• Facebook Page: 136926555783
  • YouTube: user/alameeria

Multimedia content Replication 

 Our complete multimedia library is available at alameeria youtube channel, however as youtube has been blocked in Pakistan we plan to replicate the content to other streaming channels which are accessible in Pakistan 

Nimaz e Jinazy kay bad dua

 

 

 

 

+نماز جنازہ کے بعد دعا

 

 

نمازِ جنازہ کے بعد دُعا

 

حروفِ میزان 

اُستاذِ کامل، مرشد اکمل ، قطب عالم، امیر العصر حضرت علامہ سید محمد امیر شاہ صاحب قادری گیلانی المعروف مولوی جی صاحب  کی حیاتِ طیبہ پیغمبر اسلام شفیع المذنبین، رحمت للعالمین، احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی  کے اسوۂ حسنہ کا عمدہ نمونہ تھی ۔رب العالمین جل جلالہ، عم نوالہ وجل مجدہ وعزاسمہ نے آنجناب  کو اپنے حبیب پاک  کی شانِ رحمت سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا جس کی بدولت قبلہ مولوی جی صاحب  مخلوقِ خدا کو عیال اﷲ جان کر اُن کی دستگیری فرماتے رہے۔ آپ کا وجودِ مسعودتمام انسانیت خصوصاً اُمت محمدیہ  کیلئے رب تعالیٰ کی نشانی اور نعمت تھا۔

اہل نظر سے مخفی نہیں کہ اولیاء کرام پر رب العالمین کی طرف سے جوکرم نوازی ہوتی ہے اسے عوام و خواص تک پہنچانے کیلئے وہ مختلف طریقے بروئے کار لاتے ہیں۔ِ بقول حضرت بابا عبید اﷲ درانی  (بانی پرنسپل انجینئرنگ کالج حال انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور) قبلہ مولوی جی صاحب  عوام کو لنگر غوثیہ اور خواص کو قلم کے ذریعہ اپنے فیو ض و برکات سے بہرہ مند فرماتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے متعدد موضوعات پر کتابیں اور مقالات وغیرہ قلم بند فرمائے جو مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور ہدایت و رہنمائی کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 

آنجناب  کی حقیقی و معنوی اولاد کو اس طرف خصوصی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے اور ان کتابوں کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی ضرورت ہے تا کہ آپ کا ہر مرید و عقیدت مند اِن کا مطالعہ کر کے آنجناب  کے فیوض و برکات حاصل کر سکے۔

زیر نظر کتاب آپ نے نماز جنازہ کے بعد دعا کے موضوع پر تحریر فرمائی۔ جس میں بعد از جنازہ دعا کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں پیارے محبوب  کی سنت مطہرہ کے ساتھ ساتھ حضرات خلفاء راشدین کی سنت بھی بیان کی گئی ہے۔

کیونکہ موجودہ دور میں بعض لوگوں کی طرف سے دعا پر اعتراضات کئے جاتے ہیں اور پھر سادہ لوح مسلمان ان بد عقیدہ لوگوں کے دھوکے میں آکر اپنے مردوں کو دعا سے محروم کر دیتے ہیں آپ نے انہیں اس محرومی سے بچانے کیلئے یہ قدم اٹھایا۔ در اصل مردوں کیلئے دعا اور ایصالِ ثواب کا انکار عہد عباسیہ میں فرقۂ معتزلہ نے کیا تھاجبکہ اہلسنّت اس کے قائل تھے ، ہیں اور رہیں گے ۔عصر حاضر میں وہی معتزلہ کی بدعت دوبارہ پھیلائی جا رہی ہے۔

مولوی جی صاحب  نے اس بدعت کے خاتمہ کیلئے اہلسنّت کے موقف کو دلائل و براہین سے ثابت فرمایا ہے۔یہ قبلہ مولوی جی صاحب  کی سب سے آخری کتاب ہے جو آنجناب  کے آٹھویں عرس مبارک پر پہلی مرتبہ شائع کی جا رہی ہے ۔آپ نے سب سے پہلی کتاب نماز کے موضوع پر ’’ نماز مقبول‘‘ تحریر فرمائی تھی ۔

پیارے محبوب  نے احادیث مبارکہ میں دعا کی بہت زیادہ فضیلت و اہمیت بیان فرمائی ہے۔آپ نے دعا کو عبادت کا مغز قرار دیاہے گویا عبادت اور دعا لازم و ملزوم ہیں، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح زندگی کیلئے دھڑ اور سرکا ہونا لازمی ہے کیونکہ مغز سر میں ہوتا ہے تو اسی طرح دعا کے بغیر عبادت کا تصور ہی نہیں یعنی عبادت بغیر دعا کے ادھوری اور نامکمل رہے گی۔

ویسے عقلی طور پر بھی اگر غور و فکر کیا جائے تو بندہ کیلئے سوائے دعا کے کوئی چارہ کار نہیں کیونکہ بندہ محتاج اور رب تعالیٰ غنی ہے اور یہ دنیا کا دستور ہے کہ حاجتمند غنی کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے ۔دنیوی غنی تو عموماً ایسے ہوتے ہیں کہ لوگوں کی حاجات پوری کرتے کرتے اکتا جاتے ہیں یا ان کے وسائل ختم ہو جاتے ہیں تو پھر وہ اپنا دروازہ بند کر دیتے ہیں لیکن رب تعالیٰ تو ایسا غنی ہے کہ اس کے دربار میں کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ وہ تو اعلانات فرماتا ہے کہ آؤ مجھ سے مانگو تا کہ میں تمہاری جھولیاں بھر دوں ،ارشاد ربانی ہے:

اُجیب دعوت الداع اذا دعان (البقرہ: ۱۸۶) 

ترجمہ: میں تو دعا کرنے والے کی دعائیں قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا مانگے۔

