر کھڑا ہو کر جس چیز کی تمہیں حاجت ہو اسے اپنے مولیٰ تعالیٰ سے طلب کرو۔ پس بیشک وہ رب تعالیٰ تمہیں مرحوم نہیں رکھے گا اور مقام پر اس چیز کی طرف رغبت مت رکھو جو تمہاری توجہ اپنی طرف مبذول کر لے جیسے کشف کے ذریعہ طرد (تنزل) اور لعن (خیر سے دور کر دینے والی چیز) کے اسباب اور الہامات کے القاء اور اس قسم کے دیگر امور کی طرف متوجہ ہونا۔
پس اگر تم نے اپنی خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کی تو راہِ حق سے گمراہ جو جاؤ گے چنانچہ اﷲ تعالیٰ کے اسم ثالث یعنی یعنی’’ھو‘‘ کا ورد کرتے ہوئے اس سے استعانت (مدد) طلب کرو اور ابتداء میں اس کے ساتھ ’’یا‘‘ کا اضافہ کرو یعنی ’’یا ھو‘‘ اور پھر بغیر ’’یا‘‘ کے پڑھودن رات، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے کثرت سے اس کا ذکر کرو۔ پس اس کی برکت سے اس مقام کی رکاوٹیں عبور کر لو گے اور پہلے دوسرے مقام کے نفسانی خواہشات کے جو اثرات باقی رہ گئے تھے اس اسم مبارک کے ذکر سے وہ ختم ہو جائیں گے کیونکہ اس تیسرے مقام پر سالک کا نفس ان دونوں ( اول و دوم) مقامات کی طرف نفسانی خواہشات کا میلان رکھتا ہے ۔
اور اے عارف خوب اچھی طرح جان لے کہ اس مقام پر تم پاکیزہ روحانیت کے حامل ہو چکے ہو۔ تحقیق نورِ مشاہدہ تم پر ظاہر ہو چکا اور درجہ کمال کی بشارت تمہارے سامنے آ چکی ہے اور نسیم وصالِ الٰہی کے جھونکے تمہاری طرف آنے لگے ہیں اور تمہارے قلب سے بہت سے گناہوں کے آلودہ اور دبیز پردے ہٹ چکے ہیں۔
نیز تمہارے نفس سے بڑے بڑے لذائذ اور خواہشات دور ہو چکی ہیں اسلئے کہ یہ روح کا مقام ہے اور اگرچہ نفس اس مقام پر جمالِ حق کا دیدار کرنے سے محجوب ہے یعنی پردوں میں چھپا ہوا ہے کیونکہ اس میں ابھی کچھ لذائذ ایسے ہیں جو اس عارف کیلئے بارگاہِ الٰہی تک پہنچنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں لیکن یہ نورانی حجابات (پردے) ہیں اور ان کے مدعا پسندیدہ ہیں کیونکہ ان کی آرزو اور غرض و غایت رویت حق تعالیٰ، مشاہدہ حق تعالیٰ اور وصالِ حق تعالیٰ ہے اور یہ باری تعالیٰ کے عشق اور ذوق و شوق کے باعث ہیں۔
پس اے عارف! تم اس مقام پر اﷲ جل جلالہ کے ان عاشقوں میں سے ہو جو ذلت اور عجز و انکساری میں لذت محسوس کرتے ہیں اسلئے آپ لوگوں کی نظروں میں اپنا مرتبہ کم کرنے کی کوشش کریں یہاں تک کہ انہیں آ پ پر یقین نہ ہے اور نہ ہی آپ کیلئے ان کی طرف سے ملنے والی قدر افزائی، عزت اور یاد آوری کی کوئی اہمیت رہے کیونکہ ان امور کے عوض عاشق لذت حاصل کرتا ہے اور انہیں کے ذریعہ کاذب (جھوٹے) اور صادق (سچے) عاشق کی پہچان ہوتی ہے ۔
علاوہ از یں لغزش سے بھی اپنے آپ کو بچاو وہ یوں کہ تم یہ گمان کرنے لگو کہ امور شریعت آپ سے ساقط ہو گئے ہیں یعنی شریعت اسلامیہ کی پابندی سے بری الذمہ ہو گئے ہیں جیسے کہ وہ لوگ گمان کرتے ہیں جو خود گمراہ ہوں، دوسروں کو گمراہ کرنے والے، فاسق اور بے دین ہوں اور یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی طبیعت کے حصار سے باہر نہیں نکل سکے یعنی خواہشات نفسانی کے اسیر ہیں۔ یہ علم حقیقت اور اتباعِ شریعت کے اسرار و رموز سے آگاہ نہیں چنانچہ نماز و روزہ کو ترک کر دیتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جن سے شریعت اسلامیہ نے منع فرمایا ہے اور ان تمام بد اعمالیوں کے باوجود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور مؤحدین میں سے ہیں اور ان لوگوں کی مانند ہیں جن پر سے شریعت کی پابندی کی تکلیف اٹھا لی گئی ہے اور وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ یہ تو کفر، گمراہی اور قربِ الٰہی سے دور کرنے والے امور ہیں کیونکہ یہ دین اسلام کے کسی بھی مذہب کے موافق نہیں۔
لہٰذا اے عارف! تم اپنے ان آپ کو ان افعال سے بچاؤ جو شریعت کے خلاف ہیں اگرچہ ان پر عمل کرنے سے تمہارا مقصد عوام میں اپنا مرتبہ کم کرنا ہی ہو جیسے کہ حرام کا مرتکب ہونا مثلاً شراب پینا، داڑھی منڈھوانا اور شرمگاہ کو نہ ڈھانپنا۔ چنانچہ یہ سب شیطانی وسوسے ہیں جو تمہیں اپنی مراد سے دور کر دیتے ہیں کیونکہ حرام کی یہ خاصیت ہے کہ وہ قلب کو سیاہ کر دیتی ہے اور قلب کی تاریکی کے باعث اشیاء اپنی اصل حقیقت کے برعکس نظر آتی ہیں اور ایسے شخص کی دانائی جاتی رہتی ہے اور اس پر دیوانگی طاری ہو جاتی ہے نیز اگر تم لوگوں کی نظروں میں اپنا مرتبہ کم کرنے والے امور کیلئے صدقِ دل سے جستجو کر رہے ہو تو کثرت سے ایسے امور تمہارے سامنے آئیں گے جو شریعت میں مباح ہیں جیسے کہ قیمتی لباس زیب تن کرنا اور لذیذ و عمدہ خوراک کھانا اور ان کی طرح دیگر امور عزت و جاہ کو کم کرنے کیلئے تم سر انجام نہ دو کہ وہ شریعت اسلامیہ میں حرام ہیں۔
اور اچھی طرح جان لے (اے سالک) کہ اس مقام میں تم پر فنا طاری ہو گی جو اس مقام سے چوتھے مقام کی طرف ترقی پانے میں تمہاری مدد کرے گی اور اس مقام پر فنا سے مراد ایک حالت ہے جو سالک پر طاری ہوتی ہے جس میں سالک کا فہم و ادراک غائب (سلب) ہو جاتا ہے اور یہ (کیفیت) غفلت کی بدولت واقع ہوتی ہے، بے ہوشی یا نیند کی وجہ سے نہیں ہوتی۔
پس سالک کی ہر حس اپنے احساسات سے غافل ہوجاتی ہے اور اس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے گویا کہ اسے محسوسات کا ادراک ہوتا ہے لیکن درحقیقت اسے ادراک نہیں ہوتا مثلاً آنکھوں کا غافل ہونا کہ باوجود اشیاء کو دیکھتے ہوئے ان سے غافل ہوتی ہیں، اسی طرح کان کی غفلت کی آوازیں سنتے ہیں مگر حالت یہ ہوتی ہے کہ جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں، اسی طرح تمام حواس کی یہ کیفیت ہوتی ہے اور عقل کی بھی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ حکمت سے غافل ہو جاتی ہے۔
جس شخص پر یہ حالت طاری نہ ہو وہ اس کی حقیقت کو نہیں جان سکتا اور یہ فنا، فناءِ اول ہے اور فناءِ ثانی جو ہے تو وہ پانچویں مقام پر طاری ہوتی ہے اور اس میں نفس کو نفس راضیہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے نیز جو فناءِ ثالث ہے تو وہ چھٹے مقام پر طاری ہوتی ہے اور یہ بات جان لو کہ تم فناءِ اول کی حالت میں حس سماعت کے بغیر روحانی ہستیوں کے ارشادات سنتے ہو لیکن اسے سمجھنے سے قاصر ہوتے ہو لیکن جب یہ حالت فنا ختم ہو جاتی ہے اور حواس اپنی اصل حالت پر واپس لوٹ آئیں تو ان کے اقوال تمہاری سمجھ میں آنے لگیں گے اور جو کچھ انہوں نے تمہارے قلب پر نقش کیا اس کا تصور کرو گے اور اس وقت تم جو گفتگو کرو گے وہ حکمت سے پر ہو گی او رنبی کریمنے اس راز کی طرف اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے ’’ جس نے چالیس سحر (دن) تک اﷲ تعالیٰ کیلئے اخلاص کیا تو حکمت کے چشمے اس کے قلب سے پھوٹ کر زبان پر جاری ہو جائیں گے۔
سالک پر اس فناء کے طاری ہونے کے اسباب سات امور ہیں۔ اسی طرح ابدال بن کر ابدال کے مقام پر فائز ہوتے ہیں اور یہ سات امور ارکانِ طریقت ہیں جن کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اور کم کھانا اور کم سونا وغیرہ ہیں۔ اور ان ارکانِ طریقت میں سب سے بڑا رکن بھوک ہے۔ پس اے سالک فناء کی طرف رغبت رکھنے والے اس مقام پر ان سات امور کے ساتھ مجاہدہ کو ترک نہ کر اگرچہ یہ تم پر بہت گراں ہے لیکن تم انپے لئے اس مجاہدہ کی فضیلت کو ہرگز نہ بھولو اور انوار و تجلیات کی جھلک سے دھوکہ مت کھاؤ کیونکہ یہ دھوکہ میں مبتلا ہونے کا مقام ہے اور اس مقام پر ابھی تم نہیں جانتے کہ یہ رحمانی انوار ہیں یا کہ شیطانی اور (یہ بات بھی یاد رکھو) کہ جب تم سلوک و معرفت کے بلند مقامات پر فائز ہو جاؤ تو پھر بھی مجاہدہ مذکورہ کو نہ چھوڑو اور اس مجاہدہ پر مداومت اختیار کرو کیونکہ مجاہدہ کے ذریعہ تمہارے ذوق و شوق اور عشق میں اضافہ ہو گا ۔
چونکہ یہ مقامِ روح ہے اور روح عشق الٰہی و (ماسویٰ اﷲ) سے غفلت کا محل ( جگہ) ہے لہٰذا سالک کافی عرصہ تک اس مقام پر قیام پزیر رہتا ہے کیونکہ عاشق اپنے نفس سے غافل ہو کر اپنے محبوب کے ساتھ مشغول رہتا ہے، کبھی اس کے نام کا ورد کرتے ہوئے اور کبھی ترنم کے ساتھ ایسے اشعار گنگناتے ہوئے جن میں محبوب کے حسن و جمال کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہو اور یہ سب کچھ حالت بسط میں ہوتاہے۔
اور جان لے کہ جب بسط (کشادگی) کے بعد قبض(تنگی) طاری ہو جائے اور سالک عشق کے خواب غفلت سے بیدار ہو جائے تو اس کا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور عنقریب دل سینہ سے باہر نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے پس وہ اپنے آپ کو کم تر سمجھتا اور خوف کھاتا ہے ۔
سالک پر قبض (تنگی) اور بسط (کشادگی) کی حالتیں ہمیشہ طاری رہتی ہیں اور یہ دونوں حالتیں سالک کا پیچھا کرتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ چوتھے مقام میں ترقی پا جاتا ہے پھر اس کا عشق کامل ہو جاتا ہے اور قبض و بسط کی کیفیت ہیبت اور انس (محبت) سے بدل جاتی ہے، یہ دونوں حالتیں (ہیبت و انس) سالک کامل کا تعاقب کرتی رہتی ہیں۔
ان حالتوں ہیبت اور قبض کے درمیان یہ فرق ہے کہ قبض کے دوران انس میں تنگی پیدا ہوتی ہے جب تک کہ ہیبت میں ایسا نہیں ہوتا اسی طرح انس (محبت) و بسط (کشادگی) میں یہ فرق ہے کہ جب سالک پر بسط کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ اس بات سے ڈر محسوس کرتا ہے کہ کہیں حضور حق میں بے ادبی سرزد نہ ہو جائے جبکہ اس میں یہ کیفیت وارد نہیں ہوتی اور اس مقام پر صحیح تحقیق یہ ہے کہ خوف و رِجا، قبض و بسط، ہیبت و انس صرف دو حالتوں کی کیفیت ہے نہ کہ اس کے علاوہ لیکن سالک کی ذات و مقامات کے اعتبار سے اس کے نام تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
سالک جب پہلے اور دوسرے مقام پر ان دونوں حالتوں کے ساتھ متصف ہوتا ہے تو اسکا نام خوف (ڈر) اور رجا (امید) ہے جب تیسرے مقام پر ان دونوں کیفیات سے متصف ہوتا ہے تو اس کا نام قبض و بسط ہے چوتھے، پانچویں او رچھٹے مقام پر ان کو ہیبت و انس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، ساتویں مقام پر اس کو جلا ل و جمال کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
پس خوف و رجا مبتدی سالک کیلئے ہے اور قبض و بسط متوسط سالک کیلئے، ہیبت و انس کامل سالک کیلئے اور جلال وجمال اس سالک کیلئے ہے جو خلیفہ کے مرتبہ پر فائز ہو ۔لہٰذا اے سالک! مجاہدہ مذکورہ میں زیادہ کوشش کر یہاں تک کہ مرتبہ جلال و جمال تک ترقی حاصل ہو جائے تو پھر تم اﷲ تعالیٰ کی زمین پر خلیفہ (نائب) کا مقام حاصل کر لو گے۔ چنانچہ جس وقت کہ تجھے مجاہدہ اور ریاضت میں استقامت حاصل ہو جائے تو اس پر تجھے خوش ہونا چاہئے اور اﷲ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنی چاہئے کیونکہ اس وقت تمہیں جذبہ (صادقہ)کے مقام ملنے والا ہے اور جناب نبی کریمنے ارشاد فرمایا کہ الحق کے جذبوں میں سے ایک جذبہ جن و انس دونوں کے اعمال کے برابر ہے اور جب کبھی تم اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھو کہ تمہیں مجاہدات و ریاضات پر استقامت نہیں اور خوراک، مخلوق اور علائق دنیا کی طرف رغبت شروع ہو گئی ہے تو پھر تم اعلیٰ مقام سے ادنیٰ مقام کی طرف تنزل پر ہو پس اپنے نفس کی اس رغبت کی مخالفت کرو اور مجاہدہ کو لازمی طور پر اختیار کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ سے مقامِ اعلیٰ کے حصول کا سوال کرو۔
اور البتہ بعض سالکوں کو ان اشیاء میں سے کوئی شے حاصل نہیں ہوتی جو یہ ہیں کہ کرامت، کشف، مخلوق کی ان کے ساتھ محبت و رغبت اور خرقِ عادات (ایسے امور کا ظہور جو عقلاً ثابت نہ ہوں) یہ بات اس (سالک) کے خالق کی طرف راغب ہونے اور ان اشیاء کے ساتھ بے رغبتی کی تصدیق کرتی ہے پس یہ آزمائش، محنت اور مقام کمال کی طرف ترقی پانے کے وقوف (ٹھہراؤ) سے محفوظ ہو جاتا ہے کیونکہ سالک جو ہدایت پر ہو اور اسے کسی قسم کا کشف ہو جائے تو یہ اسے درجہ کمال تک پہنچنے سے منقطع کر دیتا ہے ۔
راہِ سلوک میں سالک کیلئے سب سے بڑا بزرگی کا حامل مقام یہ ہے کہ اسکے اوصافِ مذمومہ (برے اعمال) اپنے مالک کے اوصافِ حمیدہ سے بدل جاتے ہیں اور وہ افعالِ ذمیمہ کو دور کر کے افعالِ حسنہ سے متصف ہو کر تباہی سے نجات حاصل کر لیتا ہے کیونکہ راہِ سلوک اختیار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شہنشاہوں کے شہنشاہ تک رسائی حاصل کی جائے اور یہ (مقدس مقام) اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ مذکورہ ستر حجابات دور نہ کئے جائیں نیز عبد (بندہ) کی اپنے رب تعالیٰ کے ساتھ (اطاعت و بندگی) کی جو نسبت ہے اس مناسبت کا نہ ہونا حقیقت میں حجاب (پردہ) ہے پس اوصاف کی تبدیلی ان دونوں (بندہ و رب تعالیٰ) کے درمیان قرب کی مناسبت سے ہے اور یوں اﷲ جل جلالہ کے حضور میں رسائی حاصل ہوتی ہے تو پھر خوب اچھی طرح جان لے کہ یہ (اوصاف کی تبدیلی) رازوں میں سے ایک راز کی بات ہے اگر تم جمالِ حقیقی کے حصول کا شوق رکھتے ہو تو اپنے اوصاف و اخلاق کو بدلنے کی انتہائی کوشش کرو پس شکم سیری کو بھوک، نیند کو شب بیداری، گفتگو کو خاموشی اور غرور و تکبر کو عاجزی و تواضع سے بدل دو ، اسی طرح دیگر صفات بھی تبدیل کرو اسلئے کہ نہ کھانا، نہ سونا اور نہ بولنا ملائکہ کی صفات ہیں جبکہ حیوانات کی صفات اسکے برعکس ہیں اور انسان دونوں (ملائکہ اور حیوانات) کے درمیان ہے ۔
پس انسانِ حقیقی (کامل) بن جا، انسانِ حیوانی (ناقص) نہ بن اور اسی مقصد کیلئے مذکورہ سات امور کے ساتھ مجاہدہ، ریاضت اور اﷲ تعالیٰ کے اسم ثالث ’’ھو‘‘ کا ذکر لازمی ٹھہرا لے کیونکہ یقینا اسمائے مبارکہ کیلئے خاصیتیں ہیں جن کا انکار ممکن نہیں پس اسم اول لا الہ الا اﷲ کی خاصیت یہ ہے کہ سالک جب اس ذکر پر مدوامت کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ جل جلالہ اسکے سینہ میں ایک ملکوتی چراغ روشن کر دیتا ہے جس کی روشنی میں وہ نفس امارہ کی تاریکی اور اس کی تمام برائیوں کو دیکھتا ہے تو مذکورہ سات امور کے ساتھ مجاہدہ کرتے ہوئے اس تاریکی اور ان برائیوں کو دوع کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
اسم ثانی ’’اﷲ‘‘ کی خاصیت یہ ہے کہ اس کے ذکر میں مشغول رہنے والا گناہوں کی تاریکیوں سے نکل کر اطاعت الٰہی کے نور کی طرف آ جاتا ہے۔ اسم ثالت’’ھو‘‘ کی خاصت یہ ہے کہ اس کے ذکر میں ہمہ تن مشغول رہنے والے کے قلب پر ایمان اور رب تعالیٰ کے مقدس عرفانی راستوں کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے نیز وہ دنیا کی حقیر لذتوں سے کنارہ کش ہو کر حیاتِ ابدی (دائمی زندگی) کی طرف راغب ہو جاتا ہے اور جان لے کہ ان تمام اسمائے مبارکہ کے خواص ذکر جہر مستعدی کے ساتھ بکثرت کرنے اور ذکر خفی ہمیشہ آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرنے سے ظاہر ہوتے ہیں اور ذکر کے آداب یہ ہیں کہ ذکر کرنے والا قبلہ رخ ہو اور اگر ممکن ہو تو ذاکر دو زانو ہو کر بیٹھے یا کھڑے ہو کر ذکر کرے نیز قلبی یکسوئی کے ساتھ اپنی سماعت کو ذکر کی طرف متوجہ رکھتے ہوئے ظاہری و باطنی طور پر مطابقت رکھے اور ہمیشہ باوضو رہے۔ پس جب تم ان آداب کو بجا لانے والے اور شریعت مطہرہ کو مضبوطی سے تھامنے والے ہو جاؤ تو تم اس وقت بھلائی پر ہو پھر کسی قسم کی سستی نہ کرو اور نہ ہی شریعت کے خلاف کوئی کام کرو جب تم پر فتوحات سخت ہو جائیں تو اس وقت یہ تیرے لئے ضروری ہیں اور اگر اس کا عرصہ طویل ہو جائے تو شریعت مطہرہ اور راہِ سلوک پر استقامت اختیار کیجئے اور بڑی عظمت کے ساتھ ذکر کیجئے اور ذکر کو اس حال تک پہنچا دیں گویا کہ تو اپنے اعضاء سے مخاطب ہے اس تصور کے ساتھ کہ تیرے وجود میں سوائے حق کے کچھ بھی نہیں ہے اور سوائے اﷲ تعالیٰ کے جو کچھ بھی ہے وہ اس کی صفات و افعال ہیں پس جب تم اپنے نفس کو اسی طرح مکلف (پابند) بنا لے اور اس پر قائم و دائم رہے تو تم پر ایک ایسا حال (کیفیت) طاری ہو گا جو کسی بھی وقت تجھ سے جدا نہ ہو گا اور یہی کیفیت اصل مقصود ہے اور اس صاحب حال سالک کیلئے کوئی بھی شے حق سے حجاب (رکاوٹ) نہیں بنتی اور یہ کمالِ مشاہدہ ہے۔
ساتواں باب
ساتواں باب نفس مطمئنہ کے متعلق ہے جس میں نفس مطمئنہ کی سیر، اسکے عالم (جہان)، محل (جگہ)، حال (کیفیت)، وارد اور صفات کا بیان ہے نیز اس مقام سے پانچویں مقام پر ترقی پانے کاذکر بھی ہے ۔
پس اس کی سیر اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور اس کا عالم حقیقت محمدیہ،محل اس کا سر (راز) ہے۔ حال اسکا اطمینان صادق ہے، اس کا وارد اسرارِ شریعت ہے اور اس کی جود (سخاوت)، توکل، حلم (بردباری) ، عبادت، شکر، احکام الٰہی پر راضی رہنا اور تکالیف و آزمائش میں صبر کرنا ہے اور سالک کے اس مقام پر داخل ہونے کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ظاہر و پوشیدہ کسی بھی حال میں متابعت شریعت سے منہ نہیں موڑتا۔
حضور نبی کریمکے اخلاق و اقوال کے بغیر نہ ہی لذت پاتا ہے اور نہ ہی اطمینان حاصل کرتا ہے ۔ (اتباع رسول میں اس کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے) کہ وہ کتاب میں پڑھے یا کسی سے سنے بغیر حضورکے ارشادات کی متابعت کرتا ہے اور کوئی بات بھی ان کے خلاف نہیں کرتا اس لئے وہ بغیر محسوسات کے سماعت کرتا ہے وہ کچھ جو اﷲ تبارک و تعالیٰ جل جلالہ اس کے قلب پر القا فرماتا ہے۔ یہ شرم و حیاء اور ادب و احترام کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے اور ہر وقت اس پر خشیت و ہیبت طاری رہتی ہے۔ عزت و وقار اور عوام الناس میں مقبولیت کا لباس اسے پہنا دیا جاتا ہے اور کون و مکان کی حقیقت اس پر ظاہر ہو جاتی ہے۔
پس سالک کیلئے اس مقام میں ضروری ہے کہ وہ خلوت (تنہائی) اختیار کرے اور اﷲ جل جلالہ کی طرف متوجہ ہو چونکہ تم اس وقت کمال کے ادنیٰ درجات پر ہو لہٰذا تمہارے لئے تمام اوقات میں مخلوق کے ساتھ ملنا مناسب نہیں اسلئے کہ راہِ سلوک کے باقی بلند مقامات تک تمہاری ترقی منقطع نہ ہو جائے پس جب تمہیں فائدہ تنہائی میں حاصل ہو تو یکسو ہو جاؤ اور جب مخلوق کے ساتھ ملنے میں فائدہ نظر آئے تو لوگوں سے ملاقات کرو اور عوام کے ساتھ ملاپ سے حاصل ہونے والے فائدہ کی نشانی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تجھے علم الصدور (علم لدنی) سے نہ کہ کتابی علم سے جو کچھ عطا کیا ہے آنے والے اس سے مستفیض ہوں۔
اس چوتھے مقام پر چوتھے اسم مبارک کے ساتھ مشغول ہو جا اور وہ اسم ’’الحق‘‘ ہے۔ حرف ندا کے ساتھ یعنی ’’یا حق‘‘ یا اس کے بغیر یعنی صرف ’’حق‘‘ پس اس اسم مبارک کا ذکر کثرت سے کیجئے اور اس دوران جو کچھ تم پر آشکارا ہو اس کی طرف توجہ نہ کر اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کر کہ تیرے لئے ایسی چیز ظاہر نہ فرمائے جو تجھے رب تعالیٰ کے حضور سے جدا کرنے کا سبب بن جائے۔ پس تم پر اس کی طرف سے جو کشف ہو گا وہ قربِ الٰہی سے تیری دوری کا ذریعہ بنے گا کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی قرب کی منازل میں وہی داخل ہو تا ہے جو عبد خاص ہو، جسے خوارقِ عادات اور اس قسم کی کوئی بھی چیز دھوکہ میں مبتلا نہیں کر سکتی۔
اور اس مقام پر جو حجابات باقی ہیں انہیں دور کرنے کیلئے اﷲ تبارک و تعالیٰ سے امداد و اعانت طلب کر پس بیشک اس مقام پر کرامات کی محبت اور ان کی طرف رغبت حجاب ہے کیونکہ سوائے اﷲ تعالیٰ کے باقی سب کچھ فتنہ (آزمائش) ہے لہٰذا اس فتنہ میں نہ پڑ اور غور و فکر سے کام لے نیز یہ بھی جان لے کر امت بذاتِ خود بری شے نہیں بلکہ یہ تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بندہ( ولی ) کیلئے اعزاز و انعام ہے لیکن کرامت کا طلب کرنا اور اس کی طرف رغبت رکھنا برائی ہے جو قربِ الٰہی سے بندہ کو منقطع کر دیتی ہے، وہ قربِ الٰہی جو بندگی کے بغیر حاصل نہیں ہوتا اور اس میں ربوبیت کے راز امانت رکھے گئے ہیں پس اس حقیقت کو پا لے اور حالات وقت میں سے ایک ہی حالت پر قرار نہ پکڑ کیونکہ پھر اسی ایک ہی حالت میں سے تمہارا حصہ ہو جائیگا۔
چنانچہ اے سالک! اس مقام پر مجاہدہ اور اوراد پر استقامت اختیار کر اور کبھی اس مقام میں مال و دولت کی محبت پیدا ہوتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت حاصل کی جائے یعنی اس دولت کو اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا جائے نیز اپنے بھائیوں کی مدد کی جائے تو یہ حب مال تمہارے لئے نقصان دہ نہ ہے لیکن چند شرائط کے ساتھ ان میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ تمہاری نیت امداد مذکورہ ہو یعنی اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اپنے پیر بھائیوں کی امداد و استعانت میں خرچ کرنا ، دوسری یہ کہ تیرا دل یادِ الٰہی سے غافل نہ ہو، تیسری شرط یہ ہے کہ مال و دولت کو لوگوں سے مخفی نہ رکھو اور ان پر یہ ظاہر نہ کرو کہ تم غریب ہو امیر نہیں ہو او رکبھی کبھی اس مقام میں امارت و شہرت کی طرف رغبت یوں پیدا ہوتی ہے کہ تیرا نفس تجھے اس گمان میں مبتلا کرتا ہے کہ تم اب مشائخ و ارشاد کی مسند اختیار کر لو۔
لوگ تمہارے پاس جمع ہوتے ہیں اور تمہارے ذریعہ انہیں ہدایت حاصل ہوتی ہے اور تمہیں اس کا ثواب ملے گا ۔ پس اس قسم کی کوئی شے (حالت) اختیار کرنے سے بچ جا کیونکہ در حقیقت یہ تمہارے نفس کا پیدا کردہ وسوسہ ہے اور یہ کہ اگر تمہاری اپنی کوشش اور خواہش کے بغیر اﷲ تبارک و تعالیٰ جل جلالہ تجھے شہرت عطا فرمائے اور شیخیت کا لباس پہنا کر مسند ارشاد پر فائز فرماوے تو اﷲ تبارک و تعالیٰ کے اس حکم پر کھڑا ہو جا یعنی مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے عمل میں مشغول ہو جا پس بیشک یہ تمہارے لئے یکسو رہنے سے بہتر ہے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس منصب پر فائز ہونے کی علامت یہ ہے کہ تو اپنے پیر بھائیوں کو محبوب ہو جائے اور وہ تمہیں نیز یہ بھی اس کی نشانیاں ہیں کہ تو ظاہر و باطن میں اپنے آپ کو اپنے پیر بھائیوں سے افضل نہ جانے بلکہ اپنے آپ پران کوفوقیت دے کہ وہ تم پر فضیلت رکھتے ہیں اور وہ تم سے بہت بہتر ہیں ۔ پس جب اپنے پیر بھائیوں کے ساتھ ایسا رویہ اپنا لے تو پھر انہیں نرمی کے ساتھ رشد و ہدایت کی تلقین کر اور انہیں خوش اسلوبی سے راہِ سلوک، عجز و انکساری اور فقیری کی تعلیم دے اور جب تو چوتھے مقام کو پہنچ جائے تو تم نے اطمینان کو پا لیا مگر اس مقام میں تم اصلاحِ طریقت نہیں کر سکتے کیونکہ اس وقت ہدایت و ارشاد کی شرائط تم میں موجود نہیں ہیں اور عنقریب کتاب کے خاتمہ میں ہم ان کا ذکر کریں گے، اگر اﷲ تعالیٰ نے چاہا، یہاں تک کہ تمہارا سلوک مکمل ہو جائے اور تم پانچویں مقام سے چھٹے اور پھر ساتوں مقام پر ترقی کر جاؤ۔
اور جان لو کہ چوتھے مقام کو تکمیل تک پہنچاؤ اس حال میں کہ کتاب و سنت پر استقامت حاصل رہے اور ان کی پیروی کرتے ہوئے ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی کمی نہ ہو بلکہ تیرے گوشت اور خون میں شریعت (محمدیہ)رچ بس گئی تو تم نے اﷲ تعالیٰ کے لطف و کرم سے کمال درجہ کا جذبہ پا لیا اور یہ جذبہ اول ہے جو سلوک کے پہلے درجہ میں سے ہے توتمہیں نسیان (بھول) کا سامنا کرنا پڑے گا اور تو دنیا و آخرت کے امور سے بے خبر ہو جائیگا اسلئے کہ تیرے دل میں سوائے اﷲ تعالیٰ کے جمال و جلال کے کچھ بھی نہیں اور اﷲ تعالیٰ جسے چاہے سیدھے راستہ کی ہدایت کرتا ہے۔
آٹھواں باب
یہ باب نفس راضیہ کے بیان میں ہے اور اس (نفس راضیہ) کی سیر، اسکے عالم (جہان)، محل (مقام)، حال (کیفیت)، وارد، صفات اور چھٹے مقام پر اس (نفس راضیہ) کے ترقی پانے کی کیفیت کا بیان ہے ۔
پس اس کی سیر سے مراد سیر فی اﷲ ہے اور اس کے عالم (جہان) سے مراد عالم لاہوت ہے اور اسکے محل (مقام) سے مراد سرالسر (رازوں کا راز) ہے اور اسکے حال (کیفیت) سے مراد فنائیت ہے لیکن اس فنائیت سے وہ معنی مراد نہیں ہیں جو چھٹے باب میں ذکر کئے گئے ہیں۔
جیسا کہ تو جان چکا ہے کہ حواس کا محسوسات کومعلوم نہ کرنے کا نام فنا ہے اور مقام فنائیت کی یہ کیفیت سلوک کے آخری درجہ پر پہنچے والے حضرات پر طاری ہوتی ہے اور اس مقام پر فنائیت سے مراد صفاتِ بشریہ کا محو (مٹنا) ہونا اور بقاء کی طرف بڑھنا ہے سوائے ’’بقاء فی الحال‘‘ کے جو اس بقاء کے بعد آتی ہے کیونکہ وہ فنا جس کے بعد ’’بقاء فی الحال‘‘ کا درجہ ہے تو وہ ساتویں مقام پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہے ۔
اور اس نفس (راضیہ) کیلئے اس مقام پر وارد کوئی نہیں ہے اسلئے کہ تواردات کا تعلق بقاء کے اوصاف سے ہے اور یہ بقاء کے اوصاف اس مقام پر سالک سے زائل ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے سالک کے بشری اوصاف تو فنا ہو تے ہیں لیکن ابھی وہ باقی باﷲ کے درجہ پر فائز نہیں ہوتا جیسا کہ ساتویں مقام پر ہوتا ہے یعنی باقی باﷲ کا یہ درجہ ساتویں مقام پر پہنچ کر حاصل ہوتا ہے اور اس کیفیت کو مرید از خود نہیں جان سکتا جب تک کہ اسے پیر کامل نہ سمجھائے اور اس سے وہ مرید مراد ہے جسے پیر کامل تربیت دیکر کمال کے حصول کیلئے تیار کر رہا ہے اور اس نفس (راضیہ) کی صفات یہ ہیں کہ سوائے اﷲ تعالیٰ کے باقی اشیاء سے زہد، ورع (پرہیزگاری) اور نسیان (بھول) اختیار کرنا جو کچھ میسر ہو اسی پر راضی رہنا بغیر کسی قسم کے قلبی اضطراب کے اور کسی نا پسندیدہ چیز کو اپنے نفس سے دور کرنے کی طرف متوجہ نہ ہونا اور اسے کسی بھی شخص پر اعتراض نہیں ہوتا اسلئے کہ وہ ہر وقت جمالِ حق کے مشاہدہ میں ڈوبا رہتا ہے لیکن اسکی یہ کیفیت استغراق مخلوق کی رشد و ہدایت، انہیں نیکی کی ترغیب دینے اور برائیوں سے منع کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتی اور جو بھی اس کے ارشادات سنتا ہے اس سے نفع پاتا ہے اور اسکا دل اﷲ تعالیٰ (کی یاد) کے ساتھ مشغول رہتا ہے ۔
اور اس (نفس راضیہ) کا عالم (جہان) لاہوت ہے اور اس کا سر (راز) بھیدوں میں سے ایک بھید ہے اور اس مقام پر فائز سالک اﷲ تعالیٰ کی محبت کے سمندر میں انتہائی ادب کے ساتھ مستغرق رہتا ہے اور اس کی دعا ہر وقت قبول کی جاتی ہے مگر شان یہ ہے کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کے حیاء و ادب کی بدولت اس کی زبان پر کوئی سوال آتا ہی نہیں لیکن جب وہ مضطرب (بے چین) ہو کر دعا کرتا ہے تو اس کی دعا رد نہیں ہوتی چنانچہ وہ (سالک) لوگوں کا منظورِ نظر اور محبوب بن جاتا ہے اور چھوٹوں بڑوں کے نزدیک قابل احترام ہو جاتا ہے اسلئے کہ اس کی یہ مقبولیت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ندا کی گئی ہے کہ ’’بیشک آج کے دن تو ہمارے حضور امین (امانت ) کے مرتبہ پر فائز ہے‘‘۔
لہٰذا اس کی تعظیم لوگوں پر لازم ہوئی حالانکہ ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں اس کی تعظیم و تکریم کر رہے ہیں تو اسے (سالک کو) چاہئے کہ وہ ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہو خصوصاً ان میں سے ظالموں کی طرف تاکہ ان کی آتش مزاجی (سرکشی) اس پر اثر انداز نہ ہو خاص طور پر اس وقت جبکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بھلائی کریں اور وہ نادار ہو اسلئے کہ نیکی کرنے والے کے ساتھ دلوں میں خود بخود کشش پیدا ہوتی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے ان لوگوں کی طرف رغبت نہ کرو جو ظالم ہیں تم بھی آگ کی لپیٹ میں آ جاؤ گے۔
پس (اے سالک) اپنے رب تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ مشغول رہ اور ان لوگوں کی طرف التفات نہ کر اور جس قدر تو نے ان سے اعراض کیا اور اپنے رب تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہا تو تمہاری طرف ان کی رغبت بڑھ جائے گی اور ان کے مال و دولت میں تمہارا حصہ مقرر کیا گیا ہے وہ ان کی طرف متوجہ ہونے اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس کی امید و آرزو کرنے کے بغیر بھی تمہیں ملے گا اور تو اس وجہ سے ان سے اعراض نہ کر کہ وہ تمہاری طرف متوجہ ہیں بلکہ اپنے رب تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ مشغول رہنے کی وجہ سے اگر تو اس مقام پر پہنچ جائے اور تم پر نفسانی وسوسوں کا خوف نہ ہو مگر (حقیقت یہ ہے کہ ) خوف سے سلامتی حاصل ہوتی ہے لہٰذا حذر کر (بچ جا) اور ڈر چنانچہ اپنے پاس لوگوں کے ہجوم اور ان کی محبت سے غرور نہ کر۔
سچ تو یہ ہے کہ جو اس مقام کا حاصل کرنے والا ہے وہ اﷲ تعالیٰ جل جلالہ کے سوا کسی اور طرف نہ رغبت رکھتا ہے اور نہ ہی متوجہ ہوتا ہے لیکن جب تو اپنے نفس میں اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی دوسری طرف کشش محسوس کرے تو جان لے کہ تو ابھی اس مقام کو حاصل نہیں کر سکا۔
اور یقینا جو شخص باطنی حکومت سے مشرف کیا گیا ہو جس میں تمام ظہور اس کے ما تحت ہو جاتے ہیں تو ایسے (انعام و اکرام کا حامل) شخص کیلئے ظہور کی طرف کیسے رغبت اور اعتماد پیدا ہو سکتا ہے لہٰذا اس مقام پر پانچویں اسم کے ذکر کے ساتھ مشغول ہو جا جوکہ اسم ’’الحی‘‘ ہے اور اس کا ذکر کثرت سے کر تاکہ (اس کی برکت سے) تیری فنائیت (بے خبری) دور ہو جائے اور تجھے اس ’’حی‘‘ کے ساتھ (مقام) بقا ء حاصل ہو جائے اور تو اس شغل کے ساتھ چھٹے مقام میں داخل ہو جائیگا اور منازلِ حبیب کے مقام کے حصول کی طرف ترقی (عروج) حاصل کر لے گا اور وہ (حبیب) اﷲ تبارک و تعالیٰ ہے اور خوب اچھی طرح جان لے کہ اﷲ تعالیٰ کے اسمائے مبارک میں سے ایسے اسمائے مبارکہ بھی ہیں جن کو فروع کہا جاتا ہے ۔ ان اسمائے مبارکہ میں سے وہابُ، فتاحُ، واحدُ، احدُ اور صمدُ ہیں پس اسم ’’حی‘‘ کے ساتھ اسم مبارک فتاحُ یا وہابُ کے ذکر میں مشغول ہو جائیں تاکہ تمہیں چھٹے مقام کے حصول میں آسانی رہے جس کی تجھے انتہائی ضرورت ہے اور اس مقام میں تجھے (اﷲ تعالیٰ) کے عجائبات میں سے عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں گی۔
نواں باب
یہ باب نہم نفس مرضیہ اس کی سیر، عالم، محل، حال، وارد اور صفات کے بیان میں ہے نیز اس مقام سے نکل کر ساتویں مقام تک پہنچنے کا ذکر ہے پس اس (نفس مرضیہ) کی سیر اﷲ تعالیٰ سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اس سالک نے اﷲ تعالیٰ کی جناب سے وہ علوم حاصل کر لئے ہیں جن کی اسے ضرورت ہے اور اس نے اﷲ تعالیٰ کے حکم سے عالم شہادت (موجودہ دنیا) کی طرف رجوع کیا ہے تاکہ مخلوق خدا کو فیض پہنچائے اور اس کا عالم (جہان) عالم شہادت ہے اور محل اس کا خفاء (پوشیدہ) اور حال اس کا حیرت ہے اور وارد اس کی شریعت ہے اور صفات اس کی خوش خلقی، ماسویٰ اﷲ (اﷲ تعالیٰ کے سوا سب کچھ) کو چھوڑ دینا، لوگوں کے ساتھ مہربانی کرنا، انہیں بھلائی پر آمادہ کرنا، ان کے گناہوں سے صرف نظر کرنا (معاف کرنا)، ان سے محبت کرنا اور ان کی طرف میلان کرنا تاکہ انہیں نفس کی ظلمتوں (اندھیروں) سے نکال کر روح کے انوار کی طرف لائے اور اس کا لوگوں کی طرف مائل ہونا نفس امارہ کے میلان کی طرح قابل مذمت نہیں۔ نیز اس کی صفات میں خالق و مخلوق کی محبت کا ایک جگہ جمع ہونا ہے جو بڑی عجیب چیز ہے اور سوائے اس مقام کے حامل سالک کے کسی اور کویہ حاصل نہیں ہوتی ۔ نیز ظاہری طور پر تو عام لوگوں سے اس صفات کی الگ شناخت نہیں جا سکتی لیکن جہاں تک باطنی کیفیت کا تعلق ہے تو یہ سالک ابرار (پرہیزگاروں) کا مرکز اور خیار (نیکوکاروں) کا پیشوا ہے اور اس کے حضور قلب میں اغیار نہیں ہوتے یعنی ہر وقت اس کے دل میں اﷲ تبارک و تعالیٰ کی یاد جاری و ساری رہتی ہے اور وہ علم قالی (ظاہری) کی بجائے علم حالی (روحانی) کے دائرہ میں رہتا ہے اور اس کا حال حیرت مقبولہ ہے اور یہ وہ حیرت ہے جسکی طرف جناب نبی کریم نے اپنے اس ارشاد گرامی قدر میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’اے میرے پروردگار اپنے متعلق میری حیرت میں اضافہ فرما‘‘۔ یہ وہ ناکارہ حیرت نہیں جو سلوک کی ابتداء میں پیش آتی ہے اور پھر اس مقام پر رکھنا اور موقع محل کے مناسب کثرت سے مال و دولت خرچ کرنا یہاں تک کہ جاہل یہ گمان کرتا ہے کہ یہ تو اسراف (زیادتی) کرتا ہے اور اگر ضرورت نہ ہو تو تھوڑی چیز پر اکتفا کرتا ہے یہاں تک کہ جاہل گمان کرتا ہے کہ یہ تو انتہائی کنجوس ہے ۔
چنانچہ اس طرح وہ بلا ضرورت خرچ کر کے اپنے خوشامدیوں میں اضافہ نہیں کرتا اور یہ کامل ترین سالکین کے احوال ہیں اور اس کے اوصافِ حسنہ میں سے ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے تمام امور میں درمیانی حالت (اعتدال) پر رہتا ہے جو افراط (زیادتی) اور تفریط (کمی) کے وسط میں ہے اور اس مقام کے حامل سالک کے علاوہ کوئی بھی اس پر قائم نہیں رہ سکتا اگرچہ زبان سے کہہ دینا تو بڑاآسان ہے لیکن عملی لحاظ سے آزمائش میں پورا اترنا بہت گراں ہے اور ہر ایک کیلئے یہ میانہ روی اختیار کرنا لازمی ہے لیکن یہ بڑاکٹھن کام ہے اور ہر شخص اس پر قادر نہیں ہو سکتا۔
اور خوب اچھی جان لینا چاہئے کہ اس مقام کے اوائل میں اس (سالک) پر خلافت کبریٰ کی بشارت ظاہر کی جاتی یہ اور اس مقام کے آخر میں اسے خلافت کبریٰ کی خلاعت (عزت افزائی) سے نواز دیا جاتا ہے اور یہ وہی خلاعت ہے جس کی طرف حدیث قدسی میں اشارہ کیا گیا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ بیشک وہ (سالک) میری سماعت (بلاکیف) سے سنتا ہے میری بصارت (بلاکیف) سے دیکھتا ہے، میری پکڑ (بلا کیف) سے پکڑتا ہے اور میرے چلنے (بلاکیف) سے چلتا ہے ۔
اور اس سے مراد یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی مدد سے سالک کیلئے یہ تاثیر (قوت) پیدا ہو جاتی ہے۔ اس برے گمان اور عقیدہ سے بچو کہ گویا تم حق تعالیٰ بن گئے ہو جیسا کہ فرقہ ملاحدہ والوں کا عقیدہ ہے جو اکابر صوفیاء کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین خصوصاًحضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی کتابیں پڑھ کر گمراہ ہو جاتے ہیں اور ان کے مقصد و مفہوم کو نہیں سمجھ پاتے حالانکہ آپ نے شریعت محمدیہ سے کبھی تجاوز نہیں کیا لیکن ان کا مطالعہ کرنے والے تشویش میں مبتلا ہیں۔
اور تحقیق یہ وہی درجہ ہے کہ سالک جب مقام پنجم پر پہنچ کر فناءِ مذکورہ میں داخل ہوتا ہے تو اسکی ناکارہ صفات ،ریاضات و مجاہدات کے ذریعہ ختم ہو جاتی ہیں اور اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے صفاتِ حسنہ عطا فرماتا ہے جو اﷲ تعالیٰ کے حکم سے نہایت مؤثر ہوتی ہیں اور یہ وہ ’’حق الیقین‘‘ کا مرتبہ ہے جس کا ذکر اس کتاب کے مقدمہ میں کیا گیاہے۔
نیز یہ بھی جان لینا چاہئے کہ سلوک کے آخری مقامات پر سالک ’’حقیقت محمدیہ ‘‘ کی رسائی حاصل کرتا ہے، یہی سر اعظم (عظیم راز) ہے اور یہ قرب الٰہی کا انتہائی مقام ہے۔ سالک جب اس مقام پر فائز ہوجائے تو اس کی خالص بندگی اور عجز و انکساری ثابت ہو جاتی ہے اور وہ اپنے نفس کے ان اوصاف کو جان لیتا ہے ۔پس وہ اوصاف ربوبیت کے ساتھ اپنے رب تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے اسلئے جو اپنے نفس کی ناپائیداری اور پستی سے واقف ہو جائے وہ رب تعالیٰ کی صفات بقا اور عزت سے آگاہ ہو جاتا ہے۔
چنانچہ جب کبھی وہ اپنے پروردگار کی شانِ ربوبیت و عظمت کی معرفت حاصل کر لے اور اپنے نفس کی عاجزی اور ذلت کی صفات سے بھی آگاہ ہو جائے تو علم اسرارِ الٰہی کا عالم (عارف) بن جاتا ہے، یہ علم اسرارِ الٰہی اشیاء کی حقیقتوں میں بطورِ امانت ایک گہرے راز کی مانند پایا جاتا ہے اس کو بیان کرنے کیلئے عبارات کا دامن بہت تنگ ہے ۔
لہٰذا جب کبھی تم پر یہ ’’حقیقت محمدیہ ‘‘ ظاہر ہو جائے اور سالکین کی سب سے بڑی طلب یہی ہوتی ہے اور کاملین کو تمام موجودات میں یہی بہت عزیز ہوتی ہے تو اس کی طلب میں کوشش کرو۔ شریعت مطہرہ کے دامن کو مضبوطی سے تھام کر طریقت کے مجاہدات پر استقامت اختیار کرو اور اﷲ تعالیٰ کے چھٹے اسم مبارک ’’القیوم‘‘ کا ورد کرو تو تمہاری برائیاں نیکیوں میں تبدیل ہو جائیں گی اور ہمیشہ شریعت و طریقت اور حقیقت کے آداب کا لحاظ رکھو یہاں تک کہ ساتویں مقام پر منتقل ہو جاؤ اس حال میں کہ تم عالم، عارف اور ثابت رہو ’’حقیقت محمدیہ ‘‘ کے ساتھ اور اﷲ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔
دسواں باب
دسویں باب میں نفس کامل، اس کی سیر، اس کے عالم (جہان) اسکے محل (مقام)، اس کے حال (کیفیت)، اس کی وارد اور اس کی صفات کا بیان ہے ۔پس اس کی سیر اﷲ تعالیٰ کی معرفت ہے اور اسکا عالم کثرت میں وحدت اور وحدت میں کثرت ہے اور اسکا محل اخفیٰ ہے اور اسکا حال بقا ء ہے اور اسکے واردوہ سب ہیں جن کا ذکر مختلف نفوس کی صفات کے تحت بیان کیا گیا ہے اور اس مقام پر یہ سالک کامل، اﷲ کے اسم ’’قہار‘‘ کے ورد میں مشغول رہتا ہے ۔
اور یہ ساتواں مقام بہت ہی عظیم ترین مقام ہے اسلئے کہ یہاں پر اس کی باطنی سلطنت اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی مجاہدات بھی پورے ہو جاتے ہیں اور اس مقام پر فائز کامل سالک، اﷲ تعالیٰ کی رِضا کے سوا کچھ بھی نہیں چاہتا، اس کی حرکتیں اس کی نیکیاں اور اس کے سانس قدرت، حکمت اور عبادت ہوتے ہیں اور جب بھی لوگ اسے دیکھیں تو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ وہ اﷲ تعالیٰ کا ولی ہوتا ہے بلکہ ولی اﷲ تو وہ چوتھے مقام پر ہی ہو جاتا ہے اسلئے کہ یہ (چوتھا مقام) عام اولیاء اﷲ کا مقام ہے پانچواں خاص اولیاء اﷲ کا مقام ہے چھٹا خاص الخواص اولیاء اﷲ کا مقام ہے اور ساتواں مقربین اولیاء اﷲ کا مقام ہے ۔
اور خوب اچھی طرح جان لے کہ اسم ’’قہار‘‘ اﷲ تعالیٰ کے اسماء میں سے وہ اسم مبارک ہے کہ جس کے ذکر میں ہر وقت صاحب ارشاد ’’غوث‘‘ کے لقب سے مشہور ہوتا ہے جو اس اسم مبارک کے فیوض و برکات سے اپنے مریدوں کو انوار و ہدایات سے بہرہ مندہ فرما کر خوشخبریوں سے نوازتا ہے حضرات صوفیائے کرام نے فرمایا کہ مریدین کے دلوں میں بغیر کسی قسم کے ظاہری سبب کے سرور و انبساط اور اطمینان کے جو جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ ’’قطب‘‘ کی مدد (عنایت) ہوتی ہے اوریہ ان مریدین کی اپنے رب تعالیٰ کے اذکار اور اسکی طرف کشش و محبت کی بدولت ہوتی ہے۔
نیز اس کامل سالک کی بعض صفات یہ ہیں کہ عباد ت میں سستی نہیں کرتا اور عبادت میں یا تو اس کا پورا جسم شامل ہوتا ہے یا زبان یا قلب یا ہاتھ یا پاؤں یہ کثیر الاستغفار اور کثیر التواضع ہوتا ہے یعنی اﷲ تعالیٰ سے بہت زیادہ بخشش طلب کرتا ہے اور مخلوق کے ساتھ بہت زیادہ عاجزی سے پیش آتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی طرف لوگوں کی رغبت سے اسے خوشی و تسکین حاصل ہوتی ہے جبکہ اﷲ تعالیٰ کی جناب سے لوگوں کی غفلت اسے حزن و ملال میں مبتلا کر دیتی ہے اور حق تعالیٰ کے طالب سے پنی اولاد کی نسبت بڑھ کر محبت کرتا ہے۔ یہ بہت زیادہ دردوں والا ہوتا ہے یعنی تمام بنی نوع انسان کا درد اس کے دل میں موجود ہوتا ہے۔
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
اور قلیل الحرکت ہوتا ہے یعنی اس کا قیام زیادہ تر ایک ہی جگہ پر ہوتا ہے اور مخلوقاتِ الٰہی میں سے کسی بھی مخلوق کی نفرت اسکے دل میں نہیں ہوتی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے۔ صرف اسی سے نفرت کا اظہار کرتا ہے جو واقعی نفرت کرنے کا مستحق ہوتا اور اہل محبت کے ساتھ محبت فرماتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی راہ میں کسی بھی ملامت کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتا عین غضب کی حالت میں راضی رہتا ہے اور عین رِضا کی حالت میں غصہ ہوتا ہے لیکن ہر ایک شے کو اپنے محل میں مناسب مقام پر رکھتا ہے اور جب اس کی ہمت کسی چیز کی طرف متوجہ ہو جائے تو اﷲ تعالیٰ اس کی آرزو کے موافق مہیا فرما دیتا ہے بیشک اﷲ تعالیٰ جسے چاہے سیدھی راہ کی ہدایت فرماتا ہے۔
اس کتاب کا خاتمہ مرشد اور اسکے احوال کے بیان میں ہے اور اس کے ذریعہ شناخت کی جا سکتی ہے اس شخص کی جو ارشاد کے قابل ہے اور اس کی بھی جو ارشاد کے لائق نہیں یعنی جو پیر و مرشد بننے کے مستحق ہیں اور جو نہیں ان دونوں کی پہچان اس کتاب کے خاتمہ کے مطالعہ کے بعد کی جا سکتی ہے اور مرشد کے احوال جاننا نہایت ضروری ہے کیونکہ کبھی کبھار ایسا آدمی بھی مرشد ہونے کی کوشش کرتا ہے جو اس کا اہل نہیں ہوتا پس یہ خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور اپنے ہمراہ دوسرں و کو بھی گمراہ کرتا ہے ۔
لہٰذا اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو بھی مرشد بننے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے فقہ اور عقائد اہلسنّت میں سے ان مسائل کا علم ہونا چاہئے جن کی مریدوں کو ضرورت پڑتی ہے اگرچہ وہ ان دونوں علوم میں انتہائی رسوخ نہ رکھتا ہو لیکن اسے ان کا اس قدر علم ضرور ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مرید کے ابتدائی حالت میں پیش آنے والے شبہات کو دور کر سکے۔
اور یہ کہ وہ قلب کے کمالات کا علم رکھتا ہو، نفس کی برائیوں، اس کی بیماریوں اور اس کا علاج جانتا ہو نیز قلبی صحت کی حفاظت اور دل کو اعتدال پر رکھنے کے طریقوں سے آگاہ ہو اور یہ کہ وہ لوگوں پر بالعموم اور اپنے مریدین پر بالخصوص مشفق و مہربان ہو اور یہ کہ وہ ان کا خیر خواہ ہو اور کچھ عرصہ تک مرید کو اپنی صحبت میں رکھنے کے بعد اس کا جائزہ لے اگر وہ اس مرید کو سلوک کے قابل پائے تو اسے راہ طریقت پر چلائے اور اسکے سلوک کو زینت بخشے یعنی راہِ حق پر چلنے میں اس کی رہنمائی فرمائے۔ اسبابِ دنیا کے ترک کرنے میں مال یا دیگر طریقہ سے اس کی ہر ممکن مدد فرمائے۔
اور اگر مرشد مرید کو سلوک کے لائق نہ پائے تو اسے دنیا کے کام کی طرف واپس لوٹائے اگر اس کا کوئی کاروبار وغیرہ ہو اور اس کا کوئی روزگار نہ ہو تو اسے اپنی طرف سے کچھ دے تاکہ وہ کچھ کام کر سکے کیونکہ اﷲ تبارک و تعالیٰ بے کار آدمی کو ہرگز پسند نہیں فرماتا اور یہ کہ مرید جو کچھ مرشد کے سامنے بیان کریں تو وہ ان کی پردہ پوشی فرمائے اور یہ کہ مرشد اپنے نفس کے معاملہ میں بے پرواہ ہو وہ غصہ کا اظہار صرف اﷲ تبارک و تعالیٰ جل جلالہ کی ذات اقدس کیلئے فرمائے نیز ہر قسم کے لذیذ کھانے اور نرم و سخت لباس اس کے نزدیک یکساں حیثیت رکھتے ہوں اور وہ صوف (اون) یا دیگر لباس میں کوئی فرق نہ کرے۔
اور یہ کہ وہ تمام احوال جیسے بھوک، پیاس، نیند اور بیداری میں میانہ روی اختیار فرمائے اور یقینا یہ درجہ کمال پر فائز متقین کے اوصاف ہیں اور ان پر صرف یہی مردانِ کامل قدرت رکھتے ہیں اور یہ کہ جو ان اوصافِ (حمیدہ) کے حامل نہ ہو تو وہ مرشد بننے کے لائق نہیں اسلئے کہ (مرشد کیلئے تو) مناسب یہی ہے کہ اس کے غصہ میں حلم اور قہر میں لطف کی آمیزش ہو۔
اور جو مرید سلوک طریقت کا اہل ہو تو اس کا نفس بھوک، پیاس، شب بیداری اور مخلوق سے یکسوئی کا عادی ہوتا ہے اور جب کبھی اسے اپنے بھائیوں میں سے کسی کی طرف سے تکلیف پہنچے تو وہ ایذا پہنچانے والے کی بجائے اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے اور اپنے نفس کے خلاف دلیل قائم کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر میں قصور وار نہ ہوتا تو اﷲ تعالیٰ کبھی میرے بھائی کو مجھے دکھ دینے کی طاقت عطا نہ کرتا اور یہ کہ وہ ہمیشہ اپنے نفس کو ہی خطا وار سمجھے گا چنانچہ جب کوئی شخص اسے گالی دے گا تو جواباً گالی دینے کی بجائے یہ اپنے نفس کو ملزم ٹھہرائے گا اور اگر کوئی بھی آدمی اسے دکھ دے گا تو یہ اسے دکھ پہنچانے کی بجائے اپنے آپ کو ملامت کرے گا ۔
نیز اگر سلوک کے دوران اس پر بسط (فراخی) اور رجا (امید) کی کیفیت طاری ہو تو آدابِ طریقت کی کمی کی وجہ سے اسے اس حالت پر خوش نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس سے پرہیز کرنا چائے اور اﷲ تبارک و تعالیٰ سے اس حالت کے بدلنے کی دعا کرنی چاہئے اسلئے کہ اس مقام پر اس کی سلامتی حالت قبض اور خوف میں ہے اور ان حالتوں (قبض و خوف) میں مرید کیلئے کوئی خطرہ نہیں ہوتا لیکن جو لوگ طریقت سے بے خبر ہیں ان پر یہ حالتیں بہت گراں گزرتی ہیں حالانکہ عارف مرید بسط کی حالت میں اس طرح خوفزدہ رہتا ہے جس طرح کہ رنج و الم سے ڈرتا ہے جبکہ قبض کی حالت میں وہ لذت پاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ حالت بسط میں ظاہری آبادی اور باطنی بربادی ہے لیکن حالت قبض میں نفس خبیثہ (امارہ) کی بری صفات کی تباہی اور باطنی سیرت کی آراستگی ہے ۔
اور اگر کوئی مرید یہ کہے کہ میں حالت بسط میں اﷲ جل جلالہ کی حضوری، مناجات، مراقبات اور مشاہدہ کی کیفیات سے بہرہ مند ہوتا ہوں جبکہ حالت قبض میں ان میں سے کچھ بھی نہیں پاتا تو جان لو کہ یہ مرید جو دعویٰ کر رہا ہے اس کا اہل ہرگز نہیں اسے نہ تو اﷲ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے او رنہ ہی یہ اپنے نفس کی کیفیت سے واقف اسلئے کہ حالت حضوری میں حق تعالیٰ کے سوا سب کچھ غائب ہو جاتا ہے اور حالت قبض میں ہی انسان سے ماسویٰ اﷲ غائب ہوتے ہیں۔ نیز حالت بسط میں سالک پر خوشی طاری رہتی ہے لیکن اﷲ تبارک و تعالیٰ کی شان قدرت یہ ہے کہ وہ خوش و خرم دل کی بجائے قلب حزیں (غمزدہ دل) کو پسند فرماتا ہے ۔
اگرچہ دل کی یہ شادمانی اﷲ تعالیٰ کی جانب سے ہی ہو اور یہ کہ مرید کا دل غمگین ہونا چاہئے اور سر عجز و انکساری سے جھکا ہوا ہو اسے ظاہر و باطن میں اﷲ جل جلالہ سے تزکیہ نفس طلب کرنا چاہئے اور اگر اس سے طریقت کے خلاف کوئی قول و فعل صادر ہو جائے تو اسے مرشد کے سامنے بیان کرنا چاہئے اور مرشد سے کچھ بھی نہیں چھپانا چاہئے پس جب مرید اوصاف (حسنہ) سے متصف ہو جائے تو پھر وہ سلوک کے قابل ہو جاتا ہے اگرچہ اس میں کچھ اوصافِ ذمیمہ بھی پائے جائیں۔
اور جب مرید اپنے نفس کی موافقت کرے اور اس کی مرضی پر چلے۔ نیز جب کبھی اسے اپنے بھائیوں میں سے کسی کی طرف سے تکلیف پہنچے تو وہ اپنے نفس کی امدد و حمایت کرے تو یہ طریقت کے لائق نہیں بلکہ وہ طریقت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکتا ۔ پس شیخ پر واجب ہے کہ وہ اسے دنیاوی کام کی طرف واپس لوٹا دے کیونکہ نفس (امارہ) اور اس کی عادت کی مخالفت طریقت کی بنیادہے لہٰذا اگر اس بنیاد کے بغیر طریقت کا آغاز کیا جائے تو کبھی کامیابی نصیب نہ ہو گی اور اس گفتگو سے یہ لازم (مراد) نہیں ہے کہ جو مرید طریقت کا اہل ہو گا تو اس سے کبھی کوئی برائی سرزد نہیں ہو گی بلکہ بعض اوقات اس سے بھی قبیح افعال کا صدور ہو سکتا ہے اسلئے وہ ابھی (درجہ) کمال کو نہیں پہنچا بلکہ کامل ہونے کی طلب اور حصول میں کوشاں ہے۔ چنانچہ اس عرصہ میں اسے اعمالِ قبیحہ کا صدور ممکن ہے اور اس بیان سے ہماری مراد یہ ہے کہ جب اس سے کوئی مکروہ فعل ظہور پزیر ہوتا ہے تو وہ اس پر خوش ہونے کی بجائے اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اس پر حجت قائم کرتا ہے اور اس کی تائید و حمایت میں کسی بھی قسم کے ظاہری و پوشیدہ سبب کو پیش نہیں کرتا۔
اور اسی طرح مرشد جب دیکھے کہ مرید مجاہدات و ریاضات کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے دنیاوی کام کی طرف واپس لوٹا دے۔ اگر مرشد ایسے مرید کو کام کاج کا حکم نہیں کرتا تو وہ بددیانتی کا مرتکب ہوتا ہے حالانکہ مرشد سے بددیانتی کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ حضور نبی کریمنے ارشاد فرمایا ’’جو بد دیانتی کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں‘‘ ۔
البتہ اگر مرشد کو خادم کی ضرورت ہو تو وہ ریاضات و مجاہدات کی طاقت نہ رکھنے والے فقراء میں سے کسی کو اپنی خدمت پر مامور کر سکتا ہے لیکن مرشد کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اسے یہ بات سمجھا دے کہ وہ (خادم) اہل طریقت کے مقربین سالکوں میں سے نہیں ہے کیونکہ ان مقربین کی طریقت کا دارومدار ریاضات و مجاہدات پر ہے۔
لہٰذا مرید کیلئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے نفس کی کیفیت کودیکھے کہ کیا اس میں اہل مرید کے اوصاف موجود ہیں یا نہیں پھر مرشد کے احوال پر نظر ڈالے کہ مرشد کے اوصاف ذکر کئے گئے ہیں ۔ یہ ان اوصاف سے متصف ہے اگر اپنے آپ کو اور مرشد کو بھی ان اوصاف سے آراستہ پائے تو پھر اس پر لازمی ہے کہ وہ سلوک کی راہ اختیار کرے، طبیعت کی قید سے خلاصی حاصل کرے اور کامل ترین صفات کی طرف ترقی پانے کی کوشش کرے۔ اگر اس میں مدتِ مدید لگ جائے تو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ مقامِ طریقت کے حصول کیلئے یہ ضروری ہے ۔
پس اگر کوئی اپنے آپ میں اہل مرید ہونے کی صفات پا لے لیکن اسے مرشد کامل میسر نہ ہو تو وہ وہ شریعت مطہرہ کو مضبوطی سے تھام کر از خود سلوک پر چلنا شرع کر دے۔ حضور نبی کریمکی احادیث مبارکہ، اخلاقِ عالیہ اور اسوۂ حسنہ کا مطالعہ کرے اور شریعت پر کاربند رہتے ہوئے آپکے اخلاق و اوصاف کو اپناتا چلا جائے۔
یہ بھی جان لینا چاہئے کہ شیطان ایسے مرید سے ایک لمحہ کیلئے بھی غافل نہیں ہوتا اور اس پر قابو پانے کیلئے وہ بے شماردروازوں سے اس پر حملہ آور ہوتا رہتا ہے، ان میں سے چند دروازے یہ ہیں جن سے ہوتے ہوئے شیطان اس کے پاس آتا ہے یعنی ان طریقوں سے شیطان اس کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے ۔
جب تک مرید نفس امارہ کے مقام پر ہوتا ہے تو شیطان آکر اسے کہتا ہے کہ تجھے اس طریقت پر چلنے سے کیا حاصل ہو گا کیونکہ اہل طریقت حضرات فوت ہو چکے ہیں اور انہوں نے سوائے عبادت کے باقی کچھ بھی نہیں چھوڑا اور نہ ہی وہ صاحبانِ حال و کرامت رہے ہیں جبکہ سب انتقال کر گئے پس تم ان (موجودہ مشائخ) سے الگ ہو جاؤ اور ظاہری شریعت پر چلو۔
پس اگر مرید نے شیطان کی اس بات پر توجہ دی اور پست ہمت ہو کر سلوک سے منہ پھیر لیا ،لعین (شیطان) پھر اس کے پاس آ کر اسے کہتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ یہ پسند فرماتا ہے کہ اس کی طرف دی گئی رخصت پر عمل کیا جائے اور اﷲ تعالیٰ اپنی نافرمانی کو ہرگز پسند نہیں فرماتا۔
لہٰذا اپنے نفس پر ؟؟؟نہ کرو کیونکہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ دین میں تم پر کسی قسم کی سختی نہیں ہے چنانچہ جب مرید باتیں سن کر رخصت پر عمل پیرا ہوتا ہے تو شبہات میں پڑ جاتا ہے جو حرام و حلال کے درمیان ہوتے ہیں اور جو شبہات میں پڑ جائے تو وہ حرام کے حصار میں آ کر اس کے قریب ہو جاتا ہے اور شبہات میں پڑنے کے باعث قلب پر ظلمت چھا جاتی ہے اور جب دل سیاہ ہو جائے تو وہ حرام میں پھنس جاتا ہے وہ حرام میں گرفتار ہو کر ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو جاتا ہے ۔
اسلئے جس نے حرام سے اپنا پیٹ بھرا تو اسکے دل میں حرام فعل ہی کے ارتکاب کا خیال ہوتا ہے ،جب وہ بولتا ہے تو غیبت کرتا ہے، چغلی کھاتا اور اسی طرح کے دیگر برے خیالات اور خرابات اس سے ظہور پزیر ہوتی ہیں۔ جب ہاتھ کو حرکت دیتا ہے تو اسے حرام کام کی طرف بڑھاتا ہے ،تو قدم اٹھاتا ہے تو حرام کی طرف چلتا ہے جب کوئی آواز سنتا ہے تو حرام ہی کی طرف کان دھرتا ہے، شیطان تو یہی چاہتا ہے۔
نیز شیطان جن دروازوں سے مرید پر حملہ آور ہوتا ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ مرید جو اعمال کرتے ہیں شیطان انہیں بہت آراستہ اور خوشنما بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور ان کے دلوں میں خودبینی پیدا کر دیتا ہے پھر انہیں یہ بھی کہتا ہے کہ تم نے نہایت ہی صحیح عمل کئے ہیں۔ تمہیں علم کی کوئی حاجت نہیں اوریہ تمہیں علماء کی نصیحت کی ضرورت ہے اسلئے کہ علماء کی نصیحت کو قبول نہیں کرتے اور جتنا تم جانتے ہو اس علم کا دسواں حصہ بھی علماء کو حاصل نہیں تو تم ان کی نصیحت کو سنو۔ جب یہ خود بینی ان کے دلوں پر جم جاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو اعلیٰ اور دوسرے کو ادنیٰ سمجھنے لگتے ہیں اور لوگوں کے متعلق برا گمان کرنے لگتے ہیں۔ علماء کے وعظ و نصیحت پر نہیں دیتے جس کے باعث جہالت کے سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں اس کی ہم اﷲ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں۔
اور شیطان جن دروازوں سے حملہ آور ہوتا ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے پاس آکر کہتا ہے کہ تم کیسے نیکی کا دعویٰ کرتے ہوئے نیز اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبولکی محبت کا دم بھرتے ہو جبکہ تم نے حج بیت اﷲ اور آنحضرتکے روضہ اقدس کی زیارت کی حالانکہ یہ محبت کرنے والوں کی شان کے خلاف ہے۔ لہٰذا اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اور حج کیلئے روانہ ہو جاؤ اگر تمہارے اوراد میں نماز، روزہ اور اذکار وغیرہ شامل ہوں تو راستہ میں یہ بھی کرتے رہو اور اس طرح حج و اوراد دونوں کے ثواب جمع کر لو گے۔ پس اگر انہوں نے شیطان کے اس وسوسے ؟؟ رغبت اختیار کی اور فقر و ناداری کی حالت میں زادِ راہ کی قلت اور سواری کے بغیر حج کیلئے روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنے جسموں کو خواہ مخواہ تکلیف میں مبتلا کیا اور اگر راستہ میں اس عبادت کو نہ کر سکے جو وہ اپنے گھروں میں قیام کے وقت بغیر تھکاوٹ کے کیا کرتے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ سفر کے دوران تھکان کے باعث عبادت کی اس طرح طاقت نہیں رکھتا جو کہ اسے اپنے گھر میں ؟؟؟ کے وقت حاصل ہوتی ہے ۔ پس اگر ان کی تھکاوٹ بڑھ جائے اور وہ سفر کی مشکلات سے تنگ آ جائیں تو پھر لعین( شیطان) ان کے پاس آتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ تو عبادت کی قضا بھی قبول فرماتا ہے لہٰذا تم اپنے آپکو اس قدر کیوں تکلیف دے رہے ہو اور وہ بوجھ کیوں اٹھاتے ہو جس کی تم طاقت نہیں رکھتے۔
پس تم سے جو نمازیں قضاء ہو جائیں تو مکہ مکرمہ میں ان کی قضاء پڑھ لینا تو وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے شیطان کی یہ بات مان لیتے ہیں اور نماز کی ادائیگی میں سستی کرنے لگتے ہیں جب وہ بھوک میں مبتلا ہوجائیں اور ان کے اخلاق بگڑنے لگیں تو لعین (شیطان) ان کے پاس آ کر انہیں کہتا ہے کہ تم تو محتاج ہو اور محتاج پر حج فرض نہیں بلکہ اغنیاء پر فرض ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان نے تمہارے دل میں خدشات اور وسوسے پیدا کئے جن کی بدولت تم حج کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ لہٰذا تم ان پر مداومت اختیار کرو اور حج کے ارادہ سے باز آ جاؤ چنانچہ اس طرح ان کے دل سیاہ ہو جاتے ہیں اور ؟؟؟ کی غیبت شروع کر دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم محتاج ہیں اوریہ لوگ ہمیں صدقہ و خیرات ؟؟؟ دیتے نہ ہی ہماری طرف راغب ہوتے ہیں پھر ان میں سے اکثر حج کی سعادت سے محروم رہ جاتے ہیں اور اگر وہاں پہنچ بھی جائیں تو خوراک کی تلاش اور اسکے حصول میں مشغول رہنے کے باعث ان کے اکثر مناسک حج فوت ہو جاتے ہیں۔
اور شیطان جن دروازوں سے حملہ آور ہوتا ہے ان میں سے یہ ہے کہ جب وہ کسی نیک عمل کو خراب کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو دوسری تدبیر اختیار کر کے اس کے پاس آتا ہے اور وہ شخص جس عمل صالح پر عمل پیرا ہوتا ہے اسکے مقابلہ میں ایک دوسرا زیادہ بہتر عمل پیش کرتا ہے جس کو پورا کرنا اس آدمی کے بس میں نہیں ہوتا لیکن شیطان نہایت آسان بنا کر بڑی خوبصورتی سے آراستہ کر کے اسے اس عمل کی ترغیب دلاتا ہے الغرض جب وہ شخص اس دوسرے عمل کو شروع کرتا ہے تو پہلے والا عمل اس سے چھوٹ جاتا ہے جبکہ دوسرا عمل بھی وہ جاری نہیں رکھ سکتا اس طرح دونوں اعمال اس سے جاتے رہتے ہیں اور شیطان کا بھی یہی مدعا ہوتا ہے ۔
اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ شیطان نفس لوامہ کے صاحبان کو کہتاہے کہ تم بڑے عبادت گزار ہو، لوگ تمہارے معتقد ہیں لہٰذا تمہیں اپنے اعمال زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ تمہارے بارے میں لوگوں کا اعتقاد بڑھ جائے چنانچہ جب وہ اس نیت سے اپنے اعمال کو بہتر بناتا ہے تو وہ ضائع ہو جاتے ہیں کیونکہ شیطان اسکے اعمال کو شہرت اور رِیاکاری کا ذریعہ بنانے میں ناکامی کے بعد یہ وار کرتا ہے ۔
اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ عابد بندہ سے کہتا ہے بیشک اﷲ تعالیٰ پوشیدہ عبادت کو پسند فرماتا ہے لہٰذا تم چھپ کر عبادت کرو اس طرح اﷲ تعالیٰ تمہیں اپنا دوست بنا لے گا اور لوگ تمہارے اخلاص سے با خبر ہو کر تمہیں اپنا محبوب بنا لیں گے پس اگر وہ شیطان کے دامِ فریب میں آ کر اس نیت سے اپنے اعمالِ حسنہ لوگوں سے چھپانے لگے تو وہ رِیاکاری (خفی) میں گرفتار ہو جائے گا اگر اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہا تو اسکے اعمال ناکارہ ہو جائیں گے اور اگر صاحبانِ نفس لوامہ شیطان کے اس دھوکہ سے بچ کر نفس ملہمہ کے مقام پر ترقی حاصل کر لیں تو پھر شیطان ان پر ایسے دروازوں سے حملہ آور ہوتا جو اس مقام سے مناسبت رکھتے ہیں۔
اور ان میں سے یہ ہے کہ شیطان انہیں کہتا ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ مستقبل میں ہونے والے امور کے متعلق اﷲ تعالیٰ (کی قضا و قدر) کا قلم خشک ہو چکا ہے اور یہ فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ اہل جہنم دوزخ کیلئے ہیں اور اہل جنت بہشت کیلئے۔ اور یہ ایک ایسا امر ہے جس کو کوئی نہیں سمجھ سکتالیکن وہی جو آپ کی مثل ہو۔ لہٰذا تم اعمال (عبادت) کے باعث اپنے آپ کو مشقت میں کیوں مبتلا کرتے ہو، تم یہ تمام اعمال محجوب اور مقلد لوگوں کیلئے چھوڑ کر خود مشاہدہ اور مراقبہ میں مشغول ہو جاؤ۔ اگر شیطان کی اس ہرزہ سرائی کے باعث ان کے قدم پھسل گئے اور وہ نہ جان سکے کہ یہ شیطانی وسوسے ہیں تو وہ اعمال جیسے نماز، روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے ترک کرنے کی بدولت ان کے قلوب پر ظلمت (سیاہی) چھا جاتی ہے اور جب دل سیاہ ہو جائیں تو شیطان ان پر پوری طرح تسلط حاصل کر لیتا ہے اور انہیں کہتا ہے اب تم جو چاہو کرو کیونکہ اﷲ تعالیٰ تمہاری حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ تم وہ ہو اور وہ تم ہے یعنی انہیں حلول کی تعلیم دے کر اس کا قائل بنا دیتا ہے۔ چنانچہ اس حال میں پھر وہ زنا کرتا ہے، شراب پیتا ہے اور حرام کھاتا چاہے کسی بھی وجہ سے وہ چوری کا مال ہو یا ناجائز قبضہ کیا ہوا مال ہو وغیرہ۔ اور اپنی بد اعتقادی کے باعث اﷲ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا۔ اس بری حالت تک وہی مرید پہنچتا ہے جو نفس کا اسیر ہو کر اپنی خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کیلئے شیطانی وسوسوں کا سہارا حاصل کرتا ہے ۔
جو مریدین عشق الٰہی سے سرشار ہوتے ہیں اور ہمیشہ اسی کی طلب میں کوشاں رہتے ہیں تو وہ اپنے نبی کریمکے ارشاداتِ گرامی، سیرت طیبہ اور شریعت مطہرہ کی پابندی کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ جب کبھی ان کے دل میں کوئی خیال پیدا ہوتا ہے تو وہ اسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقوال و افعال اور شریعت کی روشنی میں پرکھتے ہیں ،اگر وہ ان کے موافق ہو تو اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں لیکن اگر ان کے مخالف ہو تو اسے شیطانی وسوسہ سمجھ کر دل سے دور کر دیتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ یقینا نبی پاکنے اس حال میں دنیا سے وصال فرمایا کہ فرائض سے نوافل تک کوئی عبادت ترک نہیں کی اور نہ ہی کبھی معصیت کا ارتکاب کیا ، نیز نہ ہی سلف صالحین سے کبھی ایسا سنا گیا ۔
وہ پورا پورا یقین رکھتے ہیں کہ کوئی بھی خیال جو شریعت محمدیہکے خلاف ہو تو وہ زندقہ، کفر اور گمراہی ہے لہٰذا وہ طریقت پر پوری طرح ثابت قدم رہتے ہوئے پُر خطر مقامات سے اعلیٰ مقامات تک ترقی (عروج) حاصل کرتے رہتے ہیں چنانچہ شریعت کی پیروی سے انہیں مقام انکشاف حاصل ہو جاتا ہے اور اس مقام پر وہ ایک ایسا سمند ر ملاحظہ فرماتے ہیں جس کا دوسرا کنارہ نہیں ہوتا اور یہ مقام شریعت کی اتباع میں پوشیدہ ہے جو شخص ظاہری شریعت پر کاربند نہیں رہتا تو اس پر یہ راز ہرگز ظاہر نہیں ہوتا بلکہ وہ زندقہ میں پڑ جاتا ہے ۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے ’’ پیارے محبوبفرما دیجئے کہ اگر تم اﷲ تعالیٰ کی محبت کرنا چاہو تو تو میرے پیروی کرو تاکہ تم اﷲ تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ‘‘۔
پس یہ آیہ کریمہ اس بات کی کافی دلیل ہے کہ ہر مسلمان کیلئے شریعت محمدیہ کی اتباع لازمی ہے اور اسے آخر دم تک شریعت کے دروازوں پر کھڑا رہنا چاہئے پس جو ظاہری شریعت کو مضبوطی سے تھام لے تو وہ اس کے اسرار کو پا لیتا ہے اور یہ اسرار پا لینے کے بعد وہ اسرارِ الٰہی تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور اس کی جو خصوصیات ہیں وہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے بندہ کے درمیان واقع ہوتی ہیں۔
چنانچہ پھر ان (برگزیدہ ہستیوں) پر (قابو پانے کیلئے) شیطان کو کوئی راہ نظر نہیں آتی اور یہ وہ اسرار ہیں جو صرف اس مقام پر فائز حضرات ہی اپنی قلبی نورانیت کی بدولت جانتے ہیں اور قلوب کے یہ انوار انہیں ظاہری شریعت پر عمل کرنے سے حاصل ہوتے ہیں جسکی وجہ سے شیطان ان کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔
یہ روایت میں آتا ہے کہ تحقیق غوث الثقلین غوث الاعظم حضرت سیدنا الشیخ عبدالقادر جیلانیص ایک مرتبہ صحرا میں عبادت فرما رہے تھے کہ شیطان آیا اور آپصسے کہنے لگا اے عبدالقادر میں خدا ہوں اور میں نے تمہارے لئے تمام حرام اشیاء حلال کر دی ہیں پس جو چاہو کرو۔ چنانچہ آپصنے فرمایا کہ تو شیطان ہے کیونکہ ارشادِ الٰہی ہے کہ ’’ بیشک اﷲ تعالیٰ بے حیائی کا حکم نہیں فرماتا--الخ‘‘۔
لہٰذا دیکھ لو کہ شریعت کس قدر عظیم ہے اور اس کی ہمیشہ متابعت کرنے والا کیسے بچ جاتا ہے؟ اے بھائی جان اچھی طرح جان لو کہ لعنتی شیطان گمراہ کرنے کیلئے جو انواع و اقسام کی جو مختلف چالیں اختیار کرتا ہے یہ ان کے مقابلہ میں بہت کم ہیں جو ہم نے بیان کی ہیں اور کوئی شخص اس وقت تک ان کی حقیقت کو نہیں جان سکتا جب تک وہ مضبوطی سے شریعت کو تھام نہ لے اور علماء مسترشدین کاملین کی صحبت اختیار نہ کرے۔
الحمد ﷲ ثم الحمد ﷲ کہ عالم اجل، فاضل اکمل، علم الاصفیاء، سند الاتقیاء، امام السالکین حضرت علامہ شیخ قاسم مکی حنفی قادریکی مایہ ناز کتاب’’سیر السلوک الی ملک الملوک‘‘ کا اردو ترجمہ اختتام کو پہنچاجسے یہ فقیر برخوردارم سید محمد انور شاہ قادری بخاری (وڈپگہ) کو املا کرواتا رہا اور یہ سلسلہ پندرہ روزہ ’’الحسن‘‘ پشاور کے ابتدائی شمارہ سے شروع ہو کر موجودہ شمارہ میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ حضرات اہل طریقت اور سالکین سلوک و معرفت کیلئے یہ کتاب نعمت غیر مترقبہ کا درجہ رکھتی ہے ۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اس سے مستفید و مستفیض فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ و اٰلہ وسلم
خطبہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العلمین و العاقبۃ للمتقین والصلوۃ و السلام علی رسولہ محمد و الہ واصحابہ اجمعین ہ
قال الشیخ الامام الاجل الزاھد العالم ابوالحسن احمد بن محمد بن احمد بن جعفر البغدادی المعروف بالقدوری
اللہ کے نام سے شروع کرتاہوں جونہایت مہربان، رحم والاہے
ہر قسم کی تعریف خاص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو کہ پرورش کرنے والا ہے ۔تمام جہانوں کا اور انجام متقیوں کے لیے اور درود و سلام اللہ کے رسول محمدﷺ پر ہے اور ( ان کے اتباع میں ) آپ کی اولاد پر اور آپ کے تمام صحابہ پر درود و سلام ہے ۔ فرماتے ہیں شیخ وقت ، پیشوائے قوم ، جلیل القدر، نیک شعار علم میں، ابوالحسن احمد بن محمد بن احمدبن جعفر بغدادی جو قدوری کے نام سے مشہور ہیں
﴿بسم اللّٰہ ﴾صاحب قدوری نے کتاب اللہ کی ا تباع اور طریقہ تحریر کے ساتھ مشابہت کرتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ابتد ا کی دوسری یہ کہ جملہمصنفینحضرات کا جو طریقہ اس پر عمل کیا تیسر ی یہ کہ تبر کاً ابتدا بسم اللہ سے فرمائی بسم اللہمیں
ا للہ تعالیٰ کے تین نام آئے ہیں ایک ذاتی دو صفاتی ( حواشی مستخلص)۔
﴿اللّٰہ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی اور خاص نام ہے کسی دوسرے پر کسی صورت میں بھی بولا نہیں جا سکتا ۔ یہ نام اللہ تعالیٰ کی صفات کا جا مع ہے اسی لیے اس کو اسم اعظم بھی کہتے ہیں ۔
﴿الرحمن ﴾ رحمن از جہت لفظ خاص سے یعنی اس کا اطلاق ذات باری تعالیٰ کے سوا کسی اور پر نہیں ہو سکتا ا ور معنی عام ہے (تمر تاشی)
﴿الحمد ﴾ جان لو کہ حمد لغت میں ثنا ء ہے ز بان سے بوجہ تفضیل اس کا تعلق نعمت سے ہو یا نہ ہو ۔اور اصطلاح میں وہ فعل ہے جو خبر دیتا ہے منعم کی تعظیم کا ، جس کی ثناء کی جاتی ہے (حواشی قاموس۔تمرتاشی)
﴿رب ﴾لفظ بروزن فعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور اس کا مادہ تربیتہے کسی چیز کو تدریجا اس کی منزل تک پہنچانا تربیتکہلاتا ہے۔
﴿عالمین ﴾ لام کی زبر کے ساتھ عالم کی جمع ہے ۔ جس کا اطلاق سوائے ذات باری تعالیٰ کے ہر موجود پر ہوتا ہے یعنی روایات میں عالم نام ہے ہر ذی عقل کے لئے مخلوق میں سے اور وہ فرشتے ہیں انسان و جنات ہیں ۔ اور جب اللہ تعالیٰ رب ٹھہرا ذوی العقول کا تو تما م مخلوق کا رب ٹھہرا کیونکہ تمام اشیاء تابع ہیں ذوی العقول کے اور انہی کے لئے پیدا کی گئی ہیں (حلبی کبیر)
﴿العاقبۃ﴾ یہاں موصوف محذوف ہے یعنی ا چھی اور نیک عاقبت اور درجات عالیات (مختصر)
﴿للمتقین﴾ متقین جمع متقی کی ہے متقیو ں کے بارے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں کسی کے نزدیک متقی وہ ہے جو اپنے کو شرک سے بچائے اورکفر کے کاموں سے ۔امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں متقی وہ ہے جو اپنے کو ان تما م محارم سے بچائے جو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمائے ہیں ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں متقی وہ ہے جو اپنے آپ کو کسی سے بہتر نہ جانے لیکن متقی کی بہترین تشریح وہ ہے جو معالم التنزیل نے فرمائی اور وہ یہ قول باری تعالیٰ کا ہے ۔’’ الذین یومنون بالغیب ویقیمون الصلوۃ و مما رزفنہم ینفقون ‘‘ اور متقی وہ لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں غیب پر اور نما ز کو تما م لوازمات کے ساتھ صحیح اوقات میں اد ا کرتے ہیں اور ہما رے دیے ہوئے مال کو نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں ( مختصر )
﴿الصلوۃ ﴾ لفظ صلوۃ اگر منجانب اللہ ہو تو بمعنی رحمت کے ہیں اور اگر فرشتوں کی طرف سے ہو تو معنی استغفار کے ہیں اور مومنین کی طر ف سے بمعنیتسبیح کے ہیں اور صلوۃ لغت میں بمعنی دعا ہے ۔( غنیۃ المتملی)
﴿علی رسولہ ﴾ رسول وہ ہے جس کی شریعت ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو کتاب عنایت فرمائی ہو اس لئے رسول ﷺ خاص ہوا نبی سے کیونکہ نبی کو کتاب نہیں ملتی ہے بعض علماء کے نزدیک اس کے بر عکس ہے
﴿محمد ﷺ ﴾ لفظ’’ محمد ‘‘ ﷺ باب تفعیل سے اسم مفعول کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہے ’’ جس کی بار بارتعریف کی جائے۔‘‘ چونکہ رسول اکرم ﷺ کا ذکر بلندکیا گیا اور اولین وآخرین کی زبانوں پر آپ کی تعریف وتوصیف کے نغمے جاری ہوئے اس لیے آ پ کا اسم گرامی ’’محمد ﷺ ‘‘ رکھا گیا ہے
﴿ الہ ﴾آل سے مراد اہل وعیال بھی ہوتے ہیں اور متعلقین و متوسلین بھی ۔ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرا ت ، آپ کی صاحبزادیاں اور نواسے نیز ان کی اولاد آپ کی آل ہیں علاوہ از یں ہر مومن مسلما ن آپ کی آل ہے ۔ یہاں تمام امت اجا بت مراد ہے کیونکہ یہ مقام دعا ہے اور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ’’ آل محمدکل تقی ‘‘ میں تقی سے مراد غیر مشرک مسلمان ہیں (طحطاوی علی المراقی)
﴿اصحابہ﴾ صحابی وہ ہے جو حضو رﷺ پر بعد نبوت عین حیات میں ایمان لایا ہو اور حضور ﷺ سے ملاقات کی ہو ۔ اور مومن ہی فوت ہو ا ہو۔( عینی )
کتاب الطھارۃ
الاصل فی وجوب الطھارۃ قولہ تعالی یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا و جوھکم و ایدیکم الی المرافق و امسحوا بروسکم و ارجلکم الی الکعبین ففرض الطھارۃ غسل الاعضاء الثلثۃ و مسح الراس و المرفقان و الکعبان یدخلان فی فرض الغسل عندنا و عند زفر لایدخلان
طہارت کی کتاب
بنیا دی حکم طہارت کے واجب ہونے پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ۔’’ اے ایمان والو! جب تم اٹھو نماز ادا کرنے کے لئے تو دھولو اپنے چہرے اور اپنے بازو کہنیوں سمیت اورمسح کرو اپنے سروں پر اور دھولو اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت ‘‘ پس فرائض طہا رت تین اعضاء کا دھونا اور سر کا مسح کرنا ہے ۔اور دونوں کہنیاں اور ٹخنے دھونے کے فرائض میں داخل ہیں ہمارے نزدیک جبکہ امام زفر کے نزدیک داخل نہیں ہیں ۔
ّ﴿کتاب ﴾ لفظ کتا ب مصدر ہے ا س کا لغوی معنی جمع کرنا ہے ۔ جو چیز لکھی جاتی ہے اس میں الفاظ کا اجتماع ہوتا ہے اس لیے ا سے کتاب کہا جاتا ہے ۔
﴿طہارت ﴾یہ بھی مصدر ہے طاء کے فتح سے نظافت اور پاکیزگی حاصل کر نے کے معنی میں آتا ہے۔ پانی کے ساتھ یا تیمم کے ساتھ
﴿اذاقمتم ﴾اے اذا اردتم یعنی نما ز کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے وضو کر لینا ضروری ہے نہ کہ نماز میں کھڑے ہونے کے بعد وضو کیا جائے ۔ (قرطبی )
﴿ وجوھکم﴾ وجہہ کی جمع وُجُو ہ ہے بمعنی چہرہ۔
﴿الیٰ﴾ یہاں اِلیٰ کا معنی ’’ تک ‘‘ نہیں بلکہ ’’سمیت ‘‘ ہو گا کیونکہ کہنیوں کی ہڈی دھونے میں شامل ہے۔
﴿رؤسکم ﴾رُءُ وس جمع ہے راس کی یعنی سر۔
﴿فرض الطھارت ﴾اب یہ بتایا ہے کہ طہا رت کے اندر فرض کیا ہے تاکہ آپ کی طہارت صحیح ثابت ہو جائے اور پوری ہو جائے ۔
﴿غَسل ﴾غَسل کا معنی دھونا ، غُسل کا معنی نہانا اور غِسل وہ چیز جس سے دھویا یا نہایا جائے۔
﴿اعضاء ﴾اعضاء جمع ہے عضو کی ۔ اردو میں عضو کا معنی اندام ہے۔
﴿وضو﴾ وضو میں چار فرائض ہیں لیکن دھونے کے اعتبار سے تین فرائض ہیں ۔
﴿الکعبان﴾ یعنی ٹخنوں اور کہنیوں سمیت دھونا فرض ہے اگر یہ خشک رہ گئے تو فر ض ادا نہیں ہو گا اور جب فرض ادا نہیں ہو گا تو وضو نہیں ہو گا ۔
﴿عندنا﴾ یعنی امام ابو حنیفہ و امام ابو یوسف ا و ر امام محمد کے نزدیک ۔
﴿ عند﴾ یعنی امام زفر کے نزدیک دونو ں کہنیوں اور دونوں ٹخنوں سمیت دھونا وضو کے فرائض میں داخل نہیں ہے لیکن ہمارے نزدیک داخل ہے جب اجماع ہو جائے دو اماموں کا ایک طرف اور ایک امام کا ایک طرف یاتین اماموں کا ایک طرف اور ایک کا ایک طرف تو فتویٰ اس پر ہو گا جس میں اکثر یت ہو گی لہذا فتویٰ ’’ تدخلان یعنی داخل ہیں ‘‘ پر جاری ہوگا۔
والمفروض فی مسح الراس مقدارالناصیۃ وھو ربع الرأس لماروی المغیرۃ بن شعبۃ ان النبی ﷺ اتی سباطۃ قوم فبال وتوضأ ومسح علی الناصیۃ وخفیہ
سر کے مسح میں پیشانی کی مقدار کا مسح فرض کیا گیا ہے ۔ اور وہ سر کا چوتھائی حصہ ہے جیسا کہ مغیر ہ بن شعبہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سباطہ قوم کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے چھوٹا پیشاب کیا اور وضو کیا اور پیشانی کی مقدار کا مسح کیا اور دونوں موزوں پر بھی مسح کیا ۔
﴿مسح الراس﴾وضو کا تیسرا فرض ، بموجب ارشاد خدا وندی :۔ وامسحوا برؤسکم ( اور اپنے سروں پر مسح کرو ) سر کا مسح کرنا ہے اور چونکہ امر مطلق تکرار کی گنجائش نہیں رکھتا ، لہذا سرمسح فقط ایک بارکرنا فرض ہو گا ۔التبہ سرکے مسح کی مقدارمختلف فیہ ہے اصل میں سر کے مسح کی فرض مقدار ہاتھ کی تین انگلیوں کے برابر مذکور ہے ۔
اور الحسن نے امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس کی مقدار چوتھائی سر کا حصہ بیان کی ہے یہی امام کا بھی قول ہے ہمارے ائمہ میں سے الکرخی اور الطحاوی نے اس کی مقدار پیشانی کے برابر قرار دی ہے ہمارے (احناف ) کا استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید میں مذکور مسح کرنے کا حکم کسی آلے یا ذ ریعہ کا متقاضی ہے کیونکہ مسح کسی ذریعے یا آلے کے بغیر ممکن نہیں ہے بنابریں عادۃً ہاتھ کی انگلیا ں مسح کرنے کا ذریعہ یا آلہ ہیں اور تین انگلیاں ہاتھ کا ’’ اکثر حصہ‘‘ ہوتی ہیں ا ور عموما اکثر حصہ کے لیے کل کا حکم ثابت ہوا کرتا ہے پس یہ ایسے ہی ہے جیسے گویا حکم ہی تین انگلیوں کے ساتھ مسح کرنے کا دیا گیا ہو جہا ں تک اس کا اندازہ پیشانی کے ساتھ مقرر کرنے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ ہے کہ امت کے اجماع سے ثابت ہے کہ آیت میں پورے سر کا مسح مراد نہیں ہے( بدائع الصنائع ج۱ ص ۸۷-۸۶)-
﴿المغیرۃ ﴾ مغیرۃ بن شعبہ بضم میم و کسر غین مشہور صحا بی ہیں رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے سا ل مشرف باسلام ہوئے اور ۵۰ ھ یا ۵۱ ھ میں وفات پائی ۔آپ سے ایک سو چھتیس(۱۳۶) حدیثیں مروی ہیں ۔ ( اُسد الغابہ)
﴿ فبال ﴾بَالَ، بول سے ہے جس کے معنی ہیں چھوٹا پیشاب۔
﴿خفیہ﴾اخرجہ مسلم باب ’’ المسح علی الخفین ‘‘ ص ۱۳۴ جلد ۱ ‘ نصب الرایہ۔
وسننہ غسل الیدین قبل ادخالہما الاناء کما قال النبی ﷺ اذا استیقظ احدکم من منامہ فلا یغمسن یدہ فی الاناء حتی یغسلہما ثلثا فانہ لایدری این باتت یدہ من جسدہ و تسمیۃ اللہ تعالی فی ابتداء الوضوء
وضو کی سنتیں :۔ دونوں ہا تھو ں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے د ھونا جیسا کہ حضور پا ک ﷺ نے فرمایا
’’ جب تم میں سے کوئی ایک اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو برتن میں نہ ڈالے یہاں تک کہ ہاتھ کو تین بار دھو لے ۔ اس لیے کے وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے ا س کے جسم میں کہاں رات گزاری ‘‘ اور وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا
﴿سنتہ﴾ یہاں سے سنتوں کا بیان ہے ۔ سنت کا لغوی معنی راستہ ہے اور اصلاح شرع میں رسول اللہ ﷺ کا فعل مبارک کہلاتا ہے اگر آپ نے کو ئی کام ہمیشہ کیا اور کبھی کبھار چھوڑا تو سنت موکدہ ہے اور جیسے ہمیشہ نہیں کیا وہ سنت غیرموکدہ اسے مستحب مندوب اور آدب کہا جاتا ہے (طحطاوی علی المراقی) یعنی ا س کو ادا کرنے میں ثواب ہے ایسی سنت کو ترک کرنے میں عذاب نہیں البتہ عتاب ضرور ہے۔
﴿ھو﴾ھو کی ضمیر راجع ہے طہارت کی طرف یعنی وضو۔
﴿الیدین ﴾ یدین تثنیہ ہے ید کا ۔ید سے مراد ایک ہاتھ اور الیدین کے معنی دونوں ہاتھ پرانے زمانے میں کوزے وغیرہ نہیں ہوتے تھے ۔ٹپ کی طرح کے برتن ہوتے تھے جس میں ہا تھ ڈال کر وضو کرتے تھے ۔ لہذا حضور نے فرمایا کہ اس میں ہا تھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کا دھونا سنت ہے تاکہ جب اس پانی میں ہاتھ جائیں تو وہ پاک ہوں۔
﴿یغمسن﴾سنت کے لیے حدیث کا بیان دلیل کے طور پر کیا گیا ہے ۔
﴿باتت﴾ بَاتَت ، رات سے ہے بمعنی رات گذارنا ( اس حدیث کی تخریج ائمہ ستہ نے کی ہے )۔
﴿بسم اللہ کے فضائل ﴾ بلکہ ہر اک جائز کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہے ۔حدیث مبارک میں آتا ہے حضور پاک ﷺ فرماتے ہیں جو کام بھی تم شروع کرو بسم اللہ سے کر و اگر تم نے بسم اللہ نہ پڑھی تو و ہ کام ا بتریعنی کٹا ہوا ہے۔کھانے کی ابتدا میں بسم اللہ اگر بھول گیا تو درمیان میں پڑھنا بھی سنت اور درمیان میں یوں پڑھے بسم اللہ اولہ واخرہ۔
والسواک والمضمضۃ والاستنشاق ومسح الاذنین وتخلیل اللحیۃ و الاصابع وتکرار الغسل الی الثلث و یستحب للمتوضی ان ینوی الطہارۃ و ان یستوعب جمیع الرأس بالمسح و یرتب الوضوء فیبدأ بمابدأ اللہ تعالی بذکرہ و بالمیامن ومسح الرقبۃ
اور مسواک کرنا اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا اور دو نوں کانوں کا مسح کرنا اور داڑھی اور انگلیوں میں خلال کرنا اور تین تین مرتبہ پر عضو کو دھونا اور وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے وضو کی نیت کرنا اور پورے سر کا مسح کرنا اور ترتیب وار وضو کرنا پس شروع کرلے اس سے جس کو پہلے ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اور دائیں جانب سے شروع کرنا اور گردن کا مسح کرے ۔
﴿سواک ﴾آج کل تو بُرش استعمال ہوتے ہیں ۔اب معلوم نہیں کہ ان بُرشوں کے بال کس کے ہیں سُور کے بال تو نہیں لہذا احتیاط کرنی چاہیے اور مسواک استعمال کرنا چاہیے ۔احناف کے نزدیک مسواک وضو کی سنت ہے ۔ نماز کی نہیں یعنی جب وضو کرے تو مسواک کرے ایسے وضو کے ساتھ جو نماز پڑھی جائے گی اس کا ثواب ستر گناہ زیادہ ملے گا ۔ا گر ایک ہی و ضو سے پانچ نمازیں پڑھی جائیں تو ہر نماز کا ثواب ستر گناہ زیادہ ہو گا ۔( رکن دین کتاب الصلوۃ)
﴿اذنین ﴾اُذن واحد ہے اور اذنین تثنیہ ہے یعنی دونوں کان ۔
﴿تخلیل ﴾تخلیل مصدر ہے ، خَلّل یخلل تخلیلا ۔ باب تفعیل ہو گیا ۔ صَرف ، یصرف تصریفا ،ہاتھ اور پاؤں دونوں کی انگلیوں کا خلال کرنا ۔
﴿لحیۃ﴾ ’’ محمد قال اخبرنا ابوحنیفۃ عن الھیثم عن ابن عمرانہ کان یقبض علی اللحیۃ ثم یقص ماتحت القبضۃ قال محمد وبہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ ،،
ترجمعہ ,, امام محمد رحمت اللہ علیہ ، امام اعظم امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے ، وہ جناب ہیثم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر مٹھی سے زائد حصہ کاٹ دیا کرتے تھے ۔ امام محمد رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارا عمل اسی حکم پر ہے اور حضرت ا مام اعظم امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی ارشاد ہے ،، مندرجہ بالا عبارت سے واضح ہو گیا کہ احناف کے نزدیک قبضہ
( مٹھی) برابر داڑھی رکھنے پر فتوی ہے ۔لہذا یہ حکم لازمی ہے ۔ (کتاب الآثار باب صفتہ الشعرمن الوجہ صفحہ ۱۵۱ مطبوعہ انوار محمدی پریس لکھنؤ بھا رت )معلوم ہو ا کہ اتنی داڑھی رکھنا سنت ہے جس میں خلال ہو سکے یعنی انگلیاں اس میں داخل ہوسکیں جبکہ مودودی صاحب نے لکھ دیا کہ بس نشان ہی کافی ہے
﴿مستحب﴾ مستحب کے کرنے میں ثواب ہے اور نہ کرنے میں گناہ نہیں ۔