یعنی رحمن پروردگار کا یہ حکم عام ہے چاہے فرض پڑھنے کے بعد دعا کی جائے یاسنت پڑھنے کے بعد یا نفل پڑھنے کے بعد یا نماز جنازہ پڑھنے کے بعد دعا کی جائے۔ اﷲ تعالیٰ یہ دعائیں قبول فرماتاہے مگر اﷲ تعالیٰ کے اس قدر واضح حکم کے بعد بھی جولوگ دعا کے منکر ہیں اور دوسروں کو بھی دعائیں کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ کس قدر رب تعالیٰ کے نافرمان اور باغی ہیں حالانکہ ان کے پاس قرآن و حدیث سے ایک بھی دلیل ایسی نہیں ہے جس میں اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کیلئے دعا سے منع فرمایا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم دیو بند انڈیا سے جب یہ فتویٰ طلب کیا گیا کہ نمازِ جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا شرعاً درست ہے کہ نہیں تو جواب دیا گیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں (مفتی عزیز الرحمن عثمانی، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند انڈیا جلد ۵، صفحہ ۱۴۳۳)۔ 

در اصل دعا کرنا رب تعالیٰ کے حضور عجز و انکساری کا اظہار ہے جبکہ دعا سے انکار سرکشی اور تکبر کی علامت ہے ۔اﷲ تبارک و تعالیٰ ہمیں سرکشی و نافرمانی سے بچائے اور پیارے محبوب  کے صدقہ میں ہمیں عجز و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

 

اٰمین و بجاہ نبی الرؤف الرحیم علیہ التحیۃ والتسلیم

 

۱۰ رمضان المبارک ۱۴۳۳؁ھ

 سید محمد انور شاہ قادری 

(کفش بردار) مولوی جی  

 

باسمہ تعالیٰ

پیش لفظ

الحمد ﷲ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نومن بہ ونتوکل علیہ و نعوذ باﷲ من شرور انفسنا و من سیٔات اعمالنا من یھدہ اﷲ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ و نشھد ان لا الہ الا اﷲ وحدہ  لا شریک لہ و نشھد ان سیدنا و مولانا محمد عبدہ ورسولہ  -- لا سیما علی غوث افخم سیدنا و مولیٰنا ابو محمد محی الدین شیخ عبد القادر المکین الامین-- اللھم صل علی

سیدنا و مولانا محمد وعلٰی اٰل سیدنا ومولیٰنا محمد و بارک وسلم

اما بعد ! اﷲ تبارک و تعا لیٰ جل جلالہ، عم نوالہ، عزاسمہ و جل مجدہ نے اپنی پاک کلام قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا  وما اتٰکم الرسول فخذوہ وما نھٰکم عنہ فانتھوا (الحشر ۷) 

ترجمہ: اور جو کچھ تمہیں رسول () عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو (کنزالایمان)

گویا حضور نبی کریم رؤف و رحیم  نے ہمیں جو تعلیمات سنت مبارکہ کے طور پر عطا فرمائی ہیں وہ بھی سراسر احکامات ربانی ہیں اور ایک مومن جس طرح قرآن مجید کے احکامات پر ایمان رکھتا ہے اسی طرح رسول کریمکے ارشادات پر بھی ایمان رکھنا لازم و ملزوم ہے۔

رسول اکرمکی حیاتِ طیبہ امت مسلمہ کیلئے ایک نمونہ عمل ہے جس کی قدم قدم پر پیروی کرنے سے ایک مسلمان نجاتِ اخروی کا مستحق قرار پاتا ہے۔پیغمبر اسلامکے وصال مبارک کے بعد آپ کی انہی تعلیمات حقہ اور سنت نبویہکی نشر و اشاعت کیلئے صحابہ کرام، اہل بیت عظام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے اس تحریک کو آگے بڑھایا اور اس کے بعد تابعین تبع تابعین و اولیائے کرام رحمہم اﷲ علیہم اجمعین نے یہ سلسلہ آگے پھیلایا اور یوں چراغ سے چراغ جلتے گئے ،لوگوں کے قلوب و اذہان شمع ایمان سے منور ہوتے چلے گئے اور کفر شرک و معصیت کے اندھیرے چھٹنے لگے اگرچہ اس دوران مردانِ حق کی اس قدوسی جماعت کو اپنے اس مقدس مقصد کی تکمیل کیلئے کئی قربانیاں دینی پڑیں، جابر حکمرانوں کے ظلم و ستم اور زیادتیاں سہیں، پابند سلاسل ہوئے، اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے لیکن دین اسلام کی روح و اساس کی طرف اُٹھنے والی ہر انگلی کاٹ ڈالی، ہر نئے فتنے کا تیزی سے سد باب کیا اور ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کی وجہ سے مخالفین و معاندین نے منہ کی کھائی۔ 

ان سرفروشان اسلام کے اسی جذبہ جہاد ہی کی وجہ سے حجاجی و مامونی استکبار کو خاک میں ملا دیا گیا، باطل عقائد کی تردید کیلئے اولیاء کرام علیہم الرضوان نے ہر گھڑی اور ہر پل جدوجہد کی جس کی بدولت آج ہم الحمد ﷲ سوادِ اعظم اہلسنّت و جماعت سے منسلک ہیں اور اﷲ تبارک و تعالیٰ سے ان تعلیمات پر مکمل عمل کرنے کی توفیق کے خواستگار ہیں جو کہ ہمیں رسول کریم  کی بارگاہِ عالیہ سے بوسیلہ صحابہ کرام و اولیاء عظام رضوان اﷲ علیہم اجمعین عطا ہوئی ہیں۔

دورِ حاضر میں عقائد اسلامی پر بہ یک وقت کئی اطراف سے یلغار ہو رہی ہے۔ قبل ازیں اُمت مسلمہ کو اعمال حسنہ سے دور کرنے کیلئے ایسے وسائل اور طریقے بتدریج استعمال کئے گئے جن کی وجہ سے بالعموم نیک اعمال و افعال کا مشاہدہ بہت کم ہو گیا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اس پر بھی جب مسلمان بیدار نہیں ہوئے تو باطل عقیدوں کی حامل یہود و ہنود و صیہونی اور نصرانی طاقتوں نے عقائد اسلامی پر شورش برپا کر دی جس کی وجہ سے دشمنوں نے دین اسلام کے خلاف دیگر کئی محاذوں کی طرح یہ محاذ بھی کھول دیا۔

’’اصلاح معاشرہ‘‘ اور ’’تبلیغ دین‘‘ کے نام پر یہ لوگ عقائد حقہ اہلسنّت و جماعت کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ سادہ لوح عوام کو اپنی چرب زبانی اور چکنی چپڑی باتوں سے اہلسنّت و جماعت سے متنفر کرتے ہیں۔ عقائد اہلسنّت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر کے عوام کو پراگندہ خاطر کر دیتے ہیں۔ دیگر کئی بیہودہ اعتراضات (جن کے ہر دور میں کافی و شافی جوابات دیئے گئے ہیں) کی طرح یہ لوگ دعا کے بھی منکر ہیں اور نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنے کو بدعت اور بلا جواز قرار دے کر عوام کے دلوں میں شکوک پیدا کرتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف بد عقیدہ ہیں بلکہ سراسر جاہل، احمق اور علم دین سے بھی عاری ہیں۔

دعا کے فضائل کے متعلق قرآن مجید و احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا افضل الصلوٰۃ والسلام میں کئی ارشادات وارد ہیں، اﷲ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

و قال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین 

یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین (المومن:۶)

ترجمہ : اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گابیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے (تکبر کرتے ) ہیں ، عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہو کر (کنز الایمان)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ دعا سے مراد عبادت ہے اور قرآن کریم میں دعا بمعنی عبادت بہت جگہ وارد ہے۔ حدیث شریف میں ہے الدعاء ھو العبادۃ 

(خزائن العرفان، حاشیہ کنز الایمان، صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمتہ اﷲ علیہ)

لہٰذا جو لوگ نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنے سے روکتے ہیں اور خود بھی نہیں کرتے تو ایسوں کا انجام وہی ہے جو کہ اﷲ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا ہے ۔اﷲ کے بندوں کو اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگنے جیسے نیک عمل سے روکنے والے لوگ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔اسی طرح سورۂ بقرہ میں ارشاد فرمایا :

و اذا سالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع 

اذا دعان فالیستجیبوا لی والیومنوا بی لعلھم یرشدون (البقرہ:۱۸۶) 

ترجمہ : اے محبوب ( ) جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں۔ (کنز الایمان) 

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا

فاذا فرغت فانصب (الم نشرح: ۷)

ترجمہ :  تو جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو ۔(کنز الایمان)  

اس کا ثبوت حضرت عبداﷲ ابن عباس صبھی اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں فراہم کر رہے ہیں:

’’حدثنی علی قال حدثنا ابو صالح قال حدثنی معاویۃ عن علی عن ابن عباس فی قولہ فاذا فرغت فانصب یقول فی الدعا‘‘ (تفسیر طبری جلد۱۲، الجزء الثلاثین ۱۵۱، مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان)

ترجمہ :  ابن عباس صسے روایت ہے، فرماتے تھے فاذا فرغت فانصب کہ جب تو فارغ ہو جائے تو کھڑا رہ تو یہ قیام دعا کے واسطہ ہے۔

اصول تفسیر کے مطابق امام المفسرین جناب عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کی بیان کردہ تفسیر کی رو سے ثابت ہوا کہ جب کسی نماز سے تو فارغ ہو جائے چاہے وہ نمازِ جنازہ ہو یا دوسری نمازیں تو نماز کے بعد وہیں ٹھہرے رہنا اور بحکم الٰہی وہیں دعا مانگنا ضروری ہوا۔

نیز دعا کی اہمیت و فضیلت کے متعلق چند احادیث نبویہبھی ملاحظہ فرمائیں:

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الامن ثلثہ الامن صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بہ او ولد صالح یدعو لہ (رواہ مسلم، مشکوۃ ۳۲، اصح المطابع دھلی ۱۹۳۲؁ء)

ترجمہ :ابو ہریرہ صسے روایت ہے کہ رسول اﷲنے ارشاد فرمایا کہ جس وقت آدمی مر جاتا ہے تو اُس کے تمام اعمال کا ثبوت اس سے منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے جو باقی رہتے ہیں: ایک ان میں سے صدقہ جاریہ ہے، دوسرا علم نافع اور تیسرا یہ کہ اس کی صالح اولاد اس کے واسطہ (بخشش و مغفرت کی) دعا کرے۔

ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہوتا ہے ، الدعا مخ العبادۃ (مشکوٰۃ۱۹۴، اصح المطابع دھلی ۱۹۳۲؁ء) یعنی دعا عبادت کا مغز ہے، بالفاظِ دیگرعبادت کا حامل یا خلاصہ ہے۔

وعن ابی ھریرۃ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم لیس  شئی اکرم علی اﷲ من الدعاء (مشکوۃ ۱۹۴، اصح المطابع دھلی ۱۹۳۲؁ء)

ترجمہ :حضرت ابی ہریرہ صسے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲنے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے افضل کوئی چیز نہیں۔

پس جس طرح ایک شخص اپنی زندگی میں اﷲ تبارک و تعالیٰ کے فضل کا محتاج ہے بالکل اسی طرح بعد از موت بھی اس کی مغفرت اور بخشش کا حاجتمند ہے اور اس کیلئے مغفرت اور بخشش دعا ہی کے ذریعہ طلب کی جا سکتی ہے۔

ایک دوسری جگہ ارشاد نبویہے :

 عن ابی امامۃ قال قبل یا رسول اﷲ ای الدُعا اسمع قال جوف اللیل الآخر و دبر الصلٰوۃ المکتوبات (مشکوٰۃ، باب الذکر بعد الصلٰوۃ صفحہ ۸۹، اصح المطابع دھلی ۱۹۳۲؁ء)

ترجمہ :ابی امامہ صسے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ  سے عرض کی گئی کہ یا رسول اﷲ ! کون سی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ آخر رات کے درمیانی حصہ میں اور فرض نمازوں کے پیچھے ۔ اب نمازِ جنازہ بھی نماز ہے لہٰذا نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنا تو عین حدیث ہے تو یہ کیونکر ناجائز ہو سکتی ہے؟

مندرجہ بالا آیات قرآنی و حوالہ جات سے احادیث نبویسے دعا کی اہمیت و فضیلت اُجاگر ہوتی ہے۔ 

استاذی و مرشدی حضرت علامہ سید محمد امیر شاہ قادری گیلانی مدظلہ العالی نے آئندہ صفحات میں جس تحقیقی و علمی انداز میں نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنے کے اثبات میں دلائل و براہین پیش کئے ہیں یقینا آنجناب ہی کا خاصہ ہے۔ آپ نے احادیث شریف، صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اﷲ علیہم اجمعین اور اکابر ین علماء احناف رحمہم اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ارشادات و اقوال نقل فرما کر منکرین دعا بعد از نمازِ جنازہ کے اعتراضات کا مسکت جواب عنایت فرمایا ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ جل جلالہ موصوف کو صحت کاملہ کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائے اور ہمیں موصوف کے فیوضات سے کما حقہ بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