﴿یرتب﴾ رتب، یرتب ترتیبا۔ ترتیب کا معنی ہے ایک کے بعد دوسرا ، طریقے کے ساتھ یعنی پہلے ہاتھ دھوئے ، پھر کلی کرے ، پھر ناک میں پانی ڈالے، اس کے بعد منہ کو دھوئے پھر کہنیوں کو دھوئے ۔پھر سر کا مسح کرے، پھر انگلیوں کا مسح کرے اور داڑھی کا خلال کرے ، علی ھذا القیاس
﴿فیبدأ﴾ یعنی بسم اللہ سے شروع کرے ۔منہ دھوتے وقت کلمہ شہادت پڑھے ، بازو دھوئے تو الم نشرح شریف پڑھے توزیادہ اجر وثواب ہوگا۔یعنی ہر اندام کے دھوتے وقت اللہ کا ذکر ساتھ ساتھ کرتاجائے۔ہر عضوکو دھونے کے وقت یہ دعائیں پڑھے تو زیادہ اجروثواب ہوگا۔
کلی کرتے وقت کی دعا :۔
باسم اللہ اللھم اعنی علی تلاوۃ القران وذکرک وشکرک وحسن عبادتک
اللہ کے نام سے ،اے اللہ !تلاوت قران ، اپنے ذکر ،شکر اوراچھی طرح عبادت پر میری مدد فرما۔
ناک میں پانی ڈالتے وقت کی دعا :۔
باسم اللہ اللھم ارحنی رائحتہ الجنۃ ولا ترحنی رائحتہ النار۔
اللہ کے نام سے ، اے اللہ !مجھے جنت کی خوشبوسنگھا اورجہنم کی بونہ سنگھا۔
چہرے دھوتے وقت کی دعا:۔
باسم اللہ اللھم بیض وجھی یوم تبیض وجوہ وتسوووجوہ
اللہ کے نام سے ، اے اللہ ! اس دن میرا چہرے سفیدرکھنا جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اورکچھ چہرے سیاہ۔
دایاں بازودھوتے وقت کی دعا:۔
باسم اللہ اللھم اعطنی کتابی بیمینی وحاسبنی حسابا یسیرا۔
اللہ کے نام سے ،اے اللہ ! میرانامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دینا اور میرا حساب آسان کرنا۔
بایاں بازودھوتے وقت کی دعا:۔
باسم اللہ اللھم لا تعطنی کتابی بشمالی ولا من وراء ظہری۔
اللہ کے نام سے ، اے اللہ! میرا اعمال بائیں ہاتھ میں اورپیٹھ کے پیچھے سے نہ دینا۔
سرکا مسح کرتے وقت کی دعا:۔
باسم اللہ اللھم اظلنی تحت ظل عرشک یوم لا ظل الا ظل عرشک۔
اللہ کے نام سے ، اے اللہ ! اس دن مجھے اپنے عرش کے سائے میں رکھنا جس دن تیرے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔
کانوں کا مسح کرتے وقت کی دعا :۔
باسم اللہ اللھم اجعلتی من الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ
اللہ کے نام سے ،اے اللہ !مجھے ان لوگوں میں سے کردے جو تیر ی بات کوغور سے سننے ہیں اوران اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔
گردن کا مسح کرتے وقت کی دعا:۔
باسم اللہ اللھم اعتق رتبتی من النار۔
اللہ کے نام سے ،اے اللہ ! میری گردن کو جہنم کی آگ سے آزاد رکھنا۔
دایاپاؤں دھوتے وقت کی دعا :۔
باسم اللہ اللھم ثبت قدمی علی الصراط یوم تزل الاقدام ۔
اللہ کے نام سے ، اے اللہ ! اس دن پل صراط پر مجھے ثابت قدم رکھنا جب ( کچھ لوگوں کے ) قدم پھسلیں گے۔
بایان پاؤں دھوتے وقت کی دعا :۔
باسم اللہ اللھم اجعل ذنبی مغفورا وسعیی مشکورا وتجارتی لن تبور۔
اللہ کے نام سے ،اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے میری کوشش قبول فرمااورمیری تجارت میں نقصان نہ ہو۔
وضوکے بعد کلمہ شہادت پڑھنا وضوکا بچا ہواپانی کھڑے ہوکر پینااوریہ دعامانگنا:۔
اللھم اجعلنی من التوابین وجعلنی من المتطھرین۔
اے اللہ ! مجھے بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اورخوب پاک ہونے والوں میں سے بنادے۔
فصل فی النواقض المعانی الناقضۃ للوضوء کل ماخرج من السبیلین والدم والقیح والصدید اذا خرج من البدن فتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر والقئ اذا کان ملأ الفم والنوم اذا کان مضطجعا او متکأاومستندا الی شیء لو ازیل عنہ لسقط والغلبۃ علی العقل بالاغماء والجنون والقہقۃ فی کل صلوۃ ذات رکوع و سجود
فصل وضو کو توڑنے والی چیزوں کے بیان میں ہے وضو کو توڑنے والی ہر وہ چیز ہے جو چھوٹے یا بڑے پیشاب کے راستے سے نکلے اور خون ، ذرد پانی اور پیپ جب بدن سے نکل کر اس جگہ تک پہنچ جا ئے جو کہ پاک کرنے کے حکم میں شامل ہو ۔ اور جب منہ بھر کے قے ہو ۔ اور نیند جب پہلو کے بل ہو یا تکیہ لگائے ہو یا ایسی چیز سے ٹیک لگائے ہو کہ اگر اس سے ہٹا دی جا ئے تو وہ گر جائے ۔ اور بے ہوشی اور پا گل پن کی وجہ سے عقل کا مغلوب ہو جانا ۔اور ہر رکوع و سجود والی نماز میں قہقہ مار کر ہنسنا وضو کو توڑ دیتا ہے ۔
﴿فصل﴾پہلے و ضو کے فرائض کا بیان ہوا ہے پھر اس کی سنتوں کا بیان ہوا ہے اب بیان کرتے ہیں کہ وضو کے نواقض کیا ہیں اب کلام مربوط ہو گیا یعنی پہلے باب کا دوسرے باب سے تعلق اور دوسرے کا تیسرے باب سے تعلق بن گیا ہے ۔
﴿نواقض ﴾نقض کا معنی یہاں وضو کا توڑنا ہے یعنی کون کو ن سی چیزیں وضو توڑ دیتی ہیں اور ان چیزوں کے واقع ہو جانے کے بعد دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ۔ خرج، ماضی ہے ۔
﴿سبیلین ﴾سبیلین تثنیہ ہے اس کا واحد سبیل ہے جس کا معنی ایک راستہ ہے۔چھوٹے یابڑے پیشاب کاراستہ۔
﴿دم ﴾خون اگر نکل جائے تو یہ ناقض و ضو ہے ھدا یہ میں ہے کہ خون جو اپنی جگہ سے چل پڑے یا بہہ جائے اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اگر وہی اپنی جگہ پر جم جائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا یعنی جب سیال یا مائع ہو جائے اور چل پڑے تو وضو کو توڑ دیتا ہے۔
﴿عنہ ﴾عنہ میں ھو کی ضمیر سو نے والے کی طرف راجع ہے ۔
﴿سقط﴾یعنی اگر گر جا ئے تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں۔
﴿اغماء﴾ بے ہوش یا پاگل پن کا غلبہ ہو جانا یعنی اس شخص کو پتہ نہیں کہ کیا کہہ رہا ہوں کدھر جا ر ہا ہوں یہ عقل کے اوپر بے عقلی غالب آگئی اس حال میں وضو ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ ہو سکتا کہ سبیلین میں سے کسی راستے سے کو ئی چیز خارج ہو گئی ہو یا خون چل پڑا ہو اور چونکہ وہ غلبے کی حا لت میں ہے اس لیے اس کو معلوم نہیں ہو سکتا ۔
﴿ قہقہ ﴾اگر وضو کرنے کے بعد نما ز میں داخل ہونے سے پہلے قہقہ لگایا تو وضو نہیں ٹوٹے گا ۔
﴿کل صلوۃ﴾نفل نماز ہو فر ض نماز یا سنت نما ز ہو شرط یہ کہ سجدہ ، رکوع والی نماز ہو ۔معلوم ہوا کہ نما زجنا زہ اس حکم میں شامل نہیں ۔ کیونکہ رکوع وسجدے نہیں ۔
وفرض الغسل المضمضۃ و الاستنشاق و غسل سائر البدن و سنۃ الغسل ان یبداء المغتسل فیغسل یدیہ و فرجہ و یزیل النجاسۃ الحقیقیۃ اذا کانت علی بدنہ ثم یتوضاء کوضوۂ للصلوۃ الا رجلیہ
غسل کے فرائض :۔ کلی کرنا ، ناک کو دھونا اور تمام بدن کا دھونا ہے ۔
غسل کی سنتیں:۔غسل کرنے والا اپنے دونوں ہا تھوں اور شرمگاہ کو دھونے سے ابتدا کرے اور نجا ست حقیقی کو دور کرے جبکہ اس کے بدن پر ہو ۔ پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرے سوائے پاؤں کے دھونے کے ۔
﴿غسل ﴾غُسل کے غین پر ضمہ ( پیش ) ہے جس کے معنی ’’ نہانا ‘‘ ہو گا ۔اور غین پر زبر ہو تو ’’ دھونا‘‘ اور اگرغین کے نیچے زیر ہو تو وہ چیز مراد ہو گی جس سے نہایا ، یا دھویا جائے ۔ اور یہاں پر نہانے کے فرائض بیا ن ہوں گے
﴿فم﴾ فم سے مراد منہ کا اندرونی حصہ ہے یعنی غرغرہ کرنا اور انف سے مراد ناک کا اندرونی حصہ ہے یعنی ناک کے اندر پانی پہنچانا منہ اور ناک کو باہر سے دھونا ہے۔
﴿سائر البدن﴾ بدن کو رگڑنا نہیں بلکہ پانی بہانا ہے اور اگر بال موجود ہیں تو بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ہے غسل کے یہاں تین فرائض بیان ہوئے ہیں ھدایہ میں بدن سے پلید منی کو دھونا بھی غسل کے فرض میں شامل ہے ۔ بدن پر ہر اس جگہ پر پانی پہنچانا فرض ہے جہاں سوراخ ہو جیسے ناک انسان کے بڑے پیشاب کی جگہ ا ور کان میں انگلی ڈال کر دھونا ضروری ہے اگر انگلی میں انگشتری ہے تو اس کو اتار کر ہاتھوں کو دھونا تاکہ اس کے نیچے جگہ خشک نہ رہے ۔عورت کے لیے مینڈھیوں کے نیچے پانی پہنچانا ضروری ہے اگر مینڈھیاں کھول دے تو بہتر ہے اور اگر نہ کھولے تب بھی درست ہے ۔ آج کل عورتیں ناخن پالش لگاتی ہیں ۔ یہ چیزیں بیچنے والے مرد بھی عورتوں کو دکھانے کے لیے کہ کونسا رنگ اچھا ہے ناخن پالش لگاتے ہیں جب تک یہ ناخن پالش نہیں اترے گی مرد یا عورت کسی کا بھی غسل نہیں ہو گا۔
﴿الحقیقۃ﴾ایک نجاست حقیقہ ہو تی ہے اور ایک نجاست خفیفہ ہو تی ہے یعنی چھوٹا پیشاب ۔نجا ست حقیقہ بڑے پیشاب ،خون ،منی وغیرہ کو کہتے ہیں حقیقہ چونکہ مونث ہے اس لیے اس کے لیے استعمال ہونے والی ضمیر’’ کانت‘‘ بھی مونث ہے ۔
﴿یدیہ ﴾پہلے دونوں ہاتھوں کو دھوئے گا پھر جہاں نجاست لگی ہوئی ہے وہ جگہ دھوئے گا اور پھر وضو کرے گا ۔یہ غسل کی سنت ہے لوگ نہا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمار ا وضو ہو گیا ۔وضو ہو جاتا ہے کیونکہ جواز ہے یعنی فتوی ہے مگر احتیاط نہیں ہے لحاظ وضو کر لینا افضل ہے ۔یہ اس لیے کیونکہ عرب کا علاقہ ریتلا تھا ۔اس لیے جہاں وہ وضو کرتے یا نہا تے تھے وہاں پانی کھڑ ا ہو جا تا تھا اس لیے حکم دیا کہ ابھی پاؤں نہ دھوؤ جب غسل کر لو تو اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں کو دھو لو مگر آج کل کے زمانے میں چونکہ سیمنٹ چیس اور پتھر وغیرہ کے فرش ہیں جن پر سے پانی بہہ جاتا ہے اس لیے اگر اسی وقت دھولیے جائیں تو کو ئی ممانعت نہیں ۔
ثم یفیض الماء علی راسہ و سائر جسدہ ثلثا ثم یتنحی عن ذلک المکان فیغسل رجلیہ ولیس علی المراۃ ان تنقض ضفائرھا فی الغسل اذا بلغ الماء اصول الشعر والمعانی الموجبۃ للغسل انزال المنی علی وجہ الدفق والشہوۃ من الرجل والمراۃ فی حالۃ النوم والیقظۃ والتقاء الختانین من غیر انزال المنی اذا توارت الحشفۃ والحیض والنفاس
پھر اپنے سر اور تمام بدن پر تین مرتبہ پا نی بہائے پھر اس جگہ سے ہٹ جائے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور عورت پر مینڈھیوں کا کھولنا ضروری نہیں غسل میں جبکہ پانی اس کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ۔ اور غسل واجب کرنے والے اسباب ہیں منی کا شہوت کی وجہ سے کود کر مرد اور عورت سے نیند یا بیداری کی حالت میں نکلنا او ر دونوں شرم گا ہو ں کا بغیر منی خارج ہوئے مل جا نا جبکہ سیپاری چھپ گئی ہو اور حیض و نفاس ۔
﴿ضفائرھا﴾ان دونو ں مقامات پر چونکہ عورت کا ذکر ہو رہا ہے اس لیے (ھا)کی ضمیر استعمال ہو ئی ہے ۔
﴿اذا﴾اذا شرط کے لیے آیا ہے یعنی اگر پانی بالو ں کی جڑوں تک پہنچ جائے تو پھر مینڈھیاں کھولنے کی ضرورت نہیں اور اگر پانی نہیں پہنچاتا تو پھر مینڈھیاں کھولے گی ۔
﴿وجہ الدفق﴾ بعض لوگوں کا مثانہ کمنرور ہو تا ہے اس لیے اگر کو ئی چھلانگ لگائے اور منی نکل جائے تو غسل واجب نہیں ہو گا ۔ کیونکہ علی وجہ الدفق سے مراد یہ ہے کہ منی اتنی تیزی سے خارج ہو کہ عضوسے جدا ہوتے وقت کو د جائے یعنی دور جالگے ۔اور شہوت کے ساتھ خارج ہو ۔تو جس آدمی سے منی کودنے یا چھلانگ لگانے یا بھا ری بوجھ اٹھا نے کی وجہ سے خارج ہو جائے تو چونکہ اس حالت میں منی نرمی سے نکل آتی ہے اور کو د کر شہوت کے ساتھ خارج نہیں ہوتی اس لئے اس حالت میں غسل واجب نہیں ۔
﴿شہوۃ﴾ یعنی نیند یا بیداری کی حالت میں کسی خوبصورت عورت یا لڑکی کو دیکھا اور شہوت کے ساتھ منی خارج ہوگئی تو غسل واجب ہو جائے گا۔
﴿توارت الحشفۃ﴾ وہ جگہ جہاں کی سنت کی جاتی ہے یعنی سر ذَکر جب عورت کے اندام میں داخل ہوجائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ منی خارج نہ ہو
﴿حیض ونفاس﴾ عورت کو جو خون آتا ہے جس کی مدت تین دن سے نو دن تک ہوتی ہے ،بچہ کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک عورت کو جو خون آتا ہے
وسن رسول اللہ ﷺ الغسل لجمعۃ والعیدین و العرفۃ والاحرام ولیس فی المذی والودی غسل وفیھما الوضوء والطھارۃ من الاحداث جائزۃ بماء السمآء والاودیۃ والعیون والابار والبحار ولایجوز بمائناعتصر من الشجر و الثمر
اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے غسل کرنا جمعہ کے دن دونو ں عیدوں اور حج کے دن او ر احرام باندھتے وقت ۔ اور واجب نہیں مذی اور ودی میں غسل کرنا اور ان دونوں میں وضو ہے اور پلیدیوں سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے آسمان کے پانی ، وادیوں کے پا نی چشموں کے پا نی ، کنوؤں کے پا نی اور سمندروں کے پا نی سے اور جائز نہیں اس پانی سے جو کہ نچوڑا گیا ہو درخت یا پھل سے ۔
﴿یوم الجمعہ ﴾صحیح بات یہی ہے کے جمعہ کی نماز کے لیے غسل کرناسنت ہے ۔وقت کے لیے نہیں کیونکہ نماز ،وقت سے افضل ہے۔
﴿عیدین﴾ یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی،عرفات کے دن اوراحرام باندھتے وقت نہا ناسنت ہے۔
﴿مذی ﴾ مذی میم کے فتح اور ذال کے سکون یا کسرہ کے ساتھ (مذی ، سفیدپتلاپانی ہوتا ہے جو شہوت کے وقت نکلتاہے لیکن شہوت کے ساتھ اور اچھل کودکرنہیں نکلتا ۔بعض اوقات اس کے نکلنے کا احساس تک نہیں ہوتا ۔مردوں کی نسبت عورتوں میں مذی زیادہ ہوتی ہے اور اسے قذی کہتے ہیں( مراقی الفلاح)۔
﴿ودی﴾ سفید رنگ کالیس دارمادہ ہوتاہے جوپیشاب کے بعدنکلتاہے ۔ مذی اور ودی کے نکلنے پر غسل فرض نہیں ۔بلکہ ان میں صرف وضوہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی مشہورروایت ہے کہ حضورپاک ﷺ نے ارشادفرمایا ’’ہرجوان کو مذی آتی ہے ۔ سواس کی وجہ سے عضوتناسل اورخصیے دھونے چاہئیں اور نمازجیسا وضوکرنا چاہیے‘‘(طحاوی شریف ) طہارت کے بیان سے فراغت کے بعدان پانیوں کی تفصیل ہے جن سے پاکی حاصل کی جاسکتی ہے فرماتے ہیں کہ بارش،وادی،چشمہ، کنویں اورسمندرکے پانی کے ذریعہ سے طہارت حاصل کی جاسکتی ہے بارش کے پانی کے بارے میں ارشاد تعالی ہے
’’ و انزلنامن السمآء ماء طہورا‘‘ ہم نے آسمان سے پا ک پانی برسایا ،( سنن اربعہ)
﴿فیھماالوضوء﴾ یعنی آگے بیان کیے گئے پانیوں سے وضو اورغسل جائز ہے ۔
﴿ بماء ن ﴾یہاں تنوین کو ختم کرنے کے لیے نون قنطی لایا گیا ہے اصل میں بماء تھا تنوین ختم کرکے اس کو نون قنطی کے ذریعے اگلے لفظ کے حرف سے ملادیا گیا ہے ۔
﴿اُعتصر﴾مجہول سے معلوم ہو ا کہ جو بخود انگوروغیرہ سے ٹپک پڑے تو اس سے وضو جائز ہے کیونکہ یہ ایک طرح کاقدرتی پانی ہے جو مصنوعی طریقہ کے بغیرنکل آیا ہے صاحب ہدایہ نے اس کی تصریح کی ہے اور جو امع ابو یوسف میں یہ مسئلہ موجود ہے ، البتہ فتاوی قاضی خان ، محیط ، کافی ،بحر ،نہر کتب فقہیہ سے معلوم ہو تا ہے کہ اس سے بھی وضو جائز نہیں ،شرح منیہ میں ہے کہ عدم جواز شبہ ہے ،قہستانی شارح نقایہ نے بھی اسی پر اعتماد کیا ہے۔
﴿شجرو ثمر﴾جوپانی کسی درخت یا پھل سے نچوڑا گیا ہو جیسے گنے کا رس اور تربوزکا پانی سے بلا تفا ق وضو جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ مطلق پانی کا فرد نہیں ہے۔
ولا تجوز بمآء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء کالاشربۃ والخل وماء الباقلاء وماء الزردج والمرق وماء الورد وتجوز الطہارۃ بکل
ماء خالطہ شئ طاھر فغیر احد اوصافہ کماء المد والعفص والماء الذی اختلط بہ الاشنان اواللبن اوالزعفران او الصابون وکل ماء دائم اذا و قعت فیہ نجاسۃ لم یجز الوضوء بہ والاغتسال
اور جائز نہیں اس پانی سے کہ غالب آگئی ہو اس پر کوئی اور چیز اور نکال دیا ہوا س پانی کو پانی کی طبیعت سے جیسے شربت ، دودھ ، قلولوں کا پانی ، گاجر کا رس، شوربا ، اور گلاب کا عرق ۔ اور اس پانی کے ساتھ کہ جس میں کوئی پاک چیز مل جائے ۔ اور بدل دے اس پانی کا ایک وصف جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی کہ جس میں گھاس یا دودھ یا زعفران یا صابون مل جائے جائز ہے پاکیزگی حاصل کرنا ۔ ہر اس کھڑے پانی سے وضو اورغسل جائز نہیں جب اس میں نجاست گرجائے ۔
﴿بماء غلب ﴾یعنی اس کو پانی نہ کہا جاسکے کسی اور چیز کے غلبہ کی وجہ سے جیسے سرکہ جو کہ پانی ہے مگر غلبہ سرکہ کا ہے اسی طرح شربت کہ جس پر غلبہ چینی کا ہے تو ایسے پانی سے وضو جائز نہیں ۔
﴿لبن﴾ دودھ میں چور اسی( ۸۴) فیصد پانی اورسولہاں (۱۶) فیصد چکناہٹ ہے ۔
﴿فغیرہ ﴾غیر نکلاہے تغیر سے ۔
﴿اوصافہ﴾یعنی پانی کا رنگ ،ذائقہ اور بو مراد ہے پانی کیطعبیترقت اور سیلان ہے ۔ پس پانی کے ساتھ پاک چیر مل کے اگر گاڑھا ہو جائے تو اس سے وضو و غسل درست نہیں ۔جیسا شوربہ ،شربت ،گاجر،گلاب ، قلول کے پانیوں سے وضو و غسل جائز نہیں اور یاد رہے کہ پانی کی دو قسمیں ہیں مطلق و مقید، مطلق وہ پانی ہے جو اس صفت پر باقی رہے جس پر وہ آسمان سے اترا ہے مصنف نے اس سے طہارت جائز لکھا ہے اور مقید وہ پانی ہے جو صفت منزل میں من الاسماء پر باقی نہ رہے اور اس سے مصنف نے طہارت نا جائز لکھا ہے ۔پانی کے تین اوصاف ہے رنگ، مزہ ، بو، پس پانی میں کوئی پاک چیز مل جانے یا پانی کہیں دیر تک ٹھہرے رہنے سے اس کاا یک وصف اگر بدل جائے تو اس سے وضو جائز ہے اگر دوو صف بدل جائیں تو جائز نہیں لیکن عنایہ میں اساتذہ سے منقول ہے کہ جاڑے کے موسم میں جس تالاب و حوض کے پانی میں درخت کے پتے گر کے اس کے رنگ مزہ بو تینوں بدل جائیں اس سے وضوو غسل اورہر قسم کی طہارت درست ہے مگرشرط یہ ہے کہ پانی کیطعبیترقت وسیلان باقی رہے ۔
﴿کماء المد﴾سیلاب کے پانی کا صر ف رنگ بدل جاتا ہے اس لیے اس کیساتھ وضو کرنا جائز ہے اشنا ن ایک قسم کا گھاس ہے جو زمین شورہ میں پیدا ہوتا ہے اس سے لوگ کپڑے صاف کرتے ہیں صابون کے مانند
قلیلا کان او کثیرا لان النبیﷺامر بحفظ المآء الدئم من النجاسۃ حیث قال لا یبولن احدکم فی الماء الدائم ولا یغتسل فیہ من الجنابۃ والخبر المشہور ھو ماروی عن النبی ﷺ انہ قال اذا استیقظ احدکم من منامہ فلا یغمسن یدہ فی الاناء حتی یغسلہا ثلثا فانہ لا یدری این باتت یدہ من جسدہ والماء الجاری اذا وقعت فیہ نجاسۃ جاز الوضوء منہ
تھوڑی ہو نجاست یا زیا دہ ۔ اس لیے کہ تحقیق نبی ﷺ نے نجاست سے پانی کی حفاظت کا حکم فرمایا ۔ پس فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک بھی کھڑے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ اس میں غسل جنا بت کرے ۔ اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب تم میں سے کوئی ایک اپنی نیند سے بیدار ہو تو ہرگز برتن میں ہا تھ نہ ڈالے یہاں تک کہ ہاتھ کو تین مرتبہ دھولے کیونکہ یقینا وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہا ں گذاری ۔ اور جان لے کہ جب جاری پانی میں نجاست گر جائے تو اس پانی سے وضو کر نا جا ئز ہی
﴿نون ثقلیہ﴾ نون ثقلیہ کی وجہ سے ’’ ہرگز ‘‘ کا ترجمہ کیا گیا ہے
﴿من الجنابہ﴾ اس حکم میں جنبی کے بدن کے ساتھ اس کے کپڑ ے بھی شامل ہیں کہ وہ کپڑے بھی نہ دھوئے جائیں ۔
﴿یغلسلھاثلثا﴾ تو اس روایت میں آپ ﷺ نے نجاست کے اندیشے کی بنا ء پر تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے تو اگر نجاست یقینی طور پر موجود ہو ۔تب تو بدرجہ اولی یہ حکم ثابت ہوگا ،علاوہ ازیں دیدنی ( مرئی) نجاست بھی ایک بار دھونے سے زائل نہیں ہوتی ، تو اسی طرح غیرمرئی(نظرنہ آنے والی) نجاست تو بدرجہ اولی اس سے زائل نے ہوگی ۔اور ان دونوں میں اس کے سوا اور کوئی فرق نہیں ہوتا کہ اول الذکر کو اس کے ذریعے محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن موخرالذکر کا ادرک مخص عقل وفکر سے ہو تا ہے ۔( بدائع الصنائع جلد اول ص ۳۱۷)
اذامالم یرلہا اثر لانہا لا تستقر مع جریان الماء و الغدیر العظیم الذی لا یتحرک احد طرفیہ بتحریک الطرف الاخر اذا وقعت انجاسۃ فی احدجانبیہ جاز الوضوء من الجانب الاخر لان الظاھر ان النجاسۃ لا تصل الیہ وموت مالیس لہ نفس سائلۃ فی الماء لاینجس الماء کالبق والذباب و الزنابیر و العقارب وموت مایعیش فی الماء لا یفسدہ کالسمک والضفدع و السرطان و الماء المستعمل لایجوز استعمالہ ثانیا فی طہارۃ الاحداث
جب تک کہ اس نجاست کا اثر دکھائی نہ دے اس لیے کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ نجاست نہیں ٹھہر سکتی ۔ اور وہ بڑا تالاب کہ جس کا ایک کنارہ حرکت دینے سے دوسرا کنارہ حرکت نہ کرے جب اس تالاب کے ایک کنارے میں نجاست گر جائے تو اس کے دوسرے کنارے سے وضو کرنا جائز ہے اس لیے کہ ظاہر ہے کہ وہ نجاست دوسرے کنا رے تک نہیں پہنچ سکتی ۔ اور پا نی میں ایسی چیز کا مر جانا کہ اس میں بہتا ہو ا خون نہ ہو پانی کو پلید نہیں کرتا جیسے مچھر ، مکھی ، زنبور اور بچھو ۔ اور پانی میں ایسی چیز کا مر جانا جو پانی میں زندگی بسر کرے پانی کو خراب نہیں کرتا جیسے مچھلی ، مینڈک اور کیکڑا ۔ اور جان لے کہ نجاست حکمی کو دور کرنے میں استعمال شدہ پانی کو استعمال کرنا جائز نہیں ۔
﴿غدیر﴾وہ تالاب جو (۱۰ ×۱۰)ہو یعنی شرعی دس گز ۔شرعی گز ایک ہاتھ کے برابرہوتا ہے چوکہ نجاست وہاں نہیں پہنچ سکتی اس لیے پانی پاک ہے اور اس جگہ سے وضو کرنا جائز ہے
﴿نفس سائلۃ﴾ لہذا معلوم ہو ا کہ پلیدکرنے والی شئے خون ہے چونکہ ان میں خون نہیں اس لیے یہ پانی کو پلید نہیں کرتے ۔ ﴿لایفسدہ﴾ یعنی ایسے پانی سے وضو اورغسل کرنا جائز ہے
﴿لایجوز﴾یعنی ایک شخص نے وضو کیا یا غسل کیااور وہ پا نی جمع ہو گیا اب اسی پانی سے کوئی دوسرا شخص وضو یا ٖغسل کرے تو جائز نہیں ہے
والماء المستعمل کل ماء ازیل بہ الحدث او استعمل فی البدن علی وجہ القربۃ وکل اھاب اذا دبغ فقد طھرجازت الصلوۃ علیہ والوضوء منہ الا جلد الخنزیر و الادمی وشعر المیتۃ و عظمھا و قرنھا وریشھا وصوفھا وظفرھا وعصبھا طاھر اذا لم یکن علیہا دسم واذا وقعت فی البیر نجاسۃ نزحت فکان نزح ما فیھا من الماء طھارۃ لھا وان ماتت فی البیر فارۃ او عصفورۃ او صعوۃ او سودانیۃ او سام ابرص نزح منھا ما بین عشرین دلوا الی ثلثین بحسب کبرالدلو وصغرھا
اور مستعمل پانی وہ ہے کہ جس کے ساتھ نجاست حکمی کو دور کیا گیا ہو یا ثواب کی غرض سے بدن پر استعمال کیا گیا ہو ۔ اور ہر چمڑا سوائے سور اور آدمی کے چمڑے کے جب دباغت کیا جائے پس تحقیق وہ پاک ہو گیا ۔ اس پر نماز پڑھنا اور اس سے وضو کرنا جائز ہے ۔ اور مردار کے بال ، ہڈیاں ، سینگ ، ریشے ، پشم ، ناخن اور پٹھے پاک ہیں جبکہ ان پر چربی نہ ہو۔ اور جب کنوئیں میں نجاست گرجائے تو سارا پانی نکالا جائے گا ۔ پس یہ سا را پانی نکال لینا ہی پاک کرتا ہے ۔ اور اگر کنوئیں میں چوہا یا چڑہا یا ممولا یا بھجنگا یا چھپکلی مر گئی تو اس کنوئیں سے بیس سے تیس ڈول تک نکالے جائیں گے ڈول کے بڑے اور چھوٹے ہونے کے اعتبار سے
﴿علی وجہ القربۃ﴾ یعنی آپ کا وضو ہے اور آپ نماز یا کسی اور عبادت کے لیے تازہ وضو کرتے ہیں اسی طرح پاک ہو نے کے باوجو د غسل کرنا۔
﴿ دبغ ﴾دباغت سے مراد چمڑے سے تما م گوشت اور چربی صاف کردی جائے پھر اسے چونے یا رنگ یاایسی چیز سے اس کو دھو یا جائے کہ اس پر گوشت ،چربی یا چکنا ہٹ کا اثر باقی نہ رہے ۔ایک قوم ہے جو دباغت کا کام کرتی ہے۔
﴿جازت الصلوۃ علیہ ﴾ شیعہ اور معتزلہ حضرات قراقلی ٹوپی پہن کرنما زپڑھنے کو ناجائز سمجھتے ہیں ہما ر ا ان سے اختلاف ہے وہ یہ کہ اگرچمڑے کی دباغت کے بعد اس پر نماز پڑھنا جائز ہے توا سکی ٹوپی پہن کربھی نماز جائز ہے ۔
﴿الاجلدخنزیر﴾تمام جانوروں کے چمڑے دباغت کے بعد پاک ہوجاتے ہیں مگر سور اورانسان کے چمڑے چالیس بار دھونے پر پاک نہیں ہوتے اور کلی طور پر ناپاک رہتے ہیں ۔سور کا چمڑااس کی رذالت کی بنا ء پر اور انسان کا چمڑا اس کی شرافت کی بناء پر پاک نہیں ہو تا ﴿اذا ﴾ ’’ اذا ‘‘ شرط کے لیے آیا ہے اس سے پہلے کا ٹکڑا بعد والے ٹکڑے سے مشروط وہو گیا یعنی بعد والا جملہ شرط ہے ۔
﴿وقعت﴾ وقع ،یقع ،وقعا بمعنی گرنا ۔
﴿نزحت ﴾نزح کا معنی ہے کھینچنا ۔نکالنا۔
﴿او سام ابرص ﴾یہ تو انھوں نے چند جانوروں کا ذکر کیا ہے یہاں اسی طرح کے اوربھی جانور اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ ﴿کبرالدلو وصغرھا﴾یعنی متوسط ڈول نکالے جائیں گے ۔
وان ماتت فیھاحمامۃ او دجاجۃ او سنور نزح منھا مابین اربعین دلوا الی ستین وان مات فیھا کلب او ادمی او شاۃ نزح منھا جمیع مافیھا من الماء وان انتفخ الحیوان فیھا او تفسخ نزح جمیع مافیھا من الماء صغر الحیوان اوکبر وعدد الدلاء یعتبربالدلو الوسط المستعمل فی الابار فی البلدان و ان نزح منھا بدلو عظیم قدر ما یسع فیہ من الدلاء الوسط احتسب فیہ
اور اگر کنو ئیں میں کبوتریا مرغی یابلیمرجائے توچالیس اور پچاس کے درمیان ڈول نکلے جائیں گے ،اگر کنوئیں میں کتایا خنزیر یا بکری یا آدمی مر گیا تو اس کنوئیں سے تما م پا نی جو کہ اس میں ہے نکالا جائے گا ۔ اور اگر کنوئیں میں جانور پھول جائے یا پھٹ جائے تو کنوئیں میں موجود تمام پانی نکالا جائے گا خواہ وہ جانور چھوٹا ہو یا بڑا ۔ اور ڈولوں کی تعداد کو اعتبار درمیانے ڈول سے کیا جائے گا جو کہ کنوؤں میں استعمال ہو تا ہے اور اگر کنوئیں سے بڑے ڈول سے اس اندازے کے مطابق پانی نکالا جائے جو درمیانی ڈولوں میں سما جائے تو درمیانی ڈول سے حساب لگایا جائے گا
﴿ انتفخ الحیوان﴾یہاں ’’ان ‘‘ کے نون کو ’’انتفتح ‘‘ کے نون سے ملاکرہمزہ وصل کو گرا دیا کیونکہ ہمزہ وصلی درجہ کلام میں ساقط ہوجاتاہے ۔
﴿عدد الدلاء ﴾ دلاء جمع ہے دلو کی یعنی ڈولیں یا ڈولوں یعنی جس کے ذریعے لوگ عموما پا نی نکالتے ہوں یعنی اس جانور کے وجو د کے اجز اء (ٹکڑے ) پانی میں شامل ہو گئے ۔
وان کانت البیر معینا لایمکن نزحھا و وجب نزح مافیہا من الماء اخرجوا مقدار ماکان فیہا من الماء طھارۃ لھا وقدروی عن محمد انہ قال ینزح مابین مائتا دلو الی ثلثمائۃ وقال بعضھم یحفر بجنبھابیر اخری علی قدر عمقھا و عرضھا من موضع الماء ثم ینزح الماء من تلک البیر فیجعل فی ھذہ الحفرۃ فاذا امتلئت الثانیۃ مثلھا حکم بطھارۃ الاولی
اور اگر کنواں چشمہ والا ہو کہ نا ممکن ہو اس کا تما م پانی نکا لنا حالانکہ اس کا تما م پانی نکالنا واجب ہو گیا ہو تو کنوئیں کی پاکی کے لیے اس میں موجود پانی کو اندازہ کرکے اتنا پانی نکال لو ۔ اور تحقیق امام محمد سے روایت کی گئی ہے کہ انھوں نے کہا اس کنوئیں سے دو سو سے تین سو ڈول تک نکالے جائیں ۔ اور ان کے بعض علماء نے کہا ہے کہ اس کنوئیں کے پہلو میں پانی کی گہرائی اور اس کی چوڑائی کے برابر دوسرا کنواں کھودا جائے پھر پہلے کنوئیں سے پانی نکالا جائے اور دوسرے کنوئیں میں ڈالا جائے پس جب پہلے کی مانند دوسرا بھر جائے تو پہلے کے پاک ہونے کا حکم دیا جائے گا۔
﴿ قدر عمقھا﴾عمق نکلا ہے عمیق سے جس کے معنی گہرائی کے ہیں۔
واذا وجد وا فی البیر فارۃ میتۃ او دجاجۃ او غیر ھما ولایدرون متی وقعت ولم تنتفخ ولم تفسخ اعاد واصلوٰۃ یوم ولیلۃ اذا کانوا توضؤا منھا و غسلوا کل شئ اصابہ ماؤھا وان کانت انتفخت او تفسخت اعادوا صلوٰۃ ثلثۃ ایام و لیالیہا وھذا فی قول ابی حنیفۃ و قالا لیس علیہم الاعادۃ حتی یتحققوا متیٰ وقعت وسؤر الادمی والفرس
اور اگر کنوئیں میں مرا ہو ا چوہا یا مرغی یا ان دونوں کے سوا کوئی اور چیز پائیں اور نہیں جانتے کہ کب گرا ہے اور وہ نہ پھو لا ہے اور نہ پھٹا ہے اگر وضو کرتے تھے اس کنوئیں سے تو ایک دن اور رات کی نماز یں لوٹائیں گے ۔ اور ہر اس چیز کو دھوئیں جس کو اس کنوئیں کا پا نی پہنچا ۔ اور اگر پھول جائے یا پھٹ جائے تو تین دنوں اور راتوں کی نماز یں لوٹائیں گے اور یہ امام ابوحنیفہ رحمت اللہ علیہ کا ارشاد گرامی ہے اور صاحبین فرماتے ہیں کہ ان پر اعادہ نہیں ہے یہاں تک کہ ثابت ہو جائے کہ کب گرا ہے ۔اور آدمی ، گھوڑے اور ان جانوروں کا جھوٹا ( پس خوردہ ) پاک ہے جن کا گوشت کھا یا جاتا ہے
﴿اعادوا﴾ اس مسئلہ سے ہمارے استادوں نے اسقاط کاحیلہ کوثابت کیا ہے کہ مردے کے پیچھے دس روپے یا پچاس روپے جو دیئے جاتے ہیں وہ اس لیے کہ معلوم نہیں اس کی کتنی نمازیں قضا ہوئیں تو ان نمازوں کے بدلے میں جو پیسے اسقاط کے دیئے جاتے ہیں
اللہ تعالی ان نمازوں کے بدلے میں یہ اسقاط قبول فرماتاہے جیسے اگر کنوئیں میں آٹھ دن تک چوہا پڑا رہا تواس پانی سے وضو کرنے والے کی چالیس نمازیں چلی گئیں مگر پانچ نماز یں اس کی چالیس نمازوں کی کفایت کریں گی یہ حیلہ کہلاتا ہے۔
﴿کل شئ﴾یعنی برتن ،کپڑے وغیرہ کہ یہ چیزیں بھی ناپاک ہو گیئں ۔
﴿لیالیہا﴾ اس مسئلہ سے ثابت ہو تا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اسقاط کرنا چاہیے۔
﴿وقالا﴾قالا تثنیہ ہے اس سے مراد امام ابویوسف اور امام محمد ہیں ۔
﴿والفرس﴾’’ والفرس ‘‘ میں ’ ’ و ‘‘ عطف ہو گیا ’’ سؤر ‘‘ جھوٹاپانی کی طرف۔
وما یوکل لحمہ طاھر وسؤرالکلب والخنزیر وسباع البھائم نجس وسؤرالھرۃ والدجاجۃ المخلاۃ و سباع الطیورالذی لا یوکل لحمہ وما یسکن فی البیوت مثل الفارۃ والحیۃ مکروہ وسؤرالحمار والبغل مشکوک فان لم یجدالانسان غیرھما توضا بھما وتیمم وصلی وبایھمابہ قدم جاز
اور کتے خنزیر اور چیرپھاڑ کرنے والے درندوں کا جھوٹا نا پاک ہے اور بلی ، کوچہ گرد مرغی ، شکاری پر ندے جن کا گوشت نہیں کھا یا جاتا اور ان جانوروں کا جھوٹا جو گھروں میں رہتے ہیں جیسے کہ چوہا اور سانپ مکروہ ہے ۔ اور گدھے و خچر کا جھوٹا مشکوک ہے ۔ پس اگر ان دونوں کے بغیر پانی نہ پائے تو وضو کرے ان دونوں سے اور تیمم کرے اور نماز پڑھے اور ان دونوں میں سے جو بھی پہلے کرے جائز ہے ۔
﴿وما﴾یہ ’ ’ ماء ‘‘ موصولہ ہے۔
﴿والدجاجۃ المخلاۃ﴾ ایسی مرغی کو ذبح کرنے سے پہلے آٹھ دس گھنٹے کے لیے باندھ دینا چاہیے تاکہ جو گند وغیرہ اس نے کھایا ہے وہ اس کے معدہ سے نکل جائے۔
﴿غیرھما﴾ یعنی اگر گدھے اورخچر کے جھوٹے پانی کے سوا پانی موجود نہ ہو تو یہ پانی استعما ل کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔
﴿وتیممہ ﴾یعنی اگر گدھے اورخچر کے جھوٹے سے وضو کرنا پڑجائے تواس کے ساتھ تیمم بھی کرنا چاہیے ۔اور تیمم اوروضومیں سے جو بھی پہلے کرے وہ جائز ہے ۔
باب التیمم
ومن لم یجدالماء وھو مسافر اوکان خارج المصر بینہ و بین المصر نحومیل او اکثر او کان یجدالماء الا انہ مریض فخاف ان استعمل الماء اشتد مرضہ او خاف الجنب ان اغتسل بالماء یقتلہ البرد او یمرضہ فانہ یتیمم بالصعید والتیمم ضربتان یمسح باحدہما وجہہ ومسح بالاخری یدیہ الی المرفقین
تیمم کا بیان
اور جو شخص پانی نہ پائے اور وہ مسافر ہو یا شہر سے باہر ہو اس کے اور شہر کے درمیان ایک میل یا زیادہ ہو ۔ یا پانی پاتا ہے مگر یہ کہ وہ بیمار ہے پس ڈرتا ہے کہ اگر پانی استعمال کیا تو اس کی بیما ری بڑھ جائے گی یا جنبی ڈرتا ہے ۔ کہ اگرپا نی کے ساتھ نہایا تو سردی کی وجہ سے مر جائے گا یا اس کو بیمار کر دے گا پس بے شک وہ پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرلے ۔ اور تیمم کے لیے دو ضربیں ہیں ۔ ان دوضربوں میں سے ایک کے ساتھ اپنے چہرے کا اور دوسری کیساتھ اپنے ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کر ے گا ۔
﴿تیمم﴾ لغت میں تیمم کا معنی ارادہ کرنا ،قصد کرنا ہے شرعی اصطلاح میں واسطے طہارت کے مٹی کی طرف قصدکرنا تیمم کہلاتا ہے (ھدایہ )۔
﴿خارج المصر﴾ بعض کتب میں چُنگی کو خارج المصر قرار دیا گیا ہے ۔شہر میں داخل ہونے کے لیے جہاں سے محصول دیا جائے وہاں سے شہر شروع ہو تا ہے ۔
﴿بالصعید﴾ پاک کا معنی صعید کے اندرچھیا ہو اہے۔
﴿ضربتان﴾ضرب ، یضرب ،ضربا کے معنی مارنے کے ہیں ۔ضرب کے تین معنی ہیں ضرب زدن۔مارنا ،ورفتن بروئے زمین ۔زمین پر سیاحت کرنا و پدید کردن مثل۔یا کوئی ضرب المثل بیان کرنا ۔جیسے قرآن مجیدمیں ہے ۔ان اللہ لایستحی ان یضرب مثلا مابعوضۃ فما فوقھا( بے شک اللہ تعالیٰ اس سے حیانہیں فرماتاکہ مثل سمجھانے کوکیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر) ضرب کامعنی یہا ں ’’بیان کرنا ‘‘ ہے پھر آتاہے’’یضربون فی الارض ‘‘ ( زمین پر چلتے ہیں ) پھر آتا ہے اضرب بعصاک الحجر ( اس پتھر پراپنا عصامارو) جب قرینہ ایک معنی کا ہو تو دوسرے دومعنی نہیں کریں گے جیسے ’’مثلا‘‘ قرینہ ’’بیان کرنے ‘‘ کے معنی کے لیے مارو ’’عصا‘‘ قرینہ ہے ’’مارنے ‘‘ کے معنی کے لیے دو دفعہ مارنا ہے اس پاک مٹی پر۔
﴿ باحدھما﴾ باحدھما میں ’’ھما ‘‘ تشنیہ ہے اور’’ضربتان ‘‘ کی طرف راجع ہے ۔
﴿الی المرفقین ﴾ چہرے اور دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت پاک مٹی کے ساتھ مسح کرنے سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے ۔ بعض فقہا ء کے نزدیک سر کا مسح کرنااقویٰ، احوط اوربہترہے کیونکہ وضوکے فرائض میں شامل ہے ۔اس کا ذکر ھدایہ اورفتاوی وغیرہ کے حواشی میں آتاہے ۔
والتیمم فی الحدث والجنابۃ سواء ویجوز التیمم عند ابی حنیفۃ ومحمد بکل ما کان من جنس الارض کالتراب والرمل و الحجر والجص والنورۃ والکحل والزرنیخ وقال ابو یوسف لا یجوز الا بالتراب والرمل وقال الشافعی لا یجوز الا بالتراب خاصۃ والنیۃ فرض فی التیمم ومستحبۃ فی الوضوء
اور بے وضوئی اور جنا بت کے لیے تیمم یکساں ہے ا ور امام ا بو حنیفہ ا ور امام محمد کے نزدیک تیمم ہر اس چیز پر جائزہے جو کہ زمین کی جنس سے ہو جیسے مٹی ، ریت ، پتھر ، گچ ، چونہ ،سرمہ اور ہرتال ۔ اور امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سوائے مٹی اور ریت کے جائز نہیں ۔ اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ جائز نہیں مگر صرف مٹی کے ساتھ ۔ اور نیت کرنا تیمم میں فرض ہے اور وضو میں مستحب ہے
﴿والجنابۃ﴾چاہے وہ محتلم ہے یا شہوت کے ساتھ منی خارج ہو ئی ہے
﴿ہرتال ﴾زرد مٹی جو کڑوی ہوتی ہے الزرنیخ ہرتال ( ایک قسم کا سینکھیا ہے )المجم الاعظم صہ۱۲۴۶ ج ۲
وینقض التیمم کل شئ ینقض الوضوء وینقضہ ایضا رویۃ الماء اذا قدر علی استعمالہ ولا یجوز التیمم الا بصعید طاھر ویستحب لمن لم یجد الماء فی اول الوقت وھو یرجو ان یجدہ فی اخرالوقت ان یؤخر الصلوۃ الی اخر الوقت
اور تیمم کو توڑ دیتی ہے ہر وہ چیز جو وضو کو توڑ دیتی ہے اور پانی کا دیکھنا بھی تیمم کو توڑ دیتا ہے جبکہ اس پانی کے استعمال پرقدرت حاصل ہو ۔ اور تیمم جائز نہیں ہے مگر پاک مٹی پر ۔ اور مستحب ہے اس شخص کے لیے جو پہلے وقت میں پانی نہیں پاتا اور وہ آ خر وقت میں پانی پانے کی امید رکھتا ہے یہ کہ آخر وقت تک نماز میں تاخیر کر لے
﴿ینقض الوضوء﴾جیسے ریح کے خارج ہونے اورسبیلین میں سے یا خون کا بہنا وغیرہ وضو کو توڑدینا ہے اسی طرح تیمم بھی ٹوٹ جاتاہے
﴿بصعید طاھر﴾یعنی ایسی جگہ جہاں گوبر ،لید یا کوئی اورپلیدی موجود ہے وہاں پر تیمم کرنا جائز نہیں کیونکہ اس جگہ کی مٹی پا ک کرنے والی نہیں ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے کہ :فتیممواصعیداطیبا ( تو پاک مٹی سے تیمم کرو) اکثر مولانا صاحبان سڑک پرنما زجنا زہ پڑھاتے ہیں جو کہ درست نہیں کیونکہ سڑک پر گدھے ،گھوڑے بیل وغیرہ کی لید ، گوبر یا پیشاب ہو تاہے ایسی جگہ پر تیمم جائز نہیں تو نما ز جنا زہ کیسے جائز ہوسکتی ہے یعنی اتنا پانی کہ جس سے وضو ہو سکے اورجنا بت کی صورت میں غسل کے لیے پانی کافی ہو،صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ بعضوں کے نزدیک جنب،حیض اورنفاس کی صورت میں پاک ہونے کے لیے تیمم جائز نہیں اوربعض فرماتے ہیں کہ جائز ہے یہ مسئلہ صحابہ میں مختلف فیہ ہے ۔ حضرت عمر و عبداللہ ابن مسعود و عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہم( یہ تینوں اصحاب ۔۔ ہیں ) بے شک وہ جنبکے لیے تیمم قبول نہیں کرتے تھے ۔ان کے اختلاف کا حاصل یہ نکلاکہ عمر عبداللہ ابن مسعود اورعبداللہ ابن عمر کے مطابق لاستم النساء کا معنی ہے کہ تم عورتوں کو ہاتھوں سے مت چھوؤاوروہ کہتے تھے بے شک اللہ تعالیٰ نے مباح کیا تیمم کو صرف محدث کے لیے اورجنبکے لیے نہیں ۔ قیاس تیمم کو نہیں رکھتاسوائے محدث کوپاک کرنے کے برخلاف قیاس جنا بت ،حدث سے اوپر کا درجہ ہے لہذا اس کی طہوریت ثابت نہیں ہوتی اس کے حق میں ۔حضرت علی ،ابن عباس اور حضرت عائشہ کہتے ہیں کہ لامستم النساء کا معنی صرف چھونا نہیں ہے بلکہ جماع کرنا ہے ہم صحبت ہونا ہے ۔اللہ تعالیٰ نیجنبکے لیے بھی تیمم کو مباح کردیا ہے جیسے کہ محدث کے لیے کیاہے ۔یہ صحابہ کا اختلاف تھا۔واصحابنا (متکلم) اب حنفیوں کا کیا کہنا ہے۔اس میں ایک بڑی نازک با ت ہے اگر ہم بیان کریں تو مولاناصاحبان ڈنڈے لے کر ہما ری گردن توڑتے ہیں وہ بات محدثین کی تھی یہ بات اب حنفیوں کی ہے ہم حنفیوں کی بات مانیں گے محدثین کی بات پر نہیں جائیں گے ۔انھوں نے (اخذوا) حضرت علی وغیرھم کی بات پر فتو ی دیا ہے (جیسے کہتے ہیں وبہ ناخذ)۔نہایہ فتویٰ دونوں پر جائز ہے ہم حضرت علی وغیرھم کی طرف آگئے اور شافعی حضر ت عمر وغیرھم کی طرف چلتے گئے اگر شافعی کے مقلد بن کروہ جاتے ہیں تو جائیں ہم ان کی با ت قبول کرتے ہیں لیکن اگر غیر مقلدبن کرجائیں تو ہم نہیں
ما نتے ہیں ۔ ہما ر اجھگڑا وہابیوں سے یہی ہے کہ وہ مقلدنہیں ہیں نہ امام شافعی کے مقلد ہیں نہ امام حنبل کے نہ امام ا بوحنیفہ کے اورنہ امام مالک کے ، اب شافعی بھی گئے ہیں تو صحابہ کی تقلید کرتے ہوئے گئے ہیں ۔عبداللہ ابن مسعود اورابن عمر بھی صحابی ہیں اورحضرت عمر،اکبر صحابی ہیں لہذا ان کی طرف چلتے گئے تو درست ہے ۔شافعی اگر امام شافعی کی تقلیدکرتے ہوئے ’’ لامستم النساء ‘‘ کو صرف چھونا ہی مراد لیتے ہیں اور تیمم وہاں تسلیم نہیں کرتے تو باکل ٹھیک کرتے ہیں ۔اس لیے کہ وہ تقلیدکرتے ہیں ہم حضرت علی وحضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن عباس کی روایت کو قبول کرتے ہوئے ان کی تقلیدکرتے ہیں لہذا ہم اپنی جگہ حق پر ہیں ۔شافعی سے ہمارا جھگڑا نہیں ہے غیرمقلدسے ہے جو کسی کی تقلیدنہیں کرکے کہتاہے کہ میں مانتاہوں ہم کہتے ہیں کہ ہم نہیں مانتے ،معلوم ہو ا شافعی اور حنفی دونوں حدیث پر چلتے ہیں ،ہم حدیث کومانتے ہیں لیکن فقاہیت میں جو ہمارے فقہ کے امام ہوں گے ہم ان کو مانیں گے ۔
فان وجد الماء توضاء و الاتیمم و صلی ویصلی بتیممہ ماشاء من الفرائض والنوافل مالم یجد الماء ویجوز التیمم للصحیح المقیم اذا حضرت الجنازۃ والولی غیرہ فخاف ان اشتغل بالطھارۃ ان تفوتہ صلوۃ الجنازۃ فلہ ان یتیمم ویصلی
پس اگر پانی پالے تو وضو کرے اور اگر نہیں پاتا تیمم کر لے اور نما ز پڑھے اور تیمم کے ساتھ جو چاہے اور جس قدر چاہے فرائض و نوافل میں سے نماز پڑھے جب تک کہ پانی نہ پائے اور تندرست کے لیے شہر کے اندرتیمم جائز ہے ۔ جب جنازہ حاضر ہو جا ئے اور اس کا ولی کو ئی اور ہو پس اگر اندیشہ ہے کہ وضو میں مشغول ہو گیا تو نماز جنا زہ فوت ہو جائے گا پس اسے چاہیے کہ تیمم کر کے نماز پڑھ لے
﴿فلہ ان یتیمم ﴾جنازہ کی نماز اور عید کی نماز کے لیے تیمم کرسکتاہے کیونکہ اگران میں سے نما ز چھوٹ گئی تو ان میں سے کوئی نما ز دوبارہ نہیں ہوگی۔
﴿صلی الظہر﴾ یعنی ظہرکی نماز جمعہ کی نماز کے قائم مقام ہے
وکذلک من حضر العید فخاف ان اشتغل بالوضوء ان یفوتہ صلوۃ العید فانہ یتیمم ویصلی ومن حضر الجمعۃ فخاف انہ ان اشتغل بالطھارۃ تفوتہ صلوۃ الجمعۃ فلا یتیمم ولکن یتوضاء فان ادرک الجمعۃ صلاھا والا صلی الظھر اربعا وکذلک اذا ضاق الوقت فخشی ان توضاء فاتہ الوقت لم یتیمم ولکن یتوضاء ویقضی ما فاتہ
اور اسی طرح وہ شخص جو عید کی نما ز پالے پس اندیشہ ہے کہ اگر وضو میں مشغول ہو ا تو عید کی نماز اس سے فوت ہو جائے گی ،پس بے شک وہ شخص تیمم کرے اور نماز پڑھ لے ۔ اور وہ شخص جو نماز جمعہ کے لیے حاضر ہو پس وہ اندیشہ کرتا ہے کہ اگر وضو میں مشغول ہو ا تو اس سے جمعہ کی نماز فوت ہو جائے گی تو تیمم نہ کرے اورلیکن وضو کرے پس اگر نماز جمعہ پالے تو اس سے پڑھ لے اور اگر نہ پائے تو ظہر کی چار رکعت پڑھ لے اور اسی طرح جب وقت تنگ ہو پس اندیشہ ہو کہ اگر وضو کرے تو اس سے وقت نکلتاہے تو تیمم نہ کرے ۔ اورلیکن وضوکرے اور قضا کرے اس نماز کو جو اس سے رہ گئی ۔
﴿تفوتہ الوقت﴾ یعنی پانچوں نماز وں میں سے کسی بھی نماز کا وقت تنگ ہورہا ہے ۔اگروضو کرے توظہر کا وقت عصر میں داخل ہو تا ہے یا عصر کا وقت مغرب میں داخل ہو تا ہے با مغرب کا عشاء میں داخل ہوتا ہے۔
﴿ویقضی﴾یعنی قضا کرے کیونکہ ان نمازوں کے قائم مقام قضا نما زیں ہیں جبکہ عید اورجنازہ کی نمازکے قائم مقام قضاء نمازیں نہیں اس لیے وہاں تیمم کرسکتاہے۔
والمسافر اذا نسی الماء فی رحلہ فی السفر فتیمم وصلی ثم ذکرالماء فی الوقت لم یعد صلوتہ عند ابی حنیفۃ و محمد وعند ابی یوسف یعیدھا ولیس علی المتیمم ان یطلب الماء اذا لم یغلب علی ظنہ ان یقربہ ماء وان غلب علی ظنہ ان ھناک ماء لم یجزلہ ان یتیمم حتی یطلبہ و ان کان مع رفیقہ ماء طلبہ منہ قبل ان یتیمم فان منعہ منہ تیمم وصلی
اور مسافر جب سفر میں پانی سامان میں رکھ کر بھول گیا پس تیمم کیا اور نما ز پڑھ لی پھر اسے یا د آیا تو اپنی نماز نہ لوٹائے امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اور امام ابی یوسف کے نزدیک اسے لوٹائے ۔ اور تیمم کرنے والے پر پانی تلاش کرنا ضروری نہیں جبکہ پانی کے اس کے قریب ہونے پر اس کو غالب گمان نہیں ۔ اور اگر اس کو غالب گمان ہو کہ یہاں کہیں پانی ہے تو تیمم کرنا جائز نہیں ۔ جب تک کہ پانی کو تلاش نہ کرے ۔ اور اگر اس کے ہم سفر کے پاس پانی ہو تو تیمم کرنے سے پہلے اس سے مانگے ۔ پس اگر وہ پانی نہ دے تو تیمم کرکے نماز پڑھ لے ۔
﴿نسی الماء﴾ یعنی پانی اپنے کجاوے یا موٹر یا ریل وغیرہ میں رکھ کربھول جائے۔
﴿ثم تذکر﴾ یعنی یاد آیا کہ اس کے سامان میں پانی موجود ہے ۔توامام ابوحنیفہ اور محمد کے نزدیک نہ لوٹائے جبکہ امام یوسف کے نزدیک وضوکرکے نماز کو لوٹائے ۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ پانی کہیں لٹکا ہوا یا پڑا ہوا ہے اور اسے بھولاہو اہے تیمم کرے گا تو یہ اسے کا فی نہیں اس پراجماع ہے اس لیے کہ بھولنے والی چیز تو بھول گئی اور اگر پانی متعلق ہے مشکیزہ میں اور یہ سوار ہے اور دوسرے مشکیزہ میں پانی ہے تیمم جائز ہے ان دونوں کے نزدیک بھول گئی جو چیز جو اسے بھول گئی ۔اگر پانی آگے ہے اس سے تو جائزہے ان دونوں کے نزدیک اور اگر پیچھے ہے تو جائز نہیں ہے اس لیے کہ پیچھے سے حاصل کرسکتاہے آگے سے حاصل نہیں کرسکتا ۔یعنی قافلہ جارہاہے اور پانی لے جانے والا آگے چلاگیا تو یہ تیمم کر سکتاہے لیکن اگر پانی لے جانے والااس سے پیچھے ہے تو تیمم نہیں کرسکتاکیونکہ پانی لے کر وضو کرسکتاہے ۔ اگرپانی ہواس کے ساتھی کے پاس ، یہ اس سے مانگتاہے تیمم کرنے سے پہلے اپنے ظن غالب کی وجہ سے ( کہ وہ دے دے گا) مگر وہ نہیں دیتا ۔یہ تیمم کرے گااور نماز پڑھے ۔
باب المسح علی الخفین
المسح علی الخفین جائز بالسنۃ من کل حدث موجب للوضوء اذا البسھما علی طھارۃ کاملۃ ثم احدث فان کان مقیما مسح یوما ولیلۃ وان کان مسافرا مسح ثلثۃ ایام و لیالیھا و ابتداؤھا عقیب الحدث و المسح علی الخفین علی ظاھرھما خطوطا بالاصابع یبتدء من قبل الاصابع الی الساق وفرض ذلک مقدار ثلث اصابع من اصابع الید فان کان اقل من ذلک لم یجز
موزوں پر مسح کا بیان
سنت کی رو سے دونوں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے ہر ایسی ناپاکی سے جو وضو کو واجب کرتی ہو ۔ اور جب پورا وضو کرنے کے بعد دونوں موزے پہنے پھر بے وضو ہو ا پس اگر مقیم ہو تو ایک دن اور رات مسح کرے اور اگر مسافر ہو تو تین دن اور رات مسح کرے ۔ اور بے وضو ہو نے کے بعد سے مسح شروع کرے گا ۔ اور موزوں پر مسح کرنا ان کے ظاہر پر ا نگلیوں کے چند خطوط جو پاؤں کی انگلیوں سے پنڈلی تک ہیں اور ہاتھ کے تین انگلیوں کے اندازے کے برابر مسح فرض ہے ۔ اور اگر تین انگلیوں سے کم کیا تو جائز نہیں ہے ۔
﴿المسح ﴾لغت میں مسح کے معنی ہیں چھونا اور شریعت میں اس کے معنی ہیں ’’ کسی ایسی جگہ ہاتھ تر کرکے پھیرنا جہاں وضو کرنا ضروری ہوتا ہے ‘‘ ﴿حدث﴾ جیسے احد سبیلین سے ریح خارج ہوگی یا بدن سے خون نکلاتو وضو واجب ہو گیا تو اس صورت میں مسح بھی کفایت کرتاہے ،اب مسح کرنے کا طریقہ بتاتے ہیں ۔
ولا یجوز المسح علی خف فیہ خرق کثیر یتبین منہ قدر ثلث اصابع من اصابع الرجل اصغرھا وان کان اقل من ذلک جاز ولا یجوز المسح علی الخفین لمن وجب علیہ الغسل و ینقض المسح علی الخفین ما ینقض الوضوء و ینقضہ ایضا نزع الخف و مضی المدۃ فاذا مضت المدۃ نزع خفیہ و غسل رجلیہ وصلی ولیس علیہ اعادۃ بقیۃ الوضوء
اور مسح جائز نہیں اس موزہ پر جو اتنا پھٹا ہو کہ اس سے پاؤں کی چھوٹی انگلی کے برابر تین انگلیوں کے بقدر نظر آتا ہو ۔ پس اگر اس سے کم ہو تو جائز ہے ۔ اور اس شخص کے لیے موزوں پر مسح جائز نہیں ہے جس پر غسل واجب ہو۔ موزوں پر مسح کو وہ چیز توڑ دیتی ہے جو وضو کو توڑ دیتی ہے ۔ موزے کو اتا رنا اور مدت کا گزر جانا بھی موزوں پر مسح کو توڑ دیتا ہے ۔ اور جب مدت پوری ہو جائے تو دونوں کو اتارے اور دونوں پاؤں دھوئے اور نماز پڑھے اور باقی وضو کو لوٹانا اس پر ضروری نہیں ۔
﴿خف ﴾خف واحد اورخفین تثنیہ ہے یعنی دونوں موزوں پر
﴿تبین منہ ﴾یعنی کھل کر نظر آتا ہے اس سے
﴿المدۃ﴾یعنی مقیم کے لیے ایک دن رات اور مسافرکے لیے تین دن رات ۔
ومن ابتداء المسح علی الخفین و ھو مقیم ثم سافر قبل تمام یوم ولیلۃ مسح تمام ثلثۃ ایام و لیالیہا ومن ابتدء المسح وھو مسافر ثم اقام فان کان مسح یوما ولیلۃ او اکثر لزمہ نزع خفیہ وان کان اقل من یوم ولیلۃ یتم مسح یوما ولیلۃ ومن لبس الجرموقین فوق الخفین و مسح علیھما جاز
اور جس نے شخص نے موزوں پر مسح شروع کیا اس حال میں کہ وہ مقیم ہے پھر ایک دن اور رات کے پورے ہو نے سے پہلے سفر اختیار کیا تو تین دن اور راتیں مسح کرے ۔ اور جس شخص نے موزوں پر مسح شروع کیا اس حال میں کہ وہ مسافر تھا پھر مقیم ہو گیا پس اگر اس نے ایک دن اور رات یا اس سے زیادہ وقت تک مسح کیا ہے تو اس پر لازم ہے کہ دونوں موزے اتار دے اور اگر ایک دن اور رات سے کم وقت ہو ا ہے تو ایک دن اور رات کو مسح پور ا کرے اور جس شخص نے موزوں پر جرموق پہنا اور ان پر مسح کیا تو جائز ہے ۔
﴿ومن ابتدا ﴾ بدء سے یبدء ہے بمعنی شروع کرنا
﴿مقیم ﴾یعنی جو شہر کا رہنے والا ہو
﴿ثلثۃ ایام ﴾تین دن یعنی پندرہ نمازوں کے لیے
﴿یوما ولیلۃ ﴾ایک دن یعنی پانچ نمازوں کے لیے
﴿اقل﴾ اقل یعنی کم تھوڑ
﴿جرموقین﴾ برفانی علاقوں میں گھٹنوں تک بوٹ پہنتے ہیں جسے جرموق کہتے ہیں
ولا یجوز المسح علی الجوربین عند ابی حنیفۃ الا ان یکونا مجلدین او منعلین وقال یجوز المسح علی الجوربین اذا کانا ثخینین لا یشفان الماء ولایجوز المسح علی العمامۃ والقلنسوۃ والخمار والبرقع والقفازین ویجوز المسح علی الجبائر وان شدھا علی غیر وضوء فان سقطت الجبیرۃ من غیر برء لم یبطل المسح وان سقطت عن برء بطل المسح
اور جرابوں پر مسح کرنا جائز نہیں امام ابو حنیفہ کے نزدیک مگر یہ کہ پوری چمڑے والی یا چمڑے کے تلوے والی ہوں ۔ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے جبکہ دونوں سخت اتنی ہوں کہ پانی جذب نہ کریں ۔ اور عمامہ ، کلاہ ، چادر ، برقع اور دستانوں پر مسح جائز نہیں ہے ۔ اور پٹی پر مسح کرنا جائز ہے اگرچہ بغیر وضو باندھی ہو اور اگر وہ پٹی زخم اچھا ہوئے بغیرگر جائے تو مسح نہیں ٹوٹے گا اور اگر اچھا ہونے کی وجہ سے گر جائے تو مسح ٹوٹ جائے گا۔
﴿جوربین ﴾ مکہ معظمہ ،مدینہ منورہ کے وہابی حضرات جرابوں پر مسح کرتے ہیں کیونکہ وہ اسے موزہ میں شمار کرتے ہیں جبکہ ہمارا ان سے اختلاف ہے
﴿لا ینشفان ﴾ہمارے استاذوں نے فرمایا کہ برفانی علاقوں میں تیلوں سے جرابیں بنائی جاتی ہیں جو سخت بھی ہوتی ہیں اور پانی بھی جذب نہیں کرتیں ۔
﴿ من غیر برء﴾یعنی زخم کے اچھا ہو جانے کی وجہ سے پٹی نہ گرے یعنی زخم کے مندمل ہو جانے کی وجہ سے جیسے زخم ہے ہاتھ پر وضومیں ہاتھ کو دھونا ہے لیکن دھونے سے بیماری بڑھتی ہے ہاتھ کو تر کرکے اس جگہ پھیردیں ۔شریعت میں یہ مسح کہلاتا ہے ۔اسی طرح آپ نے موزے پہنے ہیں پانچ نمازوں کے وضوکاقائم مقام مسح ہوگیا ۔ متن میں جوباب کا لفظ آیا ہے یہ خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے ۔ مسح کا لغوی معنی ہے ہاتھ کا ملنا کسی چیزپر (چھونا) اورشریعت محمدیہ ﷺ میں پہنچانا تر چیز کا موزے پر خاص ہے اوریہ تیمم کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے کہ ا ن دونوں میں ہوتا ہے یہ غسل کا بدل ہے (حاشیہ )۔
باب الحیض
اقل الحیض ثلثۃ ایام ولیالیھا فما نقص من ذلک فلیس بحیض وھو مستحاضۃ و اکثرھ عشرۃ ایام ولیالیھا ومازاد علی ذلک فھواستحاضۃ وما تراہ المراۃ من الحمرۃ و الصفرۃ والکدرۃ فی ایام الحیض فھوحیض حتی تری البیاض الخالص
حیض کا بیان
حیض کی کم از کم مدت تین دن اور راتیں ہیں پس جو خون اس سے کم مدت آئے تو وہ حیض نہیں وہ استحاضہ ہے ۔ اور حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن اور راتیں ہیں ۔ اور جو خون اس مدت سے زیادہ آئے تو وہ استحاضہ ہے ۔ اور حیض کے دنوں میں عورت جو سرخ ، زرد اور مٹیالا خون دیکھے وہ حیض ہے یہاں تک کہ خالص سفیدی دیکھے
﴿الحیض ﴾لغت میں حیض کے معنی ’’ ناپاکی‘‘ ہے ۔اور اصطلاح میں وہ خون جو عورت کو تین دن سے لے کر دس دن تک آتا ہے تین دن سے جو کم ہو گا وہ استحاضہ ہے اور جو دس دن سے زیادہ ہو وہ بھی استحاضہ کا خون ہے ،یہ ایک رگ ہے جو ریڑھ کے کنا رے پر ہوتی ہے دبا ؤ پڑنے سے پھٹ جاتی ہے اور خون جاری ہو جاتاہے
والحیض یسقط عن الحائض الصلوۃ و یحرم علیہا الصوم وتقضی الصوم ولا تقضی الصلوۃ ولا تدخل المسجد ولا تطوف بالبیت ولا یاتیھا زوجھا ولا یجوز للحائض ولا للجنب ولا للنفساء قراء ۃ القران ولا یجوز للمحدث مس المصحف الا ان یاخذہ بغلافہ واذا انقطع دم الحیض لاقل من عشرۃ ایام لم یجز وطیھا حتی تغتسل او یمضی علیہا وقت صلوۃ کاملۃ
اور حیض حائضہ عورت سے نماز ساقط کر دیتا ہے اور روزہ اس پر حرام کردیتا ہے پھر روزے کی قضا کرے اور نماز کی قضا نہ کرے اور مسجد میں داخل نہ ہو اور خانہ کعبہ کا طواف نہ کرے اور اس کے پاس اس کا شوہر نہ آئے ۔ اور حائضہ ، جنبی اور نفاس والی کے لیے قرآن مجید پڑھنا جائز نہیں اور بے وضو کے لیے قرآن مجید کو چھونا جائز نہیں مگر یہ کہ قرآن مجید کے غلاف کے ساتھ اسے پکڑے ۔ اور جب حیض کا خون دس دن سے کم مدت میں رک جائے تو حائضہ عورت سے وطی جائز نہیں یہاں تک کہ وہ غسل کر لے یا اس پر ایک نماز کا پور ا وقت گزر جائے ۔
﴿للنفساء ﴾بچہ کی پیدائش کے بعد عورت کو جو خون آتا ہے ۔ا سے نفاس کہتے ہیں ۔
﴿وطی﴾مجامعت کرنا ۔
﴿صلوۃ کاملۃ﴾ ایک عورت پر حیض کا وقت پورا ہو گیا اس کو چاہیے کہ فورا غسل کرے تاکہ نماز کی ادائیگی تلاوت قرآن کی ادائیگی ،طواف اور قرآن مجید کا چھونا اور اس سے وطی کرنا یہ تما م چیزیں اس کے لیے جائز ہو جائیں ۔اگر غسل نہیں کرتی تویہ چیزیں نہیں کرسکتی اور اپنے خاوند کے پاس بھی نہیں جاسکتی یہاں تک کہ ایک نماز کا وقت گذر جاتا ہے ۔مثلاصبح کے وقت حیض کے دن پورے ہوئے اور دوپہر کا وقت آجاتا ہے ۔تواب اس سے وطی کی جاسکتی ہے ۔یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب دس دن سے کم مدت میں خون بند ہوجاتاہو۔
وقال محمد اذا تیممت حل وطیھا بذلک التیمم لا تصل وان انقطع دمھا لعشرۃ ایام جاز وطیھا قبل الغسل والطھر اذا تخلل بین الدمین فی مدۃ الحیض فھو کالدم الجاری واقل الطھر خمسۃ عشر یوما ولا غایۃ لا کثرہ و دم الاستحاضۃ وھوما تراہ المراء ۃ اقل من ثلثۃ ایام او اکثر من عشرۃ ایام
اور امام محمد نے فرمایا جب وہ عورت تیمم کر لے تو اس سے وطی کرنا حلال ہو جاتا ہے اور اس تیمم کے ساتھ نماز نہ پڑھے ا ور جب حائضہ کو خون دس دنوں کے پورے ہونے پر بند ہو جائے تو غسل سے پہلے اس سے وطی جائز ہے اور پاکیزگی جب حیض کے ایام میں دو خونوں کے درمیان واقع ہو تو وہ جاری خون کی طرح ہے ۔ اور پاکی کی کم سے کم مدت پندرہ دن ہیں ۔ اور زیادہ کی کوئی حد نہیں اور استحاضہ کا خون وہ ہے کہ جس کو عورت تین دن سے کم یا دس دن سے زیادہ عرصہ دیکھے
﴿قبل الغسل ﴾ حیض کے دوران وطی کرنے سے روکنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ حیض کے دوران نطفہ رحم میں قرار نہیں پکڑتا ہے اور خون کے ساتھ و ہ نطفہ خارج ہو جاتا ہے ۔یہ علت ہے ۔قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ۔ یسئلونک عن المحیض ط قل ھواذی فاعتزلوا النساء آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرمادیجئے یہ ایک گندگی ہے پس کنارہ کشی کرو عورتوں سے
﴿والطہر﴾ حیض یعنی ’’ ناپاکی ‘‘ کے مقابلے میں ’طہر ‘ یعنی ’’پاکی ‘‘ ہے
﴿بین الدمنین ﴾یعنی حیض کے دس دنوں میں پہلے چند دنوں میں اور آ خری چند دنوں میں خون آیا اور درمیان میں چند روز پاکی کے گذرے۔ ﴿کلدم الجاری ﴾یعنی حیض تصور کریں گے ۔
﴿خمسۃ عشر یوما﴾ ایک حیض اور دوسرے حیض کے درمیان طہرکے لئے کم از کم پندرہ دن ہیں ۔اس سے کم سے دنوں کو طہر حساب نہیں کیاجائے گا۔اوردوحیضوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ طہر کے لئے کوئی خاص مدت مقررنہیں۔
﴿لاکثرہ ﴾یعنی ساری عمر بھی رہ سکتا ہے یا کسی عورت کی عادت مقررہو تواس کی عادت کے دن حیض کے ہو ں گے باقی طہر ہوگا۔
﴿المراۃ﴾’’مرا ۃ ‘‘جب میم کی زیر سے آئے تو معنی ہو گا عورت ۔ اور’’ مراۃ ‘‘ میم کی زبر ہو تو معنی ہو گا شیشہ ۔
فحکمہ حکم الرعاف الدائم لا یمنع الصوم ولا الصلوۃ ولا الوطی و اذا زاد الدم علی العشرۃ و للمراۃ عادۃ معروفۃ ردت الی ایام عادتھا وما زاد علی ذلک فھو استحاضۃ وان ابتدات مع البلوغ مستحاضۃ فحیضھا عشرۃ ایام من کل شھر اول مارات الدم والباقی استحاضۃ
پس اس کا حکم دائمی نکسیر کے حکم کی طرح ہے کہ نما ز ، روزے اور وطی سے نہیں روکتا ہے ۔ اور جب خون دس دنوں سے زیادہ تک آئے اور عورت کے لیے عادت مقررہ ہو تو اس کی عادت کے دنوں کی طرف خون لوٹا یا جائے گا ۔ اور جو خون عادت سے زیادہ ہو تو وہ استحاضہ ہے ۔ اور اگر عورت کو خو ن اس کے بالغ ہونے کے ساتھ مسلسل شروع ہو ا ۔تو اس کا حیض ہر مہینے کے دس دن ہے پہلے وہ دن جن میں خون دیکھا اور باقی استحاضہ ہے ۔
﴿رعاف الدائمہ﴾نکسیر آئے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح مستحاضہ کو جب استحاضہ کا خون آتا ہے تو ہر نماز کے لیے وہ تازہ وضو کرے اور نماز پڑھے چاہے نما ز کے دوران خون آتا ہے۔
﴿لایمنع ﴾ایک لڑکی جس کی عمر بارہ سال ہے یا تیرہ سال یا سولہ ہے مگر وہ بالغ نہیں ہے ۔اس کو پہلا خون آیا بلوغ کا ۔ اس نے سمجھا کہ یہ حیض ہے جبکہ اصل میں استحاضہ تھا اگر دس دن سے زیادہ خون آئے تو دس دن تو حیض کے ہوں گے جو کہ علامت بلوغ ہے اور باقی دن چاہے تین ہیں یا پا نچ ہیں یا دس ہیں یا اس بھی زاہد ہیں تو وہ استحاضہ کے ہو ں گے
والمستحاضۃ و من بہ سلسل البول او الرعاف الدائم او استطلاق البطن اوانفلات الریح او الجرح الذی لایرقایتوضؤن لوقت کل صلوۃ فیصلون بذلک الوضوء فی الوقت ماشاؤا من الفرائض والنوافل فاذا خرج الوقت بطل وضوء ھم وکان علیہم استیناف الوضوء لصلوۃ اخری و النفاس ھو دم یعقب الولادۃ والدم الذی تراہ الحامل وما تراہ المراۃ حالۃ الولادۃ قبل خروج الولد فھو استحاضۃ
اور استحاضہ والی اور جس کو سلسل بول ہو یا دائمی نکسیر ہو یا پیٹ سے خون آتا ہو یا ریح آتی ہو یا ایسا زخم ہے جو بہتا رہتا ہے تو ایسے لوگ ہر نما ز کے وقت میں وضو کریں گے اور اس وضو کے ساتھ اس وقت میں فرائض و نوافل میں سے جو کچھ وہ چاہیں پڑھ سکتے ہیں ، پس جب وقت نکل جائے توان کا وضو ٹوٹ جائے گا اور دوسری نماز کے لیے ان پرتا زہ وضو واجب ہے ۔ اور نفاس وہ خون ہے جو بچہ ہونے کے بعد آئے ۔ اور وہ خون جسے حاملہ عورت دیکھے اور وہ خون جسے عورت بچہ پیدا ہونے کے وقت ، بچے کی پیدائش سے پہلے دیکھے تو وہ استحاضہ ہے۔
﴿سلسل بول﴾ یہ ایک بیماری ہے جس میں پیشاب قطرہ قطرہ چلتا رہتاہے رکتا نہیں ۔’’سلسل ‘‘ مسلسل سے ہے یعنی آنے والا، البول یعنی چھوٹا پیشاب۔﴿استطلاق البطن ﴾بواسیر کا ہو نا یا ریح کا آنا اور اس کے ساتھ خون یا پانی کا آنا عنا یہ شرح ہدایہ میں علماء فرماتے ہیں کہ جس کو بواسیر ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے چاہے وہ ریحی بواسیر ہو ۔﴿نوافل ﴾فجر کی نماز کے لیے وضو کرے گا جب ظہر کا وقت آئے تو ظہر کی نما ز کے لیے پھر وضو کرے گا اور اسی وضو کے ساتھ فرائض ونو افل سب پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح جب عصر کا وقت آئے گا تو عصر کی نماز کے لیے وضو کرے گا اور اسی طرح مغر ب اور عشاء کی نما زوں کے لیے کرے گا ۔﴿بطل﴾ پس جب وقت نکل گیا یعنی ظہر کے وقت کے ختم ہو نے کے بعد عصر کا وقت آگیا ،اسی طرح عصرکے بعد مغر ب کا اور مغرب کے بعدعشاء کا وقت آگیا بطل کا معنی ہے باطل ہو جانا ، فاسد ہو جانا دوبارہ سے پور ا وضوکرنا﴿حاملہ﴾وہ عورت جس کے پیٹ میں بچہ ہوحاملہ کہلاتی ہے
واقل النفاس لاحدلہ واکثرہ اربعون یوما والزائد استحاضۃ واذا تجاوز الدم عن اربعین یوما وکانت لھا عادۃ فی النفاس ردت الی ایام عادتھا وان لم تکن لھا عادۃ معروفۃ فابتداء نفاسھا اربعون یوما ومن ولدت ولدین فی بطن واحد فنفاسھا ما خرج من الدم عقیب الولد الاول عند ابی حنیفۃ وابی یوسف وعند زفر ومحمد من الولد الثانی والعدۃ تنقضی بالولد الاخیر فی قولھم جمیعا
اور نفاس کی کم سے کم مدت نہیں ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہیں اور اس سے زیادہ استحاضہ ہے ۔ اور جب چالیس دن سے زیادہ د نوں تک خون آئے اور اس عورت کے لیے نفاس میں عادت مقرر ہے تو اس کی عادت کے مطابق لوٹا یا جائے گا اور اگر اس کے لیے مقررہ عادت نہ ہو ۔ پس ابتداء سے یا شروع ہی سے چالیس دن اس کے نفاس ہے اور وہ عورت جس نے ایک ہی پیٹ سے دو بچے جنے تو اس کا نفاس وہ خون ہے جو پہلے بچے کی پیدائش کے بعدنکلا ،یہ امام
ابو حنیفہ و امام ابو یوسف کا قول ہے۔ اور امام محمد اورامام زفر کے نزدیک وہ خون جو دوسرے بچے کے بعد نکلے اور ان سب کے قول کے مطابق عدت آخری بچہ کی پیدائش سے پوری ہو جائے گی ۔
﴿زائد استحاضۃ﴾اسی لیے اس عورت پر نفاس کے احکام لاگو نہیں ہو گے نفاس کے دنوں میں عورت نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے ۔ نہ حج کر سکتی ہے ۔نہ مسجد میں داخل ہو سکتی ہے اور نہ قرآن مجید کو بغیر غلاف کے چھو سکتی ہے یعنی چالیس دن کے بعدآنے والا خون استحاضہ کا ہو گا ۔اب وہ نماز ،روزہ وغیر ہ سب کرے گی۔﴿عادۃ النفاس ﴾یعنی وہ عورت پہلے بھی بچہ جن چکی ہے اور نفاس اس کا چالیس دن سے کم تھا تو اب اس مرتبہ بھی اس کا نفاس اتنے ہی دنوں کا ہو گا ۔پہلے بچہ کی پیدائش کے بعد جو خون آیا اس وقت سے نفاس کا شمار کیاجائے گا ۔﴿فابتداء نفاسہا﴾اولیٰ یہ ہی ہے کہ جوڑے میں دوسرے بچہ کے بعد نفاس کی مدت کا شمار کیا جائے اس طرح پہلا خود بخود اس میں شامل ہو جائے گا ۔
باب تطھیرالنجاسات
تطھیر النجاسات واجب من بدن المصلی وثوبہ والمکان الذی یصلی علیہ ویجوز تطھیر النجاسۃ بالماء وبکل مائع طاھر یمکن از التھابہ کالخل وماء الورد والصابون وماء الباقلا عن الثوب والبدن جمیعا ونحوھما مما اعتصر بالعصر عند ابی حنیفۃ وابی یوسف
نجاستوں کو پاک کرنے کے بیان میں
پلیدیوں کو نماز ی کے بدن اس کے کپڑے اور اس جگہ سے جہاں نماز پڑھتا ہے پاک کرنا واجب ہے اور نجاست کا پاک کرناجائز ہے پانی کے ساتھ اور ہر اس بہنے والی پاک چیز کے ساتھ جس سے پلیدی دور کرنا ممکن ہو جیسے سرکہ ، عرق گلاب ، صابن ملا پانی اور قلولوں کا پانی کپڑے اور بدن سب سے اور ان سب کی طرح اس چیز سے جو نچوڑ ا جا سکتا ہونچوڑنے پر اما م ابو حنیفہ امام ابو یوسف کے نزدیک۔
﴿نجاسات ﴾نجاسات جمع ہے ’’نجاسۃ ‘‘ کی یعنی ’’ پلیدی ،ناپاکی ‘‘﴿واجب ﴾واجب کے لغوی معنی ’’ ضروری ‘‘ اور ’’ لازمی ‘‘ کے ہیں ۔اصطلاح شریعت میں پانی کیساتھ یابہنے والی پاک چیزکے ساتھ ہر اس چیز کو جس پر نجس کا حکم ہو تاہے اس سے کپڑے کو یا بد ن کو یا جگہ کو پا ک کرنا واجب ہے ۔جسے کپڑے یا بدن یا جگہ پر خون یا بچہ کا پیشاب لگ گیا تو اب اس کومائع یا پانی کے ساتھ پاک کرنا واجب ہے ﴿یصلی علیہ ﴾ ان سب کو پاک کیے بغیر نماز نہیں ہو تی ۔اسی لیے ہما رے محتاط فقہاء نے فرمایا کہ سڑکو ں پر نما ز نہیں ہو تی کیونکہ وہا ں طہارت کا حکم جاری نہیں ہو تا ہے ۔آجکل پختہ سڑکیں ہیں سیمٹ کیبنی ہو ئی پہلے زمانے میں تو مٹی اور ریت کی سڑکیں تھیں جو جا نور پیشاب کرتا وہ کھڑا ہو جاتا اور جگہ پلید ہو جاتی ۔
واذا اصابت الخف نجاسۃ ولھا جرم فجفت فدلکہ بالارض جاز والمنی نجس یجب غسلہ اذا کان رطبا واذا جف علی الثوب اجزاہ الفرک عند اصحابنا وعند الشافعی لایجب غسلہ رطبا کان او یابسا والنجاسۃ اذا اصابت المراۃ والسیف اکتفی بمسحھما
اگر موز ہ پر نظر آنے والی نجاست لگ جائے اور خشک ہو جائے پس اس نجاست کو زمین پر رگڑ دے تو جائز ہے ۔ اور منی ناپاک ہے جب تر ہو تو اس کو دھونا واجب ہے اور جب کپڑے پر خشک ہو جائے تو کافی ہے اس کا رگڑ دینا ہمارے اصحاب کے نزدیک ۔ اور امام شافعی کے نزدیک منی کا دھونا واجب نہیں ہے تر ہو یا خشک ۔ اور جب آئینے یا تلوار کو نجاست لگ جائے تو ان دونوں کو پونچھ لینا کا فی ہے ۔
﴿ ولھاجرم ﴾جیسے بڑاپیشاب ،خون جوکہ لگا ہوا نظر آتاہے اور موزہ ، ان کو جذب نہیں کرتا کیونکہ چمڑے کا بناہوتاہے۔
﴿یجب ﴾یجب بمعنیضروری کے ہیں۔
﴿غسلہ﴾ غسل ، غین کی زبر سے بمعنی دھونے ، غین کی پیش سے بمعنینہانے اور غین کی زیر سیبمعنی اس چیز کے جس سے نہایا جائے۔
﴿عند اصحابنا﴾ یعنی حنفیوں کے نزدیک ۔
واذا اصابت الارض نجاسۃ فجفت بالشمس و ذھب اثرھا جازت الصلوۃ علی مکانھا ولا یجوز التیمم منھا ومن اصابہ من النجاسۃ المغلظۃ کالدم والغائط والبول والخمر مقدار الدرھم فما دونہ جازت الصلوۃ معہ وان زادلم یجز وان اصابتہ نجاسۃ مخففۃ کبول مایوکل لحمہ جازت الصلوۃ معہ مالم یبلغ ربع الثوب وتطھیرالنجاسۃ التی یجب غسلھا علی وجہ ین
اور جب زمین پر نجاست لگ جائے پھر سورج کی وجہ سے خشک ہو جائے اور اس کا نشان مٹ جائے تو اس جگہ پر نماز جائز ہے ۔ لیکن اس سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے ۔ اور جس کو نجاست غلیظہ جیسے خون یا بڑا پیشاب یا چھوٹا پیشاب یا شراب درہم کے برابر یا اس سے کم لگ جائے تو اس کے ساتھ نماز جائز ہے ۔ اور اگر زیادہ ہے تو نماز جائز نہیں ہے ۔ اور اگر نجاست خفیفہ لگ جائے جیسے ان جانوروں کا پیشاب جن کا گوشت کھایا جاتا ہے تو جب تک نجاست کپڑے کے چوتھائی حصہ کو نہ پہنچے نماز اس کے ساتھ جائز ہے اور جس نجاست کو دھونا واجب ہے اس کا پاک کرنا دو طرح پر ہے ۔
﴿منھا﴾یعنی پلیدی خشک اور اس کا اثر اس جگہ سے مٹ گیا تب بھی وہا ں کی مٹی سے تیمم کرنا جائز نہیں
﴿مغلظۃ﴾یعنی گاڑھی ہو ۔
﴿معہ﴾لیکن بہتراور افضل یہ ہے کہ اتنی نجاست کو بھی صاف کرے۔
﴿ربع الثوب﴾ جیسے چار گز کی ایک چادر ہے ۔اگر ایک گز سے کم تک پیشاب لگا ہو ا ہے تو اس چادر کے ساتھ نماز جائز ہے اور اگر ایک گز یااس سے زیادہ ہے تو جائزنہیں ۔اسی طرح کرتہ ، پاجا مہ وغیرہ سب میں اس حصہ کے چوتھا ئی حصہ کا اعتبارہو گا،جس پر نجا ست لگی ہو
فما کان لہ عین مرئیۃ فطھارتھا زوال عینھا الا ان یبقی من اثرھا ما یشق ازالتھا فھو عفو وما لیس بمرئی فطھارتہ ان یغسل حتی یغلب علی ظن الغاسل انہ قد طھر والا ستنجاء سنۃ یجزئی فیہ الحجروالمدر وما قام مقامھما و علیہ ان یمسحہ حتی ینقیہ ولیس فیہ عدد مسنون وغسلہ بالماء افضل فان تجاوزت النجاسۃ من مخرجھالم یجزفیہ الا بالماء اوالمائع ولا یستنجی بعظم ولا بروث ولا بطعام ولا بملح ولا بیمینہ الا من عذر
پس ان میں سے جو آنکھوں سے نظر آنے والی ہے تو اس کی پاکیزگی نظر آنے والی چیز کو دور کرنا ہے مگر یہ کہ اس کو نشان جس کو دور کرنا مشکل ہو باقی رہ جائے تو وہ معاف ہے اور جو نجاست دکھائی دینے والی نہیں ہے تو اس کی پاکی اس کو دھونا ہے یہاں تک کہ دھونے والے کو غالب گمان ہو جائے کہ وہ پاک ہو گیا ہے اور استنجاء سنت ہے ،استنجاء میں پتھر ، ڈھیلا اور جو چیز ان دونوں کے قائم مقام ہو کافی ہے اور اس پر لازم ہے یہ کہ مخرج کو رگڑے یہاں تک کہ اس کو پاک کر دے اور اس میں کوئی عدد مسنون نہیں ہے اور مخرج کو پانی سے دھونا افضل ہے اورا گرنجاست اپنے مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا پاک کرنا جائز نہیں مگر پانی یا بہنے والی چیز کے ساتھ اور ہڈی ، لید، کھانے کی چیز ، نمک اور دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے مگر کسی عذرکی وجہ سے۔
﴿طھارتھا﴾’’پاکیزگی ‘‘ کا معنی ہے کہ اس کپڑے وغیرہ کے ساتھ نماز ہو جائے ۔
﴿مقامہما﴾یعنی جو جنس ارض سے ہو چو کہ جذب کرنے والی ہو ۔یعنی ڈھیلے کے قائم مقام ہو
﴿وعلیہ﴾’’علیٰ ‘‘ جب ابتدائے کلام میں آجائے تو لزوم کے معنی دیتا ہے یعنی ضروری ہے ۔اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ۔مگر اللہ تعالیٰ نے ’’ علیٰ ‘‘ کے ساتھ اپنے اوپر ایک چیز لازم کی جیسے ان اللہ و ملائکتہ یصلون رعلی النبی اللھم صلی علی محمد وآلہ محمد
﴿عددمسنون ﴾یعنی ایک سے یا دو سے یاتین سے یا چار سے کرے یہ سنت نہیں ۔ البتہ طاق سے کرتے تو بہتر ہے
﴿من مخرجھا﴾مخرج ، ظرف مکان ہے بروزن مفعل
﴿مائع ﴾جیسے ماء الودر اور ماء الباقلا ہیں ۔
﴿ولابروث﴾ اس لیے کہ حضور ﷺ کے قول کے مطابق یہ جنو ں کی خوراک ہے
﴿بطعام﴾کیونکہ یہ ضائع کرنا ہے اور اسراف کرنا ہے
﴿ولابیمینہ﴾حضورﷺ کے قول کے مطابق دائیں ہاتھ سے پسندیدہ کام لیا جائے اور بائیں ہاتھ سے ناپسندیدہ کام لیاجائے ۔
کتاب الصلوۃ
نمازکی کتاب
﴿ الصلوۃ ﴾عبادت نہا یت تذلل کا نا م ہے ۔ جس کا اظہار معبود حقیقی کے آگے کیا جا تا ہے ۔نماز کے تمام اعمال وارکان پر غورکرو، عبادت یا اظہار ذلت کا مفہوم بخوبی تمہارے دل نشین ہو گا ۔عابد نماز کا قصد کر رہا ہے ۔ مصلی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ زبان پر
’’ انی ذاھب الی ربی سیھدین‘‘ دل غیرحق سے پاک ہے ۔ حق تعالیٰ کے سوا کسی کو بزرگی کا مستحق نہیں سمجھتا اور اس فہم کے ساتھ تکبیر تحریمہ اللہ اکبر کہتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے رو برو ہوکر کہتا ہے ۔
’’ انی و جھت وجھی للذی فطر السموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین ط ‘‘دل پوری طرح متوجہبحق ہے ۔ ورنہ جا نتا ہے کہ جھوٹ کی سزا کیا ہے ۔ ’’یخدعون اللہ وھو خادعھم ‘‘ اب نیت میں خلوص ہے ۔ حق تعالیٰ ہی کے لئے نماز پڑھ رہا ہے ۔ عاشفانہ ایمان کے پیدا ہونے کے لئے پڑھ رہا ہے ۔ عادت کے تحت نہیں ان ہی کے حول و قوت سے پڑھ رہا ہے ۔ ثنا ء حق تعالیٰ کی عظمت وجلالت وجبروت کا اظہار کر رہا ہے ۔ اور توحید کا اقرار ’’ لا الہ غیرک ‘‘سے ہو رہا ہے ۔ اب حضور ی میں دست بستہ نظر نیچی کئے ہوئے ذلت ومسکنت کی تصویر بنا کھڑا ہے ۔ زبان پر جا ری ہے ۔الحمد للہ اور دل میں سمجھ رہا ہے کہ عالم میں کوئی ذات مستحق حمد نہیں ۔ سارے محاسن و محامد کی وہی ایک ذات ’’ لاشریک لہ ‘‘سزا وار ہے ۔ جب رب العالمین کہتا ہے تو جا نتا ہے کہ
’’ لارب سواہ ‘‘ ربوبیتاسی کو زیبا ہے ۔ عالم تمام اس کا مربوب ہے ۔
الرحمن الرحیم کہتے وقت عالم رجا میں داخل ہوتا ہے ۔ رحمت وکرم کی امید دل میں پیدا ہوتی ہے ۔ جانتا ہے کہ رحمانیت کا تعلق تو ساری کائنات سے ہے اور رحیمیت خصوصی شے ہے۔ اور مومنین سے مختص ۔’’ کان بالمومنین رحیما مالک یوم الدین ‘‘ کہتے وقت تمام عالم خوف کا مشاہدہ کرتا ہے ۔ روز قیامت حق ہے اور یہ وہ دن ہے کہ اس کی شان میں فرمایا ہے ۔
’’ یوم لاتملک نفس لنفس شیئا ‘‘ اس امید وہم کی حالت میں عرض کرتا ہے ۔ ’’ایاک نعبد ‘‘ حق تعالیٰ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں ۔ ذل وافتقارکا رشتہ آپ ہی سے جوڑتے ہیں ’’ و ایاک نستعین ‘‘ آپ ہی سے استعانت کرتے ہیں ۔ جانتے ہیں کہ ’’ لا فاعل فی الوجود الا اللہ ط ماسواء اللہ ‘‘سے بالکل اعراض کرکے آپ ہی کی طرف با لکلیہ رجوع کرتے ہیں ۔ ہم آپ کے سوا استعانت کی جہت سے غیر کو کیوں پکاریں ۔ جبکہ ہمیں یہ سنا دیا گیا ہے ۔اور ہم نے بھی تجربہ سے توثیق کر لی ہے ۔ کہ آپ کے سوا کسی میں حول و قوت نہیں ۔ ’’ لاحول ولا قوۃ الا با للہ‘‘ اس لئے وہ ہمیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ضرر ، اس حمدو ثنا اقرار عبودیت کے بعد التماس و دعا ’’ اھدنا الصراط المستقیم ‘‘ حق تعالی راہ مستقیم کی ہدایت فرمائے ۔ نفس وہوا سے چھوٹیں ۔ آپ کا قرب نصب ہو ، ’’صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضآلین ‘‘ اہل انعام کی راہ پر چلنا نصیب ہو ، جو انبیا ء و او لیاء کی راہ ہے یہی اہل انعام ہیں ۔ ’’ اولٰئک الذین انعم اللہ علیہم من النبیین والصدیقین والشھدآء والصالحین‘‘ مغضوبین وضالین کی راہ نہیں ، جہنوں نے غیر اللہ سے عبادت و استعانت کا رشتہ قائم کرکے ہمیشہ کے لئے خسار ے میں اپنے کو مبتلا کر لیا ۔ ’’اولٰئک ھم الخسرون الذین خسرو ا انفسہم ‘‘ اس حمد و ثنا ، التماس و دعا کے ساتھ و ہ کلام ربانی کی چند اور آیتیں احکام خداوند ی کے معلوم کرنے ، تکرار سے ان کو اپنے ذہین میں جمانے ،ہر حرف کی تلاوت پر دس ۱۰ نیکیاں کما نے اور حق تعالیٰ سے سرگوشی کرنے ۔ پڑھتا ہے اور پھر فورا پیشی میں جھک جا تا ہے گویا اپنے رحمن و رحیم آقا کے ’’پیٹ میں مونڈی ‘‘ دے دیتا ہے ۔ اس طرح اپنی ذلت کا مزید اظہا ر کرتا ہے ۔ اسی حالت میں اس کی زبان سے اس کے مولیٰ کی تقدیس و تنزیہ و تحمید جاری ہوتی ہے ۔ اپنی بے ما ئیگی ، فقر و ذلت کا احساس قلب میں واضح طور پر موجود ہو تا ہے ۔ جب سر اٹھاتا ہے تو حق تعالیٰ اس کی زبا ن سے فرماتاہے ۔
’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ اس طرح اس کا مرتبہ بلند کرتے ہیں ۔ ہر سر معبود حقیقی کے آگے جھکتا ہے ۔ وہ مخلوق کے آگے نہیں جھک سکتا ، وہ سب سے بلند ہوتا ہے ۔ ممتاز ہوتا ہے ۔ بے نیاز ہو تا ہے وہ ایک لا قیمت جو ھر ہوتا ہے ۔ سچ ہے ۔ ’’ من رکن الی مولی و مال الیہ احرقہ اللہ بنور ہ حتی یصیر جوھر الاقیمۃ لہ ‘‘( حدیث) ترجمہ:۔ جو اپنے مولیٰ کی طرف جھکتا ہے اور اس کی طرف مائل ہو تاہے تو وہ اس کو اپنے نو ر سے جلا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک لا قیمت جوہرہو جا تا ہے ۔ اس سر فرازی کے شکر یہ میں وہ حق تعالیٰ کی حمد کرتا ہے اور پیر وں پر گر جا تا ہے پیر پکڑ لیتا ہے اور اس طرح غایت تذلیل کا اظہا ر کرتا ہے ۔ زبا ن پر آقا کی عظمت و رفعت و علو کا اقرار جا ری ہو جا تا ہے ۔ اس اظہا ر تذلیل میں وہ اپنی آنکھ کی ٹھنڈک پا تا ہے ۔
’’ وجعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ ‘‘ ( آنکھ کی ٹھنڈ ک نماز میں رکھی گئی ہے )یہ آنکھ کی ٹھنڈک اس کو اپنے محبوب مولی ٰ کے مشاہدہ سے ہو رہی ہے ۔ یہی اس کا کمال ہے ۔یہی اس کی معراج ہے ۔ ’’الصلوۃ معراج المو من ‘‘ ’’ عن ابی ھریرۃ ‘‘ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ، ’’ ارایتم ‘‘ کیا تم دیکھتے ہو کہ تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر نہر بہتیہو اور و ہ شخص اس میں دن میں پا نچ دفعہ نہا تا ہو کیا اس پر کچھ بھی میل کچیل باقی رہے گی ۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اس پر کچھ بھی میل کچیل نہ رہے گی ۔ ’’ قال فذالک مثل الصلوۃ الخمس یمحواللہ بھن الخطا یا ‘‘ارشاد فرمایا ۔ پا نچ نمازوں کے ادا کرنے کی مثال ایسی ہی ہے اور اللہ تعالیٰ ان نمازوں کی برکت سے گنا ہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ حجتہ الاسلام امام شاہ ولی اللہ دھلوی ، حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں ۔
ترجمہ :۔ نماز تما م پاکیزگیوں اور رموز کو جمع کرنے والی ہے ۔ اور نفس کو پا ک کر کے عالم اعلے کی سیر کر انے والی ہے۔ اور نفس کی خاصیت یہ ہے کہ جب وہ ایک صفت سے وابستہ ہو جا تا ہے تو اس کی ضد اس سے رفو چکر ہو جا تی ہے ۔ اور اس طرح اس سے دور ہو جا تی ہے گویا کہ اس میں کبھی پائی ہی نہیں گئی تھی ۔ پس جس کسی نے نمازوں کو ’’ کماحقہ ‘‘ ادا کیا ۔ ان کیلئے مکمل وضو کیا اور ان کے
درمیا ن تضرع ، اور ان کی تسبیحات اور مختلف اشکال بدنی کو احسن طور پر سر انجام دیا ، اور خاص کر جس شخص نے رکوع ، سجود ، قیام سے مجا ز چھوڑ کر حقیقت کو مد نظر رکھا ،اور اسی طرح مختلف اشکال بدنی سے ان کے حقیقی مطالب کی طرف رجوع کیا تو کوئی شک نہیں کہ اس نے ایک گہرے سمندر میں غوطہ لگایا ، جو کہ سراسر رحمت ہے اور اس سے تمام نا پاکیاں اور گنا ہ زائل ہو گئے ۔
’’ عن جابر قال رسول اللہ ﷺ بین العبد و بین الکفر ترک الصلوۃ ‘‘ ( رواہ مسلم )
ترجمہ :۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید الکونین ﷺ نے فرمایا ( مسلمان) بندے کے درمیان اور کفر کے درمیان فرق نماز کا ترک کرنا ہے ۔
ترجمہ :۔ نماز اسلام کی نشانیوں اور طریقوں سے سب سے بڑا عنصر ہے اور وہ بھی ایسا کہ اگر کسی میں نہ پایا جا ئے تو مناسب یہ ہے کہ اس پر اسلام سے نکلنے کا فتوی لگا یا جا ئے کیونکہ اسلام اور نماز میں رابطہ ہے اور اسی طرح اسلام کے جو لغوی معنی ہیں ( کہ اللہ کی رضا کیلئے سر رکھ دنیا ) اس معنی کی تحقیق کرنے والی صرف نماز ہی ایک چیز ہے اور جس کسی کے نصیب میں یہ نعمت عظمی نہیں تو اس کو اسلام سے سوائے نام کے کچھ سروکار نہیں ۔ جس کا اعتبار کچھ بھی نہیں ۔ ’’و عن عبد اللہ بن عمر و بن العاص عن النبی ﷺ ‘‘عبداللہ بن عمر وبن العاص سے روایت ہے ۔ اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ۔ یہ کہ انہوں نے یعنی حضور سرکار دو عالم ﷺ نے ’’ذکر الصلوۃ یوما ‘‘ ایک دن نماز کا ذکر کیا ۔ سو آپ ﷺ نے فرمایا ( جو کوئی نماز کی محافظت ) کرتا ہے
’’ کانت لہ نورا و برھانا ونجاۃ یوم القیامۃ ‘‘ وہ نماز اس کے لئے قیامت کے دن نورحجت اور نجات ہو گی ( اور کوئی نماز کی محافظت نہیں کرتا ) ’’لم تکن لہ نورا ولا برھانا ولا نجاۃ ‘‘ تو یہ نماز اس کے لئے نہ تو نو ر نہ حجت اور نجات ننے گی ۔
’’ فکان یوما القیامۃ مع قارون و فرعون وھا مان و ابی ابن خلف ‘‘( رواہ احمد والدارمی والبہیقی فی شعب الایمان ) پس یہ شخص (جو نماز کی محافظت نہیں کرتا ) قیامت کے دن قارون ، فرعون ، ہامان اور ابی ابن خلف کے ساتھ ہو گا ۔ ابی ابن خلف حضور ﷺ کا دشمن تھا ۔ حضور سید عالم ﷺ نے اس کو جنگ احد میں اپنے دست مبارک سے قتل کیا تھا ۔ نماز کی محافظت اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ اس کو فرائض ، واجبات ، سنن اور پابندی وقت کے ساتھ ادا کیا جا ئے ۔ جب کوئی مسلمان اس طریق پر نماز پڑھے گا تو یہ نماز اس کے لئے نور انیت ہوگی ۔ اس کو عذاب سے بچانے کے لئے روشن دلیل ہو گی اور مغفرت و بخشش کا سبب بنے گی ۔ اور جو شخص اس طریق پر نماز ادا نہ کرے گا ۔ اس کے لئے نہ نور ، نہ دلیل ، نہ حجت ہو گی ۔ بلکہ وہ شخص قیامت میں بڑے بڑے مجرموں کے ساتھ ہو گا ۔ جیسے قارون ، فرعون ، ہامان ، ابی بن خلف، امام مالک رحمت اللہ علیہ اور امام شافعی رحمت اللہ علیہ وغیرہما کے نزدیک نماز نہ پڑھنے والے کا قتل واجب ہے اور امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک جب تک پھر وہ باقاعدہ نماز نہ پڑھنی شروع کر دے اس کو مارنا اور قید کرنا چاہیے
باب اوقات الصلوۃ
اول وقت الفجر اذا طلع الفجر الثانی وھو البیاض المعترض فی الافق واخر وقتھا مالم تطلع الشمس واول وقت الظھر اذا زالت الشمس و اخر وقتھا عند ابی حنیفۃ اذا صار ظل کل شیء مثلیہ سوی فیء الزوال وقال صاحباہ اذا صار ظل کل شیء مثلہ سوی فیء الزوال
نماز کے اوقات
نماز فجر کا اول وقت وہ ہے جبکہ دوسری سفیدی نمودار ہو جائے اور یہ وہ سفیدی ہے جو آسمان کے کناروں میں پھیلتی ہے ۔ اور نماز فجر کا آخری وقت جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو ۔ اور نماز ظہر کا پہلا وقت وہ ہے جبکہ سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک وہ ہے جبکہ ہر چیز کا سایہ علاوہ سایہ اصلی کے اس کا دگنا ہو جائے ۔ اور صاحبان نے فرمایا کہ جب ہر چیز کا سایہ علاوہ سایہ اصلی کے ایک گنا ہو جائے ۔
﴿اوقات﴾’’اوقات ‘‘ جمع ہے ’’ وقت ‘‘ کی ،یعنی کو نسے وقت میں کونسی نما ز فرض ہے
﴿ الفجر﴾ فجر کا لغوی معنی ہے پھٹنا ۔تاریکی سے سفیدی کا نمودار ہو نا ۔اصطلاح شریعت میں صبح صادق کا صبح کا ذب سے نکلنا ’’ الفجر ‘‘ سے مراد صبح صادق ہے ۔صبح صادق آسمان کے کنا روں پر پھیلتی ہے جبکہ صبح کا ذب لمبائی میں پھیلتی ہے ۔
﴿لم﴾یہاں ’’لم ‘‘ جو کہ حرف جازم ہے ’’ تطلع ‘‘ کی ’’ عین ‘‘ کو جزم دے گا ۔
﴿زالت الشمس﴾ یعنی جھکنے لگے ۔استواء میں نماز نہیں ہوتی کیونکہ مکروہ وقت ہے ۔اسی طرح طلوع اور غروب آفتاب کے وقت بھی نماز نہیں پڑھنا چاہیے۔کیونکہ یہ سب اوقات مکروہ کہلاتے ہیں ۔یہ اس لیے تاکہ سورج پر ستوں سے مشابہت نہ ہو ۔سورج پر ست طلوع ، زوال اور غروب کے وقت سورج کوسجدہ کرتے ہیں ۔ان کے ساتھ مشابہت سے بچنے کے لیے ان اوقات میں نما زپڑھنا مکروہ ہے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہا کہ تین اوقات ہیں کہ جن میں نماز پڑھنے سے حضور نے ہمیں منع فرمایا ہے اوراس سے بھی منع فرمایا کہ ہم ان اوقات میں دفن کریں اپنے مردوں کو طلوع آفتاب کے وقت یہاں تک وہ (سورج ) بلند ہو جائے اور زوال آفتاب کے نزدیک یہاں تک کہ جھک جائے اور غروب کے وقت یہاں تک کہ غروب ہو جائے اور ان کے قول کہ ’’ مردوں کو نہ دفن کریں ‘‘سے مراد یہ ہے کہ نماز جنا زہ نہ پڑھیں کیونکہ مردہ دفن کرنا مکروہ نہیں ہے ۔
واول وقت العصر اذا خرج وقت الظھر علی القولین و اخروقتھا مالم تغرب الشمس واول وقت المغرب اذا غربت الشمس واخروقتھا مالم یغب الشفق وھو البیاض الذی فی الافق بعد الحمرۃ عند ابی حنیفۃ وقال صاحباہ ھو الحمرۃ و اول وقت العشاء اذا غابت الشفق واخروقتھا مالم یطلع الفجر الثانی
ان دونوں قولوں کے مطابق جب ظہر کا وقت نکل جائے تو عصر کا اول وقت ہوتا ہے اور عصر کا آخری وقت جب تک کہ سورج غروب نہ ہوجائے اورمغرب کا اول وقت جب سورج غروب ہوجائے اوراس کا آخری وقت جب تک کہ شفق غائب نہ ہو ۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ وہ سفیدی ہے جو سرخی کے بعد آسمان کے کنا روں میں ہوتی ہے اور صاحبین نے فرمایا کہ شفق وہ سرخی ہی ہے اور عشاء کا اول وقت جبکہ شفق غائب ہو جائے اور اس کا آخری وقت جب تک کہ صبح صادق طلوع نہ ہو ۔
﴿وقال صاحباہ ﴾امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام ابویوسف اورامام محمد مراد ہیں ۔﴿فی ء الزوال ﴾یہاں پر امام ابو حنیفہ اوران کے شاگردوں کااختلاف ہے۔ فتوی اس کی طرف ہو گا جن کے ساتھ اکثر یت ہو گی ﴿علی القولین ﴾یعنی امام صاحب کاقول اور ان کے شاگردوں کا قول ﴿تغرب الشمس﴾ غروب کا معنی ہے چھپ جانا ۔یعنی سورج غروب ہورہا ہے تو نماز نہیں ہو گی ’’الابعصرہ‘‘ مگر اس دن کی نما زعصر پڑھ سکتاہے ۔﴿وقت المغرب ﴾ امام ابو حنیفہ نے مغرب کے وقت کے داخل ہو نے کی ایک علامت بتائی ہے کہ جہاں سے سورج طلوع ہو تا ہے وہاں سیاہی پھیل جائے ۔اہل حدیث اورہمارا(احنا ف کا) یہ اختلاف ہے کہ وہ سورج کے ڈوبتے ہی اذان دیتے ہیں جبکہ ہم انتظار کرتے ہیں کیونکہ مشرق کی سمت سیاہی پھیلنے میں سات،آٹھ منٹ لگتے ہیں