احقر کو امید ہے کہ میرے صحیح العقیدہ بھائی اس تحقیقی مقالہ کو پڑھ کر حضور پاک صاحب لولاک ، شفیع المذنبین ، عالم علوم اولین و آخرین، جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیکے نقش قدم پر چل کر سعادت دارین حاصل کریں گے۔

 

 

الراجی الیٰ فضل الباری

سید یاسر بخاری

۲۵اگست ۲۰۰۱؁ء 

 

مشکوٰۃ المصابیح

(باب المشیٰ بالجنازہ، فصل ثانی، اصح المطابع، دہلی ۱۹۳۲؁ء ، صفحہ ۱۴۶)

’’ و عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و اٰلہ وسلم

اذا صلیتم علی المیت فاخلصوا لہ الدعاء‘‘

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ صسے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲنے ارشاد فرمایا کہ جب تم میت پر نماز پڑھ چکو تو اس کیلئے خالص دعا مانگو۔

مفسر قرآن، شارحِ حدیث حضرت علامہ مفتی احمد یار خان صاحب نعیمیاپنی تصنیف ’’جاء الحق‘‘ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور جلد۱، صفحہ ۲۸۱ پر تحریر فرماتے ہیں:

’’(فاخلصوا کی)  فسے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے فوراً بعد دعا کی جائے بلا تاخیر جو لوگ اس کے معنی کرتے ہیں کہ نماز میں اس کیلئے دعا مانگو وہ فکے معنی سے غفلت کرتے ہیں، صلیتم شرط ہے اور فاخلصوا اس کی جزاء ، شرط اور جزاء میں تغایر ہونا چاہئے نہ یہ کہ اس میں داخل ہو پھر صلیتم ماضی اور فاخلصوا امر ہے جس سے معلوم ہوا کہ دعا کا حکم نماز پڑھ چکنے کے بعد ہے جیسے  فاذا طعمتم فانتشروا میں کھا کر جانے کا حکم ہے نہ کہ کھانے کے درمیان اوراذا اقمتم الی الصلٰوۃ فاغسلوا وجوھکم میں نماز کیلئے اُٹھنا مراد ہے نہ کہ نماز کا قیام جیسا کہ الٰی سے معلوم ہوا لہٰذا یہاں بھی وضو ارادۂ نماز کے بعد ہی ہوا اور فسے تاخیر معلوم ہوئی حقیقی معنی کو چھوڑ کر بلا قرینہ مجازی معنی مراد لینا جائز نہیں--- الخ‘‘

نیز حضرت علامہ مولانا عبدالعزیز صاحب چمکنیفاضل دارالعلوم دیو بند اپنی کتاب ’’ازھار الحق ‘‘ میں صفحہ ۳۴ پر لکھتے ہیں :

’’ اذا اور فا شرط و جزاء ہیں اور قاعدہ ہے کہ شرط جزاء پر مقدم ہوتا ہے تو صلوٰۃ علی ا  لمیت مقدم ہے خلوص دعا للمیت پر جیسے اذا جآئک زید فاکرمہ جب تمہارے پاس زید آئے تو اس کی عزت کرو مجیۃ زید اکرام زید پر مقدم ہے جب زید آجائے تو تب اس کی عزت کی جائے گی ۔نیز فاکے معنی پس اور پھر کے ہیں اور ایسے ہی ثم کے معنی بھی ہیں مگر فرق صرف اتنا ہے کہ فاتعقیب مع الوصل اور ثم، تعقیب مع التراخی کیلئے استعمال ہوتا ہے جس کا معنی اصول طور پر یہ ہوگا کہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد میت کیلئے خاص دعا مانگو اگرچہ نمازِ جنازہ میں بھی دعا پڑھی جاتی ہے مگر اس کے بعد والی دعا میں صرف اس میت کیلئے خصوصی دعا مانگی جاتی ہے‘‘۔

ان جید ترین علماء کرام کی تشریحات سے واضح ہو گیا ہے کہ اس حدیث مبارک میں شفیع المذنبین ، رحمت للعالمیننے امت محمدیہ کو یہ حکم فرمایا ہے کہ وہ نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد اپنے اس مسلمان مردہ بھائی یا بہن کیلئے دعا کریں جس کی انہوں نے نمازِ جنازہ پڑھی بلکہ خاص طور پر مردے کا نام لے کر اس کیلئے دعائے مغفرت کرنی چاہئے کیونکہ حضورکی سنت مبارکہ سے نام لے کر دعا کرنا بھی ثابت ہے جیسا کہ حضرت واثلہ بن اسقع صکی روایت میں آیا ہے:

انہ سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم یقول اللھم فلان ابن فلان فی ذمتک و جعل جوارک فقہ فتنۃ القبر و عذاب النار انت اھل الوفاء و الحق اللھم فا غفرلہ و ارحمہ فانک انت الغفور الرحیم (الفتح الربانی لترتیب مسند امام احمد بن حنبل مع شرح بلوغ الامالی من اسرار الفتح الربانی، دار احیاء تراث بیروت جلد ۷ صفحہ ۲۳۶-۳۷)

ترجمہ : یہ کہ انہوں نے رسول اﷲسے سنا کہ آپنے فرمایا اے اﷲ فلاں بن فلاں تیرے سپرد ہے اور تیرے جوارِ رحمت میں ہے، پس تو اسے قبر اور آگ کے عذاب سے بچا ،تو وعدہ ایفا کرنے والا ہے اور سچا ہے ،اے اﷲ پس اس کی مغفرت فرما اور اس پر رحم فرما تو بہت زیادہ بخشنے والا مہربان ہے۔

چونکہ اس حدیث میں مردے کا نام لے کر دعا کی گئی جبکہ نمازِ جنازہ کے اندر والی دعا میں مردہ کا نام نہیں لیا جاتا لہٰذا حضور اکرم  سے جنازہ کے بعد نام لے کر دعا کرنا ثابت ہو گیا، اس طرح جنازہ کے بعد دعا کا انکار حدیث نبوی  کا انکار ہے۔

السیرۃ النبویۃ لا بن ہشام

(مکتبۃ الکلیات الازہریہ القاہرہ طبعہ الثالثہ ۱۹۷۸؁ء الجزء الاول صفحہ۲۹۴)

 ’’لما مات النجاشی صلی علیہ و استغفر لہ‘‘

ترجمہ : جب نجاشی (شاہِ حبشہ) نے وفات پائی تو آپ  نے اس کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی اور اس کیلئے دعائے مغفرت فرمائی اور یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فعلی حدیث ہے یعنی حضورں نے خود بھی نمازِ جنازہ کے بعد دعا فرمائی اور گزشتہ حدیث جو قولی حدیث کے زمرہ میں آتی ہے اس میں نماز جنازہ کے بعد دوسروں کو میت کے حق میں دعا کی تلقین کی گئی ہے۔ نیز ایک دوسری فعلی حدیث نبویہملاحظہ فرمائیں جس میں دو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد آپنے ان کیلئے دعائے مغفرت فرمائی۔

شرح فتح القدیر للعاجز الفقیر محمد بن عبدالواحد

(جلد نمبر۲، صفحہ ۸۱، مطبوعہ داراحیاء التراث بیروت لبنان )اور 

شرح وقایہ (اردو)

(جلد نمبر ۱ ، صفحہ ۱۵۸، مطبوعہ مطبع احمدی کانپور  ۱۳۱۱؁ھ)

’’حدثنی محمد بن صالح عن عاصم بن عمرو بن قتادہ و حدثنی عبدالجبار بن عمارہ بن عبداﷲ بن ابی بکر قال لما التقی الناس بموتۃ جلس رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و اٰلہ وسلم علی المنبر و کشف لہ ما بینہ و بین الشام فھو ینظر الی معرکھم فقال علیہ السلام اخذآ الرایۃ زید بن حارثۃ فمضٰی حتی استشھد و صلی علیہ و دعا لہ و قال استغفروا لہ دخل الجنۃ و ھو یسعی ثم اخذ الرایۃ جعفر بن ابی طالب  فمضٰی حتٰی استشھد فصلّٰی علیہ و دعا لہ و قال استغفروا لہ دخل الجنۃ و ھو یطیر فیھا بجناحین حیث شاء‘‘

ترجمہ :  مجھے حدیث بیان کی محمد بن صالح نے وہ عاصم بن عمرو بن قتادہ سے روایت کرتے ہیں اور حدیث بیان کی مجھے عبدالجبار بن عمارہ نے وہ عبداﷲ بن ابی بکر سے روایت کرتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم جنگ موتہ میں مصروف تھے تو رسول اﷲ(مدینہ منورہ میں) منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ظاہر ہوا آپکے سامنے ملک شام ( یعنی مدینہ منور ہ اور ملک شام تک کے فاصلے آپکیلئے سمیٹ دیئے گئے) اور آپ  ان کی لڑائی کو ملاحظہ فرما رہے تھے۔ پھر آپنے فرمایا کہ نشان (علم جہاد) زید بن حارثہ صنے لیا، وہ آگے بڑھے اور شہید ہوگئے، اور حضورنے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور اُن کے واسطہ دعا کی اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین سے فرمایا کہ بخشش مانگو اﷲ تبارک و تعالیٰ سے اس کے واسطہ وہ جنت میں داخل ہوا اور وہ جنت میں گھوم رہا ہے پھر جعفر بن ابی طالب صنے نشان (علم جہاد) لیا اور آگے بڑھے اور پھر شہید ہوگئے، پھر آپ  نے ان پر (نماز جنازہ) پڑھی اور دعا کی ان کے واسطہ اور (صحابہ کرام) سے فرمایا کہ بخشش مانگو اﷲ سے ان کیلئے اور وہ جنت میں داخل ہوئے اور وہ جنت میں اپنے دونوں بازوؤں کے ساتھ جہاں چاہیں اڑتے پھرتے ہیں۔

اس حدیث مبارکہ میں دو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما کی نماز جنازہ آپنے پڑھائی، اس کے بعد خود بھی دعا فرمائی اور دیگر صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کو بھی تلقین فرمائی کہ وہ بھی اپنے شہید بھائیوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں حالانکہ رسول اکرمنے دونوں صحابہ کے جنت میں داخل ہونے کی بھی خبر حق دی لیکن دعا کرنے اور کروانے کا مقصد صرف تعلیم امت تھا کہ اگر تم میں سے کوئی مر جائے تو اُس کیلئے نماز جنازہ پڑھ چکنے کے بعد اﷲ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کی دعا ضرور طلب کرو۔

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع

(علامہ علاؤ الدین الکاسانی  جلد۱، صفحہ۳۱۱، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ۱۹۸۶؁ء)

’’روی ان النبی صلی اﷲ علیہ و اٰلہ وسلم صلّٰی علی جنازۃ فلما فرغ جاء عمرو معہ قوم فاراد ان یصلی ثانیا فقال لہ النبی صلی اﷲ علیہ و اٰلہ وسلم الصلٰوۃ علی الجنازۃ لا تعاد ولٰکن ادع

للمیت و استغفر لہ و ھذا نص فی الباب‘‘

 ترجمہ : نبی اکرمنے ایک شخص کی نمازِ جنازہ پڑھائی پھر جب آپنماز سے فارغ ہو گئے تو حضرت عمر صآگئے، ان کے ساتھ اور لوگ بھی تھے تو انہوں نے چاہا کہ وہ بھی اس میت پر دوبارہ نماز پڑھ لیں مگر نبی اکرمنے فرمایا کہ نمازِ جنازہ کا اعادہ نہیں کیا جاتا لیکن (اب) تم میت کیلئے بخشش کی دعا اور استغفار ضرور کرو --- و ھٰذا نص فی الباب

مسند علی بن ابی طالب ص 

(تالیف یوسف اوزبک ، دارالمامون للتراث بیروت جلد ۷، صفحہ ۲۷۰۳)

’’اخبرنا ابو نصر بن قتادۃ انباء ابو عمرو بن نجید انباء ابو مسلم حدثنا ابو عاصم عن سفیان عن شبیب بن غرقدۃ عن المستظل