﴿فجر الثانی ﴾یعنی صبح کا ذب میں بھی عشاء کی نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔اس لیے علماء اور مؤذن کو پوری تحقیق کے بعد اذان دینی چاہیے
و اول وقت الوتر وقت العشاء عندنا الا انہ یومر بتقدیم العشاء وعندھما بعد العشاء واخر وقتھا مالم یطلع الفجر الثانی ویستحب الاسفار بالفجر والابراد بالظھر فی الصیف وتقدیمھا فی الشتاء وتاخیر العصرمالم تتغیر الشمس و تعجیل المغرب وتاخیر العشاء الی ماقبل ثلث الیل والمستحب فی الوتر لمن یثق صلوۃ الیل ان یؤخرالوتر الی اخر الیل فان لم یثق بالانتباہ اوتر قبل النوم
اور ہمارے نزدیک وتر کا پہلا وقت عشاء کا وقت ہے مگر یہ کہ عشاء کااس سے پہلے پڑھنے کاحکم دیا جائے گااور صاحبین کے نزدیک وتر کا وقت عشاء کے بعد ہے اور اس کاآ خری وقت جب تک کہ صبح صادق طلوع نہ ہو اور مستحب ہے فجر کو روشنی میں پڑھنا گرمی میں ظہر کوٹھنڈے وقت میں پڑھنا اور سردی میں اول وقت پڑھنااور عصر کوتاخیرسے پڑھنا جب ہے کہ سورج میں تغیرنہ آئے اورمغرب کوجلدی پڑھنا اور تہائی رات سے پہلے تک عشاء کو موخر کرنا اور اس شخص کے لیے جوکہ نماز تہجد پڑھنے کا یقین رکھتا ہے وتر کا رات کے آخری حصہ تک موخر کرنا مستحب ہے ۔ پس اگر بیدار ہونے کا یقین نہیں تو سونے سے پہلے وتر پڑھ لے ۔
﴿ الاسفار﴾یعنی نما زفجرکو روشنی میں پڑھنا تاکہ صبح صادق او رکاذب میں فرق ہو سکے ۔رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ
’’ اسفروبالفجرفانہ اعظم للاجر‘‘۔ کہ صبح کی نماز خوب روشنی میں پڑھو پس بیشک اس میں ثواب زیادہ ہے ‘‘﴿تاخیر﴾یعنی دیرسے پڑھنا ﴿تاخیر فی العصر﴾اکثر حضرات عصر کی نما ز تا خیر سے پڑھتے ہیں یہاں تک کہ آدھے گھنٹے کے بعد مغر ب کی نماز پڑھتے ہیں﴿ تاخیرالعشاء ﴾اس میں حکمت یہ ہے کہ تہجد بھی پڑھی جاسکتی ہے ﴿یثق﴾ وثوق یعنی طاقت ،استطاعت ﴿یؤخر الوتر﴾اس لیے کہ وتر ’’ تمت صلوۃ ‘‘ ہے یعنی نماز کو ختم کرنے والاہے ۔اس لیے ہمارے فقہاء کہتے ہیں کہ وتر کے بعدنفل نہ پڑھو ۔ لیکن یہ مستحب ہے فرض یا واجب نہیں ۔ پڑھ سکتا ہے لیکن تمت صلوۃ کا ادب قائم نہیں رہتا
باب الاذان
الاذان سنۃ مؤکد ۃ للصلوات الخمس والجمعۃ دون ماسواھا وصفۃ
الاذان معروفۃ
اذان
نماز پنجگانہ اور جمعہ کے لیے سنت موکدہ ہے سوائے ان کے دوسری نمازوں کے لیے نہیں ہے ۔ اور اذان کی تعریف جا نی پہچانی ہے
﴿اذان﴾ایک اُذُن ہے جس کے معنی ’’کان ‘‘ کے ہیں یہ اذان ہے بمعنی’’ اعلان کرنا ‘‘ کے ہیں اُ ذُ ن کی جمع اذان ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یجعلون اصابعھم فی اذانھم من الصواعق ( پ۱ البقرۃ :۱۹)حضور ﷺ کے کانوں کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل اُذُن خیر:۔ فرما دیجئے کہ یہ کان تمھارے حق میں اچھے ہیں اس طرح مخالفین کا طنز رد کردیا اذان سن کر مسجد سے نکلنے کی کراہت ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’قال امر نا رسول اللہ ﷺ اذا کنتم فی المسجد فنودی بالصلوٰۃ فلا یخرج احدکم حتی یصلی ‘‘ ( رواہ احمد ) وہ کہتے ہیں کہ ہم کو حضور اکرم ﷺ نے حکم فرمایا ۔ جب تم مسجد میں موجود ہو اور اذان کہدی جائے تو تم میں سے ایک بھی مسجد سے باہر نہ نکلے حتی کہ نماز پڑھی جائے ۔ ابی اشعشاء سے روایت ہے ۔’’ قال خرج رجل من المسجد بعد ما اذن فیہ فقال ابو ہریرۃ اما ھذا فقد عصٰی ابا القاسم ﷺ ‘‘ (رواہ مسلم ) وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اذان ہونے کے بعد مسجد سے نکلا تو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اس شخص نے ابی القاسم ﷺ کی نا فرنانی کی ۔ عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال قال رسول اللہ ﷺ من ادرکہ الا ذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وھو لا یرید الرجعۃ فھو منافق ‘‘(رواہ ابن ماجہ ) وہ فرماتے ہیں کہ سید دو عالم فخر کائنا ت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اذان کو مسجد میں پالیا ۔ پھر وہ مسجد سے نکلا کسی خاص ضرورت کے لئے نہیں اور وہ شخص واپس آنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تو وہ منا فق ہے۔ اگر کسی خاص ضرورت مثلا قضائے حاجت وغیرہ کے لئے تو کوئی مضا ئقہ نہیں ۔ ﴿مؤکدۃ﴾یعنی تاکیدکی ہوئی ﴿دون ما
سوا ھا﴾یعنی صلوۃ عیدین و جنا زہ و کسوف و نوافل کے لیے اذان نہیں ﴿صفۃ﴾فقہ اورمنطق میں’’ صفت‘‘ کا معنی تعریف کے ہیں
وھی ان یقول اللہ اکبرط اللہ اکبرط اللہ اکبرط اللہ اکبرط اشھد ان لا الہ الا اللہ ط اشھد ان لا الہ الا اللہ ط واشھد ان محمدا رسول اللہ ط واشھدان محمدا رسول اللہ ط حی علی الصلوٰۃ ط حی علی الصلوٰۃ ط حی علی الفلاح ط حی علی الفلاح ط اللہ اکبرط اللہ اکبر ط لا الہ الا اللہ ط ولا ترجیع فیہ ویزید فی اذان الفجر بعد الفلاح الصلوۃ خیر من النوم مرتین
اور وہ یہ ہے کہ اللہ اکبر سے آخر تک کہے اور اس میں ترجیع نہیں ہے فجر کی اذان میں
حی علی الفلاح کے بعد دوبار الصلوۃ خیر من النوم کا کلمہ زیادہ کیا جائے گا ۔
﴿واشھد ان محمدا رسول اللہ ﴾حضور سید الکونین ﷺ کے اسم گرامی لیتے وقت انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانا سنت ہے ۔ آج کل امور مذہبی میں انہتائی بے احتیاطی اور لاپرواہی برتی جا رہی ہے ۔ کتاب و سنت اور خصوصا فقہ حنفی سے بے اعتنائی نے ہر ایک کو دین حقہ سے بیگانہ بنا دیا ہے ۔ اسی غفلت کی وجہ سے حضور اکرم سید الکونین ﷺ کی شان اقدس ، ادب اور تعظیم کو مسلمان رفتہ رفتہ فراموش کرتا چلا جا رہا ہے ۔ ایسے علماء جو درحقیقت فقہ حنفی کے عملا پیرو نہیں عوام کے سامنے تقلید کا لبادہ اوڑھ کر آتے ہیں تاکہ عوام کی سادہ لوحی سے ناجائز فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے اپنے عقائد باطلہ کی اشاعت کے لیے یہ وطیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ اپنے آپ کو متبعین فقہ حنفیہ ظاہر کر کے ہر امر مستحن پر بدعت کا فتویٰ لگا دیتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ حق اور باطل میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ عوام بیچارے ان کی چرب زبانی اور جبہ وعمامہ کو دیکھ کر فریب کھا جاتے ہیں ۔
اسی ضمن میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضور اکرم شفیع عالمیان ، حامل لواء حمد ، صاحب شفاعت کبریٰ ، احمد مجتبیٰ محمد مصطفے ﷺکے نام پاک لینے کے وقت اور خصوصا اذان میں انگوٹھوں کا چومنا بدعتیوں کا کام ہے اور یہ بدعتیوں کی علامت یعنی نشانی ہے ۔
الغرض جو بھی شفیع المذنبین ، رحمۃ للعلمین ، خاتم النبین ، غریبوں و بے نواؤں کے ملجا و ماویٰ ، مالک و مختار ﷺ کی عزت کرتا ہے ۔ آپ ﷺ کی عظمت و شان کرتا ہے ۔ آپ کے تصر فات ، کمالات اور معجزات کا اظہار کرتا ہے اور آپ ﷺ کے محامدو محاسن بیان کرنا عین ایمان اور ذریعہ نجات سمجھتا ہے ۔ وہ ایسے حق فروش علماء کے نزدیک بدعتی اور گمراہ کہلاتا ہے ۔
اس جسارت پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے ۔ علم کا ڈھونگ رچا کر شاہد ، بشیر ،نذیر، رؤف اور رحیم رسول اللہ ﷺ کے ادب و تعظیم کا پاس نہ کرنا کہا ں کی عقلمندی ہے ۔ ,, دام تزویرمنہ چوں وگراں قرآں را ،،فیا للعجب واحسرتا، یہ دور بھی آنا تھا کہ توحید باری تعالیٰ عزاسمہ و جل مجدہ و عم نوالہ کی آڑ لے کر رسالت مآب دعاء خلیل و نوید مسیح ﷺ کی تنقیص شان کی جائے
مسئلہ مذکورہ کے متعلق آپ کی خدمت میں صرف چند فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی کتابوں سے حوالہ جات پیش کرتا ہوں تاکہ آپ خود بنظرانصاف فیصلہ فرما دیں کہ آیا ( استغفراللہ ) یہ مشاہیر علماء بدعتی ہیں ۔ یا اس قسم کی غلط اور بے بنیاد باتیں بیان کرکے سا دہ لوح عوام کو امام اعظم رحمت اللہ علیہ کی تقلید سے منحرف کرنے کی ناروا کوشش ہے۔
’’یستحب ان یقال عند سماع الاولیٰ من الشھادۃ ﷺ یا رسول اللہ وعند الثانیہ منھا یقول اللھم متعنی با السمع والبصر بعد و ضع ظفری الابھامین علی العینین فانہ علیہ السلام یکون قائد الی الجنۃ کذافی کنزالعباد ۔‘‘
ترجمہ:۔ یعنی پہلی شہادت کے سننے کے ساتھ ہی صلی اللہ علیک یا رسول اللہ کہنا اور دوسری شہادت کے وقت قرۃ عینی بک یا رسول اللہ کہنا مستحب ہے پھر دونوں آنکھوں پر دونوں انگوٹھوں کے ناخن رکھنے کے بعد یہ کلمات کہنا چائیں : اللھم متعنی با السمع والبصرکیونکہ حضور اکرم ﷺ ایسے شخص کے لئے جنت کے قائد بنیں گے ۔(ردالمحتار شرح درالمختارشامی ج اول ۲۷۹ مطبوعہ مصر)
’’ذکر القہستانی عن کنزالعباد انہ یستحب ان یقول عند السماع الاولیٰ من الشھادتین للنبیﷺ صلی اللہ علیک یا رسول اللہ و عند سماع الثانیۃ قرۃ عینی بک یا رسول اللہ اللھم متعنی بالسمع والبصر بعد وضع ابھامیہ علی عینیہ فانہ ﷺ یکون قائدا لہ فی الجنۃ ( ذکرہ الدیلمی فی الفردوس من حدیث ابی بکرن الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرفوعا من مسح العینین )‘‘(طحطاوی شرح مراقی الفلاح صہ ۱۱۱ تا ۱۱۲ مطبوعہ مصر )
ترجمہ :۔علامہ طحطاوی نے قہستانی کے حوالہ سے کنز العباد سے نقل کیا ہے کہ جب پہلی بار ’’ اشھد ا ن محمد رسول اللہ ‘‘ سنے تو ’’ الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ‘‘ پڑھے اور جب دوسری بارسنے تو انگوٹھوں کوآنکھوں پر لگاتے ہوئے کہے ’’ قرۃ عینی بک یا رسول اللہ اللھم متعنی بالسمع والبصر‘‘یا رسول اللہ ﷺ آپ کے اسم گرامی کیساتھ میری آنکھیں ٹھنڈی ہو ں یا اللہ ! مجھے سننے اور دیکھنے کے ذریعے نفع عطا فرما۔ نبی اکرم ﷺ اس شخص کے لیے قیامت کے دن قائد ہو ں گے ۔امام دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوع حدیث نقل کی ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص مؤذن سے
اشھد ان محمدا رسول اللہ سن کر شہادت کی انگلی کا پَورا چوم کرآنکھوں پر لگائے ۔
’’ وضع الابھا مین علی العینین فی الاذان عند قولہ اشھد ان محمدا رسول اللہ سنۃکذا فی المضمرات ‘‘۔
ترجمہ:۔ اذان میں اشھد ان محمدا رسول اللہ کے سننے پر دونوں انگوٹھوں کے ناخنوں کو آنکھوں پر رکھنا سنت ہے ۔
(فتاوی واحدی ۔ ج اول صہ۷۵)
,,حکی ان ابا بکر الصد یق رضی اللہ عنہ استمع الاذان قبل ظفرا بھا میہ فمسح بھما عینیہ قال لہ رسول اللہ ﷺ لای شی فعلت ھذا قال تیمنا باسمک الکریمہ قال علیہ السلام احسنۃ ، فمن عمل بہ فقد امن الرمد انتھی ‘‘
ترجمہ:۔ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اذان سنی تو آپ نے دونوں انگوٹھوں کے ناخنوں کو چوم کر اپنی دونوں آنکھوں پر لگایا ۔ حضور علیہ السلام نے ا ن سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ۔ آپ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ ﷺ کے اسم مبارک سے برکت حاصل کرنے کے لیے ۔ تو پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھا کیا ۔ جس کسی نے ایسا کر لیا اس کی آنکھ دکھنے سے بچی رہے گی ۔(عبد الحلیم علی الدرر شرح الغرر جلد اول صہ ۵۱مطبوعہ مصر )
فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے مندرجہ بالا ارشادات گرامی قدر سے ثابت ہو گیا کہ انگوٹھوں کا چومنا ( حضور ﷺ کے اسم گرامی کے وقت اذان میں ) مستحب اور باعث ، رفعت درجات عالیہ ہے ۔ اب وہ حدیث لکھی جاتی ہے جس سے اس فعل کا استبناط ثابت ہوتا ہے غیر مقلدین حضرات اس حدیث کے ضعف کو ثابت کرتے ہوئے ناقابل عمل ٹھہراتے ہیں ۔ اس بارے میں علم اصول حدیث و فقہ کی روشنی میں ان کے اس مغالطہ کو وہ ,, ضعف ،، کے لفظ سے دیتے ہیں ۔ حل کیا جاتا ہے تاکہ راہ صواب نظر آ جا ئے۔ ’’ فی کتاب الفردوس لدیلمی من قبل ظفری ابھامیہ عند سماع اشھد ان محمدا رسول اللہ فی الاذان انا قائدہ و مدخلہ فی صفوف الجنۃ ۔‘‘ ترجمہ :۔ فردوس دیلمی میں ہے کہ جس نے اذان کے کلمہ شہادت ثانیہ سننے پر دونوں انگوٹھوں کے ناخنوں کو چوما۔ میں اس کو جنت کی صفوں میں داخل کرنے والا بنوں گا اور اس کا قائد ہوں گا ۔
حضرت ملا علی قاری رحمہ الباری فرماتے ہیں ۔ واجمعوا علی جواز العمل با الحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل مستحب ہے ۔جیسا کہ فقہاء کرام کی ان عبادتوں سے ثابت ہوتا ہے جو کہ شروع میں درج کر دی گئی ہیں ۔(مرقاۃ شرح مشکوۃ)
حضرت علامہ ملا علی قاری رحمہ الباری ایک رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں ۔ ’’ بل یستحب کما صرح بہ ارباب الکمال منھم سیدنا العلامہ علی بن سلطان القاری قال فی رسالۃ عملھافی فضائل النصف من شعبان جھالہ بعض الرواۃ لا یقتضی کون الحدیث موضوعا و کذا نکارۃ الالفاظ فینبغی ان یحکم علیہ بانہ ضیعف ثم یعمل با الضعیف فی فضائل الاعمال ۔‘‘
ترجمہ :۔ حضرت علامہ قاری نے یہ رسالہ شب قدر کی فضیلت میں لکھا ہے فرماتے ہیں کہ اگر کسی حدیث کے راوی ناشنا سا ہوں ، یا الفاظ ایسے ہوں کہ ان سے محدث کو نا آشنا ئی ہو تو اس پر موضوع ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا اور نہ ہی اس کو محض اس بنا پر ضعیف کہا جا سکتا ہے اور پھر فضائل اعمال میں تو ضعیف پر عمل کیا جا تا ہے ۔
’’قد اتفق الحفاظ و لفظ الا ربعین قد ا تفق العلماء علی جواز العمل بہ فی فضائل الاعمال بالاتفاق ‘‘یعنی تمام حفاظ حدیث اور اربعین کے الفاظ میں تمام علماء حدیث کا اس پر اجماع ہے کہ ضعیف حدیث پر فضائل اعمال میں عمل کرنا بھی ضروری اور واجب ہے ۔(حرزثمین شرح حصن حصین ) :
اس کا فلسفہ مندرجہ ذیل ہے :۔ ’’لانہ ان کا ن صحیحا فی نفس الامر فقدا عطی حقہ من العمل والا لم یترتب علی العمل بہ مفسدۃ تحلیل ولا تحریم ولاضیاع حق لغیرہ۔ ‘‘ ( کتا ب فتح المبین شرح اربعین)
اگر حدیث نفس امر میں صحیح ہے تو عمل کر نے کے لئے اس نے اپنا حق ادا کر دیا ، اور اگر یہ صحیح نہیں ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اس پر عمل کرنے سے نہ شرعی تحلیل میں کو ئی فساد اور نہ کسی تحریم کا ارتکاب اور نہ کسی کے حق کو ضائع کرنا ثابت ہو تا ہے کیونکہ فضائل اعمال کے با رے میں ہے ۔اگر اس مسئلہ کو ٹھنڈے دل سے سوچا جا ئے اور اس پر پورا غورو خوض کیا جا ئے تو صاف طور پر عیاں ہو جاتاہے کہ اس فعل کو بدعت قرار دینے سے محض حضور اکرم ـﷺ کی شان اقدس کو کم کرنا ہے ۔ توحید کے پردے میں رسالت کی توقیر سے انکار ہے ۔
یہی مولوی جو اس با برکت فعل کو بد عت قرار دیتے ہیں۔ خود کئی ایسی حدیثوں پر عمل کرتے ہیں جو کہ تمام حفاظ وعلماء حدیث کے مذہب کے مطابق ضعیف ہیں ۔ اور ان کے ضعف پر اجماع ہے جیسے مسح رقبہ ، یہ اس پر تو عمل کرنا مستحب چھوڑ کر سنت تک پہنچا دیا گیا ۔حالانکہ یہ ضعیف حدیث سے ثا بت ہے ۔ وضو کے بعد آب وضو کو مندیل (رومال )سے خشک کرنا بھی اسی قبیل سے ہے ، ایک ضعیف کو جواز اور استجاب کے لیے حجت قرار دے کر دوسری کو ضعیف مان کر اس کے لیے بدعت کرنا ترجیح بلا مرحج ہے ۔حضرت علامہ مولینا مولوی وصی احمد صاحب فرماتے ہیں:۔
’’قد اغتر بھٰذا کثیر من الوھابیۃ الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون ان ھم یحسنون صغا وستزلھم الشیطن فلم یتیرکوا معر وفا فیہ تعظیم من امرنا اللہ تعالیٰ بتعظیمہ و توقیرہ الا جعلوہ منکرا و امرا مبتدعا و تمسکوا بہ فی منع تقبیل الابھامین عند سماع اسمہ الشریف فی الشھادتین الاخیرتین و غالطوا بہ المبتدین من طلبۃ العلم منا اھل السنۃ و الجماعۃ ‘‘
ترجمہ:۔ یعنی بہت سے وہابی اس ٹکڑے کے مفہوم سے ( یعنی انہ لم یصع فی المرفوع منہ شی ) دھوکا کھا گئے ہیں اور وہ ایسے لوگ ہیں جن کے حال پر یہ آیت قرآنی سچی اتری ہے کہ ان کی کو شش اور سعی اس دنیا میں کھو گئی اور وہ یہ خیا ل کرتے ہیں کہ ہم اچھا کا م کر رہے ہیں اور ان کو شیطان نے دھوکا دیا ہے اور ایسا ڈگمگا دیا ہے کہ جس نیک کام کا ہم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا ہے اور وہ حضور ﷺ کی بلند مرتبی اورعلو شان کے متعلق ہے اسی کو بدعت اور گمراہی ٹھہر ا دیا ۔ نیز مسئلہ تقبیل ابہامین کو بھی اسی طرح بدعت قرار دے دیا ، اذان میں آ خری شہادتین پر حضور ﷺ کے اسم گرامی کو سن کر انگوٹھوں کو چومتے ہوئے آنکھوں پر رکھ لینا ان کے نزدیک بدعت ہے اور انہوں نے اہل سنت و الجماعت کے بہت سے مبتدی طالب علموں کو مغالطہ میں ڈال دیا ہے ۔
صوبہ سرحد کے گیا رھویں صدی ہجری کے علامہ اجل فاضل اکمل عالم قرآن و سنت منا ظر اسلام حضرت اخوند در ویزہ پشاوری رحمت اللہ علیہ ارشاد الطالبین کے صفحہ ۳۹۴ پر تحریر فرماتے ہیں ۔
چوں ’’اشہد ان محمدا رسول اللہ ‘‘ گوید سامع ہر دو انگشت ابہام را بر دوچشم بنہد ، یعنی نا خن ایشاں دیدہ بر دارو بداں نا خن نظر کند ، حق تعالیٰ چار ہزار گناہ کبیرہ اور عفو کند در قرآن خوانی مسطوراست کہ انگشت نہادن سنت است ترک نمی تو ان کرو ، دہر کہ بجا ے آرددر عرصہ عرصات حضرت رسالت پناہ ﷺ اور اچنا ں طلب کند کہ کسے گم شدہ خود رابر طلبد۔
حضرت علامہ بالفضل اولنا مولوی مرید محی الدین نو شہروی خلیفہ مجاز حضرت شیخ المسلمین رئیس المجاہدین حقائق معارف آگاہ جناب عبد الغفور صاحب المعروف سوات بابا جی صاحب نور اللہ مرقدہ نے با قاعدہ علما ء حرمین و ہندوستان سے ۱۲۸۰ھ میں مسئلہ مذکورہ پر فتویٰ طلب کیا چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:
,, تحقیق اس مسئلہ کی یہ ہے کہ انگوٹھوں کا چومنا اور آنکھوں پر رکھنا وقت اذان کہنے کے جب موذن کہے ’’ اشہد ان محمدا رسول اللہ، پس صلی اللہ علیک یا رسول اللہ قرۃ عینی بک یارسول اللہ ‘‘کہنا اور چومنا انگوٹھوں کا اور آنکھ پر رکھنا صحیح اور درست ہے ۔ اکثر فقہائے مستحب لکھا ہے ۔ نزدیک بعض علماء کے سنت ہے اور طحطاوی علی مراتی الفلاح میں ہے کہ حدیث مسند دیلمی سے ثابت ہے اور فعل امیر المومین ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ سے ثا بت کیا ہے اورمرفوع لکھا ہے اور اس وجہ سے شیخ محمد عابد سندی مدنی رحمہ اللہ علیہ نے طوالع الا نوار محشی درالمختا ر میں تحریر کیا ہے اور مولینا علی القاری نے موضوعات کبیر میں لکھا ہے ۔
حدیث تقبیل الا بہامین وضع علی العینین مسند دیلمی سے ثابت ہے ، اور سخاوی نے لکھا ہے کہ حدیث صحیح نہیں اور مرفوع ہونافعل امیرالمومنین سیدنا ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کا ثابت کیا ہے اور کہا ہے پس کافی ہے ہم کو عمل کرنا بفعل جناب امیر المومنین سید نا ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ سنت خلفا ء راشدین کی میری سنت ہے ۔ یہ مسئلہ اکثر کتابوں میں ہے ۔ (درالمختار)، طحطاوی علی مراقی الفلاح ، کنز العباد، جمل الحدیث ، طوالع الانوار شرح درالمختا ر ، مضمرات ، صلوٰۃ مسعودی ، فتاویٰ غرائب ، جامع میر سید شریف ، خالصتہ الحقائق، مفتاح الجنان ، خزانتہ الروایات ، جامع الرموز ، تفسیر روح البیان ، مسند فردوس ، ارشاد الطالبین ، مفتاح السعادۃ ، شرح مختصر میر سید علی ہمدانی ، جامع المتفرقات ، شرح وقایہ ، شرح اربعین ، صحیح الترمذی ، موضوعات کبیر ، سنن ابی داؤد ، شرح حصن حصین۔( صہ ۹۱ رسالہ ثبوت شفاعۃ سید المرسلین) انجیل برنابا ( مطبوعہ مصر ) مترجمہ دکتور خلیل سعادۃ و مقدمہ ناشرہ السید محمد رضا شہید منشی مجلہ المنار ( مصر ) مطبوعہ
علاوہ ازیں یہ مسئلہ انجیل مقدس میں بھی ہے ۔ چنانچہ انجیل بر نابا میں جو باکل صحیح و درست اور کتاب اللہ قرآن کریم کے موافق و مطابق انجیل ہے ، اس میں سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی زبانی یو ں ار شاد ہے کہ:
ترجمہ :۔ (۱۴) جسم اطہر میں روح داخل ہونے کے بعد جب حضرت آدم علیہ وعلی نبینا السلام و الصلوۃ ) اپنے دونوں قدموں کے بل کھڑے ہو گئے تو انہوں نے فضا میں ایک تحریر دیکھی جو کہ سورج کی مانند چمکتی تھی اور اس کی عبارت یہ تھی ’’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے رسول ہیں (۱۵ ) اس وقت آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا منہ حمد کے لیے کھولا اور کہا ’’ اے میر ے رب میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کیونکہ اے میر ے معبود تو نے عین نوازش کی اور مجھے پیدا کیا( ۱۶) اور البتہ اے مالک انس و جان و رازق کون ومکان میں نہایت عاجزی سے تیری خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ تحریر میں جو یہ کلمات ہیں ( محمد رسول اللہ) ان کا کیا مطلب ہے (۱۷ )اللہ تعالیٰ نے جواب دیا اے میر ے بندے آدم تو نے جو میری ثنا کی ہے اس پر تجھے مرحبا کہتا ہوں (۱۸ ) اور میں تجھے یہ بتلا دیتا ہوں کہ تو سب سے پہلا انسان ہے جو پیدا کیا گیا ہے (۱۹) اور جس کو تو نے دیکھا ہے یہ تیرا مولود مسعود ہے جو کہ آج سے لے کر کئی سال تیرے بعد دنیا میں ظہور پذیر ہو گا۔ (۲۰) پھر وہ میر ا پیغمبر اور رسول ہو گا ۔ ایسا رسول کہ جس کی خاطر میں نے ہر ایک چیز پیدا کی (۲۱ )وہ ایسی برگزیدہ ہستی ہے کہ جب وہ تشریف لائے گا تو تمام عالم کو اپنے نور سے منور کرے گا (۲۲ )میرا ایسا رسول ہے کہ جس کو نو ر ایک آسمانی قندیل میں دنیا کے پیدا کرنے سے ۶۰ ہزار سال پہلے موجود تھا (۲۳) پھر آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے نہایت عاجزی سے درخواست کی کہ اے مولا یہ تحریر میر ے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخنوں پر ثبت فرما دے (۲۴) پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا کے سب سے پہلے انسان یعنی آدم کو یہ تحریر دے دی (۲۵) اور وہ دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں پر آگئی ۔ لا الہ الا اللہ کے کلمات دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن پر ثبت ہو گئے (۲۶) اور محمد رسول اللہ بائیں ہا تھ کے انگوٹھے کے نا خن پر لکھا گیا (۲۷) پس حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں انگوٹھوں کو اس جگہ سے چوم لیا جہاں دونوں طرف فردا فردا یہ کلمات لکھے ہوئے تھے (۲۸) اور اپنی آنکھوں پر چومنے کے بعد دونوں انگوٹھوں کو ملا لیا اور کہا ’’وہ دن برکت دیا گیا جس دن اے میر ے بیٹے تو دنیا میں جلوہ گر ہو گا
﴿ان یقول ﴾یعنی مؤذن کہے یعنی پو ری اذان ۔یعنی لوٹانا نہیں ہے شھا دتین کو آہستہ کہہ کر دوبارہ بلند آواز سے نہیں کہنا کیونکہ روایت ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجر کی اذان کے بعد حضور ﷺ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ کو سوتا یا کہ ’’ الصلوۃ خیر من النوم ‘‘ کا کلمہ دو مرتبہ کہا ۔آپ نے فرمایا یہ کلمہ بہت اچھا ہے اس کلمہ کو اپنی فجر کی آذان میں شامل کر لو۔
والاقامۃ مثل الاذان الا انہ یزید فیھا بعد الفلاح قد قامت الصلوۃ مرتین ویترسل فی الاذان و یحدر فی الاقامۃ و یستقبل بھما القبلۃ فاذا بلغ الی الصلوۃ والفلاح یحول وجھہ یمینا و شمالا مع ثبات قدمیہ ویؤذن للفائتۃ و یقیم فاذا فاتت صلوات اذن للاولی منھا واقام وکان مخیرا فی الباقیۃ ان شاء اذن واقام وان شاء اقتصر علی الاقامۃ
اور اقامت اذان کی مانند ہے مگر یہ کہ اقامت میں فلاح کے بعد قد قامت الصلوۃ دوبار زیادہ کرلے ۔ اور اذان ٹھہر ٹھہر کر کہے اور اقامت جلدی جلدی کہے ۔ اور دونوں کو قبلہ رخ ہو کر ادا کرے پس جب حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح پر پہنچے تو دونوں قدموں کو جنبش دئے بغیر چہرے کو دائیں اور بائیں پھیرے اور فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کی جائے پس جب کئی نماز یں فوت ہو جائیں تو ان میں سے پہلی نماز کے لیے اذان دے اور اقامت کرے اور باقی نمازوں میں اختیار رکھتا ہے مگر چاہے تو اذان اور اقامت کرے اور اگر چاہے تو اقامت پر اکتفا کرے ۔
﴿یترسل﴾یعنی ٹھہر ٹھہرکریا آہستہ آہستہ آذان کہے۔
﴿یحدر﴾ یعنی مسلسل یا جلد کہے اقامت۔
﴿ یحول وجھہ﴾یعنی منہ پھیر نے کے ساتھ قدموں کو نہیں پھیرے گا ۔
﴿ فاتت صلوات﴾یعنی جو نماز پہلے قضاء ہوئی ہے ۔
وینبغی للمؤذن ان یؤذن ویقیم علی طھارۃ فان اذن علی غیر وضوء جاز ویکرہ ان یقیم علی غیر وضوء ویکرہ ان یؤذن وھو جنب ولایؤذن للصلوۃ قبل دخول وقتھا وقال ابو یوسف یجوز ان یؤذن لصلوۃ الفجر فی النصف الاخیر من الیل
اور موذن کو چاہیے کہ باوضو ہو کر اذان اور اقامت کرے اور اگر بغیر وضو کے اذان دی تو جائز ہے اور بغیر وضو کے اقامت کرنا مکروہ ہے اورجنب کی حالت میں اذان کہنا مکرو ہ ہے اورنماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے نماز کے لیے اذان نہ دے اورامام ابویوسف فرماتے ہیں کہ رات کے آخری نصف حصہ میں نماز فجر کے لیے اذان دینا جائز ہے ۔
﴿ینبغی﴾جب موذن اذان دے تو سننے والا بھی وہی کلمات کہے البتہ ’’ حی الصلوۃ ‘‘ اور ’’ حی علی الفلاح ‘‘ کے جواب میں وہ’’ لاحول ولا قوۃ الاباللہ ‘‘پڑھے ۔ جب موذن ’’الصلوۃ خیر من النوم ‘‘ کہے تو ( سننے والا) صد قت وبررت یا ’’ماشاء اللہ‘‘کے الفاظ کہے ۔جب اذان ختم ہوتو پہلے درود شریف پڑھے اور اس کے بعد ( مؤذن اورسامع ) وسیلہ کی دعامانگیں۔
اللھم رب ھذ ہ الدعوۃ التامۃ والصلوۃ اے اللہ ! اے مکمل دعا اور قائم ہونے والی نماز کے رب ،
القائمۃ ات محمد ن الوسیلۃوالفضیلۃحضرت محمدمصطفی ﷺ کو وسیلہ اورفضلیت عطا فرما او ر وابعثہ مقاما محمودا نالذی وعدتہآپ کو مقام محمود پر فائز فرما،جس کاتو ان سے وعدہ فرماہے ۔
باب شروط الصلوۃ التی تتقدمھا
یجب علی المصلی ان یقدم الطھارۃ من الاحداث والانجاس علی ما قدمناہ ویستر عورتہ والعورۃ من الرجل ماتحت السرۃ الی الرکبۃوالرکبۃ من العورۃ والسرۃ لیست بعورۃ وبدن المرائۃ الحرۃ کلہ عورۃ الاوجہ ھا وکفیھا وقدمیھا
نماز کی شرائط جو نماز سے پہلے ہیں
نماز پڑھنے والے پر سب سے پہلے ناپا کیوں اور پلیدیوں سے اس طریقہ پر طہارت حاصل کرنا واجب ہے جو پہلے بیان کیا گیا ہے اور اپنے ستر کو چھپائے اور مرد کا ستر ناف کے نیچے سے گھٹنے تک ہے اور گھٹنا ستر میں داخل ہے اور ناف ستر میں سے نہیں ہے اور آزاد عورت کو سارا جسم سوائے اس کے چہرے دونوں ہتھلیوں اور دونوں پاؤں کے ستر ہے ۔
﴿تتقدمھا ﴾ نماز میں خشوع و خضوع :۔امام ہمام حجتہ الاسلام ابو حامد الغزالی قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے ہیں کہ نماز میں خشوع کے لئے بہت دلیلیں ہیں ۔ازاں جملہ ایک یہ ہے ۔ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ’’ اقم الصلوۃ لذکری‘‘ ( کہ میری یا د کے لئے نماز قائم کرو) اور اس کیلئے امر و جوبی استعمال کیا جو کہ لفظ ’’ اقم ‘‘ہے اور جان لو کہ غفلت ذکر سے متضاد ہے ۔ پس جو اپنی نماز کے دوران میں غافل رہا تو وہ اس کی یاد کے لئے نماز کو قائم کرنے والا کیسے ہو سکتا ہے ۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ غافلوں میں سے نہ ہو جیو ۔ ’’ ولا تکونن من الغافلین ‘‘ ایک ممانعت ہے اور جس طرح ’’ اقم ‘‘ میں امر و جوبی نظر آتا تھا اسی طرح اس ممانعت میں نہی تحریمہ نظر آ رہی ہے اور باری تعالیٰ کا یہ قول بھی دال ہے کہ تم جب سکر کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم کیا کہتے ہو ۔ ’’ لا تقربوا الصلوۃ و انتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون ‘‘ کیونکہ اس جگہ مست شرابی کو جو نماز پڑھنے سے منع فرمایا تو اس کی علت یہی ہے کہ اس کی حالت بھی اس غافل کی طرح ہے جو اپنے وسواس اور اندیشوں میں مستغرق ہو تا ہے ۔ جیسا کہ شرابی اپنے شراب کے نشہ میں چور ہوتا ہے ۔ ہم دنیا کے افکار اور اندیشوں سے پناہ مانگتے ہیں ۔ ( الاحیاء ) میں ۔ حضرت ابن لعینہ نے حضرت عطا بن یسار اور انہوں نے سعد ابن جبیر سے روایت کی ہے کہ قرآن مجید میں پارہ ۱۸ ’’ ھم فی صلوتھم خاشعون ‘‘سے مراد متواضعین ہیں ۔یعنی وہ لوگ جو اپنی نماز میں عاجزی کرتے ہیں تواس عاجزی کی حد یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو یہ بھی نہیں جانتے کہ ہماری داہنی طرف اور بائیں طرف کون ہے اور اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے کسی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضور قلب نماز کی روح ہے ۔ تو حضور قلب کا ہو نا ضروری ہے۔ اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی کیوں نہ ہو یعنی اتنی ہو کہ جس سے روح کو تھوڑی سی تازگی پہنچے ۔ جیسے کہ اللہ اکبر کہنے کے وقت پہنچتی ہے ۔ پس خشوع و خضوع میں کمی ہلاکت ہے ۔ ( روح کے لئے ) اورخشو ع کی زیادتی ( روح کے لئے ) تمام نماز کے رکنوں کے درمیان ترو تازگی ہے اور بہت سے زندہ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ حرکت نہیں کر سکتے تو وہ تقریبا مردے ہوتے ہیں ۔ پس غافل کی تمام نماز سوائے ادائیگی کلمہ تکبیر کے باقی اپنے ارکان میں اسی زندہ کی طرح ہوتی ہے جو حرکت نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ سے ہم اکمل توفیق چاہتے ہیں ۔ ( اسی طرح کتاب احیاء میں مذکور ہے ) ’’ و کم من مصل مالہ من صلوۃ سویٰ رویۃ المحراب والکد والعنا ‘‘ اور بہت سے ایسے نمازی پائے جاتے ہیں جن کو اپنی نماز کے سوائے زیارت محراب ، تکلیف اور سختی کے اور کچھ وصول نہیں ہوتا ۔
’’واخریحظی بالمناجاۃ دائما وان کان قد صلی الفریضتہ و ابتدی ‘‘
اور دوسری قسم ( کے نمازی وہ ہیں جو خشوع و خضوع سے کام لیتے ہیں) وہ ہیں جو ہمیشہ اپنی زاری اور منا جات سے لطف اٹھاتے رہتے ہیں خواہ وہ نماز کے ابتدا میں ہوں یا نماز کو آخر کرنے کو ہوں ۔
’’وکیف و سرالحق کان امامہ وان کان ماموما فقد بلغ المدی ‘‘
بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ نماز جو کہ سرالہی تھی وہ ان کے سامنے تھی اگر وہ اس حقیقت کو سامنے رکھتے تو مقصود کو پہنچ جاتے (نمازمقبول)
﴿عورۃالسرۃ﴾امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک ناف سترمیں داخل ہے جبکہ گھٹنا ستر میں داخل نہیں
وماکان عورۃ من الرجل فھو عورۃ من الامۃ وظھرھا وبطنھا عورۃ وما سوی ذلک من بدنھا فلیس بعورۃ ومن لم یجد ما یزیل بہ النجاسۃ صلی معھا ولم یعد الصلوۃ ومن لم یجد ثوبا صلی عریانا قاعدا یؤمی بالرکوع والسجود فان صلی قائما اجزاہ والاول افضل
اور جو کچھ مرد کو ستر ہے وہی لونڈی کو ستر ہے اور اس کی پیٹھ اور پیٹ بھی ستر ہے اور اس کے علاوہ لونڈی کے بدن کا کوئی حصہ ستر نہیں ہے اور جو شخص وہ چیز نہ پائے جس سے نجاست دور کی جاتی ہے تو نجاست کے ساتھ نماز پڑھ لے اور نما ز کا اعادہ نہ کرے اور جو شخص کپڑا نہ پائے تو برہنہ بیٹھ کر
نما ز پڑھے ۔ اشارے کے ساتھ رکوع و سجود ادا کرے ۔ پس اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو کافی ہو جائے گی اور پہلی صورت بہتر ہے ۔
وینوی الصلوۃ التی یدخل فیھا بنیۃ لا یفصل بینھا وبین التحریمۃ بعمل اخر ویستقبل القبلۃ الا ان یکون خائفا فیصلی الی ای جھۃ قدر فان اشتبھت علیہ القبلۃ ولیس بحضرتہ من یسئلہ لہ عنھا اجتھد وصلی فان علم انہ اخطاء بعد ما صلی فلا اعادۃ علیہ و ان علم ذلک وھو فی الصلوۃ استدار الی القبلۃ وبنی علیہا
اور نیت کرے اس نماز کے لیے جس میں داخل ہو ا ایسی نیت کے ساتھ کہ اس نیت اور تکبیر تحریمہ کے درمیان کسی دوسرے عمل سے جدائی نہ ہو اور قبلہ کی طرف رخ کرے مگر یہ کہ ڈرتا ہو تو جس طرف بھی قدرت رکھتا ہو نماز پڑھ لے ۔ پس اگر اس پر قبلہ مشتبہ ہو جائے اور کوئی ایسا شخص بھی پاس نہیں جس سے قبلہ کے متعلق دریافت کرے تو دل میں سوچ کر نما ز پڑھ لے پس اگر نماز پڑھنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ اس نے غلطی کی ہے تو اس پر اعادہ لازم نہیں ہے اور اگر نماز کے دوران اپنی غلطی جان گیا تو قبلہ کی طرف گھوم جائے اور باقی اسی پر پوری کرے ۔
﴿ التحریمۃ ﴾جیسے کھانا اور پینا اور باتیں کرنا
باب صفۃ الصلوۃ
نماز کا طریقہ
﴿صفۃ﴾نماز پڑھنے کا طریقہ :۔ ’’عن ابی ھریرۃ ‘‘ ابی ہریرہ سے روایت ہے کہ ’’ ان رجلا دخل المسجد‘‘ یہ کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ۔ ’’ ورسول اللہ ﷺ جالس فی ناحیۃ المسجد ‘‘ اور سید دو عالم ﷺ مسجد کے ایک گوشہ میں تشریف فرماتھے ۔ ’’ فصلیٰ ‘‘ پس اس شخص نے نماز پڑھی ’’ثم جا ٓء فسلم علیہ ‘‘ پھر وہ شخص آیا اور حضور اکرم ﷺ کو سلام کیا ۔ ’’ فقال لہ رسو ل اللہ ﷺو علیک السلام ارجع فصل فانک لم تصل ‘‘ اس کو سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ ’’ و علیک السلام ‘‘ واپس لوٹ نماز پڑ ھ ۔ بالتحقیق تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ یعنی تعدیل ارکان ، قومہ ، جلسہ ، صحیح ادا نہیں کیا ۔ ’’فرجع فصلی‘‘ وہ شخص واپس ہو ا پھر نماز پڑھی ۔ ’’ ثم جاء فسلم ‘‘ وہ شخص پھر نماز پڑھ کر آیا اورحضور انور ﷺ کو سلام کیا ۔ ’’ فقال و علیک السلام ارجع فصل فانک لم تصل ‘‘ پھر حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا وعلیک السلام ، واپس جا ،نماز پڑھ ، باتحقیق تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ ’’ فقال فی الثالثۃ او فی التی بعدھا ‘‘ پھر اس شخص نے تیسری دفعہ یا اس کے بعد عر ض کی،
’’ علمنی یا رسول اللہ ‘‘اے اللہ تعالیٰ کے ( پیا رے ) رسول مجھے سکھلا دیجئے ۔ ’’فقال اذا اقمت الی الصلوۃ فاسبغ الوضوء ‘‘ آپ نے فرمایا جب تو نماز کا قصد کرے تو مکمل وضو کر ۔ ’’ ثم استقبل القبلۃ ‘‘پھر قبلہ ( کعبہ ) کی طرف منہ کر ،
’’ فکبر ثم ا قرأ بما تیسر معک من القرآن ثم ارجع حتی تطمئن راکعا ثم ارجع حتی تستوی قائما ‘‘ تکبیر تحریمہ کہہ پھر قرآن مجید پڑھ جو تجھ کو آسان ہو یعنی جو نسی ( جہاں سے ) جگہ سے تجھے یا د ہو ۔ پھر رکوع کر یہاں تک کہ تجھے رکوع میں اطمینان حاصل ہو جا ئے ۔ پھر سرکو اٹھا ۔ یہاں تک کہ تو باکل سیدھا کھڑا ہو جائے ۔ ’’ ثم اسجد حتی تطمئن ساجدا ثم ارفع حتی تطمئن جا لسا ثم اسجد حتی تطمئن ساجدا ثم ارفع حتی تطمئن جالسا ‘‘ پھر سجدہ کر یہا ں تک کہ تیرا سجدہ اطمینان کے ساتھ ہو ۔ پھر بیٹھ یہاں تک کہ بیٹھنے میں تجھے اطمینان حاصل ہو جائے ۔پھر سجد ہ کر یہاں تک کہ تو سجدہ میں اطمینان پا لے پھر اپنا سر اٹھا یہاں تک کہ تو اطمینان کے ساتھ بیٹھے ۔اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اپنے سر کو اٹھا یہا ں تک کہ تو سیدھا کھڑا ہو ۔ پھر اپنی تمام نماز اسی طرح ادا کر ۔( متفق علیہ) ۔۔۔قومہ ، جلسہ ، رکوع اور سجود میں طمانیت نہایت ضروری ہے ۔امام شافعی رحمت اللہ علیہ اور امام مالک رحمت اللہ علیہ کے نزدیک طمانیت فرض ہے اورامام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک واجب ہے طمانیت بدن کے تمام جوڑ رکوع اور سجود میں اپنی اپنی جگہ پر آجانے کو اور سکون حاصل ہو جانے کو کہتے ہیں ۔ آج کل عموما اس طرف بہت کم توجہ کی
جا تی ہے ۔ حالانکہ نماز کے صحیح ہونے کا مدار اسی پر ہے ۔ کہ نماز اطمینان کے ساتھ ٹھہرٹھہر کر ادا کی جا ئے ۔ تاکہ قبولیت کے مقام پر پہنچ جائے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ام المومنین سے روایت ہے ۔’’ عن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت کان رسول اللہ ﷺ یستفتح الصلوۃ بالتکبیر والقرآء ۃ بالحمد للہ رب العالمین فکان اذا رکع لم یرفع رأ سہ و لم یصوبہ ولکن بین ذالک فکان اذا رفع راء سہ من الرکوع لم یسجد حتی یستوی قائما‘‘ ترجمہ :۔ وہ فرماتی ہیں کہ حضور انور ﷺ تکبیر کے ساتھ نماز شروع کرتے تھے اور قراء ت الحمد شریف سے اور جب حضور اقدس ﷺ رکوع کرتے تو سر مبارک کو نہ اونچا کرتے اور نہ پست بلکہ درمیان میں ہوتا یعنی گردن اور پیٹھ برابر ہوتی اور جب رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تھے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جائے ۔ ’’ فکان اذا رفع راء سہ من السجد ۃ لم یسجد حتی یستوی جالسا و کان یقول فے کل رکعتین التحیۃ وکان یفرش رجلہ الیسری و ینصب رجلہ الیمنی وکان ینھی عن عقبۃ الشیطان وکان یختم الصلوۃ بالتسلیم ‘‘ ( رواہ مسلم ) اور جب سر مبارک اٹھاتے تھے توپھر دوبارہ سجدہ نہ کرتے تھے حتی کہ برابر بیٹھ نہ جاتے اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھا کرتے تھے اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھتے اور داہنا پاؤں کھڑا کرتے تھے ۔اور عقبہء شیطان سے منع فرماتے تھے ۔ یعنی اس طرح بیٹھنے سے حضور ﷺ منع فرمایا کہ ایک نماز ی دونو ں کُولے زمین پر لگائے ، دونوں پنڈلیاں کھڑی کرے اور دونوں ہا تھ زمین پر رکھے اور دونوں ہاتھ کو سجدے میں اس طرح پھیلانے سے منع فرمایا ہے جس طرح درندے پھیلاتے ہیں اورسلام کے ساتھ نماز کو ختم فرماتے تھے ۔مندرجہ بالا ارشادات گرامی قدر میں حضور فخر عالم ﷺ نے نماز پڑھنے کا طریقہ سکھلایا بلکہ عملا تلقین فرمائی ۔ ہماری نمازیں اسی لئے بے کیف و بے اثر ہو تی ہیں کہ ہم ارشادات عالیہ کے مطابق نماز کی ادائیگی بجانہیں لاتے ۔ اگر ہم صدق دل کے ساتھ حضورانور ﷺ کے احکام کے مطابق نماز ادا کریں تو یقینا ہماری نمازیں وہ اثر و قبولیت پیدا کر سکتی ہیں ۔ جو صحابہ کرام کے پا کیزہ دور میں تھی ۔ ’’ اللھم ارزقنا اطمینانا فی الصلوۃ ۔ ،، امین
,, و عن عون بن عبد اللہ عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ ﷺ اذا رکع احد کم فقال فی رکوعہ سبحان ربی العظیم ثلث مرات‘‘ عون بن عبداللہ سے روایت ہے اور وہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی ایک تم میں سے رکوع کرے پس اپنے رکوع میں کہے ۔ تین دفعہ سبحان ربی العظیم ۔۔
’’ فقد تم رکوعہ و ذالک ادنا ہ واذا سجد فقال فی سجود ہ سبحان ربی الاعلے ثلث مرات ‘‘ پس بالیقین اس کا رکوع پورا ہو گیا اور یہ ازروئے ثواب کے کم درجہ ہے اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدے میں تین بار سبحان ربی الاعلی کہے ۔ ’’ فقد تم سجودہ و ذالک ادناہ ‘‘ ( رواہ الترمذی و ابو داؤد و ابن ماجہ ) تو بلا ریب اس کا سجد ہ پورا ہو گیا اور یہ یعنی تین بار سبحان ربی الاعلی کا پڑھنا از روئے ثواب کے کم درجہ ہے ۔ رکوع یا سجود میں مندرجہ بالا کلمات طیبات کا ہر سات دفعہ دہرانا نہایت اعلی درجہ ہے اور پانچ با ر دہرانا اوسط درجہ ہے ۔
(نمازمقبول ص ۹۔۱۳۔ ناشر ادراہ اشاعت وتبلیغ اسلام ، محلہ قاضی خیلاں پشاور)
فرائض الصلوۃ ستۃ التحریمۃ والقیام والقراء ۃ والرکوع والسجود والقعدۃ الاخیرۃ مقدار التشھد وما سوی ذلک فھو سنۃ
نماز میں چھ فرائض ہیں ،اللہ اکبر کہنا ، قیام کرنا ، قرآن مجید پڑھنا ، رکوع کرنا ، سجدہ کرنا ، تشہد کے برابر قعدہ آخیرہ کرنا اور جو امور ا س کے سوا ہیں وہ سنت ہیں ۔
﴿قیام﴾اگرعذر ہے تو بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔
﴿مقدار﴾دو رکعات والی نماز میں دوسری رکعت کے بعد اور تین اور چار رکعت والی نماز میں بالترتیب تیسری اور چوتھی رکعت کے بعد قعدہ آخیرہ ہو تا ہے ۔
﴿التشھد﴾’’ التحیا ت للہ ‘‘ سے لے کر’’ عبدہ و رسولہ ‘‘ تک ۔
واذا دخل فی الصلوۃ کبر ورفع یدیہ مع التکبیر حتی یحاذی بابھامیہ شحمتی اذنیہ فان قال بدلا من التکبیر اللہ اجل اواللہ اعظم اوالرحمن اکبر اجزاہ عند ابی حنیفۃ ومحمد وعند ابی یوسف لا یجوز الا ان یقول اللہ اکبر او اللہ الاکبر اواللہ کبیر او اللہ الکبیرویعتمد بیدہ الیمنی علی الیسری ویضعھما تحت السرۃ ثم یقول سبحانک اللھم الی اخرہ ویستعیذ باللہ من الشیطن الرجیم و یقول بسم اللہ الرحمن الرحیم ویسربھن فی نفسہ
اور جب نما ز شروع کرے تو اللہ اکبر کہے اور تکبیر کے ساتھ ہاتھوں کو اتنا اٹھا ئے کہ دونوں انگوٹھے کانوں کی لو کے برابر لے آئے ۔ پس اگر اللہ اکبر کی بجائے اللّٰہ اجل یا اللّٰہ اعظم یا الرحمن اکبر کہا تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک کافی ہے اور امام ابویوسف کے نزدیک اللّٰہ اکبر یا اللّٰہ الاکبر یا اللّٰہ کبیر یا اللّٰہ الکبیرکے سوا کہنا جائز نہیں اور دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑے اور دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے رکھے اور پھر آہستہ سے اپنے دل میں
سبحا نک اللھم آ خر تک اور اعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم اوربسم اللّٰہ الرحمن الرحیم پڑھے ۔
﴿اللہ اکبر﴾امام ابو یوسف کے نزدیک ان الفاظ میں ’’اکبر ‘ ‘ کے معنی نہیں پائے جاتے اس لیے ان کا کہنا جائز نہیں ۔لیکن فتوی امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے قول پر ہے
ثم یقرء فاتحۃ الکتاب وسورۃ معھا او ثلث ایات قصار او ایۃ طویلۃ من ای سورۃ شاء واذا قال الامام ولاالضالین قال امین سرا ویقولھا الموتم ایضا ویخفونھا ثم یکبر ویرکع ویعتمد بیدیہ علی رکبتیہ ویفرج بین اصابعہ و یبسط ظھرہ ولا یرفع راسہ ولا ینکسہ ویقول فی الرکوع سبحان ربی العظیم ثلاثا وذلک ادناہ ثم یرفع راسہ ویقول سمع اللہ لمن حمدہ ویقول الموتم ربنا لک الحمد
پھر سورۃ فاتحہ پڑھے اور اس کے ساتھ کوئی سورۃ یا تین مختصر آیات یا ایک طویل آیت جس سورۃ سے چا ہے پڑھ لے اور جب امام ولاالضالینکہے اور آہستہ سے آمین کہے تو مقتدی بھی آہستہ سے آمین کہے گا ۔ پھر اللہ اکبر کہے گا اور رکوع کرے گا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں گھٹنے پکڑے گا اور اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھے گا اور سرکو نہ اٹھا ئے اور نہ نیچا کرے گا اور رکوع میں تین مرتبہ سبحان ربی العظیم کہے گا اور یہ اس کا کم سے کم درجہ ہے ۔ پھر سرکو اٹھائے گا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہے گا اور مقتدی ربنا لک الحمد کہے گا ۔
﴿یقرء فاتحۃ الکتاب ﴾ عبادہ بن صامت سے روایت ہے ۔ ’’ قا ل قال رسول اللہ ﷺ لا صلوۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب‘‘ ( متفق علیہ ) وہ کہتے ہیں کہ ارشاد فرمایا سرور عالم ﷺ سے اس شخص کی نماز نہ ہو ئی جس نے الحمد شریف نہ پڑھی نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے مگر مقتدی کو چاہیے کہ امام کے پیچھے خاموش رہے ۔ سید عالم ﷺ کا طریقہ مبارک تھا کہ صبح کی نماز میں لمبی قراء ت پڑھا کرتے تھے ۔ ظہر ، عصر ، عشاء میں اور مغرب میں بہت مختصر ، اس لئے فقہائے کرام رضی اللہ عنہم نے ان تمام سورتوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ۔ وہ گوہر جو بکھرے ہوئے تھے ان سب کو سلک میں منسلک کر کے ہماری سہولت کے لئے کتا بوں میں ضبط کر دیا ۔ فرماتے ہیں کہ حضور سید عالم ﷺ صبح کی نماز میں طوال مفصل کی سورتیں پڑھا کرتے تھے ۔ یعنی پارہ ۲۶ سورہ جحرات سے لیکر پارہ ۳۰ بروج تک ظہر ، عصر اور عشاء میں اوساط مفصل یعنی پارہ ۳۰ سورہ بروج سے لیکر سورہ ’’ لم یکن الذین ‘‘ تک اور مغر ب میں قصار مفصل یعنی ’’ لم یکن الذین ‘‘ سے آخر قرآن مجید تک پڑھا کرتے تھے ۔ لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ ان سورتوں کو یا د کرکے حضور اکر م ﷺ کی سنت مطہرہ ادا کرتے ہوئے ہر نماز میں منا سب سورتیں پڑھا کرے ۔ یہ با ت نہایت ہی قابل غور ہے کیونکہ ہم نے صرف فاتحہ شریف اور قل شریف پر اعتماد کر کے قرآن مجید کو یاد کرنا چھوڑ دیا ہے اور قرآن مجید سے حد درجہ بے اعتنائی اختیار کر لی ہے ۔ نماز میں تلاوت قرآن مجید اسی مقصد کے پیش نظر مقرر کی گئی ہے کہ احکام الہی بار با ر مسلمانو ں کی نظروں کے سامنے آتے رہیں ۔ ان کو یا د رہیں ،کسی وقت کوئی حکم بھولنے نہ پا ئیں اور ہر وقت سراپا عمل رہیں ۔ قیامت کے دن جب اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور میں حضور رسول مقبول ﷺ عرض کریں گے ۔کہ’’ یا رب ان قومی اتخذوا ھذالقرآن مھجورا ‘‘ اے میرے پرور دگار ! تحقیق میری قوم نے قرآن مجید کو متروک کر دیا تھا ۔ تو اس وقت ہم خدا اور اس کے رسول ﷺ کو اپنی اس غفلت اور سستی کا کیا جواب دیں گے۔(نماز مقبول۵۴۔۵۵)
﴿ربنا لک الحمد﴾ ربنا ولک الحمد نہیں ہے
فاذااستوی قائما کبر و سجد واعتمد بیدیہ علی الارض و وضع وجھہ بین کفیہ ویدیہ حذاء اذنیہ وسجد علی انفہ وجبھتہ فان اقتصر علی احدھما جاز عند ابی حنیفۃ وقالا لا یجوز الاقتصار علی الانف الا من عذر وان سجد علی کور عمامتہ او فاضل ثوبہ جاز ویکرہ
پس جب سیدھا کھڑا ہو جائے تو تکبیر کہہ کر سجدہ کرے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے اور دونوں ہتھیلیوں کے درمیان اپنا چہرہ رکھے اور دونوں ہاتھ کانوں کے برابر میں ہوں اور اپنی ناک اور پیشانی سے سجدہ کرے پس اگر ان دونوں میں سے کسی ایک پر اکتفا کیا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے ۔ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ بغیر عذر صرف ناک سے سجدہ کرنا جائز نہیں اور اگر پگڑی کے بل یا زائد کپڑے پر سجدہ کیا تو جائز ہے ۔ مگر مکروہ ہے ۔
﴿استوی﴾یعنی جب ہر اندام اپنی اپنی جگہ پر آجائے ۔
﴿سجدہ﴾ ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔’’ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم‘‘ وہ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا ، ’’ امرت ان اسجد ‘‘ مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ’’ علی سبعۃ اعظم ‘‘ سات ہڈیوں پر ’’ علی الجبھۃ ‘‘ پیشانی پر’’والیدین‘‘ اور دونوں ہا تھوں پر ’’والرکبتین‘‘ اور گھٹنوں پر ’’واطراف القدمین ‘‘اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر ’’ ولا نکفت الثباب ‘‘ اور کپڑوں کو اکٹھا نہ کرین ’’ولا الشعر ‘‘ اور نہ بالوں کو ۔ صہ۱۱۱ ( متفق علیہ ) یہ جو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ , مجھے حکم دیا گیا ہے ، تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان اعضاء پر سجدہ کرنا واجب ہے ۔ناک اور پیشانی کا زمین پر لگانا فرض ہے ، بغیر ان کے رکھے سجدہ ادا نہ ہو گا ۔ اگر سجدے میں دونو ں پاؤں کے نیچے زمین سے بلند ہوں یعنی زمین پر رکھے ہوئے نہ ہوں تو نماز ٹوٹ جائیگی ، ایک پاؤں کا پنجہ زمین پر لگائے اور دوسرا بلند رکھے یعنی زمین پر لگا ہوا نہ ہو تو نماز مکروہ ہو جائیگی پاؤں کے پنجوں کی انگلیاں قبلہ شریف کی طرف ہوں ، اگر ایک انگلی بھی کعبہ شریف کی طرف نہ ہو تو جائز نہ ہو گا ۔ حدیث مندرجہ بالا سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول خدا ﷺ نے سجدے میں جاتے وقت عادت کے تحت ، یا خاک آلود ہونے کی وجہ سے کپڑے سمیٹنا منع فرمایا ہے ۔ فی زمانہ سجدے میں پاؤں رکھتے وقت بہت بے احتیاطی برتی جاتی ہے ۔ حالانکہ یہ بے احتیاطی ہی نماز کے فاسد ہونے کا باعث ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ وہ فرماتے ہیں کہ سرکا ر دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’ اعتدلوا فی السجود ‘‘ سجدے میں اعتدال بر تو ’’ولا یبسط احد کم ذرا عیہ انبساط الکلب ‘‘ ( رواہ مسلم ) اور تم میں سے کوئی فرد اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔ سجد ے میں اپنی پیٹھ کو ہموار ، ہا تھوں کو زمین پر ، کہنیاں زمین سے بلند اور رانیں پیٹ سے جدا رکھنے کو اعتدال یا طمانیت کہتے ہیں اور یہی حضور اقدس ﷺ کا بتایا ہوا طریقہ ہے ۔ براء بن عازب سے روایت ہے ۔ ’’قال قال رسول اللہ ﷺ‘‘ وہ فرماتے ہیں کہ سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ اذا سجدت فضع کفیک ‘‘سجدہ کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ ’’ وارفع مر فقیک ‘‘ اور اپنی کہنیاں زمین سے اٹھائے رکھ ( رواہ مسلم ) وائل بن حجر سے روایت ہے ۔ ’’قال ‘‘ وہ فرماتے ہیں کہ ’’ رایت رسول اللہ ﷺ ‘‘ میں نے رسول اکرم ﷺ کو دیکھا ’’ اذا سجدوضع رکبتیہ قبل یدیہ ‘‘ جب سرور کائنا ت ﷺ سجد ہ کرتے تو دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے سے پہلے دونو ں گٹھنے زمین پر رکھتے ’’واذا رفع ‘‘ اور جب ( سجدہ سے ) اٹھتے ’’ رفع یدیہ قبل رکبتیہ‘‘ تو گٹھنے اٹھانے سے پیشتر دونوں ہاتھ اٹھاتے( رواہ ابو داؤد ، والترمذی ، والنسائی ، وابن ماجہ ، والدارمی )۔ عبدالرحمن بن شبلی سے روایت ہے ’’ قال منع رسول اللہ ﷺ ‘‘ وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے ’’ عن نقرۃ الغراب ‘‘ کوے کی طرح ٹھونگے مارنے سے ( رواہ ابو دواؤد ، والنسائی ) ابو دا ؤد ، عبد اللہ بن اشعری سے روایت ہے ’’ ان رسول اللہ ﷺ رای رجلا ‘‘ یہ کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا ’’لا یتم رکوعہ‘‘ کہ وہ اپنا رکوع پورا ادا نہیں کرتا ’’ وینقرفی سجودہ ‘‘اور اپنے سجدے میں ٹھونگے مارتا ہے ’’وھو یصلی‘‘ حالانکہ وہ نماز پڑھ رہا تھا ۔ ’’ فقال رسول اللہ ﷺ ‘‘ پس حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ ’’ لومات ھذا علی حالہ ھذا ‘‘ اگر اسی حالت پر یہ مرجاوے ’’مات علی غیر ملۃ محمد ﷺ ‘‘تو یہ شخص حضور اکرم ﷺ کے طریقہ پر نہ مرا ۔ مندرجہ بالا احادیث سے یہ با ت پائیہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ نماز میں تعد یل ارکان رکوع ، سجود ، جلسہ ، میں طمانیت کتنی اہمیت رکھتے ہیں اور حضور اکرم ﷺ کی کتنی اہم سنت ہے ۔ پہلے تو عامتہ المسلمین نماز ہی ادا نہیں کرتے ، اور اگر ادا کرتے ہیں تو کس بے دردی سے ان سنن مطہرہ سے انحراف بر تا جاتا ہے ۔ اس وقت تک ہماری نمازوں میں حظ ، لطف اور مقبولیت پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ ہی یہ نمازیں ہمارے لئے نور ، حجت ، اور ذریعہ نجا ت بن سکتی ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ، جو شخص میر ی امت میں فساد کے وقت میر ی ایک سنت کو بھی زندہ کرے گا تو اس کو سو شہید کا ثواب ملے گا ،۔ لہذا اس پر فتن و پر آشوب زمانہ میں ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ نماز میں اس طمانیت کی سنت کو زندہ کر کے ( جو کہ اب مسلمانو ں کے ہا تھوں مر چکی ہے ) سو شہید کا ثواب حاصل کرے ۔
﴿الانف﴾جیسے ناک پر دانہ نکل آیا اور ناک زمین پر نہیں لگا سکتا۔
ویبدی ضبعیہ عن جنبیہ ویجافی بطنہ عن فخذیہ ویوجہ اصابع رجلیہ نحوالقبلۃ ویقول فی السجود سبحان ربی الاعلی ثلثا و ذلک ادناہ ثم یرفع راسہ ویکبر فاذا اطمأن جالسا کبر وسجد فاذا اطمأن ساجدا کبر و استوی قائما علی صدور قدمیہ ولا یقعد ولا یعتمد بیدیہ علی الارض
اور اپنے دونوں بازؤں کو اپنے دونوں پہلوں اور اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں سے علیحدہ رکھے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ کی جانب رخ کرے اور سجدہ میں تین مرتبہ سبحان ربی الاعلی کہے اور یہ اس کا کم سے کم درجہ ہے پھر اپنے سر کو اٹھائے اور تکبیر کہے پس جب بیٹھنے میں اطمینان حاصل کرلے تو تکبیر کہے اور سجدہ کرے پس سجدہ میں اطمینان حاصل کرے تو تکبیر کہے اور پاؤں کے تلووں پر سیدھا کھڑا ہو جائے اور بیٹھے نہیں اور نہ ہاتھوں سے زمین پرسہار ا لے ۔
﴿اطمأن﴾اطمینا ن کا مطلب ہے کہ ہر اندام اپنی اپنی جگہ پر آجائے
﴿ جالسا﴾ دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا :۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ’’ کان النبی ﷺ یقول بین السجدتین ‘‘ حضور اکرم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان فرمایا کرتے تھے ۔ ’’ اللھم اغفرلی وارحمنی و عافنی و اھدنی وار زقنی ‘‘ ( رواہ ابو داؤد و الترمذی ) اے اللہ !۔ مجھ کو بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور مجھ کو عافیت سے رکھ اور ہدایت دے اور مجھ کو رزق عنایت کر۔حضور اکرم ﷺ کے مندرجہ بالا دعا پڑ ھنے سے چند باتوں کا پتہ چلتا ہے ۔ اول یہ کہ بیٹھنا دونوں سجدوں کو علیحدہ کرتا ہے ۔ دوئم دونوں سجدوں کے درمیان طمانیت حاصل ہوتی ہے جو کہ از بس ضروری ہے ۔ سوئم یہ دعا پڑھنا حضور اکرم ﷺ کی ادائیگی سنت ہے ۔ موجودہ دور میں جبکہ احکام دین سے غفلت اور سنت نبوی ﷺ سے رو گردانی اختیار کی جارہی ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کی اس سنت کو زندہ کرنا از بس ضروری ہے جو کہ باکل متروک ہو گئی ہے ۔
﴿صدور﴾ صدور کا مطلب ہے پاؤں کا سینہ یعنی اگلا حصہ انگلیوں کے نیچے یعنی نچلاحصہ ۔
ویفعل فی الرکعۃ الثانیۃ مثل مافعل فی الرکعۃ الاولی الا انہ لا یستفتح ولا یتعوذ ولا یرفع یدیہ الا فی التکبیرۃ الاولی واذا رفع راسہ من السجدۃ الثانیۃ فی الرکعۃ الثانیۃ افترش رجلہ الیسری فجلس علیہا ونصب الیمنی نصبا ووجہ اصابعہ نحوالقبلۃ ووضع یدیہ علی فخذیہ ویبسط اصابعہ و یتشھدوالتشہد ان یقول التحیات للہ الی اخرہ
اور دوسری رکعت میں بھی وہی کچھ کرے جو پہلی رکعت میں کیا مگر یہ کہ ثنا اور اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم نہ پڑھے اور ہاتھوں کو نہ اٹھائے مگر پہلی تکبیر میں ،اورجب دوسری رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھائے تو اپنے بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھے اور انگلیوں کو قبلہ رخ رکھے اور دونوں ہاتھوں کو دونوں رانوں پر رکھے اور انگلیاں کھلی رکھے اور ان الفاظ کے ساتھ تشہد پڑھے التحیات للہ آخر تک
﴿التحیات للہ﴾التحیات یا تشہدجابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال کان رسول اللہ ﷺ یعلمنا التشھدکما یعلمنا السورۃ من القرآن ‘‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ ہم کو تشھد ( التحیات) سکھاتے تھے ۔ جس طرح قرآن مجید کی کوئی سورۃ سکھایا کرتے تھے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’قال کان رسول اللہ ﷺ اذا قعد فی التشھد ‘‘ وہ فرماتے ہیں کہ جب حضور اکرم ﷺ تشھد ( التحیات ) کے لئے بیٹھتے ، ’’ وضع یدہ الیسری علی رکبتہ الیسری ‘‘ (تو) اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھنے ، ’’و وضع یدہ الیمنی علی رکبتہ الیمنی ‘‘اور اپنا دہناہاتھ داہنے گٹھنے پررکھے۔ ترپن کی گنتی کے ساتھ گرہ کرتے ۔ ’’ و اشار بالسبابتہ ‘‘( مشکوٰۃ ) اور شہا دت کی انگلی سے اشارہ فرماتے ۔ مندرجہ بالا التحیات پڑھنے کے لئے بیٹھنے کا نبوی طریقہ ہے ، دوران التحیات میں کلمہ شہادت پر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا سنت ہے اور امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک بھی سنت ہے ۔ نیز احادیث شریف اور فقہ مبارک کی تمام کتب سے ثابت ، حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ۔ کہ یہ اشارہ شیطان کو لوہے کے تیر سے بھی سخت لگتا ہے ۔ شیخ ابن الہمام محقق فرماتے کہ اشارہ کو منع کرنا خلاف روایت و درایت ہے ۔اشارہ کا طریقہ یہ ہے ۔ پہلے چھنگلی انگلی کو ، پھر اس کے ساتھ والی ، پھر درمیانی انگلی کو بند کرکے شہادت کی انگلی کو لا الہپر اٹھا کر الا اللہ پر گرا دینا چاہیے تو اشارہ ادا ہو جائے گا ۔ نیز ترپن کی گنتی بنا نے سے مراد حلقہ بنانا ہے ۔ یعنی اکاون ، بادن ، ترپن ، پر جس طرح تین انگلیاں بند کرنی پڑتی ہیں ۔ اسی طرح یہ تین انگلیاں بند کرکے حلقہ بنا کر چھوٹی انگلی یعنی شہا د ت کی انگلی سے اشارہ کرنا ہے ۔ عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ’’ قال کنا اذا صلینا مع النبی ﷺ قلنا السلام علی اللہ السلام علی میکائیل السلام علی فلان‘‘جبکہ ہم رسول اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔ (تو ) ہم کہتے تھے ( یعنی التحیات میں ) بندوں پر سلام ہونے سے پہلے اللہ پر سلام ہو میکائیل پر سلام ہو ، فلاں پر سلام ہو ، ’’ فلما انصرف البنی ﷺ اقبل علینا بوجھہ ‘‘ جب حضور اقدس ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اپنا منہ مبارک ہماری طرف کیا ۔ ’’ قال لا تقولوا السلام علی اللہ فان اللہ ھو السلام ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ مت کہو کہ اللہ پر سلام ہو بالیقین وہ خود ( جل جلالہ ) سلام ہے یعنی تمام نقصانو ں اور آفات سے محفوظ ہے بلکہ اپنے بندوں کو تمام ظاہری اور باطنی آفات و بلیات سے بچانے والا اور محفوظ رکھنے والا ہے تو پھراس کے لئے سلامتی چاہنا کیا معنی رکھتا ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ فاذا جلس احدکم فی الصلوۃ ‘‘ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں تشہد کے لئے بیٹھے ’’ فلیقل‘‘ پس چاہیے کہ کہے ’’ التحیا ت للہ و الصلوات و الطیبات اسلام علیک ایھا البنی و رحمۃ اللہ و برکاتہ اسلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین ‘‘ ہر قسم کی زبان کی بندگی بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور ہر قسم کی بد نی عبادت بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور ہر قسم کی مالی بندگی بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اے اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ آپ پر سلام ہواور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور بر کتیں نازل ہوں اور سلامتی ہو تم پر اے اللہ کے صالحین بندوں پر ، ’’ فانہ اذا قال ذالک اصاب کل عبد صالح فی السماء والارض‘‘ جب ایک نمازی جب مندرجہ بالا الفاظ کہتا ہے تو اس کی برکت ہر نیک بندے کو پہنچتی ہے جو آسمان اور زمیں میں ہے ۔
’’ اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ ‘‘ گواہی دیتا ہو ں کہ نہیں ہے کوئی معبود بر حق مگر اللہ تعالیٰ اور گواہی دیتا ہوں ( اس بات کی ) کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے (خاص) بندے اور اس کے ( برگزیدہ ) رسول ہیں ۔ ’’ ثم لیتخیرمن الدعآ ء العجبہ الیہ فیدعوہ ‘‘ ( متفق علیہ ) پھر مکمل التحیا ت پڑھنے کے بعد ۔ جو دعا پسند کرتا ہے ، اختیار کرے ۔ پس اللہ تعالیٰ سے وہ دعا مانگے جو اسے اچھی لگے۔ ابن مالک نے کہا کہ روایت کی گئی ہے ۔ جب آنحضرت ﷺ کو معراج ہو ئی تو آپ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ثنا ان الفاظ کے ساتھ کی ، ’’ التحیا ت للہ والصلوت و الطیبات ‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے جواب کے طور پر فرمایا ، ’’ السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ و برکاتہ ‘‘ تو پھر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ۔ ’’ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصلحین ‘‘ توجبرئیل علیہ السلام نے کہا ، ’’ اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘‘۔یہ بات یا د ر کھنے کے قابل ہے کہ جب نمازی حضور پر نور ﷺ پر سلام پڑھنے لگے تو نہایت ہی ادب ، تعظیم ، عظمت و عزت کے ساتھ پڑھنے ۔ حضور اکرم ﷺ کی عزت کرنا ، تعظیم بجالانا ، ادب کرنا ہمارا فرض اولین ہے ۔ ایک شخص کتنا ہی نمازی ہو ، قرآ ن خواں ہو ، الحاج ہو ، مجاہد ہو مگر اس کے دل میں حضور اکرم ﷺ کے متعلق ذرہ برابر بھی کسی با ت میں کجی پیدا ہو ئی تو وہ شخص باوجود اتنی پر ہیز گاری کے مردود اور جہنمی ہو جاتا ہے ۔ اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ’’یا ایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فو ق صوت البنی ولا تجھر والہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم و انتم لا تشعرون ہ ‘‘ ترجمہ :۔ اے ایمان والو ! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب تبانے والے ( نبی ) کی آواز سے ، اور ان کے حضور چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو ۔ کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر ( تک ) نہ ہو ۔ مقام غور ہے ۔ کہ حضور ﷺ کے ادب کے متعلق کتنا اہم حکم صادر فرمایا جاتا ہے ۔ صحابہ کرام سرکار دو عالم ﷺ کی بار گاہ مقدس میں منہ میں پتھر رکھ کر آتے تھے ۔ تاکہ اونچی با ت منہ سے نہ نکل جائے اور ہم کہیں گھاٹے میں نہ پڑجائیں ۔ایک مسلمان کا ایمان ہی مکمل تب ہو گا ۔ جبکہ اس کے دل میں حضور اکرم ﷺ کی محبت کے سوا اور کسی چیز کی محبت نہ ہو ۔
شیخ الہند مولانا شیخ عبد الحق نور اللہ مرقدہ الکریم مدارج شریف میں ارشاد فرماتے ہیں ۔’’ بدانکہ وے ﷺ می بنید، و می شنود کلام ترا ، زیر اکہ وے ﷺ متصف است بصفات اللہ تعالیٰ ویکے ازصفات الہی آنست ‘‘ کہ انا جلیس من ذکرنی ترجمہ :۔ سمجھ لے کہ وہ ﷺ تمہارے پڑھنے کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ ﷺ اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفات کے ساتھ متصف ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جو مجھے یاد کرے میں اس کے پاس ہوں۔ جب حضور اکرم ﷺ ہمارے اس سلام بھیجنے کو دیکھ رہے اور سن رہے ہیں تو پھر چاہیے کہ ہم نہایت ہی ادب ، تعظیم کے ساتھ سلام پڑھیں ۔ مجدد مائۃ حاضرۃ عالم مولینا مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں ، واقعی ان کا خیال مسلمان کے دل میں جب آئے گا ، عظمت و جلال ہی کے ساتھ آئے گا ۔ کہ ان کا تصور ان کے پاک مبارک تصور کو لازم بالمعنی الاخص ہے اور عرض سلام تو خاص بغرض ذکر واکرم ہی تو ہے تو یہاں نہ صرف ان کے خیال بلکہ خاص نماز میں ان کے ذکر و تکریم کا حکم صریح ہے ۔ ’’ ولکن المنافقین لا یعلمون‘‘۔۔ احیاء العلوم مطبع لکنھؤ ج ۱ صہ۹۹ میں۔ ’’ احضر فی قلبک البنی ﷺ و شخصہ الکریم و قل السلام علیک ایھاالبنی و برکاتہ‘‘ ترجمہ :۔ التحیات میں نبی کریم ﷺ کو اپنے دل میں حاضر کر اور حضور ﷺ کی صورت پا ک کا تصور باندھ اور عرض کر ، ’’السلام علیک ایھا البنی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ میزان امام شعرانی مطبوعہ مصر ، ج ۱ صہ ۱۳۹ ۔۱۴۰ ’’سمعت سیدی علی الخواص رحمۃ اللہ علیہ یقول انما امر الشارع المصلی بالصلوۃ والسلام علی رسول اللہ ﷺ فی التشھد لینبنہ الغافلین فی جلوسھم بین یدی اللہ عزو جل علی شھود بین ھم فی تلک الحضرۃ فانہ لا یفارق حضرہ اللہ تعالیٰ ابدا فیخاطبونہ بالمشافۃ ‘‘ ترجمہ :۔ میں نے اپنے سردار خواص کو فرماتے سنا کہ شارع نے نمازی کو تشھد میں نبی اکرم ﷺ پر درور و سلام عرض کرنے کو اس لئے حکم دیا گیاہے کہ جو لوگ اللہ عزوجل کے دربار میں غفلت کے ساتھ بیٹھتے ہیں انہیں آ گاہ فرما دے کہ اس حاضری میں اپنے نبی کریم ﷺ کو دیکھیں اس لئے کہ حضور اقدس ﷺ کبھی اللہ تبارک وتعالیٰ سے جدا نہیں ہوتے ۔ پس بالمشافہ حضور اقدس ﷺ پر سلام عرض کریں۔
حضور پر نو ر غوث اعظم ، محبوب سبحانی ، قطب ربانی ، سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں کہ صلاحیت ایک حالت ہے (اور وہ یہ ہے ) اپنے ارادے کو فنا کر کے اللہ تعالیٰ کے احکام پر قائم رہنا ۔ یعنی راضی برضا اللہ تعالیٰ ، اور اپنے ہر امر کو اللہ تعالیٰ کی طرف لو ٹانا ، اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے چھوٹا بچہ دایہ کے ہاتھ میں اور مردہ غسال کے ہا تھ میں ہو، کہ جس طرح چاہے اسے الٹ پلٹ کرے ۔ اسی طرح بندہ صالح وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کو بغیر کسی قسم کی چوں و چرا کے قبول کرکے عمل کرتا ہو ۔ جب ایک آدمی اس مقام پر پہنچ جا تا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ تمام نفسانی اور زمانے کی آفتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’قال نھی رسول اللہ ﷺ ان یجلس الرجل فی الصلوۃ وھو معتمد علی یدیہ ‘‘ ( رواہ احمد ، ابو داؤد) وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے (اس بات سے ) منع فرمایا ہے ۔ کہ ایک شخص نماز میں بیٹھے اس حال میں کہ وہ اپنے ہا تھوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہو ، ’’و فی روایۃ لتہ ‘‘ اور ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے ۔ ’’نھی ان یعتمد الرجل علی یدیہ اذا انھض ‘‘ ( کہ اس بات سے بھی ) منع فرماتا ہے کہ کو ئی شخص جب اٹھے تو ہاتھوں پر بھروسہ کئے ہوئے ہو ۔ حضور اکرم ﷺ کے ارشاد گرامی سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ ہر نمازی جب التحیا ت پڑھنے بیٹھے تو ہاتھوں پر ٹیک نہ لگائے اور نہ ہی سجد ے سے اٹھتے وقت ہا تھوں کا سہارا لے ، بلکہ پاؤں کے بل کھڑا ہو ، اگر نمازی ضیعف العمر ہے یا بیمار ، تو وہ مجبورا سہارا لے سکتا ہے اور اس پر امام اعظم ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کا عمل ہے ۔( نماز مقبول ۲۵تا۳۲)از حضرت علامہ سید محمد امیر شاہ قادری الگیلانی مدظلہ العالی ، یکہ توت پشاور
ناشر:۔ ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام پشاور،
طالب دعا:۔ تنویر احمد قادری
ولا یزید علی ھذا فی القعدۃ الاولی ویقرء فی الرکعتین الاخریین بفاتحۃ الکتاب خاصۃ فاذا جلس فی اخر الصلوۃ یجلس کما جلس فی الاولی و تشھد وصلی علی النبی علیہ السلام
اور پہلے قعدہ میں اس سے زیادہ نہ پڑھے اورآخری دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھے ۔پس نماز کے آخر میں اس طرح بیٹھ جائے جیسے پہلے قعدہ میں بیٹھا تھا اور التحیات پڑھے اور حضور ﷺ پر درود بھیجے
﴿وصلی علی النبی علیہ السلام﴾ عبد الرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال لقینی کعب بن عجرۃ ‘‘ وہ کہتے ہیں کہ کعب بن عجرہ مجھے ملے ۔ ’’ فقال الا اھدی لک ھد یۃ سمعتھا من البنی ﷺ ‘‘ اس نے کہا کہ کیا میں تجھ کو ایک تحفہ نہ دوں جو میں نے حضور اکرم ﷺ سے سنا ہے ۔ ’’ فقلت بلی فاھد ھالی ‘‘ تو میں نے کہا کہ ضرور وہ تحفہ مجھے دو ’’فقال سالنا رسول اللہ ﷺ فقلنا یا رسول اللہ ﷺ ‘‘پس کہا کہ ہم نے سرور کائنا ت ﷺ سے عرض کی اور کہا ھم نے کہ اے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ’’ کیف الصلوۃ علیک ‘‘ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں۔ ’’ فان اللہ قد علمنا کیف نسلم علیک بالیقین ‘‘ ہمیں اللہ تعالیٰ نے تو آپ پر سلام بھجینے کا طریقہ تو سکھا یا دیا ہے ۔’’قال ‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا ’’قولوا ‘‘( یو ں ) کہا کرو۔ ’’اللھم صل علی محمد و علے آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید ،، ترجمہ :۔ اے اللہ ! محمد ﷺ پر رحمت بھیجے اور محمد ﷺ کی آ ل پر جیسا کہ ابراھیم علیہ السلام اور اس کی آ ل پر رحمت بھیجی۔بالیقینتو تعریف کیا ہو ا بزرگ ہے ۔ ’’ اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید۔‘‘ترجمہ:۔ اے اللہ ! محمد ﷺ پر برکت بھیج اور محمد ﷺ کی آل پر ، جیسا کہ آپ نے ابراھیم علیہ السلام اور اس کی آل پر برکت بھیجی۔ بالیقین تو تعریف کیا ہو ا بزرگ ہے ۔ ( متفق علیہ الا ان مسلما لم یذکر علی ابراھیم فی الموضعین )تشھد میں درود شریف پڑھنا امام شافعی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک فرض اور علما ء کا اجماع اس با ت پر ہے کہ یہ امر و جوبی ہے ۔ امام اعظم امام ابو حنیفہ کے نزدیک سنت ہے ۔ علما ء کرام نے درود شریف کا ترجمہ یوں بیان کیا ہے ۔ ’’ اللھم صل علی محمد الخ ‘‘ یا رب محمد ﷺ کو عظمت عطا فرما۔ دنیا میں ان کا دین بلند اور ان کی دعوت غالب فرما اور ان کی شریعت کو بقا عنایت کر اور آخرت میں ان کی شفاعت قبول فرما اور ان کا ثواب زیادہ کر ، اور اولین و آخرینپر ان کی فضلیت کا اظہار فرما اور انبیا ء ، مر سلین وملائکہ اور تمام خلق پر ان کی شان بلند کر ۔’’قال الحلیمی المقصود بالصلوۃ علی النبیﷺ التقرب الی اللہ بامتثال امرہ و قضاء حق البنی ﷺ علینا ‘‘ ترجمہ :۔ حلیمی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ حضور پر نور ﷺپر درود شریف بھیجنے سے غرض یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ذات باری تعالیٰ کا قرب تلاش کرے اور سرکا ر ددو عالم ﷺ کا حق ادا کرے ۔
’’ وتبعہ ابن عبدالسلام فقال لیست صلاتنا علی البنی ﷺ شفاعۃ لہ فان مثلنا لا یشفع لمثلہ و لکن اللہ امرنا بمکافاۃ من احسن الینا فان عجزنا عنھا کا فأنا بالدعاء فارشد نا اللہ تعالیٰ لما عجزنا عن مکافاۃ نبینا اے الصلوۃ الیہ‘‘ ترجمہ :۔ اور حضرت ابن عبد السلام نے بھی پہلے قول کی پیروی کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ ہمارا حضور پر نور ﷺ پر دورد بھیجنا ، ان کی ذات با برکات کے لئے شفاعت نہیں ہے ۔ کیونکہ ہم جیسے ایسی برگزیدہ ہستی کے لئے ( ﷺ ) سفارش نہیں کر سکتے ۔ لیکن
با ت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ جس ذات پاک ﷺ نے تمہارے ساتھ اتنے احسانا ت کئے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پوری پوری جزا دو ۔ پس چونکہ ہم اس کام کی تکمیل سے توعاجز ہیں تو پھر ہم اس دورد شریف کے ذریعے اس کمی کو پورا کریں گے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جب ہم کو اس کام کے کرنے سے ( یعنی پوری پوری جزا دینے سے ) عاجز پا یا تو ہم کو حضور پر نور ﷺ پر دورد بھیجنے کے لئے امر دیا ۔ ’’وقال ابن عربی فائدہ الصلوۃ علیہ رجع الی الذی یصلی علیہ بدلا لۃ ذالک علی نصوح العقیدۃ و خلوص النیۃ و اظہار المحبۃ والمد اومۃ علی الطاعتہ والا حترام للواسطۃ الکریمہ ‘‘
ترجمہ :۔ حضرت ابن عربی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا ، کہ درود شریف ( پڑھنے ) کا فا ئدہ یہ ہے کہ اس ذات ﷺ کی طرف رجوع ہو جا تا ہے اور وہ رجوع اس شخص کے عقیدے کی صحت ، خلوص نیت ، اظہار محبت ، عبا دت پر ہمیشگی اور حضور انور ﷺ کے احترام پر دلالت کرتا ہے ۔ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال قال رسول اللہ ﷺ من صلی صلواۃ و احدۃ صلی اللہ علیہ عشرا ‘‘ ( رواہ مسلم ) وہ کہتے ہیں کہ سرورکائنا تﷺنے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نا زل فرمائے گا ۔ جب صلوۃ کی نسبت کسی شخصی کی طرف ہو تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ سے رحمت کی التجا اور دعا ہے اور جب اسی لفظ صلوۃ کی نسبت اللہ تبا رک و تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا مطلب ، اس شخص کی التجا ، دعا کو قبول فرما کر رحمت نا زل فرمانا ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال قال رسول اللہ ﷺ من صلی علی صلاۃ واحدۃ صلی اللہ علیہ عشر صلوا ت و حطت عنہ عشر خطیات و رفعت لہ عشر درجات ‘‘( رواہ النسائی ) وہ فرما تے ہیں کہ سرکا ر دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر ایک با ر درود بھیجے گا اللہ تعالی اس پر دس (۱۰) با ر رحمتیں نا زل فرمائیگااور اس کے دس گنا ہ بخشے جاویں گے اور اس کے دس درجے بلند کئے جا ئیں گے ، سبحان اللہ ! درود شریف کے ورد میں کتنی برکتیں ، رحمتیں اور بخششیں ہیں کہ ایک با ر درود شریف پڑھنے سے دس گنا ہ معاف دس رحمتیں مہیا ، اوراللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب میں دس درجے بلند ، کتنی پاکیزہ عبادت اور کتنی اعلی یا د ہے ۔ اللہ تبا رک و تعالی اپنے حبیب پا ک ﷺ کے طفیل ہمیں تو فیق مرحمت فرمائے کہ ہم ہر وقت حضور اکرم ﷺ پر درود شریف ہی پڑھتے رہا کریں ، آمین ثم آمین ،ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ ’’ قال قال رسول اللہ ﷺ ، اولی الناس بی یوم القیامۃ اکثر ھم علی صلوۃ ‘‘( رواہ الترمذی ) وہ فرماتے ہیں کہ سر ور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تمام لوگو ں سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہو گا جو مجھ پر بہت زیادہ درود شریف پڑھتا ہو گا ۔ قیامت کے دن جبکہ ’’ لا تملک نفس لنفس شیئا ‘‘ کا نقشہ ہو گا جس دن ہر طرف حیرانی و پر یشانی ہو گی ۔ جس دن کوئی شخص کسی شخص کو شنا خت نہ کر سکے گا ۔ جس دن بڑے بڑے اولوالعزم انبیاء اس خداوند قہار کے سامنے سہمے کھڑے ہو ں گے ، وہ اشخاص کتنے ہی سعادت مند ہوں گے جن کو
جنا ب سرور کا ئنا ت فخر موجودات ، شافع عاصیاں ﷺ کا قرب حاصل ہو گا اور یہ قرب صرف درود شریف کے ورد سے حاصل ہو سکتا ہے ۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال قال رسول اللہ ﷺ ان للہ ملئکۃ سیاحین فی الارض یبلغنی من امتی السلام ‘‘ ( رواہ النسائی والدارمی) وہ فرماتے ہیں کہ سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ، با لیقین اللہ تعالیٰ کے پا س ایسے
فر شتے ہیں جو زمین پر پھر نے والے ہیں ۔ ( اور ان کا کام یہ ہے ) کہ میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس وسیع و فراخ زمین کے کو نے کو نے ، گو شے گو شے ، حصے حصے میں اللہ تبارک و تعالی کے فرشتے صرف اس لئے پھرتے ہیں کہ جو شخص حضور اکرم ﷺ کی امت میں سے حضور پر سلام بھیجے اسے فورا حضور اکرم ﷺ کے روبرو پیش کر دیں ۔ صوفیائے کرام نہا یت ہی ادب و احترام کے ساتھ درود شریف پڑھتے ہیں اور تما م دنیا کے مسلمانوں میں یہ با ت شائع ہے کہ جب فخر دو عالم ﷺ پر سسلام پڑھا جا تا ہے تو تمام لوگ حضور کے اسم گرامی کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور خصوصا عرب میں یہ قاعدہ رائج ہے ۔ سرگروہ مہا جرین حاجی امداد اللہ صاحب مہا جر مکی رحمت اللہ علیہ فرمایا کرتے ہیں کہ مجھے جبکہ کھڑے ہو کر سلام پڑھا جاتا ہے اتنا ذوق و شوق حاصل ہوتا ہے کہ مجھے یہ بھی فکر نہیں رہتی کہ میرے ساتھ والے کس وقت بیٹھے ۔ سبحان اللہ ! اولیا ء کرام کو دورد شریف کے ورد میں کتنا لطف وحظ حاصل ہو تا ہے ۔ السلام علیک یا رسول اللہ۔
صاحب مظاہر حق فرماتے ہیں ۔ اس میں اشارہ ہے طرف حیات دائمی حضرت کے (ﷺ ) اور خوش ہونے ان کے پہنچنے سلام امت کے اور اشارہ ہے طرف قبول سلام کے کہ قبول کرتے ہیں اس کو فرشتے اور اٹھا لے جاتے ہیں طرف حضرت ﷺ کے ۔ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’قال قال رسول اللہ ﷺ ، من صلی علی عند قبری سمعتہ ومن صلی علی نائیا ابلغتہ‘‘( رواہ البہیقی فی شعب الایمان ) ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ سر کا ر دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ، جو شخص میر ی قبر کے پا س مجھ پر درود پڑھے ، میں اس کو سنتا ہو ں اور جس شخص نے دور سے مجھ پر درود پڑھا ، وہ مجھے پہنچایا جا تا ہے ، صاحب مظاہر حق فرماتے ہیں ، پاس والے کا درود خود سنتا ہوں بلا واسطہ اور دور والے کے درود ملائکہ سیاحین پہنچاتے ہیں اور جواب سلام کا بہر صورت دیتا ہوں ۔ فرماتے ہیں ، اس سے معلوم کیا چاہیے کہ حضرت ﷺ پر سلام بھیجنے کی کیا بزرگی ہے اور حضرت ﷺ پر سلام بھیجنے والے کو خصوصا بہت بھیجنے والے کو کیا شرف حاصل ہوتا ہے ۔ اگر تمام عمر کے سلاموں کا ایک جو اب آوے سعادت ہے، چہ جا ئیکہ ہر سلام کا جواب آ وے ۔
ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہو ں ( تو آپ ارشاد فرما دیں ) کہ اپنی دعا میں آپ پر درود پڑھنے کا کتنا وقت مقرر کروں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا جتنا تو چاہے ۔ میں نے عرض کی
( اپنی دعا کا ) چوتھا ئی حصہ ، آپ نے ارشاد فرمایا جتنا تو چاہے ۔ اگر ( اس چھوتھا ئی حصہ سے ) زیا دہ کردے تو تیرے لئے بہتر ہو گا ۔ میں نے عرض کی کہ نصف حصہ ( یعنی نصف حصہ آپ پر درود پڑھوں گا اور نصف وقت اپنے لئے دعا کروں گا ۔ آپ نے فرمایا جتنا تو چاہے اگر اس سے بھی ) زیا دہ کردے تو تیرے لئے ( بہت ہی ) بہتر ہو گا ۔ میں نے عرض کی ، تہائی حصہ ، آپ نے ارشاد فرمایا جتنا تو چاہے اگر ( اس سے بھی ) زیا دہ کر دے تو تیر ے لئے (اور زیا دہ ) بہتر ہے ۔ میں نے عرض کی اپنی تمام دعا میں اـٓپ پر درود ہی پڑھو ں گا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، اس وقت تو کفا یت کیا جا ئے گا ۔ دنیا اور آخرت کے مقا صد دئیے جا ئیں گے اور تیرے گنا ہ تجھ سے دور کئے جائیں گے ۔ ( رواہ الترمذی )
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے ۔ ’’ قال قال رسول اللہﷺ البخیل الذی من ذکرت عندہ فلم یصل علی ‘‘ ( رواہ الترمذی و رواہ احمد عن الحسین بن علی وقال الترمذی ہذا حدیث حسین صحیح غریب ) وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ، بخیل وہ ہے کہ جس کے آگے میر ا ذکر کیا گیا ۔ اور پھر اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔ یعنی جس وقت کسی مجلس میں حضور اکرم ﷺ کا ذکر گرامی ہو تو اہل مجلس پر واجب ہو جا تا ہے ۔ کہ حضور کا اسم گرامی سنتے ہی درود شریف پڑھیں اور اس طرح سے اپنی عقیدت اور غلامی کو ثبوت دیں اور نیز انصاف کا تقاضا بھی ہے کہ اس پا ک ہستی ﷺ کا جس کے احسانات بے حساب اور مہربانیاں لا تعداد ہیں جس کی مقدس زندگی کا ہر لمحہ امت مرحومہ کی غم خواری اور خیر خواہی میں گذرا جس نے ( ﷺ ) سخت ترین تکالیف و مصائب اٹھا تے ہوئے بھی ’’ رب اھد قومی فانھم لا یعلمون ‘‘ ( اے میرے رب ! میری قوم کو ہدایت مرحمت فرما وہ جانتے نہیں ) کی پیا ری صدا بلند کی ، جس کی ( ﷺ ) راتیں امت مرحومہ کی مغفرت اور بخشش کی خاطر بے چینی میں گزریں ۔ جس نے ( ﷺ ) ہر امر میں ضیعفامت کی ہر کمزوری اور نا توانی کو پیش نظر رکھا اور جس روف و رحیم ہستی کے لب ہا ئے مبا رک پر و صال کے وقت بھی ’’ امتی امتی‘‘ کے پیا رے الفاظ تھے اور جب یہ امت مرحومہ ہر قسم کے گنا ہوں سے ملوث ہو جا تی ہے اور اسے عذاب الہی سے بچنے کے لئے کوئی راہ نظر نہیں آتی تو اس وقت صرف آپ ہی کا دامن رحمت نظر آتا ہے ۔ جس میں یہ امت مرحومہ اپنے لئے عذاب الہی سے بچنے کا ساما ن مہیا کر لیتی ہے ۔ ’’ ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاوک فاستغفر و ا اللہ و استغفر لھم الرسول لو جدوا اللہ توابا رحیما ہ ‘‘ اسم گرامی سنتے ہی آپ کے ہر نا م لیوا پرفرض ہے کہ وہ اپنی والہانہ عقیدت سے درود شریف پڑھیں اور اپنی نیا ز مندی و محبت کا اظہا ر کریں ۔ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا ۔ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جائے ۔ جس کے سامنے میرا ذکر کیا جا ئے اور پھر وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ۔ الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’ قال ان الدعآء موقوف بین السماء والارض لا یصعد منہ شیی حتے تصلی علی نبیک ‘‘۔ ( رواہ الترمذی )