ان علیا رضی اﷲ عنہ صلّٰی علی جنازۃ بعد ما صلی علیھا‘‘

ترجمہ :  خبر دی ہمیں ابو نصر بن قتادہ نے ،انہیں ابو عمرو بن نجید نے اور انہیں ابو مسلم نے خبر دی اسے ابو عاصم نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں، وہ شبیب بن غرقدہ سے اور وہ مستظل سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ صنے ایک جنازہ پڑھایا اور نمازِ جنازہ کے بعد اس میت کیلئے دعا فرمائی۔ یہ روایت حدیث کی مشہور و معروف کتاب البیہقی کی سنن الکبریٰ میں موجود ہے ۔نیز اسے تمہید ابن عبدالبر میں حضرت امام احمد بن حنبل  کی روایت سے بھی بیان کیا گیا ہے اور اس میں خلیفہ راشد، امیر المومنین، امام الاولیاء سیدنا علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہہ الکریم کے فعل مبارک سے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کا ثبوت موجود ہے۔ اب امام الاولیاء سیدنا علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہ الکریم کی ایک دوسری روایت ملاحظہ فرمائیں جس میں جنازہ کے بعد کی جانے والی دعا کے الفاظ بھی موجود ہیں۔

مصنف ابن ابی شیبہ فی الاحادیث

والآثار للحافظ عبداﷲ بن محمد بن ابی شیبہ

(الجزء الثالث صفحہ۲۱۲، کتاب الجنائز باب فی الدعاء للمیت، 

مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۱۴۲۰؁ھ ؍  ۲۰۰۰؁ء )

’’حدثنا علی بن مسھر عن الشیبانی عن عمیر بن سعید قال صلیت مع علی علٰی یزید بن المکفف فکبر علیہ اربعًا ثم مشٰی حتی اتاہ فقال اللھم عبدک و ابن عبدک نزل بک الیوم فا غفرلہ ذنبہ و وسع علیہ مدخلہ فانا لا نعلم منہ الا خیرًا و انت اعلم بہ‘‘

ترجمہ:  ہمیں حدیث بیان کی علی بن مسہر نے وہ روایت کرتے ہیں شیبانی سے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی اقتداء میں یزید بن المکفف کی نماز جنازہ پڑھی ، پس آپ کرم اﷲ وجہہ نے اُن پر چار تکبیریں کہیں، پھر (نماز کے بعد) میت کے قریب تشریف لے گئے اور یہ دعا فرمائی:اللھم عبدک و ابن عبدک نزل بک الیوم فاغفرلہ ذنبہ ووسع علیہ مدخلہ فانا لا نعلم منہ الا خیراً و انت اعلم بہ۔

المبسوط

(شمس الائمہ شمس الدین السر خسی  

جلد نمبر ۲، صفحہ۶۷ ، دارالمعرفۃ بیروت لبنان)

’’روی عن ابن عباس رضی اﷲ عنھما و ابن عمر رضی اﷲ عنھما انھما فانتھما الصلٰوۃ علی جنازۃ فلما حضرا ما زادا علی الا استغفار لہ و عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ فاتتہ الصلٰوۃ علٰی جنازہ عمر فلما حضر قال ان سبقتمونی بالصلٰوۃ علیہ فلا

تسبقونی بالدعاء لہ

ترجمہ:  حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی اﷲ عنہما ایک جنازہ میں نماز پڑھنے سے رہ گئے تو اسی جنازہ پر حاضر ہوکر اس کی بخشش کی دعا مانگی نیز حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہما حضرت عمرصکی نماز جنازہ پڑھنے سے رہ گئے تو جب جنازہ پر پہنچے تو (آپ نے بلند آواز سے) فرمایا کہ آپ لوگوں نے اگر حضرت عمر صپر نماز میں مجھ سے پہل کر لی ہے تو ان کیلئے دعا کرنے میں تم مجھ سے پہل نہ کرو (میرا انتظار کرو) ۔

 

 

اس سے واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے کہ حضرات صحابہ رضی اﷲ عنہم اجمعین بعد نمازِ جنازہ دعا کیا کرتے تھے۔ نیز ان ہر دو روایات کو علامہ علاؤ الدین الکاسانینے اپنی تصنیف بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع کی جلد نمبر ا ، صفحہ ۳۱۱ ،مطبوعہ دارالکتب العلمی بیروت لبنان، میں بھی نقل فرمایا ہے۔

مسند الامام احمد بن حنبل دار صادر بیروت

جلد۴، صفحہ ۳۵۶، الفتح الربانی لترتیب مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی مع شرح بلوغ الامالی من اسرار الفتح الربانی تالیف احمد بن عبدالرحمن بن محمد البنا الشہیر باالساعاتی دارِ احیاء تراث بیروت جلد۷، صفحہ ۱۳۶ ،دعا بعد نماز جنازہ ۔مولف مفتی خلیل الرحمن صفحہ ۲۷-۲۸ یہاں پر مفتی صاحب کے حوالہ سے حدیث نقل کی جاتی ہے:

’’ عن عبد اﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ عنہ وکان من اصحاب الشجرۃ فما تت ابنۃ لہ وکان یتبع جنازتھا علی بغلۃ خلفھا فجعل النساء یبکین فقال لا ترثین فان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وعلی واٰلہ و صحبہ وسلم نھٰی عن المراثی فتفیض احداکن من عبرتھا ماشائت ثم کبر علیھا اربعا، ثم قام بعد الرابعۃ قدر ما بین التکبیر تین یدعوا ثم قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم یصنع

فی الجنازۃ ھٰکذا

ترجمہ : عبداﷲ بن ابی اوفی سے مروی ہے اور وہ ان حضرات میں سے تھے جو شجرۃ الرضوان کے تحت بیعت میں موجود تھے سو اُن کی لڑکی فوت ہوگئی اور وہ اپنی خچر پر سوار جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے کہ عورتوں نے رونا (پیٹنا ) شروع کر دیا تو انہوں نے فرمایا کہ مرثیہ نہ کرو اسلئے کہ رسول اﷲنے مرثیوں سے منع فرمایا ہے سو تم میں سے جو چاہے روئے اور اپنی آنکھوں سے پانی (آنسو) بہائے پھر اس پر چار تکبیریں کہیں اور نماز جنازہ پڑھ لینے کے بعد دو تکبیروں کے برابر دعا کرتے رہے پھر فرمایا کہ رسول اﷲ  بھی جنازہ میں اسی طرح کیا کرتے تھے۔ ( بیہقی و فتح الربانی) پس معلوم ہوا کہ جنازہ کے بعد دعا میت کیلئے سنت ہے اور حضور نبی کریمنے اس پر مواظبت کی ہے اسلئے کہ لفظ یصنع مضارع ہے اور مضارع برائے استمرار ہے کذافی فتح القدیر و کبیری و شامی۔