وہ فرماتے ہیں کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان موقوف رہتی ہے اس میں سے کچھ بھی نہیں چڑھتا یعنی قبول نہیں ہو تی یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ پر درود نہ پڑھو ۔ چونکہ درود شریف اللہ تبا رک و تعالی کی با ر گا ہ میں قبول شدہ ہے ۔ اس لئے اس شفیق امت ﷺ نے دعا کے قبول ہو نے کا طریقہ بھی تعلیم فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ اس امت مرحومہ کی دعائیں قبول نہ ہو ں اور اس با ر گا ہ قدس سے نا کام و نامراد پھر یں ۔ شیخ ابو سلیمان دارانی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالی سے اپنے لئے حاجت طلب کرے تو پہلے دودو شریف پڑھ پھر دعا ما نگ ، پھر درود شریف پڑھ کے دعا کو ختم کر ، کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے کرم سے دونوں درودوں کو قبول فرماتے ہے اور یہ اس کی شان کریمی کے بہت بعید ہے کہ اس دعا کو چھوڑ دے جو ان دونوں درودوں کے درمیان ہے ۔(نماز مقبول ۳۳تا ۴۳)
ودعا بماشاء مما یشبہ الفاظ القرآن والادعیۃ الماثورۃ ولایدعوبما یشبہ کلام الناس ثم یسلم عن یمینہ فیقول السلام علیکم ورحمۃ اللہ حتی یری بیاض خدہ الایمن ثم یسلم عن یسارہ مثل ذلک
اور ان الفاظ سے جو چاہے دعا کرے جو قرآن حکیم اورحضور ﷺ سے منقول دعاؤں سے مشابہ ہوں اور ان الفاظ سے دعا نہ مانگے جو لوگوں کی باتو ں سے مشا بہ ہوں ۔پھر السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتے ہوئے دائیں طرف سلام پھیرے یہاں تک کہ دائیں رخسار کی سفیدی کو دیکھ لے ۔ پھر اسی طرح بائیں طرف سلام پھیرے
﴿دعا﴾ آپ تشھد کے باب میں پڑھ آئے ہیں کہ سرور کائنا ت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو دعا تجھے پسند آئے تشھد کے بعد وہ دعا پڑھ ۔ صاحب مظاہر حق رحمت اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ دعائیں ہیں جو آنحضرت ﷺ سے منقول ہیں ۔ لہذا وہ دعا ئیں احادیث مبارک سے لکھی جاتی ہیں ۔ ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے ۔ ’’ ان النبی ﷺ کان یعلمھم ھذا الدعآء کما یعلمھم السورۃ من القرآن یقول قولوا لھم انی اعوذبک من عذاب جھنم و اعوذ بک من عذاب القبر و اعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال و اعوذبک من فتنۃ المحیا و الممات ہ ( رواہ مسلم ) یہ کہ نبی کریم ﷺ ان کو ( یعنی اہلبیت اور صحابہ کو ) یہ دعا یا د کرو اتے تھے ۔ آپ ارشاد فرماتے کہ ( یوں ) کہا کرو ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے عذاب جہنم سے پنا ہ ما نگتا ہوں اور تجھ سے زندگی اور موت کے فتنہ سے پنا ۃ ما نگتا ہوں ۔ درود شر یف کے بعد اس دعا کو پڑھنا نہا یت ضروری امر ہے اور حضوراکرم ﷺ کی سنت ہے ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال قلت یا رسول اللہ ( ﷺ) علمنی دعاء اد عوبہ فی صلاتی ، قال قل اللھم انی ظلمت نفسی ظلماکثیرا ولا یغفر الذنوب الا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک وار حمنی انک انت الغفو ر الرحیم ( متفق علیہ ) ‘‘ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی ، اے اللہ تعالیٰ کے ( پیارے ) رسول ﷺ مجھے ایک دعا تعلیم فرمائیے تاکہ میں اپنی نماز میں وہ دعا کیا کروں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ، کہ ( ابو بکر ) کہہ ، اے میرے اللہ ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا مگر سوائے آپ کے گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ، لہذا اپنی خاص بخشش سے بخش دیجئے اور مجھ پر رحم فرمائیے ۔ بالیقین آپ ہی بخشنے والے مہربان ہیں ۔ خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ عالیہ میں ہمارے پاس سوائے عاجزی اور زاری کے کوئی چیز نہیں اور اس ذات بے نیاز کو بھی عاجزی پسند ہے ۔ اس لئے حبیب لبیب ﷺ سے اپنے یا ر غار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسی دعا تعلیم فرمائی ، جس میں سوائے عاجزی کے اور کچھ نہیں ۔ ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ اس دعا کو یاد کرکے تشہد میں درود شریف کے بعد پڑھا کرے تاکہ رحمت کے دروازے اس پر کھل جائیں ، اور اللہ تعالیٰ اس کی اس عاجزی کو دیکھ کر ا س پر رحم و کرم فرما دے ۔(نماز مقبول)
﴿سلام ﴾ جامع الترمذی میں ہے ۔ ’’ عن عبد اللہ انہ کان یسلم عن یمینہ و عن یسارہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ ، السلام علیکم و رحمۃ اللہ ‘‘ عبد اللہ سے روایت ہے ، یہ کہ حضور اکرم ﷺ اپنے دائیں اور بائیں السلام علیکم و رحمت اللہ کہہ کر سلام پھیرا کرتے تھے ۔صاحب ترمذی فرماتے ہیں کہ اکژ اہل علم صحابہ کا اور تابعین کا اسی پر عمل ہے ۔ عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتا ہے ، ’’ قال کنت اریٰ رسول اللہ ﷺ اذاسلم عن یمینہ و عن یسارہ حتی اری بیاض خدہ ‘‘ ( رواہ مسلم ) وہ کہتا ہے کہ میں رسول اقدس ﷺ کو دائیں اور بائیں ( نماز میں ) سلام کرتے ہو ئے دیکھتا تھا ۔ یہاں تک کہ آپ کے رخسار مبارک کی سفیدی میں دیکھ لیتا ۔
یعنی حضور اکرم ﷺ سلام کرتے وقت چہر ہ مبارک اتنا پھیر تے کہ جو حضرات صف میں ہو تے ان کو آپ کے رخسار منور خوب اچھی طرح سے نظر آتا ، اللہ اکبر ، سبحان اللہ ! کتنے بابرکت اور صاحب سعادت تھے وہ لوگ جو حضور اکرم ﷺ کو ہر نماز میں اپنے میں موجود پاتے ۔
سمر ہ بن جندب سے روایت ہے ۔ ’’ قال کان رسول اللہ ﷺ اذا صلی صلواۃ ا قبل علینا بو جھہ‘‘ (رواہ البخاری ) وہ فرماتے ہیں کہ سید عالم ﷺ جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کرتے ۔ کہ جب حضور فخر نبی آدم ﷺ نماز پڑھنے کے بعد نمازیوں کی طرف منہ مبارک کرتے ۔ آج کل بھی امام صاحبان کو چاہیے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی اس سنت کو زندہ کریں ۔ انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ۔’’ قال کان البنی ﷺ ینصرف عن یمینہ‘‘ (رواہ مسلم ) حضور اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہونے کے بعد داہنی طرف پھرتے تھے ۔ یعنی سلام پھیرنے کے بعد جب نمازیوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے تو داہنی طرف پھر کر بیٹھتے ۔ سمر ہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال امر نا رسول اللہ ﷺ ان نرد علی الامام ونتحاب وان یسلم بعصنا علی بعض ‘‘ ( رواہ ابو داؤد ) ۔ وہ کہتے ہیں یعنی سمرہ کہ رسول اکرم ﷺ نے ہم کو حکم دیا ، کہ ہم امام کے سلام کا جواب دیں اور آپس میں محبت کریں اور یہ کہ با ہم ایک دوسرے کو سلام کریں ۔
صاحب مظاہر حق رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ نیت کریں ہم یعنی مقتدی جو سلام پھریں ، نیت کریں کہ امام کے سلام کا جواب دیتے ہیں جو کہ امام کے دائیں طرف ہوں ، دوسرے سلام میں نیت جواب کی کریں اور جو کہ بائیں طرف ہو ں پہلے سلام میں نیت کریں اور جو مقا بل امام کے ہوں دونوں سلاموں میں نیت کریں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام کو بھی سلام پھیرتے ہوئے نیت کرنی چاہیے کہ مقتدیوں پر سلام کرتا ہوں اور محبت کریں ۔ آپس میں یعنی نماز یوں سے اور تمام مومنوں سے محبت کریں اور خوش خلقی سے پیش آ ئیں ۔ آگے فرمایا یا سلام پھیر نے میں بیچ نماز کے آپس میں ایک دوسرے کی بھی نیت کریں ۔ یعنی داہنی طرف میں داہنی طرف والوں کی اور بائیں طرف میں بائیں طرف والوں کی نیت کرے اور ہر نمازی کو دونوں سلاموں میں نیت ملائکہ کی بھی کرنی چاہیے کہ یہ بھی حدیثوں میں آتا ہے ۔ کہا ہے بعض علمائے ہما رے نے کہ یہ سنت ہے اور لوگوں نے اس کو ترک کر دیا ہے ۔ (نمازمقبول ۴۷،۴۸)
﴿ سلام کے بعد دعا اور ذکر ﴾ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ۔ ’’ قالت کان رسول اللہ ﷺ اذا سلم لم یقعد الا مقدار ما یقول اللھم انت السلام و منک السلام تبارک یا ذالجلال و الاکرم ‘‘ ( رواہ مسلم ) وہ فرماتی ہیں کہ جب حضور اکرم ﷺ سلام پھیرتے تو حضور اکرم ﷺ سلام پھیرنے کے بعد صرف اس قدر بیٹھتے کہ حضور یہ فرماتے ’’ اللھم انت السلام ‘‘ اے اللہ تو سالم ہے اور سلامتی تجھ سے ہے ۔ اے عظمت و بخشش کے مالک تو ہی با برکت ہے ۔ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’انہ قال من سبح دبر کل صلواۃ ثلثا و ثلثین و کبر ثلثا ثلثین و حمد ثلثا وثلثین و ختم الماۃ بلا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیی قدیر غفرت ذنو بہ ولو کانت مثل زبد البحر ( موطا امام مالک ج ۱ صہ۱۱۹ )
یہ کہ اس نے یعنی ابی ہریرہ نے کہا کہ جس نے ہر نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ ۳۳ بار اللہ اکبر ۳۳ بار الحمد للہ کہا اور کلمہ ’’ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیی قدیر ‘‘کے ساتھ سو کو پورا کیا تو اس پڑھنے والے کے تمام گنا ہ بخشے جاتے ہیں ۔ اگر چہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ حضور اکرم ﷺ سے اور بھی بہت دعائیں اور تسبیحیں مروی جیسے آیت الکرسی وغیرہ وغیرہ ۔ مگر مندرجہ بالا بہت آسان اور مختصر ہے ، بہت فوائد رکھتی ہے ۔ اس لئے اس پر اکتفا کیا گیا ۔ (نمازمقبول ۴۹،۵۰)
ویجھر بالقراء ۃ فی الفجرو فی الرکعتین الاولیین من المغرب والعشاء ان کا ن اماما ویخفی القراء ۃ فیما بعد الاولیین فان کان منفردا فھو بالخیار ان شاء جھرواسمع نفسہ وان شاء خافت ویخفی الامام القراء ۃ فی الظھر و العصر والوتر ثلث رکعات لا یفصل بینھن بسلام عندنا ویقنت فی الرکعۃ الثالثۃ قبل الرکوع فی جمیع السنۃ
اگر امام ہو تو فجر کی نماز میں اور مغر ب و عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں بلند آواز سے قرات کرے اور بعد والی دو رکعتوں میں آہستہ آواز سے قرات کرے ۔ پس اگر اکیلا نماز پڑھنے والا ہے تو ا س کو اخیتار ہے چاہے تو آواز سے پڑھے اور اپنے آپ سنائے اور چاہے تو آہستہ پڑھے اور امام ظہروعصر میں آہستہ قرآت کرے اور وتر تین رکعات ہیں اور ہمارے نزدیک ان رکعات میں سلام کے ساتھ جدائی نہیں کرنی ہے اور سارا سال وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھے ۔
﴿بالقراء ۃ فی الفجر ﴾’’عن ابی ہریرہ قال قال رسول اللہ ﷺ اذا قال الامام سمع اللہ لمن حمدہ قولوا اللھم ربنا لک الحمد ‘‘ ابی ہریرہ رضی اللہ علیہ سے روایت ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ سرکا ر دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ جب امام سمع اللہ لمن حمدہ ( جس نے اللہ کی تعریف کی اللہ نے سن لی اور مان لی ) کہے ( اے ہمارے پر وردگار آپ کے لئے ہی حمد ہے ) ’’ فانہ من و افق قولہ قول الملیکتہ غفرلہ ما تقدم من ذنبہ‘‘ پس جس شخص کا کہنا ۔ فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا ۔ اس کے اس کے پہلے گنا ہ جو اس نے لئے تھے ، بخشے جاتے ہیں ۔ ( متفق علیہ) رفاعر بن نافع کہتے ہیں ’’ کنا نصلی وراء البنی ﷺ فلما رفع رأسہ من الرکعۃ ‘‘ہم سرکار دو عالم ﷺ کے پیچھے نماز پڑ ھا کرتے تھے ۔ حضور انور ﷺ رکوع سے سر مبارک اٹھاتے ۔ ’’ قال سمع اللہ لمن حمدہ سمع اللہ لمن حمدہ فقال رجل وراء ہ ‘‘ تو آپ ﷺ ارشاد فرماتے پس ایک شخص نے جو کہ حضور ﷺ کے پیچھے کھڑا تھا ، کہا ۔ ’’ ربنا و لک الحمد حمدا کثیر ا طیبا مبار کا فیہ فلما انصرف قال من المتکلم انفا ‘‘اے ہمارے پرورگار آپ ہی کے لئے تعریف ہے ، بہترپاکیزہ تعر یف ،اس میں برکت کی گئی ۔ پس جب حضور ﷺ نماز سے فارغ ہو ئے ۔ تو آپ نے فرمایا ، بولنے والا کون تھا اب یعنی ان کلمات کا پڑھنے والا کون تھا ؟۔ ’’ قال انا قال راء یت بضعۃ و ثلثین ملکا یبتدرو نھا ایھم یکتبھا اول‘‘ ( رواہ البخاری) پڑھنے والے نے عرض کی کہ حضور ﷺ ! میں تھا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے کچھ اوپر تیس فرشتوں کو دیکھا کہ وہ جلدی کرتے ہیں کہ کون ان میں سے ان کلمات کا ثواب پہلے لکھے ۔ یعنی ان کلمات کا پڑھنا اتنا بہتر ہے کہ فرشتے ان کے ثواب لکھنے میں جھگڑتے ہیں ۔ افسوس ہے ہماری حالت پر! کہ ہم رکوع سے سر اٹھاتے ہی نہیں اور سجدے میں پہنچ جا تے ہیں ۔ یہ کمال درجے کی بے احتیاطی ہے ۔ ان الفاظ کو یاد کرنا چاہئے اور نماز نفل میں پڑھنا چاہئے ۔ان مبارک الفاظ میں بہت برکتیں اور رحمتیں ہیں ۔ کہنے والا کہتا ہے کہ اسے میرے پروردگار ! نہایت ہی پا کیزہ تعریف یعنی ہر قسم کے شرک ، ریا ، سمعہ سے پاک ، آپ کے لئے ہی ہے ۔ اخلاص اور حضوری کے ساتھ اس میں برکت کی گئی ہے ۔ اب اندازہ لگا لیجئے کہ جب ایک شخص اس فیاض حقیقی کی اتنی بلند وارفع تعریف کرے گا تو وہ اس پر کتنی رحمتوں کی بارشیں برسائے گا ۔ جیسا کہ ابی مسعود انصاری سے روایت ہے ۔ ’’قال قال رسول اللہ ﷺ وہ فرماتے ہیں کہ سر کار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ ’’ لا تجزی صلوۃ الرجل ‘‘ آدمی کو نماز کفایت نہیں کرتی ’’ حتی یقیم ظہرہ فی الرکوع والسجود ‘‘ ( رواہ ابوداؤد و النسائی والدارمی وقال الترمذی ہذا حدیث حسن صحیح ) یہاں تک کہ رکوع اور سجد ے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے ۔ صاحب جا مع ترمذی فرماتے ہیں ۔ ’’والعمل علی ھذا عند اھل العلم من اصحاب البنی ﷺومن بعد ھم یرون ان یقیم الرجل صلبہ فی الرکوع والسجود ‘‘ صحابہ نبی کریم ﷺ کے اہل علم اور ان کے بعدکے اہل علم یعنی تابعین کا اسی پر عمل ہے کہ مرد اپنی پیٹھ کو رکوع اور سجدے میں سید ھی کھڑی رکھے ۔
’’وقال الشافعی واحمد واسحاق من لا یقیم صلبتہ فی الرکوع والسجود قصلوتہ فاسدۃ الحدیث النبیﷺ لاتجزی الخ ‘‘ ( امام شافعی ، امام احمد ، امام اسحاق رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیٹھ رکوع اور سجدے میں سیدھی نہ کرے تو اس کی نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ جیسا کہ حضوراکرم ﷺ کی حدیث ہے کہ نماز کفایت نہیں کرتی الخ ، امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک تعدیل ارکان واجب ہیں ۔ ان کے پورا نہ کرنے سے نماز نا تمام رہتی ہے ثابت ہوا کہ نماز ی جب رکوع سے سر اٹھا ئے ۔ تو سید ھا کھڑا ہو جائے ۔ جب سجدے سے جلسے کے لئے اٹھے تو سیدھا بیٹھا کرے ورنہ نماز قبول نہیں ہو تی اور اس قسم کی بے قاعدہ نماز کچھ بھی فائد ہ نہیں دیتی ۔ شفیق سے روایت ہے ۔ قال ‘ شفیق نے کہا کہ ان حذیفۃ رایٰ رجلا ،حذیفہ نے ایک شخص کو دیکھا ۔ لا یتم رکوعہ ولا سجوہ کہ نہ تو وہ اپنا رکوع پورا ادا کرتا ہے اور نہ ہی سجدہ ، فلما قضٰے صلوٰتہ، جب وہ شخص اپنی نماز ادا کر چکا ، دعاہ ، اس کو بلایا ! ’’ فقال لہ حذیفہ ‘‘ حذیفہ نے اس کو کہا ’’ما صلیت ‘‘ تو نے نماز نہیں پڑھی ’’ واحسبہ قال لو مت ‘‘ اور شفیق نے کہا کہ میں یہ بھی گمان کرتا ہوں ، کہ حذیفہ نے اس شخص کو یہ بھی کہا کہ اگر تو مرے’’ لمت علی غیر الفطرۃ التی فطراللہ محمد ﷺ ،، ( رواہ البخاری ) تو ، مرے گا اس طریقہ پر جو کہ اسلامی نہیں اور نہ ہی وہ حضور اقدس ﷺ کا طریقہ ہے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کو تہدید کے طور پر فرمایا کہ چونکہ تو نے رکوع ، سجود ، قومہ ، جلسہ صحیح طریقہ پر ، طمانیت کے ساتھ ادا نہیں کئے اس لئے گو یا چند واجب ترک کئے ۔ لہذا تیری نماز ہی ادا نہیں ہوئی ۔ اس فقر ے پر غور کرو کتنی سخت تہدید ہے اور کتنی زبردست تغلیظہے کہ اگر تو مرگیا تو فطرت اسلام پر نہ مرا ، جو کہ حضور اکرم ﷺ کی راہ ہے ۔ دوران نماز تعدیل ارکان سے غفلت بر تنا انتہائی درجے کی شومی قسمت ہے ۔ ہر ایک مسلما ن کو چاہئے کہ نماز میں تعدیل ارکان کا خیال رکھے ۔ تاکہ انجام بخیر ہو اور ہماری موت ملت حنفیہ پر ہو ۔ ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’ قال قال رسول اللہ ﷺ ‘‘وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ اسوأ الناس سرقۃ ن الذی لیسرق من صلوتہ ‘‘ لوگوں میں بحیثیت چوری کے بہت بڑا چور دہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے ۔ ’’ قالوا یا رسول اللہ ‘‘ صحابہ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ’’و کیف یسرق من صلوتہ ‘‘ اپنی نماز سے کیسے چوری کرتا ہے ۔ ’’ قال لا یتم رکوعھا ولا سجود ھا ‘‘ ( رواہ احمد ) ارشاد فرمایا کہ نہیں صحیح ادا کرتا اپنی نماز کا رکوع اور سجدہ ، ایک شخص مال و اسباب کی چوری کرتا ہے تواس پر حد شرعی جا ری ہوتی ہے۔ سزا بھگتنے کے بعد خلاصی حاصل کرتا ہے ۔ آخرت کے عذاب سے بھی چٹھکارا پا تا ہے لیکن نماز کا چور جو کہ صحیح نماز ادا نہیں کرتا ، ثواب نہیں پاتا ، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی آخرت میں گھاٹا اٹھاتا ہے اور سوائے ضرر کے اس کے ہاتھ کچھ نہیں پڑتا ۔ لہذا اپنے آپ کو ایسا چور بننے سے بچا نا چاہیے تاکہ یہ نماز آخرت میں ہماری نجات کا ذریعہ اور وسیلہ بن جا وے ۔ حجتہ الاسلام شاہ ولی اللہ دہلوی موطا امام مالک کی شرح مصفی میں ارشاد فرماتے ہیں ۔ مسئلہ نمبر ۱ :۔ اگر پشت در رکوع ہموار نہ کرد وہم چنیں درسجود یا در قومہ ، و جلسہ ، نزدیک شافعی نماز فاسد باشد و اصحاب ابو حنیفہ مختلف اند ، مختار کرخی ، آنکہ اطمنیان در رکوع و سجود واجب است ، و در قومہ و جلسہ سنت ، وھو صحیح درا یۃ ، یعنی اگر پیٹھ رکوع اور سجدے میں ہموار نہ کی یا رکوع ، سجود ، قومہ و جلسہ میں اطمینان کو چھوڑا ، امام شافعی کے نزدیک نماز فاسد ہو گئی ۔ ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے اصحابوں کے درمیان اختلاف ہے مگر امام کرخی کا مختار یہ ہے کہ اطمینان رکوع و سجود میں واجب ہے اور قومہ و جلسہ میں سنت ،
ویقرء فی کل رکعۃ من الوتر بفاتحۃ الکتاب وسورۃ معھا فاذا اراد ان یقنت کبرو رفع یدیہ ثم قنت ولا یقنت فی صلوۃ غیرھا ولیس فی الصلوۃ قرأۃ سورۃ بعینھا بحیث لا یقرء غیرھا ویکرہ ان یتخذ قرأۃ سورۃ بعینھا للصلوۃ وادنی ما یجزی من القراء ۃ مایتناولہ اسم القرأۃ عند ابی حنیفۃ وقالا لایجوزاقل من ثلث ایات قصار او ایۃ طویلۃ نحو ایۃ المداینۃ وایۃ الکرسی ولایقرء الموتم خلف الامام ومن ارادالدخول فی صلوۃ الغیر یحتاج الی نیتین نیۃ الصلوۃ ونیۃ المتابعۃ
اور وتر کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت پڑھے اور جب قنوت پڑھنے کا ارادہ کرے تو تکبیر کہے اور دونوں ہاتھ اٹھائے پھر قنوت پڑھے کسی اور نماز میں قنوت نہ پڑھے اور نماز میں کوئی سورۃ مقرر نہیں اس حیثیت سے کہ اس کے سوا نہ پڑ ھے اور نماز کے لیے صرف ایک سورت کا مقرر کر لینا مکروہ ہے اورکم سے کم قرات جو امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے ۔ وہ ہے جس کو قرات کانا م دیا جائے اور صاحبین فرماتے ہیں کہ تین چھوٹی آیات یا ایک لمبی آیت سے کم قرات کرنا جائز نہیں ہے ۔ جیسے آیت مداینہ یا آیت الکرسی ،اور مقتدی امام کے پیچھے قرات نہ کرے اورجو شخص کسی دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو وہ دو نیتوں کا محتاج ہے ۔ ایک نیت نماز کی اور دوسری نیت اقتداء کی ۔
﴿قنت﴾وہابی وتر کی دوسری رکعت میں سلام پھیر کر کھڑے ہوجاتے ہیں اورتیسری رکعت پڑھتے ہیں امام شافعی کے نزدیک رکوع کے بعد قنوت پڑھنی ہے۔﴿فی صلوۃ غیرھا ﴾ غیر مقلد صبح کی نماز میں بھی پڑھتے ہیں ۔
باب الجماعۃ
الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ واولی الناس بالامامۃ اعلمھم بالسنۃ فان تساووا فاقرء ھم
جماعت کے بیان میں
جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا سنت موکدہ ہے اور سب سے بہتر امامت کے لیے وہ ہے جو سب سے زیادہ حضور کی سنت کو جاننے والا ہو ۔ اگر وہ سب سنت کے جاننے والے ہیں تو پھر جو سب سے زیادہ متقی ہو
﴿ جماعت ﴾مسجد میں با جماعت نماز کا ادا کرنا نماز کا ایک اھم رکن ہے ۔ اللہ جل و علی شانہ نے فرمایا کہ ’’وارکعوامع الراکعین‘‘ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو ۔ امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ اور ان کے صاحبوں کے نزدیک جماعت سنت موکدہ ہے جو کہ واجب کے قریب ہے ۔ امام شافعی رحمت اللہ علیہ کے نزدیک نماز باجماعت فرض کفایہ ہے ۔ امام احمد ، داؤد عطا اور ابی ثور کا قول ہے کہ جماعت فرض عین ہے ۔ ابن عمر سے روایت ہے ’’ قال قال رسول اللہ ﷺ صلوۃ الجماعۃ تفضل صلوۃ الفذ بسبع و عشرین درجۃ ‘‘ ( متفق علیہ ) وہ فرماتے ہیں کہ سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک نماز جو کہ جماعت کے ساتھ ادا کی جائے زیادتی کرتی ہے ثواب میں اس نماز پر جو کہ اکیلی ادا کی جا ئے ستائیس ۲۷ درجے ۔ ابی ہریرہ سے روایت ہے ’’ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لقد ھممت ان امر بحطب فیحطب ثم امر بالصلوۃ فیوزن لھا ثم امر رجلا فیؤم الناس ثم اخاف الی رجال و فی روایۃ لا یشھدون الصلوۃ فاحر ق علیھم بیوتھم والذی نفسی بیدہ لو یعلم احدھم انہ یجد عرفا سمینا او مر مانین حسنتین لشھد العشاء ‘‘ ( رواہ البخاری و المسلم ) وہ یعنی ابی ہریرہ فرماتے ہیں کہ سرور کائنا ت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے مجھے اس ذات با برکا ت کی کہ جس کے دست تصر ف میں میری جان ہے ارادہ کرتا ہوں کہ کسی کو لکڑیاں جمع کرنے کا امر کروں ، جب لکڑیاں جمع ہو جائیں ، پھر نماز کے لئے اذان کرنے کا حکم دوں ، تو اذان دی جائے ، پھر ایک شخص کو ا مر کروں کہ وہ امامت کرائے ، میں لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز کے لئے نہیں جاتے ۔ اچانک ان کو پکڑلوں ، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ان لوگوں کی طرف جا ؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ان پر ان کے گھر جلادوں ( تاکہ وہ بیچ میں جل کر خاک ہو جائیں ) مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے دست تصرف میں میری جان ہے کہ اگر ان میں سے ( جو کہ نماز میں حاضرنہیں ہوتے ) ایک بھی یہ جان لے ! کہ مسجد میں فربہ گوشت کی ہڈی یا بکری یا گائے کے دو اچھے کھُر پاویں گے تو ضرور عشاء کی نماز میں حاضر ہوں ۔ حضور فخر نبی آدم ﷺ نے ان لوگو ں پر جو کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے کتنا غصہ فرمایا ہے ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اتنے بین اور صریح احکام کی موجودگی میں مسلمان روگردانی اور سرتابی کر رہے ہیں ، احکام دین سے لہو ولعب میں پھنس کر عمدا غفلت برتی جا رہی ہے ۔ خدا کے گھر غیرآبا د اور ویران پڑے ہوئے ہیں ۔
اور مسلمانوں کے اس انتہائی غفلت پر رو رہے ہیں اور پکار پکار کر مسلمانوں کو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اے مسلمانو! اے احکام الہی کو مان کر اعراض کرنے والو ! ’’واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ ‘‘ اس عذاب سے ڈرو جو خاص کر گنہگا روں کو نہ پکڑ ے گا بلکہ تمام کو گھیر لے گا اور فرمایا کہ لوگ نماز باجماعت ادا نہیں کرتے پرلے درجے کے نفس کے بندے ہیں ۔ حرص و آز میں گرفتار ہیں۔ جہاں پرنان ہو وہاں پر یہ حاضر ، سبحان اللہ کتنا سچا ارشاد مبارک ہے ۔ ماہ رمضان میں ختم قرآن شریف کے موقع پر ہو بہو یہہ نقشہ آنکھوں کے رو برو ہو تا ہے۔ کہ تمام بے نماز مسجد میں موجود ہیں ۔ ابھی وقت ہے کہ مسلمان حضور ﷺ کی اتباع اور خوشنودی میں اپنی باقی ماندہ زندگی گزاریں۔ قیامت کے دن ذرے ذرے کا حساب ہو گا ۔ نامہ اعمال ہر ایک کے ہاتھ میں ہو گا ۔ ہر ایک کو اپنا کیا نظر آئے گا ۔ کتنے بد بخت ہو ں گے وہ لوگ جن کا منہ اس دن سیاہ ہو گا ۔ اور کتنے خوش نصیب ہوں گے وہ لوگ کہ جن کا چہرہ اس دن گلاب کے پھولوں کی طرح کھلا ہو گا ۔سو اس دن کے لئے کچھ تیاری کرنی چاہے، کچھ زاد راہ مہیا کرنا چاہے اور وہ بجز حضور اکرم رحمت دو عالم ﷺ کی محبت اور اطاعت کے اور کچھ نہیں ۔ ایک دفعہ حضور سید عالم ﷺ علیل تھے ۔ اور بہت ضیعف ہو چکے تھے ۔ مگر باوجود علالت اور کمزوری کے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سہارا لے کر جماعت میں شامل ہو نے کے لئے مسجد کو تشریف لایا کرتے تھے ۔ آج ہم حضور انور ﷺ کے نام لیوا تندرست ہو کر بھی مسجد کا رخ نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم کے طفیل حضور ﷺ کی اطاعت کی توفیق مرحمت فرما دے آمین عبد اللہ بن مکتوم سے روایت ہے ۔
’’ قال یا رسول اللہ ﷺان المدینۃ کثیرۃ الھوام و السیاع وانا ضریر البصر فھل تجدلی من رخصۃ قال ھل تسمع حي علی الصلوۃ حي علی الفلاح قال نعم قال فحی ھلا ولم یرخص ‘‘( رواہ ابو داؤد والنسائی ) وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ( ﷺ ) مدینہ ( مطہرہ ) میں موذی جانور اور درندے بہت ہیں اور میں اندھا ہوں، آیا آپ مجھے اجازت فرماتے ہیں کہ میں جماعت میں نہ آؤں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تو ’’ حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح ‘‘ ( کے کلمات ) سنتا ہے ۔ اس نے عرض کی کہ جناب سنتا ہوں ۔ فرمایا ، اجابت کر اور حاضر ہو اور ( ترک جماعت کی ) رخصت نہ دی ۔ عبرت کا مقام ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنکھوں سے معزور ہیں ۔ درندوں اور موذی جانوروں کا خطرہ بھی ہے مگر آپ ان کو نماز با جماعت چھوڑنے کی اجازت مرحمت نہیں فرماتے۔
وان تساووا فاورعھم بکتاب اللہ تعالی فان تساووا فاسنھم ویکرہ تقدیم العبد والفاسق و الاعرابی والاعمی و ولد الزنا فان تقدموا جاز وینبغی للامام ان لا یطول بھم القراء ۃ فی الصلوۃ ویکرہ للنساء ان یصلین و حدھن بجماعۃ فان فعلن ذلک تقف الامام وسطھن
پس اگر تقویٰ میں بھی وہ برابر ہو ں تو پھر جو قرآن مجید کا سب سے اچھا قاری ہو ۔ اگر وہ اس میں بھی برابر ہیں پھر ان میں جو سب سے زیادہ عمر والا ہو ۔ اور غلام، فاسق ، دیہاتی ، اندھے اور حرامی کی امامت مکروہ ہے پس اگر یہ اما م ہو جائیں تو جائز ہے اور منا سب ہے امام کو کہ نماز میں لمبی قرات نہ کرے اور مکروہ ہے عورتوں کے لیے یہ کہ صرف عورتیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں اور اگر انھو ں نے ایسا کر لیا تو امام پہلی صف میں ان کے درمیان کھڑا ہو ۔
﴿الفاسق﴾تارک سنت فاسق معلن ہے یعنی اعلانیہ فسق کرنے والا۔جیسے قراقلی ٹوپی یا رومال کے ساتھ نماز پڑھانے والاکیونکہ حضور نے عمامہ کے ساتھ نماز پڑھائی ہے ۔
﴿الاعرابی ﴾اس لیے کہ دیہاتی اوقات کو نہیں جانتا،بدن کو پاک نہیں رکھا سکتا سارا دن اس کا گائے بھینسوں کی صفائی میں گذرتا ہے ۔
﴿الاعمی ﴾اندھا اپنے آپ کو پلیدی سے نہیں بچاسکتا۔
﴿ینبغی ﴾’’ ینبغی ‘‘ جب علی کیساتھ آئے تو لزوم کا معنی دے گا۔
ومن صلی مع واحد اقامہ عن یمینہ فان کانا اثنین تقدم علیہما ولایجوز للرجال ان یقتدوا بامرأۃ ولا صبی و یصف الرجال ثم الصبیان ثم الخناثی ثم النساء وان قامت المرأۃ الی جنب رجل وھما یشترکان فی صلوۃ واحدۃ فسدت صلوتہ
اور اگر امام ایک آدمی کے ساتھ نما ز پڑھے تو اسے اپنی دائیں طرف کھڑا کرلے اور اگر دو متقدی ہوں تو امام ان کے آگے ہو جائے اور مرد کے لیے عورت اور بچہ کی اقتداء کرنا جائز نہیں ہے اور صف باندھیں مرد پھر بچے پھر خنثی پھر عورتیں اور اگر عورت مرد کے پہلو کی جانب کھڑی ہو گئی اور وہ دونوں ایک ہی نما ز میں شریک ہو ں اور امام نے عورت کے لئے امامت کی نیت کی تو مرد کی نماز فاسد ہو گئی
﴿یصف﴾ صف کو برابر رکھنا ارکان نماز میں سے ایک ضروری امرہے اور جب تک نماز کی تمام ضروریات پورے طور پر ادا نہ ہو ں نماز کی تکمیل نہیں ہو تی ۔ حضور انور سید عالم ﷺ نے جس طرح نما ز کے دیگر ارکان کو مکمل طریقہ پر ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اسی طرح صف کو برابر ، سیدھی اور بغیر شگاف کے رکھنے کو بھی تاکید کے ساتھ حکم فرمایا ہے ۔ نما ز شروع کرنے سے پہلے صفوں کو برابر کرنا ، بالکل سیدھا رکھنا ، کوئی درز یا شگاف باہم نہ رکھنا نہایت ضروری ہے ۔ اما م کو خاص طور پر لحاظ رکھنا چاہیے تاکہ حضورﷺ کی سنت مبارک کے مطابق نماز ادا ہو۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’ قال قال رسول اللہ ﷺ سووا صفوفکم فان تسویۃ الصفوف من اقامۃ الصلوٰۃ (متفق علیہ ) الا ان عند مسلم من تمام الصلوٰۃ ۔‘‘ وہ فرماتے ہیں کہ سید عالمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی صفوں کو برابرکرو ۔ اس لئے کہ صفوں کی برابری اقامت نماز سے ہے ۔ یہ حدیث بخاری شریف اور مسلم شریف دونوں میں ہے ۔ مگر مسلم شریف میں’’ من اقامۃ الصلوٰ ۃ ‘‘ کی جگہ ’’من تمام الصلوٰۃ ‘‘ہے بہر حال دونوں عبارتوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ۔ ’’قال قال رسول اللہ ﷺ رصواصفو فکم وقاربوا بینھا وحاذوا بالا عناق فوالذی نفسی بیدہ انی لاری الشیطان ید خل من خلال الصف کانھا الحذف ‘‘ ( رواہ ابو داؤد ) اپنی صفوں کو پیوستہ اور استوار رکھو صفوں میں قریب قریب کھڑے ہو ا کرو اور اپنی گردنوں کو برابر رکھو ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے دست تصرف میں میری جان ہے کہ یقینا میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے شگافوں سے داخل ہوتا ہے ۔ گویا کہ وہ حذف ( سیاہ رنگ کے بکری کے بچہ کو جو کہ یمن اور حجاز میں اکثر پیدا ہوتا ہے ۔ حذف کہتے ہیں ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’قال کان رسول اللہ ﷺ یقول عن یمینہ اعتدلوا سووا صفوفکم و عن یسارہ اعتدلوا سووا صفو فکم ‘‘ ( رواہ ابو داؤد ) وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ ہمیشہ اپنی داہنی طرف فرمایا کرتے تھے ۔ سیدھے کھڑے رہو۔ اپنی صفوں کو ٹھیک رکھو اور ( اسی طرح ) بائیں طرف بھی فرمایا کرتے تھے ۔ سیدھے کھڑے رہو۔ اپنی صفوں کو ٹھیک رکھو، امام صاحب کو چاہیے کہ جب نماز کے لئے مصلے پر آئے تو اسی طرح دائیں بائیں کہے ۔ اور صف کو ٹھیک اور درست کرنے کے بعد تکبیر تحریمہ کہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ام المومنین سے روایت ہے ۔’’ قالت قال رسو ل اللہ ﷺلا یزال قوم یتأ خرون عن الصف الاول حتی یوء خرھم اللہ فی النار ‘‘(رواہ ابو داؤد ) وہ فرماتی ہیں کہ سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک قوم ہو گی جو کہ ہمیشہ پہلی صف سے پیچھے رہیگی یہاں تک کہ اللہ اس کو دوزخ میں سب سے پیچھے ڈال دے گا ۔ وابصہ بن معبد سے روایت ہے ۔’’قال رای رسول اللہ ﷺ رجلایصلی خلف الصف وحدہ فامرہ ان یعید الصلوۃ ‘‘ ( رواہ احمد، والترمذی وابوداؤد ) ’’و قال الترمذی ھذا حدیث حسن ‘‘ وہ کہتے ہیں کہ سید عالم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو کہ صف کے پیچھے اکیلا کھڑا نماز پڑھ رہا تھا ۔ سو آپ نے اس شخص کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا ۔ صاحب اشعتہ اللمعات نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ جو آپ نے اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا یہ حکم بوجہ تغلیظ اور تشدید تھا ۔ جو کہ اس سے پہلی صف میں کھڑے نہ ہونے کی غلطی کی وجہ سے پیدا ہوا ۔ فساد نماز یا بطلان
نما ز کی وجہ سے آپ نے یہ حکم نہیں دیا احناف کے نزدیک صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز ہو جاتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے جو ایسے شخص کو نماز دہرانے کا حکم دیا ہے وہ ( استحبا باً تھا نہ کہ و جو بًا ،)
ولاتفسد صلوۃ المرأۃ ان نوی الامام امامتھاوان لم ینولا یضرہ ولایجوز صلوتھا و یکرہ للنساء حضور الجماعۃ
اورعورت کی نماز فاسد نہیں ہوگی اور اگر امام نے نیت نہیں کی تو مرد کی نماز فاسد نہیں ہوگی اور عورت کی نماز جائز نہیں اور عورتوں کے لیے جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے ۔
﴿ یکرہ للنساء حضور الجماعۃ ﴾حضر ت امام اعظم کے مذہب میں عورتوں کی امامت اور جماعتوں میں شرکت ممنو ع اور مکروہ تحریمی ہے ائمہ دین اورفقہائے کرام اس کی وضاحت یوں فرماتے ہیں ۔فتاوی بحر الرائق جلداول کتا ب الصلوٰۃ باب امامۃ صہ۳۵۱ و صہ ۳۵۸وفتاوی و فتح القدیر جلد اول باب الامامۃ یعنی عورتوں کی جماعت اس لیے مکروہ اورمنع ہے کیونکہ ان کی جماعت ارتکاب حرام سے خالی نہیں ۔وہ ہے امام بنتے وقت اس کا صف کے درمیان میں کھڑی ہو نا تو ان کی جماعت اس وجہ سے مکروہ ہو گی۔ جس طرح کہ ننگوں کی جماعت مکروہ ہے کذافی الھدایہ یہی بات دلالت کرتی ہے عورتوں کی جماعت کے مکروہ تحریمہ ہونے پرکیونکہ تقدم ( آگے کھڑا ہونا ) بوجہ نبی اکرم ﷺ کے ہمیشہ عمل ہونے سے امام پر لازم اور واجب ہے اورواجب کا ترک کرنا مکروہ تحریمی ہے جو موجب ہے گنا ہ کا اور یہی بات ننگوں کی جماعت میں بھی کراہت تحریمی ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔بطریق اولیٰ ۔
عورتوں کی جماعات میں حاضری اور شرکت ممنوع ہے کیونکہ ارشاد خداوندی ہے کہ وقرن فی بیوتکن اور اپنے گھروں میں قرار پکڑو‘‘یعنی پابندی کے ساتھ گھروں میں رہو۔اور حضورﷺ کا فرما ن ہے صلوتھا فی قعربیتھا افضل من صلوتھا فی صحن دارھا۔’’ عورت کی نماز گھرکے کمرے میں بہتر ہے اس نماز سے جو وہ اپنے گھر کے صحن میں پڑھتی ہے اور اس کی نما زگھرکے صحن میں اس نماز سے بہتر ہے جو وہ اپنی مسجدمیں پڑھتی ہے ‘‘اور ان کے گھران کے لئے خیر وبرکت کے موجب ہے یہ اس لیے کہ عورتوں کے گھروں سے باہرنکلنے میں فتنہ وفساد سے حفاظت کا ہونانصیب نہیں ہو سکتا چونکہ عورتوں کی جماعت میں عد م حضوری کا حکم عام ہے لہذا اس حکم میں ہر عمر کی عورتیں آگئیں ۔خواہ جوان ہو ں یا کہ عمررسیدہ اورخواہ نمازیں دن کی ہوں یاکہ رات والی ۔منصف نے کا فی میں عورتوں کی تمام نمازوں میں شرکت کومکروہ تحریمی بوجہ فتنہ وفساد کے ظہورکے کہا ہے جب مسجدوں میں نماز کے لیے عورتوں کی حاضری ممنوع اور مکروہ ٹھہری تو مجالس و وعظ ، میں توان کی حاضری ا ور شرکت بطریق اولیٰ مکروہ اور ممنوع ہو گی خاص کر ایسی مجالس میں جن کے سرپرست اور بانی سراسرجاہل اور بے دین لوگ ہوتے ہیں ۔جو بزرگوں اور علماء کے لباس میں ذاتی منفعت اور شہرت کے دلدادہ ہوتے ہیں ذکرہ فخرالاسلام انتہی ۔کتاب الصلوۃ باب الامامۃ درمختاراور فتاو ی فتح القدیر میں ہے یعنی مکروہ اور ممنوع ہے عورتوں کا جماعت میں حاضرہونا اگرچہ جمعہ ،عیدین اور وعظ میں ہو اگرچہ بوڑھی عورت ہو یا کہ جوان رات کے وقت ہو یا کہ دن میں مفتٰی بہ مذہب پر بہ سبب خرابی زمانہ اور پر فتن دورکے رونما ہونے کے ۔اس سلسلے میں علامہ طحطاوی باب الامامۃ میں لکھتے ہیں
کہ آنحضرت ﷺ کے وقت عورتیں جماعت میں حاضرہوتی تھیں حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورتوں کو مسجد وں میں جانے سے روک دیا تو عورتوں نے ان کی شکایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کی انھوں نے فرمایا اگر آنحضرت یہ حال دیکھتے جو آج حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا ہے تو تم کو مسجدوں میں جانے کی اجازت کبھی نہ دیتے انتہی۔ اس سے متاخرین علماء امت نے فتوی دیا کہ عورتوں کا جماعتوں میں نکلنا کراہت تحریمی اور منع ہے ۔احناف کی مستند کتاب درمختار کتاب الصلوۃ باب صفتہ الصلوۃ میں ہے یعنی عورت سجدے میں بہت رہ کر اپنے بازؤں کو ظاہر نہ کیا کرے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانو ں سے ملائی رکھے اس لیے کہ ایساکر نا اس کے لیے زیادہ پردے اور ستر کا باعث ہے اوریہی بات ہم نے خزائن الاسرار میں لکھ دی ہے کہ عورت مردسے پچیس(۲۵)باتوں میں مخالف ہے انتہی ۔اس کی تشریح میں علامہ شامی نے اپنے فتاوی ردالمحتار باب صفتہ الصلوۃ جلد اول میں ان پچیس (۲۵) مقامات کو اپنی تحقیق کے ساتھ اس طرح سے بیان کیاہے جس کا ترجمہ سہولت کے لیے اردو زبان میں عام فہم انداز کے ساتھ یہ ہے ۔(۱) عورت تکبیرتحریمہ میں اپنے شانوں کے برابرہاتھ اٹھائے ۔(۲) ہاتھ آستینوں سے باہرنہ نکالے (۳) داہنے ہاتھ کی ہتھیلی دوسری ہتھیلی پررکھے (۴) ہاتھ پستان کے اوپر رکھے (۵)رکوع میں تھوڑی جھکے (۶) رکوع میں ہاتھوں پر سہارا نہ دے (۷) رکوع میں ہاتھوں کی انگلیوں کو نہ پھیلائے بلکہ ملی رکھے (۸) رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پررکھے مگر ان کو پکڑے نہیں (۹) اپنے گھٹنوں کو رکوع میں جھکالے (۱۰) رکوع میں سمٹی رہے (۱۱) سجدہ میں اپنی بغلیں نہ کھولے یعنی اس میں سمٹی رہے (۱۲) سجدہ میں دونوں ہاتھ بچھادے (۱۳) التحیات میں دونوں پاؤں داہنی طرف نکال کر سرین پر بیٹھے (۱۴) جب کوئی مشکل یا عذر نماز میں پیش آجائے تو تالی بجائے مردوں کی طرح سبحان اللہ ہر گز نہ کہے (۱۶) مردکی امامت نہ کرے (۱۷) عورت کی امامت بالاتفاق مکروہ تحریمی اور ممنوع ہے(۱۸)باوجودمکروہ تحریمی ہونے کہ عورتوں کی جماعت میں امام عورت بیچ میں کھڑی ہو نہ آگے بڑھ کر (۱۹) عورت کا جماعت میں ہونا مکروہ اور ممنوع ہے (۲۰) مردوں کے ساتھ میں عورت پیچھے کھڑی ہو (۲۱) عورت پر جمعہ فرض نہیں (۲۲) عورت پر نماز عیدین واجب نہیں (۲۳) عورت پر ایا م تشریق میں تکبیرات واجب نہیں (۲۴) عورت کو نماز فجر خوب اجالا ہو نے پر ادا کرنا مستحب نہیں (۲۵) نما زجہری پکار کرنہ پڑھے بلکہ جن آئمہ کرام کے نزدیک عورت کی آواز داخل ستر ہے ان کے نزدیک تو نما زفاسد ہو جائے گی انتہٰی ۔مذکورہ بالافقہائے کرام کے ارشادات سے عورتوں کی امامت اور ان کی ہر قسم کی نمازوں کی جماعت میں ممانعت واضح طور پر ثابت ہو گئی ،اگر کو ئی امام اپنے کسی خاص مقصد یا منفعت کے لیے اپنی مسجد میں ان کی جماعت کراتاہے تو احناف کے مذہب کے خلاف ہو گا اور ان غیر مقلدین کی راہ پر چلنے والاہو گا جو محمد بن عبدالوہاب نجدی کے پیروکار اور تابع ہیں جن کے مذہب میں عورت کی امامت اور جماعتوں میں شرکت مردوں کی طرح باعث اجر عظیم ثواب اور درجات عالیہ ہے ۔ تمام دیندار مقتدیوں پر لازم ہے کہ ایسے امام کو سبکدوش ہو جانے پر مجبو ر کریں اور اس کی جگہ کسی دیندار حنفی المذہب امام کا تقرر عمل میں لائیں تاکہ احناف کی لاتعداد مساجد میں عورتوں کا یہ فتنہ نہ پھیل سکے ۔میری دعا ہے کہ رب العزت ہمیں اپنی مرضیات کی توفیق عطافرمائے۔اکا برین وآئمہ دین کے نقوش پر استقامت نصیب فرمائے ۔(ترویح میں عورتوں کی امامت وجماعت مکروہ تحریمہ،ناجائز اورممنوع ہونے پر فتویٰ، ازمفتی سیدمبارک شاہ صاحب گیلانی فاضل دیوبند)
ولا باس بان تخرج العجوز فی الفجر والمغرب والعشاء عند ابی حنیفۃ و قالا یخرجن فی الصلوۃ کلھا ولا یصلی الطاھر خلف من بہ سلسل البول ولا الطاھرۃ خلف المستحاضۃ ولاالقارئ خلف الامی ولا المکتسی خلف العریان و یجوز ان یؤم المتیمم للقوم المتوضئین والماسح علی الخفین للغاسلین و یصلی القائم خلف القاعد ولا یصلی الذی یرکع ویسجد خلف المؤمی ولا یصلی المفترض خلف المتنفل ولا من یصلی فرضا اخر ویصلی المتنفل خلف المفترض
اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں کہ سن رسیدہ عورت فجر، مغرب اور عشاء کی نماز کے لیے آئے اور صاحبین نے فرمایا کہ سن رسیدہ عورتیں ہرنماز کے لیے آسکتی ہیں اور پاک آدمی اس شخص کے پیچھے کہ جس کو سلسل بول ہے نماز نہ پڑھے اور نہ پاک عورت مستحاضہ کے پیچھے اور نہ قاری ان پڑھ کے پیچھے اور نہ لباس پہننے والا برہنہ کے پیچھے اورتیمم کرنے والے کو وضوکرنے والوں کی اورخفین پر مسح کرنے والے کو پاؤں دھونے والوں کی امامت جائز ہے اور کھڑا ہونے والا بیٹھے ہوئے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے اور رکوع و سجود کرنے والا اشارہ سے نماز پڑھنے والے کے پیچھے نماز نہ پڑھے اور فرض نماز پڑھنے والا ، نفل پڑھنے والے کے پیچھے نماز نہ پڑھے اور نہ دوسری فرض نماز پڑھنے والے کے پیچھے اور نفل پڑھنے والا فرض پڑھنے والے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے ۔
﴿عجوز﴾جو بانجھ ہو ۔﴿سلسل البول ﴾اس مرض میں پیشاب کے قطرے جاری رہتے ہیں ﴿مستحاضہ ﴾مستحاضہ یعنی بیماری والی ﴿خلف ﴾کیونکہ ان پڑھ حروف کو ان کے مخارج سے ادا نہیں کرے گا قرآن مجیدکا تلفظ نہیں کرسکے گا ﴿متیمم﴾اس لیے کہ تیمم کرنے والے پر طہارت کا حکم جاری ہے ﴿المؤمی﴾کیونکہ اشارہ سے نما زپڑھنے والانماز کے ارکان پوری طرح ادا نہیں کرسکتا
ومن اقتدی بامام ثم علم انہ علی غیر طھارۃ اعاد الصلوۃ ویکرہ للمصلی ان یعبث بثوبہ او بجسدہ ولا یقلب الحصی الا ان لا یمکن السجود علیہ فیسویہ مرۃ اومرتین ولا یفرقع اصابعہ ولا یتخصر ولا یسدل بثوبہ ولا یتشبک بیدیہ ولا یعقص شعرہ ولا یلف ثوبہ ولا یلتفت یمینا وشمالا ولا یرد السلام بلسانہ ولا بعینہ ولا بیدہ ولا یتربع الا من عذر ولا یقعی کاقعاء الکلب ولا یاکل ولایشرب
اور جس نے امام کی اقتداء کی پھر معلوم ہو ا کہ وہ بے وضو تھا تو از سر نو نماز پڑھے اور نماز پڑھنے والے کے لیے اپنے کپڑے یا اپنے جسم کے ساتھ کھیلنا مکروہ ہے اور کنکریوں کو الٹ پلٹ نہ کرے مگر یہ کہ ان پرسجدہ کرنا نا ممکن ہو تو ایک بار یا دوبار ان کو ہموار کرلے اور انگلیاں نہ چٹخائے اور نہ کو لہے پر ہا تھ رکھے اور نہ کپڑا لٹکائے اور نہ انگلیوں میں انگلیاں ڈالے اور نہ اپنے بال گوند ھے اور نہ اپنے کپڑے سمیٹے اور نہ دائیں بائیں دیکھے اور اپنی زبان یا آنکھ کے اشارے یا اپنے ہاتھ سے سلام کا جواب نہ دے اور بغیر عذر کے پالتی مار کر نہ بیٹھے اور نہ اس طرح بیٹھے جیسے کہ کتا بیٹھتا ہے اور نہ کھائے اور نہ پیے۔
﴿یعبث بثوبہ﴾جیسے عرب میں وہابی نماز کے دوران کو ٹ وغیرہ اتاردیتے ہیں یا پہن لیتے ہیں
﴿بجسدہ﴾جسیے وہابی نماز کے دوران داڑھی میں خارش کرتے رہتے ہیں یعنی کوئی ایساکام نہیں کرنا چاہیے کہ دیکھنے والا سمجھے کہ نمازی عمل کثیر کررہاہے
امام سے پہل کرنے پر تہدید:۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ’’قال صلی بنا رسول اللہ ﷺ ذات یوم فلما قضی صلوتہ اقبل علینا بو جھہ فقال ایھا الناس انی امامکم فلا تسبقونی بالرکوع ولا بالسجود ولا بالقیام ولا بالانصراف فاتی اراکم امامی ومن خلفی‘‘ ( رواہ مسلم ) وہ فرماتے ہیں ایک دن حضور ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی ۔ جب حضور پر نور نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف اپنا رخ انور کر کے متوجہ ہوئے ۔ آپ نے فرمایا ، آگاہ رہو اے لوگو میں تمہارا امام و پیشوا ہوں ، پس مجھ سے پہلے نہ رکوع نہ سجدہ ، نہ قیام کرو اور نہ مجھ سے پہلے پھرو ، بالیقینمیں تم کو آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں یعنی رکوع اور سجد ے میں مجھ سے پیشتر نہ جاؤ اور نہ ہی مجھ سے پیشتر رکوع سے سر اٹھا ؤ اور نہ ہی سجدے سے اور انصراف سے مراد سلام ہے یا اپنی جگہ سے اٹھنا ، اور فرمایا یاد رکھو میں کشف وشہود کی طاقت سے جس طرح آگے دیکھ سکتا ہوں اسی طرح پیچھے بھی دیکھتا ہوں اس سے مراد تنبیہ ہے ۔ یہ با ت یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ہمارا کوئی عمل دوران نماز میں جبکہ ہم امام کی اقتدا،کر رہے ہوں امام سے پہلے نہ ہو یا کافی دیر بعد نہ ہو ورنہ نماز بجائے قبول ہونے کے مردود ہو جائے گی ۔ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ’’قال قال رسول اللہ ﷺ اما یخشی الذی یرفع رأسہ قبل الامام ان یحول اللہ رأ سہ رأ س حمار‘‘ (متفق علیہ) وہ کہتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺنے ارشاد فرمایا کیا وہ شخص اس بات سے نہیں ڈرتا جو امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے ۔کہ بدل ڈالے اللہ تعالیٰ اس کے سرکو گدھے کے سر سے ۔ صاحب مظاہر حق رحمت اللہ تعالیٰ علیہ نے لکھا ہے کہ ایک محدث نے دمشق کی طرف حدیث شریف کا علم
مبا رک پڑھنے کے لئے سفر کیا ۔ وہاں پر ایک مشہور معر وف شیخ رہتا تھا ، مگر ہر وقت اس کے منہ پر نقاب ہوتا تھا ۔ اس شاگرد نے اپنے استاد کی بہت خدمت کی اور کافی عرصہ ان کی ملازمت میں رہا اور بار بار عرض کرتا تھا کہ اپنا منہ مجھے دکھائیں ۔ آخرشیخ نے پردہ اٹھایا تو اس کا منہ گدھے کی طرح تھا ۔ اس شیخ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ اے میرے بیٹے امام سے پہلے پہل کرنے سے بچ ۔ جب میں نے یہ حدیث سنی تو ایسا ہونا نا ممکن خیال کیا اور میں امام سے پہلے سبقت کرتا تھا ۔تو اب جس طرح تو دیکھ رہا ہے میرا منہ ہو گیا ہے ۔ استغفر اللہ ، یہ بہت سخت تہدید ہے ۔ ہر ایک نمازی کو محتاط رہنا چاہیے اور امام سے سبقت نہیں کرنی چاہیے ۔(نمازمقبول ۶۳،۶۴)
باب الحدث فی الصلوۃ
فان سبقہ الحدث انصرف وتوضاء وبنی علی صلوتہ فان کان اماما استخلف وتوضاء وبنی علی صلوتہ مالم یتکلم والاستیناف افضل فان نام فاحتلم اوجن اواغمی علیہ او قھقہ فی صلوتہ استانف الصلوۃ والوضوء جمیعا فان تکلم فی الصلوۃ عامدا اوناسیا او ساھیا بطلت صلوتہ فان سبقہ الحدث بعد ماقعد قدر التشھد توضاء وسلم
نماز میں بے وضوہوجانا
کہ اگر نمازی بے وضو ہو جائے تو لوٹ جائے اور وضوکرے اوراپنی نماز پر بناکرے اور اگر امام ہو تو خلیفہ بنائے اور وضو کر کے اپنی نماز پر بنا کرے جب تک کہ با ت نہ کی ہو اور از سر نو پڑھنا افضل ہے اگر سو گیا اور اسے احتلام ہو گیا یا دیوانہ ہوگیا یا بے ہوش ہو گیا یا نماز میں قہقہ لگایا تو نماز اور وضودونوں ازسر نو انجام دے اور اگر نماز میں جان بوجھ کریا بھول کریا غلطی سے بات کرلی تواس کی نماز باطل ہو گئی پس اگر نمازی تشھدکے بعد بے وضوہوجائے تو وضوکر کے سلام پھیر دے
﴿حدث ﴾ جیسے ریح خارج ہوئی یا ناک سے خون نکل آیا وغیرہ وغیرہ ۔
﴿قہقہ﴾قہقہ وہ ہنسی ہے کہ جس میں آواز پیداہوجبکہ تبسم میں آواز پیدانہیں ہوتی۔
﴿بعدالتشھد﴾تشہدکے بعد کی عبادت فرض یا واجب نہیں بلکہ سنت ہے اس لیے نہ نماز ٹوٹے گی نہ سجدہ سھو لازم آئے گا البتہ لفظ سلام کے ساتھ نماز سے نکلنا واجب ہے ۔
وان تعمد الحدث فی ھذہ الحالۃ او تکلم او عمل عملا ینا فی الصلوۃ تمت صلوتہ وان رأی المتیمم الماء فی الصلوۃ وھو قادر علی استعمال الماء بطلت صلوتہ فان راہ بعد ما قعد قدر التشھد اوکان ما سحا علی الخفین فانقضت مدۃ مسحہ او خلع خفیہ بعمل قلیل او کان امیا فتعلم سورۃ اوکان عریانا فوجد ثوبا
اوراگر اسی حالت میں جان بوجھ کر ( ارادے سے ) بے وضو ہو ا یا بات کرلی یا نماز کے منافی کوئی کام کیا تو اس کی نما ز پوری ہو گئی اور اگر تیمم کرنے والے نے نماز میں پانی دیکھ لیا ا س حال میں کہ وہ پانی کے استعمال پر قدرت رکھتا ہے تو ا س کی نماز ٹو ٹ جائے گی اور اگر بقدرتشہد بیٹھنے کے بعد پانی دیکھا یا موزوں پر مسح کرنے والاہے ۔ پس مسح کی مدت پوری ہوگئی یا تھوڑے عمل سے دونوں موزے اتار دئیے یا ان پڑھ ہے پس کوئی سورۃ سیکھ لی یا ننگا ہے پس اس نے کپڑا پا لیا
﴿تعمد﴾ یعنی جان بوجھ کر
اومؤمیا فقدر علی الرکوع و السجود او تذکر ان علیہ صلوۃ قبل ھذہ او احدث الامام القارئ فاستخلف امیا اوطلعت الشمس فی صلوۃ الفجر او دخل وقت العصر فی الجمعۃ اوکان ماسحا علی الجبیرۃ فسقطت عن برء او کان صاحب عذر فانقطع عذرہ کالمستحاضۃ و من فی معنا ھا بطلت الصلوۃ فی قول ابی حنیفۃ وقالا تمت صلوتہ
یا اشارہ سے پڑھنے والا رکوع و سجود پر قادر ہو گیا یا یا د آیا کہ اس کے ذمہ اس سے پہلی نماز ہے یا خواندہ امام کا وضو ٹو ٹ گیا پس ان پڑھ کو خلیفہ بنایا یا صبح کی نماز میں سورج طلوع ہو گیا یا نماز جمعہ میں عصر کا وقت داخل ہوگیا یا پٹی پر مسح کرنے والے کی زخم کے صحیح وتندرست ہونے کی وجہ سے گر گئی یا عذر والے کا عذر ختم ہوگیا ۔جیسے استحاضہ والی عورت اور وہ شخص جو اس کے معنی میں ہے تو امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق نماز باطل ہو جائے گی اور صاحبان فرماتے ہیں کہ اس کی نماز پوری ہوگئی ۔
﴿مؤمیا﴾یعنی اشارے سے نماز پڑھ رہاہے ۔
﴿قبل ھذہ ﴾یعنی کوئی قضا نماز پڑھنی ہے کیونکہ ترتیب نما زواجب ہے۔صاحب ترتیب کے لیے ۔
﴿وقالا﴾امام محمد امام یوسف۔
﴿تمت صلوۃ﴾نماز پر ایک طائرانہ نظر:۔ اب ان احادیث کی روشنی میں جو آپ پڑھ آئے ہیں ۔ آئیں کہ نمازپرایک طائرانہ نظر ڈالیں ۔ نمازی کو سب سے پہلے نہایت اچھی طرح سے وضو کرنا چاہیے ۔ اس کے بعد نیت کرنے سے پیشتر کعبہ شریف کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو کر ’’انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض حنیفا و ما انا من المشرکین‘‘ کی آیہ کریمہ پڑھکر نیت کرکے تکبیر تحریمہ کہے ۔ دل کو غیر اللہ سے پا ک و صاف کر کے نما ز میں خشوع و خضوع پیدا کرکے سبحا نک الخ شروع کرے ، اس کے بعدفاتحہ شریف اور جو نسی جگہ سے قرآن مجید یاد ہو پڑھ کر رکوع کرے ۔ رکوع میں نہایت اطمینان کے ساتھ تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ تسبیح پڑھنی چاہیے پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سجدے میں جانا چاہیے ۔ نہایت اطمینان کے ساتھ تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ سجد ے میں تسبیح کہہ کر اللہ اکبرکہتے ہوئے اٹھ کر جلسہ کے لئے بیٹھے ۔ بیٹھ کر اللھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وعافنی پڑھے ۔ یہ دعا پڑھ کر دوبارہ سجدہ کرے ۔ دوسری رکعت بھی علی ہذا القیاس ادا کرنی چاہیے ۔ پھر التحیات پڑھے ۔ حضور ﷺ پر سلام اور درود پڑھ کر دعا پڑھے ۔ دعا کے بعد سلام پھیرے ۔ سلام پھیرنے کے بعد ذکر کرے یعنی ۳۳ بار سبحان اللہ ۳۳ الحمد اللہ ۳۳ اللہ اکبرایک با ر لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر ۔ اس طرح کی نماز ضرور قبول ہو گی ۔ انشاء اللہ ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔ جس نے وقت پر نما ز پڑھی ، اس کے وضو کو اچھی طرح کیا اور اسی طرح اس کے رکوع و سجود اور قیام کو اچھی طرح ادا کیا ۔ اس کی نماز سفید چمکدار نکلتی ہے اور کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے ۔ جیسے کہ تو نے میری حفاظت کی ۔
باب قضاء الفوائت
ومن فاتتہ صلوۃ قضاھا اذا ذکرھا و قدمھا علی صلوۃ الوقت الا ان یخاف فوت صلوۃ الوقت فیقدم صلوۃ الوقت علی الفوئتۃ ثم یقضیھا ومن فاتتہ صلوات رتبھا فی القضاء کما وجبت علیہ فی الاصل الا ان یزید الفوائت علی خمس صلوات او نسی سع اوضاق الوقت فیسقط الترتیب فیھا
فوت شدہ نمازوں کی قضائے
اور جس شخص سے نماز فوت ہو جائے تو اسے ادا کرے جب وہ یاد آئے اور اسے وقت کی نماز سے پہلے پڑھے مگر یہ کہ اس وقت کی نماز کے فوت ہوجانے کا ڈر ہو پس فوت شدہ نمازوں سے پہلے اس وقت کی نماز پڑھے پھر اسے ادا کرے اور جس شخص سے چند نماز یں فوت ہو جائیں تو انھیں اس ترتیب سے ادا کرے جس طرح حقیقت میں وہ اس پر واجب ہوئیں ۔ مگر یہ کہ فوت شدہ پانچ نمازوں سے زائد ہوں یا بھول گیا یا وقت تنگ ہو گیا پس ان میں ترتیب ساقط ہو جائے گی۔
﴿قضاء ﴾ادا کرنا ۔
﴿فوائت﴾یہ فوت کی جمع ہے یعنی ضائع ہو جانا ۔
﴿فاتتہ﴾فجر کی قضاہو ئی تو ظہرسے پہلے اورظہر کی قضاہوئی توعصر سے پہلے علی ھذالقیا س ۔
﴿ذکرھا﴾پس اگرفجر کی تین نمازیں قضاہوئیں تواب پہلے یہ تینوں اداکرے اس صورت میں ترتیب ساقط ہوگی۔
﴿رتبھا﴾رتب ،یر تب ،ترتیبا باب تفعیل ۔
﴿فیسقط﴾اوراگر ایک دن اوررات کی نمازوں سے زیادہ نمازیں فوت جائیں کافی ہے اس کو کہ جس نماز سے بھی شروع کرے اس لیے کہ جب رات ودن کی نمازوں سے زیادہ ہوجائے تو چھ ہو جاتی ہیں اورامام محمد سے روایت ہے یہ کہ اعتبارکیاجائے گا چھٹی نماز کے داخل ہونے کے وقت کا۔اور اول صحیح ہے اس لیے کہ دخول وقت میں تکرار ہوتی ہے ۔اوراگرجمع ہو جائیں پہلی فوت ہوئی نمازیں اوراب کی فوت ہوئی نمازیں ،کہاگیا ہے جائز ہے ہر وقت کے ساتھ جو نئی نماز اس کویاد آجائے ۔یعنی فجر کے ساتھ فجر کے علی ھذالقیاس کیونکہ فوت شدہ کثیر ہیں ۔اور بعضوں نے کہا کہ جائز ہیں ۔اور بناء کے ماضی کو تاکہ سستی کی وجہہے زحرنہ ہو ۔اور اگر قضاکی بعض فوت شدہ نمازوں کی حتی کہ تھوڑی رہ گئیں جو باقی ہیں تو ترتیب سے پڑھے بعضوں کے نزدیک اور یہ چیز واضح ہے یہ کہ روایت ہے امام محمدسے کہ جس نے ایک دن ورات کی نماز کو چھوڑا۔ جس نے عصر کی نماز پڑھی اوراسے یاد ہے کہ اس ظہر کی نما زنہیں پڑھی تو عصر کی نمازفاسدہو گی مگر یہ کہ عصرکی نماز آخری وقت میں پڑھ رہا ہو ۔اور اگرصبح کی نماز پڑھی اس حال میں کہ اسے یا دہے کہ وتر نہیں پڑھے پس تو فجر کی نماز فاسد ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ۔صاحبین کے برعکس اس لیے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک وتر واجب ہے جبکہ صاحبین کے نزدیک سنت ہے ۔ اور فرائض و سنن میں ترتیب نہیں ہے اسی بناء پر جب عشاء کی نما زپڑھی پھر وضو کیا اور سنت اور وتر پڑھے پھر واضح ہو ایہ کہ عشاء کی نماز بغیر وضو کے پڑھی امام ابو حنیفہ کے نزدیک عشاء اور سنت لوٹائے وتر نہ لوٹائے کیونکہ امام صاحب کے نزدیک وتر ایک علیحدہ فرض ہیں ۔اور صاحبین کے نزدیک وتر بھی لوٹائے کیونکہ وہ عشاء کے تابع ہیں ۔
باب الاوقات التی یکرہ فیھا الصلوۃ
لا یجوز عند طلوع الشمس ولاعند قیامھا فی الظھیرۃ ولاعند غروبھا الا عصر یومہ عند الغروب ولا یصلی علی جنازۃ ولا یسجد للتلاوۃ عند غروب الشمس ویکرہ ان یتنفل بعد صلوۃ الفجر حتی تطلع الشمس
مکروہ اوقات
نما ز جائز نہیں ہے طلوع آفتاب کے وقت اور نہ عین دوپہر کے وقت اور نہ غروب آفتاب کے وقت مگر اسی دن کی عصر غروب کے وقت جائز ہے اور غروب آفتا ب کے وقت نماز جنازہ نہ پڑھے اور نہ سجدہ تلاوت کرے اور نفل پڑھنا مکروہ ہے صبح کی نماز کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے
﴿الاوقات﴾اوقات جمع ہے وقت کی ﴿لایجوز﴾ اسی طرح نمازی کے آگے سے گزرنا بھی سخت گناہ ہے :۔ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ ’’قال قال رسول اللہ ﷺ لو یعلم احدکم مالہ فی ان یمربین یدی اخیہ معترضا فی الصلوٰۃ کان لان یقیم مائۃ عام خیر لہ من الخطوۃ التی خطا ‘‘ ( رواہ ابن ماجہ ) ۔وہ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ کہ اگر تم میں سے کوئی ایک یہ جان لے کہ کتنا گناہ ہے اس کے لئے اس حالت میں جبکہ اس کا مسلمان بھائی نماز پڑھ رہا ہو۔ اور یہ اس کے سامنے سے گزرے ۔ وہ قدم جو وہ اٹھاتا ہے اس سے اگر سو برس کھڑا رہے تو بہتر ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺؑ نے اس شخص کو جو نمازی کے آگے سے گزرتا ہے شیطان فرمایا ہے ۔ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت گناہ ہے ۔ بعض باتیں بظاہر بہت چھوٹی چھوٹی نظر آتی ہیں ۔مگر حقیقت میں وہ غلطیاں ہو تی ہیں ۔ اسی قسم کی بے احتیاطیوں سے بڑے بڑے گناہوں کا مرتکب ہو جاتا ہے ۔ نما ز پڑھنے والے کو بھی چاہیے کہ جب نماز کے پڑھنے کیلئے کھڑا ہو تو کو ئی چیز بطور سترہ کے آگے رکھ دیا کر ے ۔ تاکہ گزرنے والا گناہ گار نہ ہو یا ایسی جگہ کھڑا ہو جہاں اس کے آگے سے کوئی گزر نہ سکے سترہ اس شئے کو کہتے ہیں جو نمازی نماز پڑھتے وقت اپنے آگے رکھ لیتا ہے ۔ اس شئے کی لمبائی کم از کم ایک ہاتھ ہو﴿ظہر﴾ یعنی سایہ ڈھل جائے تونماز ہوگی ﴿عصر﴾ حافظو اعلیٰ الصلوات والصلوۃ الوسطٰی چونکہ وسطی عصر کی نما زہے توخصوصی حکم ہو ا اسلئے اس دن کی عصر کی نمازغروب کے نزدیک بھی ادا کی جاسکتی ہے
وبعد صلوۃالعصر حتی تغرب الشمس ولا باس بان یصلی فی ھذین الوقتین الفوائت و یسجد للتلاوۃ و یصلی علی الجنازۃ ولا یصلی رکعتی الطواف فیھما ویکرہ ان یتنفل بعد طلوع الفجر باکثرمن رکعتی الفجر ولا یتنفل قبل الغروب
اور نماز عصر کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے اور ان دونوں اوقات میں فوت شدہ نمازیں پڑھنے اور نماز جنازہ ادا کرنے اور سجدہ تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور ان دو اوقات میں دو رکعت نماز طواف نہ پڑھے ۔ اور طلوع فجر کے بعد فجر کی دو سنتوں سے زیادہ نفل پڑھنا مکروہ ہے اور غروب سے پہلے نفل نہ پرھے ۔
﴿ویکرہ﴾ حدیث میں آتا ہے کہ لاصلوۃ بعد الفجر و بعد العصر ۔یعنی ’’ فجر اور عصر کے بعد کو ئی نما ز نہیں ‘‘ ہمارے اور وہابیوں اہل حدیث کے درمیان اس پر اختلاف ہے ان کے مطابق اگر فجر کی سنتیں رہ جائیں توفرضو ں کے بعد پڑھ سکتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک اسی دن سورج کے سوا نیزہ بلند ہونے کے بعد سائے کے ڈھلنے تک ان سنتوں کی قضاکرسکتا ہے اگر اس وقت میں بھی نہ ادا کیں تو پھر اس کی قضابھی نہیں ۔ان سنتوں کی سائے ڈھلنے تک قضااس لیے ہے کہ امام صاحب کے نزدیک یہ دوسنتیں واجب کی طرح ہیں
باب النوافل والسنن
السنۃ فی الصلوۃ ان یصلی رکعتین بعد طلوع الفجر واربعا قبل الظھر و رکعتین بعدہ واربعا قبل العصر وان شاء رکعتین و رکعتین بعد المغرب واربعا قبل العشاء و اربعا بعدھا وان شاء صلی رکعتین ونوافل النھار ان شاء صلی رکعتین بتسلیمۃ واحدۃ وان شاء اربعا ویکرہ الزیادۃ علی ذلک
نوافل اور سنتو ں کے بیان میں
صبح صادق کے بعد دو رکعت پڑھنا نماز میں سنت ہے اور ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں اور بعد میں دو رکعتیں پڑھنا سنت ہے اور عصر کی نما ز سے پہلے چار رکعتیں اور اگر چاہیے تو دو رکعتیں پڑھنا سنت ہے ۔ اور دو رکعات نما ز مغرب کے بعد اور نماز عشاء سے پہلے چار رکعات اور بعد میں چار رکعات اور اگر چاہے تو دو رکعات پڑھنا سنت ہے ۔ اور دن کے نوافل میں اگر چاہے تو دو رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھے اور اگر چاہے تو چار چار رکعات پڑھے اور اس سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے
﴿نوافل ﴾ نوافل جمع ہے نفل کی جس کے لغوی معنی ’’ زیادتی ‘‘ کے ہیں۔﴿سنن﴾ سنت کی جمع سنن ہے ۔اس کا لغوی معنی طریقہ ،رستہ کے ہیں ۔اور اصطلاح میں وہ کام جن کا صدور حضورنبی پاک ﷺ سے ہوا ۔ جن امور پر حضور نے مداومت ا ختیار فرمائی وہ سنت موکدہ ہیں ۔اور جن پر مداومت اختیار نہیں فرمائی تو وہ سنت’’ غیر موکدہ‘‘ ہیں ۔ بعضوں کے نزدیک جو کام حضور کے سامنے ہو ا یا حضور کو خبر ہو ئی اور حضور نے سکوت اختیار فرمایا تو وہ بھی سنت ہیں۔
﴿ظہر﴾ ظہر کی نما زسے پہلے چار رکعتیں اور ظہر و مغرب کے بعد دورکعتیں سنت موکدہ ہیں۔
﴿قبل العصر﴾نما زعصرسے پہلے والی چار رکعتیں چونکہ غیر موکدہ ہیں اس لیے اختیار دیا چاہے پڑھے ،چاہے دو پڑھے ،ان سنتوں کو سنت زواہد بھی کہتے ہیں ۔﴿نوافل النھار﴾چاشت کے نوافل ۔یا دن میں پڑھے جانے نوافل ۔
واما نافلۃ اللیل فقال ابوحنیفۃ ان صلی ثمانی رکعات بتسلیمۃ واحدۃ جاز ویکرہ الزیادۃ علی ذلک وقال ابو یوسف ومحمد لایزید فی اللیل علی رکعتین بتسلیمۃ واحدۃ والقراء ۃ فی الفرائض واجبۃ فی الرکعتین الاولیین وھو مخیر فی الاخریین ان شاء قرء وان شاء سبح وان شاء سکت والقراء ۃ افضل والقراء ۃ واجبۃ فی جمیع رکعات النفل والوتر
اور امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ رات کے نوافل میں ایک سلام کے ساتھ آٹھ رکعات پڑھنا جائز ہے ۔ اور اس سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے ۔ امام ابو یوسف و امام محمد فرماتے ہیں کہ رات میں ایک سلام کے ساتھ دو رکعات سے زیادہ نہ پڑھے اور فرض کی پہلی دو رکعات میں قرات واجب ہے اور آخری دو رکعات میں اختیار رکھتا ہے اگر چاہے تو قرات کرے اور اگر چاہے تو تسبیح پڑھے اور چاہے تو خاموش رہے اور قرات بہتر ہے۔نفل اور وتر کی تمام رکعتوں میں قرات واجب ۔
ومن دخل فی صلوۃ النفل ثم افسدھا قضاھا فان صلی اربع رکعات وقد قعد فی الاولیین ثم افسد الاخریین قضی رکعتین ویجوز ان یتنفل قاعدا مع القدرۃ علی القیام وان افتتحھا قائما ثم قعد من غیر عذر جاز عند ابی حنیفۃ وقالا لایجوز الا من عذر ومن کان خارج المصر یتنفل علی الدابۃ الی ای جھۃ توجھت دابتہ یؤمی ایماء
اور جس نے نفل نما ز شروع کی پھر اسے توڑ دیا تو اس کی قضا کرے ۔ پس اگر چار رکعتیں پڑھیں اور پہلی دو رکعتوں میں بیٹھا پھر آخری دو رکعتیں فاسد کردیں تو ان دو رکعتوں کی قضا کرے اور بیٹھ کر نفل پڑھنا جائز ہے اگر چہ قیام کی قدرت رکھتا ہو ۔ اور اگر کھڑے ہو کر نفل کی ابتدا کی پھر بغیر عذر بیٹھ گیا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے اور صاحبین فرماتے ہیں کہ بغیر عذر جائز نہیں ہے ۔ اور جو شخص شہر سے باہر ہو تو اشارہ سے سواری پر نماز پڑھے جس طرف بھی اس کی سواری کا رخ ہو ۔
﴿قیام﴾قرات ایک لمبی آیت جو کہ تین آیتوں کے برابر ہو ۔ یا تین چھوٹی آتیں ۔
﴿قضی﴾یہ اس لیے کہ نفل تو دو دو رکعات ہیں اس لیے اگر آخری دونفلوں میں فسد ہو ا تو آخری دو کی ہی قضا کرے گا ۔اور دوسرا یہ کہ چار رکعات نفل میں دوسری رکعت کے بعد قعدہ اولی میں تشہد دعا تک پڑھا جاتا ہے۔
﴿قعد﴾جیسے تراویح میں۔
باب سجود السھو
سجودالسھو یلزم فی الزیادۃ والنقصان بعد السلام سجد سجدتین ثم تشھد ویسلم
سجدہ سہو
سہو کے سجدے زیادتی یا کمی کی صورت میں سلام کے بعد لازم ہو جاتے ہیں ۔ پھر تشہد پڑھ کے سلام پھیر دے ۔
﴿السہو﴾سہو کے معنی ہے ’’ بھول ‘‘ اصطلاح میں نماز کے اندر جو چیز بھول جائے اس کا کفارہ ہے ۔ مگر یہ ترک واجب پر ہے ۔ ترک فرض یا سنت پرنہیں ۔ ترک واجب ، تاخیر واجب ان واجبوں میں سے ہے جو کہ نماز میں بیان کئے گئے ہیں ۔ تاخیر فرض ان فرضوں میں سے بشرطیکہ سہواً ہو ں اور بھول کر ہوں تو سجدہ سہو ضروری ہو گا اور ترک واجب تا خیر واجب اور تا خیر فرض قصداً ہو ں تو سجدہ سہو سے جبر نہ ہوگا ۔ اس وقت عادہ نماز کا کرے ( عالمگیری ) ۔ نماز میں انیس واجبات ہیں (۱ ) فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں کو قراء ت کیلے معین کرنا (۲) سورہ فاتحہ کا پڑھنا ( ۳) سورہ فاتحہ کو قراء ت قرآن سے پہلے پڑھنا (۴) پوری سورہ فاتحہ کا ایک دفعہ پڑھنا (ّ۵) فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب اور سنت کی سب رکعتوں میں سورۃ کا ملانا ( ۶) دو سجدوں کے درمیان ترتیب ( ۷) قومہ (۸) جلسہ (۹) تعدیل ارکان یعنی اعضاء کا ساکن کرنا ( ۱۰) مقدار سبحان اللہ کہنے کے رکوع ، سجود ، قومہ اور جلسے میں ( ۱۱) امام کو جہری نمازوں مثلا فجر ، مغرب ، عشاء ، جمعہ ، عیدین ، تراویح اور رمضان کے وتر میں پکار کر پڑھنا ( ۱۲) دوسری نمازوں مثلا ظہر ، عصر میں آہستہ پڑھنا ( ۱۳) تین یا چار رکعت والی نماز میں خواہ نفل ہی ہو پہلا قعدہ تشہد کا پڑھنا ( ۱۴) دونوں قعدوں یعنی اول و آخرمیں التحیات پڑھنا ( ۱۵) لفظ سلام کے ساتھ نماز سے نکلنا (۱۶) تکبیر قنوت ( ۱۷) قراء ت ،قنوت ،تکبیرات ،عیدین، مقتدی کا قراء ت سے چپ رہنا ( ۱۸) امام کی تابعداری مقتدی کوکرنا (۹ ۱ ) سجدہ تلاوت ، تکبیرتحریمہ میں اللہ اکبر کہنا( کبیری ، شامی )۔
﴿سلام ﴾یہاں صرف ’’سلام ‘‘ واحد کا صیغہ استعمال ہو ا اس لیے ایک سلام کے بعد سجد ہ سہوکرے گا ۔
﴿سجد﴾اللہ کی عبادت کی غرض سے سات ہڈیوں پر اللہ کے آگے جھکنااوراس کی تسبیح بیان کرنا ﴿تشھد﴾بعض افراد تشہد کے بعد درود اور دعا ئیں پڑھتے یہ ناجائز ہے۔
و سجود السھو یلزم اذا زاد فی صلوتہ فعلا من جنسھا لیس منھا او ترک فعلا مسنونا او ترک قراء ۃ فاتحۃ الکتاب اوالقنوت او التشھد او تکبیرات العیدین او جھر الامام فیما یخافت اوخافت فیما یجھر وسھو الامام یوجب علی الامام والمؤتم السجدۃ فان لم یسجد الامام لم یسجد الموتم وان سھی الموتم لم یلزم الامام ولا الموتم السجدۃ
اور سہو کے سجدے اس وقت لازم ہوتے ہیں جب نماز میں ایسا فعل زیادہ کرے جو جنس نماز سے ہوتے ہوئے نماز میں داخل نہ ہو یا جب کوئی مسنون فعل چھوڑ دے یا جب الحمد پڑھنا چھوڑ دے یا قنوت نہیں پڑھتا یا تشہد نہیں پڑھتا یا عید کی تکبیرات چھوڑ دے یا امام خفی نماز میں بلند آواز سے اور جہری نماز میں آہستہ آواز سے قرات کرلے اور امام کی بھول امام اور مقتدی دونو ں پر سجدہ کو واجب کرتی ہے پس اگر امام نے سجدہ نہ کیا تو مقتدی بھی سجدہ نہ کرے اور اگر مقتدی بھول گیا تو امام اور مقتدی دونوں پر سجدہ لازم نہیں ہوتا ۔
﴿جنسھا لیس منھا﴾جیسے قعدہ اولی چھوڑ کرقیام کرتاہے اب قیام جنس نماز سے ہے لیکن اس مقام پر نماز میں نہیں ۔اور اگر ایساکام کیا جو جنس نماز سے ہی نہیں تونماز ٹوٹ جاتی ہے ۔
﴿یجھروسھو﴾جیسے ظہر و عصر کی نمازوں میں۔
وان سھی عن القعدۃ الاولی فقام الی الثالثۃ ثم تذکر وھوالی حال القعود اقرب عاد فجلس وتشھد وان کان الی حال القیام اقرب لم یعد وسجد للسھو وان سھی عن العقدۃ الاخیرۃ فقام الی الخامسۃ ثم تذکر رجع الی القعدۃ مالم یسجد فی الخامسۃ والغی الخامسۃ وسجد للسھو وان قید الخامسۃ بسجدۃ بطل فرضہ وتحولت صلوتہ نفلا وکان علیہ ان یضم الیھا رکعۃ سادسۃ
اور اگر پہلے قعدہ کو بھول کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا پھر اس حال میں اسے یاد آیا کہ وہ بیٹھنے کی حالت کے زیادہ نزدیک ہے تو لوٹ جائے اور بیٹھ کر تشہد پڑھے اور اگر کھڑے ہونے کی حالت زیادہ نزدیک ہے تو نہ لوٹے اور سجدہ سہو کرلے ۔ اور اگر آخری قعدہ بھول کر پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا پھر اسے یاد آئے تو قعدہ کی طرف لوٹ آئے جب تک کہ پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو اور پانچویں رکعت کوچھوڑ دے اور سجدہ سہو کرے ۔اوراگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا تو اس کا فرض باطل ہو گیا ۔اوراس کی نماز نفل ہو گئی اب اس رکعت کے ساتھ چھٹی رکعت ملا نا اس پر لازم ہے ۔
﴿القعود﴾فقہافرماتے ہیں کہ پنڈلی اور ران کے درمیان اگر خلا پیدا نہ ہو ا ہو تو بیٹھ جائے ۔
وان قعد فی الرابعۃ قدر التشھد ثم قام ولم یسلم بظنھا القعدۃ الاولی ثم تذکرھا عاد الی القعدۃ مالم یسجد فی الخامسۃ و یسلم ویسجدللسہو وان قید الخامسۃ بالسجدۃ ضم الیھا رکعۃ اخری وقد تمت صلوتہ والرکعتان لہ نافلۃ ومن شک فی صلوتہ ولم یدرا ثلاثا صلی ام اربعا فان کان لہ شک عرض لہ اولا استانف الصلوۃ و ان کان الشک یعرض لہ کثیرا یبنی علی غالب ظنہ ان کان لہ ظن فان لم یکن لہ ظن بنی علی الیقین وھو الاقل
اور اگر چوتھی رکعت میں تشہد کے برابر بیٹھ کر کھڑا ہو گیا اور سلام نہیں پھیرا اپنے اس گمان پر کہ یہ قعدہ اولیٰ ہے پھر اسے یا د آجائے کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں تو قعدہ کی طرف آئے جب تک کہ پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو اور سلام پھیر دے اورسجدہ سہو کرے اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا تو اس کے ساتھ دوسری رکعت کو ملائے اس طرح اس کی نماز پوری ہو گئی اور یہ دو رکعتیں اس کے لیے نفل ہو گئیں ۔ اور جس کو نماز میں شک ہو جائے اور نہیں جانتا کہ تین رکعات پڑھیں یا چار پس اگر پہلی مرتبہ شک ہو ا تو ازسر نو نماز پڑھے ۔ اور اگر اکثر شک ہو تا ہے تو اپنے غالب گمان پر بنا ء کرے اگر اس کو غالب گمان ہو پس اگر اس کو غالب گمان نہ ہو تو یقین پر بناء کرے اوریہ کم رکعتوں کے لینے میں ہے ۔یعنی اسے شک ہوا کہ تین رکعتیں پڑھی یا چار تو تین یقینی ہیں ۔اس لئے ایک اور ساتھ ملا دے ۔
﴿الاقل﴾یعنی تین اور چار میں شک ہو ان میں اقل ( کم ) پر یقین ہوتا ہے اور وہ ہے تین
باب صلوۃالمریض
اذاتعذر علی المریض القیام صلی قاعدا یرکع ویسجد فان لم یستطع الرکوع والسجود یومی ایماء وجعل السجود اخفض من الرکوع ولا یرفع الی وجھہ شیء یسجد علیہ فان لم یستطع القعود استلقی علی ظھرہ و جعل رجلیہ نحوالقبلۃ و اومی بالرکوع والسجود فان لم یستطع الاستلقاء اضطجع علی جنبہ الایمن ووجہہ الی القبلۃ
بیمار کی نماز
جب مریض پر قیام کرنا مشکل ہو جائے تو بیٹھ کر رکوع اور سجود کرتے ہوئے نماز پڑھے اور اگر سجدے اور رکوع کی استطاعت نہیں رکھتا تو اشارہ سے پڑھے ۔ اور سجدے کو رکوع سے زیادہ پست کرے ۔ اور اس کے چہرے کی طرف کوئی چیز بلند نہ کی جائے کہ جس پر وہ سجدہ کرے اور اگر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اپنی پیٹھ کے بل لیٹ جائے اور دونوں پاؤں قبلہ کی طرف رکھے اور اشارہ سے رکوع و سجود کرے اور اگر دائیں پہلو کے بل لیٹ جائے اور قبلہ کی طرف منہ کرلے
﴿مریض ﴾بمعنی بیماری والا۔
﴿تعذر﴾ شدیدبیماری ہے جیسے بخار ہو کر جس میں قیام یعنی کھڑا نہیں ہو سکتا ۔
﴿ولایرفع﴾ اورنہ تکیہ سر کی طرف اٹھائے ﴿لم یستطع﴾اگر مریض کھڑا ہوکرنماز پڑھنے سے معذور ہویا قیام کرنے سے مرض کی زیادتی کا یا دیر میں اچھا ہونے کا اندیشہ ہوتو بیٹھ کرنما زپڑھ لے ،ٹیک لگا کر کھڑا ہونا ضروری نہیں اور اگر رکوع وسجدہ کرنے سے بھی معذورہوجائے تو بیٹھ کراشارہ سے نما زپڑھئے ۔اور رکوع کی نسبت سجدہ کے لئے سر زیادہ جھکائے۔ اور اگر بیٹھنا بھی مشکل ہوجائے تو قبلہ رخ لیٹ کر اشارہ سے نماز پڑھے ۔
واومی ایماء براسہ جاز فان لم یستطع الایماء براسہ اخر صلوتہ ولا یومی بعینیہ ولا بحاجبیہ ولا بقلبہ فان قدر علی القیام ولم یقدر علی الرکوع والسجود لم یلزمہ القیام وجازلہ ان یصلی قاعدا یومی ایما ء عند ابی حنیفۃ فان صلی الصحیح بعض صلوتہ قائما ثم حدث بہ مرض اتمھا قاعدا برکوع وسجود وان لم یستطع الرکوع والسجود یومی ایماء اویصلی مستلقیا ان لم یقدر علی القعود
اور اپنے سر کے ساتھ اشارہ کرے تو جائز ہے اور اگر سر کے ساتھ اشارہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو نماز کو موخر کرے اور اپنی دونوں آنکھوں سے اشارہ نہ کرے اور نہ بھنوؤں سے اور نہ دل سے اشارہ کرے ۔ پس اگر قیام پر قدرت رکھتا ہو لیکن رکوع وسجود پر قادر نہ ہو تو اس پر قیام کرنا لازم نہیں اور
امام ابو حنیفہ کے نزدیک بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنا اس کے لیے جائز ہے ۔ اگر تندرست نے اپنی کچھ نماز کھڑے ہو کر پڑھی پھر کوئی مرض پیدا ہو گیا تو بیٹھ کر رکوع و سجو د کے ساتھ نماز پوری کرے اور اگر رکوع وسجود کی طاقت نہیں رکھتا تو اشارہ سے ادا کرے ۔ اگر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو پیٹھ کے بل لیٹ کر نما ز پڑھے
ومن صلی قاعدا یرکع و یسجد لمرض ثم صح بنی علی صلوتہ قائما عند ابی حنیفۃ وابی یوسف وقال محمد استأنف الصلوۃ وان صلی بعض صلوتہ بایماء ثم قدر علی الرکوع والسجود استأنف الصلوۃ بالاتفاق ومن اغمی علیہ خمس صلوات فما دونھا قضاھا اذا صح فان فاتتہ بالاغماء اکثر من ذلک لم یقض
اور جو شخص مرض کی وجہسے بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھتا ہو پھر تندرست ہو جائے تو
امام ابو حنیفہ و ابو یوسف کے نزدیک کھڑے ہو کر اپنی نماز پوری کرلے ۔ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ ازسر نو نماز پڑھے ۔ اور اگر اپنی کچھ نماز اشارہ سے ادا کی پھر رکوع و سجود پر قادر ہو گیا تو بالاتفاق ازسر نو نماز پڑھے ۔ ا ور جس شخص پر پانچ نمازوں تک یا اس سے کم تک بے ہوشی طاری ہوگئی تو تندرست ہو جانے پر ان کی قضا کرلے اور اگر بے ہوشی کی حالت میں پانچ سے زیادہ نمازیں فوت ہو جائیں تو ان کی قضا نہ کرے ۔
﴿بالاتفاق﴾اما م ابو حنیفہ ،امام ابو یوسف اورامام محمد اس پر متفق ہیں ۔
باب سجود التلاوۃ
سجود التلاوۃ فی القران اربع عشرسجدۃ فی اخر الاعراف وفی الرعد والنحل وبنی اسرائیل و مریم والاولی فی الحج والفرقان والنمل والم تنزیل وص و حم السجدۃ والنجم واذا السماء انشقت و اقرء باسم ربک فالسجود واجب فی ھذہ المواضع کلہا علی التالی و السامع سواء قصد سماع القران او لم یقصد
سجودتلاوت
تلاوت کے سجدے قرآن مجید میں چودہ سجدے ہیں ۔ سورۃ اعراف کے آخر میں اور سورۃ رعد ، نحل ، بنی اسرائیل ،مریم میں اور سورۃ حج میں پہلا سجدہ اور سورۃ فرقان ،نمل ، الم تنزیل، صٓ، حمٓ السجدہ ، النجم اور اذالسمآء الشقت اور اقراء باسم ربک میں ۔ پس یہ سجدہ ان تمام مقامات پر پڑھنے والے اور سننے والے پر واجب ہے خواہ قرآن سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیا ہو
﴿التلاوۃ﴾تلاوت کے لغوی معنی پڑھنے کے ہیں اور اصطلاح میں قرآن مجید کے پڑھنے کو کہتے ہیں ہمارے یعنی احناف کے نزدیک چودہ سجدے ہیں اورامام شافعی کے نزدیک پندرہ سجدے ہیں ۔
﴿لم یقصد﴾ بغیرقصدکے جیسے لاؤڈسپیکر میں قرآن پڑھا جائے تو گھر بیٹھے ہوئے لوگوں پر بھی سجدہ واجب ہو جائے گا ۔
واذا تلی الامام ایۃ السجدۃ سجدھا و سجد الماموم معہ فان لم یسجد
الامام لم یسجد الماموم وان تلی المأموم لم یسجد الامام ولا الماموم
وان سمعوا وھم فی الصلوۃ ایۃ سجدۃ من رجل لیس معھم فی الصلوۃ لم یسجدوھا فی الصلوۃ و سجدوھا بعد الصلوۃ فان سجدوھا فی الصلوۃ لم یجزھم ولم تفسد صلوتھم واعادوھا بعد الفراغ من الصلوۃ
اور جب امام سجدے کی آیت پڑھے تو اس آیت کا سجدہ ادا کرے اور مقتدی بھی اس کے ہمراہ سجدہ کرے اور اگر امام نے سجدہ نہیں کیا تو مقتدی بھی سجدہ نہ کرے ۔ اور اگر مقتدی نے آیت سجدہ پڑھی تو امام اور مقتدی دونوں سجدہ نہ کریں اور اگر انھوں نے حالتِ نماز میں ایسے آدمی سے آیت سجدہ سنی جو ان کے ساتھ نماز میں شامل نہیں تو نماز میں اس کا سجدہ ادا نہ کریں ۔نماز کے بعد سجدہ ادا کریں ۔ اگر انھوں نے نماز میں سجدہ اد ا کیا تو ان کے لیے جائز نہیں لیکن ان کی نما ز فاسد نہیں ہوتی اور نماز سے فارغ ہو کر سجدہ کا اعادہ کریں ۔
﴿سمعوا﴾سمع سمعا۔ سمعوا یہاں ’’الف‘‘ جمع کے صیفے کو ظاہر کرتی ہے یعنی سننے والے بھی اور پڑھنے والے کے حکم میں ہے ﴿بعد الفراغ﴾سجدہ تلاوت وقت معین پر واجب نہیں ہے ۔یعنی ایک جگہ آیت سجدہ پڑھی تو اب وہیں کرنا واجب نہیں بلکہ گھر میں آکر سجدہ کرسکتاہے
ومن تلی ایۃ سجدۃ قبل الصلوۃ فلم یسجدھا حتی دخل فی الصلوۃ فتلاھا فی الصلوۃ وسجد لھمااجزتہ السجدۃ عن التلاوتین وان تلاھا فی غیر الصلوۃ فسجدھا ثم دخل فی الصلوۃ فتلاھا ثانیا سجدہا ثانیاولم تجزہ السجدۃ الاولی عن الثانیۃ ومن کررایۃ سجدۃ واحدۃ فی مجلس واحد یلزم سجدۃ واحدۃ ومن اراد السجود کبروسجد ولم یرفع یدیہ ثم کبر ورفع راسہ ولا تشھد علیہ ولا سلام ۔
اور جس نے نماز سے پہلے آیت سجدہ تلاوت کی اور سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ نماز میں داخل ہو گیا پس نماز میں اسی آیت سجدہ کی تلاوت کی اور ان دونوں کے لیے سجدہ ادا کیا تو دونوں تلاوتوں کا یہی ایک سجدہ اس کو کافی ہے اور اگر آیت سجدہ نما ز سے باہر پڑھ کر سجدہ کیا پھر نماز میں داخل ہو ا اور دوسری مرتبہ اس آیہ کریمہ کو پڑھا تو اس کے لیے پھر سجدہ کرے دوسری مرتبہ کے لیے پہلا سجدہ کافی نہیں ہے اور جس نے ایک ہی آیت سجدہ کو ایک ہی مجلس میں باربا ر پڑھا تو اس پر ایک سجدہ لازم ہے ۔ اور جو سجدہ کرنے کا ارادہ کرے تو تکبیر کہہ کر سجدہ کرے اور ہاتھ کو نہ اٹھائے ۔پھر تکبیر کہتے ہوئے سراٹھائے اور اس پر نہ تشہد ہے اور نہ سلام ہے
﴿ثانیا﴾اس کے لیے الگ دوسرا سجد ہ کرے گا۔
﴿سجدۃ واحدۃ﴾ایک جگہ پر بیٹھ کرایک ہی آیت سجدہ کئی بار پڑھی تو ان سب کے لیے ایک سجدہ کرے گا اور اگر الگ الگ جگہ پر آیت سجدہ پڑھی توہر ایک کے لیے الگ الگ سجدہ کرے گا بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ رکوع کے اند ر سجدہ تلاوت کی نیت کرنے سے سجدہ تلاوت ادا ہو جاتا ہے ۔
باب صلوۃ المسافر
السفرالذی یتغیربہ الاحکام ھو ان یقصد الانسان موضعا بینہ وبین مقصدہ مسیرۃ ثلثۃ ایام ولیالیھا بسیرالابل او مشی الاقدام سیرا متوسطا ولا یعتبر فی ذلک بالسیر فی الماء وفرض المسافر عندنا فی کل صلوۃ رباعیۃ رکعتان ولا یجوز لہ الزیادۃ علیھما
مسافر کی نماز
جس سفر سے احکا م تبدیل ہو جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ انسان ایسی جگہ کا ارادہ کرے کہ اس کے اور اس کے مقصد کے درمیان اونٹ کی رفتار یا پیدل چلنے کی درمیانی رفتار کے اعتبار سے تین دن اور رات کے سفر کا فاصلہ ہو اور اس میں پانی میں جانے کی رفتار کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔ اور ہمارے نزدیک ہر چار رکعات والی نماز میں دو رکعت مسافر پر فرض ہیں ۔اور مسافر کے لیے اس سے زیادہ جائز نہیں ہے
ّ﴿مسافر﴾ اگر کوئی شخص تین دن کی مسافت پر جو ۵۷۸۳میل بنتے ہیں ، جائے اور پند رہ دن سے کم مدت وہاں ٹھہر نا ہوتوہو مسافر ہے اگر پند رہ دن یا زیادہ کی نیت ہے تو مسافر شمار نہ ہوگا۔
فان صلی اربعا وقد قعد فی الثانیۃ مقدار التشھد اجزء تہ الرکعتان عن فرضہ و کانت الاخریان نافلۃ وان لم یقعد فی الثانیۃ مقدار التشھد وقام الی الثالثۃ و قیدھا بسجدۃ بطلت الفرض وتحولت صلوتہ نفلا عند ابی حنیفۃ وابی یوسف ومن خرج مسافرا صلی رکعتین اذا فارق بیوت مصرہ ولایزال علی حکم السفر حتی ینوی الاقامۃ فی بلدۃ خمسۃ عشر یوما فصاعدا فیلزمہ الاتمام وان نوی الا قامۃ اقل من ذلک لم یتم الصلوۃ وان دخل بلدا ولم ینوان یقیم فیہ خمسۃ عشر یوما
اور اگر چار رکعات پڑھیں اور دوسری رکعت میں تشہد کے برابر بیٹھا تو اس کے فرض کے لیے وہ دو رکعات کافی ہیں ۔ اور آخری دو رکعات نفل ہو جائیں گی ۔ اور اگر دوسری رکعت میں تشہد کے برابر نہیں بیٹھا اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا اور اسے سجدہ کے ساتھ پورا کر لیا تو فرض باطل ہو گیا ۔ اور امام ابوحنیفہ و ابو یوسف کے نزدیک اس کی نماز نفل میں بدل جائے گی ۔ اور جو شخص سفر کی نیت سے نکلا تو دو رکعات پڑھے جب اپنے شہر کے گھر وں سے جدا ہو جائے اور وہ ہمیشہ سفر کے حکم میں ہو گا یہاں تک کہ شہر میں پندرہ دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے پس اس پر پوری نمازپڑھنا لازم ہے ۔ اور اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کی تو پوری نماز نہ پڑھے اور اگر شہر میں داخل ہوا اور پندرہ دن ٹھہرے کی نیت نہیں کی
﴿فارق بیوت﴾یعنی شہر کی چنگی سے نکل جائے تو قصر کرے۔
﴿ولم ینو﴾’’لم‘‘ کے آنے سے ’’ ینوی ‘‘ تبدیل ہوا ’’ینو‘‘ میں۔
و انما یقول غدا اخرج او بعد غد اخرج حتی بقی علی ذلک سنین صلی رکعتین واذا دخل العسکر فی دارالحرب فنووا الاقامۃ فیہ خمسۃعشر یوما لم یتموا الصلوۃ واذا دخل المسافر فی صلوۃ المقیم مع بقاء الوقت اتم الصلوۃ وان دخل معہ فی فائتۃ لم یجز صلوتہ خلفہ واذا صلی المسافر بالمقیمین صلی رکعتین وسلم ثم اتم المقیمون صلوتھم ویستحب لہ اذا سلم ان یقول لھم اتموا صلوتکم فانا قوم مسافرون واذا دخل المسافر فی مصرہ یتم الصلوۃ
سوائے اس کے کہ نہیں کہتا ہے کہ کل نکلوں گا یا پرسوں نکلوں گا یہاں تک کہ کئی سال تک اسی حال پر رہا تو دو رکعات پڑھے اور جب فوج دارالحرب میں داخل ہو اور پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو پوری نماز نہ پڑھیں اور جب مسافر مقیم کی نماز میں داخل ہو وقت باقی رہنے کے باوجود تو نماز کو پورا کرے ۔ اور اگر مسافر مقیم کے ساتھ قضاء نماز میں داخل ہو ا تو اس کی نماز مقیم کے پیچھے جائز نہیں ہے ۔ اور جب مسافر مقیم لوگوں کو نماز پڑھائے تو دو رکعات پڑھے اور سلام پھیر دے پھر مقیم لوگ اپنی نماز پوری کریں ۔ اور امام کے لیے ان کو یہ کہنا کہ اپنی نماز پوری کرلو مستحب ہے پس بے شک ہم مسافر ہیں ۔ اور جب مسافر اپنے شہر میں داخل ہو ا تو نماز پوری کرے
﴿دارالحرب﴾یہاں سے امریکہ ،برطانیہ یا چین وغیرہ چلے گئے تووہ داراالحرب ہے
﴿المسافر﴾یعنی مسافرکو امام بنایا اورمقتدی سارے مقیم ہیں ۔
وان لم ینوالاقامۃ فیہ ومن کان لہ وطن فانتقل عنہ واستوطن غیرہ ثم سافر فدخل فی وطنہ الاول لم یتم الصلوۃ واذا نوی المسافر ان یقیم بمکۃ ومنیٰ خمسۃ عشر یوما لم یتم الصلوۃ ومن فاتتہ صلوۃ فی حال الاقامۃ قضاھا فی السفر اربعاومن فاتتہ صلوۃ فی السفرقضاھا فی الاقامۃ رکعتین والعاصی والمطیع فی السفر والرخصۃ سواء والجمع بین الصلوتین یجوز فعلا ولا یجوز وقتا و یجوز الصلوۃ فی السفینۃ قاعدا علی کل حال عند ابی حنیفۃ وقال ابو یوسف ومحمد لا یجوز مع القد رۃ علی القیام
اگرچہ اس نے اقامت کی نیت نہ کی ہو اور جس شخص کو ایک وطن تھا پس اس جگہ سے نقل مکانی کی اور دوسری جگہ کو وطن بنایا پھر مسافر ہو ا اور اپنے پہلے وطن میں داخل ہو ا تو پوری نماز نہ پڑھے اور جب مسافر نے مکہ اور منیٰ میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کی تو پوری نماز نہ پڑھے اور جس کی نماز حالت اقامت میں فوت ہو جائے تو سفر میں چار رکعات کی قضا کر ے اور جس کی نماز سفر میں فوت ہوجائے تو اقامت میں دو رکعات کی قضا کرے اور گناہگار اور اطاعت گزار سفر اور رخصت میں برابر ہیں ۔ اور دو نماز وں کو اکٹھا کرنا از روئے فعل کے جائز ہے مگر از روئے وقت کے جائز نہیں اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک کشتی میں بیٹھ کر نما ز پڑھنا ہر حالت میں جائز ہے ۔ امام ابو یوسف و امام محمد نے فرمایا قیام کی قدرت رکھتے ہوئے ایسا جائز نہیں ہے ۔
﴿وطن ﴾وطن تین ہیں ’’وطن اصلی ‘‘ جہاں پیدا ہو ا۔وطن اقامت ’’ جہاں پندرہ دن یا زیادہ کی نیت سے اقامت اختیار کی ’’وطن سکنی‘‘جہاں رہتاہے ﴿منیٰ﴾یعنی حکماً جیسے منیٰ میں مغر ب و عشاء کی نما زاکٹھی پڑھتے ہیں
باب صلوۃ الجمعۃ
لایصح الجمعۃ الا فی مصرجامع او فی مصلی المصر ولایجوز فی القری ولا یجوز اقامتھا الا للسلطان او لمن امرہ السلطان ومن شرائطھاالوقت فتصح فی وقت الظھرولا تصح بعدہ ومن شرائطھا الخطبۃ قبل الصلوۃ یخطب الامام خطبتین یفصل بینھما بقعدۃ خفیفۃ ویخطب قائما علی طھارۃ فان اقتصر علی ذکر اللہ جاز عند ابی حنیفۃ
نما ز جمعہ
جمعہ صحیح نہیں مگر شہر جامع یا شہر کی عید گاہ میں اور دیہاتوں میں جائز نہیں ہے اور اس کا قائم کرنا جائز نہیں مگر بادشاہ کے لیے یا اس شخص کے لیے جس کو سلطان حکم دے اور جمعہ کی شرائط میں سے ایک وقت ہے پس ظہر کے وقت میں جمعہ صحیح ہو جاتاہے اور اس کے بعد جائز نہیں ۔ اور جمعہ کی شرائط میں نماز سے پہلے خطبہ ہے ۔ امام دو خطبے پڑھے اور ان دونوں کے درمیان قدرے بیٹھنے سے فرق کرے اور باوضو کھڑے ہو کر خطبہ دے اور اگر اللہ کے ذکر پر اکتفا کیا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے ۔
﴿مصر جامع﴾جامع شہر سے مراد جہاں عدالت ہو حدود قائم ہوں ،ڈاکخانہ اور منڈی ہے ۔﴿السطان﴾جیسے صدرصاحب نے اوقاف کا وزیر مقررکیا ۔تو اب اس کو چاہیے کہ مساجد میں خطیب مقرر کرے ﴿الخطبۃ﴾یعنی صحیح اوردرست ہیں تین دفعہ درود شریف یا قل شریف یا سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیمپڑھ لے بیٹھ کریعنی لا الہ الااللہ تین مرتبہ یا سبحن اللہ والحمد للہ ولاالہ الااللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھے لے تو خطبہ ہو جائے گا ۔
وقالا لابد من ذکر طویل یسمیٰ خطبۃ فی العادۃ وان خطب قاعدا او علی غیر وضوء جاز ویکرہ ومن شرائطھا الجماعۃ واقل الجماعۃ عند ابی حنیفۃ ثلثۃ سوی الامام وقالا اثنان سوی الامام ویجھرالامام بالقراء ۃ فی الرکعتین ولیس فیھما قراء ۃ سورۃ بعینھاولاتجب الجمعۃ علی المسافر ولا علی امرء ۃ ولا علی مریض ولاصبی ولا عبد ولا اعمی فان حضروا و صلوا مع الناس اجزاھم عن فرض الوقت
اور امام ابو یوسف و محمد نے فرمایا کہ ضروری ہے ایسا لمبا ذکر کہ عادت میں جس کو خطبہ کا نام دیا جائے ۔ اور اگر بیٹھ کر یا بغیر وضو کے خطبہ دیا تو جائز ہے مگر مکروہ ہے ۔ اور جمعہ کی شرائط میں سے ایک جماعت ہے ۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک جماعت کے لئے امام کے علاوہ کم از کم تین آدمی ہیں ۔ اور امام ابو یوسف و امام محمد فرماتے ہیں کہ امام کے علاوہ دو آدمی ہیں ۔ اور امام دونوں رکعتوں میں اونچی آواز سے قرات کرے اور دونوں رکعات میں معین سورت کی قرات نہیں ہے اور مسافر ، عورت ، مریض ،بچہ،غلام اور اندھے پر جمعہ واجب نہیں ہے پس اگر وہ حاضر ہوئے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی تو ان کو اس وقت کے فرض کے لیے کافی ہے ۔
﴿ذکرطویل﴾الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ و نستغفرہ و نومن بہ و نتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرورانفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدی اللہ فلامضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولانا محمدا عبدہ ور سولہ ۔یہ خطبہ مسمٰی ہے ۔ اب اس میں قرآن مجید کی تین آیتیں بڑھا دو جیسے نبی پاک ﷺ نے بڑھائیں ۔ایک ’’یا یھا الذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ ‘‘ دوسری’’ یا یھاالناس ․․‘‘ اور تیسری یا یھاالذین آمنوا․․‘‘۔ ہمارے آئمہ کرام نے دو حدیثیں بڑھا دیں کہ النکاح من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منا۔ تواب یہ خطبہ طویل بن گیا﴿ولااعمی﴾ اس میں اختلاف ہے صاحبین فرماتے ہیں اندھے پر واجب نہیں جب کہ اس کو لے جانے والا کوئی نہ ہو اور لے جانے والاہو تو اندھے پر بھی واجب ہی
ویجوز للمسافروالمریض والعبد ان یؤموا فی الجمعۃ ومن صلی الظھر فی منزلہ یوم الجمعۃ قبل صلوۃالامام ولا عذرلہ کرہ ذلک وجازت صلوتہ فان بدا لہ ان یحضر الجمعۃ فتوجہ الیھا والامام فیھا بطلت صلوۃ الظھر عند ابی حنیفۃ بالسعی الیھا وقالا لایبطل حتی یدخل مع الامام و یکرہ ان یصلی المعذورالظھر بالجماعۃ یوم الجمعۃ فی المصر وکذلک اھل السجن
اور مسافر ، بیمار اور غلام کے لیے جمعہ کی امامت کرنا جائز ہے ۔ اور جس نے جمعہ کے دن اپنے گھر میں امام کی نماز سے پہلے ظہر کی نماز پڑھی اور اسے کوئی عذر بھی در پیش نہیں تو اس کا یہ عمل مکروہ ہے لیکن اس کی نماز جائز ہے ۔ پس اگر ظاہر ہوا اس کے لیے جمعہ میں حاضر ہونا پس اس کی طرف متوجہ ہو ا اس حال میں کہ امام نماز میں ہے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کی طرف جلدی جانے سے ظہر باطل ہو گئی۔ اور امام ابو یوسف و امام محمد کے نزدیک باطل نہ ہوئی یہاں تک کہ امام کے ساتھ نماز میں شریک ہو جائے ۔ اور جمعہ کے دن شہر میں معذور کا جماعت کے ساتھ ظہر پڑھنا اور اسی طرح قیدی کا بھی پڑھنا مکروہ ہے ۔
﴿فتوجہ ﴾یعنی دوڑتے ہوئے ﴿بالسعی﴾صاحبین کے نزدیک سعی ظہر سے کم درجہ ہو نے کی وجہ سے ظہر کو پورا ہونے کے بعد نہیں توڑسکے گی ۔اورجمعہ ،ظہر سے بڑھ کرہے پس جمعہ ظہر کو توڑ دے گا مسجد میں داخل ہونے کے ساتھ ۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک سعی ،جمعہ کے لیے خاص ہے ۔پس جب اس نے سعی کی یعنی جمعہ کے لیے جلدی گیا تو اس کی ظہر کی نماز باطل ہو گئی قرآن مجید میں ہے : یا یھاالذین آمنوا اذا نودی للصلوۃ من الیوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ ’’ اے ایمان والو جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو دوڑتے ہوئے آؤ اللہ کے ذکر ( نما زجمعہ ) کی طرف ‘‘﴿المعذور﴾معذور اور قیدی کا جمعہ کے دن جماعت کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔لیکن اگر وہ گاؤں میں ہوں یا قضا ظہر پڑھیں تو جائز ہے ۔
ومن ادرک الامام یوم الجمعۃ صلی معہ ما ادرک وبنی علیہا الجمعۃ وان ادرکہ فی التشھد او فی سجود السہو بنی علیہا الجمعۃ عند ابی حنیفۃ و ابی یوسف وقال محمد ان ادرک معہ اکثر من الرکعۃ الثانیۃ بنی علیھا الجمعۃ وان ادرک اقلھا بنی علیھا الظھر
اور جس نے جمعہ کے دن امام کو پایا تو پڑھے اس کے ساتھ جو پائے اور اس پر جمعہ کی بنا کرے ۔ اور اگرامام کو تشہد یا سجدہ سہومیں پائے تو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک اس پر جمعہ کی بناء کرے ۔ اور امام محمد نے فرمایا کہ اگر امام کے ساتھ دوسری رکعت کا اکثر حصہ پایا تو اس پر جمعہ کی بناء کرے اور اگر اس سے کم حصہ پائے تو اس پر ظہر کی بناء کرے
﴿الرکعۃ الثانیۃ﴾اگر چہ امام کو تشہد میں پائے ۔تو شیخین کے نزدیک دوگانہ جمعہ پورا کرے ۔
﴿ا قلھا ﴾امام محمد کے نزدیک ایک رکعت سے کمتر پائے تو ظہر کی نماز پوری کرے ۔
واذا خرج الامام یوم الجمعۃ للخطبۃ ترک الناس الصلوۃ والکلام حتی یفرغ من خطبتہ وقالا لاباس بان یتکلم مالم یبدء بالخطبۃ واذا اذن المؤذن یوم الجمعۃ الاذان الاول ترک الناس البیع والشراء وتوجھوا الی الجمعۃ واذا صعدالامام المنبرجلس واذن المؤذن بین یدی المنبرثم یخطب الامام فاذا فرغ من خطبتہ اقاموا الصلوۃ
اور جب امام جمعہ کے دن خطبہ کے لیے نکلے تو لوگ نماز اور گفتگو چھوڑ دیں جب تک کہ امام خطبہ سے فارغ ہو جائے ۔اور امام ابو یوسف اور امام محمد نے فرمایا کہ بات کرنے میں حرج نہیں جب تک خطبہ شروع نہ کیاہو۔ اور جب جمعہ کے دن موذن پہلی اذان دے تو لوگ خرید و فروخت چھوڑ دیں اور جمعہ کی طرف متوجہ ہو جائیں اور جب امام منبر پر چڑھ کر بیٹھ جائے تو موذن منبر کے سامنے اذان دے پھر امام خطبہ دے پس جب خطبہ سے فارغ ہو جائے تو لوگ نماز کھڑی کریں۔
باب صلوۃ العیدین
یستحب فی یوم الفطران یطعم الانسان قبل الخروج الی المصلی ویغتسل ویتطیب ویلبس احسن ثیابہ ویخرج صدقۃ الفطر ثم یتوجہ الی المصلی ولا یکبر فی طریق المصلی عند ابی حنیفۃ وعندھما یکبرولایتنفل فی المصلی قبل صلوۃ العید ویتنفل بعدھا فاذا حلت الصلوۃ بارتفاع الشمس دخل وقتھا الی الزوال فاذا زالت الشمس خر ج وقتھا
نماز عید ین
اور چھوٹی عید کے دن عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے کچھ کھانا ،غسل کرنا ، خوشبو لگانا اچھے کپڑے پہننا اور صدقہ فطر دینا مستحب ہے پھر عید گاہ کی طرف متوجہ ہو اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک عیدگاہ کے راستے میں تکبیر نہ کہے اور امام ابو یوسف و امام محمد کے نزدیک تکبیر کہے ۔ اور عید کی نماز سے پہلے عید گاہ میں نفل نہ پڑھے اور جب سورج بلند ہوجائے تو نماز عید کاوقت داخل ہوجاتا ہے۔ اور جب سورج ڈھل جائے تو نماز عید کا وقت نکل جاتاہے
﴿الفطر ﴾فطر کے لغوی معنی توڑنے کے ہیں ۔اصطلاح شریعت میں چھوٹی عید کو کہتے ہیں کیونکہ یہ رمضان کو ختم کرنے والا ہے ﴿ولا یکبر﴾امام ابو حنیفہ کے نزدیک نماز فطر کے لیے جاتے ہوئے اونچی آواز سے تکبیر نہ کہے اور بڑی عید کی نما زکے لیے جاتے ہوئے تکبیر کہے تاکہ دونوں نمازوں میں امتیاز قائم رہے۔
﴿ ارتفاع﴾ارتفاع ، رفع سے ہے یعنی اونچا یا بلند ہو نا ۔یر فع اللہ الدرجات ۔اللہ تعالیٰ درجات بلند فرماتا ہے۔
ویصلی الامام بالناس رکعتین یکبر فی الاولی تکبیرۃ الاحرام وثلثا بعدھا ثم یقرء فاتحۃالکتاب و سورۃ بعدھا ویکبر تکبیرۃ یرکع بھا ثم یبدء فی الرکعۃ الثانیۃ بالقراء ۃ فاذا فرغ منھا کبرثلث تکبیرات ثم کبر الرابعۃ یرکع بھا ویرفع یدیہ فی تکبیرات العیدین ثم یخطب بعد الصلوۃ خطبتین یعلم الناس فیھا صدقۃ الفطر واحکامھا و من فاتتہ صلوۃ العید مع الامام لم یقضھا
اور امام لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائے اور پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ اور اس کے ساتھ تین تکبیریں کہے ۔ پھر سورۃ فاتحہ اور اس کے بعد کوئی سورۃ پڑھے اور تکبیر کہہ کر رکوع کرے پھر دوسری رکعت قرات سے شروع کرے پس جب قرات سے فارغ ہو جائے تو تین تکبیر یں کہے اور چھوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع کرے اور تکبیرات عیدین میں اپنے ہاتھ اٹھائے ۔پھر نماز کے بعد دو خطبے پڑھے جن میں لوگوں کو صدقہ فطر اور اس کے احکام کی تعلیم دے اور جس کی نما ز عید امام کے ساتھ فوت ہو جائے تو اس کی قضا نہ کرے ۔
﴿ویصلی ﴾یعنی عید الفطر اورعیدالاضحی۔
﴿ثم یخطب ﴾نمازجمعہ میں خطبہ ، نماز سے پہلے ہو تاہے جبکہ عید ین کی نماز میں خطبہ بعد میں ہو تا ہے ۔
﴿لم یقضھا ﴾اس لیے کہ اس کا وقت گذر گیا ۔اور نمازعید خاص وقت کے اندر واجب ہوتی ہے ۔
وان غم الھلال علی الناس فشھدوا عند الامام برؤیۃ الھلال بعد الزوال صلی صلوۃ العید من الغد فان حدث عذر منع من الصلوۃ فی الیوم الثانی لم یصلھا بعد ھ ویستحب فی یوم الاضحیٰ ان یغتسل ویتطیب ویلبس احسن ثیابہ ویؤخر الاکل حتی یفرغ من الصلوۃ ثم یتوجہ الی المصلی وھو یکبر جھرا فی الطریق ویصلی الامام بالناس یوم الاضحی رکعتین کصلوۃ الفطر
اور اگر چاند لوگوں سے چھپ جائے اور گواہ زوال کے بعد امام کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دیں تو دوسرے دن عید کی نماز پڑھیں اور اگر ایسا عذر پیدا ہو جائے کہ دوسرے دن نماز پڑھنے سے روک دے تو اس کے بعد نماز عید نہ پڑھیں اور بڑی عید کے دن غسل کرنا ، خوشبو لگانا ۔ اچھے کپڑے پہننا اور کھانا موخر کرنا یہاں تک کہ نما ز سے فارغ ہوجائے مستحب ہے ۔ پھر عید گاہ کی طرف جائے اور راستے میں بلند آواز سے تکبیر کہے ۔اور امام عیدالاضحی کے دن لوگوں کو نماز عید الفطر کی مانند دو رکعتیں پڑھائے
﴿الامام ﴾استاد فرماتے ہیں کہ یہاں ’’امام ‘‘ پر ’’ال ‘‘ آیا ہے یعنی وہ لوگ جو مقرر ہیں قاضی کی طرف سے ہر کسی کے پاس نہیں جاسکتے ﴿بعد الزوال ﴾ساڑھے بارہ بجے کے بعد آئے یعنی ایک بجے ،دوبجے یا تین بجے یا بعد میں تو چونکہ نماز عید کا وقت نکل گیاہے تو اب دوسرے دن نما زعیدپرھیں ﴿فی الاضحیٰ ﴾کیونکہ بڑی عید میں نماز کے بعد قربانی ہوتی ہے
ویخطب بعدھا خطبتین یعلم الناس فیھما الاضحیۃ و احکامھا وتکبیرات التشریق فان حدث عذر منع من الصلوۃ فی یوم الاضحیٰ صلاھا من الغد
و بعد الغد ولا یصلیھا بعد ذلک وتکبیرات التشریق اولھا عقیب صلوۃ الفجر من یوم عرفۃ واخرھا عقیب صلوۃ العصر من یوم النحر عند ابی حنیفۃ وقالا الی صلوۃ العصر من اخر ایام التشریق وتکبیرات التشریق عقیب الصلوات المفروضات بجماعۃ مستحبۃ اللہ اکبر اللہ اکبرلا الہ الا اللہ واللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمد
اور اس کے بعد دو خطبے دے جن میں لوگوں کو قربانی اور اس کے احکام اور تکبیر ات تشریق سکھائے ۔ پس اگر ایسا عذر پیدا ہو جائے کہ بڑی عید کے دن نماز سے روک دے تو دوسرے یا تیسرے دن نماز پڑھے اور اس کے بعد عید کی نماز نہ پڑھے اور ایام تشریق کی تکبیرات کی ابتداء نماز فجر کے بعد یوم عرفہ کے دن سے ہے اور ان کا اختتام قربانی کے دن نماز عصر کے بعد ہے یہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک ہے اور صاحبین نے فرمایا کہ ایام تشریق کے آخری دن کی عصر تک ہے اور تکبیرات تشریق فرض نمازوں کے بعد ہیں کہ جماعت مستحبہ کے ساتھ پڑھی جائیں اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد ۔
﴿الاضحیۃ ﴾یعنی قربانی۔
﴿ایام تشریق ﴾یعنی حج کے دن۹ سے ۱۳ ذی الحجہ تک۔
﴿عقیب﴾یعنی بعد ، پیچھے ۔
باب صلوۃ الکسوف
اذا انکسفت الشمس صلی الامام بالناس رکعتین کھیئۃ النافلۃ فی کل رکعۃ رکوع واحد ویطول القراء ۃ فیھما ویخفی عند ابی حنیفۃ وقالا یجھرالقراء ۃ فیھما ثم یدعو بعدھا
سورج گرہن کی نماز
جب سورج گرہن ہو جائے تو امام لوگو ں کو نفل کی طرح دو رکعات پڑھائے ۔ ہر رکعت میں ایک رکوع ہے اور دونوں رکعتوں میں لمبی قرات کرے ۔اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک آہستہ قرات کرے اور صاحبین فرماتے ہیں کہ ان دو رکعات میں بلند آواز سے قرات کرے ۔ پھر ان کے بعد دعا کرے
﴿الکسوف﴾ کسوف ، کسف سے ہے ۔یعنی قطع کرنا ۔چھپ جانا ،سورج کا ۔دوسرے الفاظ میں سورج گرھن کو کہتے ہیں ۔یعنی سورج گرھن کے وقت کی نماز۔
﴿یطول القراء ۃ﴾یعنی پوری پوری سورت پڑھے۔
﴿ثم یدعوا﴾دعاوقت کے ساتھ مقید نہیں ہے ۔ہر وقت دعا کر سکتے ہیں ۔قرآن مجید میں ہے ۔ اجیب دعوۃ الداع اذا دعان
’’ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے دعا کرنے والے کی جب وہ دعا کرے ‘‘ بعض مقامات ہر وقت مقرر ہو تا ہے جیسے کہ سورج گرھن کی نما زکے بعد۔حضور ﷺ نے فرمایاـ:جب تم ان گھبراہٹ والی چیز وں میں سے کچھ دیکھو تو رغبت کرو اللہ تعالیٰ کی طرف دعا کے ساتھ
حتی تنجلی الشمس ویصلی بالناس الامام الذی یصلی بھم الجمعۃ فان لم یحضر الامام صلی الناس فرادی ولیس فی خسوف القمر جماعۃ وانما یصلی کل واحد بنفسہ ولیس فی الکسوف والخسوف خطبۃ
یہاں تک کہ سورج روشن ہو جائے اور لوگوں کو وہ امام نماز پڑھائے جو ان کو جمعہ کی نماز پڑھاتا ہے ۔ پس اگر امام موجود نہیں تو لوگ تنہا نماز پڑھیں اور چاند گرہن میں جماعت نہیں ہے اور سوائے اس کے نہیں کہ ہر ایک اپنی اپنی نماز پڑھے ۔ سورج گرھن اور چاند گرہن میں خطبہ نہیں ہے ۔
﴿حتی تنجلی﴾اس وقت تک دعا کرنی چاہیے جب تک کہ سورج گرھن ختم ہو جائے اور سورج کھل جائے۔ ﴿الخسوف﴾خسوف ، خسف سے ہے ۔یعنی زمین میں دھنسا دینا ،چھپ جانا چاند کا ۔ بالفاظ دیگر چاند گرھن کو کہتے ہیں ۔
باب صلوۃ الاستسقاء
قال ابو حنیفۃ لیس فی الاستسقاء صلوۃ مسنونۃ بالجماعۃ فان صلی الناس وحدانا جاز و انما الاستسقاء التضرع والدعاء والاستغفار عندہ وقالا یصلی الامام بالناس رکعتین کھیئۃ النافلۃ یجھر فیھا بالقراء ۃ ثم یخطب ویستقبل القبلۃ بالدعاء ویقلب الامام رداء ہ ولا یقلب القوم اردیتھم ولا یحضر اھل الذمۃ فی الاستسقاء
طلب بارش کے لیے نماز
امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ طلب باراں میں جماعت کے ساتھ نماز مسنون نہیں ہے ۔اگر لوگوں نے تنہا نماز پڑھی تو جائز ہے ۔ اور سوائے اس کے نہیں کہ استسقائامام ابو حنیفہ کے نزدیک عاجزی کرنا دعا کرنا اور بخشش طلب کرنا ہے ۔ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ امام لوگوں کو نفل کی طرح دو رکعات پڑھائے اور ا س میں بلند آواز سے قرات کرے اور دعا کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرے اور امام اپنی چادر کو پلٹ دے اور لوگ اپنی چادریں نہ پلٹیں ۔اور ذمی لوگ طلب باراں میں حاضر نہ ہوں
﴿الاستسقاء﴾’’استسقاء ‘‘ باب استفعال سے ہے اور اس کا مادہ ’’ سقی ‘‘ ہے جس کے معنی ہیں ’’بارش‘‘ ۔چونکہ باب استفعال میں کس چیز کی طالب پائی جاتی ہے اس لیے جب ’’سقی ‘‘ اس باب میں آکر ’’ استسقاء‘‘ بنا تو اس کا معنی ہوئے ’’بارش طلب کرنا ‘‘ اسی باب سے ہے ’’استمرار‘‘ یعنی کسی چیز کے ہمیشہ کرنے کی طلب پائی جانا ۔ ’’استخزاج ‘‘ نکالنے یا نکلنے کی طلب کرنا
﴿رداء﴾جیسا کہ حضور پاک ﷺسے روایت ہے کہ اگر کپڑا مربعہ یعنی چارکونوں والا ہو تو اسے پلٹ دے گا۔
﴿الذمی﴾اھل ذمہ یعنی ہندو، عیسائی ، یہودی ،سکھ ، پارسی ،قادیانی وغیرہ جواسلامی ملک کے باشندے ہوں ۔
باب قیام شھر رمضان
یستحب ان یجمع الناس فی شھر رمضان بعد العشاء فیصلی بھم الامام خمس ترویحات فی کل ترویحۃ تسلیمتان ویجلس بین کل ترویحتین مقدار ترویحۃ ثم یوتربھم ولا یصلی الوتر بجماعۃ فی غیر شھر رمضان
ماہ رمضان میں قیام کرنے کے بیان میں
رمضان کے مہینے میں عشاء کے بعد لوگو ں کا جمع ہونا مستحب ہے پس امام ان کو پانچ ترویح پڑھائے ہر اک ترویحہ میں دو سلام ہیں ۔ اور ہر دو ترویحوں کے درمیان ایک ترویحہ کی مقدار کے برابر بیٹھے ۔ پھر امام ان کو وتر پڑھائے اور بغیر ماہ رمضان کے جماعت کے ساتھ وتر نہ پڑھیں ۔
﴿شھر﴾شَھرکا معنی مہینہ یا ماہ ہے ۔
﴿رمضان﴾رمضان ، رمض سے نکلاہے جس کے معنی ’’جلا دینے ‘‘ کے ہیں ۔رمضان میں مسلمانوں کے گناہ جل جاتے ہیں ۔ دھوپ میں پڑے ہوئے انتہائی گرم پتھر پر جب پانی ڈالاجاتاہے تو ایک خاص آواز آتی ہے جس کو ’’ رمض ‘‘ کہتے ہیں ۔
﴿الامام﴾اکثر رمضان المبارک میں لوگ داڑھی منڈے حافظ قرآن یا(نابالغ بچہ) کوامام بنالیتے ہیں ۔لہذا اس مسئلہ کی وضاحت نہایت ضروری ہے۔ داڑھی منڈے امام یا حافظ کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ
کتاب الآثار باب صفۃ الشعر من الوجہ صفحہ ۱۵۱ مطبوعہ انوار محمدی پریس لکھنؤ بھا رت
’’ محمد قال اخبرنا ابو حنیفۃ عن الھیثم عن ابن عمر انہ کان یقبض علی اللحیۃ ثم یقص ما تحت القبضۃ قال محمد وبہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ‘‘ ترجمہ ,, امام محمد رحمت اللہ علیہ ، امام اعظم امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے ، وہ جناب ہیثم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر مٹھی سے زائد حصہ کاٹ دیا کرتے تھے ۔ امام محمد رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارا عمل اسی حکم پر ہے ۔اور حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی ارشاد ہے ،،
مندرجہ بالا عبارت سے واضح ہو گیا کہ احناف کے نزدیک قبضہ ( مٹھی) برابر داڑھی رکھنے پر فتوی ہے ۔لہذا یہ حکم لازمی ہے
در مختار کتاب الصوم باب ما یفسد الصوم وما لایفسد ہ صفحہ ۱۰۱ مطبوعہ کلکتہ میں ہے ۔’’ واما الاخذ منھا وھمی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الر جال فلم یجوزہ احد واخذ کلھا فعل الیھود والھنود ومجوس الاعاجم ‘‘ ترجمہ اور قبضہ سے کم داڑھی کے کترنے کو کسی ایک نے بھی جائز نہیں لکھا جیسا بعض مغربی اور ہیجڑے کرتے ہیں اور ساری داڑھی کا مونڈنا تو یہودیوں ، ہندوؤں اور عجمی مجوسیوں کاکام ہے ،،
طحطاوی میں ہے ؛۔’’والتشبہ بھم حرام ‘‘ اور ان کے ساتھ (یہودیوں ، ہندوؤں اور عجمی مجوسیوں وغیرہ ) مشابہت اختیار کرنی مسلمانوں کے لئے حرام ہے ،،حضرت شخ الہند محدث الکبیر مولانا شاہ عبد الحق صاحب محدث دہلوی رحمت اللہ علیہ اشعہ اللمعات شرح مشکوۃ شریف میں فرماتے ہیں ۔,, حلق کردن لحیہ حرام است وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب است ـــــــــــ،، داڑھی کا مونڈنا حرام ہے اور داڑھی کا بقدر قبضہ ( مٹھی بھر ) رکھنا واجب ہے ,, حضرت محدث دہلوی رحمت اللہ علیہ کے ارشادات کے مطابق ,, ایک قبضہ کے برابر داڑھی رکھنا ،، واجب ہے ۔ بلکہ بعض علماء کرام کے نزدیک تو فرض ہے ۔
جیسا کہ مولانا مولوی شمس الدین ساکن درویش ہری پور ہزارہ ,, داڑھی کی اسلامی حیثیت ،، صفحہ ۶۴ پر تحریر فرماتے ہیں ۔ ,, کہ کم از کم ایک قبضہ داڑھی رکھنی فرض ہے ۔انبیا ء کا اسلام دین ،ملت اور سنت قدیمہ اور فطرت صحیحہ ہے جس کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور از آدم تا ایں دم تمام رسولوں ، نبیوں ،صحابیوں ، تابعیون ،ولیوں ، بزرگوں ، عالموں اور نیک لوگوں نے از اعلی تا ادنیٰ ایک قبضہ داڑھی رکھی اور اسی کو فرض واجب جانا اور اس کے مونڈنے کترانے کو با جماع واتفاق حرام و معصیت و گناہ سمجھا ،، لہذا اس قسم کے واجب ضروری کو ترک کرنا فاسق معلن بننا ہے ۔ ,, فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ گناہ صغیر ہ پر ہمیشگی کرنا فاسق ہونے کا ثبوت ہے ۔ صاحب بحرالرائق فرماتے ہیں ۔’’ ان الا دمان علی الصغیرۃ مفسق‘‘ ترجمہ :۔ یقینا گنا ہ صغیرہ پر مداومت کرنا آدمی کو فاسق بنا دیتا ہے ،، طحطاوی فی بیان الاحق با لا متہ صہ ۱۸۱ مطبوعہ مصر میں فاسق کی تعریف لکھتے ہیں۔’’ وشر عا خروج عن طاعۃ اللہ بار تکاب کبیرۃ‘‘ ترجمہ :۔ یعنی شریعت میں فاسق وہ ہے جو گنا ہ کبیرہ کے ارتکاب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے ،، اور قہستانی سے صاحب طحطاوی نقل کرتے ہیں ۔ ’’ای او اصرار علی صغیرۃ ‘‘
ترجمہ :۔ فسق یا گناہ صغیرہ پر اصرار کرنا ہے ،، چو نکہ داڈھی منڈانا گناہ کبیرہ ہے اس لئے ایسا شخص جو ارتکاب کبیرہ کرتا ہے ۔ اور اس پر طرہ یہ کہ اصرار بھی کرتا ہے تو یہ فاسق مُعلن ہے اورفاسق مُعلن کوامام کیسے بنا یا جا سکتا ہے ۔ نیز بقول قہستانی تو صغیرہ پر اصرار ہی اس کے فاسق ہونے کے لئے کافی ہے چہ جائیکہ ترک واجب کرنا اور پھر حرام پر اصرار میں ایک سوال کے جواب میں کہ ,, داڑھی منڈے شخص کی شہادت قبو ل کی جا ئے یا یہ ،، فرماتے ہیں ،، جب کوئی عورت سرکے بال منڈائے یا کتروائے تو وہ گنہگار اورلعنتی ہو گئی اگرچہ یہ سر منڈایا یا کٹوانا کی اجازت یا حکم سے ہی کیوں نہ ہو ۔
’’ولذ ا یحرم للرجل قطع لحیتہ ‘‘ اور اسی لئے مرد کو بھی داڑھی کٹانا حرام ہے ،، تنقیح الحامدیہ میں ہے :۔
’’فحیث ادمن علی فعل ھذا المحرم یفسق ‘‘ترجمہ :۔ پس جبکہ ایسے صریح حرام پر جو آدمی ہمیشگی کرے وہ فاسق ہو جاتا ہے ،، لہذا فقہائے کرام رحمہم اللہ علیہم اجمعین کے ارشاد کے مطابق داڑھی منڈانے والا اور پھر اس پر مداومت کرنے والا فاسق معلن ہے اعلانیہ فاسق ہے اور ایسے اما م یا حا فظ قرآن کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چائیے ایسا شخص امام نہیں بن سکتا بلکہ ایسا شخص قابل توہین ہے چہ جائیکہ اس کی تعظیم کی جائے اور اس کو عبادت الہی میں یہ عزت کا مقام دیا جا ئے ۔
شامی شریف جلد اول بحث امامہ میں ہے ۔
’’اما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بانہ لا یھتم لا مر دینہ و بان فی تقدیمہ للا ما مۃ تعظیمہ و قد وجب علیھم اھانتہ شرعا ولا یخفی انہ اذا کا ن اعلم من غیرہ لا تزول العلۃ ‘‘ ترجمہ :۔ فاسق کی امامت مکروہ ہونے کی علت ایک تویہ ہے کہ وہ اپنے دینی امور میں لا پر واہی کرتا ہے اہتمام نہیں کرتا ہے ۔ دوسرے اسے امام بنا نے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ وہ فاسق ہونے کی وجہ سے مستحق توہیں ہے اگرچہ وہ فاسق دوسرے مقتدیوں سے زیادہ صاحب علم ہی کیوں نہ ہو ۔ اس لئے کہ علت کراہت تو زائل نہیں ہوتی ۔،، صرف یہی نہیں کہ فاسق عالم کی امامت ناجائز ہے بلکہ اس کو امام بنانے والے گنہگار ہوں گے ۔ کبیری شرح منیہ بحث امامت میں ہے ۔’’ لو قد موافاسقایا ثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریمہ‘‘ ترجمہ:۔ اگر مقتدیوں نے فاسق عالم کو امام بنایا تو وہ گنہگار ہوں گے ۔ اسلئے کہ فاسق امام بنا نا مکروہ تحریمہ ہے ،، ایک بات یہاں پر بہت ہی ضروری یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ ہے اگر فاسق عالم امام کے پیچھے کسی مجبوری سے نماز پڑھنی ہی پڑجائے تو اس نماز کو اپنے وقت میں ہی دوبارہ پڑھے اس لئے کہ وہ مکروہ تحریمہ تھی صاحب درمختا ر بحث قضاء فوائت میں فرماتے ہیں ۔’’کل صلوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تعاد ‘‘ترجمہ :۔ جو نماز کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا دوبارہ پڑھنا لازمی ہے ،، غایۃ الاوطار ترجمہ درمختا ر جلد اول صہ ۳۳۳ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ( بھا رت ) از مولوی خرم علی صاحب میں کافی بحث کے بعد تحریر ہے ۔ ,, جو نماز کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے ا س کا اعادہ لازم ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعادہ خواہ وقت کے اندر ہو یا بعد دونوں صورتوں میں واجب ہے اور یہی قول راحج ہے ،،
مستخلص الحقائق شرح کنز الد قائق ج اول صہ ۲۰۱ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ( بھا رت ) حاشیہ نمبر ۴ کراہت امامت کے ضمن میں تحریر ہے ۔ ’’ وکرہ آہ الکراھۃ فی الفاسق تحریمۃ‘‘ ترجمہ :۔ فاسق کو امام کرنا کراہت تحریم ہے ،، یعنی اگر فاسق امام کے پیچھے نما ز ادا کی گئی تو وہ نماز مکروہ تحریمہ ہے اور مکروہ تحریمی نماز واجب الاعادہ ہے ۔ فتاوی درمختا ر صہ ۷۴ مطبوعہ کلکتہ میں ہے ۔
’’ و فاسق واعمی و نحوہ الا عمش ‘‘اور مکروہ ہے امامت فاسق اوراندھے کی اورمثل اندھے کے ہے وہ شخص جس کو رات اوردن میں کم سُوجھتاہوکذافی النہر، اندھے کی امامت کی کراہت کی بوجہ نہ بچنے نجاست سے ہے صاحب نہر الفائق نے بحث کی راہ سے کہا کہ اس امرمیں کم سُوجھ آدمی بھی ایسا ہی ہے۔’’ الا ان یکون ای غیر الفاسق اعلم القوم فھو اولیٰ‘‘مگر مندر جہ افراد میں سے جو بھی قوم میں زیادہ صاحب علم ہو امامت کے لئے بہتر ہے سوائے فاسق کے اگر وہ قوم میں صاحب علم ہی کیوں نہ ہو ،،
غایۃ الا وطار ترجمہ درمختا ر صہ ۲۶۱ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ (بھا رت) میں مولوی خرم علی صاحب تحریر کرتے ہے ۔
,, فاسق کا استثناء اس لئے کیا کہ با وجود عالم ہونے کے بھی اس کی امامت خالی کراہت سے نہیں کیونکہ امامت میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا مقتدیوں پر اس کی اہانت واجب ہے ۔ مفتی ابو السعود نے کہا کہ اس تعلیل کا مفادیہ ہے کہ امامت فاسق کی مکروہ تحریمی ہے ،، محدثین اور فقہا ء رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عبادتوں سے یہ مسئلہ واضح ہو گیا کہ جو شخص مقدار شرح سے کم داڑھی رکھتا ہے یا ہمیشہ تر شواتا ہے وہ فاسق معلن ہے ۔ ایسے شخص کو امام بنا نا مقتدیوں کے گنہگار ہونے کا سبب ہے اور نماز کے مکروہ تحریمہ ہونے کو باعث جو کہ واجب الاعادہ ہے ۔
فتاو ی رضویہ جلد سوم صہ ۲۱۹۔۲۲۰ پر اعلی حضرت امام اہل سنت مجدد مائتہ حاضرہ مولانا مولوی الشاہ محمد احمد رضا خا ن صاحب فاضل بریلوی رحمت اللہ علیہ ایک استفتاء کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں ۔
مسئلہ:۔ جو شخص داڑھی اپنی مقدار شرح سے کم رکھتا ہے اور ہمیشہ تر شواتا ہے اس کا امام کرنا نما ز میں شرعا کیا حکم رکھتا ہے ۔‘‘ الجواب ’’وہ فاسق معلن ہے اور اسے امام کرنا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نما ز پڑھنی مکروہ تحریمی ۔ غنیہ میں ہے لو قد موا فا سقا یا ثمون الخ ‘‘ اور اسی فتاوی کے صہ ۲۵۴۔۲۵۵ پر تحریر فرماتے ہیں جبکہ آپ سے پوچھا گیا ۔ ,, قاری مکہ معظمہ کا قرات سیکھا ہو ا ور وہاں پر چند سال رہ کر معلمی کیا ہو لیکن داڑھی ترشواتا ہے آیا اس کے پیچھے نما ز پنجگانہ اور جمعہ جائز ہے یا نہ بینوا تو جروا ،،
الجواب ’’ داڑھی تر شوانے والے کو امام بنا نا گنا ہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گنا ہ اور پھیرنی واجب ، مکہ معظمہ میں رہ کر قر ات سیکھنا فاسق کو غیر فاسق نہ کر دے گا ، واللہ تعالیٰ اعلم،، نیز اسی فتاوی کے صہ ۲۷۰ پر ایک استفتاء کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں ,, داڑھی منڈانا فسق ہے اور فسق سے متلبس ہو کر بلا توبہ نماز پڑھنا باعث کراہت نماز ہے جیسے ریشمی کپڑے پہن کر یا صرف پا ئجامہ پہن کر ، اور داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے نما ز ہو جا نا بایں معنی ہے کہ فرض ساقط ہو جائے گا ورنہ گنہگار ہو گا ۔ اسے امام بنا نا گناہ اور اس کے پیچھے نما ز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ، باقی اگر وہ صف اول میں آئے تو اسے ہٹانے کا حکم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ،، مفتی اعظم اہل سنت جنا ب ابو البرکات سید احمد صاحب صدر مدرس دارالعلوم حزب الاحناف لاہور سے مندرجہ ذیل استفتاء کیا گیا جس کو جو اب آنجناب مدظلہ نے تحریر فرمایا ۔
استفتاء کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک مسجد کا مفتی غیر حافظ امام موجود ہے ۔ رمضان شریف میں تراویح میں قرآن پاک سننے کے لئے ایک حافظ مہیا کیا گیا جس کی داڑھی کتری ہو ئی ہے ایسے حافظ کے پیچھے تراویح پڑھنے کا کیا حکم ہے ۔،،
الجواب بلاشبہ داڑھی کترے حافظ فاسق فاجر ہیں ، ان کے پیچھے نما ز خواہ فرض ہو یا سنت تراویح مکروہ تحریمی ہے ۔ اگر بمجبوری ان کے پیچھے پڑھ لی ، یا پڑھنے کے بعد حال کھلا تو نماز پھیرلے اگرچہ وقت جاتا رہا ہو اور مدت گزر چکی ہو ۔ کذافی الشامی داڑھی کترے آدمی سید قاری حافظ عالم فاضل ہونے سے مستحق امامت نہیں ہو سکتے ۔ اگر کسی مسجد میں داڑھی کترا ہے تو وہ مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں چلا جائے ۔ انتہی مختصرا ،، اسی استفتاء کا جواب مفتی اعظم مولانا مولوی مظہر اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ ، خطیب وامام جامع مسجد فتح پوری دہلی (بھارت ) تحریر فرماتے ہیں ۔ بے شک یہ شخص اس فعل کی وجہ سے فاسق ہو گیا ہے اور حسب فتوی کبیری و شامی ایسے شخص کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اگر توبہ نہ کرے۔،، اسی استفتاء پر علمائے دیوبند کے اکابرین میں سے مفتی ہند مولینا مولوی کفا یت اللہ صاحب صدر مدرسہ امینیہ دہلی (بھا ر ت ) جواب تحر یر کرتے ہیں ۔ نما ز تراویح میں کل قرآن شریف سنانا سنت ہے ۔ اور ایک قبضہ سے کتر کر داڑھی کا کم کرنا حرام ہے جس کی وجہ سے وہ داڑھی کترا حافظ فاسق ہو گیا ۔ پس اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے ۔ ایسی صورت میں تراویح متقی امام مسجد کے پیچھے الم تر کیف سے پڑھ لے ، فاسق حافظ کے پیچھے نہ پڑھے ۔،، اسی استفتاء پر مولانا مولوی محمد عبد الحفیظ صاحب مدرس مدرسہ نعمانیہ دہلی (بھارت ) جواب تحریر فرماتے ہیں ۔ ’’بے شک یہ شخص جب تک توبہ نہ کرے فاسق ہے اور اس کے پیچھے تراویح مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہیں ۔
اسی استفتاء پر علماء دیوبند کے اکابر علماء میں سے مشہور مفسر قرآن مولینا مولوی احمد علی صاحب لاہوری تحریر کرتے ہں ۔
اہل محلہ کے ذمہ لازم ہے کہ داڑھی کترے حافظ کو فورا الگ کر دیں اور متشرع حافظ قرآن امام کے پیچھے تراویح پڑھیں ( یہ سب فتاوی ,, داڑھی کی اسلامی حیثیت ،، صفحہ ۸۰ تا ۸۱ سے لئے گئے ہیں ۔ یہ مولوی شمس الدین صاحب ہزاروی کی تالیف ہے )
﴿ترویحہ﴾چار رکعتوں کا ایک ترویحہ ہے ۔پانچ ترویح یعنی بیس رکعات پڑھائے اورہر دورکعت کے بعد سلام پھیر دے ۔اورپر ایک اور بھی وضاحت کرتاچلوں کہ تراویح میں بچہ کی امامت کے مسئلہ پر شمس الائمہ امام سرخسی اپنی کتاب المبسوط جلد اول جزثانی صفحہ ۱۴۹ ’’الفصل الثانی عشر فی امامۃ الصبی فی التراویح‘‘ میں فرماتے ہیں : جوز ھا مشائخ خراسان رحمہم اللہ تعالیٰ ورضی عنہم ولم یجوزھا مشائخ العراق رحمہم اللہ تعالیٰ و رضی اللہ عنہم واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب ۔ترجمہ :۔ خراسان کے مشائخ بچہ کی امامت کو جائز کہتے ہیں اور عراق کے مشائخ اسے ناجائز کہتے ہیں ۔
باب صلوۃالخوف
اذا اشتدالخوف جعل الامام الناس طائفتین طائفۃ الی وجہ العدو وطائفۃ خلفہ فیصلی بھذہ الطائفۃ رکعۃ وسجدتین فاذا رفع راسہ من السجدۃ الثانیۃ مضت ھذہ الطائفۃ الی وجہ العدو وجاء ت تلک الطائفۃ فیصلی بھم الامام رکعۃ وسجدتین وتشھد وسلم ولم یسلموا معہ وذھبوا الی وجہ العدو وجا ئت الطائفۃ الاولی فیصلون و حدانا رکعۃ و سجدتین بغیر قراء ۃ و تشھدوا و سلموا
نما ز خوف
جب خوف شدید ہو جائے تو امام لوگوں کے دو گرہ بنائے ایک گروہ دشمن کے سامنے جائے اور ایک گروہ پیچھے رہے پس اس گروہ کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے پس جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھائے تو یہ گروہ دشمن کے سامنے چلا جائے اور دوسرا گروہ آجائے پس امام ان کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے ۔ اور یہ گروہ اس کے ساتھ سلام نہ پھیر ے اور دشمن کے سامنے چلا جائے ۔ پھر پہلا گروہ آئے اور تنہا ایک رکعت اور دو سجدے بغیر قرات کے پڑھے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے
﴿خوف﴾جہاد میں دشمن کا خوف
﴿طائفہ﴾جماعت یاگروہ
﴿العدو﴾دشمن ﴿وحداناً ﴾تنہاتنہا،یا اکیلا اکیلا
ومضوا الی وجہ العدو وجائت تلک الطائفۃ الاخری فصلوا رکعۃ وسجدتین بقراء ۃ وتشھدوا وسلموا فان کان الامام مقیما صلی بالطائفۃ الاولی رکعتین و بالثانیۃ رکعتین ویصلی بالطائفۃ الاولی رکعتین من المغرب و بالثانیۃ رکعۃ واحدۃ ولا یقاتلون فی حال الصلوۃ فان فعلوا ذلک بطلت صلوتھم واذا اشتد الخوف صلوا رکبانا وحدانا یؤمون بالرکوع والسجود الی ای جھۃ شاء وا اذا لم یقدروا علی النزول و علی التوجہ الی القبلۃ
اور دشمن کے سامنے چلے جائیں پھر دوسرا گروہ آجائے اور ایک رکعت اور دو سجدے قرات کے ساتھ پڑھے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے ۔ پس اگر امام مقیم ہو تو پہلے گروہ کے ساتھ اور دوسرے گروہ کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھے اور مغرب کی نماز میں پہلے گروہ کے ساتھ دو رکعتیں اور دوسرے کے ساتھ ایک رکعت پڑھے ۔ اور حالت نماز میں جنگ نہ کریں پس اگر انھوں نے ایسا کیا تو ان کی نماز ٹوٹ جائے گی ۔ جب ڈر شدید ہو جائے تو سواری کی حالت میں تنہا نماز پڑھیں ۔ اور جس طرف بھی چائیں اشارہ کے ساتھ رکوع و سجود کریں جبکہ سواری سے اترنے اور قبلہ کی طرف متوجہ ہونے کی قدرت نہ رکھیں ۔
باب الجنا ئز
اذا احتضر الرجل الموت وجہ الی القبلۃ علی شقہ الایمن ولقن بالشھادتین فاذا مات شد لحیاہ و غمض عیناہ واذا ارادوا غسلہ وضعوہ علی السریر وجعلوا علی عورتہ خرقۃ ونزعوا عنہ ثیابہ و وضؤہ
جنازہ کے بیان
جب آدمی کے مرنے کا وقت آجائے تو دائیں پہلو پر لٹا کر اس کا منہ قبلہ رخ کر دیا جائے اور شہادتین کی تلقین کی جائے ۔ پس جب وہ مر جائے تو اس کی ٹھوڑی باندھ دی جائے اور آنکھیں بند کردی جائیں ۔ اور جب نہلانے کا ارادہ کریں تو اسے تختہ پر رکھیں اور اس کی شر مگاہ پر کپڑا ڈال کر اس کے کپڑے اتارلیں اور اسے وضو کر ائیں
﴿الجنائز﴾ جنا ئز ، جمع ہے جنازہ کی ،جنازہ اس وجود کو کہتے ہیں جس میں روح نہ ہو جیسے ہم میت کہتے ہیں ۔
﴿لقن بالشھادتین﴾اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد ا عبد ہ ورسولہ کا پڑھنا ،تلقین کا یہ مطلب ہے کہ مرنے والے کے پاس جو لوگ ہیں وہ پڑھیں۔ مرنے والے کو پڑھنے کا نہ کہا جائے ۔جب وہاں موجود لوگ پڑھیں گے تو اس کی زبان پر خود بخود شہادتیں جاری ہو جائیں گی ۔دوسری صورت میں اگر مرنے والے کو پڑھنے کا کہا گیا اور اس نے انکار کر دیا تو بے ایمان مرجائے گا،
﴿شد﴾ٹھوڑی کو باندھ دیں تاکہ منہ کھلانہ رہ جائے
﴿غمض﴾غمض ، یغمض ،تغمیضا۔یعنی آنکھیں بند کرنا ۔
﴿نزعوا﴾نزعوا، نزع سے ہے یعنی کھینچ لینا ، اتا رلینا
﴿ثوب﴾کی جمع ثیاب ہے یعنی کپڑے
ولا یمضمض ولا یستنشق عندنا ثم یفیضون الماء علیہ و یجمر سریرہ وترا ویغلی الماء بالسدر او بالحرض فان لم یکن فالما ء القراح ویغسل راسہ ولحیتہ بالخطمی ثم یضجع علی شقہ الایسر فیغسل بماء السدر حتی یری ان الماء قدو صل الی مایلی التحت منہ
اور ہمارے نزدیک اس سے کلی نہ کرائیں اور نہ ناک میں پانی ڈالیں ۔ پھر اس پر پانی بھائیں اور اس کے تختہ کو تین مرتبہ دھونی دیں اور پانی کو بیری کے پتوں یا اشنان کے ساتھ جوش دیں اگر یہ نہ ہوں تو خالص پانی کافی ہے اور گلِ خیرو کے ساتھ اس کے سر اور داڑھی کو دھویا جائے ۔ پھر اس سے بائیں پہلو پر لٹا کر بیری والے پانی سے دھویا جائے یہاں تک کہ دیکھ لیا جائے کہ پانی اس کے نیچے تک پہنچ چکا ہے ۔
﴿ولایستنشق﴾مردے میں سانس نہیں ہوتی اس لیے جب کلی کرائیں گے تو پانی اند ر پھنس جائے گا اوربعض اوقات تالوکی نازک رگیں پھٹ جاتی ہیں اورخون آنا شروع ہو جاتاہے اورناک میں پانی ڈالنے سے ناک کی کمزور رگیں پھٹ سکتی ہیں اور خون آسکتاہے ۔ ﴿یفیضون﴾’’یفیضون ‘‘نکلاہے ’’افاض ‘‘ سے بمعنی بہانا ۔
﴿بالسدار﴾ بیری کے پتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ یہ میل کو کاٹتاہے اورمیت کا جسم جلدی خراب نہیں ہوتا ﴿حرض﴾ ایک قسم کی خوشبو دار گھا س جو پہاڑوں میں اگتی ہے ۔مسجدوں کے فرش پراسے ڈالاجاتاہے ۔
﴿القراح﴾خالص پانی ۔
﴿خطمی﴾ایک قسم کی گھاس ہے،گل خیرو۔
﴿یضجع﴾کروٹ پر لٹایاجائے۔
ثم یضجع علی شقہ الا یمن فیغسل بماء السدر حتی یری ان الماء قد وصل الی مایلی التحت منہ ثم یجلسہ الغاسل ویسندہ الیہ ویمسح بطنہ مسحا رقیقا فان خرج منہ شیء غسلہ ولا یعید غسلہ ثم ینشفہ بثوب ویدرج فی اکفانہ و یجعل الحنوط علی راسہ ولحیتہ والکافور علی مساجدہ
پھر غسل دینے والا اسے اپنے سہارے سے ٹیک دے کر بٹھا ئے ۔ اور اس کے پیٹ کو نرمی سے ملے پس اگر کچھ چیز نکل آئے تو اس کو دھوئے اور دوبارہ غسل نہ دے ۔ پھر کپڑے سے خشک کر کے اسے کفن میں رکھ دیا جائے ۔ اور حنوط کی خوشبو اس کے سر اور داڑھی پر لگائی جائے اور کا فور اس کی سجدہ والی جگہوں پر لگا یا جائے ۔
﴿بطن﴾شکم،پیٹ
﴿رقیقا﴾آہستہ آہستہ ،نرمی کے ساتھ،
﴿اکفان﴾ اکفان جمع ہے کفن کی
﴿حنوط﴾ایک قسم کی خوشبوہے ۔
﴿لیحۃ﴾ڈارھی،
﴿مساجد﴾پیشانی دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ،دونوں گھٹنے ۔اور دونوں پاؤں کا نچلاحصہ
والسنۃ ان یکفن الرجل فی ثلثۃ اثواب ازارو قمیص و لفافۃ فان اقتصروا علی ثوبین جاز فاذا ارادوا لف لفافۃ علیہ ابتدء وا بالجانب الایسر فالقوا علیہ ثم بالایمن فان خافوا ان ینتشر الکفن عنہ عقدوہ بخیط وتکفن المرأۃ فی خمسۃ اثواب لفافۃ و ازارو درع و خمار و خرقہ تربط بھا ثدیاھا فان اقتصروا علی ثلثۃ اثواب جازو ھی اللفافۃ و الازارو الخمار ویکون الخمار فوق القمیص تحت اللفافۃ
اور مر د کو تین کپڑوں تہبند ، قمیص اور لفافہ میں کفن دینا سنت ہے پس اگر دو کپڑوں پر اکتفا کیا جائے تو جائز ہے ۔ پس جب اس پر لفافہ لپیٹنے کو ارادہ کرو تو بائیں جانب سے شروع کرو اور اس پر لفافہ ڈالو پھر دائیں جانب سے لفافہ ڈالو ۔پس اگر میت کو کفن کھل جانے کا اندیشہ ہو تو کفن کو دھاگہ سے باندھ دیں اور عورت کو کفن دیا جائے پا نچ کپڑوں میں لفافہ ، تہبند،کرتہ چادر اور پٹی کہ جس کے ساتھ اس کے دونوں پستانوں کو باندھا جائے ۔ پس اگر تین کپڑوں پر اکتفا کیا توجائز ہے اور وہ لفافہ ، تہبند اور چادر ہیں ۔اور چادر کرتہ کے اوپر اور لفافہ کے نیچے ہوگی
﴿قمیص﴾کفنی ۔
﴿لف﴾لپیٹنا۔
﴿ایسر﴾بائیں ۔
﴿خمار﴾اوڑھنی۔
﴿خرقہ﴾پٹی
﴿تربط﴾ باندھاجائے﴿ازار﴾ تہبند،چادر
و یجعل شعرھا ضفیرتین علی صدرھا ولا یسرج شعرالمیت ولا لحیتہ ولا یقص ظفرہ ولا یقص شعرہ ویجمر الاکفان قبل ان یدرج فیھا وترا فاذا فرغوا منہ صلوا علیہ واولی الناس بالصلوۃ علی المیت السلطان ان حضر فان لم یحضر فنائبہ فان لم یحضر فیستحب تقدیم امام الحی ثم الولی فان صلی علیہ غیر السلطان والولی اعاد الولی فان صلی علیہ الولی لم یجز ان یصلی احد بعدہ
اور اس کے بال دو زلفوں کی صورت میں اس کے سینہ پر رکھے جائیں ۔ میت کے بالوں اور داڑھی میں گنگھی نہ کی جائے ۔ اور اس کے ناخن اور بال نہ کاٹے جائیں ۔اور کفن پر طاق مرتبہ خوشبو لگائی جائے اس سے پہلے کہ اس میں داخل کیا جائے پس جب کفنانے سے فارغ ہو جائیں تو اس پر نماز پڑھو ۔اگر سلطان موجود ہو تو تمام لوگوں سے بڑھ کو وہ نماز جنازہ پڑھانے کا حق رکھتا ہے ۔ پس اگر وہ موجود نہیں تو پھر اس کا نائب حق رکھتا ہے اور اگر وہ بھی موجود نہیں ہے تو محلہ کے امام کو پھر ولی کو آگے کرنا مستحب ہے پس اگر غیر سلطان اور غیر ولی نے نماز پڑھی تو ولی دوبارہ نماز پڑھا سکتاہے پس اگر ولی نے نماز پڑھ لی تو اب ولی کے بعد کسی کا نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ۔
﴿ولایقص﴾جب میت کے بال اور ناخن کا ٹنا منع ہے تو آج کل آنکھوں کی (cornia)نکال لیتے ہیں یہ کیسے جائزہوسکتاہے یہ سنت کے خلاف ہے ۔میت کی کوئی چیز ضائع نہیں کی جائے گی ۔
﴿یجمر﴾جمر۔یجمر،تجمیرا ۔ خوشبو لگانا۔
﴿الولی﴾ولی یعنی جائز وارث جیسے بھائی ،چچا باب ،بیٹا۔
﴿احدبعدہ﴾ اسی بنا ء پر نماز جنا زہ ایک بارہے اور غائبانہ نماز جنازہ بھی نہیں۔
وان دفن ولم یصل علیہ صلی علی قبرہ الی ثلثۃ ایام ولا یصلی بعد ذلک والصلوۃ علی الجنازۃ ار بع تکبیرات فیکبر تکبیرۃ یستفتح بحمد اللہ تعالی وھوان یقول سبحانک اللھم وبحمدک الی اخرہ ثم یکبر تکبیرۃ ویصلی علی النبی علیہ السلام ثم یکبر تکبیرۃ ثالثۃ یدعو فیھا لنفسہ وللمیت وللمسلمین
اور اگر نماز پڑھے بغیر دفن کر دیا گیا تو تین دن تک اس کی قبر پر نماز پڑھی جاسکتی ہے اور اس کے بعد نہ پڑھی جائے ۔ اور نماز پڑھانے والا میت کے سینے کے برابر کھڑا ہوجائے۔ اور نماز جنازہ یہ ہے کہ چار تکبیرات پڑھی جائیں اور ایک تکبیر کہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد سے شروع کرے اور حمدیہ ہے کہ کہے سبحانک اللھم و بحمدک آخر تک پھر ایک تکبیر کہے اور نبی پاک ﷺ پر درود پڑھے ۔ پھر تیسری تکبیر کہے اور اس میں اپنے لیے میت کے لیے اور مسلمانوں کے لیے دعا کرے ۔
﴿یدعو﴾دعاکرے اورمردوں کوثواب پہنچائے ۔
﴿مردوں کو ثواب پہنچنے کا مسئلہ ﴾
(شرح فقہ اکبر) از محدث کبیر فقیہ اعظم علامہ علی بن سلطان محمد القاری المعروف ملا علی قاری رحمت اللہ علیہ صفحہ ۱۵۸ مطبوعہ مجتبائی دہلی ’’ ان دعاء الا حیاء للاموات وصدقتھم عنھم نفع لھم فی علو الدرجات خلا فاللمعتزلۃ‘‘
ترجمہ :۔ یقینا زندہ افراد کا مردوں کیلئے دعا کرنا اور صدقہ دینا ان کے درجات کو بلند کرنے کے واسطے انہیں فائدہ دیتا ہے ۔ مگر ہا ں (فرقہ) معتزلہ اس ( فائدہ کے پہنچنے) کا منکر ہے ۔،،حضرت محدث کبیر علی القاری رحمت اللہ علیہ کا فی بحث کے بعد صفحہ۱۵۹ پر جنا ب امام ہمام امام اعظم رضی اللہ عنہ کا مذہب تحریر فرما تے ہیں ۔
’’وعند ابی حنیفہ رحمت اللہ علیہ واصحابہ یجوز ذالک وثوابہ الی المیت ‘‘
’’اور (حضرت امام اعظم ) ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے (رحہم اللہ علیہم اجمعین) نزدیک جائز ہے اور میت کو اس کا ثواب بھی ‘‘
یعنی قرآن حکیم کا ثواب ، نماز کا ثواب ، روزے کا ثواب ، حج کا ثواب ، ذکر الہی کا ثواب اور دوسری طاعات کا ثواب میت کو پہنچانا اور ان کے لئے صدقہ کرنا جائز ہے ۔ اور صفحہ۱۶۰ پر تحریر فرماتے ہیں کہ اہل کلام میں بدعتی اس کے منکر ہیں ،،
’’ وذھب اھل البدع من اھل الکلام الی عدم وصول شئی لا الدعاء ولا غیرہ‘‘
’’اور اہل کلام میں سے بدعتی اس طرف بہک گئے کہ دعا وغیرہ کسی چیز کا مردوں کو کوئی ثواب نہیں ملتا‘‘
اسی لئے تو یہ آج کل بدعتی مذہب حقہ حنفی کی پیروی ترک کرکے صرف دعا پر بس کرتے ہیں اور دیگر امور جن سے میت کو نفع پہنچتا ہے عذاب قبر میں تخفیف ہوتی ہے، درجات بڑھتے ہیں ، برائیاں نیکیوں سے بدلتی ہیں ، کے کرنے سے منع کرتے ہیں اور سادہ مزاج لوگوں کو اس کار خیر سے روکتے ہیں ۔ حالانکہ حضرت علامہ موصوف اسی صفحہ ۱۶۰ پر تحریر فرماتے ہیں ۔ وقولہ مردود باالکتاب والسنۃ ۔ ’’اور ان کی یہ بات قرآن اور سنت سے رد کی گئی ہے‘‘ یعنی ان کا یہ کہنا قرآن حکیم اور سنت علیہ السلام کے خلاف ہے اس لئے قطعا نا قابل قبول ہے اور یہ بات مردود ہے ۔
غایۃ الاوطار ترجمہ درالمختار کتاب الصلوٰ ۃ الجنازہ جلد۱ ص ۴۲۳ سطر۱۱ مطبوعہ مطبع نامی منشی نول کشور لکھنؤ (بھارت)
’’ویقول السلام علیکم دارقوم مومنین وانا انشاء اللہ بکم لا حقون ویقراء یس و فی الحدیث من قرء الاخلاص احد عشر مرۃ ثم وھب اجرھا للاموات اعطی من الاجر بعد دالاموات ‘‘
’’ اور زیارت کرنے والا قبرستان میں یہ الفاظ کہے السلام علیکم سے لا حقون تک، یعنی سلام ہو تم پر اے ایمان دار قوم کے گھر والو بے شک ہم اگر خدا نے چاہا تو تم سے ملیں گے ، اور سورہ یٰس پڑھے اور حدیث میں ہے کہ جو شخص سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھ کر اس کو ثواب مردوں کو بخش دے تو مردوں کے شمار کے موافق اس کو ثواب دیا جائے گا‘‘ صاحب درالمختار کی اس عبارت سے ثابت ہوا کہ ہم احناف کے نزدیک قرآن حکیم کی تلاوت کا ثواب مردوں کو بخشنا صرف انہی کے لئے نہیں ، بلکہ ثواب پہنچانے والوں کے لئے بھی اجر کا باعت ہے ۔
(ہدایہ باب الحج عن الغیر جلد اول سطر۱۱ مطبع مجتبائی دہلی )
’’ ان الا نسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوۃ او صوما او صدقۃ او غیرھا عند اھل السنۃ والجماعۃ‘‘
’’ انسان اپنے عمل کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچا سکتاہے خواہ نما ز کا ہو یا روزہ کا ہو صدقہ (خیرات) کا ہو یا سوائے ان کے ہو ۔ یہ اہلسنت وجماعت کا مذہب ہے ۔یعنی تلاوت قرآن حکیم اور اذکار کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے ۔ ہدایہ کی اس عبارت کے حاشیہ پر ہے ,, کہ معتزلہ نے تمام قسم کی عبادات کا ثواب مردوں کو پہنچنے کی مخالفت کی ہے ،، نیز صاحب ہدایہ نے اس عقیدہ صحیحہ پر حدیث شریف سے اس طرح دلیل قائم کی ۔
’’ لما روی عن النبی ﷺ انہ ضحی بکبشین املحین احد ھما عن نفسہ والاخر عن امتہ ‘‘
ترجمہ:۔ جیسا کہ حضرت نبی کریم ﷺ سے روایت کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دو مینڈھے سیاہ آنکھوں والے قربانی کئے ایک اپنی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے۔
(مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق صفحہ۵۰۳ حاشیہ ۴ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ،بھارت)
’’اعلم ان الاصل فی الباب ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ عند اھل السنۃ من الصلوۃ والصوم والحج والصدقۃ و التلاوۃ و غیر ھا من جمیع انواع البرویصل ذالک الی المیت وینفعہ و قالت المعتزلۃ لیس شی من ذالک ‘‘
ترجمہ :۔ جان لے کہ اس باب میں اصل یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک انسان اپنے عمل کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچا سکتا ہے ۔ خواہ نماز سے ہو روزے سے ہو ، حج سے ہو ، تلاوت سے ہو ، یا ان کے سوا تمام قسم کی نیکیوں سے ہو ۔ یہ میت کو نفع دیتی ہیں اور معتزلہ کہتے ہیں کہ ان کو (یعنی میت کو ) کسی قسم کا فائدہ نہیں دیتی ہیں ِ،،
( باب الحج عن الغیر فتاوی درالمختار صفحہ ۱۹۲ مطبوعہ مطبع قدوسی )
’’ الاصل ان کل من اتی بعبادۃ مالیۃ جعل ثوابہ لغیرہ وان نواھا عند الفعل لنفسہ بظاھر الادلۃ ‘‘
’’ اصل یہ ہے کہ جو شخص کوئی مالی عبادت کرے جائز ہے کہ اس کا ثواب غیر شخص کے واسطے کردے اگرچہ عبادت کرتے وقت اپنی ذات کے واسطے نیت کی ہو ۔ یہ اصل ثابت ہے دلائل قرآن احادیث کی ظاہر دلالت سے بلا ارتکاب تاویل ‘‘
( باب الحج عن الغیر ترجمہ درالمختار بنام غایۃ الاوطار جلد اول صفحہ۶۰۸ از مولوی خرم علی صاحب بہ تکمیل مولوی محمد احسن صاحب صدیقی نوتوی مطبوعہ نول کشور لکھنؤ (بھارت)
قرآن مجید میں اولاد کو ارشاد ہوا کہ والدین کے واسطے یوں دعا کرے ’’ رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا ‘‘ ’’یعنی اے میرے رب میرے والدین پر رحم کر جیسا کہ انہوں نے مجھ کو لڑکپن میں پالا ‘‘ تو اگر انسان کا عمل دوسرے کو مفید نہ ہوتا تو اولاد کی دعا والدین کے حق میں بے فائدہ ہوتی ۔ حالانکہ یہ غلط ہے اور حق تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ ,, فرشتے مومنین کے واسطے دعائے مغفرت کرتے ہیں ،، تو ثابت ہوا کہ ایک کاعمل دوسرے کو مفید ہوتا ہے ۔ اور احادیث تو نیابت اور ثواب رسانی میں بکثرت ہیں ۔ ازاں جملہ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث متفق علیہ ہے کہ ,, رسول خدا ﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی۔ ایک مینڈھا اپنی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے ،، اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ عبادت مالی میں نیابت صحیح ہے ۔اس حدیث کے مضمون کو ابن ماجہ اور امام احمد بن حنبل رحہم اللہ تعالیٰ نے اور حاکم اور طبرانی اور ابن شیبہ اوراسحق اور ابو یعلی اور بزاز اور دار قطنی نے چند صحابہ سے روایت کیا ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ قدر مشترک یہ حدیث مشہور ہے ، اور دار قطنی نے روایت کی ہے کہ ایک مرد نے رسول خدا ﷺ سے سوال کیا کہ میرے ماں باپ تھے جن سے میں ان کی زندگی میں نیکی کرتا تھا ۔ سو اب کیونکر میں ان کے ساتھ نیکی کروں ۔ تو حضرت ﷺ نے فرمایا کہ بعد موت کے نیکی یہ ہے کہ نماز پڑھا کر ان کے واسطے اپنی نماز کے ساتھ اور روزہ رکھا کر ان کے واسطے اپنے صوم کے ساتھ ،، اور یہ بھی اس نے علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ,, رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ جو قبرستان پر گذرے اور گیارہ بار قل ھو اللہ احد پڑھے اور اس کا ثواب مردوں کو بخشے تو اسکو ثواب دیا جائے گا بقدر اموات کے ،، اور ابو حفص عسکری نے روایت کی کہ ,, حضرت انس نے رسول خدا ﷺ سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم خیرات کرتے ہیں اپنے مردوں کی طرف سے ، اور حج کرتے ہیں ان کی طرف سے اور دعا کرتے ہیں ان کے واسطے ، کیا ان کو یہ پہنچتا ہے ۔ فرمایا کہ ہاں البتہ ان کو پہنچتا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں اس سے جیسے کوئی تم میں خوش ہوتا ہے طبق سے جب کوئی اس کوتحفہ بھیجے ،، اور سنن ابی داؤد میں مروی ہے کہ ,, رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ا پنے مردوں پر یٓس پڑھا کرو ،، تو ان احادیث کثیر ہ سے ثابت ہوا کہ اعمال صالحہ کا ثواب غیر کو نافع ہوتا ہے ۔ ’’ فتح القدیر ‘‘
(مشکوۃ شریف باب صدقۃ المراۃ من مال الزوج پہلی فصل صفحہ ۱۷۲ سطر نمبر ۱۶۔۱۷ مطبوعہ ملک سراج دین لاہور )
عن عائشۃ قالت ان رجلا قال للنبی ﷺ ان امی افتلتت نفسھا واظنھا لو تکلمت تصدقت فھل لھا اجر ان تصدقت عنھا قال نعم ( متفق علیہ )
’’ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ بے شک میری والدہ اچانک فوت ہو گئی اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات کرتی تو صدقہ کرنے کی وصیت کرتی ۔ اگر میں اس کی طرف سے خیرات کروں تو کیا اس کو اس کا ثواب پہنچے گا۔ حضور سید عالم وعالمیان ﷺ نے فرمایا ہاں ۔ ( متفق علیہ)
اس حدیث شریف کے حاشیہ پر صاحب لمعات فرماتے ہیں ۔
’’و فی الحدیث دلیل علی ان ثواب الصدقۃ یصل الی المیت و کذا حکم الدعاء ھذا ھو مذہب اھل الحق ‘‘
ترجمہ :۔ ’’اور اس حدیث شریف میں دلیل ہے کہ میت کو صدقہ (خیرات ) کا ثواب پہنچتا ہے اور دعا کے متعلق بھی یہی حکم ہے ۔ نیز اہل حق کا یہی مذہب ہے ۔،، نیز حضرت شیخ محقق شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی رحمت اللہ علیہ اشعتہ اللمعات جلد دوم صفحہ ۶۹ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ بھارت پر لکھتے ہیں ۔
,, ودریں حدیث دلیل است بر آنکہ ثواب صدقہ میر سد بہ میت وہمچنیں دعا و استغفار برائے میت و مذہب اہل حق کہ اہل سنت و جماعت اند ایں است ،،
ترجمہ :۔ اور یہ حدیث میت کو صدقہ کا ثواب پہنچنے پر دلیل ہے اور میت کے لئے دعا و بخشش طلب کرنے کا بھی یہی حکم ہے اور اہل حق جسے اہل سنت و جماعت کہتے ہیں ان کا یہی مذہب ہے ،،
بخا ری شریف باب اذا قال ارضی او بستانی صدقۃ للہ عن امی فھو جائز وان لم یبین لمن ذلکجلد اول صفحہ ۳۸۶ سطر ۵،۶،۷ نور محمد اصح المطابع دہلی (بھارت )
حدثنا محمد حدثنا مخلد بن یزید اخبرنی ابن جریج اخبر نی یعلی انہ سمع عکرمۃ یقول انبانا ابن عباس ان سعد بن عبادۃ توفیت امہ وھو غائب عنھا فقال یا رسول اللہ ان امی توفیت و انا غائب عنھا اینفعھا شی ان تصدقت بہ عنھا قال نعم قال فانی اشھدک ان حائطی المخراف صدقۃ علیھا ،،
ترجمہ :۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ کی والدہ کا انتقا ل ہو ا تو وہ موجود نہ تھا ۔ اس نے عر ض کیا یا رسول اللہ ﷺ میری والدہ فوت ہوئی اور میں موجود نہ تھا ۔ اگر میں اس کی طرف سے کسی چیز کا صدقہ ( خیرات ) کروں تو کیا اس کو نفع ( فائدہ ) پہنچے گا ۔ شفیق امت پیغمبر اسلام ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ( اس میت کو فائدہ پہنچے گا ) اس نے عرض کیا کہ میں آپ ﷺ کو گواہ بناتا
ہو ں کہ میرا یہ کھجور کا باغ ہے یہ میں اس کی طرف سے صدقہ (خیرات ) کرتا ہوں ،،اس حدیث شریف کے حاشیہ ۵ پر ہے ۔ ’’ وفیہ ان ثواب الصدقۃ عن المیت یصل الی المیت وینفعہ ‘‘ اس حدیث شریف میں ثبوت ہے کہ یقینا صدقہ (خیرات ) کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے اور ان کو نفع ( فائدہ ) پہنچتا ہے
( مشکوۃ شریف باب فضل الصدقۃ دوسری فصل صفحہ ۱۶۹ سطر ۳،۴ مطبوعہ ملک سراج الدین اینڈ سنز لاہور )
’’, عن سعد بن عبادۃ قال قال یا رسول اللہ ان ام سعد ماتت فای الصدقۃ افضل قال الماء فحفر بئرا وقال ھذہ لام سعد ‘‘ ( رواہ ابو داؤد و النسائی )
’’سعد بن عبادہ سے رو ایت ہے کہ اس نے عر ض کیا یا رسول اللہ ﷺ سعد کی والدہ فوت ہو گئی ہے ۔ سو کونسا صدقہ افضل ہے تو سید دو
عا لم ﷺ نے فرمایا پانی ( سب سے بہتر ہے) سو اس نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ سعد کی ما ں کے واسطے ہے ،، اس حدیث شریف کی تشریح کرتے ہوئے مبلغ اسلام خطیب پاکستان مو لا نا محمد شفیع صاحب اوکاڑوی تحریر فرماتے ہیں ,, اس حدیث شریف میں یہ بات نہایت ہی قابل غور ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی فرما رہے ہیں ۔ ھذہ لام سعد کہ یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے ان کی روح کو ثواب پہنچانے کی غرض سے بنوایا گیا ہے اس سے صراحتہ ثابت ہوا ہے کہ جس کی روح کو ثواب پہنچانے کی غرض سے کوئی صدقہ و خیرات کی جائے ۔ اگر اس صدقہ و خیرات اور نیاز پر مجا زی طور پر اس کا نا م لیا جا ئے یعنی یوں کہا جائے کہ یہ سبیل حضرت امام حسین اور شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کے لئے ہے ، یا یہ کھا نا ، یا یہ نیاز صحابہ کبار یا اہل بیت اطہار ، یا غوث اعظم ، یا خواجہغریب نواز کے لئے ہے تو ہر گز ہر گز اس سبیل کا پانی اور وہ کھا نا و نیا ز وغیرہ حرام نہ ہو گا ۔ ورنہ پھر یہ بھی کہنا پڑے گا کہ اس کنویں کا پانی حرام تھا حالانکہ اس کنویں کا پانی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعد میں تابعین تبع تابعین اور اہل مدینہ نے پیا ۔ کیا کوئی مسلما ن کہہ سکتا ہے کہ ان سب مقدس حضرات نے حرام پانی پیا تھا ۔ معاذ اللہ کوئی مسلمان تو ایسا نہیں کہہ سکتا ۔ جس کنویں کے پانی کے متعلق یہ کہا گیا کہ یہ سعد کی ماں کے لئے ہے ۔ اس کنویں کا پانی نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے نزدیک حلال وطیب ہے تو جس سبیل کے پانی کے متعلق یہ کہا جائے کہ یہ امام حسین اور شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کے لئے ہے یا ، نیا ز وغیرہ فلاں کے لئے ہے تو وہ مسلمانو ں کے نزدیک بھی حلال و طیب ہے ،، ( ثواب العبادات صفحہ نمبر ۲۱ ،۲۲ )
( تفسیر خازن از علاؤ الدین علی بن محمد البغدادی )
’’ان الصد قۃ عن المیت تنفع المیت ویصلہ ثواب ھا و ھو اجماع ‘‘
یقینا میت کی طرف سے صدقہ (خیرات ) دنیا میت کو نفع ( فائدہ ) دیتا ہے اور اس صدقہ کا میت کو ثواب پہبچتا ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے ۔ ،،
( مر قاۃ شر ح مشکوۃ ازحضرت علامہ ملا علی قاری رحمت اللہ علیہ )
’’اتفق اھل السنۃ علی ان الاموات ینتفعون من سعی الاحیاء ‘‘
’’ اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ مردوں کو زندوں کی سعی سے فائدہ پہنچتا ہے ‘‘
گویا اس قبر کی زندگی میں جو کہ عالم برزخ ہے مردوں کو اس بات کی بہت ہی ضرورت ہے ۔ صدقہ ، خیرات ، دعا ، تلاوت قرآن حکیم اور دیگر طاعات کے ساتھ اس کی مدد کی جائے ۔ حدیث شریف میں ہے ۔
(مشکوۃ شریف باب الا ستغفار والتوبہ تیسری فصل صفحہ ۲۰۶ سطر نمبر ۲،۳،۴،۵ مطبوعہ سراج الدین ۔لاہور )
’’عن عبد اللہ ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ ماالمیت فی القبر الا کا الغریق المتغوث ینتظر دعوۃ تلحقہ من اب او ام او اخ او صدیق فاذا لحقتہ کا ن احب الیہ من الدنیا وما فیھا و ان اللہ تعالیٰ لیدخل علی اھل القبور من دعاء اھل الارض امثال الجبال وان ھدیۃ الاحیاء الی الاموات الاستغفارلھم ‘‘ ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان )
’’ عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔حضرت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ مردہ کا حال قبر میں اس فریاد کرنے والے کی طرح ہے جو ڈوب رہا ہو ۔ مردہ انتظار کرتا ہے اس کا باپ یا ماں یا بھائی یا دوست کی طرف سے اسے دعا پہنچے اور جب اس میت کو کسی ایک کی دعا پہنچتی ہے تو اس دعا کا پہنچنا اس کو دنیا اور سب دنیا کی لذتوں سے محبوب ترہوتا ہے ۔ اور یقینا اللہ تبارک و تعالی اہل زمین کی دعا سے مردوں پر پہاڑوں کے برابر اجر و رحمت عطا فرماتا ہے ۔ اور بے شک زندوں کا تحفہ مردوں کی طرف ۔ یہی ہے کہ ان کے لئے بخشش کی دعا کی جائے ‘‘
(تفسیر عزیزی پ عم سورہ انشفت صفحہ ۱۱۱ مطبوعہ مطبع محمدی لاہور( پاکستان) از محدث کبیر شاہ عبد العزیز دہلوی )
اس بر زخی زندگی کے متعلق آئیہ کریمہ والقمراذا اتسق کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت اما م شاہ ولی اللہ دہلوی رحمت اللہ علیہ کے فرزند دلبند تحریر فر ماتے ہیں :۔ ’’ ومدد زندگان بمر دگان درین حالت زدر ترمی رسد و مردگان منتظر لحوق مدد ازیں طرف می باشند ۔ ‘‘ اس حالت میں زندوں کی مدد مردوں کو فورا پہنچتی ہے ۔ اور مردے اس طرف سے اس مدد کے انتظار میں ہوتے ہیں ،،
چنانچہ ارشاد فر ماتے ہیں :۔’’ونیز وارد است کہ مردہ درانحات مانند نحرسیقی است کہ انتظار فر یاد رسی می برد و صدقات واد وفاتحہ دریں وقت بسیار بکارمی آید ‘‘ ترجمہ ․۔ اور نیز احادیث میں آ یا ہے کہ مردہ اس حالت میں اس شخص کی طرح ہے جو کہ ڈوب رہا ہو اور مددچاہنے کے لئے فر یاد کر رہا ہو ۔ اس وقت اس مردہ کو صدقات ، دعائیں،فاتحہ درور کی بہت ہی زیادہ ضرورت ہے جو اسے کام آسکتی ہے ۔
(انوار ساطعہ صفحہ ۱۲۱،۱۲۲ مطبوعہ مطبع نعیمی مراد آباد ( بھارت ) از مولانا مولوی عبد السمیع صاحب رامپوری مرحوم)
مولانا مولوی عبد السمیع صاحب حضرت مولانا مولوی حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے مرید خاص ہیں ۔ حضرت حاجی صاحب نے اس کتاب کو پسند فرمایا ہے اور لکھا ( انوار سا طعہ صہ۷ سطر ۲۳ مطبوعہ مطبع نعیمی مراد آباد )
’’ فی الحقیقت نفس مطلب کتاب موافق مذہب و شرب فقیر و بزرگان فقیر است خوب نو شتید جزا کم اللہ خیرا لجزا ء ‘‘
تر جمعہ :۔ یعنی ,, یہ کتا ب ( انوار ساطعہ ) اس فقیر اور فقیر کے بزرگوں کے مذہب و شرب کے موافق ہے بہت ہی اچھی لکھی ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہتر ین جزا عطا فرما دے ۔
حضرت شاہ امداد اللہ صاحب مہاجر مکی اکا برین دیو بند کے شیخ ہیں ۔ اور خصوصا دیوبند مکتبہ فکر کے حکم الامۃ اشرفعلی صاحب تھانوی کے بھی پیر و مرشد ہیں ۔ وہ اس کتاب انوار ساطعہ کو بہترین کتاب اپنے مذہب و شر ب کے موافق تحریر فرما رہے ہیں ۔ یہ حوالہ اسی کتاب کا ہے فرماتے ہیں ۔ اور حاشیہ خزانتہ الروایات اور بعض رسائل میں اس عاجز کی نظر سے یہ روایت مجموعہ الروات کی گزری ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر حمزہ کے لئے تین دن اور دسویں اور چالیسویں روز اور چھٹے مہینے اور برسی کے دن صدقہ دیا ۔ اگر یہ حدیث کسی قدر قابل اعتماد ہے تو یہ سب رسمیں گویا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہو گئیں۔،،
(تفسیر عزیزی پ عم سورہ انشقت صہ ۱۱۱ سطر ۲۲ مطبوعہ محمدی لاہور از محدث کبیر شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی )
اس برزخی زندگی میں صدقات دعائیں اور فاتحہ کی ضرورت پر بحث فر ماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔
,, از ینجا است کہ طوائف بنی آدم تا یک سال وعلی الخصوص تا یک چلہ بعد موت دریں نوع امداد و کوشش تمام می نمائنید ۔،،
’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی آدم مرنے کے بعد مردے کیلئے اس طریقہ پر ( یعنی صدقات ، ادعیہ فاتحہ ) عموما ایک سال تک اور خصوصا چالیس روز تک امداد اور پوری کوشش کرتے ہیں ۔،، گویا چالیس روز تک تو فاتحہ ، صدقات اور ادعیہ ضرور کرنی چاہیے کیونکر میت کو اس کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔
( فتاویٰ اوزجندی)
(ملا علی قاری رحمہ الباری ہدیۃ الحر مین باب ۱۳ حضرت شاہ ولی اللہ رحمت اللہ علیہ بحوالہ الفقیہ امر تسر ۷ ستمبر ۱۹۴۱ء مولوی حکیم عبدالرزاق صاحب خطیب راہواں ضلع جالندھر)
’’ جناب رسو ل اللہ کریم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال پر ملال کا تیسرا دن تھا کہ اسی دن صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ کچھ نان جویں ، کھجور ، دورھ لیکر حاضر ہوئے ، حضور ﷺ کی خدمت میں ، آپ ﷺ نے اس پر سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر ہاتھ اٹھائے ، اور دعا فر ما کر چہرہ اقدس پر پھیرلئے ، پھر آپ ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کو لوگوں میں تقسیم کر دے ۔ آپ ﷺ یہ بھی فرمایا کہ میں نے اس کا ثواب اپنے بیٹے ابراہیم کو بخشا ‘‘
جنا ب مولانا عبد الرزاق صاحب یہ نقل فرماتے کے بعد تحریر فرماتے ہیں۔ ,, چونکہ اس روایت کو حضرت علی قاری اور شاہ ولی اللہ صاحب نے موضوعات میں سے نہیں فرمایا اور نہ ہی دیگر کتب مو ضوعات میں اس کو موضوع تحریر کیا گیا ہے لہذا یہ روایت صحیح ہے ۔ من ادعی فعلیہ البیاں ۔،،
مشکوۃ شریف باب فی المعجزات تیسری فصل صہ ۵۴۴ سطر نمبر۳ تا ۱۰ مطبوعہ مطبع سراج دین اینڈ سنز لاہور
’’عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن رجل من الانصار قال خرجنا مع رسول اللہ ﷺ فی جنازۃ فرایت رسول اللہ ﷺ وھو علی القبر یوصی الحافر یقول او سع من قبل راسہ فلما رجع استقبلہ داعی امراتہ فاجاب و نحن معہ فجئی بالطعام فوضع یدہ ثم وضع القوم فاکلو افنظرنا الی رسول اللہ ﷺ یلوک لقمۃ فی فیہ ثم قال اخذت بغیر اذن اھل ھا فارسلت المراۃ تقول یا رسول اللہ ﷺانی ارسلت الی النقیع وھو موضع یباع فیہ الغنم لیشتری لی شاۃ فلم توجد فار سلت الی جار لی قد اشتری شاۃ ان یر سل بھا الی یثمنھا فلم یوجد فارسلت الی بھا فقال رسو ل اللہ ﷺ اطعمی ھذا الطعام الاسری۔ ( رواہ ابوداؤد البہقی فی دلائل النبوۃ )
ترجمہ :۔ ایک انصاری نے عاصم بن کلیب سے کہا کہ ایک جنا زے کیلئے ہم رسول کریم ﷺ کو جلو میں نکلے ۔ میں نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺ قبر پر گو ر کن کو فرماتے تھے کہ قبر کو سرپاؤں کی طرف سے فراخ کر ، پھر جب دفن کے بعد واپس ہوئے تو اس میت کی بیوی نے آدمی بھیجا کہ کھانا تیار ہے ۔ آنحضور ﷺ نے مظور فر مایا اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے ۔ کھانا لایا گیا ۔ آپ ﷺ نے کھا نے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کھایا تو ہم نے نبی کریم ﷺ کو دیکھاکہ حضور پاک ﷺ لقمہ چبا رہے ہیں یعنی نگلتے نہیں ہیں ۔ پھر فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ گوشت ایسی بکری کا ہے ۔ مالک کی اجازت کے بغیر لی گئی ہے ۔ عورت نے حضور ﷺ کی خدمت میں کسی کو بھیجا کہ یا ر سول اللہ ﷺ میں نے نقیع میں آدمی بھیجا تھا ، نقیع وہ جگہ ہے جہاں بکریاں فروخت ہوتی ہیں ۔ تاکہ ایک بکری خرید لائے ۔ لیکن وہاں پر بکری نہ ملی تو میں نے پڑوس میں آدمی بھیجا کہ انہوں نے جو بکری خریدی ہے وہ مجھے قیمتاً دے دے ۔ وہ ہمسایہ بھی نہ تھا ۔ پھر میں نے اس کی بیوی کے پاس آدمی بھیجا اس عورت نے اپنے خاوند سے بغیر اجازت لئے مجھے بھیج دی ۔ تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو ۔ ( یہ روایت ابو داؤد اور بہیقی نے دلائل النبوۃ سے لی ہے )
صاحب انوار ساطعہ صہ ۰۹ ۱ پر اس حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں :۔ ’’اور کہا ابراہیم حلبی نے شرح کبیر منیہ میں کہ روایت کیا اس حدیث کو امام احمد نے ساتھ اسناد صحیح کے ۔ الحاصل اس حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ اہل میت کو دعوت قبول کرنی جائز ہے اور چونکہ نبی کریم ﷺ بھی سب جماعت کے ساتھ کھانا کھانے کے لئے بیٹھے تو ثابت ہوا کہ اگر کوئی غنی بھی جو مصرف صدقہ نہیں ایسی دعوت میں شریک ہو جائے تو درست ہے پس مبنیٰ جواز کا اس بات پر رہا جب اہل میت کھانا تیار کرے نہ واسطے ریا وسمعہ کے ، بلکہ بنظر ثواب و قربت وہ جائز ہے ۔‘‘ مولانا شاہ عبد الغنی محدث رحمت اللہ علیہ نے جن سے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے حدیث پڑھی تھی ۔
کتاب انجاح الحاجہ شرح ابن ماجہ میں لکھتے ہیں ۔ ’’واما صنعۃ الطعام من اہل المیت اذکان للفقراء فلا باس بہ لان النبی ﷺ قبل دعوۃ المرأۃ التی مات زوجھا کما فی سنن ابی داؤد ‘‘
ترجمہ :۔ یعنی کھانا تیا ر کرنا اہل میت کا جب بنظرثواب فقراء کیلئے ہو وے کچھ مضائقہ نہیں اس لئے کہ نبی ﷺ نے قبول کی دعوت اس عورت کی کہ جس کا خاوند مرگیا تھا جیساکہ سنن ابی داؤد ،،میں ہے ۔
(غایۃ الاو طار ترجمہ درالمختار ج ا کتاب الصوم باب ما یفسد الصوم ومالا یفسدہ صہ ۵۲۸)
’’ وان لم یوص و تبرع ولیہ جاز انشاء اللہ ویکون الثواب للولی اختیار ‘‘
اگر میت نے وصیت نہیں کی اور ولی نے بطور احسان فدیہ دیا توو ہ جائز ہے انشاء اللہ اور ثواب واسطے ولی کے ہوگا۔ ( اختیار ) مترجم فرماتے ہیں اختیا ر کی عبارت میں نے اس طرح دیکھی ہے :۔
’’ وان لم یوص لا یجب علی الورثۃ الا طعام لانھا عبادۃ فلا یؤدی الابامرہ وان فعلوا ذلک جازو یکون لہ ثواب انتھی ‘‘ ’’اور اگر وصیت نہیں کی تو وارثوں پر کھا نا دینا واجب نہیں اس لئے کہ فدیہ عبادت ہے تو بدون میت کے امر کے ادا نہ ہوگا ۔ اور اگر وارث کھانا دیں گے تو جائز ہوگا اور میت کو ثواب ہوگا ‘‘
مترجم فرماتے ہیں اور کچھ شبہ نہیں کہ ضمیر نہ میت کی طرف ہے اور یہی ظاہر ہے کیونکہ نے میت ہی کی طرف سے صدقہ دیا ہے نہ اپنی طرف پس ثواب میت کوہوگا۔ جیسا کہ ہدایہ میں تصریح کی ہے کہ انسان کو پہنچ سکتا ہے کہ اپنے عمل کا ثواب کسی غیر کو دے صلوۃ ہو یا صوم یا صدقہ وغیرہ ہاں اگر کسی غیر کی طرف صدقہ دے گا تو اس ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی ۔ ( قالہ الشامی )
(مشکوۃ شریف کتاب العلم پہلی فصل صہ ۳۲ سطر ۲۲ مطبوعہ مطبع ملک سراج دین لاہور )
’’عن ابی ھریرہ قال قال رسول اللہ ﷺ اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الا من ثلثۃ صدقہ جاریۃ او علم ینتفع بہ او ولد صالح ید عولہ ‘‘ ( رواہ مسلم )
ترجمہ :۔ ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب آدمی مر جاتا ہے تواس سے اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین عملوں کا تعلق ( اس سے منقطع نہیں ہوتا ) ۱۔ صدقہ جاریہ ۲۔ علم کہ اس سے نفع لیا جائے یا ۳۔ نیک اولاد کہ دعا کرے اس کے لئے ۔
(شرح الصدور صہ ۱۲۹ از حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ بحوالہ ثواب العبادات صہ ۲۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے مر جا نے کوبعد اس کے گھر والے اس کیلئے صدقہ و خیرات کرتے ہیں تو جبریل امین اس صدقہ و خیرات کو ایک نورانی طبق میں رکھ کر مرنے والے کی قبر پر لے جا کر کہتے ہیں ۔ ’’ یا صاحب القبر العمیق ھذہ ھدیۃ اھدھا الیک اھلک فاقبلھا فتد خل علیہ فیفر ح بھا ویستبشر ویحزن جیرانہ الذین لم یھدی الیہ شی ‘‘
ترجمہ :۔ اے گہری قبر والے یہ ہدیہ وتحفہ تیرے گھر والوں نے تجھے بھیجا تو اس کو قبول کر ، تو وہ قبر والا اس کو دیکھ کو بہت خوش ہوتا ہے اور ( دو سروں کو ) خوشخبری دیتا ہے ۔ اس کے ہمسائے جن کی طرف ان کے گھر والوں کی طرف سے کوئی ہدیہ نہیں پہنچتا غمگین و افسردہ ہوتے ہیں ۔،،
( تو ضیح العقائد یعنی رکن الدین حصہ اول صہ ۱۰۵ مطبوعہ اللہ والے کی قومی دوکان لاہور بحوالہ حا شیہ ہدایہ )
’’ان المسلمین یجتمعون فی کل عصر و زمان و یقرء ون القران و یصلون ثوابہ لموتاھم و علی ھذا اھل الصلاح و الدیانۃ من کل مذھب من الما لکیہ و الشا فعیۃ و غیر ھم ولا ینکر ذالک منکر و کان اجماعا عند اھل السنۃ و الجماعۃ خلافا للمعتزلۃ ‘‘
ترجمہ :۔ بے شک ہر عصر اور ہر زمانہ میں مسلمان جمع ہوتے رہتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی میت کے لئے ثواب کے تحفے بھیجتے رہتے ہیں ۔ اور اسی پر ہیں صلاح و دیانت والے ہر مذہب کے ، مالکی شافعی وغیرہ سے اور اس کا انکارنہیں کرتا کوئی منکر ۔ پس ہو گیا اجماع اہلسنت و جماعت کے نزدیک بر خلاف معتزلہ کے ۔،،
یعنی فرقہ معتزلہ اس ثواب کے بخشنے کا انکار کرتا ہے اور مذہب اہل حق اس کا اقرار کرتے ہیں ۔ لہذا اس طریقہ مروجہ کا انکار کرنے والے سنی نہیں بلکہ معتزلہ ہیں ۔
(عقائد الاسلام صفحہ ۱۹۴تا۱۹۶از حضرت مفسر قرآن حکیم مولانا مولوی ابو محمد عبد الحق مطبوعہ مطبع انصاری دہلی بھارت ۱۳۰۲ ھ) صاحب ,, عقائد الاسلام ،، فرماتے ہیں کہ میں نے اس کتاب میں ,, کسی جگہ غیر معتبر کتاب اور قول ضعیف کا حوالہ نہیں دیا نیز فرماتے ہیں ,, ہر مسئلہ میں افراط و تفریط سے اجتناب تمام کیا ہے ۔،، ( دیباچہ کتاب ) چونکہ حضرت علامہ مو صوف نے مسئلہ مذکورہ پر قرآن حکیم ، سنت نبی کریم ﷺ اور فقہائے امت محمدیہ ﷺ کے واضح احکام کی روشنی میں تبصرہ کیا ہے ۔
اس لئے اسے من و عن نقل کرتا ہوں تاکہ اہل سنت کا مذہب حقہ روشن ہو کر سامنے آجائے اور منکرین کا مذہب بھی آشکا را ہو جائے ۔ جس کا عنوان ہے ۔ ’’ زندہ مومنوں کی دعا ا ور صدقہ دینے سے مردہ مومن کو نفع پہنچتا ہے ‘‘
تحریر فرماتے ہیں ۔ ,, اگر مرد مومن عذاب میں مبتلا ہو گا تو اس کو دعا اور خیرات سے تخفیف ہو جائے گی بالکل معاف ہو جا ئے گا ۔ اور اگر عذاب میں مبتلا نہیں تو اس دعا اور خیرات سے اس کے لئے وہاں درجات زیا دہ ہو جاتے ہیں بہر طور اس کو نفع ہوتا ہے اور قرآن و احادیث اور اجماع صحابہ ( رضوان اللہ علیہم اجعین ) اس کے لئے دلیل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ والذین جاؤا من بعد ھم یقولون ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالا یمان اور واسطے ان لوگوں کے جو انصار و مہاجرین کے بعد آئے اور کہتے ہیں الہی ہم کو بخش اور ہم سے پہلے مومن ہیں ان کو بخش اور یہ ظاہر ہے کہ یہ دعا اموات کو بھی شامل ہے اگر اس دعا سے سابقوں کو کچھ نفع نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کے بعد والوں کو دعا میں ذکر نہ فرماتا بلکہ یہ دعا فعل عبث گنا جاتا ۔ اور جنازے پر نماز پڑھنا حضرت ﷺ کے عہد ( مبا رک ) سے اب تک جمہور اہل اسلام کے ہاں چلا آتا ہے ۔ پس اگر میت کو اس سے کچھ نفع نہیں ہے تو گویا ایک فضول امر ہے اور کس طرح سے فضول ہو سکے ۔ حالانکہ نبی ﷺ اس کی نسبت نہایت تاکید فرماتے ہیں اور میت کو نفع ہونے کی صراحت کرتے ہیں ۔ چنانچہ صحیح مسلم میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس میت پر چالیس آدمی جو مشرک نہ ہو ں نما ز پڑھیں تو اللہ ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے اور طبرانی نے اوسط میں انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ میری امت پر اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ قبر میں جو گنہگار داخل ہو ں گے ۔ بسبب دعا اور استغفار مسلمانوں کی قبر سے بے گنا ہ ہو کر اٹھیں گے ۔ اور صدقہ کے نافع ہونے میں بہت سی احادیث وارد ہیں ۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ایک شخـص نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ میری ما ں یکایک بے وصیت کئے مر گئی ہے اور مجھے گمان ہے کہ اگر وہ کچھ بولتی تو وصیت کرتی اب اس کو ثواب ہو گا ۔ اگر میں صدقہ دوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ہو گا ۔ بخا ری شریف نے ابن ماجہ سے روایت کیا ہے کہ سعد بن عباد ہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ میر ی ماں فوت ہو گئی ہے پس اگر میں اس کی طرف سے صدقہ دوں تو اسے نفع ہو گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ہو گا ۔ سعد نے کہا اب میں آپ کوگواہ کرتا ہوں کہ میر ا با غ میر ی ماں کی طرف سے صد قہ ہے ۔ امام احمد اور اصحاب سنن اربعہ نے سعد بن عبا دہ سے رو ایت کیا ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اپنی ماں کے لئے پوچھا کہ ان کو کونسا صدقہ نافع ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ پا نی کا صدقہ نافع ہے ۔ پس سعد نے ایک کنواں کھددا کر اپنی ماں کے نام سے صدقہ کر دیا ۔ طبرانی نے اوسط میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کر یم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس گھر والے کسی میت کی طرف سے بعد موت کے صدقہ دیتے ہیں تو جبریل علیہ سلام نور کے طباقوں میں لگا کر اس کے پاس لے جاتے ہیں اور وہ نہایت خوش ہوتا ہے اور اس کے پا س والے کہ جن کے پاس کسی نے ہدیہ نہیں بھیجا غمگین ہوتے ہیں ۔ بیہقی اور دیلمی نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے مردہ قبر میں غریق کی مانند دعا کا منتظر رہتا ہے ۔ پس جب ماں باپ یا دوست خاص کی طرف سے اسے دعا پہنچتی ہے تو اس کو دنیا اور مافیہا سے محبوب سمجھتا ہے اور بلاشک زندوں کی دعا کو قبر میں پہاڑ کی مانند بنانے اللہ تعالی بھیجتا ہے اور زندوں کی طرف سے مردوں کے لئے استغفار تحفہ ہے ۔ غرض اور بہت احادیث اس مضمون کی کتب احادیث میں وادر ہیں کہ ان کو شما ر سے باہر کہیں تو بجا ہے اور سلف سے خلف تک کسی نے اس کا انکا ر نہیں کیا ہے لیکن معتزلہ منکر ہیں :۔ مالی عبادت کے ثواب پہنچنے میں سب اہل سنت متفق ہیں ۔ہا ں بد نی عبادت میں اختلاف ہے امام شافعی انکا ر کرتے ہیں اور امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ انہیں ادلہ کے عموم سے ثابت کرتے ہیں ۔ دوسری اور بہت احادیث ان کے لئے ہیں ۔ چنا نچہ بخا ری اور مسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت کیا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص روزہ اپنے ذمہ لے کر مر جاوے تو اس کی طرف سے کوئی قرابت دار ادا کر دیوے ۔ مسلم نے روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ میری ماں پر دو مہینے کے روزے واجب تھے ۔ اگر اس کی طرف سے میں ادا کر دوں آیا کافی ہو جاویں گے ۔ آپ نے فرمایا ہا ں ۔ پس روزہ کابدنی عبادت ہونا تو خود ظاہر ہے لیکن حج بھی بدنی عبادت ہے ۔ کیونکہ جس قدرار کان حج ہیں انہیں کہیں روپے کی ضرورت نہیں اسی لئے کہ جو قربانی کی طاقت نہیں رکھتے ان کو روزے رکھنے کا حکم ہے ۔ روپیہ نقط کعبہ پہنچنے کے لئے شرط ہے اور اسی سبب سے فقیر پر بھی مکہ میں پہنچنے سے حج واجب ہو