یاد رہے کہ حضرت عبداﷲ بن ابی اوفی صایک جلیل القدر صحابی ہیں جو ۶ ہجری میں حضور نبی کریمکے ہمراہ حدیبیہ کے مقام پر جہاد کی بیعت کرنے والوں میں شامل تھے چونکہ یہ بیعت ایک درخت کے نیچے کی گئی تھی ۔لہٰذا یہ بیعت شجرہ کے نام سے مشہور ہے اور اسے بیعت رضوان بھی کہا جاتا ہے اور اس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے تو ایسے کبیر صحابی کے عمل سے بھی جنازہ کے بعد دعا کرنا ثابت ہوا کیونکہ چوتھی تکبیر کے بعد تو سلام پھیرا جاتا ہے اور پھر دو تکبیروں کے برابر آپ نے کھڑے ہو کر دعا فرمائی اور مزید یہ وضاحت بھی فرمائی کہ پیارے محبوببھی نماز جنازہ کے بعد اسی طرح دعا فرمایا کرتے تھے۔

شرحِ وقایہ

(مطبوعہ ہندو پریس دہلی ۱۲۹۹؁ھ، صفحہ ۲۲۴

اس کے حاشیہ پر کافی کے حوالے سے لکھا ہے)

’’ومن صلّٰی صلاۃ الجنازۃ و لم یقرء الدعاء لا یجوز جنازۃ لان الدعاء شرط بعد الصلٰوۃ وقال المعتزلہ لا یفید الدعاء بعد صلٰوۃ الجنازۃ لان الصلٰوۃ دعاء من وجہ قلت امر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و اٰلہ وسلم بد عاء بمکۃ حین سئل عمر رضی اﷲ عنہ عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و اٰلہ وسلم ای فائد ۃ  بدعاء بعد صلٰوۃ الجنازۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و اٰلہ وسلم ہذا امر منھی

فی حق الکافرین نقل درر

ترجمہ : جس نے نماز جنازہ پڑھی اور دعا نہ کی تو اس کی (یہ نماز) جنازہ جائز نہ ہوئی اسلئے کہ نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد دعا شرط ہے اور معتزلہ نے کہا ہے کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا کا کوئی فائدہ نہیں اسلئے کہ نمازِ جنازہ بذاتِ خود دعا ہے ۔میں کہتا ہوں کہ رسول اﷲنے مکہ مکرمہ میں دعا کرنے کا حکم فرمایا جبکہ حضرت عمر فاروق صنے رسول اکرمسے دریافت فرمایا کہ نمازِ جنازہ کے پڑھنے کے بعد دعا کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ پس حضور نے ارشاد فرمایا کہ کافروں کے حق میں دعا کرنا منع کیا گیا ہے (لہٰذا تم دعا کرو) نقل کیا گیا ہے دُرر سے۔

نماز کے مفصل احکام و مسائل

علامہ سید محمد خلیل احمد قادری اشرفی مرحوم بن حضرت علامہ ابو الحسنات،خطیب جامع مسجد وزیر خان لاہور ، صفحہ ۳۳ (نماز جنازہ) ،مطبوعہ جامعہ حسنات العلوم نزد مسجد وزیر خان لاہور۔

’’دعا کے بعد چوتھی تکبیر کہہ کر دونوں طرف سلام پھیر دیں اور صفیں توڑ کر دعا مانگیں‘‘

تنویر الایمان

از علامہ سید احمد شاہ سوات، صفحہ ۷۴۴

’’فیکون الدعا بعد صلٰوۃ الجنازۃ امر مستحسن کما فی الدرر‘‘

ترجمہ : نمازِ جنازہ کے بعد دعا مانگنا ایک مستحسن امر ہے جیسا کہ دُرر میں آیا ہے۔ 

یہی صاحب ِتنویر الایمان صفحہ۷۴۱ پر لکھتے ہیں:

’’و یثبت الدعا بقول الفقھاء الکرام بعد صلٰوۃ الجنازۃ کما قالوا و لا یدعوا بعدہ (ای تکبیر الرابع قبل السلام)  وکذٰلک قالوا و لا یقوم بالدعا بعد صلٰوۃ الجنازۃ (ای بل یدعون وھم جلوس او یخلطون الصفوف) لئلا یشبھہ المزید فی صلٰوۃ الجنازۃ فی حال

تسویۃ الصفوف و اذا جلسوا فلا باس بہ‘‘

ترجمہ :  اور دُعا بعد از نمازِ جنازہ فقہائے کرام کے اقوال سے ثابت ہے اور جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ اس کے بعد دعا نہ مانگی جائے تو اس کا تعلق نمازِ جنازہ کی چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے والی حالت سے ہے اور جہاں تک یہ قول ہے کہ نماز جنازہ کے بعد دعا نہ کی جائے تو اس سے مراد سلام پھیرنے کے بعد صفوں میں ہی کھڑے کھڑے دعا ہے کہ اس سے نمازِ جنازہ کی مشابہت مزید ثابت ہوتی ہے لیکن اگر صفیں توڑ کر یا بیٹھ کر دعا کی جائے تو اس کی ممانعت نہیں ہے۔

دعا بعد نماز جنازہ

مولف حضرت علامہ مولانا مفتی خلیل الرحمن صاحب ،

دارالمبلغین شرقپور شریف شیخو پورہ صفحہ ۲۰

’’و نزد حنفیہ دعا بعد صلٰوۃ الجنازۃ طریقہ مسنونہ است منقولہ از سلف صالحین است چرا کہ صلٰوۃ الجنازہ مامور بہ است و بعد از فراغ از ما مور بہ دعا کردن مستحسن بلکہ واجب است

کما فی حاشیہ شیخ زادہ علی البیضاوی‘‘

ترجمہ : اور حنفیہ کے نزدیک دعا بعد نمازِ جنازہ طریقہ مسنون ہے اور سلف صالحین سے منقول ہے اسلئے کہ نمازِ جنازہ مامور بہ ہے اور مامور بہ سے فارغ ہونے کے بعد دعا کرنا مستحسن بلکہ واجب ہے جیسا کہ حاشیہ شیخ زادہ علی البیضاوی میں تصریح ہے۔