جا تا ہے اور اسی لئے سب اہل مکہ پر فرض ہے ۔ پس بدنی عبادت کو نفع پہنچنا میت کو صاف ثابت ہو گیا ۔کس لئے کہ میت پر کوئی چیز واجب نہیں رہتی فقط زندگی میں تکلف شرعی تھی ، پس میت کی طرف سے واجب ادا کر نے کے یہی معنی ہیں کہ میت حالت حیات کے واجب ترک کرنے کے سبب جو ماخوذ تھا اس وارث کے ادا کرنے سے رہا ہو گیا ۔ اور یہی نفع ہے ۔ پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ مالی عبادت ثواب اور بدنی میں حج و روزہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے تو جمیع فقہاء اس بات پر متفق ہو گئے کہ قرآ ن کے پڑھنے اور اعتکاف اور نوافل وغیرھا عبادت بدنیہ کا بھی ثواب میت کو پہنچتا ہے ،،
(ا شعۃ اللمعات شرح مشکوۃ شریف باب زیارۃ القبور جلد اول صہ ۷۶۳ سطر نمبر ۱۲ تا ۲۴ از خاتم المحدثین شیخ محقق مولانا عبد الحق صاحب محدث دہلوی رحمت اللہ علیہ )
,, مستحب است تصدق کردہ شود از میت بعد از رفتن ا و از عالم ہفت روز تصدق از میت نفع می کند اور ابے خلاف میان اہل علم وارد شدہ است درآں احادیث صحیحہ خصوصا آب و بعضے از علماء گفتہ اند کہ نمی رسید میت مگر صد قہ و دعا ودر بعض روایات آمدہ است کہ روح میت می آید خانہ خود را شب جمعہ پس نظر می کند کہ تصد ق می کند از دے یا نہ اللہ تعالیٰ اعلم ،،
ترجمہ :۔ میت کے اس جہان سے جانے کے بعد مستحب ہے کہ اس کی طرف سے سات دن تک صدقہ دیا جائے علماء کا اس میں اتفاق ہے کہ صدقہ میت کی طرف سے دینا فائدہ مند ہے ۔ اس کے متعلق صحیح احادیث وادر ہیں ۔ خصوصا پا نی کے متعلق بعض علماء کہتے ہیں کہ میت کو طرف صدقہ و دعا کا ثواب پہنچتا ہے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ میت کی روح جمعہ کی رات کو اپنے گھر آتی ہے اور دیکھتی ہے کہ اس کی طرف سے خویش و اقارب صدقہ کرتے ہیں یا نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ،،
( انوار ساطعہ صفحہ ۱۱۴،۱۱۵ از مولانا مولوی عبد السمیع صاحب رامپوری )
,, باقی رہی یہ بات کہ جب طعام بنظر ثواب اموات کیا گیا اور فقراء ہی کو کھلایا ۔ لیکن کوئی غنی شخص بھی اس میں شریک کئے گئے تو اس کا بھی ثواب میت کو پہنچتا ہے یا نہیں ۔ یہ مسئلہ ایک بار مولانا احمد علی صاحب محدث سہار نپوری مرحوم کے سامنے پیش کیا گیا کہ مولانا اسحق مرحوم کے مائتہ مسائل سوال پنجاہ ویکم میں ہے ۔
’’ طعامیکہ بہ نیت تصدق بر فقرا از اموات پرندتا ثواب پرند تا ثواب با یشاں رسد جز فقیر رابنور چہ تصدق بر فقرا می باشد و ہدیہ مرا غنیارا ‘‘
اور اس وقت مولانا موصوف الصدر کیمپ میرٹھ کو ٹھی شیخ الہی بخش خاں بہادر مرحوم میں کھانا گیارہویں کا تناول فرما رہے تھے ۔ موقع بھی یہی تھا کہ جنا ب مولینا بفضل حق سبحانہ ، خوشحال و متمول و صاحب تجارت تھے اور وہ کھانا ایصال ثواب روح پر فتوح حضرت غوث الثقلین قدس سرہ کے لئے تھا ۔ ارشاد فرمایا کہہ اس کے معنی یہ ہیں اغنیا ء کے کھانے میں اس درجے کا ثواب نہیں پہنچتا جس طرح فقراء کے کھانے کا پہنچتا ہے اور یہ نہیں کہ اغنیاء کے کھا نے کا باکل ثواب نہ پہنچے اس لئے کہ اطعام الطعام اگرچہ اغنیا ء ہی کو ہو ۔ منکرات سے نہیں بلکہ معروفات شرعیہ سے ہے انتہی الکلام مولانا المحدث،،
( کشف الغمہ عن جمیع الامتہ جلد اول ، باب الدفن و احکام القبور و ما یتعلق بذالک ( فرع فی انتفاع المیت بالقراء ۃ والدعاء والصدقہ و سائر القربات صہ ۲۵۱ ) از الامام العلامہ قطب دائرۃ المحققین الشیخ عبد الوہاب الشعرانی علیہ الرحمۃ )
’’ قال ابن عباس رضی اللہ عنھما کان رسول اللہ ﷺ یحث علی الدعاء والصدقۃوالقرب المھد اۃ للا مرات من اقاربھم و اخوانھم و یقول ان ذالک کلہ ینفعھم ‘‘
ترجمہ :۔ جناب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم ﷺ مردوں کے لئے ان کے رشتہ داروں اور ان کے بھائیوں کو دعا ، صدقہ ( خیرات ) اور نیکیوں کا تحفہ بھیجنے کی بہت ہی تحریص فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ سب چیز یں ان مردوں کو نفع پہنچاتی ہیں ۔
( ارشاد الطالبین صہ ۲۵۱ مطبوعہ فیض عالم دہلی از حضرت علامہ مولانا باالفضل اولینا مولوی اخوند درویزہ صاحب ننگہاری قد س سرہ العزیز ،م ۱۰۴۶ ھ )
’’درانیس الاتقیا مسطور است کہ چوں مردہ را دفن کنند و درخانہ بیا نید ہمدراں روز باید کہ چیزے تصدق از جہت او بکنند کہ مطلق رسید نیست و بدو میر سد و خلاف معتزلہ را کہ ایشاں قبول ندارند تصدق را۔ ‘‘
ترجمہ :۔ انیس الاتقیا میں لکھا ہے کہ میت کو دفن کرنے کے بعد جب گھر پر واپس آجائیں تو اس دن اس مردہ کی طرف سے صدقہ
( خیرات ) کریں کہ اسے پہنچتا ہے اور معتزلہ اس کے خلاف ہیں کہ مردوں کو صدقہ نہیں پہنچتا ہے ۔،،
(فضائل ذکر صہ ۸۴،۸۵ مطبوعہ ناشران قرآن لمیٹڈ از الحافظ الحاج مولانا محمد محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور )
,, شیخ ابو یزید قرطبی فرماتے ہیں میں نے یہ سنا کہ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھے ۔ اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ملے میں نے یہ خبر سن کو ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کے لئے بھی پڑھا اور کئی نصاب خود اپنے لئے پڑھ کرذخیرہ آخرت بنا یا ۔ ہمارے پا س ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ یہ صاحب کشف ہے ، جنت و دوزخ کا بھی اس کوکشف ہوتا ہے مجھے اس کی صحت میں کچھ تردد تھا ۔ ایک مرتبہ وہ نو جوان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک تھا کہ دفعتہ اس نے ایک چیخ ما ری اور سانس پھو لنے لگا اور کہا کہ میر ی ماں دوزخ میں جل رہی ہے ۔ اس کی حالت مجھے نظر آئی ۔ قرطبی کہتے ہیں کہ میں اس کی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا مجھے خیا ل آیا کہ ایک نصاب ( یعنی ستر ہزار بار کلمہ ) اس کی ماں کو بخش دوں جس سے ا س کی سچائی کابھی تجربہ ہو جائے گا۔ چنانچہ میں نے ایک نصاب ستر ہزار کا ان نصابوں میں سے جو اپنے لئے پڑھے تھے اس کی ماں کو بخش دیا میں نے اپنے دل میں چپکے ہی سے بخشا تھا اور میرے اس پڑھنے کی خبر اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی ۔ مگر وہ نوجوان فورا کنہے لگا چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹا دی گئی ۔ قرطبی کہتے ہیں کہ مجھے اس قصے سے دو فائدے ہوئے ۔ ایک تو اس برکت کا جو ستر ہزار کی مقدار میں میں نے سنی تھی اس کا تجربہ ہوا اور دوسرے اس نوجوان کی سچائی کا یقین ہوگیا ۔،، ثابت ہوا کہ کلمہ شریف کے ایصال ثواب کی برکت سے عذاب موقوف ہو جاتا ہے ۔
(فضائل صدقات حصہ اول صہ ۹۵ از الحافظ الحاج مولانا محمد ذکریا صاحب شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور ناشر ادارہ دینیا ت حضرت نظام الدین نئی دہلی ،بھا رت )
’’امام نووی رحمت اللہ علیہ نے مسلم شریف کی شرح میں لکھا ہے کہ صدقہ کا ثواب میت کو پہنچنے میں مسلمانو ں میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ یہی مذہب حق ہے اور بعض لوگوں نے جو لکھ دیا ہے کہ میت کو اس کے مرنے کے بعد ثواب نہیں پہنچتا ۔ یہ قطعا باطل ہے اور کھلی ہوئی خطا ہے ۔ یہ قر آ ن پا ک کے خلاف ہے یہ حضور اقدس ﷺ کی احادیث کے خلاف ہے ۔ یہ اجماع امت کے خلاف ہے ۔ اس لئے یہ قول ہرگز قابل التفات نہیں ۔‘‘
(مردوں کو ثواب پہنچنے کامسئلہ ،از( فقیر)محمد امیر شاہ قادری الگیلانی مدظلہ العالی)
ناشر :۔ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام محلہ قاضی خیلاں بازارکلاں پشاورسن اشاعت باردوئم ۱۹۹۲ء
طالب دعا:۔ تنویراحمدقادری
ثم یکبرتکبیرۃ رابعۃ وسلم عقیبھا ولا یرفع یدیہ الا فی التکبیرۃ الاولی ولا یصلی علی میت فی مسجد جماعۃ فاذا حملوہ علی سریرہ اخذوا بقوائمہ الاربع
پھر چوتھی تکبیر کہے اور اس کے بعد سلام پھیر دے اور سوائے پہلی تکبیر کے اوروں میں ہاتھ نہ اٹھائے ۔ اور میت پر نماز نہ پڑھے اس مسجد میں جہاں جماعت ہوتی ہے ۔ پس جب اس سے چارپائی پر اٹھاؤ تو چارپائی کے چاروں پائے پکڑ لو ۔
﴿ولایرفع ﴾امام ابو حنیفہ کے نزدیک رفع یدین نہیں ۔اہل شیعہ اور وہابی حضرات کرتے ہیں ۔
﴿ولایصلی علی میت فی مسجد جماعۃ ﴾جہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت پڑھی جاتی ہو ۔اس مسلہ پر بڑا فساد ہوا تھا جب مولانا فدامحمد کے بھائی عظیم صاحب فوت ہوئے ۔تو جنا زہ کو سیٹھیوں کی مسجد میں لے گئے ۔میں نے نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا ۔حافظ قادر صاحب اور دوسرے علماء بھی موجود تھے ۔میں جنا زہ کو مسجد سے اٹھوا کرباہر نہر کے کنارے پر لے گیا اور وہاں نماز جنازہ پڑھی ۔بعد میں انھوں نے پوچھا کہ یہ کو ن سی کتاب کا مسئلہ ہے کہ مسجد میں نماز جنا زہ نہ پڑھی جائے ۔حافظ قادر نے کہا کہ حرمین میں لوگ ایسا کرتے ہیں تو میں نے کہا کہ وہاں تو آمین بالجہر اور رفع یدین بھی کرتے ہیں تم یہ کیوں نہیں کرتے ۔اگر ایساکرو تو لوگ تمھیں وہابی کہتے ہیں یا نہیں ۔ آٹھ دن کے بعد میں نے ’’ مسجد میں نما زجنازہ پڑھنے کا مسئلہ ‘‘ کے عنوان سے کتابچہ چھپوا دیا اگر کوئی عذر ہے جیسے جنازہ گاہ کی چھت نہیں اورشدید بارش ہے تو پڑھ سکتے ہیں ۔مگر بلاعذر جائزنہیں ۔(فقیر)محمدامیر شاہ قادری الگیلانی ۱۶رمضان۱۳۹۲ھ
﴿مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا مسئلہ﴾
نورالہدایہ اردو ترجمعہ شرح وقایہ صفحہ ۱۶۰ جلد اول باب جنازے کے احکام میں
جس مسجد میں جماعت ہو اس کے اندر مردے کو رکھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اگر مردہ اس کے باہر ہو تو اس میں اختلاف ہے ٌٌ باہر ہو ٌٌ کا یہ مطلب ہے کہ جنازہ اور کچھ نماز پڑھنے والے خارج از مسجد ہو اور باقی نماز پڑھنے والے مسجد میں ہو تو باا لا تفا ق مکروہ نہیں ( کذا فی البنایہ )
شرح وقایہ صفحہ ۲۸ سطر ۸۔۹ مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی
عربی عبارت یہ ہے ’’ وکرھت فی مسجد جما عۃ ان کان المیت فیہ وان کان خارجہ اختلف المشائخ‘‘
تنویر الابصار
وکر ھت تحریما فی مسجد جما عۃ ھی فیہ واختلف فی الخا رجۃ والمختار الکرا ھۃ ـ
جس مسجد میں باجماعت نماز ہوتی ہو اس میں نماز جنا زہ پڑھنا مکروہ تحریمہ ہے اور مسجد کے باہر جنازہ ہو اور نمازی مسجد میں ، اس میں اختلاف ہے ، اور مختا ر مذہب یہ ہے کہ مکروہ ہے ۔
غایۃ الاوطار ترجمعہ در المختار مطبع نول کشور لکھنؤ کتاب الصلوۃ باب صلوۃ الجنازۃ صفحہ ۱۱۶۰ سطر ۲۔۳
وکرھت تحریما وقیل تنزیھا فی مسجد جماعۃ ھو ای المیت فیہ وحدہ او مع القوم واختلف فی الخارج عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم والمختار الکراھۃ مطلقا کذافی الخلاصۃ بناء علی ان المسجد انما بنی لمکتوبۃ و توابعھا کنا فلۃ وذکر وتدریس عالم وھو الموافق لا طلاق حدیث ابی داؤ د من صلی علی میت فی المسجد فلا صلوۃ لہ
ترجمعہ !۔ اور مکروہ تحریمی ہے اور بعض کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے جس مسجد میں نماز با جماعت ادا ہوتی ہواس میں نماز جنازہ پڑھانا مکروہ تنزیہی ہے۔ یعنی جامع مسجد یا محلہ کی مسجد میں کہ مردہ اس کے اندر ہو تنہا یا کل یا بعض نمازیوں کے ساتھ اور اختلاف ہے مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں تنہا ہو ۔ یا کچھ نمازیوں کے ساتھ باہر ہو اور قول مختا ریہ ہے کہ ہر صورت میں مکروہ ہوتا ہے ۔ کذا فی الخلاصۃ ، اس وجہسے کہ مسجد صرف نماز فرض وقتی اور اس تو ا بع کے لیے بنیہے ، جیسے نفل نماز اور یاد الہی اور عالم کا پڑھنا ہے اور یہی قول کراہت کا موافق ہے واسطے اطلاق حدیث ا بو داؤد کے جس نے نماز پڑھی مردے پر مسجد کے اندر تو اس کے لیے نمازنہیں ۔
فتاویٰ قاضی خان مطبوعہ مطبع عالی لکھنؤجلد اول صفحہ۳۱ کتاب الطھارۃ فصل فی المسجد سطر ۴۰
وتکلموا فی صلوۃ الجنا زۃ فی المسجد الذی یقام فیہ الجماعۃ قا ل عامۃ المشائخ یکرہ الا من عذر من مطراو نحوہ سواء کان المیت والقوم فی المسجدا والقوم خارج المسجد او کان المیت خارج المسجد والامام والقوم فی المسجد واختلفوا فی وجہ واحد وھو ما اذا کان المیت والامام وبعض القوم خا رج المسجد وسا ئرالناس فی المسجد قال بعض ھم لایکرہ لان سبب الکراھتہ اد خال المیت فی المسجد او اختلا ف المکانین بین الامام وبین المیت وبعض ھم کرھوا علی کل حال لان عادۃ السلف جرت لصلوۃ الجنازۃ باعداد الواضع علیحدۃ فلولم یکرہ ذلک لما اعد لھا موضعا علیحدۃ
ترجمعہ !۔ جماعت کی مسجد میں نماز جنا زہ پڑھنے کے بارے میں علماء کے ارشادات ہیں عمامۃ المشائخ کے نزدیک ( اس مسجد میں جہاں جماعت ہوتی ہو ) نماز جنا زہ پڑھنا مکروہ ہے مگر کسی عذر کی وجہ سے بارش وغیرہ یا اسی طرح کے عذر سے میت اور قوم مسجد میں ہو یا میت مسجد میں ہو اور قوم مسجد سے باہر ہو اور امام وقوم مسجد میں ہو یہی حکم ہے اور ایک صورت میں اختلاف کیا گیا ہے اور وہ یہ صورت ہے کہ جب میت امام اور کچھ لوگ تو مسجد سے باہر ہو ں اور باقی تمام لوگ جو کہ نماز پڑھ رہے ہوں مسجد کے اندر ہوں تو بعض نے کہا ہے کہ مکروہ نہیں ہے ۔ اس لیے کہ کراہت کا سبب تومیت کو مسجد میں داخل کرنے سے ہے ، یا امام اور میت کے درمیان دو جگہوں کا اختلاف ہے اور بعض نے کہا ہے ہر حالت میں مکروہ ہے ،کیونکہ سلف کی یہ عادت مبا رکہ رہی ہے کہ نماز جنا زہ کے لیے جگہ علیحدہ کر رکھی ہیں ۔
ہدایہ جلد اول مطبو عہ مجتبائی دہلی کتاب الصلوۃ صفحہ ۱۶۱ سطر ۱۰۔۱۱
ٌٌ ولا یصلی علی میت فی مسجد جماعۃ لقول النبی ﷺ من صلی علی الجنا زۃ فی المسجد فلا اجرلہ ۔ ولا نہ بنی لاداء المکتوبات ولانہ یحتمل تلویث المسجد وفیما اذکان المیت خارج المسجد اختلف المشائخ ٌٌ
ترجمعہ !۔ اس مسجد میں جہاں جماعت ہوتی ہو میت پر نماز نہ پڑھیں جیسا کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے جس نے مسجد میں جنا زہ پر نماز پڑھی اس کے لیے کوئی ثواب نہیں اس لیے کہ مساجد فرضی پانچ وقتا نمازوں کے لیے بنوائی گئی ہیں اور اس لیے کہ مسجد کی تلویت کا اندیشہ ہے اور جب کہ میت مسجد سے خارج ہو تو مشائخ میں اختلاف ہے ۔
ٓصاحب عنایہ حاشیہ پر لکھتے ہیں ! ۔,, اذا کانت الجنازۃ فی المسجد فالصلوۃ علیہا مکروھۃ باتفاق اصحابنا
جب جنازہ مسجد میں ہو پس اس پر نماز مکروہ ہے ۔ ہمارے تمام اصحاب کا اس پر اتفاق ہے
کنزالدقائق مطبوعہ پشاور باب الجنائز صفحہ ۱۲۰ سطر ۱
,, ولم یصلوا رکبانا ولا فی مسجد ,, اور نہ پڑھیں نماز سواری پر اور نہ ہی مسجد میں
المستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق مطبوعہ نول کشور لکھنؤ صفحہ۲۳۰ سطر ۴ تا۷
ولا فی مسجد عطف علی قولہ و لم یصلوا رکبانا اے ان صلوا علی جنازۃ فی مسجد جماعۃ لا یجزھم لقو لہ علیہ السلام من صلی علی جنازۃ فی المسجد فلا اجرلہ ولا نہ بنی لا داء المکتوبات فیہ ولا نہ یحتمل تلویث المسجد وفیما اذاکان المیت خارج المسجد اختلف المشائخ فیہ ثم ھذا عندنا
ترجمہ !۔ اور نہ ہی مسجد میں ( پڑھیں ) یہ عطف ہے ولم یصلوا رکبانا ( اور نہ پڑھیں سواری پر ) یعنی اگر ایسی مسجد میں نماز جنازہ پڑھی جس میں جماعت ہوتی ہو تو جائز نہیں جب کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جس نے مسجد میں جنازہ پر نماز پڑھی تو اس کے لیے کوئی اجر نہیں ۔ اس لئے کہ مساجد تو فرضی پانچ وقتہ نمازوں کی اداگی کیلئے بنوائی گئی ہیں اور اس لیے کہ مسجد کے لتیھٹرنے کا اندیشہ ہے جب کہ میت مسجد سے خارج ہو تو مشائخ کا اس میں اختلاف ہے۔ یہ ہمارے یعنی احناف کا مسلک ہے۔
مصفی ومسوی شرح موطاء مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دہلی جلد ۱ سطر ۱۰ از خاتم المجتہدین الامام شاہ ولی اللہ دہلوی
ٌمالک عن نافع عن عبد اللہ بن عمر انہ قال صلی علی عمر بن خطاب فی مسجد ٌٌ
عبد اللہ بن عمر گفت نماز گزار دہ شد بر عمر بن الخطاب در مسجد ۔
مترجم گوید :۔ اختلاف کردند در گزاردن نماز برجنازہ در مسجد ،شافعیہ بجواز آن قائل اند
وابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ گفۃ لا یصلی علیھا فی المسجد (مسجد میں اس پر نماز نہ پڑھیں ) اور عربی شرح مسوی میں فرماتے ہیں ۔ قلت وعلیہ الشافعی و قال ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ لا یصلی علیہافی المسجد
الزجاج المصابیح مطبوعہ حیدر آباد دکن ( بھارت) جلد ا صفحہ۴۶۲۔۴۶۳
از حضرت العلامہ محدث کبیر السید عبد اللہ بن السید مظفر حسین الحنفی الحیدر آبا دی،
عن واثلۃ بن الاسقع قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم من صلی علی جنازۃ فی المسجد فلا شیء لہ رواہ ابو داؤد واحمد والطحاوی وقال فی البنایہ وسکت ابو داؤد فھذا دلیل رضا ء بہ وانہ صحیح عندہ انتھی وحقق ابن القیم فی زادالمعاد وغیرہ ان سندہ حسن محتج بہ ویوید ہ ان النبی ﷺ لم یکن من عادتہ الصلوۃ علی الجنازۃ فی مسجد ہ مع شرفہ بل کان یخرج الی المصلی قالہ فی عمدۃ الرعایہ وقال محمد فی موطاہ لا یصلی علی جنازۃ فی المسجد وکذلک بلغنا عن ابی ھریرۃ وموضع الجنازۃ باالمدینۃ خارج المسجد وھو الموضع الذی کان النبی ﷺ یصلی علی الجنازۃ فیہ انہ قال قال رسول اللہ ﷺمن صلی علی جنازۃ فی المسجد فلیس لہ شیء راوہ ابن ماجہ واسنا دہ حسن وفی روایہ الطیالسی وابن ابی شیبہ فلا صلوۃ لہ۔
واثلہ بن اسقع سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں ۔ کہ سرورعالم و عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی پس اس کو ثواب نہیں ۔ اس کو ابو داؤد ، احمد اور طحاوی نے روایت کیا ہے ۔ البنایہ میں ہے ابو داؤد نے سکوت کیا لہذا ان کا سکوت ان کی رضا مندی کی دلیل ہے اور یہ کہ ان کے نزدیک یہ صحیح ہے ۔انتہی اور ابن قیم نے زادرالمعاد وغیرہ ثابت کیا ہے ۔کہ اس کی سند حسن ہے مجتج ہے اس بات سے مزید تائید کی ہے کہ نبی کریمﷺ کی عادت مبارکہ نہیں تھی کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھتے باوجود اسکے کہ جو شرف اس کو حاصل تھا ۔ بلکہ جنازہ کے لئے باہر تشریف لے جاتے ۔ قالہ عمدۃ الرعایہ اور امام محمد اپنی مو طا میں فرماتے ہیں ۔ کہ مسجد میں نماز جنازہ نہ پڑھیں اور ابی ہریرہ کی اس قسم کی حدیث بھی ہمیں پہچی ہے اور نماز جنا زہ پڑھنے کی اصل جگہ مدینہ منورہ میں مسجد سے باہر تھی ۔ اور وہ جگہ تھی
جہاں حضور پاک ﷺ جنازہ پر نماز پڑھتے تھے اور اس سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی تو اس کے لئے کوئی ثواب نہیں اس کو ابن ماجہنے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد حسن ہیں ۔ اور طیالسی وابن شیبہ کی روایت میں کہ اس کے لئے کوئی نماز کا ثواب نہیں ،،
الزجاج المصابیح مطبوعہ حیدرآباد دکن (بھارت ) جلدا صفحہ۴۵۸ از حضرت العلامہ المحدث الکبیر السید عبداللہ بن السید مظفر حسین حنفی حیدر آبادی
وخرج بھم الی المصلی کے حاشیہ پر لکھتے ہیں ۔
وفیہ حجۃ الحنفیہ والمالکیتۃ فی منع الصلوۃ علی المیت فی المسجد لا نہ ﷺخرج بھم الی المصلی فصف بھم وصلی علیہ ولو صاع ان یصلی علیہ فی المسجد لما خرج بھم الی المصلی قالہ فی عمدۃ الرعایہ ۔۔
نجاشی کی موت والی حدیث نے خرج بھم الی المصلی کی تشریح فرماتے ہیں ۔
اس حدیث سے حنفیوں اور مالکیوں نے یہ حجت قائم کی ہے کہ میت پر مسجد میں نماز منع ہے ۔ اس لئے کہ حضورﷺ باہر جنا زہ گاہ پر تشریف لے گئے ۔ صفیں بنوائیں اور نماز جنازہ پڑھیائی اگر مسجد میں اس پر نماز پڑھنی جائز ہوتی تو حضور شفیع المذنبین ﷺ جنازہ گاہ کی طرف کیوں تشریف لے جاتے ۔
شرح معانی الاثار المعروف بالطحاوی مطبوعہ المطبع الاسلامیہ لاہور۔ جلدا باب الصلوۃ علی الجنازۃ ہل ینبعی ان تکون فی المساجد اولا صفحہ ۷۲۸ تا۷۳۰ از الامام ابو جعفر الطحاوی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ
حدثنا احمد بن داؤد حدثنا یعقوب قال محمد بن اسماعیل عن الضحاک بن عثمان عن ابی النصر مولی عمر بن عبید اللہ عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن ان عائشۃ حین توفی سعد بن ابی وقاص قالت اد خلوا بہ المسجد حتی اصلی علیہ فانکر الناس ذلک علیہا فقالت لقد صلی رسول اللہ ﷺ علی سھیل ابن البیضاء فی المسجد حدثنا ابن مرذوق قال ثنا القعبنی قال ثنا مالک عن ابی النصر عن رسول اللہ ﷺ بذلک ۔،،
جب سعد بن وقاص نے وفات پائی تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس کو مسجد میں لے آؤ تاکہ میں بھی اس کی نماز جنازہ پڑھوں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس بات پر آپ سے انکار کر دیا ۔ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سہیل بن بیضا کی نماز جنازہ حضور پاک ﷺ نے مسجد میں پڑھی تھی ۔ ابی النصر رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آں حضور ﷺ نے نماز جنازہ مسجد میں پڑھی،،
حدثنا احمد بن داؤد قال ثنا ابن ابی عمر قال ثنا عبد العزیز بن محمد عن عبدالواحد بن حمزۃ عن عباد بن عبد اللہ بن الزبیر ان عائشۃ امرت بسعد بن وقاص ان یمربہ فی المسجد ثم ذکرمثل حدیثہ عن یعقوب ،،
عباد بن عبداللہ بن الزبیر روایت کرتا کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے امر کیا کہ سعد بن وقاص کیا جنازہ مسجد میں رکھا جائے ،پھر مثل حدیث یعقوب کے ذکر ،،
قال ابو جعفر فذھب قوم الی ھذالحدیث فقالوا لا باس بالصلوۃ علی الجنازۃ فی المسجد ،،
یعنی امام جعفر طحاوی فرماتے ہیں کہ ایک گروہ اس حدیث کی طرف گیا اور کہا ہے کہ مساجد میں جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ،،
’’ واحتجوا فی ذلک ایضا بما حدثنا احمد بن داؤد قال ثنا احمد بن ابی عمر قال حدثنا عبالعزیز بن محمد عن مالک بن انس عن نافع عن ابن عمر ان عمر صلی علیہ فی المسجد ،،
اور احتجاج اس حدیث سے کیا ہے ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی گئی،،
وخالفھم فی ذلک آخرون فکر ھوا الصلوۃ علی الجنازہ فی المساجد ،،
,,اور باقی اہل علم نے اس سے اختلاف کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے،،
واحتجوا فی ذلک بما حدثنا سلیمٰن بن شعیب قال ثنا اسد قال ثنا ابن ابی ذئب عن صالح مولی التومۃ حدثنا ابی صالح عن ابی ھریرہ عن النبی ﷺ الہ وسلم قال من صلی علی جنازۃ فی مسجد فلا شئ لہ ،،
انھوں نے احتجاج اس حدیث سے کیاہے ،، ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا حضور پاکﷺ نے کہ جو شخص مسجد میں نماز جنازہ پڑھے اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ،،
فلما اختلف الروایات عن رسول اللہ ﷺ فی ھذالباب فکان فیما روینا فی الفصل الاول اباحۃ الصلوۃ علی الجنازۃ فی المسجد فیما روینا فی الفصل الثانی کراھۃ ذلک احتجنا الی کشف ذالک لتعلم المتاخرمنہ فنجعلہ ناسخا
پس اس باب میں رسول مقبول ﷺ سے رواتین مختلف واقع ہو ئی ہیں کیونکہ پہلی فصل کی حدیثوں میں اباحت مذکور ہے اور دوسری فصل کی حدیثوں میں کراہت تو ہم نے چاہا کہ معلوم کریں کہ کون سی حدیث متقدم ہے اور کون سی متئاخر تاکہ متقدم کو منسوخ اور متئاخر کو ناسخ سمجھیں ۔
ترجمہ:۔ پس چونکہ حدیث عائشہ صدیقہ میں اس بات پر دلیل موجود ہے کہ لوگوں نے مسجد میں نماز جنازہ ترک کر دیا ۔ یہاں تک کہ عام لوگوں کو اس سے ذھول ہو گیا تھا کہ پہلے کس مسجد میں نماز جنازہ پڑھی گئی تھی یا نہیں ؟ پس حضرت عائشہ صدیقہ کے نزدیک ترک کراہت کی دلیل نہ تھی ۔ بلکہ وہ سمجھتی تھیں کہ جس طرح مسجد میں نماز جنازہ جائز ہے ۔اسی طرح اور جگہ بھی ۔ اس لیے آپ نے سعد بن وقاص کے جنازہ میں فرمایا کہ ان کا جنا زہ مسجد میں رکھ دو۔ تاکہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھو ں مگر اصحاب رسول ﷺ نے انکار کیا ۔ اور ابی ھریرہ تو جانتے ہی تھے کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا منسوخ ہو گیا ہے ۔ اسی حدیث سے جو انھوں نے رسول مقبول ﷺ سے سنی تھی ۔ پس حدیث ابی ھریرہ سے معلوم ہوا کہ یہ ترک ترک نسخ تھا ۔ لہذا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی نسبت حدیث ابی ھریرہ پر عمل کرنا ا و لی ہے ۔کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ کی حدیث میں اس امر کی خبر ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے مسجد میں سہیل کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔ پس یہ اس وقت کا حکم ہے جب مسجد میں نماز جنازہ مباح تھی اور حدیث ابی ھریرہ اس امر کی خبر ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ۔ لہذا حدیث ابی ھریر ہ ، حدیث حضرت عائشہ صدیقہ کی ناسخ ہوئی ۔ اور اصحاب رسول ﷺ کا حضرت عائشہ صدیقۃ رضی اللہ عنہا سے انکار کرنا دلالت رکھتا ہے ۔ کہ وہ برخلاف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کو مکروہ سمجھتے تھے ورنہ ہرگز انکار نہ کرتے پس یہ جو ہم نے بیان کیا ہے کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے ۔ یہی امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ علیھم اجمعین کا قول ہے ۔ ،،
ا لعطا یا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ جلد چہارم صفحہ ۸۲ تا ۸۴ مطبوعہ نامی پریس لکھنؤ نئی دار اشاعت مبارک پور ضلع اعظم گڑھ ۔مجدد ماتہ حاضرہ حضرت العلامہ مولانا با لفضل اولینا احمد رضا خان صاحب بریلوی رحمت اللہ علیہ نے مسئلہ مذکورہ کو نہایت ہی واضح اور احسن طریقہ سے فرمایا ہے چنانچہ یہ مسئلہ الفتاوی الرضویہ جلد چہارم میں پانچ ،چھ مقامات پر موجود ہے ۔ اس فقیر نے ان صفحات کا حوالہ دے دیے ہیں ۔جو شخص چاہے وہاں ملاحظہ کر کے تسلی کر سکتا ہے ۔ یہاں آپ رحمت اللہ علیہ کے ایک فتاوی کی نقل کر رہا ہو ں ۔ صفحہ ۵۷ بعنوان مسئلہ نمبر ۴۴ اس مسئلہ کے ضمن میں چار سوال کیے گئے ہیں ،چونکہ دو سوالوں کا تعلق اسی موضوع سے اس لئے وہی پیش خدمت ہے
سوال نمبر۱ کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسائل کے بارے میں ؟
رمضان مبارک کے الوداعی جمعہ کو جامع مسجد میں مسلمانو ں کا جنازہ آیا نمازیوں کی بہت زیادہ کثرت تھی نماز جنازہ اگر بیرون مسجد پڑھائی جاوے گی تو نہ صفیں سیدھی ہو گیں۔ بسبب قبروں اور درختوں کے اور نہ نمازی آ سکیں بسبب زیادی کے اور دھوپ تکلیف دہ تھی ۔ روزہ داروں کو اس صورت مذکورہ عذرات کو مد نظر رکھتے ہوئے نماز جنازہ فرش مسجد پر پڑھائی جاوے یا نہیں ؟ اور ثواب ہو گا کہ نہیں ۔
جواب:۔ جنازہ مسجد میں رکھ کر اس پر نماز مذہب حنفی میں مکروہ تحریمی ہے تنویر الابصار میں ہے کہ کرہت تحریما فی مسجد جماعۃ ھی فیہ و اختلف فی الخارجۃ والمختار الکراھۃ نماز جنازہ بہت ہلکی اور جلد ہونے والی چیز ہے ۔ اتنی دیر دھوپ کی تکلیف ایسی نہیں کہ اس کیلئے مکروہ تحریمی کو گوا را کیا جائے اور مسجد کی بے حرمتی روا رکھیں رہی نماز وہ ادا ہو جائے گی ۔فرض اوتر ہو جائے گا اور مخالفت حکم کا گناہ اور نفس نماز کا ثواب اللہ عزوجل کے ہاتھ کوئی مغصوب زمین پر نماز پنچگانہ پڑ ھے ۔
سوال نمبر ۲ :۔اس شخص کے واسطے کیا حکم ہے کہ وہ جانتا ہے کہ تمام مسلمانوں کے عذرات مذکورہ بالا صحیح ہیں اور اندرون مسجد نماز جنازہ آ گیا ہے اور نماز جمعہ بھی ہو چکی ہے مگر وہ جنازہ کو مسجد سے باہر کرتا اور باہر کرکے نماز جنازہ پڑھاتا ہے اور جگہ کی تنگی اور صفوں کی شکتگی اور روزہ داروں کی دھوپ میں کھڑے ہونے کی پروا نہ کرتے ہو ئے نمازیوں کی خواہش شرکت نماز جنازہ کو فوت کرے کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ اس نے مذیب پر عمل کیا ۔ جو بات مذہب میں منع تھی اس سے روکا ، نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ۔ جو مسلمان تنگی جگہ کے سبب نہ مل سکے اور ملنے کو خواہش رکھتے تھے انہیں انشاء اللہ العزیر ملنے ہی کا ثواب ہے ۔ حدیث میں جو جماعت کی نیت سے مسجد کو چلا ۔ نماز ہو چکی اس کے لئے ثواب لکھا گیا ۔
قال اللہ تعالیٰ فقد وقع اجرہ علی اللہ وقال ﷺ انما لکل امرء مانوی۔ واللہ اعلم
ایک اور اعتراض اور جواب
اعترض کیا گیا کہ ,, اس وقت حرم شریف اور مسجد نبوی میں نماز جنازہ پڑھا جاتا ہے ۔ لہذا یہاں مساجد میں کیوں نہ پڑھا جائے ؟
حضرت امام شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ دہلوی مسویٰ میں تحریر فرماتے ہیں کہ مساجد میں نماز جنازہ پر شافعیہ کا عمل ہے ۔ چونکہ اس وقت حرمین الشریفین پر حنفیہ کا اقتدار نہیں ہے ۔ اور ان لوگوں کا اقتدار اور تسلط ہے جو حنفی نہیں ہیں ۔ تو وہ اپنے مسلک کے مطابق عمل کرتے ہیں ان کا عمل ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔ ان کی نماز حنفیوں کی نماز نہیں ان کی تکبیر بھی حنفیوں کی تکبیر کی طرح نہیں ۔ ان کی تراویح بھی حنفیوں کی طرح نہیں اور وہ یہ سب حرمین الشریفین کے اندر کرتے ہیں ۔ لہذا وہ حضرات جنہوں نے یہ اعتراض کیا ہے ۔ وہ اپنی مساجد میں رفع الیدین ، آمین بالجہر ، تکبیر کے الفاظ میں کمی ، تراویح آٹھ رکعت ، وتر ایک رکعت ادا کریں۔ کیونکہ حرمین الشریفین میں ایسا ہوتا ہے ۔ تو فورا تمام لوگ انہیں کہدیں گے کہ حضرت یہ تو وہابی غیر مقلد کرتے ہیں ایسا تو نہیں کہ آپ بھی اسی گروہ کے عقائد قبول کرکے ان میں شامل ہوگئے ہیں ۔ مجدد مائتہ حاضرہ حضرت علامہ مولا بالفضل اولٰنا احمد رضا خان صاحب بریلوی رحمت اللہ علیہ سے بھی یہی سوال پوچھا گیا ۔
الفتاوی الرضویہ جلد ۲ صفحہ ۸۴ مسلۂ ۵۷ مطبوعہ نامی پریس لکھنؤ
سوال :۔ خانہ کعبہ اور مسجد اقدس نبوی میں نماز جنازہ کیوں ہوتی ہے اور جب کعبہ شریف میں نماز پڑھتے ہیں تو مسجد میں کیا حرج ہے ؟
جواب :۔ ہاں شافعیہ کے طور پر ہوتی ہے ۔ حنفیہ کے نزدیک جائز نہیں واللہ تعالیٰ اعلم
تمت بالخیر
از(فقیر) محمد امیر شاہ قادری الگیلانی مدظلہ العالی
ناشر:۔ ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام محلہ قاضی خیلاں بازار کلاں پشاوراشاعت بار دوئم ۱۹۹۲ء
طالب دعا:۔ کمپوزر باسط حسین قادری
ویمشون بہ مسر عین دون الخبب فاذا بلغوا الی قبرہ کرہ للناس ان یجلسوا قبل ان یوضع من اعناق الرجال و یحفر القبر ویلحد ویدخل المیت فیہ مما یلی القبلۃ فاذا وضع فی اللحد قال الذی یضعہ بسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ
اور دوڑے بغیر اس کے ساتھ جلدی جلدی چلو۔ پس جب اس کی قبر پر پہنچ جائیں تو لوگوں کا بیٹھ جانا مکروہ ہے اس سے پہلے کہ لوگ اس کو اپنے کندھوں سے نیچے رکھیں ۔ پھر قبر کھود کر لحد بنائی جائے اور میت کو قبلہ کی طرف سے قبر میں داخل کیا جائے ۔پس جب لحد میں رکھ دیا جائے تو وہ شخص کہ جس نے اسے رکھا بسم اللہ و علی ملتہ رسول اللہ پڑھے۔
﴿یمشون بہ﴾جنازہ کے ساتھ ذکرالہی کرنے کا مسئلہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حدیث مبارکہ:۔ عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ اذا مرر تم بر یا ض الجنتہ فارتعوا قالوا و ما ریاض الجنتہ قا ل حلق الذکر۔ ( رواہ الترمذی )
ترجمعہ :۔ حضرت انس رضی اللہ سے روایت ھے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم جس وقت جنت کے باغوں سے گزرو تو میوہ خوری کرو ۔ صحابہ ( کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ) نے عرض کیا کہ بہشت کے کون سے باغ ہیں ۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ذکرالہی کے حلقے ہیں۔
اعلی حضرت امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان صاحب فاضل بریلوی رحمت اللہ علیہ کی وصیت
جنازہ میں بلا وجہ شرعی تاخیر نہ ہو ، جنا زہ کے آگے پڑھیں تو تم پہ کروڑوں درود اور ذریعہ قادریہ ،، ( وصیت عہ ۵)
یہ و صیت انجمن حزب الاحنا ف پاکستان لاہور نے زیر نگرانی حضرت صدر العلماء علامہ عصر ابو البر کا ت سید احمد صاحب صدر انجمن
حز ب الاحنا ف پاکستان لاہور طبع کی ہے ۔ اور پھر اس وصیت پر باقاعدہ عمل کیا گیا ْ یعنی اعلی حضرت مرحوم و مغفور کے جنا زے کے آگے یہ نظمیں پڑھی گئیں ۔ چنانچہ اسی وصایا شریف کے صہ ۱۷ سطر ۸ پر لکھا ہو ا موجود ہے ۔ کہ حب وصیت کروڑوں درود والی نظم نعت خوان پڑھ رہے تھے ۔
حاجی الحرمین الشریفین حاجی امداد اللہ صاحب مھاجر مکی رحمت اللہ علیہ کے جنا زہ کے ساتھ ذکر الہی
ہما رے حضرت حاجی صاحب قبلہ نے انتقال کے وقت مولوی اسماعیل صاحب سے فرمایا تھا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میرے جنا زے کے ساتھ ذکر با الجھر کیا جا ئے انہوں نے کہا حضرت یہ تو نا منا سب معلوم ہو تا ہے ۔ ایک نئی با ت ہے جس کو فقہا نے اس خیال سے کہ عوام سنت نہ سمجھ لیں ۔ پسند نہیں کیا ۔ فرمایا بہت اچھا جو مرضی ہو ۔ خیر با ت آئی گئی ہو گئی ۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ہو ئی ۔ کیونکہ خلوت میں گفتگو ہو ئی تھی ۔مگر جب جنا زہ اٹھا تو ایک عرب کی زبان سے نکلا اذکروا اللہ ۔ بس پھر کیا تھا بے ساختہ سب لوگ ذکر کرنے لگے ۔ اور لا الہ الا اللہ کی صدائیں برابر قبر ستا ن تک بلند ہوتی رہیں ۔ بعد میں مولوی اسماعیل صاحب اس گفتگو کو نقل کرکے کہتے تھے کی ہم نے حضرت کو منوا دیا مگر اللہ تعالیٰ کو کیونکہ منو ائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت کی تمنا پوری کر دی سچ ہے ۔
تو چنیں خواہی خدا خواہد چنیں می دہر یزداں مرادمتقین
اللہ تعالی متقین کی مراد پوری کرتا ہے ۔ انہیں اللہ کا نا م سننے سے زندگی میں بھی لذت آتی ہے اور مرنے کے بعد بھی ، اور موت کے بعد غفلت کا کو ئی سبب نہیں تو پھر غافل کیونکر ہو سکتے ہیں۔ فضائل صبر وشکر صہ۴۲۳
از حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب ۔ تھانوی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید الا نبیا ء والمر سلین و علی الہ واصحابہ اجمعین لاسیما علی سید نا الشیخ القطب الربانی والغوث الصمدانی السید ابو محمد عبدالقادر الحسنی الجیلانی رضی اللہ عنہ المکین الامین اما بعد
کثرت سے ذکر الہی کرو۔
ذکر الہی ہر وقت ۔ ہر طریقہ پر ، ہر حا ل میں کوئی منع نہیں ہے ۔ نا جا ئز نہیں ہے ، ناروا نہیں ہے ۔ بلکہ ہر مسلمان کے لئے ضروری اور لازمی ہے کہ ہر آن او ر لمحہ یا د الہی سے غافل اور بے پرواہ ہر گز نہ رہے ۔ اورکثرت سے ذکر الہی کرے رب تعالیٰ جل جلالہ ارشاد فرماتے ہیں ۔
یا ایھا الذین امنوا اذ کروا اللہ ذکر ا کثیر ا اے ایمان والو ! اللہ جلالہ ، کو بہت ہی زیا دہ یا د کرو ( پ۲۲ الاحزاب آیت ۴۱)
اسم اللہ کے ذکر کرنے کا حکم ۔
پارہ ۲۹ سورہ المزمل آیت ۸ میں امر و جوبی کے ساتھ ارشاد خداوندی ہے ۔
واذ کر اسم ربک اور اپنے رب تعالی کے نا م کا ذکر کر،
نماز کے ساتھ ذکر الہی کا حکم
دین اسلام کے بنیا دی ارکان کی ادائیگی کے ساتھ ذکر الہی کا حکم الہی موجود ہے ۔ پ ۲۸ آیت ۱۰ سورۃ جمعہ میں ارشاد ہے
’’ فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ واذکرو ا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون ط فاذا قضیتم الصلوۃ فا ذکروا اللہ قیاما وقعود او علی جنو بکم‘‘
ترجمعہ :۔ پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جا ؤ ۔ اور اللہ کو بہت یا د کر و ۔ اس امید پر کہ فلا ح پا ؤ پھر جب تم نماز پڑھ چکو ۔ تو اللہ کی یا د کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے ۔ ( پ ۵ انسا ۱۰۲)
حج کی ادائیگی کے بعد ذکر الہی کا حکم
پا رہ ۲ سورہ بقرہ آیت ۲۰۰ میں ارشاد خدا وندی ہے کہ جب منا سک حج پورے کر چکو تو بکثرت یا د الہی کرو ۔
’’ فاذا قضیتم منا سک کم فاذکروا اللہ کذکر کم ابآ ء کم او اشد ذکرا ( الا ٓ یہ )
ترجمعہ:۔ پھر جب حج کے کا م پورے کرچکو ۔ تو اللہ کا ذکر کرو ۔ جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے ۔ بلکہ اس سے زیا دہ ۔
جہا د میں ذکر الہی کا حکم
جب جہاد ہو رہا ہو ، معرکہ کا ر زار گرم ہو ، موت سامنے دکھا ئی دے رہی ہو تو اس وقت بھی ارشاد خداوند قدوس ہے ۔
یا ایھا الذین امنو ا اذا لقیتم فئۃ فاثبتو ا و اذ کرو ا اللہ کثیر ا لعلکم تفلحون ہ
ترجمعہ :۔ اے ایمان والو ۔ جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو ۔ تو ثابت قدم ر ہو اور اللہ کی یا د بہت کرو کہ تم مراد کو پہنچو ( انفال۔ ۴۵)
ذکر الہی سے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے
اللہ تبارک و تعالی نے تو اپنے ان بند وں کو ذکر ہی ان مبا رک الفاظ کے ساتھ کیا ہے جو کہ اس ذات اقدس کی طرف کلی طور پر رجوع کرتے ہیں ۔ اور اس کے فضل و کرم سے یا د الہی کرکے دولت ایمان اور عمل صالح کی نعمت لازوال ان کو حاصل ہو جا تی ہے ۔ جس کی بدولت اللہ جل شانہ کے انعامات کثیرہ کے مستحق ہو جا تے ہیں ۔
نیز دنیا اور آخرت میں کا میاب و سرخ رو ہو جا تے ہیں ۔ (پ۱۳ رعد آیت ۲۸۔۲۹)
’’ الذین امنوا و تطمئن قلوبھم بذکراللہ ط الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ہ الذین امنوا و عملوالصلحت طوبی لھم وحسن مآب ہ۔‘‘ ترجمعہ :۔ وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یا د سے چین پاتے ہیں ۔ سن لو اللہ کی یا د ہی میں دلوں کا چین ہے وہ جو ایمان لائے اور اچھے کا م کئے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام ۔۔
ذکر الہی کرنے والے ہی صاحبان عقل ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے تو صاحبان عقل کی تعریف ہی یہی فرمائی ہے کہ وہ تما م احوال میں یا د الہی کرتے رہتے ہیں ۔
’’ الذین یذکرون اللہ قیا ما و قعود ا و علی جنوبھم ( الآ یہ )
ترجمعہ:۔ جو اللہ کی یا د کرتے ہیں ، کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر ( پ۴ آل عمران آیت ۱۹۱)
صغیرہ اور کبیرہ گنا ہوں کی معافی ذکر الہی پر موقوف ہے ۔
جب کسی سے کو ئی صغیرہ یا کبیرہ گناہ سرزد ہو جا ئے ۔تو اس کی بخشش اور معافی بھی ذکر الہی پر موقوف رکھی ( آل عمران میں ارشاد ہے )
’’والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسھم ذکرو ا اللہ فاستغفر والذنو بھم ۔‘‘( الآیہ)
ترجمعہ:۔ اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی اور اپنی جانوں پر ظلم کریں ۔ اللہ کو یا د کر کے اپنے گنا ہوں کی معانی چاہیں ۔
مومنوں کے دل یا د الہی سے ڈرتے ہیں ،
اللہ تبارک و تعالی نے جہا ں مو منین کی تعریف میں یہ فرمایا کہ جب ان پر قر آن مجید کی تلاوت ہو تو ان کا ایما ن ترقی پا تا ہے ۔ اور ان کا بھروسہ اپنے رب و تعالیٰ پر ہو تا ہے ۔ وہ نما ز کو قائم رکھنے والے ہوتے ہیں وہ ہما ری عطا کی ہو ئی دولت سے خرچ کرتے والے ہوتے ہیں ۔ وہا ں پر ان ایمان داروں کی پہلی صفت ہی یہ بیا ن فرمائی کہ جب اللہ کی یا د کی جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں ۔ ( انفال آیت ۲۔۳)
’’انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلو بھم وازا تلیت علیھتم ایتہ زاد تھم ایمانا وعلی ربھم یتوکلون و الذین یقیمون الصلوۃ و مما رزقنھم ینفقون ہ‘‘
ترجمعہ :۔ ایمان والے وہی کہ جب اللہ کو یاد کیا جا ئے ان کے دل ڈرجائیں ۔اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جا ئیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھر وسہ کریں وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں ۔
بے ایمان اللہ وحدہ لاشریک کی یاد سے کبیدہ خاطر ہو جا تے ہیں
جن لوگوں کا آخرت پر یقین نہیں ہے وہی تو یا د الہی کے وقت کبیدہ خاطر اور متنفر نظر آتے ہیں انہی کے چہروں سے ناگواری کے اثار ظاہر ہونے لگتے ہیں اور پر یشان ہو جاتے ہیں ۔ ( پ۲۴ الزمرآیت ۴۵ )
’’ واذا ذکر اللہ وحدہ اشمأزت قلوب الذین لا یو منو ن بالاخرۃ ‘‘( الآیہ)
ترجمعہ:۔ اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جا تا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل سخت کبیدہ اور متنفرہو جا تے ہیں ۔
منا فق کی شنا خت :۔
منا فق کی علامات بیا ن کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی علامت بیا ن فرمائی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی یا د کرتا ہی نہیں اور کرے تو بہت کم ۔
’’ان المنا فقین یخٰد عون اللہ وھو خاد عھم و اذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یرآون النا س ولا یذکرون اللہ الا قلیلا ‘‘
ترجمعہ :۔ بے شک منا فق لوگ اپنے گما ن میں اللہ کو دھوکا دے رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ انکو اس دھوکہ کی سزا دینے والا ہے ۔ اور یہ
منا فق جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں ۔ تو محض لوگو ں کے دکھلانے کو بڑی کا ہلی اور بدولی سے کھڑے ہوتے ہیں اور خدا کا ذکر بھی نہیں کرتے مگر بہت کم ۔
اللہ تعالیٰ کے فر شتے یا د الہی کرنے والوں کو راستوں میں تلاش کرتے ہیں ۔
’’عن ابی ھریر ۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ ان للہ ملائکۃ یطوفون فی الطریق یلتمسون اھل الذکر فاذا وجدوا قو ما یذکرون اللہ تنادوا ھلموا الی حا جتکم قال فیحفو نھم باجنتھم الی السماء الدنیا ‘‘ ( مشکوۃ ج ا ۔۱۹۷ )
ترجمعہ :۔ حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ، راہوں میں پھر کر ذکر نے والوں کو ڈھونڈھتے ہیں ۔ جب اللہ تعالی ٰ کا ذکرکر نے والوں کی جما عت کو پالیتے ہیں ۔ تو آپس میں ایک دوسرے کو پکا رتے ہیں کہ اپنے مطلب کی طرف آؤ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا پھر فرشتے ان کو اپنے پروں سے آسمان دنیا تک گھیر لیتے ہیں ۔
بہتر ین ۔ بلند اخلاق اعلیٰ کردار کا مالک وہ ہے جس کی زبا ن پر مرتے دم تک ذکر الہی جا ری ہو ۔
’’عن عبد اللہ بن بسر قال جا ء اعرابی الی النبی ﷺ فقال ای النا س خیر قال طوبی لمن طال عمرہ و حسن عملہ قال یا رسول اللہﷺ ای الا عمال افضل قال ان تفارق الدنیا و لسانک رطب من ذکر اللہ رواہ احمد والترمذی
( مشکوۃ المصابیح صہ۱۹۸)۔‘‘
ترجمعہ :۔ حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک گنوار رسول خدا ﷺ کی خدمت میں آیا پھر عرض کیا کہ کو نسا عمل بہتر ہے ۔تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا خوشحالی اس شخص کے لیے جس کی عمر لمبی اور عمل اچھے ہو ں اس نے عرص کی یا رسول اللہ ﷺ کو ن ساعمل افضل ہے رسو ل اللہ نے فرمایا یہ کہ تو دنیا سے رخصت ہو اور تیری زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر ہو ۔
ارشاد سید الکا ئنا ت ﷺ ۔ ذکر الہی کے حلقے جنت کے باغ ہیں ۔
’’وعن انس قال قال رسول اللہ ﷺ اذ ا مر ر تم بر یا ض الجنۃ فارتعوا قالوا وماریاض الجنۃ قال حلق الذکر ۔
( رواہ التر مذی ) ۔،،
ترجمعہ :۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم جس وقت بہشت کے باغوں سے گزرد تو میوہ خوری کرو ۔ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ) عرض کیا کہ جنت کے کو نسے باغ ہیں ۔(رسول اکرم ﷺ نے ) فرمایا ذکر کے حلقے ہیں ۔
جو مجلس ذکر الہی کے بغیر ہی ختم ہو جا ئے ۔ اس پر افسوس اور حسرت ہے ۔
’’عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺما من قوم یقو مون من مجلس لا یذکرون اللہ فیہ الا قامواعن مثل جیفۃ حمار وکان علیھم حسرۃ رواہ احمد ابو داؤد ( مشکوۃ المصابیح صہ ۱۹۸)‘‘
ترجمعہ:۔ حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں کھڑی ہوئی قوم کسی مجلس سے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا ہو مگر کھڑے ہوئے مردار گدھے کی طرح اور ان پر حسرت وافسو س ہے ۔
ذکر الہی ہی ایک ایسا پاکیزہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے ۔
’’ عن معاذ بن جبل قال ما عمل العبد عملا انجی لہ من عذاب اللہ من ذکر اللہ رواہ مالک والترمذی و ابن ماجۃ ‘‘
ترجمعہ:۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بند ے کا کوئی عمل ایسا نہیں جو اسے عذاب الہی سے بہت زیا دہ نجا ت دے بغیر ذکر اللہ تعالیٰ کے روایت کیا اسکو امام مالک و ترمذی اور ابن ماجہ نے بوقت ذکر ذاکر کو قرب الہی حاصل ہو جاتا ہے ۔
’’عن ابی ھریرۃ قا ل قال رسول اللہ علیہ وسلم ان اللہ یقول انا مع عبدی اذ ا ذکر نی و تحرکت بی شفتاہ رواہ البخا ری ۔‘‘ ( مشکوۃ المصابیح )
ترجمعہ:۔ حضرت ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ سے رو ایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تحقیق اللہ تعالی فرماتا ہے میں اپنے بندے کیساتھ ہوں جس وقت وہ مجھے یا د کرتا ۔
اور میرے ذکر کے ساتھ اپنے دونوں ہو نٹ ہلاتا ہے اس حدیث کو بخا ری نے روایت کیا ہے ۔ ذکر الہی سے قلب کے زنگ اتر جا تے ہیں
’’عن عبد اللہ بن عمر عن البنی ﷺ انہ کا ن یقول لکل شی صقا لۃ و صقالۃ القلوب ذکر اللہ وما من شی انجی من عذاب اللہ من ذکر اللہ قالوا ولا الجھاد فی سبیل اللہ قال ولا ان یضرب بسیفہ حتی ینقطع رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر ( مشکوۃ المصابیح ) ۔‘‘
ترجمعہ:۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ وہ نبی اکر م ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا ۔ ہر چیز کے لئے صفائی ہے اور دلوں کی صفائی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑھ کر بندے کو کوئی شے زیا دہ نجات دینے والی نہیں ( صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ) عرض کیا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد بھی نہیں ( آنحضور ﷺ نے ) فرمایا یہاں تک تلوار چلائے کہ وہ ٹوٹ جائے تو بھی نہیں اس حدیث کو بہیقی نے دعوات کبیر میں روایت کیا ۔
قرآن مجید اور احادیث مبارک سے واضح ہو گیا کہ ذکر الہی کرنے کا حکم ہر مسلمان مرد اور عورت پرہر آن اور ہر لمحہ امر و جوبی ہے ۔ اسی لئے حضرات فقریٰ اسلام و صوفیائے عظام فرماتے ہیں کہ ,, یک دم غافل سودم کافر ،، اب رہا جنازہ کے آگے ذکر الہی کرنا ، تو جنازہ کے آگے ذکر الہی کرنا نہ فرض ہے نہ واجب ، بلکہ علما ء اہل سنت و جماعت فقر یٰ اسلام اور صوفیا ء کرام نے اس کو مستحن لکھا ہے اور تقریبا چھ سو برس سے حضرات علماء کرام اس کے مستحن ہونے پر فتویٰ صادر فرما چکے ہیں ۔ اسی وجہ سے مد ت مدید اور زنا نہ قدیم سے پشاور شہر میں حضرات سادات کرام کے جنازوں کے آگے ذکر الہی کے حلقے ہوتے ہیں ۔ اور صلوۃ و سلام پڑھا جاتا ہے ، کبھی بھی اور کسی وقت بھی علمائے اہل سنت و جماعت نے سادات کرام کے حلقہ ہا ئے ذکر الہی کرنے یا صلواۃ سلام کہنے پر اعتراض نہیں کیا ۔ بلکہ خود بنفس ان حلقہ ہا ئے ذکر میں شامل ہوئے ۔ یہاں تک کہ جس وقت علمائے اہل سنت و جماعت سے کوئی عالم فوت ہوا ۔ تواس کے جنازہ کے آگے بھی ذکر الہی کیا گیا ۔ حضرت استاذ گرامی شیخ التفسیر والحدیث ، عالم علوم ظاہری و باطنی ، علامہ وقت مولینا باالفضل اولینا حافظ گل فقیر احمد صاحب گولڑوی خطیب جامع مسجد میاں صاحب قصہ خوانی رحمت اللہ علیہ نے اس فقیر کو احباب کی موجودگی میں فرمایا کہ میرے جنازے کے آگے بہت زیادہ ذکر کرنا ۔ الحمد اللہ کہ آپ کا ارشاد پورا ہوا ۔ آ پ کے جنازے میں سنیکڑوں علماء فضلا ء اور مشائخ کرام موجود تھے ، حلقہ ہائے ذکر الہی میں شامل ہوئے اور آپ کے جنازے پر ہر مکتبہ فکر کے علماء تشریف لائے ہوئے تھے ۔کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا ۔ اسی طرح مفتی سرحد استاذ العلماء حضرت مولانا مولوی عبدالحکیم صاحب پوپلزئی مرحوم و مغفور کے جنا زے کے آگے ذکرالہی ہوتا رہا نہ تو کسی نے اعتر اض کیا ۔اور نہ ہی منع کیا ۔
گذشتہ دنوں یہ فقیر بیمار تھا کہ استاذ گرامی منز لت محدث جلیل حضرت علامہ مولینا مولوی عبد المنا ن صاحب رحمت اللہ علیہ کا انتقال ہوا ۔ چنا نچہ حسب معمول ایک عالم اجل کے جنا زے کے آگے ذکر الہی ہو ا ۔ بعض بزعم خویش ,, علامہ ،، قسم کے مولویوں نے منع کیا اور قلت عرفان اور کمی علم کی بنا ء پر شدت اختیار کرتے ہوئے اس ذکر کو حرام تک کہدیا ۔ نعوذ با اللہ من ذالک اور جب ذاکر حضرات اور عوام مصر ہو گئے ۔ تو پھر کہا کہ جنا زہ کے آگے ذکر نہ کرو پیچھے کرو۔ وغیرہ وغیرہ ۔
چونکہ سادات کرام کا زمانہ قدیم سے یہ معمول ہے کہ وہ جنا زہ کیساتھ ذکرالہی کرتے ہیں لہذا جو سید صاحب اس فقیر کی عیادت کو تشریف لائے ۔ انہوں نے اس جھکڑے کا تذکر ہ کیا ۔ اور اس قسم کا مطالبہ کیا کہ اس مسئلہ پر واضح طور پر روشنی ڈالی جائے تاکہ یہ سستی شہرت حاصل کرنے والے برائے نا م ,, علامہ ،، عوام میں بے اتفاقی، جھگڑا اور فساد کی ایک نئی بنیاد نہ کھڑی کریں۔
نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ مستحبات اور امور مستحسنہ پر حضور شفیع المذنبین رحمت اللعالمین احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی امت کو تقسیم کیا جا تا ہے ۔ ٹکڑے ٹکڑے کیا جا تا ہے اور ان کے اندر افتراق و تشتت کا بیج بویا جا تا ہے ۔ اس وقت تو سرکار دو عالم ﷺ کی تعلیمات مبارکہ پر آپ ﷺ کی سنت مطہرہ پر اور حضور پر نور ﷺ کے عزت و نا موس پر امت مرحومہ کو جمع کیا جا ئے ۔ متحد کیا جائے ۔ متفق کیا جا ئے ۔ تاکہ یہ بگڑی ہوئی حالت درست ہو نہ کہ ان میں بے اتفاقی پیدا کی جا ئے ، جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے روف و رحیم نبی کریم ﷺ نے ہر ممکن طریقہ سے منع فر ما یا ہے ۔ از ( فقیر ) محمد امیر قادری یکہ توت پشاور
﴿القبر﴾قبر دوقسم پر ہے ،ایک لحد اور دوسری شق ( چیرویں ) دونوں سنت ہیں ۔حضورﷺ کی اپنی قبر مبارک لحد ہے ، حضور ﷺ کے وصال کے بعد یہ مسلہ ہوا کہ قبر مبار ک کیسی بنائے جائے اس وقت حضر ت طلحہ لحد کھودنے میں اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح شق ( چیرویں ) کھودنے میں ماہرتھے۔فیصلہ یہ ہوا جو پہلے آ ئے گا وہی قبربنائیگا ۔حضرت طلحہ پہلے آئے اس لیے آپ کی قبرمبارک لحد بنائی گی
﴿ملت﴾ملت کے معنی طریقہ دین اور مذہب کے ہیں ۔یعنی ہم نے تم کو حضور کے دین پر سپرد کیا
و یوجہ الی القبلۃ علی شقہ الایمن ویحل العقدۃ عنہ ویسوی اللبن علی اللحد ویکرہ الاجرو الخشب ولا با س بالقصب ثم یھال التراب علیہ ویسنم القبر ولا یسطح ومن استھل بعد الولادۃ سمی وغسل وکفن وصلی علیہ ثم دفن وان لم یستھل ادرج فی خرقۃ ولم یغسل ودفن و لم یصل علیہ
اور دائیں پہلو پر اس کو قبلہ رخ کیا جائے اور کفن کی گرہیں کھول دی جائیں ۔ اور کچی اینٹیں اس پر برابر رکھ دی جائیں ۔ اور پکی اینٹیں اور لکڑیاں مکروہ ہیں ۔ مگر بانس وغیرہ میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ پھر اس پر مٹی ڈال کر کوہا ن والی قبر بنائی جائے اور ہموار نہ کی جائے اور جس نے پیدا ہونے کے بعد آواز نکالی تو اس کا نام رکھا جائے ا سے غسل اور کفن دیا جائے اور اس پر نماز پڑھ کر اسے دفن کیا جائے اور اگر آواز نہیں نکالی تو ایک کپڑے میں لیپٹ کر دفن کر دیا جائے اور اسے غسل نہ دیا جائے اور نہ اس پر نما ز پڑھی جائے ۔
﴿یوجہ الی القبلۃ﴾ہمارے یہاں ہر کوئی اپنی بولتاہے جبکہ حکم یہ ہے کہ قبلہ رخ کردیاجائے
﴿الخشت﴾ اگر زمین کمزور ہے یا ینوے وغیرہ ہیں تو فقہاء نے اجازت دی ہے کہ پکی اینٹیں اورکانٹے دار گھاس لگاسکتے ہیں ہمارے یہاں کائی ہوتی ہے اور پھوڑی بھی ڈالی جاتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں
﴿یسنم القبر﴾عیسائی اور یہودیوں کی قبر یں ہموار ہوتی ہیں اس لیے مشابہت سے بچنے کے لیے یہ حکم ہے تاکہ مسلمان کی قبر کا پتہ چل سکے ۔
باب الشھید
الشھید من قتلہ المشرکون او و جد فی المعرکۃ قتیلا وبہ اثر الجراحۃ او قتلہ المسلمون ظلما ولم یجب بقتلہ دیۃ فانہ یکفن مع ثیابہ الذی ھو فیہ ویصلی علیہ ولا یغسل واذا استشھد الجنب غسل عند ابی حنیفۃ شہید کے بیان میں
شہید وہ ہے کہ جسے مشرکین قتل کریں یا میدان جنگ میں قتل کیا ہو ا پایا جائے اور اس پر زخم کا نشان ہو یا مسلمانوں نے ناجائز طور پر اسے قتل کیا ہو ۔اور اس کے قتل سے دیت واجب نہیں ہوتی ۔ پس تحقیق اسے انہی کپڑوں میں کفن دیا جائے کہ جن میں وہ تھا اور اس پر نماز پڑھی جائے اور غسل نہ دیا جائے ۔ اور جب شہید جنب کی حالت میں ہو تو امام ابو حنیفہ رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک اس سے غسل دیا جائے ۔
﴿شہید﴾شہید کے لغوی معنی ہیں گواہ ،موجود ۔ شاہداسی سے نکلا ہے جیسے ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر شاہد ہے ‘‘ اصطلاح شریعت میں شہید کے دوقسمیں ہیں
(۱) شہید حقیقی ۔ جو اللہ تعالیٰ کی رضاکے لیے جہاد میں کافروں سے لڑتے ہوئے جان دے دے ۔اس کو نہ غسل دیا جائے گا اورنہ کفن ۔ انہی کپڑوں میں دفن کر دیا جائے گا ۔ہمارے یہاں ایسے شہید کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے جبکہ بعضوں کے نزدیک اس کی نماز جنازہ بھی نہیں۔
(۲) شہید حکمی ۔جیسے عورت بچہ جنتے ہوئے مرجائے ،طاعون میں ،پیٹ کی بیماری سے ، دیوار کے گرنے سے یا پانی میں ڈوب کے مر جائے ۔ان لوگوں کو غسل اور کفن دیا جائیگا ۔نماز پڑھی جائے گی ۔ اور شریعت کے مطابق دفن کیا جائے گا ۔
وکذلک الصبی والمجنون والحائض والنفساء وقالا لا یغسل ولا یغسل عن الشھید دمہ ولا ینزع عنہ ثیابہ وینزع عنہ الفرو والخف والحشو والسلاح والقلنسوۃ ومن ارتث غسل والا رتثاث ان یا کل اویشرب او یداوی او یبقیٰ حیا حتی یمضی علیہ وقت صلوۃ کاملۃ
اور اسی طرح بچہ کو اور مجنون کو اور حیض والی کو اور نفاس والی کو بھی غسل دیا جائے ۔ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ غسل نہیں دیئے جائیں گے ۔ اور شہید کا نہ خون دھو یا جائے اور نہ اس کے کپڑے اتارے جائیں لیکن پوستین ، موزے ، روئی دار کپڑے ، ہتھیار اور ٹوپی اتاری جائے ۔ اور جس شخص نے نفع حاصل کیا ہو تو اسے غسل دیا جائے اور نفع حاصل کرنا یہ ہے کہ کھائے یا پیئے یا علاج کروائے یا اتنی دیر زندہ رہا کہ اس پر پوری نماز کا وقت گذر گیا
﴿الصبی﴾بچہ اگر شہید ہوگیا تو اسے غسل دیا جائے گا کیونکہ شہادت حقیقی کے لیے عاقل و بالغ ہونا شرط ہے
﴿الفرء﴾ جیسے چمڑے اور فر کیبنیہوئی چیزیں ۔جیکٹ یا کوٹ وغیرہ ۔
﴿الحشوء﴾سوئیٹر وغیرہ ۔
وھو یعقل او ینقل من المعرکۃ حیا ومن قتل فی حد اوقصاص غسل
وصلی علیہ ومن قتل من البغاۃ اوقطاع الطریق لم یصل علیہ ومن قتل نفسہ
عمدا اوخطاء صلی علیہ وغسل عندنا و عند ابی یوسف لا یصلی علیہ
اس حال میں کہ وہ عاقل تھا ۔ یا میدان جنگ سے زندہ لے جایا گیا ۔ اور جو حد یا قصاص میں قتل کیا گیا تو غسل دیا جائے اور اس پر نماز پڑھی جائے اور اگر باغیوں یا راہزنو ں میں سے کوئی قتل ہوا تو غسل دیا جائے مگر اس پر نماز نہ پڑھی جائے ۔ اور جس نے جان بوجھ کر یا غلطی سے خودکشی کرلی تو ہمارے نزدیک اس پر نماز پڑھی جائے اور غسل بھی دیا جائے ۔ اور امام ابو یوسف کے نزدیک اس پر نماز نہ پڑھی جائے ۔جو باغی یا راہزن مارا جائے اس پربھی نمازنہ پڑھی جائے۔
﴿حد﴾یعنی اس پر زنا کا الزام ثابت ہو ا اور اسے رجم کیا گیا
﴿قصاص﴾اس پر قتل کا الزام ثابت ہوگیا اورسزا میں اس کو موت دی گئی
﴿البغاۃ﴾شرعی حاکم کے خلاف بغاوت کی او رمارا گیا
﴿قطاع الطریق﴾قطاع نکلا ہے قطع سے یعنی کا ٹنا ،روکنا اورطریق کا معنی ہے راستہ ،یعنی راستہ کا ٹنے والا
﴿یصلی علیہ﴾یہ زجر وتو بیخاہے اور سزا کے طور پر ہے یہ امام ابو یوسف سے روایت ہے ۔امام محمد سے روایت ہے کہ غسل دیا جائے اوراس پر نماز نہ پڑھی جائے ،جان لو کہ جب باغی پکڑا جائے اورسزا کے طور پر قتل کیا جائے تو اسے غسل بھی دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ بھی ہو گی ۔اورجب قتل ہومقابلہ کرتے ہوئے تو اس پر نما زنہ پڑھی جائے
﴿عمدا﴾جس نے ارادے سے خودکشی کی تو بعضوں نے کہا کہ کہ اس پر نما زنہ پڑھی جائے ،جب ’’قال بعضھم‘‘ آئے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ قول ضعیف ہے ۔حلوانی نے کہا میر ے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اس پر نما زپڑھی جائے ۔امام ابو علی سعدی نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ اس پر نماز نہ پڑھی جائے اس لیے کہ اس نے اپنی جان سے بغاوت کی اور باغی پر نماز نہیں پڑھی جاتی ۔اور فتاوی قاضی خان میں ہے کہ غسل دیا جائے اور نما زپڑھی جائے اس پر ،ہمارے نزدیک ۔اس لیے کہ وہ کبیرہ گناہ کرنے والوں میں سے ہے اوراس نے مسلمانوں سے جنگ نہیں کی۔
باب الصلوۃ فی الکعبۃ
الصلوۃ فی الکعبۃ جائزۃ فرضھا ونفلھا فان صلی الامام بجماعۃ فیھا فجعل بعضھم ظھرہ الی ظھر الامام جازت صلوتہ ومن جعل منھم ظھرہ الی وجہ الامام لم یجز صلوتہ واذا صلی الامام فی المسجد الحرام فتحلق الناس حول الکعبۃ وصلوا بصلوۃ الامام
خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کے بیان میں
خانہ کعبہ میں نماز پڑھنا جائز ہے فرض نماز ہو یا نفل نماز ہو ۔ اور اگر خانہ کعبہ میں امام جماعت کے ساتھ نماز پڑھے تو اگر بعض مقتدی اپنی پیٹھ امام کی پیٹھ کی طرف کر لیں تو ان کی نماز جائز ہے اور مقتدیوں میں سے جو اپنی پیٹھ امام کے منہ کی طرف کرے تو اس کی نماز جائز نہیں ہے اور جب امام مسجد حرام میں نماز پڑھے تو لوگ کعبہ کے گرد ا گرد حلقہ بنا کر امام کے ساتھ نما ز پڑھیں
﴿کعبہ﴾کعبہ شریف وہ عمارت ہے جو مسجد حرام کے صحن میں مربع شکل میں ہے اورحج وعمرہ کرنے والے اس کا طواف کرتے ہیں ۔ ایسے بیت اللہ الحرام بھی کہا جاتاہے ۔مسلمان جہاں بھی ہوں اسی کی طرف رخ کر کے نما زپڑھتے ہیں ۔
﴿فرضھاونفلھا﴾کعبہ شریف کے اندر ہر نماز جائز ہے ۔فرض ہویا نفل تنہا پڑھے یا جماعت سب طرح جائز ہے ( درمختار)
فمن کان منھم اقرب الی الکعبۃ من الامام جازت صلوتہ اذا لم یکن فی جانب الامام ومن صلی علی ظھرالکعبۃ جازت صلوتہ ویکرہ وان لم یکن بین یدیہ سترۃ عندنا وعند الشافعی لا یجوز الا ان یکون بین یدیہ سترۃ وانکان بین یدیہ سترۃ فلا یکرہ
اور ان میں سے جو امام کی نسبت کعبہ کے زیادہ قریب ہو تو اس کی نماز جائز ہے جبکہ امام کی جانب نہ ہو ۔ اور جس نے کعبہ کی چھت پر نما ز پڑھی تو اگر چہ اس کے سامنے سترہ نہ ہو پھر بھی ہمارے نزدیک اس کی نماز جائز ہے مگر مکروہ ہے ۔ اور امام شافعی کے نزدیک جائز نہیں مگر یہ کہ اس کے سامنے سترہ ہو ۔ اور اگراس کے سامنے سترہ ہو تو مکروہ نہیں ہے ۔
﴿جانب الامام﴾کیونکہ اس طرح وہ امام سے آگے بڑھ جائے گا
﴿سترۃ﴾سترہ ، اس چیز کو کہتے ہیں جوکہ نمازی کے آگے کھڑی کی جاتی ہے تاکہ اگر لوگ اس کے آگے سے گزریں تواس کی نمازپر فرق نہ پڑے۔
﴿ ظہرالکعبۃ﴾کیونکہ آسما ن تک تمام فضاء کعبتہ اللہ کی فضا ہے لہذا عمارت کے اوپر نماز جائز ہے التبہ بے ادبی کے پیش نظر ایساکرنا مکروہ ہے ۔
کتاب الزکوۃ
کتاب زکوۃ
﴿الزکوۃ﴾اسلام کے پانچ ارکان جنہیں بناء الاسلام کہاجاتا ہے یعنی کلمہ طیبہ ،لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ نما ز،زکوۃ ،روزہ اور حج میں سے زکوۃ تیسرا رکن ہے اس کے لغوی معنی پاک ہونے ،پاک کرنے اور بڑھنے کے ہیں ۔اصطلاح شرع میں چالیسواں حصہ مال نصاب کا ،پورا قمری سال گزرنے پر مستحقین کو خدا کی راہ میں تقسیم کرکے اس مال کے مالک بنادینے کا نام زکوۃ ہے جو لوگ زکوۃ پابندی احکام کے ساتھ پوری ادا کرتے ہیں ان کے مالوں میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا بلکہ بڑھتاجاتا ہے حضورسرکار دوعالم ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ’’ زکوۃ نکالنے سے مال نہیں گھٹتا‘‘زکوۃنہ نکالنے والوں کے مالوں میں بسااوقات بربادی ،تباہی اور غرقابی دیکھی جاتی ہے ۔چونکہ اس سے مال بڑھتا اور پاک ہوتاہے اس کا دینے والا گناہوں سے صاف ہوکر درجات وثواب میں بہت بڑھ جاتا ہے وہ اس لئے اس کہ مسلمان کے لئے دعوی صحت ایمان میں اس کی ادائیگی اس کے صدق وصداقت اور کامل الایمان ہونے کی دلیل ہے ۔قرآن مجید میں اس کی ادائیگی کا ذکر اور تاکید بقول اکثر فقہاء ۲۸جگہ اوربہ حوالہ بیان طحطاوی نماز زکوۃ کا ملاہوا حکم ۳۲ جگہ بتاکیدآیاہے اتنی تاکیداور کثرت کیساتھ احکام نافذ فرمانے سے اس کی اہمیت ،شان اور وقعت کا انداز ہو سکتاہے طحطاوی نے یہ پھر بھی لکھا ہے کہ نماز کے بعد زکوٰۃ باقی تمام عبادات سے افضل اور بہتر ہے ’’ ذکرت بعد الصلوۃ لانھا افضل العبادات‘‘
قرآن کریم میں پہلے ہی پارہ سے اس کا ذکر شروع ہوتاہے اورتقویٰ دارپرہیزگاروں کے لئے ایمان بالغیب کی صفت فرماکردوبنیادی اصول قائم فرمائے گئے۔(۱ ) یقیمون الصلوۃ (۲) وممارزقنٰہم ینفقون ۔صاحب اعظم التفاسیر نے لکھا ہے کہ ان سے مراد عبادت بدنی اور عبادت مالی ہے ۔تمام بدنی عبادتوں میں سب سے ضروری اورسب پر مقدم عبادت نماز ہے حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن پہلے محاسبہ نماز کا ہوگا۔دوسرا شعبہ مالی عبادتوں کا ہے جن میں انفاق یعنی خرچ کرنے کا حکم ہے ان مالی عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت زکوۃ ہے ۔حدیث شریف میں نماز کو ستون دین اور زکوۃ کو اسلام کا پل بتلایا گیا ہے ۔دیکھے ایک ستون ٹوٹ جانے سے چھت کا بچے رہنا ممکنات سے ہو سکتا ہے لیکن پل ٹوٹ جانے سے بچاؤ کی صورت بہت ہی مشکل پڑجاتی ہے ۔جولوگ سیم وزرجمع کرکے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے نہ زکوۃ ادا کرتے ہیں ان کے لیے قرآن حکیم نے ایک غضبناک لہجہ میں فبشر ہم بعذاب الیم فرمایا ہے یعنی انہیں عذاب دردناک کی بشارت دیجیے بھر ارشاد عالی ہے کہ جس دن اس کو جہنم کی آگ پر گرم کرکے انگارہ بنایا جائے گا پھر ان ( مانعین زکوۃ ) کی پیشانیا ں اور ان کے پہلواور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی اور کہا جائے گا کہ ’’ یہ تمھارا وہی جمع کیا ہو ا مال ہے جو اپنے نفسوں کے لیے جمع کر رکھا تھا اب اس جمع کی ہو ئی دولت وخزانہ کا خوب عذاب و مزہ چکھو‘‘۔(پ۱۰ر۱۱،۱)
حدیث شریف کی کتابوں میں ایک طویل حدیث مبارک بروایت حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدیں خلاصہ آتی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ زکوۃ دینے والے کے لئے قیامت کے دن اس کے مال سے سونے ، چاندی کے تختے آگ میں ایسے گرم کئے جائیں گے گویا آگ ہی کے بنے ہوئے ہیں پھر اس مالدار کی پیشانی ،پیٹھ اور پہلوؤں کو داغا جائے گاداغنے کے بعد پھر اس مال کو دوبارہ تاپ کرداغ دیئے جاتے رہیں گے ۔ اس قیامت کے دن میں جو پچاس ہزارسال کا ہو گا۔’’ کان مقدارہ خمسین الف سنتہ(القرآن الحکیم )عرض کی گئی حضورﷺ اونٹ ،گائے اور بکریوں کے مالک کا کیا حال ہو گا ؟ تو ارشاد ہو اکہ ’’ ان میں زکوٰۃ نہ دینے والے مالک کو منہ کے بل اوندھا گرا کر ہر ایک جانو ر کو پوری طاقت اور جسامت کے ساتھ ان کے اوپر سے گزرنے کا حکم دے کران لوگوں کو لتاڑا جائے گا‘‘۔جب سائل نے گھوڑوں کے متعلق پو چھا توفرمایا کہ ’’ گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں ایک قسم کے گھوڑے تو باعث گناہ ، دوسرے باعث حیاوپردہ اور تیسرا قسم کے گھوڑے باعث ثواب واجر ۔ ریا ونمود نیز مسلمانوں کی دشمنی کے لئے جو شخص گھوڑے باندھتاہے تو ایسے گھوڑے اس کے لئے وبال جان اور باعث گناہوں گے ۔اور جو گھوڑے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی راہ محبت میں نیک نیتی کے ساتھ باندھے ہو ں جن پرسوار ہو کر تجارت ،جہاد یا اپنی زمینوں پر سفر کرتاہے ، لوگوں پر اپنی آسودہ حالی اور عدم افلاس ظاہر کرنے کی خاطر باندھ رکھے ہوں ایسے گھوڑے مالک کیلئے باعث پردہ ہوتے ہیں ․․․․فرمایا کہ وہ گھوڑے جو مسلمانوں کے لئے راہ خدامیں چراگاہ میں باندھ رکھے تویہ گھوڑے باعث اجر و درجات ہیں ۔ ا ن گھوڑوں کی ہر نقل و حرکت ، چلنا ،چرنا ،کھانا ،پینا ، ہر ایک میں مقدار کھانے پینے وغیر ہ کے مالک کے لئے درجات اور ثواب لکھا جا تاہے۔(مشکوۃ ،کتاب الزکوۃ ) ایک اور حدیث شریف میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ تعالی نے مال دیا ہے اور وہ ان میں سے زکوۃ ادا نہیں کرتا تو ’’ مثل لہ مالہ یوم القیامۃ شجاعااقرع ‘‘بنایا جائے گا اس کے لیے اس کا مال قیامت کے دن گنجا سانپ جس کی آنکھوں پر دو کالے ٹیکے یعنی داغ ہو ں گے (ا س قسم کا سانپ بھیانک اور سخت خطرناک ہوتاہے )یہ سانپ مانع زکوۃ کے گلے میں طوق بن کر اس کی دونوں باچھیں پکڑکر کہے گا میں ہی تیر امال ہو ں میں ہی تیرا جمع کیا ہو ا خزانہ ہوں اس کے بعد حضور ﷺنے یہ آیہ کریمہ تلاوت فرمائی ۔ولا یحسبن الذین یبخلون بما اٰتٰہم اللہ من فضلہ ھو خیر الھم بل ھو شرلھم سیطوقون مابخلوا بہ یوم القیا مۃ (صحیح البخاری پارہ ۶باب مانع الزکوۃ ) یعنی جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال دیا ہو اور وہ اس کے خرچ کرنے میں بخل کرتے ہوں تو یہ بخیلی اپنے لئے بہتر نہ سمجھیں بلکہ اس کے لئے ( بلازکوۃ ) مال جمع کرنا بہت ہی برا ہے جو مال اللہ کی راہ میں دینے سے وہ بخیلی کرتے ہوں تو قریب ہے کہ قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا ہا ربنایا جائے گا ‘‘( القرآن الحکیم پارہ ۴)
زکوٰۃ:۔ عام طور پر ا س کو ’’ نما ‘‘ کے معنی میں بولا جاتاہے جس کا معنی ’’بڑھنا ‘‘ہے چونکہ قیامت میں ثواب اور دنیا میں مال و دولت بڑھنے کا سبب ہے لہذا اسے زکوٰۃ کہا گیا ہے ( مظا ہر الحق جلددوئم صفحہ۸۶)یہ کب فرض ہو ئی :۔ بقول شارح مشکوۃ المصابیح یکم ماہ رمضان المبارک ۲ ھجری میں فرض ہو ئی دراصل یہ مکہ معظمہ مں فرض ہو چکی تھی پھر اس کی تفصیل ، تعمیل اور مفصل بیان مدینہ منورہ میں ہو ا ( مظاہر الحق جلددوئم )صاحب درمختار نے ۲ ھجری رمضان مبارک کی فرضیت سے پہلے اس کی فرضیت لکھی ہے ۔
الزکوٰۃ واجبۃ علی الحر المسلم العاقل البالغ اذا ملک نصابا کاملا ملکا تاما وحال علیہ الحول ولیس علی صبی ولا مجنون ولا مکاتب ولا عبد زکوٰۃ
آزاد مسلمان عاقل بالغ پر زکوٰۃ واجب ہے جبکہ وہ کا مل نصاب کا مکمل طور پر مالک ہو اور اس نصاب پر ایک سال گزر گیا ہو ۔ بچہ ، مجنون ، مکاتب اور غلام پر زکوٰۃ نہیں ہے
﴿واجب﴾ کا معنی ہے فرض ضروری ،لازمی زکوٰۃ کی فرضیت کی شرطین :۔ زکوٰۃ کی فرضیت کی شرائط میں نیت کا کرنا ضروری شرط ہے خواہ یہ نیت مال زکوٰۃ کے نکالنے کے وقت ہی کرے یا ادا کرنے کے وقت نیت کرلے دونوں صورتیں درست ہیں ۔اسی طرح اسلام ،حریت مکلف نصاب نامی کا ہو نا بھی شرط ہے ۔اسلام کی شرط کا یہ مسقاد ہے کہ جس طرح اسلام وجو ب زکوٰۃ کے لئے شرط اسی طرح بقائے زکوٰۃ کے ئے شرط ہے فرض کرو کہ ایک مسلمان صاحب نصاب ( معاذاللہ ) مرتد ہو جاتا ہے ۔دوتین سال کے بعد پھر توبہ کے ساتھ حلقہ بگوش اسلام بن جاتا ہے تو امام ارتداد کی زکوہ اس سے ساقط رہے گی ( عالمگیری )
اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ اللہ کریم و غنی کو مرتد خبیث کے مال کی ضرور ت نہیں وہ مرتد خودپلید تھا ۔اللہ تعالیٰ غنی وحمید ہے اسے پلید مال کی ضرورت نہیں ۔مکلف سے مراد عاقل و بالغ ہے ۔پس حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک مجنون اور نابالغ لڑکے کے مال پر زکوٰۃ نہیں ہوتی۔امام مالک ،امام ابویوسف اورامام محمدفرماتے ہیں کہ ان کے ولی کو ان کی طرف سے زکوٰۃاداکرنی چاہیے بشرطیکہ وہ نصابی رقم ، ضروریا ت خاصہ یعنی حاجت اصلی سے فارغ ہو اس صورت میں زکوٰۃ لازم آئے گی ورنہ نہیں ۔حریت کی شرط سے یہ ثابت ہے کہ غلام پر زکوٰۃ نہیں ۔ غلام میں قن مدبر ، مکاتب اور ام ولد سب شامل ہیں جن پر زکوٰۃ نہیں۔ مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس کے مالک نے اسے لکھ دیا ہو کہ اگر تو اس قدررقم کما کر ادا کردے تو تجھے آزاد کروں گا۔ام ولد اس لونڈی کو کہتے ہیں جس نے اپنے آقاسے اولاد جنی ہو
﴿الحر﴾آزاد آگیا تو غلام نکل گیا یعنی غلام پر واجب نہیں
﴿المسلم﴾معلوم ہو ا کہ کافر پر زکوٰۃ نہیں
﴿عاقل﴾عاقل آگیاتومجنون نکل گیایعنی مجنون پر زکوٰۃنہیں
﴿بالغ﴾جب بالغ کہا تو نابالغ پر زکوٰۃ واجب نہیں
﴿نصاب﴾نصاب:۔ لغت میں ’’ اصل ‘‘ کو کہتے ہیں شریعت میں مال کی وہ مقدارنصاب ہے جس سے کم پر زکوٰۃ واجب نہ ہو یعنی حضور سرکار دوعالم ﷺ نے جو خاص مقدار مال رکھنے کی مقررفرما کر حکم دیا ہو کہ جب ا تنی مقدار سے مال بڑ ھ جائے تو اس مال پر اتنی رقم ،اس مقدار میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکال کرمستحقین پر تقسیم کردینا چاہیے ۔جس شخص کے پاس مال نصاب ہو جائے تو اس شخص کو مالک یا صاحب نصاب کہا جاتاہے ۔یہ نصاب دوقسم پر ہے جس کی تفصیل نقشہ ذیل میں ملاحظہ ہو ۔
نصاب
نامی غیرنامی
وہ مال جو کہ بڑھنے والا ہو یہ دوقسم کا ہے نہ بڑھنے والے مال کو کہتے ہیں جو جاجت اصلی کے سوا
ہو جیسے ،اسباب وغیرہ
حقیقی تقدیری
سوداگری کا مال جو کہ نفعسونا ،چاندی جو کہ بظاہر تو نہیں
میں بڑھ جاتاہے یا جانور بڑھتے لیکن بڑھنے کی صلاحیت
جو سبب بچوں کے بڑھتے ان میں موجو دہے
ہیں یہ نصاب نامی کی قسم
حقیقی ہے ۔
نصاب نامی کے ہونے سے زکوٰۃ دینا فرض اور صدقہ فطر وقربانی کا صاحب نصاب غیر نامی پر زکوٰۃ تو فرض نہیں لیکن
کرنا واجب ہو جاتا ہے صاحب نصاب نامی کو زکوٰۃ ،خیرات ،نذر یاصدقہ فطر اور قربانی کا کرنا واجب ہے صدقات واجبہ
صدقات واجبہ کا لینا درست نہیں ۔ اور زکوٰۃکا لینا بھی اسے جائز نہیں ۔
﴿الحول﴾رجب کے مہینے میں آپ مالک نصاب ہوئے پھر اس پر ایک سال گذر گیا اور پھر رجب کا مہینہ آیا اور آپ نصاب کے مالک ہیں تو زکوٰۃ آپ پر واجب ہوگی ،اور اگر سال کے گذرنے سے پہلے آپ مالک نصاب نہ رہے تو زکوٰۃ واجب نہ ہوگی
ومن کان علیہ دین یحیط بمالہ فلا زکوٰۃ علیہ وان کان مالہ اکثرمن الدین زکی الفاضل اذا بلغ نصابا کاملا ولیس فی دور السکنی وثیاب البدن زکوٰۃ وکذلک اثاث المنزل
اور جس شخص پر اس کے مال کے برابر قرض ہو تو اس پر بھی زکوٰۃ نہیں ہے ۔ اور اگر اس کا مال قرض سے زیادہ ہو تو زائد مال پر زکوٰۃ دے جبکہ کامل نصاب کو پہنچ جائے رہاشی گھروں اور پہننے کے کپڑوں میں زکوٰۃ نہیں ہے اور اسی طرح گھریلو ں سامان
﴿دین﴾دین دال کی زبر سے قرض کو کہتے ہیں اور دین دال کی زیر سے قانون شریعت کو کہتے ہیں ۔
﴿اکثر من الدین﴾ کسی کے پاس پچاس ہز ار روپے ہیں اوراتناہی اس پر قرض ہے تو اب اس پر زکوٰۃ نہیں۔اور اگر مال ایک لاکھ روپے اورقرض پچاس ہزار تو باقی پچاس ہزار پر زکوٰۃدے گا ۔اسی طرح کسی نے قرض لیکرکاروبار شروع کیا اور ایک سال میں نصاب سے زیادہ منافع ہو ا توفرض کی رقم نکال کراگر نصاب تک باقی رقم پہنچتی ہے تو زکوٰۃ اداکرے گا ۔
﴿دورالسکنیٰ﴾حاجت اصلی کا ذکر :۔ آپ نصاب غیر نامی اور بحث مکلف میں حاجت اصلی کا نام پڑھ چکے ہیں اس لئے اسے بھی سمجھنا ضرور ی ہے جو مال اصلی حاجتوں میں لگاہو ا ہے جیسے کپڑے یہ حاجت اصلی ہے رہائشی مکان گھر کا اسباب ،بدن کے کپڑے ،سوٹ بوٹ ،سواری کا جانور ،موٹر،بائیسکل ، خدمت کا غلام،استعمال کے ہتھیار ، عالم کے لئے اس کا کتب خانہ ( لائیبریر یا ں ) صنعت و حرفت پیشہ لوگوں کے لئے ان کے اوزار ، ڈاکٹر وں کے قیمتی الات وغیرہ یہ سب حاجت اصلی میں داخل ہیں جن پر زکوٰۃ نہیں ہو تی ّ(ہدایہ ملخصا) لیکن اگر ایسی چیزیں حاجت اصلی سے فارغ ہو ں مگر ان میں تجارت کی نیت نہ ہو خواہ کتنے ہی مکانا ت ، دکانیں وغیر ہ ہو ں تو ان میں زکوٰۃ فرض نہیں ہو جاتی ہے اسی طرح مال ضمار میں زکوٰۃ دینی نہیں پڑتی کیونکہ اس کی ملکیت تو آپ کے لئے ثابت ہے لیکن وہ آپ کے تصر ف میں نہیں ۔دیگر مستشنیا ت زکوٰۃ یعنی وہ چیزیں جن میں زکوٰۃ فرض نہیں جواہرات تا نبے پیتل،گلٹ کے برتنوں اور دکانات کرایہ میں جن میں تجارت کی نیت نہ ہو زکوٰۃ معاف ہے مرہونہ یعنی گروی چیزوں میں بھی ایام رہن کی زکوٰۃ نہیں ، مثلازید نے بکر کے پاس کچھ زیورات گرو رکھے بھر دوسال کے بعد فک کرائے ( یعنی ان زیورات کو چھڑا لیا) ان دوسالوں کی بابت راہن ( یعنی گرورکھنے والا) اور مرتہن ( وہ شخص جس کے پاس کوئی چیزگرو رکھی جائے ) دونوں پر زکوٰۃ نہ ہو گی ( ہدایہ ) مسلہ :۔ اگر پھر مال تجارت کی نیت سے خرید ا لیکنخرید نے کے بعد سال دوسال تک اس پر قبضہ نہ ہو ا۔ جیساکہ آج کل بہری تجارتوں میں مدتوں مال نہیں پہنچتا۔ تو تاوقتیکہ وہ معطل مال قبضہ میں نہ آجائے ۔زکوٰۃ واجب الادا نہیں ہے ( شرح وقایہ ) فقیر راقم الحروف کے نزدیک ( اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے ) اس میں جی پی فنڈکی تعویق والتوا کی زکوٰۃ واجب واللہ واعلم اسی طرح بندوں کے قرضوں پر زکوٰۃ ہوتی ہے اور وہ ایسے قرضے ہیں جن کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہیں ہو سکتاہے مثلانذر ،کفارہ ، صدقہ فطر وغیرہ( شرح وقایہ ) بندوں کے قرضہ کی مثال یہ ہے کہ اگر آپ زید کے دو سو روپوں کے قرضدار ہیں اور آپکے پاس نقد دوسو روپے موجود ہیں تو آپ اس کی زکوٰۃ نہیں دیں گے ۔ صاحب ہدایہ لکھتے ہیں
’’ من کا ن علیہ دین یحبیط بما لہ فلازکوٰۃ علیہ ‘‘ اگر قرضہ کی رقم محسوب ( حساب کی گئی ) کرنے کے بعد باقی مال نصاب سے کم رہ جائے تووہ بھی زکوٰۃ سے مستثنی ہے ۔آپ کے پاس ۱۳۰ روپے تھے اور ۱۰۰ روپیہ قرضہ ۔قرض کی رقم مجرا ( یعنی کٹوتی ) کرنے کے بعد باقی ۳۰ روپے پر زکوٰۃنہیں ہو گی کیونکہ ۳۰روپے نصاب میں نہیں ۔
مسئلہ :۔اگر آپ کا کسی پر قرضہ ہے یعنی آپ قرض خواہ ہیں آپ کا قرض دینے والا خواہ تونگر ہو خواہ مفلس ہو قرضہ کی ادائیگی مانتا ہو خواہ نہیں البتہ اس قرضہ پر گواہ موجود ہوں یا قاضی وقت کو اس کا علم ہو تو ایسے قرضے پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے ۔البتہ اس قسم کے قرضے کی مختلف صورتیں اورادائیگی زکوٰۃ کے مختلف طریقے ہیں ۔شارح مشکوٰ ۃ المصابیح نے تحر یر فرمایا ہے کہ اگر ایساقرضہ مال تجارت کے بدلہ میں ہو تو جس وقت نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو جائے تو پچھلے دنوں کی ز کوۃ ادا کردینی چاہیے ۔اگر یہ قرضہ بعوض مال تجارت کے نہیں مثلاگھر کے پہننے کے کپڑے خدمت کا غلام یا سکونتی مکان وغیرہ فروخت کردیا اور خریدار کے ذمہ رقم قرض رہ گئی تو جس وقت بقدر نصاب
( دوسو درہم ) رقم وصول ہو اس وقت پیچھلے دنوں کی زکوٰۃ واجب الادا ہو گی ۔ اگر قرضہ بدل بلامال کے ہو مثلا مہر ، وصیت ،بدل خلع تو اس میں ایام تعطلہ کی زکوٰۃ نہیں جس وقت ایسی رقوم بقدر نصا ب وصول ہو ں اور ان پر سال کامل گز رجائے تو زکوٰۃ واجب الاداہو گی ،ورنہ نہیں ۔ ( مظاہر الحق جلددوئم کتاب زکوٰۃ )
مسئلہ :۔ اگر کسی یتیم کو ادائے زکوٰۃ کی نیت سے کھانا کھلایا تو زکوٰۃ کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ اس میں تملیک نہیں پائی جاتی ۔ لیکن اگر کھانے کی چیز مثلافروٹ وغیرہ خریدکر یتیم کے حوالے کر دیا تو زکوٰۃ میں مجرا( کٹوتی ) ہو سکے گی پہلی آپ نے یتیم کے لئے مال مباح کیا جو محسوب نہ ہو ا ۔دوسری صورت میں فروٹ خرید کراس کے حوالے کردینا تملیک ہے چونکہ تملیک یعنی حق دار کو اس چیز کا مالک کر دینا زکوٰۃ کا ایک رکن ہے اس لئے اس نے کفایت کی ۔(سراج المشکوۃفی مسائل الزکوٰۃ ،ازحضرت علامہ صاحبزادہ حافظ علی احمد جان رحمتہ اللہ علیہ)
ناشر:۔ ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام پشاور
طالب دعا:۔ تنویراحمد قادری
ودواب الرکوب وعبید الخدمۃ وسلاح الاستعمال ولا یجوز اداء زکوٰۃ الا بنیۃ مقارنۃ للاداء او بنیۃ مقارنۃ لعزل مقدار الواجب ومن علیہ زکوٰۃ
فتصدق بجمیع مالہ ولم ینوالزکوٰۃ سقط فرضھا عنہ ومن تصدق بعض مالہ ولاینوی الزکوٰۃ لا تسقط
سواری کے جانوروں ، خدمت کرنے والے غلام اور استعمال کیے جانے والے ہھتیاروں میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے ۔ زکوٰۃ ادا کرنا جائز نہیں مگر اس کی ادائیگی کے وقت نیت کرلے یا مال سے مقدار واجب علیحدہ کرتے وقت نیت کرے ۔ جس پر زکوٰۃ واجب تھی پس اس نے اپنا تمام مال صدقہ میں دے دیا اور زکوٰۃ کا ارادہ نہیں کیا تو زکوٰۃ اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گی ۔ اور جس نے زکوٰۃ کا ارادہ کیے بغیر اپنے مال کا کچھ حصہ صدقہ کیا تو اس کے ذمہ سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی ۔
﴿استعمال﴾ان تما م چیزوں یعنی رہائشی گھر سے ہتھیارتک میں اس وقت زکوٰۃ نہیں جب یہ ذاتی استعمال کیلیے ہوں ۔اور تجارت کے ذریعے ان سے منافع نہ کمایا جاتا ہو۔
﴿اداء﴾کہ میں زکوٰۃ ادا کررہا ہوں۔
﴿مقارنۃ﴾اباحت اور تملیک کا فرق:۔ اباحت اور تملیک میں یہ فرق ہے کہ اباحت سے کسی چیز کا کام میں لانا مباح ہو جاتاہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس مال اپنا تصرف کرسکے آپ نے یتیم کو دستر خوان پر بٹھا کر اوروں کے ساتھ کھا نا کھلادیا اس میں یہ نہیں ہو سکتاکہ وہ یتیم جسے چاہے لاکر اپنے ساتھ کھانا کھلادے یا وہ طعام اس کو دے دے جبکہ تملیک میں مالکانہ حقوق کے ساتھ اسے ہر قسم کے تصرف کا حق حاصل ہوجاتا ہے اس باریک مسئلہ کو یادرکھنا چاہیے
باب زکوٰۃ الابل
لیس فی اقل من خمس ذود من الابل السائمۃ صدقۃ فاذا بلغت خمسا سائمۃ وحال علیہا الحول ففیھا شاۃ الی تسع فاذا کانت عشرا ففیھا شاتان الی اربع عشرۃ فاذا کانت خمس عشرۃ ففیھا ثلث شیاہ الی تسع عشرۃ فاذا کانت عشرین ففیھا اربع شیاہ الی اربع وعشرین
اونٹ کی زکوٰۃ
پانچ چرنے والے اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پس جب پانچ چرنے والے اونٹ ہو جائیں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ( ۹) نو اونٹوں تک ان میں ایک بکری ہے پس اگر دس (۱۰) ہو جائیں تو چودہ (۱۴) اونٹوں تک ان میں دو بکریاں ہیں اور جب پندرہ (۱۵) ہو جائیں تو ان میں انیس (۱۹) تک تین بکریاں ہیں ۔ پس جب بیس (۲۰) ہو جائیں تو ان میں چوبیس (۲۴) تک چار بکریاں ہیں ۔
﴿سائمہ ﴾جانوروں میں سے زکو ۃ :۔ چرنے والے جانور مثلا اونٹ ،گائے ،بیل ،بھیڑ ،بکری سب میں زکوٰۃ ہے البتہ وقفی مویشی ور سوائم یعنی چرنے والوں میں جو حمل ، رکوب ( بار برداری یا سواری کے ہوں ) یا جو گھر سے گھاس کھانے والے بلانیت تجارت ہوں یا کھیتی کے بیلوں یا اندھے ، پاؤں کٹے مواشی میں زکوٰۃ نہیں ہے ، گھوڑوں کی زکوٰۃ میں اختلاف ہے ۔ صاحبین کے نزدیک گھوڑوں پر بھی زکوہ نہیں ہے ( غایہ)
فاذا بلغت خمسا وعشرین ففیھا بنت مخاض الی خمس و ثلثین
فاذا بلغت ستا وثلثین ففیھا بنت لبون الی خمس و اربعین فاذا بلغت ستا واربعین ففیھا حقۃ الی ستین فاذا بلغت احدی وستین ففیھا جذعۃ الی خمس وسبعین فاذا بلغت ستا وسبعین ففیھا بنتا لبون الی تسعین فاذا کانت احدی وتسعین ففیھا حقتان الی مائۃ وعشرین ثم تستانف الفریضۃ فیکون فی الخمس شاۃ مع الحقتین وفی العشر شاتان مع الحقتین
اور جب پچیس (۲۵) تک پہنچ جائیں تو ان میں پینتیس (۳۵) تک بنت مخاض ہے اور جب چھتیس
( ۳۶) ہو جائیں تو ان میں پینتالیس (۴۵) تک بنت لبون ہے ۔ پس جب چھیالیس (۴۶) ہو جائیں تو ان میں ساٹھ (۶۰) تک حقہ ہے اور جب اکسٹھ ( ۶۱) ہو جائیں تو ان میں پچھتر (۷۵) تک جذعہ ہے ۔ پس جب چھیتر (۷۶) ہو جائیں تو ان میں نوے (۹۰) تک دو بنت لبون ہیں اور جب اکیا نوے (۹۱) ہو جائیں تو ان میں ایک سو بیس (۱۲۰) تک دو حقے ہیں پھر فرض ازسر نو شروع کیا جائے گا ۔ پس پانچ میں دو حقوں کے ہمراہ ایک بکری ہو گی ۔ دس میں دو حقوں کے ہمراہ دو بکریاں ہو ں گی ۔
﴿ بنت مخاض﴾ اونٹنی کے بچہ کو کہتے ہیں جو دوسرے سال میں پاؤں ڈال دے
﴿بنت لبون ﴾اونٹنی کا وہ بچہ جو یتسرے سال میں قدم رکھ دے
﴿حِقہ ﴾اونٹنی کاوہ بچہ جو چوتھے سال میں قدم رکھ دے
﴿جزعہ ﴾ جو پانچویں سال میں قدم رکھ دے ،
وفی خمس عشرۃ ثلث شیاہ مع الحقتین وفی العشرین اربع شیاہ مع الحقتین وفی خمس وعشرین بنت مخاض الی مائۃ وخمسین فیکون فیھا ثلث حقاق
پندرہ میں دو حقوں کے ہمراہ تین بکریاں ہوں گی ۔ بیس میں دو حقوں کے ہمراہ چار بکریاں ہوں گی اور پچیس سے ایک سو پچاس (۱۵۰) تک دو حقوں کے ہمراہ ایک بنت مخاض ہو گا ۔ پس ان میں تین حقے ہو جائیں گے ۔
اونٹوں کی زکوٰۃکا نقشہ
نصاب زکوٰۃنصابزکوٰۃنصابزکوٰۃ
۵ایک بکری۱۰دوبکریاں۱۵تین بکریاں
۲۰چار بکریاں ۲۵ بنت مخاض۳۶بنت لبون
۴۶ ایک حقہ۶۱ایک جزعہ ۷۶ دوبنت لبون
۹۱۔ ۱۲۰دوحقے۱۲۵ ایک بکری دوحقے ۱۳۰ دوبکریاں دوحقی
۱۳۵ تین بکریاں دوحقے ۱۴۰ چار بکریاں دوحقے ۱۴۵ بنت مخاض دوحقی
۱۵۰ تین حقے ۱۵۵ ایک بکری تین حق ۱۶۰ دوبکریاں تین حقے
۱۷۰ چار بکریاں تین حقے ۱۷۵ تین حقے ایکبنتمخاض ۱۸۶ تین حقے ایک بنت لبون
۱۹۶ چار حقے۲۰۰چار حقے
ثم تستانف الفریضۃ ففی الخمس شاۃ وفی العشر شاتان وفی خمس عشرۃ ثلث شیاہ وفی العشرین اربع شیاہ وفی خمس وعشرین بنت مخاض وفی ست وثلثین بنت لبون الی مائۃ وخمس وتسعین فاذا بلغت مائۃ وستا وتسعین ففیھا اربع حقاق الی مائتین ثم تستانف الفریضۃ ابدا کما تستانف فی الخمسین التی بعد المائۃ والخمسین والبخت والعراب سواء
پھر فرض زکوٰۃ ازسرنو شروع کیا جائے گا ۔ پس پانچ میں ایک بکری ، دس میں دو بکریاں پندرہ میں تین بکریاں ، بیس میں چار بکریاں ، پچیس میں بنت مخاض اور چھتیس سے ایک سو پچانوے (۱۹۵) تک بنت لبون ہے پس جب ایک سو چھیانوے (۱۹۶) ہو جائیں تو ان میں دو سو (۲۰۰) تک چار حقے ہیں ۔ پھر فرض زکوٰۃ ہمیشہ از سر نو شروع کیا جائے جیسا کہ ان پچاس میں شروع کیا جاتا ہے جو ایک سو پچاس کے بعد ہیں ۔ بختی اور عرابی اونٹ اس حساب میں برابر ہیں ۔
﴿ بخت﴾ بخت جمع ہے ’’ تختی ‘‘ کی ۔وہ اونٹ جو عربی اورعجمی اونٹوں کے ملاپ سے پیدا ہو ۔
﴿ العراب﴾عراب جمع ہے عربی کی وہ اونٹ جو خالص عربی النسل ہو ۔
باب زکوٰۃ البقر
لیس فی اقل من ثلثین من البقر السائمۃ صدقۃ فاذا بلغت ثلثین سائمۃ وحال علیھا الحول ففیھا تبیع او تبیعۃ وفی اربعین مسن اومسنۃ فاذا زادت علی الاربعین یجب فی الزیادۃ بقدر ذلک الی ستین عند ابی حنیفۃ فیکون فی الواحدۃ الزائدۃ ربع عشر مسنۃ وفی الثنتین نصف عشر مسنۃ وفی الثلثۃ ثلثۃ ارباع عشرمسنۃ
گائے کی زکوٰۃ
تیس (۳۰) چرنے والی گائیوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پس جب تیس (۳۰) چرنے والیوں تک تعداد پہنچ جائے اور ان پر ایک سال گذر جائے تو ان میں ایک بچھڑا یا بچھڑی ہے اور چالیس (۴۰) میں ایک مسن یا مسنہ ہے ۔ پس جب چالیس سے زیادہ ہو جائیں تو ساٹھ (۶۰) تک زیادہ میں اس کے حساب سے واجب ہو گا ۔ پس ایک زائد میں مسنہ کا چالیسواں حصہ ، دو میں مسنہ کا بیسواں حصہ اور تین میں مسنہ کے چالیس حصوں کے تین حصے ہوں گے ۔
﴿تبیع ﴾ تبیع وہ گائے کا ایک سال نز بچہ
﴿تبیعۃ ﴾تبیعۃ گائے کا ایک سالہ مادہ بچہ
﴿مسن ﴾گائے کا دوسالہ نز بچہ
﴿مسنۃ ﴾ منسۃ ۔ گائے کا دوسالہ مادہ بچہ ۔
وقال صاحباہ لا شیء فی الزیادۃ حتی یبلغ ستین وھو الاصح ثم فی الستین تبیعان وفی السبعین مسنۃ وتبیعۃ وفی ثمانین مسنتان وفی تسعین ثلث تبیعات وفی مائۃ تبیعتان ومسنۃ وعلی ھذا یتغیر الفرض فی کل عشر من تبیع الی مسنۃ والبقر والجوامیس فیہ سواء
صاحبین فرماتے ہیں کہ زیادہ میں کچھ نہیں یہاں تک کہ ساٹھ ہو جائیں اور یہ قول صحیح تر ہے ۔ پھر ساٹھ (۶۰) میں دو ایک سالہ بچھڑے یا بچھڑیاں ستر (۷۰) میں ایک دو سالہ اور ایک یکسالہ بچھڑی اسی (۸۰) میں دو مسنے ، نوے (۹۰) میں تین ایک سالہ بچھڑیاں اور سو (۱۰۰) میں دو یکسالہ بچھڑیاں اور ایک دو سالہ بچھڑی ہے اسی طریقے پر فرض زکوٰۃ ہر دس میں ، ایک سالہ بچھڑے سے دو سالہ بچھڑی کی طرف بدلتا رہے گا ۔ گائیں اور بھینسے اس حکم میں برابر ہیں ۔
﴿بقر ﴾گائے بھینس نرہوں خواہ مادہ ان میں نصا ب ۳۰ہے
گائے بیل کی زکوٰۃ کانقشہ
گائےزکوٰۃگائےزکوٰۃگائےزکوٰۃ
۳۰یکسالہ بچھڑا یا بچھڑی ۴۰دوسالہ بچھڑے یا بچھڑی ۶۰ یکسالہ دوبچھڑے
۷۰ایک یکسالہ ایک دوسالہ۸۰ دو بچھڑے دوسالہ۹۰ تین بچھڑے یکسالہ
۱۰۰ ایک دوسالہ دویکسالہ
باب صدقۃ الغنم
لیس فی اقل من اربعین شاۃ صدقۃ فاذا کانت اربعین شاۃ سائمۃ وحال علیہ الحول ففیھا شاۃ الی مائۃ وعشرین فاذا زادت واحدۃ ففیھا شاتان الی مائتین فاذا زادت واحدۃ ففیھا ثلث شیاہ الی ثلث مائۃ وتسع وتسعین فاذا بلغت اربع مائۃ ففیھا اربع شیاہ ثم فی کل مائۃ شاۃ والضان والمعز فیہ سواء
بھیڑ بکریوں کی زکوٰۃ
چالیس بکریوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے ۔ بس جب چالیس ( ۴۰) چرنے والی بکریاں ہو جائیں ۔ اور ان پر ایک سال گذر جائے تو ایک سو بیس ( ۱۲۰) تک ان میں ایک بکری ہے پس جب ایک زیادہ ہو جائے تو دو سو (۲۰۰) تک ان میں دو بکریاں ہیں پس جب ایک زیادہ ہو جائے تو ان میں تین سو ننانوے ( ۳۹۹) تک تین بکریاں ہیں ۔پس جب چار سو (۴۰۰) ہو جائیں تو ان میں چار بکریاں ہیں پھر ہر سو (۱۰۰) میں ایک بکری ہے ۔ بھیڑ اور بکریاں اس حکم میں برابر ہیں ۔
﴿غنم﴾بھیڑ بکری دنبہ میں نصاب چالیس ہے ایک سے انتالیس تک معاف ہے
نصاب بھیڑبکری کی زکوٰۃکا
نصابزکوٰۃنصابزکوٰۃ
۴۰ سے ۱۲۰ تک ایک بکر ی ۱۲۱سے ۲۰۰ تک دو بکریاں
۲۰۱سے ۲۹۹ تک تین بکریاں ۴۰۰ میں چار بکر یاں
باب زکوٰۃ الخیل
لیس فی الخیل صدقۃ الا اذا کانت الخیل سائمۃ ذکورا و اناثا وحال علیھا الحول فصاحبھا بالخیار ان شاء اعطی عن کل فرس دینارا و ان شاء قومھا و اعطی من کل مائتی درھم خمسۃ دراھم ولیس فی ذکورھا منفردۃ زکوٰۃ عند ابی حنیفۃ وفی الاناث وحدھا روایتان
گھوڑوں کی زکوٰۃ
گھوڑوں میں زکوٰۃ نہیں ہے مگر جبکہ چرنے والے گھوڑے اور گھوڑیاں ہوں اور ان پر ایک سال گذر جائے تو ان کے مالک کو اختیار ہے کہ اگر چاہے تو ہر گھوڑے کے بدلے میں ایک دینا ر دے اور اگر چاہے تو ان کی قیمت لگا کر ہر دو سو درھم پر پانچ درھم دے ۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک تنہا گھوڑوں پر زکوٰۃ نہیں ہے ۔ تنہا گھوڑیوں کے متعلق دو روایات ہیں ۔
﴿ الخیل﴾گھوڑوں کا گروہ ۔
﴿لیس فی خیل﴾صاحبین کے نزدیک سائمہ گھوڑوں میں زکوٰۃ نہیں کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ ’’مسلمان پر اس کے غلام میں اورگھوڑوں میں زکوٰۃ نہیں ‘‘اس حدیث شریف کی تخریج ائمہ ستہ نے ابوہریرہ سے کی ہے ۔امام اعظم ابوحنیفہ رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ گھوڑے سائمہ ہوگے (یعنی باہر چرنے والے )یاعلوفہ(گھر میں چارہ کھانے والے ان میں سے ہر ایک برائے تجارت ہوگے یا نہیں‘اگرتجارت کے لیے ہوں توبالاتفاق زکوٰۃواجب ہے ۔سائمہ ہوں یا علوفہ ،اوراگرتجارت کے لیے نہ ہوں تومال برداری ،سواری اورجہاد کے لیے ہوں گے اس صورت میں بالاتفاق زکوٰۃنہیں۔
﴿ذکورھامنفردۃ﴾ کیونکہ صرف گھوڑوں سے افزائش نسل یعنی نمواور بڑھوتری نہیں ہوسکتی
وقال صاحباہ لا زکوٰۃ فی الخیل اصلا ولا شیء فی البغال والحمیر الا ان تکون للتجارۃ ولیس فی الحملان والفضلان والعجاجیل صدقۃ عند ابی حنیفۃ ومحمد الا ان تکون معھا کبار وقال ابو یوسف یجب فیھا واحدۃ منھا ومن وجب علیہ مسن فلم یوجد اخذ المصدق اعلی منھا و رد الفضل او اخذ دونھا و اخذ الفضل ویجوز د فع القیمۃ فی الزکوٰۃ ولیس فی العوامل والحوامل والعلوفۃ صدقۃ ولا یأخذ المصدق خیارالمالولا رذالتہ و انما یاخذ الوسط منہ
اور صاحبین فرماتے ہیں کہ گھوڑے میں ہر گز زکوٰۃ نہیں ہے خچر اور گدھے مین کچھ چیز نہیں ہے مگر یہ کہ تجارت کے لیے ہو ں ۔ امام ابو حنیفہ وامام محمد کے نزدیک بکریوں ،اونٹنیوں اور گائے کے چھوٹے بچوں پر زکوٰۃ نہیں ہے مگر یہ کہ ان کے ساتھ بڑے ہوں ۔ امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ ان میں انھیں میں سے ایک واجب ہے ۔ اور جس شخص پر مسن واجب ہوا پس مسن نہ پایا توزکوٰۃ لینے والا اس سے بہتر لے اور زائد لوٹا دے یا اس سے کمتر لے اور باقی دام بھی لے لے ۔ اور زکوٰۃ میں قیمت ادا کرنا جائز ہے ۔اور کام کرنے والے بوجھ لے جانے والے اورگھرمیں چارہ کھانے والے چوپایوں میں زکوٰۃ نہیں ہے اورزکوٰۃ لینے والابہتر مال نہ لے اورنہ ہی ردی مال لے بلکہ ان میں سے درمیانہ درجہکا مال لے ۔
بغال۔جمع بغل خچر،حمیرجمع حمار پالتوگدھا،حملانجمع حمل بکری کا بچہ،فصلانجمع فصیل اونٹنی کا بچہ جو ایک سال سے کم کاہو،عجاجیلجمع عجول بمعنی عجل بچھڑا ، فضلزیادتی
﴿وسط﴾نہ بہت زیادہ تندرست وتوانا اور نہ بہت کمزور و ضعیف لے بلکہ درمیانہ جانور لے
ومن کان لہ نصاب فاستفاد فی اثناء الحول من جنسہ ضمہ الی مالہ و زکاہ بہ والسائمۃ ھی التی تکتفی بالرعی فی اکثر السنہ فان اعلفھا نصف الحول او اکثرھا فلا زکو ۃ فیھا والزکوٰۃ یتعلق بالنصاب دون العفو عند ابی حنیفۃ و ابی یوسف وقال محمد تجب فیھما واذا ھلک المال بعد وجوب الزکوٰۃ سقطت فان قدم الزکوٰۃ علی الحول وھو مالک النصاب جاز
اور وہ شخص کہ جس کے پاس نصاب تھا پس اس نے سال کے دوران نصا ب کی ہی قسم سے مزید مال حاصل کرلیا تو اسے اپنے مال کے ساتھ ملاکراس پر زکوٰۃ ادا کرے۔ اورسائمہ وہ جانو ر ہیں جو سال کے اکثر حصے میں چرنے پر اکتفا کریں ۔ پس اگر چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گھر پر کھلا یا تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ و امام ابو یوسف کے نزدیک زکوٰۃ کا تعلق نصاب سے ہے نہ کہ عفو سے ۔ اور امام محمد نے فرمایا کہ دونوں میں واجب ہے ۔ اور جب زکوٰۃ کے واجب ہونے کے بعد مال برباد ہو گیا تو زکوٰۃ ساقط ہو گئی پس اگر سال سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دی اس حال میں کہ نصاب کا مالک ہے تو جائز ہے ۔
﴿عفو﴾ دو نصابوں کے درمیان کے عدد کو عفو کہتے ہیں
﴿اکثرالسنہ﴾اگر اکثر سال سات یا اٹھ یا نو یا دس یا گیا رہ ماہ کے بعد زکوٰۃ دے دی تو جائزہے ۔
باب زکوٰۃ الفضۃ
لیس فیما دون مائتی درھم صدقۃ فاذا کانت مائتی درھم وحال علیہا الحول ففیھا خمسۃ دراھم ولا شیء فی الزیادۃ حتی تبلغ اربعین درھما فتکون فیھا درھم عند ابی حنیفۃ ثم فی کل اربعین درھما درھم وقال صاحباہ ما زاد علی المائتین فزکوٰتہ بحسابہ واذا کان الغالب علی الورق الفضۃ فھو فی حکم الفضۃ و اذا کان الغالب علیہا الغش فھو فی حکم العروض اذا کانت للتجارۃ یعتبر القیمۃ اذا بلغت نصابا تجب والا فلا
چاندی کی زکوٰۃ
دو سو درھم سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پس جب دو سودرھموں پر ایک سال گذر جائے تو ان پر پانچ درھم ہیں ۔ اور زیادہ پر کچھ نہیں یہاں تک کہ چالیس درھم تک پہنچ جائے ۔ تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک ان میں ایک درھم ہو گا ۔ پھر ہر چالیس درھم پر ایک درھم ہوگا ۔اور صاحبین فرماتے ہیں کہ جو دو سوسے بڑھ جائیں تو اس کی زکوٰۃ اس کے حساب سے ہے ۔ اور جب چاندی کے ورق پر چاندی غالب ہو تو وہ چاندی کے حکم میں ہے اور جب کھوٹ غالب ہو تووہ سامان کے حکم میں ہے ۔ جب تجارت کے لیے ہو تو اس کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا تو جب نصاب کو پہنچ جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی اور اگر نہیں پہنچی تو واجب نہیں ۔
﴿فضہ﴾ چاندی میں ۱۴۰ مثقال مساوی دوسودرہم نصاب ہے جو کہ ۶۳۰ ماشے بنتے ہیں اس دوسو درہم یعنی ۶۳۰ماشے چاندی میں ۵درہم یا ۱۵ماشے ۶رتی چاندی زکوٰۃ کے حساب میں آئے گی ،ساڑھے باون تولے چاندی پورا سال قمری مہینوں کا گزاردے تو اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ کا نکالنا فرض ہو گا ورنہ جہنم میں جکڑے رہیں گے ، آسان طریقہ یہ لکھا ہے کہ جتنا مال نصاب میں ہے اس کے چالیسویں حصہ میں زکوٰۃ واجب ہے یعنی سوروپے میں اڑھائی اور چالیس میں سے ایک زکوٰۃ کا ہوتاہے
﴿مائتین﴾صاحبین کے نزدیک ہر دوسو کے بعد پانچ درھم بڑھ جائیں گے ۔نقود میں دراہم پر کسر حضرت امام ابوحنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک معاف ہیں اور صاحبین کے نزدیک یہ عفوخاص ہے سوائم میں نہ نقود میں ( جیسے بکریاں میں چالیس اور چالیس سے ایک سو بیس تک صرف ایک ہی بکری نصاب میں آئے گی ) مثلا اگر آپ کے پاس دوسو درہم پر دس درہم بڑھ جائیں تو تاوقتیکہ یہ کسر کو پورا کرکے چالیس درہم تک نہ پہنچ جائیں امام صاحب کے نزدیک وہی پانچ درہم زکوٰۃ آئے گی اگرچہ صاحبین اس کے بر خلاف ہیں لیکن یہی بہتر مسلک ہے جو حضرت امام نے اختیا ر فرمایا ۔
(سراج المشکوۃ فی مسائل الزکوۃ،ازحضرت علامہ صاحبزادہ حافظ علی احمد جان )
ناشر:۔ ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام پشاور،طبع بار دوئم ۱۹۹۶ء
طالب دعا :۔ تنویراحمد قادری
باب زکوٰۃ الذھب
لیس فیما دون عشرین مثقالا من الذھب صدقۃ فاذا کانت عشرین مثقالا وحال علیہا الحول ففیھا نصف مثقال ثم فی کل اربعۃ مثاقیل قیراطان ولیس فیما دون اربعۃ مثاقیل صدقۃ عند ابی حنیفۃ وعندھما ما زاد علی العشرین فزکوتہ بحسابہا و فی تبرالذھب والفضۃ وحلیھما واوانیھما الزکوٰۃ عندنا
سونے کی زکوٰۃ
بیس مثقال سے کم سونے پر زکوٰۃ نہیں ہے پس جب بیس مثقال پر ایک سال گذر جائے تو ان میں آدھا مثقال ہے پھر ہر چار مثقال پر دو قیراط ہیں ۔ اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک چار مثقال سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور صاحبین کے نزدیک بیس مثقال سے جو زیادہ ہو تو اس کی زکوٰۃ اس کے حساب سے ہے اور ہمارے نزدیک سونے و چاندی کے ٹکڑوں ،زیورات اور برتنوں پر زکوٰۃ ہے۔
﴿ذھب﴾سونے کا نصاب ۲۰مثقال بوزن دہلی ساڑھے سات تولہ ہے جس میں چالیسواں حصہ زکوٰۃ کاہے ۔ جب آپ کے پاس ساڑے سات تولے سوناپورا سال قمری مہینوں کا گزاردے تو اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ کا نکالنا فرض ہو گا ورنہ جہنم میں جکڑے رہیں گے ، آسان طریقہ یہ لکھا ہے کہ جتنا مال نصاب میں ہے اس کے چالیسویں حصہ میں زکوٰۃ واجب ہے یعنی سوروپے میں اڑھائی اور چالیس میں سے ایک زکوٰۃ کا ہوتاہے۔﴿عشرین﴾یعنی ہر بیس پر آدھا آدھا مثقال پڑھتاجائے گا﴿الذھب والفضۃ﴾مسئلہ سونے چاندی برتن زیوزسچا گوٹہ، ٹھپہ کناری سب پر زکوٰۃ واجب ہے اس لیے کہ سونے و چاندی کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں اور زکوٰۃ ہراس چیز پر ہے جس میں نمو ہو ۔ امام شافعی کے نزدیک ذاتی استعمال میں آنے والے سونے و چاندی کے زیورات ہر زکو ۃنہیں ۔
باب زکوٰۃ العروض
الزکوٰۃ واجبۃ فی العروض اذا کانت للتجارۃ کائنۃ ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا کاملا من الورق اوالذھب و حال علیہا الحول ویقومھا بما ھو انفع للمساکین والفقراء منھما و اذا کانت النصاب کاملا فی طرفی الحول فنقصانہ فیما بین ذلک لا یسقط الزکوٰۃ وتضم قیمۃ العروض الی الذھب والفضۃ وکذلک یضم الذھب الی الفضۃ بالقیمۃ حتی یتم النصاب عند ابی حنیفۃ
سامان کی زکوٰۃ
سامان میں زکوٰۃ واجب ہے جبکہ تجارت کے لیے ہو ۔ جو بھی سامان ہو جب اس کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گذر جائے تو اس کی قیمت ان دونوں میں سے اس کے ساتھ لگائے جو مسکینوں اور فقیروں کے لیے نافع تر ہو ۔ اور جب سال کے دونوں کناروں پر نصاب پورا ہو تو سال کے درمیان میں نصاب کا کم ہو نا زکوٰۃ کو ساقط نہیں کرتا ہے ۔ اور سامان کی قیمت سونے و چاندی کی طرف ملائی جائے یہاں تک کہ نصاب پورا ہوجائے اور اسی طرح سونے کو چاندی کی طرف از روئے قیمت کے ملایا جائے یہاں تک کہ نصاب پورا ہو جائے ۔ یہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک ہے
﴿عروض﴾عرض کی جمع عروض ہے ۔اس کے معنی ہیں سامان ۔نقد ہو یا غیر نقد
وقالا لا یضم الذھب الی الفضۃ باعتبار القیمۃ ولکن یضم بالاجزاء حتی لو کان لہ مائۃ درھم وخمسۃ دنانیر قیمتھا مائۃ درھم یضم عندہ وعندھما لا یضم مالم یکن عشرۃ مثاقیل ذھبا
اور صاحبین فرماتے ہیں کہ سونے کو چاندی کی طرف قیمت کے اعتبار سے نہ ملایا جائے بلکہ اجزا ء کے اعتبار سے ملایا جائے ۔ یہاں تک کہ اگر اس کے پاس سو درہم اور پانچ دینار ہوں اور پانچ دینار کی قیمت سو درہم ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک ملا لیے جائیں ۔ اور صاحبین کے نزدیک نہ ملائے جائیں جب تک کہ دس مثقال سو نا نہ ہو
باب زکوٰۃ الزروع والثمار
قال ابوحنیفۃ ما ا خرجتہ الارض ففیہ العشر قل اوکثر سواء سقاھا سیح او سقتہ السماء فیما لہ ثمرۃ باقیۃ ومالیس لہ ثمرۃ باقیۃ الا فی الحطب والقصب والحشیس وقال صاحباہ لا یجب العشر الا فیما لہ ثمرۃ باقیۃ اذا بلغ الخارج خمسۃ او سق والوسق ستون صاعا بصاع النبی ﷺ
کھیتیوں اور پھلوں کی زکوٰۃ
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ جو چیز زمین سے پیدا ہوتی ہے خواہ کم ہو یا زیادہ اور اسے جاری پانی یا بارش نے سیراب کیا اور اس کا پھل باقی رہتا ہو یا نہ رہتا ہو تو اس میں دسواں حصہ ہے ، سوائے لکڑی ، بانس اور گھاس کے ۔ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ دسواں حصہ واجب نہیں ہے مگر اس چیز میں کہ جن کا پھل باقی رہتا ہو اور اس کی پیداوار پانچ وسق کو پہنچ جائے ۔ اور وسق نبی علیہ السلام کے مقررہ صاع کے اعتبار سے ساٹھ صاع ہیں ۔
﴿زروع﴾زروع جمع ہے زرع کی جس کے معنی ہیں کھیتی
﴿ثمار﴾ ثمار جمع ثمر کی ہے جس کے معنی ہیں پھل
﴿بصاع﴾ہمارے یہاں نصف صاع پونے دوسیر کا ہے پکے وٹے کے حساب سے ۔ ایک صاع ساڑھے تین سیر کا ہو گیا ۔ساٹھ صاع برابر ہو گئے دوسودس (۲۱۰) سیر کے ۔یعنی ایک وسق میں دوسودس (۲۱۰)سیرہوتے ہیں جو صاع نبی کریم ﷺ نے مقرر کیااب آج کل کی چیزوں کو اس پر قیاس کریں گے ۔مسئلہ تو موجود ہے مگراس کی ہیت بدل گئی ہے ۔جب ہیت بدل جائے تو قیاس کریں گے ورنہ یونہی قیاس نہیں کریں گے ،یہ امام اعظم رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کا فقہ ہے
ولیس فی الخضروات عندھما عشر وما سقی بغرب او سانیۃ او دالیۃ ففیہ نصف العشر علی القولین وقال ابو یوسف فیما لا یوسق کالزعفران والقطن یجب فیہ العشر اذا بلغت قیمتہ خمسۃ او سق من ادنی ما یدخل تحت الوسق من الحبوب و قال محمد یجب فیہ العشر
اور صاحبین کے نزدیک سبزیوں میں دسواں حصہ نہیں ہے ۔ اور جو بڑے ڈول ، اونٹ یا رہٹ سے سیراب کیا گیا تو دونوں قولوں کے مطابق اس میں نصف عشر ہے ۔ امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ جو چیز وسق کے حساب سے نہیں بکتی جیسے زعفران اور روئی تو اس میں دسواں حصہ واجب ہے جب اس کی قیمت ایسے ادنیٰ پانچ اوسق کو پہنچ جائے جو کہ دانوں کے وسق سے ناپی جاتی ہو۔ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ اس میں دسواں حصہ واجب ہو جاتا ہے
حضروات سبزیاں،غرب بڑاڈول،سانیۃ اونٹنی جس پر کنو یں سے پانی لایاجائے،اوسق جمع وسق ساٹھ صاع کا ایک پیمانہ
﴿قطن﴾روئی کی بھی اقسام ہیں کوئی اعلی ہے کوئی ادنی ہے۔
﴿حبوب﴾دانے جیسے باجرہ وغیرہ
اذا بلغ الخارج خمسۃ اعداد من اعلی ما یقدر بہ نوعہ فا عتبر فی القطن خمسۃ احمال و فی الزعفران خمسۃ امناء و فی العسل العشر اذا اخذ من ارض العشر قل اوکثر عند ابی حنیفۃ وقال ابو یوسف لا شیء فیہ حتی یبلغ عشرۃ ازقاق کل زق تسعۃ امناء وقال محمد لا یجب حتی یبلغ خمسۃ افراق کل فرق ستۃ وثلثون رطلا بالعراقی فجملتہ تسعون منا ولیس فی الخارج من ارض الخراج عشر
جب اس کی پیداوار اس پانچ عدد اعلیٰ کو پہنچ جائے جس سے اس قسم کی چیزوں کا اندازہ کیا جاتا ہے ۔ پس روئی میں پانچ گانٹھوں اور زعفران میں پانچ من کا اعتبار کیا جائے گا ۔ اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک شہد میں دسواں حصہ ہے تھوڑی ہو یا بہت ہو اور عشری زمین سے حاصل ہو ۔ اور اما م یوسف فرماتے ہیں کہ شہد میں کوئی زکوٰۃ نہیں یہاں تک دس پیپوں تک پہنچ جائے ۔ ہر پیپہ نو(۹) من کا ہے۔ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ واجب نہیں ہے یہاں تک کہ پانچ افراق تک پہنچ جائے ہر فرق چھتیس (۳۶) عراقی رطل کا ہے ۔ پس یہ سب ملا کر نولے (۹۰)من ہے اور خرابی زمین کی پیداوار میں عشر نہیں ہے
باب من یجوزدفع الصدقۃ الیہ ومن لایجوز
قال اللّٰہ تعالی انما الصدقات للفقراء والمساکین والعاملین علیہا و المؤلفۃ قلوبھم وفی الرقاب و الغارمین وفی سبیل اللّٰہ وابن السبیل فریضۃ من اللّٰہ ط فھذہ ثمانیۃ اصناف قد سقطت منھم المؤلفۃ قلوبھم لان اللّٰہ تعالی قد اعز الاسلام واغنی عنھم اھلہ والفقیر من لہ ادنی شیء والمسکین من لا شیء لہ وقد قیل علی العکس
زکوٰۃ کس کودینا جائز اور کس کو دینا جائزنہیں
اللہ تعالی نے فرمایا ,, سوائے اس کے نہیں کہ زکوٰۃ فقیروں ، مساکین ، زکوٰۃ وصول کرنے والے
مؤلفتہ القلوب ،مکاتبین ، قرضداروں ، مجاہدین ، اور مسافر کے لیے ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے ۔ پس یہ آ ٹھ ( ۸) اقسام ہیں پس تحقیق ان میں سے مؤلفتہ القلوب نکل گیا اس لیے کہ اللہ تعالی نے اسلام کو عزت دے دی ہے اور اہل اسلام کو ان سے بے پرواہ کر دیا ہے ۔ اور فقیر وہ شخص ہے کہ جس کے پاس معمولی چیز ہو اور مسکین وہ ہے کہ جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ۔ اور اس کے بر عکس بھی کہا گیا ہے ۔
﴿دفع﴾ مصارف زکوٰۃ بیان کیے جائیں گے
﴿انما﴾’’انما ‘‘ حصر کے لیے آتا ہے یہ اصطلاح نحوی ہے جب یہ آتا ہے تو مطلب ہو تا ہے کہ اس عبارت کا یہی معنی ہے ﴿ْصدقات﴾یہاں صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے صدقات نافلہ مراد نہیں ہیں
﴿للفقراء والمساکین﴾ فقیر وہ ہے جو مقدار نصاب سے کم مال رکھتا ہو یا غیر نامی نصاب کے برابرمالدار ہو ( نامی وغیرنامی کی تشریح گزرچکی ہے ) اوریہ سامان غیر نامی مستغرق فی الحاجات یعنی کام میں لگاہوا ہو ( عمد ۃ الرعایہ ) صاحب تفسیر اعظم نے لکھا ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک فقیروہ ہے جو اس لئے سوال نہ کرے کہ اس وقت کا کفاف معیشت ( نان ونفقہ ) رکھتا ہو یہی مذہب حضرت امام احمد کا ہے ۔مسکین وہ ہے جو کچھ بھی نہ رکھتا ہو ( شرح قدوری وغیرہ ) فقیر ومسکین کے امیتاز میں علمی طبقہ کے درمیان ایک لطیف بحث ہے جس کا مختصر ذکر دلچسپی سے خالی نہیں فقیر ومسکین دونوں لفظ بسلسلہ عطف و معطوف کلام قدس عزاسمہ میں بیان فرمائے گئے ہیں اس لئے مستحقین زکوٰۃ اور اس کے مصرف کے لئے یہ دومختلف صفتیں ہیں جو حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک دو مختلف شخصوں پر حاوی ہیں لیکن آپ کے شاگرد رشید امام ابو یوسف کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی مستحق کی صفتیں ہیں جن بزرگوں نے مسکین کی تعریف میں اس کا کچھ مالدار ہونا لکھا ہے ان کا استدلال اس آیہ کریمہ سے ہے جو حضرت موسی وخضر علیہماالسلام کے قصے میں آتی ہے ۔اما السفینۃ فکانت لمسٰکین یعملون فی البحر( کف ۔۹ ۷)
’’یعنی وہ مسکینوں کی کشتی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے ‘‘ان صاحبوں کی یہ دلیل ہے کہ کشتی کے مالک دولتمند تھے کیونکہ ان کی ملکیت میں کشتی اوراس کے ذریعے کام ثابت ہے ظاہر ہے کہ کشتی قیمتی چیزہوتی ہے جس سے ان مساکین کا صاحب تمول ہونا ثابت ہوا۔ صاحب فتح القدیراور دیگر فقہاء نے یہ جواب دیاہے کہ یہاں صرف رحم کہ طور پر انہیں مسکین فرمایا گیا ہے نہ کہ بحیثیت کشتی کے مالک ہونے کے ۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ کشتی والے بطور مزدور کام کرتے تھے اس صورت میں التباس رفع ہو جاتاہے ۔ حضرت امام نے مسکین کے فقیر سے زیادہ غریب ہونے پر یہ دلیل بھی فرمائی ہے کہ آیہ کفارۃ یمین میں ارشادعالی ہے کہ ’’ فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین ( سورۃ مائد ہ آیت۸۹)
’’یعنی اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھاناکھلانا ہے ‘‘ اس تخصیص سے مسکین کو طعام کی زیادہ تر احتیاج اور اس کی بے بسی پر استدلال کیا جاسکتاہے یعنی مسکین اتنا مفلوک الحا ل اور واجب الرحم ہے کہ وہ کھانے تک کا محتاج بتایا گیا ہے لہذا آیتہ سفینہ میں مسکین سے مراد مزدور ہے واللہ اعلم ( شمنی )
﴿عاملین﴾ یعنی وہ لو گ جو مال زکوٰۃ وصول کرنے میں تعنیات ہوں یعنی عملہ کا رکنان ۔
﴿مؤلفۃقلوب﴾مولفتہ کا مطلب ہے اپنی طرف مائل کرنا ،ایسے لوگ ہیں جو ہیں تو کافر مگر ان کے دل اسلام کی طرف مائل ہیں توزکوٰۃ کے ذریعے ان کی ضروریات کو پورا کیا جائے تاکہ وہ اسلام قبول کر لیں ۔آج کے دور میں ایسے لوگ نہیں ہیں ۔ وہ لوگ جن کی تالیف قلوب ضروری تھی یعنی مسلمان توتھے لیکن ابھی نیتوں کے صاف نہ تھے ۔
﴿رقاب﴾ رقب ،گردن کو کہتے ہیں یعنی مکاتب غلام کو آزاد ی کے لیے زکوٰۃ کا پیسہ اسے دیا جاسکتاہے قید یا غلامی سے غلاموں کی گرد نیں چھڑانے میں مطلب یہ کہ جو لونڈی ،غلام اپنے آقا کے لئے کچھ رقم مقرر کرکے اپنے تیئں خریدلے یعنی اپنے مالک کی رضامندی سے اپنی قیمت کا متکفل( ضامن ) ہوا ہو کہ اس قدر رقم ادا کرکے اپنے آپ کو آزاد کراے گا ۔ایسے غلام کو مکاتب کہتے ہیں اور صاحب نصاب لوگوں کو اس معین رقم کی ادائیگی میں مال زکوٰۃ سے مددکرنے کا حکم ہے
﴿غارمین﴾مفلس، قرضدار
﴿فی سبیل اللہ ﴾یہ محاوراہ ہے یعنی جہاد میں دے سکتے ہو۔ مجاہد کو گھوڑا ، تلوار مکاتب وغیرہ زکوٰۃ حاصل سے خرید کر دے دو اس میں وہ مجاہدین شامل ہیں یاوہ علماء جو فقر کی وجہسے یا سوار ی وغیرہ نہ ہونے کی وجہسے لشکر اسلام کے ساتھ نہ مل سکتے ہوں یا وہ علماء و طلباجو دین کی تعلیم وتعلم میں مصروف رہتے ہیں صاحب اعظم التفاسیرنے لکھا ہے کہ پل ،سرائے وغیرہ میں بھی صرف کرنا راہ خدا میں ہے اور صاحب غایۃالاوطار نے بحوالہ بدائع اور شامی لکھا ہے کہ کل تقربات اور خیرات اور ہر وہ محتاج شخص جو خدا تعالیٰ کی اطاعت میں اور سبیل میں سعی کرے اس میں داخل ہے کیونکہ یہ اختلاف حکم میں نہیں بلکہ لفظا اختلاف ہے کہ اگر کوئی فی سبیل اللہ وقف یا نذریا وصیت کرے توکیا مراد ہو نی چاہیے پس بشرط احتیاج ان سب کو دینا جائز ہے خواہ وہ غازی ہو یا حاجی یا طالب علم اسی لئے شارح درمختار نے بحوالہ طحطاوی طالب علم کو فقیر کے ساتھ مقید کرکے اسے زکوٰۃ وغیرہ کے سوال کی اجازت و رخصت دینے کے لئے لکھا ہے خواہ وہ کسب پر بھی قادرہو فقیر مولف کے نزدیک ( خدائے تعالیٰ اسے معاف فرمائے ) پل ، سبیل ،سڑک وغیرہ پر خرچ کرنا مصرف زکوٰۃ کے لئے صحیح نہیں کیونکہ ان میں تملیک نہیں ہے جیساصاحب غایۃالاوطار نے بحوالہ شامی درج کیا ہے ۔واللہ اعلم
﴿ابن السبیل﴾ وہ مسافرہے جس کی ملک میں مال تو ہے لیکن اس کے ساتھ یا پاس نہ ہو ۔یہ سب وہ لوگ ہیں جن پر زکوٰۃ کا مال بقدر مناسب تقسیم کرنا چاہیے ان میں سے مولفتہ القلوب کے متعلق بہت بحث ہے صحابہ کرام اور علماء راسخین فی العلم نے اس مصرف کی شق کو ساقط قراردیا ہے اس کی اصلیت یہ تھی کہ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں یہ لوگ تین طرح پر تھے۔ایک تو وہ کفار تھے جہنیں استمالت اور ایمان میں داخل ہونے پر استقامت کے طورپر مال دیاجاتاتھا دوسرے وہ کفار تھے جو ہمیشہ اسلام کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے تھا ان کی ایذاو مضرت کو دورکرنے کے لئے انسداد ایساکیا جاتاتھا ۔ یتسرے قسم کے وہ چند ضعیف الاعتقاد رسمی مسلما ن تھے جو ابھی برکات و فیوضات اسلام سے بہرہ ورنہ تھے ان کی مسلمانی ایسی تھی کہ ’’ ومن الناس من یعبداللہ علیٰ حرف فان اصابہ خیر ن اطمأن بہ وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجھہ( سورۃ الحج آیت ۱۱)اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انھیں کوئی بھلائی پہنچ گئی تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آ کر پڑی منہ کے بل پلٹ گے ۔یہ لوگ ضعیف الایمان تھے ان کے ثابت قدم رہنے اورحفظ ماتقدم کے طور پر غلبہ اسلام کے لئے انہیں مال دیا جاتاتھا جب اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اسلام کا بول بالااور مجاہدانہ عزم پیداہوکر الیوم اکملت لکم دینکم سے تکمیل دین ہو چکی تو اس مصرف کیلئے اس مستحقین کو ساقط کر دیاگیاجس کا مفصل ذکر کتب احادیث اور فقہ میں موجود ہے ( عمدۃ الرعایہ ۔فعلی ذلک انعقدالاجماع) اب اس پر اجماع ہو چکاہے ۔( ہدایہ)
والعامل من یدفع الیہ الامام بقدر عملہ ان عمل وفی الرقاب ارادبہ
المکا تبین یعان فی فک رقابھم والغارم من لزمہ الدین وفی سبیل اللہ منقطع الغزاۃ وابن السبیل من کان لہ مال فی وطنہ وھو فی مکان لا شیء لہ فیہ فھذہ جھات الزکوٰۃ وللمالک ان یدفع الزکوٰۃ الی کل واحد منھم ولہ ان یقتصر علی صنف واحد ولا یجوز ان یدفع الزکوٰۃ الی ذمی ولایبنی بھا مسجدا
اور عامل وہ شخص ہے کہ امام اس کو اس کے کام کے مطابق دے اگرکام کرے۔اور گر دن چھڑانے سے مراد مکاتبین ہیں کہ گردن چھڑانے میں ان کی مدد کی جائے۔ اور غارم وہ ہے کہ جس کے ذمہ قرض ہو ۔ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں وہ شخص ہے جو غازیوں سے جدا ہو اور مسافر وہ ہے کہ جس کا مال اس کے وطن میں ہو اور وہ ایسی جگہ میں ہو جہاں اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ۔ پس یہ مصارف زکوٰۃ ہیں اور مالک کو اختیار ہے کہ ان میں سے ہر اک کو زکوٰۃ دے یا ایک ہی قسم کو دے دے ۔ اور ذمی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے اور مال زکوٰۃ سے مسجد نہ بنائی جائے ۔
﴿یعان﴾ینابیع سے ہے کہ فقیر وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتااورنہ لوگو ں کے دروازے پر جاتاہے
﴿فک رقابھم﴾مکاتب وہ غلام ہے کہ جس کو مالک کہے کہ مجھے اتنی رقم ادا کر دو تو تم آزاد ہو جبکہ وہ غلام جن کو مالک ایسانہ کہیں وہ مکاتب نہیں ہیں ﴿فی سبیل اللہ﴾یعنی اسلحہ وغیرہ نہیں اس لیے وہ جہاد میں نہیں جا سکتا﴿ولایبنٰی بھا﴾کن مقامات اورکن لوگوں پر مال زکوٰۃ نہیں لگتی:۔ مال زکوٰۃ سے مسجد کی تعمیر ، میت کی تکفین ،میت کے قرضے کی ادائیگی ،غلام لیکراس کو آزاد کرنا جائز نہیں ( شرح وقایہ ) البتہ مکاتب کی قیمت میں اس کی مددکرنے کی اجازت ہے یہی مطلب ارشاد گرامی وفی الرقاب کا ہے۔
﴿ذمی﴾ کافر کو زکوٰۃ دینا درست نہیں مسلمان مستحق کو ہی دینا چاہیے البتہ صدقات نافلہ ، خیرات کافر ومشرک پر جائز ہے(طحطاوی )
ولا یکفن بھامیتا ولا یقضی بھا دین میت ولا یشتری بھا رقبۃ لیعتقہ ولا یدفع الی غنی ولا یدفع المزکی زکوٰۃ مالہ الی ابیہ وجدہ وان علا ولا الی ولدہ و ولد ولدہ و ان سفل ولا الی امہ وجداتہ وان علت ولا الی امراتہ ولا تدفع المراۃ الی زوجھا عند ابی حنیفۃ و قالا تدفع الیہ ولا یدفع الی مکاتبہ ولا الی مملوکہ ولا الی مملوک غنی ولا الی ولد غنی اذا کان صغیرا ولا یدفع الی صغیر فقیر لا یعقل الا ان یدفع الی ولیہ
اور نہ اس سے میت کو کفن دیا جائے ۔ اور نہ میت کا قرض ادا کیا جائے ۔ اور نہ غلام کو آزاد کرنے کے لیے خرید ا جائے اور مالدار کو زکوٰۃ نہ دی جائے ۔ اور زکوٰۃ دینے والا اپنے باپ ، دادا اور اگر ان سے اوپر بھی ہوں کو اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے اور نہ اپنے بیٹے ، پوتے اور اگر چہ نیچے چلے جاؤ ، کونہ دے اپنی ماں اور بیوی کو بھی نہ دے ۔ اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک عورت اپنے شوہر کو زکوٰۃ نہ دے اور صاحبان فرماتے ہیں کہ عورت اپنے شوہر کو دے اور اپنے مکاتب اور غلام کو زکوٰۃ نہ دے اور زکوٰۃ نہ دے مالدار کے غلام اور مالدار کے بیٹے کو جبکہ وہ بچہ ہے ۔اور کمسن فقیر جو کہ عاقل نہ ہو اس کو زکوٰۃ نہ دی جائے مگر یہ کہ اس کے ولی کو دے
﴿غنی﴾مالدار وہ ہے جو صاحب نصاب ہو
﴿علا﴾یعنی پر دادا اور اس سے بھی اوپر ،زکوٰۃ دہندہ کی اصل وفروع میں جس پہ اس کی ذاتی منفعت پائی جاتی ہوزکوٰۃ نہیں لگتی اصل سے مرادماں ،دادا،نانا، نانی وغیر ہ میں بیٹا، بیٹی،پوتا ، پوتی ،نواسے وغیرہ داخل ہیں سب میں علت امتناع وہی ذاتی منفعت ہے شوہر اپنی زوجہ کونہ دے ، یا زوجہ اپنے شوہر کو ،مالک اپنے مملوک کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔واللہ اعلم ۔سوتیلے ماں باپ، خسر،ساس، بھائی، بہن، بھتیجی ،بھانجی، بھوپھی ،خالہ، ماموں کو زکوٰۃدینا جائز ہے ( طحطاوی )
ولا یدفع الی بنی ھاشم وھم ال علی وال عباس وال جعفروال عقیل وال حارث بن عبدالمطلب و موالیھم وقال ابو حنیفۃ ومحمد اذا دفع الزکوٰۃ الی رجل بظنہ فقیرا ثم علم انہ غنی او ھاشمی او کافر او دفع فی ظلمۃ اللیل الی فقیر ثم بان انہ ابنہ او ابوہ فلا اعادۃ علیہ وقال ابو یوسف علیہ اعادۃ
اور بنی ہاشم کو زکوٰۃ نہ دے اوروہ اولاد علی ، اولاد عباس ، اولادجعفر ، اولاد عقیل، اولاد حارث بن عبدالمطلب اور ان کے غلام ہیں۔ اور امام ابو حنیفہ و امام محمد فرماتے ہیں کہ جب کسی مرد کو فقیر جان کر زکوٰۃ دی پھر معلوم ہو ا کہ وہ مالدار تھا یا ہاشمی تھا یا کافر تھا یا رات کے اندھیرے میں فقیر کو دی پھر پتہ چلا کہ وہ اس کا بیٹا یا باپ ہے ۔ تو اس پر زکوٰۃ دوبارہ ادا کرنا لازم نہیں ہے ۔ اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں اس پر زکوٰۃ دوبارہ ادا کرنا لازم ہے ۔
﴿لایدفع﴾سادات کرام کو زکوٰ ۃ دینے کا مسئلہ اوراس کی بحث :۔ بنی ہاشم اور ان کے خدمت گاروں کیلئے بھی متون اور کتب فقہ شریف اوراحادیث مبارکہ میں زکوٰۃ دینا منع ہے چونکہ فی زمانناہذا یہ مسئلہ بہت زیر بحث رہا ہے اس لئے اس پر کسی قدروضاحت سے بحث کی جاتی ہے ہمارے نبی کریم ﷺ اولاد حضرت ہاشم سے ہیں محمد مصطفی ﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم ۔ ہاشم کی اولاد سے حضرت علی ،حضرت عباس ، حضرت جعفر ، حضرت عقیل اور حضرت حارث وغیرہم تھے اس کے سوا جو اولاد ہاشم حضوررحمتہ اللعالمین ﷺ کے ساتھ جفاکار اور برسرپیکار رہی ان کو اس تقدس اور تعلق سے خارج کر دیا گیا ہے ۔ یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اولاد فاطمۃالزہرا ء رضی اللہ تعالی عنہا( بنت رسول ﷺ ) کو سید اوراولاد حضرت علی کرم اللہ وجہ کو ( جو کہ غیر ازبطن سیدہ خاتون جنت ہے ) علوی کہاجاتاہے ان کے علاوہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورﷺ کے سگے چچانبی کریم ﷺ کے چچازاد بھائی حضرت جعفر حضرت عقیل بن ابی طالب اور حضرت حارث بن عبدالمطلب تھے ان سب کی اولاد پر زکوٰۃ کا پیسہ ناجائز لکھا ہے ( ہدایہ، مختصر ، شرح وقایہ، درمختار، مسلم شریف ، بخاری شریف ) امتناع زکوٰۃ کا حکم تمام بنوہاشم کے لئے ہے ان کی اولاد سے وہی لوگ تذللا خارج ہوئے جن کا ذکر اوپر آچکاہے جیسے ابولہب وغیرہ ۔یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سیدہ خاتون جو حبالہ عقد اسد اللہ الغالب علی بن ابی طالب(ابن مطلب بن ہاشم ) میں تھیں ان کی اولادسے سلسلہ سیادت شروع ہوتاہے اور اس میں تخصیص امتناع زکوٰۃ نہیں بلکہ اسی عمومیت کے تحت جو بنو ہاشم کے ساتھ مربوط ہے چونکہ انساب کا سلسلہ باپ کی طرف منتسب ہوتاہے اور حضورﷺ کا نسب مبارک بحدیث صحیحہ خاتون جنت کے ساتھ وابستہ ہے اس لئے اس سلسلے سے منسلک جو سادات کہلاتے ہیں یہ تعلق ان کے متعلق کی جاتی ہے کہ انہیں زکوٰۃ دینا جائزہے یا نہیں ؟صحیح بخاری میں بروایت ادم بن ابی ایاس حضرت ابی ہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی نے زکوٰ ۃ کی آئی ہوئی کھجوروں میں سے ایک اٹھا کرمنہ میں ڈال لی تھی توحضورﷺ نے فرمایا’’ کخ کخ لیطر حہا ‘‘ ’’دورکردورکرتاکہ پھینک دے اسے ‘‘اور فرمایا کہ تجھے معلوم نہیں کہ ہم صدقہ کا مال نہیں کھاتے( بخاری باب مایذکرفی الصدقات للنبی ﷺ ) دوسری حدیث میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نے راستے سے گزرتے ہوئے ایک کھجورپڑ ی دیکھی تو فرمایا کہ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتاکہ یہ زکوٰۃ کے مال سے ہو گی تو میں اسے کھا لیتا ( مشکوۃ باب من لاتحل لہ الصدقۃ) عبد المطلب بن ریتہ سے روایت ہے کہ رحمتہ اللعالمین ﷺ نے فرمایا کہ یہ صدقہ یعنی زکوٰۃ لوگوں کی میل جو محمد ﷺ اور ان کی آل کے لئے حلال نہیں ۔
ولو دفع الزکوٰۃ الی شخص ثم ظھر انہ عبدہ او مکاتبہ لم یجزفی قولھم جمیعا ولا یجوز دفع الزکوٰۃ الی من یملک نصابا من ای مال کان ویجوز دفعھا الی من یملک اقل من ذلک وانکان صحیحا مکتسبا ویکرہ نقل الزکوٰۃ من بلد الی بلد اخرو انما یصرف صدقۃ کل قوم فیھم الا ان ینقلھا الانسان الی اقرباۂ الضعفاء او الی قوم ھم احوج من اھل بلدہ
اور اگر ایک شخص کو زکوٰۃ دی پھر ظاہر ہو ا یہ کہ وہ اس کا غلام یا مکاتب ہے تو ان سب کے قول کے مطابق جائز نہیں ہے ۔ اور اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں جو نصاب کا مالک ہو خواہ کو ئی مال بھی ہو ۔ اور جو نصاب سے کم کا مالک ہو تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اگرچہ وہ تندرست اور کمانے والا ہو ، اور زکوٰۃ کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانا مکروہ ہے اور سوائے اس کے نہیں کہ ہر قوم کی زکوٰۃ انھی میں صرف کی جائے اگر زکوٰۃ والا ان میں سے ہو ۔ مگر یہ کہ آدمی اپنے مفلس رشتہ داروں کے پاس زکوٰۃ لے جائے یا اس قوم کی طرف جو اس کے شہر والوں سے زیادہ محتاج ہو ں
زکوٰۃ کے متفرق مسائل
مسئلہ :۔سونے چاندی برتن زیوزسچا گوٹہ، ٹھپہ کناری سب پر زکوٰۃ واجب ہے
مسئلہ :۔اگر آپ کے پاس مال نصاب مثلادوسوروپیہ رکھا تھا۔اور سال پورا ہونے سے پہلے آپکو اور ایک سو روپیہ مل گیا ۔تو اب اس سو روپیہ کو حساب علیحدہ نہ رکھیں گے بلکہ یہ سو بھی پیچھلے دوسو کے ساتھ ملکر نصاب میں آجائے گا خواہ اس پرپورا ایک سال گذراہو یا نہ ۔
حکمت :۔ چونکہ سونااور چاندی اصل خلقت کے اعتبار سے متعین ہو چکی ہیں ۔اس واسطے ان میں تجارت کی نیت ہو یا نہ ہو اہل وعیال پر خرچ کرنے کا قصد ہویا نہ ہو ۔ان میں زکوٰۃ واجب ہو گئی ۔بر خلاف اور مستثنیات کے کہ ان میں اگر نیت تجارت نہ ہوتو زکوٰۃ بھی نہیں
مسئلہ :۔ٹھیکہ اورعاریت کی زمین کے حاصلات میں جبکہ وہ عشری ( عشری اس زمین کو کہتے ہیں جو مسلمان بادشاہ نے کفارسے فتح کر کے مسلمانوں کوبانٹ دی ہو یا پہاڑی زمین جہاں پانی نہ پہنچے عشری کہلاتی ہے ۔ملاحظہ ہو خانیہ عالمگیری )ہو ۔زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ عشر کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھیکہ دار اور مستعیر ہے ۔مسئلہ :۔ زکوٰۃ کی شرائط میں یہ بھی کہ اس مال میں ملکیت تامہ ہو ۔اور تام ملک کے یہ معنی ہیں ۔کہ مال میں ملک وقبضہ دونوں موجود ہوں پھر جس مال میں ملکیت توہو پر قبضہ نہ ہو ۔مثلا ( مہرمؤجل) یا قبضہ بدوں ملک کے ہو جیسے مدیون کے مال دَین کی مقدار تواس صورت میں زکوٰۃ واجب نہیں ۔
تعارف :۔ زکوٰۃ کے حساب کے لیے قمری سال ہے نہ شمسی ۔اس کو سال ہلالی بھی کہتے ہیں اور بموجب علم ہیت اس کے ۳۵۴ دن ، چھتیس گھڑی دس یو م یعنی بائیس وقفے ہوئے ہیں ۔(فتامل )
مسئلہ:۔ اگر آپ شروع اور آ خرسال میں صاحب نصاب تھے لیکن درمیانی ایام میں مال گھٹتا گیا تو زکوٰۃ پورے سال کی واجب ہو گی ۔
مسئلہ :۔ اگر وہ شخص جس پر زکوٰۃ واجب تھی مرگیا ۔ تو علمائے احناف کا یہ فتویٰ ہے ۔کہ زکوٰۃ بوحہ موت اس پر سے ساقط تصور ہو گی ۔ لیکن اس کے ذمہ قیامت کا سخت مواخذہ باقی رہ گیااور اگر یہ متوفی ادائیگی زکوٰۃ کی وصیت کرکے مرا ہے تو ورثاء کو چاہیے کہ میت کے ثابت مال سے زکوٰۃ اداکر دیں بلکہ حضرت امام شافعی تو یہ فرماتے ہیں کہ نہ تو اس وقت وصیت کو دیکھاجائے ۔نہ ثلث مال کی تقدیر ضروری ہے بدوں وصیت ( کمبخت کے ) سارے مال سے اول زکوٰۃ نکالی جائے۔
مسئلہ :۔ مستحق کو بنام انعام ، یا تقریب عید ، بہ نیت زکوٰۃ رقم دی جاسکتی ہے ۔
مسئلہ :۔ اگر تمہارا کسی پر قرضہ چلا آتاہے تواب اس کوزکوٰۃ میں سے ،مجرانہیں کیا جاسکتا،یہ تو وہی مثال ہو گی ’’ حلوائی کی دوکان اور اباجی کی فاتحہ ‘‘ درست نہیں ۔التبہ فقہاء نے یہ حیلہ جائز قرار دیا ہے کہ آپ اس کو اپنے قرضہ کا مطالبہ کرکے وہ رقم واپس لے سکتے ہیں ۔
مسئلہ:۔ آپکے پاس اس قدچاندی ہے کہ (۳) تولہ زکوہ کی چاندی نکلتی ہے اور فرض کریں کہ بازار میں (۳) تولہ چاندی کی قیمت دو(۲) روپیہ ہے آپ دوروپیہ کی رقم یعنی قیمت چاندی زکوٰۃ میں نہیں دے سکتے ۔کیونکہ دو روپیہ کا وزن تین تولہ نہیں ہوتا اور چاندی کی زکوٰۃ میں جب چاندی دیجائے تووزن کا اعتبار ہوتاہے قیمت کا نہیں یہ مسئلہ یاد رکھئے التبہ آپ دوروپیہ کا سونا ، کپڑا یا کو ئی اور چیز یا خود ۳ تولہ چاندی کردے سکتے ہیں۔ جس سے زکوٰۃ اداہوجائیگی ( شامی وغیرہ)
(رسالہ سراج المشکوۃ فی مسائل الزکوٰۃ مکمل ہوا)
باب صدقۃ الفطر
صدقۃ الفطر واجب علی الحرالمسلم البالغ العاقل اذا کان مالکا للنصاب فاضلا عن مسکنہ وثیابہ واثاثہ وفرسہ و سلاحہ و عبیدہ للخدمۃ ویخرج ذلک عن نفسہ وعن اولادہ الصغار وعن ممالیکہ للخدمۃ ولا یؤدی عن زوجتہ وعن اولادہ الکباروان کانوا فی عیالہ وعن عبدہ الماذون والموجر وعبدہ الموصی برقبۃ لہ
صدقہ فطر
آزاد ،مسلمان ، بالغ،عاقل پر صدقہ فطرواجب ہے جبکہ نصاب کا مالک ہو۔ جو اس کے رہائشی گھر کپڑوں ،سامان ، گھوڑے ، ہتھیار اور خدمت گارغلاموں سے زائد ہو ۔اور صدقہ فطر اپنی طرف سے اپنی کمسن اولاد اور اپنے خدمت گار غلاموں کی طرف سے ادا کرے گا۔ اپنی بیوی اور جوان اولاد کی طرف سے ادا نہ کر ے ۔اگرچہ اس کے عیال میں شامل ہوں ۔
﴿فطر﴾ فطر چھوٹی عید کو کہتے ہیں ،اس موقع پر کچھ صدقہ کیا جاتا ہے ایک صدقہ معین ہے اور ایک غیر معین یہ صدقہ معین ہے جو کہ معین وقت پر مقر ر مقدار میں دیا جاتاہے ۔یہ صدقہ رمضان کے لیے ہو تاہے تاکہ روزوں میں جو کمی ہے وہ اس سے پوری ہو جائے
﴿عیال﴾فقہافرماتے ہیں کہ جو ان اولاد کی طرف سے بھی دے گا جبکہ وہ باروز گار نہ ہوں اوراس کی ذمہ داری ہوں
و انکان خدمتۃ للا خروعن عبد المرھون انکان لہ وفاء ولا یخرج عن مکاتبہ ولا عن ممالیکہ للتجارۃ والعبد بین الشریکین لافطرۃ علی احد منھما ویؤد ی المسلم الفطرۃ عن عبدہ الکافرو الفطرۃ نصف صاع من بر اوصاع من تمراوصاع من شعیراو زبیب او قیمتہ عند ابی حنیفۃ ومحمد والصاع ثمانیۃ ارطال بالعراقی وقال ابو یوسف خمسۃ ارطال وثلث رطل بالحجازی ووجوب الفطرۃ یتعلق بطلوع الفجرالثانی من یوم الفطر
اور نہ اپنے ماذون یا موجر کی طرف غلام کی طرف سے ادا کرے ۔اور نہ اپنے اس غلام کی طرف سے کہ جس کی گردن آزادکرنے کے متعلق وصیت کی گئی ہواگر ان کہ خدمت دوسرے کے لیے ہو ۔ اور نہ اپنے اس غلام کی طرف سے جو مرھون ہو اگر اس کے پاس کافی مال ہو ۔اور صدقہ فطر اپنے مکاتب اور اپنے غلاموں کی طرف سے ادا نہ کرے جوتجارت کے لیے ہوں ۔ ایک غلام جو دو شریکوں کا ہے تو ان دومیں سے کسی پر بھی اس کا صدقہ فطر نہیں ہے اور مسلمان اپنے کافر غلام کی طرف سے صدقہ فطرادا کرے ۔ اور امام ا بو حنیفہ وامام محمد کے نزدیک صدقہ فطر گندم سے آدھا صاع یا گجھور سے ایک صاع یا جو یا میوے سے ایک صاع یا ان کی قیمت کے برابر ہے ۔ اور صاع عراقی رطل کے اعتبار سے آٹھ رطل ہے ۔ اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ پانچ رطل اور حجازی رطل کا تیسرا حصہ ہے ۔اور صدقہ فطر کا واجب ہو نا یو م فطر کے دن صبح صادق کے نمودار ہو نے سے تعلق رکھتا ہے ۔
وقال الشافعی یتعلق بغروب الشمس من ا خر یوم رمضان ومن مات قبل ذلک لم یجب علیہ الفطرۃ عندنا ومن اسلم او ولد بعد طلوع الفجر لم تجب الفطرۃ اتفاقا والمستحب للناس ان یخرجوا الفطرۃ یوم الفطر قبل ان یخرج الناس الی المصلی فان قدموھا قبل یوم الفطر جاز عنھم وان
اخروھا من یوم الفطر لم تسقط وکان علیہم ا خراجھا
اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ رمضان کے آ خری دن کے غروب آفتاب سے تعلق رکھتا ہے ۔اور جو اس سے پہلے مرگیا تو ہمارے نزدیک اس پر فطرانہ واجب نہیں ہے اور جو صبح صادق کے بعد مسلمان ہو ا یا پیدا ہو ا تو بالاتفاق اس پر فطرانہ واجب نہیں ہے اور لوگوں کے لیے مستحب ہے یہ کہ فطر کے دن لوگوں کے عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے فطرانہ ادا کریں ۔پس اگر فطر کے دن سے پہلے فطرانہ دے دیا تو ان کی طرف سے جائز ہے اور اگرفطرکے دن سے مو خر کرے تو صدقہ فطرساقط نہیں ہو گا اور اس پر فطرانہ دینا لازم ہے۔
کتاب الصوم
الصوم ضربان واجب ونفل فالواجب منہ ضربان احدھما یتعلق بزمان بعینہ کصوم شھر رمضان والنذر المعین فیجوز صومہ بنیۃ من اللیل وان لم ینو حتی اصبح فنوی اجزتہ ما بین الصبح وبین الزوال والضرب الثانی ما ثبت فی الذ مۃ کقضاء شھر رمضان والنذر الذی ھو غیر المعین
روزہ کی کتاب
روزہ کی دو قسمیں ہیں واجب اور نفل ۔ پس ان میں سے واجب کی دو قسمیں ہیں ۔ان میں سے ایک وقت معین سے تعلق رکھتاہے ہے ۔جیسے ماہ رمضان اور نذر معین کا روزہ ہے ۔پس رات ہی کو نیت کرلینے سے یہ روزہ جائز ہے ۔اور اگر صبح تک نیت نہیں کی تو صبح صادق اور زوال آفتاب کے درمیان نیت کرلیناجائز ہے ۔اور دوسری قسم وہ ہے جو ذمہ میں ثابت ہو جیسے قضا ماہ رمضان اور نذر غیر معین کا روزہ ہے ۔
﴿صوم ﴾صوم کے معنی ہیں روزہ ۔صام ۔یصوم ۔صوما ۔صوم کا لغوی معنی امساک یعنی رک جانا ہے اور شریعت کی اصطلاح میں عاقل ،بالغ مسلمان کاروزے کی نیت سے صبح صا دق کے طلوع سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اورجماع سے رکنا روزہ کہلاتاہے ۔
﴿واجب﴾واجب بمعنی فرض کے ہے
﴿ نذرالمعین﴾نذر معین کا روزہ بھی واجب ہے ۔کوئی نذر مانے کہ میں مقدمہ جیت جاؤں یا میر ا بچہ تندرست ہوجائے یا اس طرح کئی اور باتیں تو میں تین دن ،پانچ دن وغیر ہ روزہ رکھوں گا ۔
﴿ قضاء﴾کسی عذر کی وجہسے رمضان کے روزے نہیں رکھے تو اب ان کی قضا لازم ہے ۔جان بوجھ کر توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم آتاہے ﴿غیرالمعین﴾جس میں وقت متین نہ ہو
فلا یجوز الا بنیۃ من اللیل وکذلک صوم الظھار والکفارات والنفل کلہ یجوز بنیۃ من النھار قبل الزوال وینبغی للناس ان یلتمسوا الھلال فی یوم التاسع والعشرین من شعبان فان رأوہ صاموا و ان غم الھلال علیہم اکملوا عدۃ شعبان ثلثین یوما ثم صاموا ولا یصوم یوم الشک الاتطوعا ومن رای ھلال رمضان وحدہ صام
پس یہ جائز نہیں ہے مگر رات ہی کو نیت کرلینے سے ۔اور اسی طرح ظہار اور کفارے کے روزے ہیں ۔اورتمام نفلی روزے دن میں زوال سے پہلے نیت کرلینے سے جائز ہیں اور لوگوں کو چاہیے کہ شعبان کی انتیسویں (۲۹)کو چاند تلاش کریں پس اگر اسے دیکھ لیں تو روزہ رکھیں اور اگر ان کو چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورا کرکے پھر روزہ رکھیں۔اور شک کے دن روزہ نہ رکھیں مگر نفل کی نیت سے رکھیں ۔ اور جس نے تنہا رمضان کاچانددیکھا تو وہ روزہ رکھے
﴿ من اللیل﴾یعنی صبح صادق سے پہلے
﴿ظھار ﴾ظہار یعنی کسی نے اپنی بیوی کو کہا کہ تم میری ماں کی طرح ہو یا تمھاری پیٹھ میری ماں یا بہن کی طرح ہے تو اس پر ظہار کے روزے کفارہ کے طورپر رکھنے لازم ہیں
و ان لم یقبل الامام شھادتہ وان افطر فلا کفارۃ علیہ عندنا واذا کان فی السماء علۃ قبل الامام شھادۃ الواحد العدل برؤیۃ الھلال رجلا کان او امراۃ حرا کان او عبدا وان لم یکن فی السماء علۃ لم یقبل الامام شھادۃ حتی یراھا جمع کثیر یقع العلم بخبرھم و وقت الصوم من حین طلوع الفجر الثانی الی غروب الشمس والصوم ھو الامساک عن الاکل والشرب والجماع نھارا مع النیۃ
اگرچہ امام اس کی شہادت کو قبول نہ کرے اور اگر روزہ نہ رکھے تو ہمارے نزدیک اس پر کفارہ لازم نہیں ہے ۔اور اگر آسمان میں بادل وغبار ہو تو امام چاند دیکھنے کے متعلق شہادت قبول کرے ایک عادل کی چاہیے وہ مرد ہو یا عورت ،آزاد ہو یا غلام ہو ۔ اوراگر آسمان میں بادل وغبار نہ ہو توامام شہادت قبول نہ کرے یہاں تک کہ ایک ایسی بڑی جماعت دیکھے کہ جن کی خبرسے یقین حاصل ہو جائے۔اور روزے کا وقت صبح صادق کے طلوع ہو نے سے سورج کے غروب ہو نے تک ہے ۔ اور روزہ دن کے وقت نیت کے ساتھ کھانے پینے اور صحبت کرنے سے رک جانے کا نام ہے۔
﴿عادل ﴾عادل جو مردود شہادت نہ ہو ۔یعنی زنا کار ،قاتل ، قطاع الطریق یہ سب مردودشہادت ہیں جوسنت موکدہ کا پابند ہو ۔متبع شریعت ہوتووہ عادل ہے ۔
فان اکل الصائم او شرب اوجامع ناسیا لم یفطرہ فان نام فاحتلم او نظر الی فرج امراۃ بشھوۃ فانزل اوادھن او احتجم او اکتحل او قبل او اصبح جنبا لم یفطرہ فان انزل بقبلۃ اولمس فعلیہ القضاء دون الکفارۃ ولا باس بالملامسۃ او بالقبلۃ اذا امن علی نفسہ ویکرہ ان لم یا من وان ذرعہ القئ ملأ الفم لم یفطر
اور اگر روزہ دارنے بھول کر کھالیایا پی لیا یا مجامعت کرلی تو روزہ نہیں ٹوٹا۔اور اگر سونے میں احتلام ہو گیا یا عورت کی شرمگاہ کی طرف شہوت سے نظر کی پس انزال ہو گیا یا تیل لگایا یا سینگی لگائی یا سرمہ لگایا یا بوسہ لیا یا جنب کی حالت میں صبح کی تو روزہ نہیں ٹوٹا ۔اوراگربوسہ یا چھونے سے انزال ہو تو اس پر قضا ہے کفارہ نہیں ہے ۔ چھونے اور بوسہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔جبکہ اپنے نفس پر اس کو اطمینان نہ ہو ۔اورمکروہ ہے اگر اطمینان ہو۔اور اگر منہ بھر کر قے آجائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا
فان استقاء عمدا ملا الفم فعلیہ القضاء ولا کفارۃ علیہ ومن ابتلع الحصاۃ او الحدید او النواۃ افطروعلیہ القضاء دون الکفارۃ ومن جامع عامدا فی احد السبیلین او اکل او شرب ما یتغذی بہ او یتداوی بہ فعلیہ القضاء والکفارۃ مثل کفارۃ الظھار ومن جامع فیما دون الفرج او البہیمۃ او قبل اولمس زوجتہ فانزل فعلیہ القضاء ولا کفارۃ علیہ
اور اگر جان بوجھ کر منہ بھر کرقے کی تو اس پر قضالازم ہے اور اس پر کفارہ لازم نہیں ہے اور اگر کوئی سنگر یزہ یالوہا یاکھجور کی گٹلی نگل جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس پرقضالازم ہے اور کفارہ نہیں ہے ۔اور اگرکسی نے جان بوجھ کر قُبل یا دُبر میں مجامعت کرلی یا کھالی یا پی لی وہ چیز جس سے غذا حاصل کی جاتی ہو یا جس سے دوائی کی جاتی ہو تو ظہار کے کفارہ کی مانند اس پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں ۔ اورجس نے فرج کے سوا عورت کی کسی اور جگہ یا جانور سے مجامعت کی یا بیوی کو چھونے یا بوسہ لینے سے انزال ہو گیا تو اس پر قضالازم ہے اور اس پر کفارہ لازم نہیں ہے ۔
ولیس فی افساد الصوم فی غیر شھر رمضان کفارۃ ومن احتقن او استعط اواقطر فی اذنیہ او داوی جائفۃ او امۃ بدواء رطب فوصل الدواء الی جوفہ او الی دماغہ افطر عند ابی حنیفۃ وان اقطر فی احلیلہ لم یفطر عند ابی حنیفۃ ومحمد وعند ابی یوسف یفطر ومن ذاق شیئا بفمہ او بلسانہ ولم یدخل لم یفطر
غیر رمضان میں روزہ توڑنے سے کفارہ نہیں ہے ۔اور جس نے حقنہ لیا یا ناک میں دوائی ڈالی یا کانوں میں قطرے ڈالے یا تردوائی سے پیٹ یا سر کے زخم کا علاج کیا پس وہ دوائی پیٹ یا دماغ میں پہنچ گئی توامام ابوحنیفہ کے نزدیک روزہ ٹوٹ گیا ۔اور اگر ذَکر کے سوراخ میں دوائی ٹپکائی تو امام ابو حنیفہ وامام محمد کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹے گا۔اور امام ابویوسف کے نزدیک ٹوٹ جائے گا۔ اور جس نے اپنے منہ یا زبان سے کچھ چکھا اور وہ چیز اند ر داخل نہ ہوتو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
﴿دواء ﴾اگرانجیکشن لگایا اوردوائی دماغ یا پیٹ میں پہنچ گئی تو روزہ ٹوٹ گیا ۔
﴿ذاق شیئا ﴾اگرکسی کاشوہر سخت مزاج ہے اوروہ ہانڈی کا نمک چکھ کرپھینک دیتی ہے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
ویکرہ لہ ذلک ویکرہ للمراۃ ان تمضغ لصبیھا الطعام اذا کان لھا بدمنہ و مضغ العلک لا یفطر الصوم ولکن یکرہ ومن کان مر یضا فی رمضان فخاف ان صام زاد مرضہ افطر وقضی وان کان مسافرا لا یضرہ الصوم فصومہ افضل وان افطر المسافروقضی جاز وان مات المریض و المسافر و ھما علی حالھما لم یلزمھا القضاء
اوریہ چکھنا اس کے لیے مکروہ ہے۔اور عورت کے لیے مکروہ ہے کہ بلاضرورت اپنے بچہ کے لیے کھاناچبا کرنرم کرلے ۔اور گوند کا چبانا روزہ نہیں توڑتا لیکن یہ مکروہ ہے ۔اور جو رمضان میں بیمار ہو اور ڈرتا ہو کہ اگر روزہ رکھے تو بیماری زیادہ ہو جائے گی۔تو روزہ توڑدے اوراس کی قضاکرے اور اگر ایسا مسافر ہے کہ روزہ اس کو ضررنہیں پہنچاتا پس اس کا روزہ رکھنا افضل ہے ۔اور اگر مسافر نے روزہ توڑ دیا اور اس کی قضاکرلی تو جائز ہے ۔اور اگرمریض اپنی حالت مرض اور مسافر اپنی حالت سفر میں مر جائیں تو ان دونوں پر قضالازم نہیں ہے
و ان صح المریض او اقام المسافر ثم ماتا لزمھما القضاء بقدر الصحۃ والاقامۃ وقضاء رمضان ان شاء فرقہ وان شاء تتابعہ فان ا خر الصوم حتی دخل رمضان الثانی صام رمضان الثانی وقضی الاول بعدہ ولا فدیۃ علیہ والحامل والمرضع اذا خافتا علی ولدھمااو علی نفسھما افطرتا وقضتا ولا فدیۃ علیہما والشیخ الفانی الذی لا یقدر علی الصیام یفطر ویطعم لکل یوم مسکینا کما یطعم فی کفارۃ الظھار
اور اگر بیمارتندرست ہو گیا یا مسافر اقامت پذیر ہو گیا پھر مر گیا ۔تو صحت اور اقامت کے حساب سے ان پر قضاء لازم ہے ۔اور رمضان کی قضا اگرچاہے وقفے وقفے سے رکھے یا مسلسل رکھے پس اگر روزہ کو مؤ خر کردیا حتی کہ دوسرا رمضان آگیاتو دوسرے رمضان کے روزے رکھنے کے بعد پہلے رمضان کی قضا کرلے۔ اور اس پر کچھ فدیہ نہیں ہے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو جب اپنے بچوں یا اپنی جانوں کا خطرہ ہو توروزہ نہ رکھیں اور قضا کریں اوران دونوں پر فدیہ نہیں ہے ۔ اور بہت بوڑھا آدمی جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو روزہ نہ رکھے اور ہر دن ایک مسکین کو کھانا کھلائے جیسے ظہارکے کفارے میں کھلایا جاتاہے ۔
﴿ فدیہ﴾فدیہ وہ دے گا جس کو طبیب نے ساری عمرکے لیے روزے سے منع کردیا ہو ،جو تندرست ہو سکتا ہے اس پرقضاہے
ومن مات و علیہ قضاء رمضان فاوصی بہ اطعم عنہ ولیہ لکل یوم مسکینا نصف صاع من بر او صاعا من تمر او من شعیر او صاعا من زبیب ومن دخل فی صوم التطوع او فی صلوۃ التطوع ثم افسدھما قضاھما واذا بلغ الصبی او اسلم الکافر فی رمضان بعد الزوال امسکا بقیۃ یومھما وصاما بعدہ ولم یقضیا مامضیٰ منھما ومن اغمی علیہ فی شھر رمضان لم یقض الیوم الذی حدث فیہ الاغماء وقضی ما بعدہ واذا افاق المجنون فی بعض شھر رمضان قضی ما مضیٰ منہ
اور جو شخص مرجائے اور اس پر رمضان کی قضا ہو پس اس نے قضا کی وصیت کی تو اس کی طرف سے اس کا ولی ہر دن ایک مسکین کوآدھا صاع گندم یا ایک صا ع کجھور یا جو یا ایک صاع میوے کے برابردے دے ۔اور جو شخص نفلی روزے یانماز میں داخل ہوا پھر اسے توڑ دیا توان دونوں کی قضا کرے ۔ اور جب رمضان میں زوال کے بعد بچہ بالغ ہو جائے یا کافر مسلمان ہوجائے تو باقی دن رکے رہیں ۔اور اس دن کے بعدروزہ رکھیں اور اس دن اور اس سے پہلے روزے کی قضانہ کریں ۔ اور جو ماہ رمضان میں بے ہوش ہو گیا تو جس دن بے ہوشی واقع ہوئی اس روزہ کی قضانہ کرے اور اس کے بعد کے روزے کی قضا کرے ۔اور جب پاگل رمضان کے کچھ حصے میں تندرست ہو گیاتو گذر جانے والے روزوں کی قضا کرے۔
﴿طعم ﴾اسی کو اسقاط بھی کہتے ہیں ۔
واذا حاضت المراۃ او نفست افطرت وقضت اذاطہرت ولا فدیۃ علیھا
واذا قام المسافر وطھرت الحائض فی بعض النھارامسکا بقیۃ یومھما عن الطعام والشراب ومن تسحروھو یظن ان الفجرلم یطلع اوافطر وھو یظن ان الشمس قد غربت ثم تبین ان الفجر قد طلع او ان الشمس لم تغرب قضیٰ ذلک الیوم ولا کفارۃ علیہ ومن رای ھلال الفطر وحدہ لم یفطر واذا کان فی السماء علۃ لم یقبل الامام فی ھلال الفطر الا شھادۃ رجلین او رجل وامراتین وان لم یکن فی السماء علۃ لم یقبل الامام الاشھادۃ جمع کثیر یقع العلم بخبرھم
اور جب عورت حائضہ یا نفاس والی ہوجائے تو روزہ تو ڑدے اور قضا کرے اور اس پر فدیہ نہیں ہے ۔اورجب دن کے بعض حصہ میں مسافر اقامت گزین یا حائضہ پاک ہوجائے۔تو باقی دن کھانے پینے سے رک جائیں ۔اور جس نے اس گمان میں سحری کی کہ صبح صادق طلوع نہیں ہوئی یا ان گمان میں افطار کیا کہ سورج ڈوب گیا پھر ظاہر ہوا کہ بے شک صبح صادق طلوع ہوچکاہے یا یہ کہ سورج غروب نہیں ہوا ہے تو اس دن کی قضاکرے اور اس پر کفارہ لازم نہیں ہے ۔اور جس نے تنہاعیدکا چانددیکھا تو روزہ ترک نہ کرے اور جب آسمان میں بادل وغبار ہو تو امام عید کے چاند کے متعلق قبول نہ کرے مگر دومروں کی شہادت یا ایک مرد اور دوعورتوں کی شہادت ۔اور اگر آسمان میں ابر وغبار نہ ہو تو امام قبول نہ کرے مگر جمع غفیرکی شہادت کہ ان کی خبر سے یقینی علم واقع ہوجائے۔
باب الاعتکاف
الاعتکاف مستحب وھو اللبث فی المسجد مع الصوم بنیۃ الاعتکاف ویحرم علی المعتکف الوطی و اللمس والقبلۃ وان انزل بالقبلۃ اواللمس فسداعتکافہ وعلیہ القضاء صوم لا یخرج من المسجد الا لحاجۃ الانسانی او الجمعۃ وان خرج لغیرھما تفسد الاعتکاف عند ابی حنیفۃ و عندھما لا تفسد الا اذا کان اکثر النھار خارج المسجد
اعتکاف
اعتکاف مستحب ہے ۔ مسجد میں روزے کی حالت مین اعتکاف کی نیت کرکے ٹھہرنا اعتکاف ہے۔اور معتکف پر صحبت کرنا ،چھونا اور چومنا حرام ہے ۔اور اگر چھونے یا چومنے کے ساتھ انزال ہوجائے تو اعتکاف فاسد ہوجائیگا اور اس پر قضا لازم ہوجائیگی۔ اور مسجد سے نہ نکلے مگر انسانی ضرورت یا جمعہ کی نماز کے لیے نکل سکتا ہے اور اگر ان امور کے علاوہ کسی اور کام کے لیے نکلا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اعتکاف فاسد ہو جائے گا اور صاحبین کے نزدیک فاسد نہیں ہو گا جبکہ دن کے اکثر حصے میں مسجد سے باہر ہو تو فاسد ہو جائے گا
﴿ اعتکاف﴾اعتکاف کا معنی ہے ٹھہرنا ،رکنا ،قیام کرنا ۔اصطلاح معنی ہیں کہ نیت کے ساتھ رمضان المبارک کے آ خری دس دنوں میں ایسی مسجد میں جہاں پانچ وقتوں کی نما زہوتی ہو رک جانا یا قیام کرنا ۔یہ سنت اعتکاف ہے ۔اور نفلی اعتکاف ہر وقت کیا جاسکتاہے ۔ظہر کی نماز سے عصر کی نماز تک اورعصر سے مغرب تک اعتکاف کی نیت سے مسجد میں بیٹھ سکتاہے ﴿لحاجۃ الانسانی ﴾حاجت انسانی یعنی چھوٹے یا بڑے پیشاب کیلیے یا فرض غسل کے لیے داڑھی مونڈھنے کے لیے مسجد سے نکلناخلاف سنت ہے
﴿الجمعۃ ﴾یہ حاجت شرعی ہے
ولاباس بان یبیع او یشتری فی المسجد من غیر ان یحضر السلعۃ ولا یتکلم الا بخیر ویکرہ لہ الصمت فان جامع المعتکف لیلا او نھارا عامدا او ناسیا بطل اعتکافہ ومن اوجب علی نفسہ اعتکاف ایام معدودۃ لزمتہ اعتکافھا بلیا لیھا وکانت متتابعۃ وان لم یشترط التتابع
اور مسجد میں سامان لائے بغیر خیریدو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اور ہمیشہ اچھی بات کہے ۔اور معتکف کے لیے خاموش رہنا مکروہ ہے ۔اور اگر معتکف نے رات یا دن کے وقت جان بوجھ کر یا بھول کر مجامعت کرلی تو اس کا اعتکاف باطل ہو گیا اور جس نے چند دنوں کا اعتکاف اپنے نفس پر واجب کرلیا تو اس پر ان دنوں کا اعتکاف مع ان کی راتوں کے واجب ہے ۔ اور ان ایام کا اعتکاف لگاتار واجب ہے اگر چہ وہ لگاتار اعتکاف کی شرط نہ لگائے
﴿بخیر ﴾یعنی غیبت ،جھوٹ،فحش کلامی سے بچ
﴿ متتابعۃ﴾یعنی مسلسل اعتکاف کرے گا یہ نہیں کرے گا کہ ایک دن اعتکاف کرے اوردوسرے دن گھر چلا جائے اورتیسرے دن پھر اعتکاف کرے ۔
کتاب الحج
الحج واجب علی الاحرار البالغین العقلاء الاصحاء من المسلمین
حج کا بیان
مسلمانوں میں سے آزاد بالغ و عاقل اور تندرست پر حج واجب ہے ۔
﴿حج ﴾ کا لغوی معنی کسی معظم چیز کا ارادہ کرنا ، قصد کرنا ،چلنا ۔ اصطلاح میں مخصوص دنوں میں ، مخـصوص لباس کے ساتھ ، مخصوص ارکان کا مخصوص مقامات میں ادا کرنا حج ہے۔مخصوص دن یعنی ایام حج، مخصوص لباس یعنی احرام ،مخصوص ارکان یعنی قیام مزدلفہ ،منی ،عرفات وغیرہ بیت اللہ شریف کا حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور یہ ہر اس عاقل ، بالغ مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس اس قدر سرمایہ ہوکہ وہ حج کے سفر کے ا خراجات برداشت کر سکے نیز اپنے گھروالوں کے لئے اتنی رقم چھوڑ جائے جو اس کی واپسی تک ان کے ا خراجات پورے کرسکے اور پھر حج پر جانے والے کو حج کے ضروری احکام اور بنیادی باتوں کے متعلق علم ہو۔
﴿واجب ﴾واجبات حج کابیان درجہ ذیل ہیں
(۱) احرام باندھنا کر میقات سے گزرنا ( انڈیا وپاکستان والوں کے لئے یلملم مقام میقات ہے )
(۲) طواف قدوم ۔ یعنی مکہ مکرمہ میں داخلے کے بعد سب سے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کرنا مسنون ہے ۔
(۳) سعی کرنا یعنی صفا ومروہ کے درمیان دوڑنا (۴) سعی کی ابتداء کو ہ صفاسے کرنا
(۵) غروب آفتاب تک عرفات میں قیام کرنا اوریہاں پر ظہر و عصر کی نما زیکجا کرکے پڑھنا
(۶) مزدلفہ میں قیام اوریہاں پر مغرب و عشاء کی نماز یکجااداکرنا
(۷) رمی جمار یعنی شیطانوں کو کنکریاں مارنا (۸) قربانی کرنا
(۹) حلق یا تقصیرکرنا یعنی سرمنڈوانا یا بال کتروانا
(۱۰) طواف و داع یعنی مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت آ خری بار طواف کرنا
(۱۱) ترتیب یعنی مندرجہ بالا واجبات کی ادائیگی میں ترتیب قائم کرنا
﴿علی الاحرار﴾یعنی آزادپر حج واجب ہے غلام ، نا بالغ اورمجنون نکل گئے
اذا قدروا علی الزاد والراحلۃ فاضلا عن مسکنہ کالخادم و اثاث البیت وثیابہ ومالا بدمنہ وعن نفقۃ عیالہ الی حین عودہ وکان الطریق امنا ویعتبرللمراۃ ان یکون لھا محرم تحج بہ او زوج ولا یجوز لھا ان تحج بغیرھما اذاکان بینھا وبین مکۃ مسیرۃ ثلثۃ ایام ولیالیھا فصاعدا
جبکہ وہ اس خرچہ اور سواری کی طاقت رکھتے ہوں جو ان کے گھر سے زاید ہوں جیسے خادم ، گھر کاسامان ، کپڑے اور وہ چیز جواز حد ضروری ہے ۔اور ان کے لوٹنے تک ان کے عیال کے نفقہ سے بھی زاید ہولے ۔اور راستہ پر امن ہو ۔اور عورت کے لیے محرم کا ہو نامعتبر ہے کہ جس کے ساتھ حج کرے یا شوہر کا ہونا معتبر ہے ۔اور عورت کے لیے ان دونوں کے بغیر حج کرنا جائزنہیں ہے جبکہ اس کے اورمکہ کے درمیان تین دن اور رات یا زیادہ کا سفر ہو ۔
﴿محرم﴾محرم یعنی جس کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا ۔بھائی ،چچا، ماموں ،
والمواقیت التی لایجوز ان یتجاوزھا الانسان الا محرما خمسۃ مواضع لاھل المدینۃ ذوالحلیفۃ ولا ھل العراق ذات عرق ولا ھل الشام جحفۃ ولا ھل النجد قرن ولاھل الیمن یلملم فان قدم الاحرام علی ھذہ المواقیت جاز ومن کان منزلہ داخل المیقات فوقتہ الحل الذی بینہ و بین الحرم ومن کان بمکۃ فمیقاتہ فی الحج الحرم وفی العمرۃ الحل
اوروہ مقامات کہ جن سے انسان کا بغیر احرام کے آگے بڑھنا جائز نہیں ہے پانچ ہیں ۔اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ ہے اور اہل عراق کے لیے ذات عرق ہے اور اہل شام کے لیے جحفتہ ہے اور اہل نجد کے لیے
قرن ہے اوراہل یمن کے لیے یلملم ہے اگر ان مواقیت سے پہلے احرام باندھ لیا تو جائز ہے ۔اور جس شخص کا گھر ان مواقیت کے اند ر ہو تو اس کے احرام باندھنے کی جگہ وہ حل ہے جو اس کے اورحرم کے درمیان واقع ہے ۔ اور جو شخص مکہ میں ہوتو اس کا میقات حج میں حرم اور عمرہ میں حل ہے ۔
﴿یلملم﴾یلملم کے مقام سے حج تمتع کی نیت کرے یعنی حج تمتع میں عمر ہ و حج دونوں شامل ہوتے ہیں ۔ مگر صرف عمرہ کا احرام باندھ کراس کی نیت کرے اور حج کی نیت نہ کرے ورنہ حج قِرا ن ہو جائے گا تمتع نہیں رہے گا۔اہل ہند کے لیے یلملم ہے یہ مقام عدن میں واقع ہے آج کل کا زمانہ تو ہوائی جہازوں کا ہے جس کی وجہ مواقیت کا پتہ لگانا مشکل ہے اس لیے اگر کراچی سے یا جہاں ہے وہیں سے احرام باندھ لے توجائز ہے
﴿حل﴾حل سے حرم کی زمین شروع ہوجاتی ہے اس مقام پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے احرام باندھا تھا ۔وہاں پر مسجد عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی واقع ہے
واذا اراد الاحرام توضاء او اغتسل والغسل افضل ویلبس ثوبین جدیدین او غسیلین ازاراو رداء ویمس الطیب ان کان لہ ویصلی رکعتین ویقول عقیب الصلوۃ اللھم انی ارید الحج فیسرہ لی وتقبلہ منی ثم یلبی عقیب الصلوۃ فان کان مفردا بالحج ینوی بتلبیتہ الحج وصفۃ التلبیۃ ان یقول لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک
اورجب احرام باندھنے کا ارادہ کرے تو وضو یا غسل کرے اورغسل افضل ہے پھر دونئے یا دھلے
ہو ئے کپڑے پہنے ،ان میں ایک تہبنداور ایک چادر ہے اوراگر اس کے پاس خوشبوہو تو لگائے پھر دو رکعت نماز پڑھے اورنماز کے بعدکہے اے اللہ جل جلالہ بے شک میں حج کا ارادہ کرتاہوں پس اس کو میرے لیے آسان فرمااورمیری طرف سے قبول فرما۔پھرتلبیہ کہے ۔اگر حج افراد کرنے والا ہو تو تلبیہ کے ساتھ حج کی نیت کرے ۔اور تلبیہ کا طریقہ یہ ہے کہ کہے لبیک اللھم لبیک الخ کی صفت یہ کہنا ہے کہ میں حاضرہوں ۔اے اللہ جل جلالہ میں تیرے حضور میں حاضر ہوں ۔تیرا کوئی شریک نہیں ۔میں حاضر ہو ں بے شک ہر قسم کی تعریف اور ہر قسم کا انعام تیرے ہی لیے ہے اور بادشاہت تیرے ہی لیے ہے تیرا کو ئی شریک نہیں ۔
﴿احرام﴾ یہ دو سفید چادروں پر مشتمل ہوتاہے ایک چادر سے تہہ بند کا کام لیاجاتاہے یعنی لنگی باندھ لی جاتی ہے جبکہ دوسری چادر جسم کے باقی حصے پر لپیٹ لی جاتی ہے اور سروچہرہ کو بر ہنہ رکھا جاتاہے ۔
﴿تلبیہ﴾یہ تلبیہ اس وقت تک کہے گا کہ جب تک کعبۃ اللہ کو دیکھ نہ لے ۔ یہ تلبیہ مقام میقات سے شروع کرے گا اور مکہ معظمہ میں بیت اللہ شریف پر نظر پڑنے تک اسے جاری رکھے گا
وینبغی ان لا یحط بشیء من ھذہ الکلمات فان زاد فیھا جاز فاذا لبی فقد احرم فلیتق ما نھی اللہ تعالیٰ من الرفث والفسوق و الجدال ولا یقتل صیدا ولا یشیر الیہ ولا یدل علیہ ولا یلبس قمیصا ولا سراویل ولا عمامۃ ولا قلنسوۃ ولا قباء ولا خفین الا ان لا یجد النعلین فیقطعہما اسفل من الکعبین ولا یغطی راسہ ولا وجھہ ولا یمس طیبا ولا یحلق راسہ ولا شعر بدنہ
اور ان کلمات میں سے کچھ بھی کم نہیں کرنا چاہیے ۔اور اگران میں زیادہ کرے تو جائزہے پس جب تلبیہ پڑھ لیا تو محرم ہو گیا ۔پس اللہ تعالیٰ نے جن امورسے منع فرمایا ہے ان سے بچے یعنی بے ہو دہ بات ،گناہ اور لڑائی ۔ اور جانور شکار نہ کرے اورنہ اس کی طرف اشارہ کرے اور نہ اس کے متعلق بتلائے اورقمیص وپاجامہ نہ پہنے ۔اور پگڑی نہ باندھے اور نہ ٹوپی پہنے اور چغہ نہ پہنے اور موزے نہ پہنے مگر یہ کہ جوتے نہ پائے توموزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے ۔اورسروچہرہ نہ ڈھانپے ۔اور خوشبونہ ملے اوراپنے سر اور بدن کے کسی بال کو نہ مونڈھے
﴿ مانھی اللہ تعالیٰ ﴾ احرام باندھنے کے بعد درج ذیل امور سے مکمل باز رہیں
(۱) جنسی و بے ہودہ گفتگواور مباشرت سے پرہیز کرے ۔
(۲) لڑائی جھگڑا ، گالی گلوچ اور سخت کلامی نہ کرے
(۳) کسی بھی قسم کا شکار نہ کرے اورنہ ہی شکاری کی امداد کرے یہاں تک کہ مکھی ، مچھر اور جوں کوبھی نہ مارے البتہ موذی اور ضرر پہنچانے والے جیسے سانپ ، بچھو، چوہے اورکتے وغیرہ پروار کرسکتاہے ۔
(۴) دستانے ، جرابے یا موزے نہ پہنے اورجوتے بھی ایسے پہنے جن سے پاؤں کی پشت یعنی اوپر والا حصہ برہنہ ہو
(۵) ناخن اوربال وغیرہ نہ کاٹے، کنگھی وغیرہ کرنے سے بھی پرہیز کرے
(۶) خوشبو یا تیل وغیرہ نہ لگائے ( ۷ ) زیر ناف اورزیر بغل بال کاٹنے سے پرہیزکرے
(۸) صابن وغیرہ کے ساتھ سر یا داڑھی کو نہ دھوئے(۹)سلے ہوئے کپڑے نہ پہنے التبہ خواتین پہن سکتی ہیں ( ۹) حرم شریف کے درختوں پودوں اورگھاس وغیر ہ کو کا ٹنے سے پر ہیز کرے اورحرم شریف کے پرندوں کوبھی نہ ڈرائے نہ بھگائے
﴿ صیدا﴾ کسی بھی قسم کا شکار نہ کرے اورنہ ہی شکاری کی امداد کرے یہاں تک کہ مکھی ، مچھر اور جوں کوبھی نہ مارے البتہ موذی اور ضرر پہنچانے والے جیسے سانپ ، بچھو، چوہے اورکتے وغیرہ پروار کرسکتاہے ۔
﴿ولایلبس ﴾سلے ہوئے کپڑے نہ پہنے التبہ خواتین پہن سکتی ہیں
ولا یقلم اظفارہ ولا یقص من لحیتہ وشاربہ ولا یلبس ثوبا مصبوغا بورس ولا بزعفران ولا بعصفر الا ان یکون غسیلا لاینفض ولا باس بان یغتسل و یدخل فی الحمام و یستظل بالبیت والمحمل ویشد فی وسطہ الھمیان ولا یغسل راسہ ولا لحیتہ بالخطمی ویکثر من التلبیۃ عقیب الصلوۃ وکلما علا شرفا او ھبط وادیا او لقی رکبانا وبالاسحار
اور ناخن نہ کاٹے اورداڑھی ومونچھیں نہ تراشے ۔اور ورس ،زعفران اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے مگر یہ کہ دھلے ہوئے ہوں اوربونہ ہو۔اور غسل کرنے ،حمام میں داخل ہونے،گھر اور کجاوہ کا سایہ لینے اورکمر کے درمیان میں ھمیانی باندھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور اپنے سراور داڑھی کوگل خیرو کے ساتھ نہ دھوئے ۔اورنماز کے بعد اور جب بھی اونچی جگہ پڑ چڑھے یا میدان میں اترے یا سواروں سے ملے اورصبح کے وقت کثرت سے تلبیہ پڑھے۔
﴿ھمیان ﴾یہ چمڑے کی تھیلی ہوتی ہی
﴿ خطمی﴾ہم اسے گل خیر وکہتے ہیں ۔اس سے پانی میں خوشبو اور لیس پیدا ہوجاتی ہے
فاذا دخل فی مکۃ ابتدء بالمسجد الحرام فاذا عاین البیت کبر وھلل ثم ابتدء بالحجر الاسود فاستقبلہ وکبر وھلل ورفع یدیہ واستلمہ و قبلہ ان استطاع من غیران یؤذی مسلما ثم اخذ عن یمینہ مما یلی الباب وقد اضطبع برداۂ قبل ذلک و الاضطباع ان یجعل رداۂ تحت ابطہ الایمن فیطوف بالبیت سبعۃ اشواط وجعل طوافہ من وراء الحطیم
اور جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتومسجدحرام سے شروع کرے پس جب اللہ تعالیٰ کے گھرکو دیکھے تو تکبیروتہلیل کہے پھرحجراسود سے شروع کرے پس اس کی جانب منہ کرکے تکبیروتہلیل کہے اور دونوں ہاتھ اٹھائے اور اگر کسی مسلمان کو تکلیف دیئے بغیر ممکن ہوتوحجراسودکو چھوئے اورچومے ۔پھر اپنی دائیں جانب سے شروع کرے جہاں دروازہ ہے ۔اورطواف سے پہلے اپنی چادرکا اضطباع کرے ۔اور چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے لپیٹنا اضطباع کہلاتاہے ۔ پس خانہ کعبہ کے گرد سات چکرلگاکرطواف کرے۔اورحطیم کے باہر سے طواف کرے
﴿ھلل ﴾تہلیل یعنی لاالہ الااللہ کہے
﴿طواف﴾ طواف کی نیت :۔ اے اللہ میں خاص تیری رضا کے لئے بیت اللہ شریف کے سات چکر لگانے کی نیت کرتاہوں تو اسے میرے لئے آسان فرما اور اسے میری طرف سے قبول فرما
طواف کا طریقہ :۔ طواف کی ابتداء حجراسود سے کرے اگر ممکن ہوتواسے بوسہ دے اگر ہجوم زیادہ ہوتو بوسہ دینے کی بجائے استلام کرے یعنی دور سے دونوں ہاتھوں کا اشارہ کرکے اپنے ہاتھوں کوچوم لے اوریہ کلمہ مبارکہ پڑھے ۔
بسم اللہ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا للہ واللہ اکبر وللہ لحمد ط
طواف کے درمیان یہ کلمہ مبارکہ اوردیگر دعائیں پڑھتا رہے اورجب رکن یمانی کے سامنے پہنچے تو وہاں سے حجر اسود تک یہ دعا پڑھتارہے ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآ خرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار ط وادخلنا الجنۃ مع الابرار ط یا عزیز یا غفار اورجب دوسرے چکر میں حجر اسود کے سامنے پہنچے تواسی طرح بسم اللہ پڑھ کر استلام کرے اور جب رکن یمانی کے پاس پہنچے تو وہی دعا پڑھتا رہے اس طرح سات چکر پورے کرے لیکن ایک بات کا خیال رکھے کہ ابتدائی تین چکروں میں دائیں بازو کو برہنہ کرکے چادر بائیں کندھے پر اوڑھ کراپنی طاقت کے مطابق اکڑ کر چلے باقی چار چکر اپنی عام چال کے مطابق پورے کرے او راس تما م طواف کے دوران ذکر الہی درود شریف اوردعائیں پڑھتا رہے طواف مکمل کرنے کے بعد مقام ملتزم یعنی حجراسود اورباب الکعبہ کے درمیان دیوار کے ساتھ لپٹ کردعائیں مانگے اورمقام زمزم پر آکر خوب آب زمزم پیئے یہاں تک کہ سیر ہوجائے پھر سعی کرے۔
و یرمل فی الاشواط الثلثۃ الاول ویمشی فیمابقی علی ھیئتہ ویستلم الحجر کلما مربہ ان استطاع ویختم باستلام الحجر ثم یاتی مقام ابراھیم فیصلی رکعتین اوحیث ما تیسر من المسجد وھذ الطواف طواف القدوم وھو سنۃ ولیس بواجب ولیس علی اھل مکۃ طواف القدوم ثم یخرج الی الصفا فیصعد علیھا ویستقبل البیت ویکبر ویھلل ویصلی علی النبیﷺ ویدعواللہ تعالی لحاجتہ
اورپہلے تین چکروں میں اکٹر کر چلے اورباقی چکروں میں اپنے طریقے سے چلے ۔اور اگر طاقت رکھتاہے تو حجر کا استلام کرے جتنی مرتبہ بھی اس کے پاس سے گذرے ۔اور طواف کو استلام حجرکے ساتھ ختم کرے ۔پھر مقام ابراہیم پر یا جس جگہ میں موقع ملے دو رکعت نما ز پڑھے ۔اور یہ طواف ،طواف قدوم ہے اور یہ سنت ہے اور واجب نہیں ہے اور اہل مکہ پر طواف قدوم نہیں ہے پھر صفا کی طرف جائے اور اس پر چڑھ کرکعبتہ اللہ کی طرف منہ کرے اور تکبیروتہلیل کہے ۔اورنبی کریم ﷺ پردرود پڑھے اور اپنی حاجت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے ۔
﴿مقام ابراھیم ﴾ جہاں حضرت ابراھیم علیہ اسلام کے قدموں کے نشانات ہیں یعنی مقام ابراھیم کے محاذ میں جہاں بھی جگہ مل جائے
﴿طوافِ قدوم ﴾یعنی مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کرنا مسنون ہے۔
﴿الی الصفا﴾ سعی کی نیت :۔ اے اللہ میں خالص تیری رضا کے لئے صفا و مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگانے کی نیت کرتاہوں تو اسے مجھ پر آسان فرمااورتو اسے میری طرف سے قبول فرما۔
وینحط نحوالمروۃ ویمشی علی ھیئتہ فاذا بلغ الی بطن الوادی یسعی بین المیلین الاخضرین سعیا ثم یمشی علی ھیئتہ حتی یاتی المروۃ فیصعد علیھا ویفعل کما فعل علی الصفاوھذا شوط واحد فیطوف سبعۃ اشواط یبدء بالصفا ویختم بالمروۃ ثم یقیم بمکۃ حراما ویطوف بالبیت کلما بدا لہ ویصلی بعد کل سبعۃ اشواط رکعتین
پھر مروہ کی جانب جائے ۔اور اپنی چال سے چلے پس جب وادی کے وسط میں پہنچے تو دوسبز نشانوں کے درمیان تیزدوڑے پھر اپنی چال سے چلے یہاں تک مروہ پہنچ جائے ۔پس اس پرچڑھے اور وہی کام کرے جواس نے صفاپر کیا ۔اور یہ ایک چکر ہے ۔ پس اس قسم کے سات چکر لگائے ۔صفاسے شروع کرے اور مروہ پر ختم کرے ۔ پھر حالت احرام میں مکہ مکرمہ میں ٹھہرا رہے اورجب بھی اس کا جی چاہے خانہ کعبہ کاطواف کرے۔ اور ہر سات چکروں کے بعد دو رکعت نماز پڑھے ۔
﴿المروۃ﴾سعی کا طریقہ :۔ سعی کی ابتداء کوہ صفا سے کرنا چاہیے اورکوہ صفا کے پتھروں پر چڑھ کر کعبتہ اللہ کی طرف منہ کرکے دعا کرے اورنیت کرکے دعائیں کرتاہوا اپنی عام منا سب چال سے کوہ مروہ کی طرف روانہ ہوجائے جب سبز بتیوں والے نشان پر پہنچے تویہاں سے دوڑنا شروع کردے اورسبز بتیوں کے دوسرے نشان تک دوڈتا چلاجائے اوراس کے بعد پھر اپنی مناسب رفتار سے چلتے ہوئے کوہ مروہ پر آئے تویہ ایک چکر پورا ہوجائے گا چنانچہ کوہ مروہ پر چڑھ کر بیت اللہ کی طر ف منہ کرکے دعا کرے اور مروہ سے صفا کی طرف دوسرے چکر کے لئے روانہ ہوجائے پھر سبز بتیوں کے نشان سے دوسرے نشان تک دوڑاتاہوا جائے اور بعد ازاں اپنی عام رفتار سے چلتاہوا کوہ صفا پر آئے تویہ دوسرا چکر پورا ہوجائے گا اسی طرح سات چکر پورے کرے گویا صفا سے شروع کرے گا اورمروہ پر ختم کرے گا اس عرصے میں اپنے ماں ، باپ ، پیر استاد ، رشتہ داروں دوستوں اولاد اورتمام امت کے لئے دعائیں مانگتارہے سعی سے فراغت حاصل کرکے حلق کروائے یعنی سرمنڈوائے یا تقصیرکرے یعنی بال کتروائے عورت کے لئے ایک یا دوبال کاٹنے کا فی ہیں حجامت بنوانے کے بعد احرام کھول لے اور اپنے کپڑے پہن لے اور اس طرح حج تمتع کرنے والے کا عمر ہ پورا ہو گیا اوراس پر احرام کے تما م پابندیاں بھی ختم ہوگئیں اب یہ میقات سے باہر نہیں جائے گا اپنے کپڑوں میں یہ آٹھ ذوالحجہ تک طواف بیت اللہ قرآن کریم کی تلاوت ، نوافل ، ذکرالہی درود شریف اوردیگرعبادات و دعاؤں میں مشغول رہے کیونکہ یہ موقع بڑا غنیمت ہے اور اس سے پوراپورا فائدہ اٹھانا چاہیے ۔
فاذا کان قبل یوم الترویۃ بیوم یخطب الامام خطبتین یعلم الناس فیھا الخروج الی منا والصلوۃ بعرفات والوقوف بعرفۃ والافاضۃ فاذا صلی الفجر یوم الترویۃ بمکۃ خرج الی منا فاقام بھاحتی یصلی الفجر من یوم العرفۃ بغلس ثم یتوجہ الی عرفات بعد طلوع الشمس فیقیم بھا
پس جب یوم ترویہ سے ایک دن پہلے ہوتو امام دوخطبہ پڑھے جن میں لوگوں کو منیٰ کی طرف نکلنا ، عرفات میں نماز پڑھنا ، وقوف عرفات ، اور طواف افاضہ کرنا سکھلائے۔پس جب یوم ترویہ کو مکہ میں صبح کی نماز پڑھ لے تو منیٰ کی طرف نکلے پس وہاں ٹھہرے یہاں تک کہ عرفہ کے دن کی نماز فجر سیاہی میں پڑھے پھر طلوع آفتاب کے بعد عرفات کی طرف متوجہ ہوپس وہاں ٹھہرے
﴿یوم الترویۃ ﴾ یہ حج کا پہلا دن اور آٹھ ذوالحجہ ہے اس روز فجر کے بعد احرام باندھ کربیت اللہ شریف آئے دورکعت نفل ادا کرے اگر طواف کرے تو بہتر ہے نہ کرے تب بھی اختیار رکھتا ہے اورپھر تلبیہ یعنی لبیک اللھم لبیک الخ کہتا ہوامنی کی طرف چل پڑے یہاں پر مسجد خیف میں پانچ نمازیں ادا کرے یعنی ظہر ، عصر ،مغرب و عشاء اور نوذوالحجہ کی نماز فجر ۔
﴿یوم العرفہ ﴾نوذوالحجہ کو جب سورج بلند ہوجائے تو منی سے میدان عرفات کی طرف روانہ ہوجائے اور مسجد نمرہ میں پہنچ کر خطبہ سنے جسے خطبہ حج کہا جاتاہے اور اس کی بعد ظہر وعصر کی نمازیں یکجا باجماعت ادا کرے جسے جمع بین الصلوتین کہتے ہیں اور پھر میدان عرفات یا جبل رحمت پر وقوف کرے یعنی غروب آفتاب تک یہاں پرٹھہرے غروب آفتاب تک دعاؤں ذکر الہی اور استغفار میں مشغول رہے یاد رہے کہ تلبتہ میدان عرفات میں پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے اور یہاں پر خطبہ حج کا سنناظہروعصر کی یکجا نماز یں پڑھنا اورغروب آفتاب تک ٹھہرنا حج کا مرکزی اوراہم ترین رکن ہے
﴿ افاضۃ ﴾یعنی عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانا ۔
واذا زالت الشمس من یوم عرفۃ صلی الامام بالناس الظھر والعصر فی وقت الٖظھر ویبدء الامام بالخطبۃ فیخطب بالناس خطبتین قبل الصلوۃ یعلم الناس فیھما الوقوف والصلوۃ بعرفۃ والمزدلفۃ ورمی الجمار والنحر والحلق وطواف الزیارۃ فیصلی بھم الظھروالعصرفی وقت الظھر باذان و اقامتین ومن صلی الظھر فی رحلہ وحدہ صلی کل واحدۃ منھما فی وقتھا عند ابی حنیفۃ
اورجب عرفہ کے دن سورج ڈھل جائے توامام ظہر کے وقت لوگوں کو ظہر وعصر کی نماز پڑھائے اور امام خطبہ سے شروع کرے ۔ پس نماز سے پہلے لوگوں کو دو خطبے دے جس میں عرفہ ومزدلفہ میں وقوف کرنا اور نماز پڑھنا ، پتھر مارنا ، قربانی کرنا ، سرمنڈانا ، اور طواف زیارت کرنا سکھائے ۔ پھر ظہر کے وقت ان کو ظہر و عصر کی نماز ایک اذان اور دواقامتوں کے ساتھ پڑھائے۔اور جس نے اپنی جگہ پر تنہا نماز ظہرپڑھی توامام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہروعصر میں سے ہر ایک کو اپنے وقت میں پڑھے
﴿المزدلفۃ﴾مزدلفہ کی روانگی :۔ غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہو جائے گا اور نماز مغر ب نہ یہاں پڑھے گا نہ ہی راستے میں بلکہ مزدلفہ پہنچ کرمغرب اورعشاء کی نماز یں یکجا اداکرے گا اوررات کا کچھ حصہ عبادت کرکے سو جائے گا اورنماز فجر ادا کرنے کے بعد یہاں سے کھجور کے گٹھلی کی مانند چھوٹی چھوٹی ستر ( ۷۰) کنکریاں جمع کرے گا جن کے ساتھ رمی جمار کرے گا اور جب سفیدی اچھی طرح پھیل جائے تو طلوع آفتاب سے چند منٹ قبل دس ذوالحجہ کو مزدلفہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جائے گا ۔
﴿ اقامیتن﴾ ایک اقامت ظہر کی نمازکے لیے اوردوسری عصر کی نماز کے لیے
عندھما یجمع بینھما المنفردا ایضا ثم یتوجہ الی الموقف فیقف بقرب الجبل وعرفات کلھا موقف الا بطن عرنۃ وینبغی للامام ان یقف بعرفۃ علی راحلتہ یدعو اللہ ویعلم الناس المناسک ویستحب ان یغتسل قبل الوقوف بعرفۃ ویجتھد فی الدعاء فاذا غربت الشمس افاض الامام والناس معہ علی ھیئتھم حتی یأتوا المزدلفۃ فینزلون ویبیتون فیھا
اور صاحبین کے نزدیک تنہا پڑھنے والا بھی ان دونمازوں کی جمع کرے پھر موقف کی طرف متوجہ ہو پس جبل رحمت کے قریب ٹھہرے ۔اور سوائے بطن عرفہ کے تما م عرفات موقف ہے ۔ اورامام کو عرفہ میں اپنی سواری پر وقوف کرنا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور لوگوں کو مناسک حج سکھائے ۔اور عرفہ میں وقوف سے پہلے غسل کرنا مستحب ہے ۔اورخوب دعاکرے ۔ پس جب غروب ہو جائے تو امام اور اس کے ہمراہ لوگ بھی اپنی اپنی چال پر روانہ ہو جائیں ۔یہاں تک کہ مزدلفہ میں آجائیں ۔پس وہاں اتریں اور رات بسر کریں ۔
﴿موقف ﴾یعنی عرفات وہ مقام جہاں ٹھہرا جائے اورحضورﷺ نے اونٹنی پر بیٹھ کرخطبہ ارشاد فرمایا تھا
والمستحب ان ینزلوا بقرب الجبل الذی علیہ المیقدۃ یقال لہ قزح ویصلی الامام بالناس المغرب والعشاء باذان واقامۃ واحدۃ عندنا وعند الشافعی باقامتین ومن صلی المغرب فی الطریق لم یجز عند ابی حنیفۃ ومحمد وقال ابو یوسف یجزیہ وقد اساء فاذا طلع الفجر من یوم النحر صلی الامام بالناس الفجربغلس ثم وقف الامام ووقف الناس معہ فدعا
اورپہاڑ کے قریب ٹھہرنا مستحب ہے کہ جس پر میقدہ ہے اوراسے قزح کہاجاتاہے اور ہمارے نزدیک امام لوگوں کو مغرب وعشاء کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ پڑھائے اورامام شافعی کے نزدیک دواقامتوں کے ساتھ۔اور جس نے راستے میں مغرب کی نماز پڑھی توامام ابوحنیفہ وامام محمد کے نزدیک جائز نہیں ہے اور امام ابو یوسف نے فرمایا کہ اس کے لیے جائزہے التبہ وہ گناہگار ہے ۔پس جب عید کے دن صبح صادق طلوع ہو جائے توامام لوگوں کوستاروں کی چمک میں صبح کی نماز پڑھائے پھر امام اور لوگ ٹھہریں اوردعا کریں ۔
﴿المیقدۃ﴾یہ جبل قزح پر ایک مقام ہے جس میں ایام جاہلیت میں لوگ آگ جلایاکرتے تھے (اللباب فی شرح الکتاب)
﴿قزح﴾ یہ پہاڑاونچا ہے اس لیے قزح کہاجاتاہے ۔کیونکہ قزح مرتفع کے معنی میں ہے ۔(اللباب)
والمزدلفۃ کلھا موقف الابطن محسر ثم افاض الامام والناس معہ حتی قبل طلوع الشمس یاتوا منیٰ ویبتدء بجمرۃ العقبۃ فیرمیھا من بطن الوادی بسبع حصات مثل حصی الخذف ویکبرمع کل حصاۃ ولا یقف عندھا ویقطع التلبیۃ مع اول حصاۃ ثم یذبح ان وجد ثم یحلق او یقصر والحلق افضل وقد حل لہ کل شیء الا النساء
اور سوائے بطن محسّر کے تمام مزدلفہ موقف ہے ۔پس جب سورج طلوع ہو توامام اور لوگ روانہ ہو جائیں یہاں تک کہ منیٰ میں آجائیں اور جمرہ عقبہ سے ابتداء کرے ۔پس وادی کے وسط سے چھوٹی کنکریوں کی مانند سات کنکریاں اس کو مارے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے اوراس کے قریب نہ ٹھہرے اور پہلی کنکری کے ساتھ ہی تلبیہ بند کردے ۔پھر قربانی کرے اگر پائے ۔پھر سرمنڈوائے یا بال کتروائے اور سرمنڈوانا افضل ہے ۔ تحقیق اب ہر چیز اس کے لیے حلال ہو گئی مگر عورتوں کے قریب جانا ۔
﴿حصیات ﴾کنکری مارنے کے ساتھ ’’بسم اللہ اللہ اکبر ‘‘ پڑھتا جائے گا
﴿رمئی جمار﴾ منیٰ میں پہنچ کراسی دن یعنی دس ذوالحجہ کو جمرہ اولیٰ یعنی پہلے شیطان کو سات کنکریاں مارے گا باقی دونوں شیطانوں کو اس دن کنکریاں نہ مارے بلکہ اگلے دن یعنی گیارہ،بارہ اورتیرہ ذوالحجہ کو پہلے ، دوسرے اور تیسرے تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں روزانہ مارے گا اور ہر ایک کنکری مارتے وقت یہ پڑھے گا ۔بسم اللہ اللہ اکبر لاحول ولاقوۃ الا بااللہ ط بہتر یہ ہے کہ رمئی جمار زوال آفتاب کے بعد کرے ۔
﴿یذبح﴾دس ذوالحجہ کو جمرہ اولیٰ یعنی صرف پہلے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد حسب توفیق قربانی کرے گا اس کا گوشت خود بھی کھا سکتاہے دوسروں کوبھی کھلا سکتاہے ۔﴿حلق ﴾قربانی سے فارغ ہونے کے بعد حلق کروائے یعنی سرمنڈوائے یا تقصیر کروائے یعنی بال کتروائے اوراحرام کھول کر اپنے کپڑے پہن لے اس طرح احرام کی تمام پابندیاں سوائے بیوی کے ساتھ مباشرت ختم ہوجاتی ہیں
ثم یاتی مکۃ من یومہ ذلک او من الغد او من بعد اِلغد فیطوف بالبیت طواف الزیارۃ سبعۃ اشواط فان کان قدم السعی بین الصفا والمروۃ عقیب طواف القدوم لم یرمل فی ھذا الطواف ولا سعی علیہ ایضا وان لم یکن قدم السعی یرمل فی ھذا الطواف ویسعی ما بعدہ علی ما قدمنا و قدحل لہ النساء وھذا الطواف ھو المفروض فی الحج
پھر اسی دن یا دوسرے دن یا تیسرے دن مکہ مکرمہ آئے ۔پس اللہ کے گھر کا سات چکر طواف زیارت کرے ۔پس اگر طواف قدوم کے بعد صفاومروہ کے درمیان سعی کی تھی تو طواف زیارت کے پہلے تین چکروں میں اکڑکر نہ چلے ۔اور اس پر سعی بھی نہیں ہے ۔اور اگر پہلے سعی نہیں کی تھی تواس طواف میں اکڑ کے چلے اور اس طریقہ پر سعی بھی کرے جو ہم نے پہلے بیان کیا ہے ۔اور تحقیق اب اس کے لیے عورتیں حلال ہو گئیں ۔اور یہی طواف حج میں فرض ہے
﴿ طواف زیارت﴾حلق یا تقصیر کروانے کے بعد اپنے کپڑوں میں بیت اللہ شریف کا طواف کرے اور طواف کے ساتوں چکر اسی طرح پوری کرے جس طرح ابتداء میں بتایا جا چکاہے طواف کے بعد دو رکعت نما زمقام ابراہیم کے محاز میں ادا کرے اور ملتزم پر آکر دعا کرے اورپھر خوب سیرہوکرآب زمزم پیئے اس کے بعد صفامردہ کے درمیان سعی کرے اور اسی دن واپس منیٰ آئے یہاں پر دو تین دن قیام کرے اور ہر روز زوال آفتاب کے بعد رمی جمار کرے جس کا ذکر کیا جاچکا ہے منی میں دویا تین دن گزارنے کے بعد یہ واپس بیت اللہ شریف آئے اور طواف و داع کرے اب یہ حلال ہے یعنی میقات سے باہرجاسکتاہے یہ حج تمتع کا طریقہ ہے ۔ یاد رہے کہ اگر حج کے دوران حاجی صاحب سے کوئی کو تاہی سرزد ہوجائے مثلااحرام کے دوران سلے ہوئے کپڑے پہن لئے ، سرکو ڈھانپ لیا ، بال کٹوائے ، ناخن کاٹے ، خوشبو کا استعمال کیا یا حرم شریف کے درخت ، پودے یا گھاس کاٹی یا پرندوں کا شکار کیاتو اس جرم کے بدلے میں اسے ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی اور اس قربانی کا گوشت وہ خود استعمال نہیں کرے گا ۔
والفرائض فی الحج ثلثۃ طواف الزیارۃ والاحرام والوقوف بعرفۃ ویکرہ تاخیرہ عن ھذہ الایام فان ا خرہ عنھا لزمہ دم عند ابی حنیفۃوقالالاشئ علیہ ثم یعود الی منیٰ فیقیم بھا فاذا زالت الشمس من الیوم الثانی من ایام النحر رمی الجمار الثلث یبدء بالتی یلی المسجد فیر میھا بسبع حصیات ویکبر مع کل حصاۃ ویقف عندھا فیدعوثم التی تلیھا مثل ذلک ویقف عندھا ویدعو
اور حج کے تین فرائض ہیں ۔طواف زیارت احرام اورعرفہ میں ٹھہرنا ۔اور طواف زیارت کو ان ایام سے مو خر کرنا مکرو ہ ہے ۔پس اگر اسے ان ایا م سے مو خر کیا توامام ابو حنیفہ کے نزدیک اس پر دم لازم ہے اورصاحبین کے نزدیک اس پر کچھ بھی لازم نہیں پھر منیٰ لوٹ جائے اور اس میں قیام کرے پس جب قربانی کے دوسرے دن سورج ڈھل جائے تو تینوں جمرات کو کنکریاں مارے ۔اوراس جمرہ سے شروع کرے جو مسجد خیف کے ساتھ ہے ۔پس اس سے سات کنکریاں مارے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے اور اس کے پا س رکے اور دعا کرے ۔پھر اس کے برابر والے جمرہ کو پہلے کی مانند کنکریاں مارے اوراس کے پاس ٹھہر کر دعاکرے ۔پھر اس کے برابر والے جمرہ کو پہلے کی مانند کنکریاں مارے ۔اور اس کے پاس ٹھہرکر دعا کرے
﴿الفرائض فی الحج﴾(۱)نیت کرنا (۲) احرام باندھنا (۳) عرفات کا وقوف کرنا (۴) طواف زیارت کرنا (۵) ترتیب کا قائم رکھنا ، یعنی ان فرائض کواپنے اپنے مقررہ وقت پر ترتیب کے مطابق اداکرنا ۔
﴿ دم ﴾دم یعنی حرم کی زمین پر جانور قربان کرنا۔
ثم یرمی جمرۃ العقبۃ کذلک ولا یقف عندھا فاذا کان الغدیرمی الجمار الثلث بعد زوال الشمس کذلک فاذا اراد ان یتعجل نفر الی مکۃ ولا شئ علیہ وان اراد ان یقیم بمنیٰ رمی الجمار الثلث فی الیوم الرابع بعد زوال الشمس کذلک فان قدم الرمی فی ھذا الیوم قبل الزوال بعد طلوع الفجرجاز عند ابی حنیفۃوقالا لایجوز ویکرہ ان یقدم الانسان ثقلہ الی مکۃویقیم بمنیٰ حتی یرمی
پھر پہلے دونوں کی طرح جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارے اوراس کے پاس نہ ٹھہرے ۔پس جب اگلادن ہو تو سورج ڈھلنے کے بعد تینوں جمرات کو اسی طرح کنکریاں مارے ۔پس جب مکہ جلدی جانے کا ارادہ کرے تواس پر کچھ بھی لازم نہیں ہے۔پس جب منیٰ میں ٹھہرنے کا ارادہ کرے تو چوتھے دن،سورج ڈھلنے کے بعد تینوں جمرات کو اسی طرح کنکریاں مارے ۔اوراگراس دن زوال سے پہلے اورطلوع فجر کے بعد رمی کی توامام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے ۔اور صاحبین نے کہا ہے کہ یہ جائز نہیں۔ اور مکہ کی جانب اپنا سامان پہلے بھیج دینا اور خود منیٰ میں کنکریوں کے مارنے تک ٹھہرنا مکروہ ہے ۔
﴿فان قدم الرمی﴾اگر یوم نحر کے چوتھے روز یعنی تیرہویں تاریخ میں رمی زوالِ شمس سے پہلے کرے توامام صاحب کے نزدیک جائزہے مگر کراہت کے ساتھ حضرت ابن عباس سے ہیں مروی ہے ،صاحبین کے نزدیک جائز نہیں۔
فاذا نفر الی مکۃ نزل بالمحصب ثم یدخل مکۃ فطاف بالبیت سبعۃ اشواط لا یرمل فیھا ولا یسعی وھذا طواف الصدر وھو واجب عندنا الا علی اھل مکۃ ثم یعود الی اھلہ فان لم یدخل المحرم مکۃ وتوجہ الی عرفات ووقف بھا علی ماقد مناہ فقد سقط عنہ طواف القدوم فلا شیء علیہ لترکہ ومن ادرک الوقوف بعرفۃ ما بین زوال الشمس من یوم عرفۃ الی طلوع الفجر من یوم النحر فقد ادرک الحج
پس جب مکہ مکرمہ کی جانب آئے تو محصب کی گھاٹی میں اترے پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہو اور سات چکر اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف کرے ۔اور اس میں اکڑکر نہ چلے اور نہ سعی کرے ۔اور یہ طواف،طواف صدرہے جوہمارے نزدیک واجب ہے مگر اہل مکہ پر واجب نہیں ہے ۔پھر حاجی اپنے گھروالوں کی طرف واپس چلاجائے ۔اور اگر محرم مکہ معظمہ میں داخل نہ ہواور عرفات چلاجائے تو وہاں اس طرح ٹھہرے جیساکہ پہلے ہم نے ذکر کیاہے پس تحقیق اس سے طواف قدوم ساقط ہو گیا ۔اور اس کو ترک کرنے کی وجہ سے اس پر کچھ بھی لازم نہیں آتاہے۔اور جس نے عرفہ کے دن زوال سورج سے قربانی کے دن طلوع فجر تک وقوف عرفہ پا لیا۔پس اس نے حج کو پالیا ۔
﴿محصب ﴾ کی مسجد میں حضور نے نماز پڑھی تھی
﴿طواف الصدر ﴾مکہ معظمہ سے رخصتی کے وقت بلارمل وسعی سات چکر طواف کرئے جس کو طواف صدر یا طواف وداع کہتے ہیں،
ومن فاتہ عرفۃ بلیل فقد فاتہ الحج ومن اجتاز بعرفۃ وھو نائم او مغمی علیہ او لم یعلم انھا عرفۃ اجزاہ ذلک عن الوقوف والمراۃ فی جمیع ذلک کالرجل غیر انھا تلبس القمیص ولا تکشف راسھا وتکشف وجھھا ولا ترفع صوتھا بالتلبیۃ ولا ترمل فی الطواف ولا تسعی بین المیلین الاخضرین ولا تحلق راسھا ولکن تقصر ولا تنزع المخیط
اور جس سے رات کا وقوف عرفہ فوت ہو گیا پس تحقیق اس سے حج فوت ہو گیا اورجو شخص سونے یا بے ہوشی کی حالت میں یا وہ نہیں جانتا کہ یہ عرفہ ہے عرفہ سے گذرجائے تواس کویہ وقوف عرفہ سے کافی ہے ۔اورعورت ان تما م احکام میں مرد کی طرح ہے ۔سوائے اس کے نہیں کہ قمیص پہنے اور اپنا سرنہ کھولے اوراپنا چہرہ کھلا رکھے اور تلبیہ میں اپنی آواز بلند نہ کرے اور طواف میں اکڑکرنہ چلے اوردوسبز نشانوں کے درمیان نہ دوڑے اورنہ سرمنڈوائے بلکہ بال کتروائے اورسلے ہوئے کپڑے نہ اتارے ۔
باب القران
القران افضل من التمتع والافراد عندنا وصفۃ القران ان یھل بالعمرۃ والحج معا من المیقات وان یصلی رکعتین ویقول عقیب الصلوۃ اللھم انی ارید الحج والعمرۃ فیسرھمالی وتقبلھما منی فاذا دخل مکۃ ابتدء بالطواف فیطوف بالبیت سبعۃ اشواط یرمل فی الثلثۃ الاول منھا ویمشی فیما بقی علی ھیئتہ ویسعی بعدھا بین الصفا والمروۃ فھذہ افعال العمرۃ ثم یطوف بعد السعی طواف القدوم سبعۃ اشواط ویسعی بین الصفا والمروۃ للحج کما بینا فی المفرد
حج قران
ہمارے نزدیک تمتع اور افراد سے قران افضل ہے ۔اور قران کی تعریف یہ ہے کہ میقات سے عمرہ وحج کے لیے اکٹھا احرام باندھے اوردورکعت نماز پڑھے اورنماز کے بعد کہے اے اللہ ! میں حج اورعمر ہ کا ارادہ کرتاہو ں و ہ دونوں میرے لیے آسان فرما اوران کو میری طرف سے قبول فرما ۔پس جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتو عمرہ سے ابتداء کرے پس سات چکر اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف کرے ۔پہلے تین چکروں میں اکڑ کرچلے اورباقی میں اپنی چال پر چلے اوراس کے بعد صفا ومروہ کے درمیان سعی کرے ۔پس یہ عمرہ کے افعال ہیں ۔پھر سعی کے بعد طواف یعنی سات چکروں میں طواف قدوم کرے اور صفاومروہ کے درمیان حج کے لئے سعی کرے جیساکہ ہم نے حج مفرد میں بیان کیا۔
فاذا رمی الجمار یوم النحر ذبح شاۃ او بقرۃ او بدنۃ او سبع بقرۃ فھذا دم القران فان لم یکن لہ ما یذبح صام ثلثۃ ایام فی الحج ا خرھا یوم عرفۃ فان فاتہ الصوم حتی مضی یوم النحر لم یجزہ الاالدم ثم یصوم سبعۃ ایام اذارجع الی اھلہ فان صامھا بمکۃ بعد فراغہ من الحج جاز وان لم یدخل القارن بمکۃ وتوجہ الی عرفات فقد صار رافضا لعمرتہ بالوقوف وقد سقط عنہ دم القِران و علیہ دم لرفض العمرۃ وعلیہ قضاء ھا
اورجب قربانی کے دن جمرات کوکنکریاں مارچکے تو بکری یا گائے یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ ذبح کرے پس یہ قران کا دم ہے ۔ اور اگراس کے پاس ذبح کا جانور نہ ہوتو حج کے ایام میں تین روزے رکھے جن میں آ خری روزہ عرفہ کے دن کاہو۔پس اگراس سے روزہ رہ گیا یہاں تک کہ قربانی کادن گذر گیاتوا س کے لیے دم کے علاوہ کچھ جائزنہیں پھر اپنے گھر والوں کے پاس لوٹنے کے بعد سات دن روزہ رکھے ۔اور اگر حج سے فارغ ہونے کے بعد مکہ مکرمہ میں یہ روزے رکھے تو جائزہے ۔اور اگر قارن مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہوا اورعرفات کی متوجہ ہوا تو بلاشبہ عرفات میں وقوف کرنے سے تارک عمرہ ہوگیا ۔اوربے شک دم قران اس سے ساقط اور باطل ہو گیا ۔اور اس پر ترک عمرہ کی وجہسے دم لازم ہے نیز اس پر عمرہ کی قضا بھی لازم ہے
﴿بدنہ ﴾یہاں بد نہ عام ہے اونٹ اور گائے دونوں کو شامل ہے
باب التمتع
التمتع افضل من الافراد عندنا والمتمتع علی وجھین متمتع یسوق الھدی ومتمتع لا یسوق الھدی و صفۃ التمتع ان یبدء من المیقات فیحرم بالعمرۃ و یدخل مکۃ ویطوف لھا سبعۃ اشواط ویرمل فی الثلثۃ الاول منھا ویسعی بین الصفا والمروۃ فیحلق او یقصر و الحلق افضل فقد حل من العمرۃ ویقطع التلبیۃ اذا ابتدء بالطواف
حج تمتع
ہمارے نزدیک تمتع، افراد سے افضل ہے ۔ اورحج تمتع کرنے والے کی دواقسام ہیں ۔ایک متمتع وہ جوقربانی کا جانور ساتھ لے جائے ۔ اورایک وہ جو قربانی کا جانور ساتھ لے کرنہ جائے ۔ اورتمتع کا طریقہ یہ ہے کہ میقات سے شروع کرے پس عمرہ کے لیے احرام باندھے اور مکہ معظمہ میں داخل ہوکرعمرہ کا سات چکرطواف کرے ۔اوران میں سے پہلے تین چکروں میں اکڑ کرچلے اورصفا ومروہ کے درمیان سعی کرے پھرسر منڈوائے یا با ل تر شوائے۔اور سرمنڈوانا افضل ہے ۔پس وہ عمرہ سے فارغ ہوگیا اور جب طواف کرے تو تلبیہ پڑھنا بند کرے ۔پس وہ عمرہ سے فارغ ہو گیا اورجب طواف شروع کرے تو تلبیہ پڑھنا بند کردے ۔
﴿ تمتع﴾ اس میں عمرہ اورحج دونوں ہوتے ہیں جب عمرہ کر لیتے ہیں تو احرام کھول لیتے ہیں مگر میقات سے باہر نہیں نکلے اورپھر آٹھ (۸) ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھتے ہیں
﴿حل ﴾یعنی احرام میں جو کام حرام تھے اب حلال ہوجائیں گے ۔
فیقیم بمکۃ حلا لا فاذا کان یوم الترویہ احرم بالحج من المسجد الحرام ویفعل کما یفعل الحاج المفرد و علیہ دم التمتع فان لم یجد صام ثلثۃ ایام فی الحج وسبعۃ اذا رجع الی اھلہ فاذا اراد المتمتع ان یسوق الھدی احرم وساق الھدی فانکانت بدنۃ قلدھا بمزادۃ او نعل عند ابی حنیفۃ واشعر البدنۃ عند ابی یوسف ومحمد وھو ان یشق سنا مھا من الجانب الایمن والایسر ولا یشعر عند ابی حنیفۃ
پس مکہ مکرمہ میں حلال ہو کر ٹھہرارہے ۔جب یوم ترویہ ہوتو مسجد حرام سے حج کا احرام باندھے اوروہی کچھ کرے جو مفرد حج کرنے والے کرتے ہیں ۔اور اس پر دم تمتع ہے اوراگر قربانی کا جانور نہ پائے تو حج کے ایام میں تین روزے اور جب گھر لوٹ آئے تو سات روزے رکھے ۔پس جب تمتع میں قربانی کا جانور لے جانے کا ارادہ کرے تو احرام باندھے اورقربانی کاجانور لے جائے اور اگر اونٹ ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کی گردن میں پرانا مشکیزہ یا جوتے کا پٹہ ڈالا جائے ۔اور امام ابویوسف وامام محمد کے نزدیک اونٹ کو اشعارکرے ۔ اوراشعار یہ ہے کہ اونٹ کے کوہان کی دائیں یا بائیں جانب زخم لگائے ۔اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اشعار نہ کرے ۔
﴿ ولا یشعر﴾امام صاحب نے اصل اشعار کومکروہ نہیں کہا بلکہ اس کو مکروہ اس لئے کہاہے کہ اس کو ہر شخص خوب نہیں کرپاتا عموماً ایساہوتا ہے کہ گوشت اورہڈی کوصدمہ پہنچ جاتاہے ہاں اگرکوئی اچھی طرح اشعار جانتاہواورگوشت اورہڈی کوصدمہ پہنچائے بغیراشعار کرسکتاہوتوکوئی مضائقہ نہیں بلکہ ایسااشعارمستحب ہے (طحطاوی)
فاذا دخل بمکۃ طاف وسعی ولم یتحلل حتی یحرم بالحج یوم الترویۃ فان قدم الاحرام قبلہ جاز وعلیہ دم التمتع فاذا حلق یوم النحر فقد حل من الاحرامین ولیس لاھل مکۃ تمتع ولا قران و انما لھم الافراد خاصۃ فاذا عاد المتمتع الی اھلہ بعد فراغہ من العمرۃ ولم یکن ساق الھدی بطل تمتعہ ومن احرم بالعمرۃ قبل اشھرالحج فطاف بالبیت اقل من اربعۃ اشواط
اور جب مکہ مکرمہ میں داخل ہو تو طواف اورسعی کرے ۔اور احرام نہ کھولے یہاں تک کہ یوم ترویہ حج کا احرام باندھے ،اوراگریوم ترویہ سے پہلے احرام باندھے توجائز ہے اور اس پر دم تمتع لازم ہے پس جب قربانی کے دن سرمنڈوائے تو دونوں احراموں سے فارغ ہوگیا۔ اہل مکہ لیے حج تمتع اورقران نہیں ہے سوائے اس کے نہیں کہ ان کے لیے صرف حج افراد ہے اورجب متمتع عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد گھر لوٹ آئے اور وہ قربانی کا جانور نہیں لے کر گیا تھا تواس کا تمتع باطل ہو گیا ۔اور جس نے حج کے مہنیوں سے پہلے عمرہ کا احرام باندھا پس چار چکروں سے کم خانہ کعبہ کا طواف کیا
﴿ اشھر الحج﴾ یعنی شوال ، ذی قعد اور ذی الحج کی سترھویں تاریخ تک۔
﴿ قبل﴾ یعنی ۳۰ رمضان المبارک کو عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کر چار چکروں سے کم طواف کیا اورحج کے مہینے شروع ہوگئے ۔
ثم دخلت اشھر الحج فتممھا واحرم بالحج کان متمتعا وان طاف لعمرتہ قبل اشھر الحج اربعۃ اشواط فصاعدا ثم دخل اشعر الحج ثم حج من عامہ ذلک لم یکن متمتعا واشھر الحج شوال و ذوالقعدۃ وعشر من ذی الحجۃ فان قدم الاحرام بالحج علیہا جاز احرامہ وانعقد حجا واذا حاضت المراۃ عند الاحرام اغتسلت واحرمت وصنعت کما یصنع الحاج غیرانھا لا تطوف بالبیت حتی تطھر وان حاضت بعد الوقوف وبعد طواف الزیارۃ انصرفت من مکۃ ولا شیء علیہا لترک طواف الصدر
پھر حج کے مہینے شروع ہو گئے تو طواف پورا کرے اور حج کا احرام باندھ لے تو متمتع ہو گیا ۔اور اگر حج کے مہینوں سے پہلے چار چکر یا زیادہ عمرہ کا طواف کیا ۔پھر حج کے مہینے شروع ہو گئے اور اسی سال حج کیا تو متمتع نہ ہوا ۔ اور حج کے مہینے شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں ۔پس اگر ان مہینوں سے پہلے حج کا احرام باندھاتو اس کا احرام جائز ہے اور حج ثابت ہو گیا اورجب عورت احرام کے نزدیک حائضہ ہو جائے تو غسل کرکے احرام باندھ لے اور وہی کرے جو حج کرنے والا کرتا ہے مگر بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتی اور اگر وقوف اور طواف زیارت کے بعد حائضہ ہوئی تو مکہ مکرمہ سے لوٹ جائے اورطواف صدر ترک کرنے پر اس پر کچھ لازم نہیں ہے۔
باب الجنایات فی الاحرام
واذا تطیب المحرم فعلیہ الکفارۃ وان تطیب عضوا کاملا فما زاد فعلیہ دم وان تطیب اقل من عضو فعلیہ صدقۃ وان لبس ثوبا مخیطا او غطی راسہ یوما کاملا فعلیہ دم وان کان اقل من ذلک فعلیہ صدقۃ وان حلق اقل من الربع فعلیہ صدقۃ وان حلق موضع المحاجم فعلیہ دم عند ابی حنیفۃ وقالا علیہ صدقۃ
احرام کی حالت میں حرام کاموں کے بیان میں
جب احرام باندھنے والاخوشبولگائے تو اس پر کفارہ لازم ہے ۔اور اگر پورے عضو یا زیادہ حصہ پر خوشبو لگائی تو اس پر دم لازم ہے ۔ اور اگر ایک عضو سے کم پرخوشبو لگائی تو اس پر صدقہ لازم ہے ۔اور اگر مکمل ایک دن سلاہواکپڑا پہنا یا سر کو ڈھانپ رکھا تواس پر دم لازم ہے ۔اور اگر ایک دن سے کم ہو تو اس پر صدقہ ہے اوراگر چوتھا ئی سے کم سر کو منڈوائے تواس پرصدقہ لازم ہے اور اگر پچھنے لگوانے کی جگہ کو مونڈلیا توامام ابو حنیفہ کے نزدیک ا س پر دم لازم ہے ۔اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس پر صدقہ لازم ہے
﴿جنایات ﴾جنایات وہ چیزیں جو نہیں کرنی چاہیں تھیں ان کے بدلے میں کیا کرنا ہے یعنی جو کام ممنوع ہیں حج کے دوران ان کے کرنے سے کیا لازم آتاہے ہمارے اساتذہ نے جنایات کا معنی جرم کیا ہے اس کا مادہ جنو ہے﴿عضوا کاملا ﴾جسے پورے بازو، یاچہرے پر لگادی ﴿دم ﴾ یعنی جانور کی قربانی کرنالازم ہے﴿مخیطا ﴾مخیط کااطلاق تین کپڑوں پر ہوتا ہے ۔یعنی قمیص پاجامہ اورقباء پر پس اگرمحرم سلاہواکپڑادن بھرپیناجس طرح پہننے کی عادت ہے۔توجرم اداکرے گا۔یعنی دم دے گا۔
وان قص اظافیر یدیہ و رجلیہ فعلیہ دم ان قص یدا او رجلا فعلیہ دم وان قص اقل من خمسۃ اظا فیر فعلیہ صدقۃ وان قص خمسۃ اظافیر متفرقۃ من الیدین او الرجلین فعلیہ صدقۃ عند ابی حنیفۃ وابی یوسف وعند محمد علیہ دم وان تطیب او لبس او حلق من غیر عذر فعلیہ دم و ان تطیب او لبس من المخیط من عذر فھو مخیر ان شاء ذبح شاۃ
اور اگر ہاتھوں اور پیروں کے ناخن کاٹے تواس پر دم لازم ہے۔اور اگر ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کے ناخن کاٹے تو اس پر بھی دم لازم ہے ۔اور اگر پانچ سے کم ناخن کاٹے تو اس پر صدقہ لازم ہے اور اگر دونوں ہاتھوں اوردونوں پاؤں سے متفرق طور پر پانچ ناخن کاٹے تو امام ابوحنیفہ و اما م ابویوسف کے نزدیک اس پر صدقہ ہے اور امام محمد کے نزدیک اس پردم ہے ۔اوراگر بغیر کسی عذر کے خوشبو لگائی یا کپڑا پہنا یا سر منڈا یا پس اس پر دم لازم ہے ۔اور اگر کسی عذر کی وجہ سے خوشبو لگائی یا سلاہو ا کپڑا پہنا تو اس کو اختیار ہے کہ اگرچاہے توایک بکری ذبح کرے
﴿وان قص اظافیر﴾اگر دونوں ہاتھ پاؤں کے ناخن کاٹے ایک ہی مجلس میں توایک خون واجب ہے۔اگرمجلس متعددہوتوخون بھی متعددواجب ہونگے ۔اوراگرایک ہاتھ یاایک پاؤں کے ناخن کاٹے تب بھی پوراایک خون واجب ہوگا۔
وان شاء تصدق علی ستۃ مساکین بثلثۃ اصوع من الطعام لکل مسکین نصف صاع وان شاء صام ثلثۃ ایام فان قبل اولمس بشھوۃ فانزل فعلیہ دم ومن جامع فی احد السبیلین قبل الوقوف بعرفۃ فسد حجہ و علیہ شاۃ ویمضی فی الحج کما یمضی من لم یفسد حجہ وعلیہ القضاء فی العام القابل ولیس علیہ ان یفارق امراتہ اذا حج بھا فی القضاء
اور اگر چاہے تو چھ مسکینوں پر تین صاع کھانے سے صدقہ کرے ا س طرح کہ ہر مسکین کے لیے نصف صاع ہو ۔اور اگر چاہے تو تین روزے رکھے ۔پس اگر بوسہ لیا یا شہوت سے چھو لیا اور انزال ہو گیا تواس پر دم لازم ہے ۔ اور جس نے وقوف عرفہ سے پہلے دونوں میں سے کسی ایک راستے میں مجامعت کرلی تواس کا حج باطل ہوگیا اوراس پر بکری ہے اورحج اد اکرے جیسا کہ وہ ادا کرتاہے جس نے اپنا حج فاسد نہ کیا ہو ۔ اورآنے والے سال میں اس پر قضا لازم ہے ۔اور اس پر اپنی بیوی کو جداکرنا لازم نہیں جبکہ اس کے ساتھ قضا حج کرے
﴿یمضی فی الحج﴾حضرت عمر اور حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ بعد جماع دونوں ایک بکری ذبح کریں اور افعال حج بجا لائیں اورآئندہ سال اس حج کی قضا کریں۔
﴿ولیس علیہ﴾دوسرے سال قضاء حج میں زوجین کاایک دوسرے سے علیحدہ رہنا ضروری نہیں کیونکہ ترک جماع کے لئے قضاء کی مشقت ہی کافی ہے(غایتہ الاوطار)
ومن جامع امراتہ بعد الوقوف بعرفۃ لم یفسد حجہ وعلیہ بدنۃ عندنا وان جامع بعد الحلق فعلیہ شاۃ ومن جامع فی العمرۃ قبل ان یطوف اربعۃ اشواط افسدھاومضی علیہا وقضاھا وعلیہ شاۃ عندنا وان وطی بعد ما طاف اربعۃ اشواط فعلیہ شاۃ ولا تفسد عمرتہ ولا یلزم قضاء ھا ومن جامع ناسیا کا ن کمن جامع عامدا عندنا
اورجس نے وقوف عرفہ کے بعداپنی بیوی سے مجامعت کی تو اس کا حج فاسد نہیں ہوتا اور ہمارے نزدیک اس پر اونٹ ہے اور اگر سر منڈانے کے بعد مجامعت کرلی تو اس پر بکری ہے ۔اور جس نے طواف عمرہ کے چار چکروں سے پہلے مجامعت کرلی تو عمرہ فاسد ہو گیا اور اسے پورا کرے اور اس کی قضا کرے ۔ اورہمارے نزدیک اس پر بکری ہے اور اگر چار چکر طواف کرنے کے بعد مجامعت کی تو اس پر بکری ہے اور اس کا عمرہ فاسد نہیں ہوتاہے اورعمرہ کی قضا لازم نہیں ہے اورجس نے بھول کر جماع کیا تو ہمارے نزدیک وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے جان بوجھ کر جما ع کیا ۔
﴿لم یفسد﴾لیکن امام شافی کے نزدیک قبل از رمی جماع کرنے سے بھی حج فاسد ہوجاتاہے ۔لیکن احناف کی دلیل یہ حدیث مبارکہ ہے من وقف بعرفۃ فقدتم حجہ۔(درمختار)
وقال الشافعی جماع الناسی غیر مفسد وکذالخلاف فی جماع النائمۃ والمکرھۃ فی حق فساد الاحرام لا فی حق الاثم ویستوی فیہ حالۃ النوم والیقظۃ والطوع والاکراہ والبالغ وغیر البالغ والعاقل وغیر العاقل ومن طاف طواف القدوم محدثا فعلیہ صدقۃ وان کان جنبا فعلیہ شاۃ ومن طاف طواف الزیارۃ محدثا فعلیہ شاۃ وان کان جنبا فعلیہ بدنۃ والا فضل ان یعید الطواف مادام بمکۃ ولا ذبح علیہ
اور امام شافعی نے فرمایا کہ بھول کر جماع کرنا غیر مفسد ہے ۔اوراسی طرح سوئی ہوئی عورت اورزبردستی کے جماع میں اختلاف ہے ۔یہ اختلاف احرام فاسد ہونے کے حق میں ہے نہ کہ گنا ہ کے حق میں ۔اوراس میں حالت نیندوبیداری ،رضاو جبر، بالغ ہو نا ونابالغ ہو نا ، عاقل وغیر عاقل ہونا سب برابر ہیں ۔اورجس نے بے وضوطواف قدوم ادا کیا تو اس پر صدقہ ہے۔اور اگرجنبی ہو تو اس پر بکری ہے ۔اور جس نے بغیر وضو کے طواف زیارت کیا تو اس پر بکری ہے۔اور اگر جنبی ہے تو اس پر بدنہ ہے اورجب تک مکہ مکرمہ میں ہے تو طواف کو لوٹانا افضل ہے ۔اور اس پر ذبح نہیں ہے
﴿طواف القدوم محدثا﴾یعنی کعبتہ اللہ میں داخل ہونے کے وقت پہلا طواف بے وضوکیا توصدقہ واجب ہے۔
ومن طاف طواف الصدر محدثا فعلیہ صدقۃ وان طاف جنبا فعلیہ شاۃ ومن ترک طواف الزیارۃ ثلثۃ اشواط فما دونہا فعلیہ دم ومن ترک اربعۃ اشواط بقی محرما ابدا حتی یطوفھا ومن ترک طواف الصدر اربعۃ اشواط منہ فعلیہ شاۃ ومن ترک ثلثۃ اشواط من طواف الصدر فعلیہ صدقۃ ومن ترک السعی بین الصفا والمروۃ فعلیہ شاۃ وحجہ تام
اورجس نے طواف صدر بغیروضو کے ادا کیا تو اس پر صدقہ ہے ۔اور اگر جنب کی حالت میں ادا کیا تو اس پر بکری ہے اورجو طواف زیارت کے تین چکریا اس سے کم چھوڑ دے تو اس پر دم ہے ۔اور جو چار چکر چھوڑ دے تو ہمیشہ محرم رہے گا یہاں تک کہ طواف زیارت کرلے ۔اور جس نے طواف صدر یا اس کے چار چکر چھوڑے تو اس پر بکری ہے اورجس نے طواف صدر کے تین چکر چھوڑے تو اس پر صدقہ ہے ۔اور جو صفا و مروہ کے درمیان سعی چھوڑ دے تو اس پر ایک بکری ہے۔ اور اس کا حج مکمل ہے۔
ومن افاض من عرفات قبل الامام فعلیہ شاۃ ومن ترک الوقوف بالمزدلفۃ فعلیہ دم ومن ترک رمی الجمار فی الایام کلھا فعلیہ دم ومن ترک رمی یوم واحد فعلیہ دم ومن ترک رمی احدی الجمار الثلث فعلیہ صدقۃ وان ترک رمی جمرۃ العقبۃ فی یوم النحر فعلیہ دم ومن ا خر الحلق حتی مضت ایام النحرفعلیہ دم عند ابی حنیفۃ وعندھما لا شیء علیہ وکذلک ان ا خر طواف الزیارۃ حتی مضت ایام التشریق
اورجو امام سے پہلے عرفات سے نکل آیا تو اس پر ایک بکری ہے۔اورجس نے وقوف مزدلفہ چھوڑا تو اس پر دم لازم ہے ۔اور جس نے جمرات کوکنکریاں مارنا تمام دنوں میں چھوڑا تواس پردم ہے اور جس نے ایک دن کی رمی کو چھوڑا تواس پر بھی دم ہے ۔اورجس نے تین جمرات میں سے کسی ایک کی رمی کو چھوڑا تو اس پر صدقہ ہے۔اور اگر قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی چھوڑ دی تواس پر دم ہے۔اور جس نے سرمنڈانے میں دیرکی یہاں تک کہ قربانی کے دن گذر گئے توامام ابو حنیفہ کے نزدیک اس پر دم ہے۔اورصاحبین کے نزدیک اس پر کچھ نہیں ہے ۔اوراسی طرح اگر طواف زیارت میں دیرکی یہاں تک کہ ایام تشریق گذر گئے ۔
﴿ وقوف﴾ہمارے نزدیک مزدلفہ میں ٹھہرنا ضروری ہے عشاء سے صبح صادق تک ۔ جبکہ نجدی کہتے ہیں مزدلفہ میں دو رکعت پڑھے اور کنکریاں لے کر وہاں سے چل پڑے ۔
و اذا قتل المحرم الصید او دل علیہ من قتلہ فعلیہ الجزاء سواء فی ذلک العامدوالناسی والمبتدئ والعائد والجزاء عند ابی حنیفۃ وابی یوسف ان یقوم الصید فی المکان الذی قتلہ فیہ او فی اقرب المواضع منہ وانکان فی بریۃ یقومہ ذواعدل ثم ھو مخیرفی القیمۃ ان شاء ابتاع بھا ھدیا فیذبحھا فی الحرم ان بلغت ھدیا
اور جب محرم نے شکار مارایا جس نے شکار مارا اس کوشکار کے متعلق بتایا تو اس پر جزاء لازم ہے اور اس میں ارادہ سے اوربھول کرکرنے والا،شروع کرنے والا اور دوبارہ کرنے والاسب برابرہیں ۔اورامام ابو حنیفہ وامام ابو یوسف کے نزدیک جزایہ ہے کہ جس جگہ شکارمارا ہے یا اس کے قریبی مقامات میں شکار کی قیمت لگائی جائے۔اور اگر صحرا میں ہو تو دوعادل اشخاص اس کی قیمت لگائیں ۔پھر وہ قیمت میں اختیار رکھتا ہے کہ اگر قیمت قربانی کے جانور تک پہنچ جائے تو جانور خرید کر اسے حرم میں ذبح کرے ۔
﴿ جزا﴾جزا یعنی بدلہ
وان شاء اشتری بھا طعاما فتصدق بہ علی المساکین علی کل مسکین نصف صاع من بر او صاعا من تمراو صاعا من شعیر وان شاء صام عن کل نصف صاع من بر یوما و عن کل صاع من شعیر یوما فان فضل من الطعام اقل من نصف صاع من بر فھو مخیر ان شاء تصدق بہ وان شاء صام عنہ یوما کاملا وقال محمد و الشافعی یجب فی الصید النظیر فیما لہ نظیر
اور اگر چاہے توکھانا خرید کر مسکینوں پر اس طرح صدقہ کرے کہ ہر مسکین کے لیے نصف صاع گندم سے یا ایک صاع کھجور یا جوسے ہو ۔اور اگر چاہے تو ہر نصف صاع گندم اور ہر صاع جو کے عوض ایک روزہ رکھے ۔اور اگرنصف صاع گندم سے کم کھانا بچ جائے ۔تو اسے اختیار ہے اگر چاہے تو صدقہ کردے اور اگر چاہے اس کے عوض مکمل ایک دن روزہ رکھے ۔اور امام محمد اور امام شافعی نے فرمایا کہ جس شکار میں اس کی مثل ہو تو اس کی مثل واجب ہے
ففی الظبی شاۃ وفی الضبع شاۃ وفی الارنب عناق وفی قتل النعامۃ بدنۃ وفی الیربوع جفرۃ ومن جرح صیدا اونتف شعرہ او قطع عضوا منہ ضمن مانقص منہ فان نتف ریش طائر او قطع قوائم صید فخرج من حیزالامتناع فعلیہ قیمتہ کاملۃ ومن کسر بیض صید فعلیہ قیمتہ کاملۃ فان خرج من البیضۃ فرخ میت فعلیہ قیمتہ حیا ولیس فی قتل الغراب والحداۃ والذئب والحیۃ والعقرب والفارۃ و الکلب العقور جزاء
پس ہرن اور لگربگڑ میں ایک ایک بکری ہے اور خرگوش مین بکری کا شسشماہی بچہ ہے ۔اور شتر مرغ کو مارنے پر اونٹ ہے اور جنگلی چوہے میں بکری کا چار ماہی بچہ ہے ۔ اورجس نے شکار کو زخمی کیایا اس کے بالوں کو اکھیڑا یا اس کا کوئی عضوکا ٹا تو اس کا ضامن ہے جو اس سے قیمت کم ہوئی اور اگر پرندے کے پر نوچے یا شکار کے پاؤں کاٹے پس وہ اپنے آپ کوبچانے سے رہ گیا اس پر اس کی پوری قیمت ہے ۔اورجس نے شکار کے انڈے توڑدیئے تو ا س پر اس کی پوری قیمت ہے اور اگر انڈے سے مراد ہو ا بچہ نکلاتو اس پر زندہ بچہ کی قیمت ہے ۔اور کو ے ،چیل ، بھیڑئیے ،سانپ ،بچھو ،چوہے اور کاٹنے والے کتے کو مارنے پر جزانہیں ہے ۔
﴿ یربوع﴾جنگلی یا صحرائی چوہاسفید ہوتاہے
ولیس فی قتل البعوضۃ والبرغوث والنمل و القراد شیء ومن قتل القملۃ یتصدق بماشاء ومن قتل جرادۃ تصدق بما شاء وتمرۃ خیر من جرادۃ ومن قتل ما لا یوکل لحمہ من الصید کالسباع ونحوھا فعلیہ الجزاء ولا یتجاوز بقیمتھا شاۃ وان صال سبع علی محرم فقتلہ فلا شیء علیہ وان صال علیہ الجمل فقتلہ ضمن لصاحبہ وان اضطر المحرم الی اکل لحم الصید فقتلہ فعلیہ الجزاء
اور مچھر ۔پسّو، چیونٹی اور چیچڑی کو مارنے پر کچھ چیز نہیں ہے ۔اور جس نے جوں یا ٹڈی کو مار اتو جو چاہے صدقہ کرے اور اور ٹڈ ی کے عوض کھجور بہتر ہے ۔اور جس نے شکار میں اس کو مار اکہ جس کا گوشت نہیں کھایا جا تاجیسے درندے وغیرہ تو اس پر جزاہے جو بکری کی قیمت سے زیادہ نہ ہو ۔اور اگر درندہ محرم پر حملہ کردے اور وہ اسے ماردے تو اس پر کچھ نہیں ہے۔اور اگر اونٹ نے اس پر حملہ کیا اور محرم نے اسے مار دیا رتو اس کے مالک کے لیے ضامن ہو گا ۔اگر محرم شکار کا گو شت کھانے پر مجبور ہو جائے تو اسے شکار کرے ۔پس اس پر جزاہے ۔
ولاباس بان یذبح المحرم الشاۃ والبقرۃ والبعیرۃ والدجاجۃ والبط الکسکری ومن قتل حمامۃ مسر ولا او ظبیا مستانسا فعلیہ الجزاء وان ذبح المحرم صیدا فذبیحتہ میتۃ لا یحل اکلھا عندنا ولا باس بان یا کل المحرم لحم صیدا اصطادہ حلال وذبحہ اذا لم یدل المحرم علیہ ولاامرہ بصیدہ وفی صید الحرم اذا ذبحہ الحلال فعلیہ الجزاء وان قطع حشیش الحرم حلالا کان او حراما او شجرۃ التی لیست بمملوکۃ
اور کوئی حرج نہیں کہ محرم ،بکری ،گائے ،اونٹ،مرغی اور بطخ کسکری کو ذبح کرے ۔اور جس نے مسرول کبوتریا سدھائے ہو ئے ہرن کو مار اتو اس پر جزاہے ۔ اور اگر محرم شکار کو ذبح کرے تو اس کا ذبح کیا ہو ا مردار ہے ۔ہمار ے نزدیک اس کا کھانا حلال نہیں ہے ۔اور غیرمحرم کے شکار اور ذبح کیے ہو ئے کا گوشت کھانے میں محرم پر کوئی حرج نہیں جبکہ محرم نے شکار کے متعلق بتلایا بھی نہ ہو ا ور نہ شکار کا حکم دیا ہو ۔جب غیر محرم نے حرم میں موجود شکار کو ذبح کیا تو اس پر جزا ہے ۔محرم ہو یا غیر محرم اگر حرم کی گھاس کا ٹی یا وہ درخت کاٹے جو کسی کی ملکیت نہیں
﴿مسرول ﴾ کبوتر وہ جس کی ٹانگوں پر پَر ہوں
﴿الحرم ﴾مکہ مکرمہ کی زمین کوحرم کہتے ہیں
ولا مما ینبتہ الناس فعلیہ قیمتہ وکل شیء فعلہ القارن مما ذکرنا ان فیہ علی المفرد دما فعلی القارن دمان دم لحجتہ ودم لعمرتہ الا ان یتجاوز المیقات من غیر احرام ثم یحرم بالعمرۃ والحج فانہ یلزمہ دم واحد و اذا اشترک محرمان فی قتل صید واحد فعلی کل واحد منھما جزاء کامل واذا اشترک حلا لان فی قتل صید الحرم فعلیہما جزاء واحد و اذا باع المحرم صیدا او ابتاعہ فالبیع باطل
نہ وہ درخت جنہیں لوگ اگاتے ہوں ۔تو ا س پر اس کی قیمت ہے ۔ہر و ہ کام جسے ہم نے بیان کیا ہے اگرحج افراد کرنے والا وہ کام کر ے تو ایک دم ہے اگر قارن وہی کام کرے تو دو دم ہیں ۔ایک دم حج کے لیے اور ایک عمرہ کے لیے ہے مگریہ کہ وہ بغیراحرام میقات سے آگے بڑھ جائے پھر عمرہ وحج کا احرام باندھے تو اس پر ایک دم لازم ہے اورجب دو احرام باندھنے والے ایک شکار کو مارنے میں شریک ہو جائیں تو ان دونوں میں سے ہر ایک پر پوری جزاہے اور اگر دوغیرمحرم حرم کے شکارکو مارنے میں شریک ہوں تو ان دونو ں پر ایک جزاہے ۔اورجب محرم شکار بیچے یا اس کو خریدے ۔تو یہ خریدوفر وخت باطل ہے ۔
﴿قارن ﴾کیونکہ وہ دواحرام ،حج و عمر ،کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔اس لیے دو دم ہیں یہ ہمارے نزدیک ہے ۔جبکہ ائمہ ثلاثہ ایک ہی احرام کا محرم سمجھتے ہیں اس لیے ان کے نزدیک ایک دم واجب ہوتاہے
﴿ان یتجاوز المیقات ﴾اس کی ایک وجہہے کہ ایام حج میں ہمارے نزدیک عمرہ نہیں ہوتا ۔وہی حج تمتع کا پہلا عمرہ ہے ۔اب جبکہ عمرہ نہیں تو ہم عمرہ کا احرام نہیں باندھ سکتے ۔تو اس لیے حج قران کا احرام باندھنا ہو گا ۔اکثر لوگ ایام حج میں عمرہ کا احرام باندھ کرعمرہ کرلیتے ہیں اورپھر احرام کھول لیتے ہیں ۔ یہ احناف کے نزدیک جائز نہیں۔اگر ایسا کیا تو دم لازمی ہے۔
باب الاحصار
اذا احصر المحرم بعدو او اصابہ مرض یمنع من المضی جازلہ التحلل وقال الشافعی لایکون الاحصار الا من عدو وقیل لہ ابعث شاۃ تذبح فی الحرم وواعد من یحملھا یوما بعینہ یذبحھا فیہ ثم یتحلل فانکان قارنا
بعث بدمین ولا یجوز ذبح دم الاحصار الافی الحرم
عمرہ و حج سے رک جانے کے بیان میں
اور جب محرم حج سے رک جائے کسی دشمن کی وجہ سے یا اس کو ایسی بیماری لگ جائے جو جانے سے روک دے تواس کے لیے احرام کھولنا جائز ہے ۔اورامام شافعی نے فرمایاسوائے دشمن کے کسی اوروجہ سے احصارواقع نہیں ہوتا اورایسے شخص کے لیے کہا گیاہے کہ ایک بکری بھیجے جو حرم میں ذبح کی جائے ۔اوربکری لے جانے والے سے مقررشدہ دن کا وعدہ لے لے کہ جس میں وہ بکری ذبح کرے ۔پھر و ہ حلال ہو جائے گا ۔اور اگر قارن ہے تو دو دم بھیجے اورسوائے زمین حرم کے کسی اور جگہ احصار کا دم ذبح کرنا جائز نہیں ہے
﴿الاحصار ﴾عامل لوگ اپنے معمول کے گرد دائرہ لگا دیتے ہیں کہ یہ ان کا احصار ہے اس سے باہر نہیں آتا۔ احصارحصر سے ہے جس کا معنی ہیں رکجانا ﴿قیل ﴾مگر یہاں پر ضعف کے لئے نہیں ہے قول ضعیف کے لیے آتاہے ۔کیونکہ پتہ نہیں کہ کس نے کیا ہی
﴿واعد ﴾مثلا لے جانے والا کہے کہ میں چوتھے دن پہچو گا اوراسی دن بکری ذبح کروں گا تواب یہ چوتھے دن احرام کھول کرحلال ہوجائے گا مگر یہاں یہ معنی مراد نہیں ہے بلکہ یہاں اس کو معنی ہے کہ اس سے کہا جائیگا کہ ھدی یادم احصار بھیج دو حرم شریف میں تاکہ وہاں ذبح کردیا جائے معین کردہ دن میں اور یہ یہاں احرام کھول کر گھرکو واپس روانہ ہوجائے ۔
ویجوز ذبحہ قبل یوم النحر عند ابی حنیفۃ و قال ابو یوسف و محمد لا یجوز الذبح للمحصر بالحج الا فی یوم النحر ویجوز للمحصر بالعمرۃ ان یذبح متی شا والمحصر بالحج اذا تحلل فعلیہ حجۃ و عمرۃ وعلی المحصر بالعمرۃ القضاء وعلی القارن حجۃ وعمرتان واذا بعث المحصر ھدیا و واعدھم ان یذبحوا فی یوم بعینہ ثم زال الاحصار فان قدر علی ادراک الھدی والحج لم یجز لہ التحلل
اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک قربانی کے دن سے پہلے اس کا ذبح کرناجائز ہے اورامام ابو یوسف و محمد فرماتے ہیں کہ حج سے رک جانے والے کے لیے ذبح کرناجائز ہے مگر قربانی کے دن۔اور عمرہ سے رک جانے والے کے لیے ذبح کرنا جائزہے جب بھی وہ چاہے اورحج سے رک جانے والاجب احرام کھول دے تو اس پر ایک حج اور ایک عمرہ ہے ۔اورعمرہ سے رک جانے والے پر قضاہے اورقارن پر ایک حج اور دوعمرے ہیں اور جب حج سے رک جانے والاجانور بھیج دے اوران سے مقررہ دن میں ذبح کرنے کا وعدہ لے لے ۔پھر رکاوٹ دورہو گئی پس اگروہ ہدی اورحج کو پانے کی قدرت رکھتاہے تو اس کیلیے احرام کھولنا جائز نہیں
ولزمہ المضی وان قدر علی ادراک الھدی دون الحج جازلہ التحلل وان قدر علی ادراک الحج دون الھدی جازلہ التحلل استحسانا ومن احصر بمکۃ وھو ممنوع من الوقوف وطواف الزیارۃ کان محصرا وان قدر علی احدھما دون الا خر فلیس بمحصر
بلکہ جانا ضروری ہے اوراگر ہدی کو پانے کی قدرت رکھتا ہے بغیر حج کے تواس کے لیے احرام کھولنا جائز ہے اور اگر بغیر ہدی حج کو پانے کی قدرت رکھتا ہے تو اس کے لیے استحسانا احرام کھولنا جائز ہے ۔اورجو مکہ معظمہ میں محصور ہو گیا اوروقوف وطواف زیارت سے روک دیا گیا تووہ محصرہے۔اگر ان دونوں میں سے کسی ایک پر قدرت رکھتا ہوتو وہ محصرنہیں ہے ۔
﴿ استحسانا﴾اس لیے کہ احرام توحج کے لیے باندھا ہے اب جبکہ صرف ہدی کو پاسکتاہے اور حج کو نہیں تواحرام کھول سکتاہے ۔
باب الفوات
ومن احرم بالحج وفاتہ الوقوف بعرفۃ حتی طلع الفجر من یوم النحر فقد فاتہ الحج وعلیہ ان یطوف ویسعی ویتحلل ویقضی الحج من قابل ولا دم علیہ والعمرۃ لاتفوت وھی جائزۃ فی جمیع السنۃ الا فی خمسۃ ایام یکرہ فعلھا فیھا یوم عرفۃ ویوم النحر و ایام التشریق والعمرۃ سنۃ وھی الاحرام والطواف والسعی والحلق
فوت شدہ حج کے بیان میں
اور جس نے حج کا احرام باندھا اوراس سے وقوف عرفہ رہ گیا یہاں تک کہ قربانی کے دن صبح صادق طلوع ہو گئی تو بلاشبہ اس کا حج رہ گیا ۔اور اس پرطواف وسعی کرکے احرام کھول دینا لازم ہے۔ اور آنے والے سال میں حج کی قضا کرے اوراس پر دم لازم نہیں ہے ۔اور عمرہ فوت نہیں ہوتا اور عمرہ سال بھر جائز ہے ۔سوائے پانچ دنوں کے کہ جن میں عمرہ کرنا مکروہ ہے ۔اوروہ ایام عرفہ کا دن ،قربانی کا دن اور ایام تشریق ہیں ۔اور عمرہ سنت ہے ۔احرام ،طواف ، سعی اورسرکا منڈانا عمرہ ہے۔
﴿فوات﴾فوات جمع ہے فوت کی ۔جس کے معنی ہیں گذرا ہوا
باب الھدی
ادناہ شاۃ وھو من ثلثۃ انواع من الابل والبقر والغنم یجزئ فی ذلک کلہ الثنی فصاعدا الا الضان فان الجزع منہ یجزی فیہ ولایجوز فی الھدی مقطوع الاذن اواکثرھا ولا مقطوع الید والرجل ولا مقطوع الذنب ولا ذاھبۃ العین ولا العجفاء ولا العرجاء التی لاتمشی الی المنسک والشاۃ جائزۃ فی کل دم
قربانی کے جانور کے بیان میں
قربانی کا کم سے کم درجہ بکری ہے ۔اور قربانی کی تین اقسام ہیں ۔اونٹ ،گائے اوربکری کی قربانی،ان سب میں گائے میں ثنی دو سالہ کو کہتے ہیں مگر اونٹ میں ثنی پانچ سالہ کو کہتے ۔ یا زیادہ عمرکا جانور کافی ہے مگر دنبہ کہ جس میں چھ مہینے کا بچہ بھی کافی ہے ۔اور قربانی میں پورا یا اکثر کان کٹا،ہاتھ،پاؤں اوردم کٹا ، اندھا ،کانا ،نحیف اورلنگڑا جو مذبح تک نہ جاسکے جائز نہیں ہے ۔اور بکری ہر دم میں جائز ہی
﴿ھدی﴾حج کے موسم میں جانا اورعرفات ،مزدلفہ سے ہوتے ہوئے منیٰ میں جاکر جانور قربان کرنا ۔ اصطلاح شرعی میں اسے ہدی کہتے ہیں ﴿ضان﴾ چھ ماہیہ دنبہ جو کہ دیکھے میں ایک سالہ نظر آتا ہوتو اس کی قربانی کافی ہے
الا فی موضعین فی من طاف طواف الزیارۃ جنبا ومن جامع بعد الوقوف بعرفۃ فان فی ھذین الموضعین لا یجوز الا بدنۃ والبدنۃ والبقرۃ یجوز کل واحد منھما عن سبعۃ انفس اذاکان کل واحد من الشرکاء یرید القربۃ فان اراد احدھم بنصیبہ لحمالم یجز للباقین عن القربۃ ویجوز الاکل للمالک من التطوع والمتعۃ والقران ولا یجوز الاکل من بقیۃ الھدا یاللمالک ولا للغنی
مگر دو جگہوں پر جائز نہیں ۔ایک جس نے جنابت کی حالت میں طواف زیارت کیااور جس نے وقوف عرفہ کے بعد مجامعت کرلی پس بے شک ان دونوں جگہوں پر جائز نہیں مگر اونٹ ۔اونٹ اورگائے میں سے ہرایک ان سات اشخاص کی طرف سے جائز ہے جن میں سے ہرایک قرب الہی کی نیت سے شریک ہو ۔اوراگران میں سے ایک نے اپنے حصے کے گوشت کا ارادہ کیا تو با قیوں کی جانب سے از روئے ثواب کے جائز نہیں ہے اور مالک کے لیے نفلی ، تمتع اور قران کی قربانی میں سے کھانا جائزہے اور مالک اور مالدار کے لیے باقی قربانیوں سے کھانا جائز نہیں ہے ۔
ولا یجوز ذبح ھدی التطوع والمتعۃ والقران الا فی یوم النحر ویجوز ذبح بقیۃ الھدایا فی ای وقت شاء ولا یجوز ذبح دم الھدی الا فی الحرم ویجوز ان یتصدق بھا علی مساکین الحرم و غیرھم ولا یجب التعریف بقلادۃ بالھدی والافضل فی البدنۃ النحر وفی البقر و الغنم الذبح والافضل ان یتولی الانسان بنفسہ اذا کان یحسن ذلک ویتصدق بجلالھا وخطامھا ولا یعطی اجرۃ الجزارمنھا
اورنفلی ، تمتع اور قران کی قربانی کو ذبح کرنا جائز نہیں مگر قربانی کے دن ۔اور باقی قربانیوں کو ذبح کرنا جائز ہے جس وقت بھی چاہے ۔اور دم کی قربانی کو ذبح کرنا جائز نہیں مگرحرم میں اوران کا گوشت وغیرہ حرم کے مسکینوں اوردوسرے مسکینوں پر صدقہ کرنا جائز ہے ۔اور قربانی کے جانور کو پٹہ کے ساتھ نشان لگانا واجب نہیں ہے اور بہتر ہے اونٹ میں نحرکرنا اور گائے ،بھیڑ، بکری میں ذبح کرنا ،اورخود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہترہے جبکہ اچھی طرح ذبح کرسکتاہو ۔اور اس کی جھول اوررسی صدقہ کردے اوران سے قصاب کی مزدوری ادا نہ کرے ۔
﴿التعریف﴾بعض علماء نے تعریف کا معنی قربانی کے جانور کو عرفات لے جاناکردیاہے ۔
ومن ساق بدنۃ فاضطرالی رکوبھا وان استغنی عن ذلک لم یرکبھا وانکان لھا لبن لم یحلبھا ولکن ینضح ضرعھا بالماء البارد حتی ینقطع اللبن ومن ساق ھدیا فعطب فان کان تطوعا فلیس علیہ غیرہ وانکان واجبا فعلیہ ان
یقیم غیرہ مقامہ وکذلک لواصابہ عیب کثیر اقام غیرہ مقاِمہ وصنع بالمعیب ماشاء وان عطبت البدنۃ فی الطریق فانکان تطوعا نحرھا
اور جو اونٹ لے گیا پس اس پر سواری ہونے پر مجبور ہو گیا تو اس پرسوار ہو جائے اور اگر مجبور نہ ہو تو اس پر سوار نہ ہو ۔اور اگر اس کا دودھ ہوتونہ دوہے بلکہ اس کے تھنوں پر ٹھنڈا پا نی ڈالے یہا ں تک کہ اس کا دودھ خشک ہو جائے ۔اور جوقربانی کا جانور لے گیاپس وہ مرگیا ۔اگر نفلی ہے تو ا س پر اس کا بدل نہیں ہے اوراگر قربانی واجب ہے تو پہلی کے بدلے میں دوسری لانا اس پر لازم ہے ۔اسی طرح اگر قربانی کے جانور میں بہت سے عیوب پیدا ہوگئے ۔تو اس کہ جگہ دوسرا لائے ۔اور عیب دار کا جوچاہے کرے ۔اوراگر اونٹ راستے میں مرگیا ۔اگر نفلی ہے تواس کو نحر کرلے
وصبغ نعلھا بدمھا وضرب بھا صفحۃ سنامھا ولم یاکل منھا ھو ولا غیرہ من الاغنیاء وانکانت واجبۃ اقام غیرھا مقامھا وصنع بھا ماشاء ویقلد ھدی التطوع والمتعۃ والقران ولا یقلد دم الاحصار ولا دم الجنایات فقط تمت بالخیروالعافیہ اللھم اغفرلکاتبہ ولوالدی والاستادی ولجمیع
المؤ منین ۔۔ آمین
اوراس کے نعل کو اس کے خون سے رنگ لے اور اس خون کو اس کے کوہان کومارے ۔اورو ہ اورنہ کوئی دوسرا مالداروں میں سے اس کا گوشت کھائے ۔اور اگر واجب ہے تو اس کے بدلے دوسرا لائے اورپہلے کے ساتھ جو چاہے کرے ۔اورنفلی ،تمتع اورقران کی قربانی کی گردنوں میں پٹہ ڈالے صرف دم احصار اور دم جنا یات کو پٹہ نہ ڈالے ۔
تمت بالخیر
واغفراللھم لنا ولوالدیناولاستاذیناولمشائخناولجمیع المؤمنین والمؤمنات والمسلمین والمسلمات الاحیاء منھم والاموات برحمتک یا ارحم الراحمین ہ
مرتبہ:۔ تنویراحمد قادری
ہدیہء تشکر
ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام، پشاور جس کا قیام آج سے تقریباً ۱۶ برس قبل عمل میں آیا اور ماہانہ اسلامی لٹریچرکی اشاعت کے ساتھ ساتھ نادر ومعیاری کتب پر مشتمل ایک عمدہ لائبریری بھی قائم کی گئی۔ادارہ ھذا کی اشاعت اول کے منظر عام پر آتے ہی یہ بازگشت بھی سنائی دی کہ اشاعت وترسیل کایہ مفت سلسلہ کب تک جاری رہے گا کیونکہ یہاں تو بڑے بڑے لوگ حوصلہ ہارجاتے ہیں ۔اور یہ حقیقت ہے کہ اس مادی دور میں خالصتاً عملی بنیادوں پر کام کرنا کوئی آسان شغل نہیں کیونکہ کتابت سے طباعت تک مراحل بہت پریشان کن ہوتے ہیں۔ لیکن ان
تما م مشکلات اور کٹھن مراحل میں رب کائنات کی رحمت بے پایاں اورحضور پاک ﷺ کی عنایت بیکراں سے ادارہ ھذ ااب تک اپنے قارئین کرام کو مسلسل (۱۱۶ )اشاعتیں پیش کر چکاہے ۔ادارہ کے ۱۶ سال مکمل ہونے پر خصوصی اشاعت ’’درسِ قدوری ‘‘ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہاہے یہ ابتدائی نصابی کتب میں سے ہے جوصدیوں سے درسِ نظامی میں پڑھائی جارہی ہے ۔میں نے اپنی پڑھائی کے دوران اسے اپنے استاد محترم حضرت علامہ سید محمد امیر شاہ صاحب قادری الگیلانی مدظلہ العالی کی آواز مبارکہ میں تقریبا ۲۲ کیسٹوں میں ریکارڈ کرلیا جو میرے پاس کیسٹ لائبریری میں محفوظ ہیں اس کو مرتب کرنے کے بعد شائع کرنے کی سعادت حاصل کررہاہوں میں ان تمام حضرات کاتہہ دل سے ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے اس کی اشاعت میں ہرممکن میری رہنمائی ومدد فرمائی۔
جن میں محترم جناب مولاناسمیع اللہ صاحب(ڈبل ایم اے،ایم فل) خطیب جامع مسجد نور گلبہار نمبر۳
محترم جناب مفتی فرید حسین گیلانی صاحب خطیب جامع مسجد (کھجوری) پھندو پایاں
ڈاکٹر ام سلمیٰ گیلانیصاحبہ جناح کالج برائے خواتین پشاوریونیورسٹی
ان تما م حضرات نے عربی متن اور ترجمہ کی تصحیح فرمائی ۔
کمپوزنگ کے فرائض جناب باسط حسین قادری صاحب نے بڑی عمدگی سے شب وروزمحنت کرکے اداکیے اورجناب محمدقمرصدیقی قادری (ایم اے اسلامیات ،ایم اے انگلش)نے ترتیب وتصحیح میں ہر ممکن مدد فرمائی اورجناب محمد شہزاد قادری (ایم بی اے )نے اشاعتی کام میں معاونت فرمائی ۔
اللہ تبارک تعالیٰ جل شانہ ان سب کی سعی اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے امید ہے کہ آپ حضرات کوہماری یہ کاوش پسند آئے گی۔
قارئین کرام
سے التماس ہے کہ مجھ ناچیز کو اورمیرے مرحوم والدین کواپنی دعاؤں میں ضروریاد رکھیں۔
ناظم ادارہ
تنویراحمد قادری
باسمہ تعالیٰ
عرض مترجم
الحمد للہ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین الصلوٰۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی الہ وصحبہ واولیاء امتہ اجمعین ط
لاسیما علی غوث افخم سید نا ومولینا ابومحمد
محی الدین سیدنا شیخ عبدالقادر الحسنی
الحسینی الجیلانی رضی اللہ عنہ
المکین الامین ۔
امابعد!زیرنظر کتاب ’’ قدوری ‘‘ فقہ حنفی کی ایک مستند ومعتبر کتا ب ہے جو حضرت ابو الحسن احمد بن محمد بن جعفر بغدادی قدوری رحمتہ اللہ علیہ (۳۶۲ھ۔۴۲۸ھ) کی تصنیف لطیف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بے پناہ مقبولیت سے نوازا ،ہر دور کے علماء کرام نے اسے درس میں شامل رکھا اوراس کے حواشی قلم بند کئے ۔
ہمارے ہاں برصیغر پاک وہند کے دینی مدارس میں رائج نظامِ تعلیم ’’ درس نظامی ‘‘ میں یہ ایک نصابی کتاب کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے جبکہ مملکت خداداد پاکستان کی مختلف جامعات میں بھی بطور نصابی کتاب اسلامیات کے مضمون میں شامل ہے لیکن اس کا اردوترجمہ کمیاب ہونے کی بدولت طلباء و طالبات کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑتاہے ۔اس فقیر نے درس فقہ کے دوران جب ’’ قدوری‘‘ پڑھانا شروع کی تومحترم الحاج تنویر احمد صدیقی قادری ترجمہ ریکارڈ کرتے رہے اور بعدازاں بڑی محنت سے اسے کیسٹ سے تحریری شکل میں منتقل کیااور اب ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام، پشاور کی طرف سے اس کی اشاعت کا اہتمام کررہے ہیں جو بلاشبہ ایک بہت بڑی دینی وعلمی خدمت ہے ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اپنی بارگاہ عالیہ میں یہ مساعی جمیلہ قبول فرمائے اور ادارہ ہذا کے جملہ اراکین کوبھی جزائے خیر عطا فرمائے کہ وہ خیروبھلائی کے کاموں میں حاجی صاحب کی بھر پور معاونت کررہے ہیں اور عوام وخواص کو اس سے مستفیض ومستفید ہونے کی توفیق عطافرمائے آمین
(فقیر) سیدمحمد امیر شاہ قادری الگیلانی
یکہ توت پشاورشہر
۱۴ربیع الاول ۱۴۲۳ھ بمطابق۲۸ مئی ۲۰۰۲ء
باسمہ تعالیٰ
مقدمہ
علم فقہ اور اس کی حقیقت
نحمدہ مصلیاومسلما۔
پہلی وحی :۔ قرآن کریم کا پہلاحکم اقراء نازل کیا گیا اس سے معلوم ہو اکہ دنیا کی ہدایت کے لئے جو وحی آئے گی وہ کتاب ہوگیجو لکھی جائے گی وہ قرآن ہو گی جو پڑھی جائے گی ۔اسلام نے سب سے پہلے دنیا میں نہ توحید ورسالت کااعلان کیانہ اخلاق نہ انسانی حقوق کا اعلان کیا ۔بلکہ اقراء کے مطالبہ سے علم وحکمت کا آغاز فرماتے ہوئے ثابت کیا کہ سب شئ سے مقدم علم ہے ، اور احکام وہدایت پر عمل کرنا علم پر موقوف ہے ۔کیوں کہ بغیر علم کے نہ دین سمجھ آتاہے نہ تو توحید ورسالت کے راز کھل سکتے ہیں ۔نہ کائنات کی حقیقت کا انکشاف ہو سکتاہے۔نہ خلقت انسانی معلوم ہو سکتی ہے۔نہ ارض وسماء کے خزانے مل سکتے ہیں ۔نہ جمادات نہ نباتات سے نفع اٹھایا جاسکتاہے نہ کوئی معاملہ طے ہو سکتاہے ۔نہ واقعات ضبط ہوسکتے ہیں نہ تاریخ عالم محفوظ ہوسکتی ۔
نہ حالات دنیاو آخرتمعلوم ہوسکتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو عطیہ علم عطافرمایا۔ تاکہ وہ قوت علم سے پوری دنیامیں کمال حاصل کرکے تمام مخلوقات پر فائق رہے ۔اور کفروباطل کا مقابلہ کرتے ہوئے خلافت الہی کے فرائض سرانجام دے سکے ۔اس کے علاوہ حکم اقراء سے سبق دیا کہ قرآن کریم کو نظر عمیق سے پڑھ جس میں بے شمار علوم ہیں ان میں سے ایک علم فقہ ہے جو قرآن وحدیث کے منشی ومراد کو ظاہر کرتاہے ۔
علم فقہ کی تعریف :۔ علم بمعنی جاننا اور واقع کے مطابق پکایقین کرنا ۔ فقہ بمعنی غالب آنا ۔ عقلمند ہو نا فقیہ وہ عالم ہے جو قوت علم سے استنباط کرکے باطل پر غلبہ پاتے ہوئے حق کو سمجھنے والاہو، علامہ زمحشری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فقہ بمعنی شق اور فتح کے ہیں ۔اس کے مطابق فقیہ وہ عالم ہے جو قوت علم سے اصول شرعیت کے حقائق کھول کرمسائل واحکام کو عیاں کرنے والاہو ۔
ھوعبارۃ باحکام شرعیۃ الثابتۃ لافعال المکلفین خاصۃ ۔
موضوع فقہ :۔افعال مکلفین( عاقل بالغ) سے بحث کرنا جن کا تعلق حلت ،حرمت اباحت وجوب ،سنت سے ہو۔
غرض فقہ:۔ رضاء الہی ،سعادت دارین اور تعمیل اوامر ،نواہی سے احتراز اور فرض وسنت کا جاننا ۔
فقہ اور قرآن :۔وماکان المؤمنون ۔۔۔۔یتفقھوافی الدین اس آیت شریفہ میں فقہ سے مراد احکام دین ہیں اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ احکام شریعت کا سمجھنا اجتہاد کرنا ضروری ہے تاکہ اس پر عمل ہوکر زندگی بسر ہوسکے ۔
(۲) ولکن کونواربانیین ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ، عباس رضی اللہ عنہ اورحسن بصری رضی اللہ عنہ سے ہے کہ ربانیین سے مراد فقہاء علماء ہیں ۔ جو حضرات احکام شریعت کو بخوبی سمجھ اور اجتہاد کرسکتے ہیں وہ رب والے ہیں ۔
(۳) ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا ۔ جس کو حکمت ( فقہ ) دی گئی ہے ۔اس کو خیر کثیردی گئی ہے اس آیت میں حکمت سے مراد فہم وعلم اور احکام ہیں ۔پھر علم وفہم احکام شریعت کا نام فقہ ہے سوا اس کے قرآن وحدیث پر عمل کرنا ناممکن ہے بلکہ احکام فقہ اسلام کی بنیاد ہیں ۔
فقہ اورحدیث شریف :۔ (۱) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ حضور کریم ﷺ نے فرمایا ۔
من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین ۔ (جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسکو دین کی سمجھ عطافرماتا ہے )۔اور دین کی سمجھ کا نام فقہ ہے ۔بغیر فقہ کے دین کا سمجھنا محال ہے کیونکہ احکام شریعت پر عمل کرنے کے لیے علم فقہ ضروری ہے
(۲) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا فقیہ واحداشدعلی الشیطن من الف عابد (ہزار عابد شیطان کا مقابلہ کرے تو اس سے زیادہ سخت اور سنگین مقابلہ ایک فقیہ عالم کا ہوتا ہے )۔کیونکہ عالم شیطان کے مکروفریب سے دوسرے کو آگاہ کرسکتا ہے بخلاف عابد کے کہ و ہ ذاتی بچاؤ کرسکتا ہے ۔ گویا فقیہ عالم ہز ار عابد سے زیادہ قوت رکھتا ہے اس سے ثابت ہواکہ شیطان کی ہلاکت کا باعث محض اکثر یت عابدین نہیں بلکہ قوت علم دین ہے ۔اگر وہ صرف ایک ہوکافی ہے بہرحال عالم دین ایک قوت ہے جو طاغوتی طاقتوں کی ہلاکت کا موجب ہے اور کفر وباطل فسق وفجور پر غالب ہے ۔
(۴)سنن دارمی میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ :
ان رسول اللہ ﷺ بمجلسین فی مسجدہ فقال کلاھما علی خیرواحد ھما افضل من صاحبہ اما ھؤ لایرعون اللہ ویرغبون الیہ فان شبأ اعطاھم وان شاء منعہم واما ھو لاء فیتعلمون الفقہ اماالعلم ویعلمون الجاھل منعہم افضل وانمابعثت معلما فجلس فیہم ۔
یعنی کہ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دو ٹولے علیحدہ علیحدہ بیٹھے ہوئے تھے ،ایک ٹولہ ذکر اذکار میں مشغول تھا ۔ ایک تعلیم دین فقہ میں مشغول تھا ۔ان دونوں پر جب حضوراکرم ﷺ گزرے اورفرمایا کہ یہ دونوں نیکی پر ہیں ۔لیکن دین اوراحکام فقہ کے سکھانے والے ان سے افضل ہیں ۔پھرآپ ﷺ اس علمی مجلس میں بیٹھ گئے ۔اس سے ظاہر ہے کہ علم دین اور فقہ کے معلمین کو افضل فرماکر اس کو عملا پسند فرمایا کیونکہ اس مجلس فقہ میں احکام کے حقائق ود قائق معلوم کئے جا رہے تھے تاکہ بصیرت تامہ سے عمل ہوسکے ۔
( ۵)ترمذی شریف میں حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ لا یجتمعان فی منافق حسن سمعت ولا فقہ فی الدین۔( حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دو خصلتیں حسن سیرۃ اور فقاہت منافق میں جمع نہیں ہوسکتیں) کیونکہ حسن سیرۃ اور فقاہت کا محل صدق قلب ہے اور منافق کے دل میں صداقت نہیں ہوتی لہذا وہ ان دو صفتو ں سے موصوف نہیں ہوسکتا۔
(۶)حضرت ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ان الناس لکم تبع وان رجالایا تو نکم من اقطار الارض یتفقھون فی الدین فاذا توکم فاستوصوابہم خیرا۔(حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ لوگ تمہارے تابعدار ہیں وہ ملک کے اطراف سے فقاہت حاصل کرنے کے لئے تمہار ے پاس آئیں گے تم ان سے خوب حسن سلوک کرنا تاکہ وہ احکا م دین کو سمجھ کراس پر عمل کرسکیں )۔حضوراکرم ﷺ نے فرمایا ۔افضل العبادۃ التفقہ فی الدین ۔لکل شئ عماد عمادالدین الفقہ( اللہ تعالیٰ کی سب سے بہتر عبادت فقاہت فی الدین ہے ۔ ہر شے کا ستون ہوتاہے اور دین کا ستون فقہ ہے) ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ۔
من تفقہ فی دین اللہ عزوجل کفاہ اللہ تعالیٰ اھمہ ورزقہ من حیث لا یحتسب ۔
(جو دین میں فقاہت حاصل کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مقاصد کی کفایت کرتاہے ۔ اور اس فقیہ کو ایسی جگہ سے رزق ملتاہے ۔جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا)۔
مجتہدین کے سات طبقے
مجتہدین کوسات طبقوں پر منقسم کیا گیاہے ۔
پہلا طبقہ :۔ اجتہاد مطلق کے ساتھ اجتہاد فرمانے والے حضرات مجتہدین کاملین کا جیسے ائمہ اربعہ امام اعظم ابو حنیفہ اورامام شافعی اور امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ علیہ ہیں ۔
دوسرا طبقہ:۔ امام اعظم رحمت اللہ علیہ کے شاگردوں کا ہے جیسے امام ابویوسف اورامام محمد اورزفرہیں اوران کو مجتہدین فی المذہب کہا جاتاہے اوریہ حضرات ادلہ اربعہ سے احکام شرعیہ کا استخراج فرماتے ہیں ان قواعد کے مطابق جن کو استخراج احکام کے لئے امام اعظم نے مقرر فرمایاہے اوران کو متقدمین احناف بھی کہاجاتاہے ۔
تیسرا طبقہ:۔ متاخر ین حنفیہ کے اکابر ین کاہے جیسے امام خصاف اور امام طحاوی اورامام کرخی اور شمس الائمہ حلوائی اورشمس الائمہ سر خسی اورفخر الاسلام بزدوی اورقاضی خاں ہیں ۔یہ لوگ ان مسائل میں اجتہاد فرماتے ہیں جن میں صاحب مذہب سے کوئی روایت نہیں اوریہ لوگ صاحب مذہب کی مخالفت پر قادر نہیں نہ اصول میں نہ فروع میں ۔
چوتھا طبقہ :۔ مقلدین سے اصحاب تخریج کا ہے جیسے ابوبکر احمد بن علی رازی وغیرہ ہیں یہ حضرات کسی قسم کے اجتہا د پر تو قادر نہیں ہیں لیکن اجتہا د کے تمام اصول پر حاوی اورتمام ماخذوں کو ضبط کرنے والے ہونے کی بناء پرکسی مجتہد کے اتباع میں کس قول مجمل ذوجہتین کی تفصیل اورکسی حکم مبہم محتمل امرین کی تشریح کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اورچند نظیروں میں سے ایک کو دوسرے پر قیاس کرتے ہیں ،
پانچواں طبقہ :۔ مقلدین میں سے اصحاب ترجیح کا ہے اورکفوَی نے اس میں صاحب قدوری اورصاحب ہدایہ کو شمار فرمایاہے اوران کا کام چند روایات سے ایک کو دوسری روایت پر ترجیح دینا ہے مثلاکہاکرتے ہیں کہ یہ روایت زیادہ صحیح ہے اور یہ بلحاظ درایت زیادہ واضح ہے اور یہ قیاس کے زیادہ موافق ہے اوریہ لوگوں کے لئے زیادہ نافع ہے لیکن عمدۃ الرعایہ میں کہاگیاہے کہ امام قدوری کی شان قاضی خاں کی شان سے برتر ہے اورصاحب ہدایہ قاضی خاں سے کم نہیں لہذا قاضی خاں کو طبقہ ثا لثہ میں شمار کرکے صاحب قدوری اورصاحب ہدایہ کو طبقہ خامسہ میں شمار کرنا ہرگز مناسب نہیں ۔
چھٹا طبقہ :۔ان مقلدین کا ہے جو اقوی اورقوی اورضعیف اورظاہر مذہب اورظاہر روایات اورروایات نادرہ کے مابین تمیز دینے پر قادرہیں لہذا ان کو اصحاب تمیز کہا جاتاہے شمس الائمہ کردری اور جمال الدین حصیری اورحافظ الدین نسفی اورمتاخرین سے اصحاب متون جیسے صاحب مختاراورصاحب وقایہ اورصاحب مجمع وغیرہم ہیں اور ان کی شان ہے کہ اپنی کتابوں میں اقوال مردودہ اور روایات ضعیفہ کو نقل نہ کریں ۔اور یہی طبقہ حضرات فقہاء کا ادنی طبقہ ہے اور جو لوگ ان سے بھی گرے ہوئے ہوں ان پر حضرات فقہاء کی پوری تقلید ضروری ہے اوریہ لوگ صرف بطور حکایت فتوی دے سکتے ہیں کسی قسم کے استنباط کا حق ان کو نہیں ہے
ساتواں طبقہ :۔ان مقلدین کا ہے جو نہ استخراج احکام پر قادرہیں نہ ترجیح پر نہ تمیز پر غلط وصحیح کے درمیان یہ لوگ کتابوں میں جو کچھ پاتے ہیں یاد کرلیتے ہیں ۔فی الحقیقت یہی لوگ حضرات فقہاء میں داخل نہیں بنا بریں بعض حضرات نے حضرات فقہاء کے چھ طبقہ کہاہے اور بعض حضرات نے مجتہدین کاملین کو طبقات فقہاء سے خارج کرکے حضرات فقہاء کاپانچ طبقہ کہا ہے ، پس پانچ یا چھ یا سات ہونے کے اقوال کے مابین منافات نہیں نیز یاد رہے کہ امام ابو یوسف اورامام ابو محمد بھیمجتہدین کا ملین میں داخل ہیں ان کومجتہدینفی المذہب میں شمار کرنا اس لحاظ سے ہے کہ یہ حضرات بلحاظ ادب اپنے استاد امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے ان اصولوں میں مخالفت نہیں فرماتے کہ اجتہادکے لئے انہوں نے مقرر فرمایاہے بخلاف امام شافعی اورامام مالک اور امام احمد بن حنبل رحہم اللہ علیہ کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے اصول اجتہاد جداگانہ اورادلہ سے استنباط احکام کے طریقے الگ الگ ہیں ان میں سے کوئی کسی اصل اورطریقہ میں دوسرے کا پیر وکار نہیں ہے ۔
بعض اصطلاحات فقہ
اجتہاد:۔ادلہ اربعہ قرآن ، حدیث ، اجماع اورقیاس سے احکام شرعہ کے استنباط کو اجتہاد کہا جاتاہے
مجتہدین :۔ اجتہاد فرمانے والوں کو حضرات مجتہدین کہاجاتا ہے ، اور ان کی تین قسمیں ہیں ۔
۱ ۔ مجتہدین فی الشرع :۔ ان کو مجتہدین مطلق اورمجتہد مستقل بھی کہا جاتاہے ، یہ وہ حضرات فقہاء ہیں جو استخراج احکام کے اصول وضوابط مقرر فرماسکتے ہیں اورقرآن وحدیث سے استنباط احکام کی پوری طاقت رکھتے ہیں اورآیات واحادیث اور آثار صحابہ کاکامل تتبع کر چکے ہیں اورمتعارض دلیلوں سے ہر ایک کا مطلب مدلل بیان کرچکے ہیں اورروزمرہ پیش آنے والے واقعات کے احکام ان مسائل سے نکال کربیان کر سکتے ہیں جن سے حضرات سلف نے نکال کربیان فرمایا ہے جیسے ائمہ اربعہ ہیں ۔
۲۔مجتہدین فی المذہب :۔ وہ حضرات فقہاء ہیں جو اصول اجتہاد میں کسی مجتہد مطلق کا متبع ہوں اور ان ہی اصول کے ماتحت استخراج مسائل پر پوری طاقت رکھتے ہوں اور دلائل کے ماخذوں پر واقف ہوں اورکسی مسئلہ فروعیہ میں اگر اپنے مجتہدمطلق سے اختلاف ہوجائے تواپنی رائے پر دلائل قویہ قائم کردیتے ہیں ۔ جیسے امام ابو یوسف اورامام محمد وغیرہ من تلامذہ ابی حنیفہ رحمہم اللہ علیہ ۔
مجتہد فی المسائل :۔ وہ حضرات فقہاء ہیں جو اول دو قسم کے مجتہدین کی تقلید کرکے استنباط مسائل کرسکتے ہیں اوراپنے امام اور دیگر آئمہ کے اقوال کا ماہر ہوں ۔ اور امرجدید پیش آنے پر ان اقوال سے مدلل فتوی دے سکتے ہوں ۔جیسے امام طحاوی امام کرخی اورامام خصاف اورشمس الائمہ حلوائی وغیرہ۔
شیخین ،صاحبین،طرفین
شیخین :۔
امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کوشیخین کہتے ہیں ۔
صاحبین :۔
امام ابویوسف اور امام محمد کو صاحبین کہتے ہیں ۔
طرفین :۔
امام ابو حنیفہ اورامام محمد کو طرفین کہتے ہیں ۔
اورصاحب ِقدوری نے یہی اصطلاحات استعمال کیے ہیں ۔
آئمہ ثلثہ
اگر ائمہ ثلثہ احناف کہا جائے تو ان سے امام اعظم اور امام ابویوسف اور امام محمد رحہم اللہ علیہ مراد ہوتے ہیں اور اگر مطلق ائمہ ثلثہ کہا جائے تو ان سے امام شافعی امام مالک اور احمد بن حنبل مراد ہوتے ہیں ۔
عنہ اور عندہ کا فرق
عنہ اس پر دال ہے کہ یہ امام اعظم کا مذہب نہیں بلکہ امام اعظم سے مروی ہے اور عندہ امام اعظم کا مذہب ہونے پر دال ہے اورعندہ یا مذہبہ کہنے کی صورت میں امام اعظم کا مذہب مراد ہوتاہے اورعندہما سے صاحبین کا مذہب مراد ہوتاہے التبہ اگر امام ابو یوسف کا مذہب الگ بیان کیا جائے تو عندہما سے طرفین مراد ہیں اور اگر امام محمد کا مذہب الگ بیان کیا جائے تو عندہما سے شیخین مراد ہیں ۔
مترجم اور ترجمہ
مولاناسید محمدامیر شاہ صاحب قادری الگیلانی مدظلہ العالی جس گھرانے کے چشم وچراغ ہیں ۔وہ گذشتہ کئی صدیوں سے اب تک غیر منقطع طور پر مذہب واخلاق ،رشد وہدایت ،تصنیف وتالیف ،علم وادب کا گہوارہ رہاہے ۔ان حسنات کی جلوہ گری ان کی شخصیت ہی میں نہیں ،بلکہ علمی ،ادبی اوردینی خدمات میں بھی ملتی ہے ۔تحریر وتقریر میں موصوف کو جو غیر معمولی درک ہے وہ آپ ہی کا خاصہ ہے۔اوروطن عزیز کے دینی علمی وسیاسی مسائل پر جیسا عبور ہے ۔اس کے سبب سے مولانا امیر شاہ صاحب کی تحریروں کو ملک بھر میں جو وقعت حاصل ہے ۔وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔آپ کی مطبوعہ کتب کی تعداد۲۰کے قریب ہیں ۔جن میں تذکرہ علماء مشائخ سرحد جلداول ودوئم ، حفاظ پشاور،تذکرہ مشائخ قادریہ حسنیہ،انوار غوثیہ جو شمائل ترمذی شریف کی اردو میں سب سے ضخیم شرح ہے ۔جس کا ایک ایک حرف عشق رسول ﷺ میں ڈوبا ہو ا اورقاری کوعمل وفکرکی دعوت دیتاہے ۔جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔’’شرح غوثیہ ‘‘یہ بخاری شریف کے پہلے دوپاروں کا اردو ترجمہ وشرح ہے ۔انوار گیلانی اردو ترجمہ وشرح خلاصہ کیدانی جو ابتدائی متداول کتب سے ہے جس کوجناب تنویر احمد قادری نے بڑے احسن طریقہ سے مرتب کیا۔اور ماہانہ درس قرآن آپ ہی نے اد ارہ اشاعت وتبلیغ اسلام ،پشاورکی جانب سے شائع کرکے بے حد خراج تحسین حاصل کیا۔گویا کہ ہر تصنیف،تالیف اپنی جگہ ایک شاہکارہے اور آپ کی تمام کتب ماخذکے درجے تک پہنچ چکی ہیں ،
ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام ،پشاور کی جانب سے شائع کردہ کتاب’’درس قدوری ‘‘جو ابتدائی متد اول کتب میں سے ہے اور کئی صدیوں سے درس نظامی میں پڑھائی جارہی ہے ۔جس کی عربی میں متعددشروح نظر سے گزری ہیں جن میں’’ الجوہرۃ النیرہ‘‘ بے حد مقبول ومعروف ہے لیکن اردو زبان میں اتنی ضخیم شرح نہیں گزری یہ شرح کئیحیثیتوں سے منفردہے۔
یہ کتاب ارکان اسلام کے احسن ترین طریقہ ادائیگی کی طرف گامزن کرنے میں اپنی مثال آپ ہے ۔ہر رکن اسلام کو مختلف ابواب میں منقسم کرتے ہوئے ترجمہ اور شرح کو نہایت سلیس اردو زبان میں مرتب کیا گیاہے اس لئے مجھے یہ کہنے میں ذرہ بھر تامل نہیں کہ یہ کتاب فقہ حنفی کے مقلدین طلباء ،علماء کرام اور عوام الناس کے لئے بیش بہا علمی خزانہ ہے ۔کتاب ھذا میں جہاں جہاں ضروری سمجھا گیاہے ۔
علامہ موصوف کے وہ رسائل جوحضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے صاحبین کی آراء کی روشنی میں مرتب کیے گئے ہیں متن کی وضاحت کے لئے حواشی میں شامل کیے گئے ہیں جن میں تفضیل تقبیل ابھامین یعنی حضورپاک ﷺ کے اسم گرامی لیتے وقت انگوٹھے چوم کرآنکھوں پرلگاناسنت ہے ،مردوں کوثواب پہنچنے کا مسئلہ ،مسجدمیں نماز جنازہ پڑھنے کا مسئلہ، جنازے کے ساتھ ذکرالہی کرنے کامسئلہ ،داڑھی منڈے امام یا حافظ کے پیچھے نماز پڑھنے کامسئلہ ،اور نماز مقبول وغیرہ ان تمام رسائل کے حوالہ جات نہایت مستند کتب سے دئیے گے ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ ان رسائل سے قدوری کی شرح کو چار چاند لگ گئے ہیں تو بے جانہ ہوگا۔ہر مسئلہ کی اتنی وضاحت کردی گئی ہے ۔کہ قاری کوکسی مسئلہ کے سمجھنے میں ذرہ برابر دقت نہ ہوگی، ضرورت اس امر کی تھی کہ ان تمام زرین اصولوں اور ضوابط کو یکجاکیاجاتا درحقیقت یہ کام بہت مشکل تھا ۔لیکن اللہ تعالیٰ جل جلالہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطافرمادیتاہے ۔میں محترم جناب قبلہ سید محمد امیر شاہ صاحب قادری الگیلانی مدظلہ العالی کو مبارک باد پیش کرتاہوں کہ آپ کے اس ہونہار شاگردمحبی و مخلصی جناب تنویر احمد صدیقی القادری نے بڑے احسن طریقے سے یہ کام سرانجام دیاہے ۔اوران تما م بکھرے ہوئے موتیوں کو یکجاکردیاہے۔
بقول اقبال مرحوم نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرانم ہوتو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی!
میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام ،پشاور طباعت کے میدان میں اسلام کی بے لوث خدمت کے جذبہ سے مزین ہے ۔میں ادارہ کے ناظم اعلی جناب تنویر احمد قادری صاحب اور ان کے معاونین کودل کی گہرایوں سے خراج تحسین پیش کرتاہوں ۔اللہ تبارک وتعالی سے دعاہے کہ ان کی اس سعی کو اپنی بارگاہ عالیہ میں قبول فرمائے اور اس کتاب کوشرف قبولیت عطافرمائے ۔آمین
دعا گو:۔قریش علی
چیئرمین،ڈیپاٹمنٹ آف اسلامک لاء اینڈ شریعۃ پشاوریونیورسٹی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تقر یظ
حضرت علامہ ومولانا محمد سمیع اللہ صاحب خطیب جامع مسجد نور، شنواری ٹاؤن ،گلبہار نمبر ۳ پشاور
ایم اے اسلامیات ،ایم اے عربی ،ایم فل
انسڑکٹر اسلامیات زرعی تربیتی ادارہ جمرود روڈ پشاور یونیورسٹی
نحمدہ ونصلی وسلم علی رسول الکریم۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے نازل فرمایاہے ۔اور اس میں اپنے احکام ،
او امرونواھی کو بیان فرمایاہے ۔مگر صرف عربی زبان جاننے سے محض عقل کے ذریعے منشاء الہی کے مطابق قرآن مجید سے اوامرونواھی کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ممکن نہیں بلکہ ان کو سمجھنے کیلئے احادیث نبویﷺ کی طرف رجوع ضروری ہے ۔اس لئے ارشاد پرورگار ہے ۔ویعلمھم الکتاب ۔وہ ان کو کتاب الہی کی تعلیم دیتاہے ۔یعنی تعلیم نبوی ﷺکی روشنی میں منشاء الہی کے مطابق قرآن مجید سے احکامات الہی کو سمجھا جاسکتاہے ۔اور ناسخ ومنسوخ آیات کوجانا جاسکتاہے ۔تاکہ ناسخ پرعمل ہو،منسوخ پر عمل نہ کیا جائے ۔اور محکم آیات کو جان کران پر عمل کیاجائے اور متشابہ آیات پر صرف ایمان لایاجائے اوران کو مزید نہ چھیڑا جائے ۔لیکن احادیث میں بھی کہیں اجمال ہے ۔ان کو سمجھنے کے لئے تفصیل والی احادیث کی طرف رجوع لازمی ہوجاتاہے عام آدمی اجمالی احادیث سے منشاء الہی کے مطابق احکامات قرآنی پر عمل نہیں کرسکتا، مثلا ارشاد پرورگار ہے ۔
یاایھاالذین آمنوااذا قمتم الی الصلوٰۃ الخ
’’ اے ایمان والو!جب تم نماز کیلئے اٹھو تو دھولواپنے چہرے اوراپنے ہاتھ کہنیوں تک اوراپنے سروں پر مسح کرواور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک ‘‘
بظاہر آیت کریمہ سے معلوم ہوتاہے کہ ہر نماز کے لئے وضوکرو چاہے وضوہویانہ ہو۔لیکن منشاء الہی یہ ہے کہ جب وضو نہ ہوتو تب وضو کرلو۔اور اگر وضو ہوتو پھر نما زکیلئے وضو کرنے کی ضرورت نہیں ۔نیز آیت کریمہ میں نیت وضو،مضمضہ ،استنشاق مسح اذنین وغیر ہ امور مذکورنہیں حالانکہ کامل وضو کیلئے یہ ضروری ہیں ۔نیز احادیث میں کچھ منسوخ ہیں ۔ان پر عمل نہیں ۔اور کچھ موضوعی یا انتہائی ضعیف ،عام آدمی آسانی سے ان کو معلوم نہیں کرسکتا۔
پھر اوامرکہیں فرضیت کیلئے ہیں ،کہیں وجوب کے لئے کہیں سنت کیلئے اورکہیں استحباب کے لئے ۔اور نواھی بھی کہیں حرمت کے لئے ہیں کہیں کراھت تحریمی اور کہیں کراھت تنزیہی کے لئے ۔تما م آدمی قرآن وحدیث میں ان کے مواقع کو نہیں جان سکتا۔ان کے جاننے کے لئے فقہ کی طرف رجوع لازمی ہے ۔اس لئے فقہاء نے احکام کو نواقسام پر تقسیمکیا ہے۔فرض ،واجب ،سنت ،مستحب ،مباح ،حرام ،مکروہ تحریمی اور مکروہ تنزیہی ۔لھذامنشاء الہی کے مطابق قرآن وحدیث پر عمل کرنے کے لئے فقہ کاجاننا ضروری ہے ۔
کتاب قدوری فقہ حنفی میں قدیم ترین قابل اعتماد اور جامع ترین کتاب ہے ۔اس لئے مختلف فقہاء نے اس کی شروحات لکھی ہیں ۔لیکن اردو دان طبقہ کے لئے ایک اردو ترجمہ اور شرح کی ضرورت تھی ۔
پیرطریقت رہبر شریعت بقیت السلف حضرت سید محمدامیر شاہ صاحب قادری الگیلانی مدظلہ العالی نے اس کتا ب کا عام فہم سلیس اردو میں ترجمہ اورشرح لکھ کر اہل پاکستان پر بڑا احسان فرمایا ۔ جس طرح کتاب بے مثال ہے اس طرح یہ ترجمہ اورشرح بھی بے نظیر ہے ۔کتاب کو مرتب کرتے وقت جنا ب حاجی تنویر احمد قادری صاحب نے حضرت کے مرتبہ رسائل جو مختلف اوقات میں شائع کیے گئے تھے شرح میں شامل کردیئے جس سے شرح کی افادیت میں مزیداضافہ ہوگیا۔ اورجہاں اختصار بہتر تھا وہاں اختصار سے کام لیا ۔اور عوام تک پہنچانے کے لئے جناب حاجی تنویر احمد قادری صاحب نے شب وروز محنت کرکے اس کو زیور طبع سے آراستہ فرمایا ۔اللہ تعالیٰ ان کی سعی کومقبول فرماکران کوخدمت دین حقہ کیلئے مزیدہمت وتوفیق عطافرمائے ۔انہوں نے ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام کے زیر اہتمام کئی کتابیں شائع کی ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ راقم الحروف نے کتاب کو شروع سے آخر تک ایک طائرانہ نظر سے دیکھا ۔کتاب کے ترجمہ وشرح کو لاجواب پایا ۔تاہم انسان خطاکا پُتلا ہے ۔کہیں نادانستہ خطا سرزد ہوئی ہوتو تصحیح کے لئے ناشر کو مطلع فرماکرمشکور وماجورہوں ۔
﴿جملہ حقوق بحق ادارہمحفوظ ﴾
اشاعت نمبر ۱۱۷
نام کتاب:۔ قدوری
تصنیف:۔ ابوالحسن احمد بن محمدبن جعفرالمعروف امام قدوری رحمت اللہ علیہ
نام ترجمہ:۔درسِ قدوری
مترجم وشارح :۔ سید محمد امیر شاہ قادری الگیلانی صاحب مدظلہ العالی
مرتبہ :۔ تنویر احمد قادری
تاریخ اشاعت :۔ باراول ۱۱ ربیع الثانی ۱۴۲۳ ھجری بمطابق جون۲۰۰۲ ء
کمپوزنگ :۔ باسط حسین قادری
مطبوعہ:۔
ناشر:۔ ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام،محلہ قاضی خیلاں بازارکلاں پشاور
ہدیہ:۔=/۲۵۰ روپے
ملنے کا پتہ
ادارہ اشاعت وتبلیغ اسلام،محلہ قاضی خیلاں بازارکلاں پشاور
دارالاخلاص، صدف پلازہ محلہ جنگی ،پشاور
مکتبہ سرحد ،خیبر بازار، پشاور
امام قدوری کے مختصر حالات
یہ مشہور امام ابو الحسن احمد بن محمد بن جعفر فقیہ قدوری ہیں ۔ یہ بزرگ ابو عبداللہ جرجانی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں ۔حدیث کی روایت میں صدوق وثقہ مانے گئے ہیں خطیب بغدادی وغیرہ محد ث ان کے شاگر د تھے ۔ان کے تصانیف سے مختصر قدوری متن اور شرح کرخی اورتجرید خلافیات کے مسائل میں سات جلدوں میں ہیں ۔جس میں امام ا بو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اورامام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے خلافیات مسائل مع ادلہ فریقین کے بڑے بسط کے ساتھ لکھے ہیں اور کتاب التقریب فی الخلافیات بھی انہیں کی تصنیف ہے اس میں فریقین کے اختلافات ومسائل مستنبطہ کا صرف ذکرکیا ہے اور دلائل سے بحث نہیں ہے
امام قدوری رحمتہ اللہ علیہ نے شہر بغداد میں بعمر ۶۶سال اتوار ۵رجب ۴۲۸ ہجری میں داعی اجل کو لبیک کہااور اسی روز’’درب ابی خلف‘‘ میں مدفون ہوئے ،اور اس کے بعد آپ کے نعش کو ،شارع منصور کی طرف منتقل کرلیاگیا ۔ا ب آپ ابوبکر خوارزمی حنفی کے پہلومیں آرام فرماہیں۔قدوری بضم قاف نسبت ہے قدورہ کی طرف جو بغدادمیں ایک گاؤں کانام ہے یابیع قدورکے سبب سے ان کی یہ نسبت ہوئی قدوربضم قاف جمع قدربالکسربمعنی ھانڈی
بعض نسخوں میں آپ کی کنیت ابو الحسین بھی آئی ہے
﴿ مآخذو مراجع﴾
۱۔قرآن مجیدترجمہ کنزایمان ،ضیاء القرآن پبلی کیشنرلاہور۲۔تفسیرخازن، مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت
۳۔تفسیرعزیزی ،مطبوعہ مطبع محمد ی لاہور۴۔انجیل برنابا (مطبوعہ مصر)صہ ۶۰،۶۱
۵۔صحیح بخاری شریف، مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع دہلی ۶۔ صحیح مسلم شریف، نورمحمد اصح المطابع دہلی
۷۔ترمذی شریف،نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی۸۔سنن دارمی ، محمد سعیداینڈسنز قرآن محل کراچی
۹۔ مشکوۃ شریف ، مطبوعہ ملک سراج الدین اینڈ سنز لاہور ۱۰۔مرقاۃشرح مشکوٰۃ ،مطبوعہ دارالفکر بیروت
۱۱۔الزجاج المصابیح، مطبوعہ حیدرآباد دکن ۱۲۔اشعۃاللمعات شرح مشکوٰۃشریف،
۱۳۔مصفی ومسوی شرح موطاء ،مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دہلی۱۴۔شرح فقہ اکبر ،مطبوعہ مجتبائی دہلی
۱۵۔کشف الغمہ عن جمیع الامتہ، مطبوعہ مطبع عامرہ عثمانیہ مصر۱۶۔ہدایہ شریف،مطبع مجتبائی دہلی
۱۷۔غایۃ الاوطارترجمہ درالمختار،مطبوعہ مطبع نامی منشی نول کشورلکھنؤ۱۸۔شرح وقایہ ،مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی
۱۹۔مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق، مطبوعہ نول کشورلکھنو۲۰۔طحطاوی شرح مراقی الفلاح ،مطبوعہ مصر
۲۱۔ عبدالحلیم علی الدررشرح الغرر،مطبوعہ مصر ۲۲ ۔المبسوط،مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت
۲۳۔ نورالہدایہ ترجمہ شرح وقایہ ،مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲۴۔فتاویٰ قاضی خان، مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت
۲۵۔شرح معانی الاثار المعروف بالطحاوی،مطبوعہ مطبع الاسلامیہ لاہور ۲۶۔ کتاب الآثار ،مطبوعہ انوار محمد ی پریس لکھنو
۲۷ ۔فتاویٰ بزازیہ،مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت ۲۸۔فتاویٰ عالمگیری ،مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت
۲۹۔بدائع الصنائع، دارالفکر بیروت ۳۰۔توضیح العقائد یعنی رکن الدین ،مطبوعہ اللہ والے کی دوکان لاہور
۳۱۔انوار ساطعہ،مطبوعہ مطبع نعیمی مراد آبادبھارت ۳۲۔عقائد الاسلام ،مطبوعہ انصاری دہلی
۳۳۔ارشاد الطالبین،مطبوعہ فیض عام دہلی ۳۴۔فضائل الذکر، مطبوعہ ناشران قرآن کمپنی
۳۵۔العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ مطبوعہ نامی پریس لکھنو،نئی دارالاشاعت مبارکپور ضلع اعظم گڑھ
۳۶۔فضائل صدقات،ناشر ادارہ دینیات حضرت نظام الدین نئی دہلی ۳۷۔فضائل صبروشکر،ادارہ دینیات
Distributed by SiteGround