یہی مفتی سرحد حضرت علامہ خلیل الرحمن صاحب مدظلہ العالی فقہاء کرام کی عبارات پر روشنی ڈالتے ہوئے صفحہ ۳۵-۳۶ پر لکھتے ہیں جس کا ذکر مفتی سوات سید احمد شاہ صاحب نے بھی کیا ہے:

’’ جس عبارتِ فقہ کو فقہاء کرام نے وضع کیا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے معنی و مطالب پر وہی لوگ واقف ہیں اور فقہاء عباراتِ فقہ کی جو وضاحت کریں گے وہی صحیح ہوگی نہ کہ دوسرے لوگوں کی ۔فقہاء کرام نے عبارتِ مذکورہ کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ نمازِ جنازہ میں تکبیر چہارم کے بعد کھڑے کھڑے سلام سے قبل دعا نہ کی جائے اور سلام کے بعد بھی جب صفوف اپنی اصلی حالت میں ہوں دعا نہ کی جائے کیونکہ اس میں مشابہت پائی جاتی ہے زیادتی کی نماز جنازہ پر ،اب اگر سلام پھیر کر حالت جلوس میں یعنی بیٹھ کر دعا کی جائے یا پھر صفوف توڑ کر اگر کھڑے کھڑے بھی کی جائے تو یہ بالکل جائز ہے‘‘۔

گزشتہ صفحات میں قرآن و حدیث کی روشنی میں دعا کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی خصوصاً نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے سلسلہ میں حضور نبی کریمکے فرمودات و معمولات، حضرات خلفاء راشدین اور اکابر صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کے افعال مبارکہ پیش کئے گئے، نیز اس سلسلہ میں آپ نے حضرات علماء کرام خصوصاً فقہاء کرام کے اقوال اور ان کی وضاحت بھی ملاحظہ فرمائی جس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوگئی کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنا سنت رسول اﷲہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیوں سے ہمارے علماء و مشائخ اہلسنّت اس پر پوری طرح عمل پیرا ہیں ۔

البتہ ایک فرقہ اس کا منکر تھا جس کا نام معتزلہ تھا یہ لوگ ایصالِ ثواب اور دعا کے منکر تھے چنانچہ اُن کے ہم نوا آج بھی دعا بعد از نمازِ جنازہ اور سوادِ اعظم اہلسنّت کے دیگر امور مستحسنہ کا انکار کرتے ہیں، ان لوگوں کا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا ملت اسلامیہ محمدیہکو اپنے اکابرین اہلسنّت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دعا بعد از نمازِ جنازہ کو اپنا معمول بنانا چاہئے اور مخالفین کے گمراہ کن پروپیگنڈے پر توجہ نہیں دینی چاہئے۔

ہمارے علماء و مشائخ اہلسنّت نے اپنی تحریروں میں قرآن و حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے دعا بعد نمازِ جنازہ کی بھر پور وضاحت فرمائی ہے ۔اس ضمن میں مزید تفصیل کیلئے اعلیٰ حضرت امام اہل سنت احمد رِضا خان صاحب بریلویکی ’’بذل الجوائز‘‘، پیر طریقت حضرت علامہ پیر سید محمود شاہ صاحب محدث ہزاروی کی ’’الاجازہ لذکر و الدعاء‘‘ ، مفسر قرآن، شارح حدیث، مفتی اہلسنّت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان صاحب نعیمی (گجرات) کی ’’جاء الحق‘‘، استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا شائستہ گل صاحب المعروف متہ مولاناصاحب(مردان) کی ’’اثبات الاغراض‘‘ ،مفتی سوات علامہ اجل فقیہ بے بدل حضرت علامہ سید احمدشاہ صاحب(سوات) کی ’’تنویر الایمان‘‘ ،فاضل دیوبند حضرت علامہ مولانا عبدالعزیز(چمکنی پشاور) کی ’’از ھار الحق ‘‘ ،خطیب جامع مسجد وزیر خان لاہور حضرت علامہ سید خلیل احمد قادری  کی کتاب ’’نماز کے مفصل احکام و مسائل‘‘، مفتی سرحد حضرت علامہ مولانا خلیل الرحمان (گلوزئی پشاور) کی ’’دعا بعدنمازِ جنازہ‘‘ ،مفسر قرآن فاضل جلیل حضرت علامہ مولانافیض محمد اویسی کی ’’دعا بعد نمازِ جنازہ‘‘ ،حضرت علامہ مولانا ظاہر شاہ میاں صاحب (مدین سوات) کی ’’اظہار حق‘‘ ، ڈاکٹر مطہر شاہ صاحب (صوابی) کی ’’نداء الحق‘‘ اور پروفیسر محمد انور بابر چشتی ( لکی مروت) کی ’’سبیل نجات‘‘ کا مطالعہ مفید اور کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ فقیر عزیزم سید محمد انور شاہ قادری (ایم اے) اور سید یاسر بخاری (متعلم ایل ایل بی) کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اس رسالہ کی تیاری میں قلمی معاونت کی اﷲ تعالیٰ ان کی یہ مساعی جمیلہ اپنی بارگاہِ عالیہ میں قبول فرمائے اور انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔

اٰمین ثم اٰمین و بجاہ نبی الرؤف الرحیم علیہ التحیۃ والتسلیم

 

(فقیر) محمد امیر شاہ قادری گیلانی

یکہ توت پشاور شہر

 

 

 

 

Anwaar e Ali incomplete

 

 


بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر منزلۃ علی ص من النبی
صلی اﷲ علیہ والہ وسلم 
’’ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور پاک3کے
نزدیک امیر المومنین علی المرتضیٰص کا مرتبہ اور مقام بہت بلند ہے‘‘
(اس باب میں انیس (
۱۹) احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۴۵؍۱ انبأنا بشر۱؂ بن ھلال البصری قال حدثنا جعفر۲؂ و ھو ابن سلیمان قال حدثنا حرب۳؂ بن شداد عن قتادۃ۴؂ عن سعید۵؂ ابن المسیب عن سعد۶؂ بن ابی وقاص قال لما غزی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم غزوۃ تبوک خلف علیا بالمدینۃ فقالوا فیہ ملہ وکرہ صحبۃ ، فتبع علی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم حتی لحقہ فی الطریق وقال یا رسول اﷲ خلفتنی بالمدینۃ مع الذراری و النسآء حتی قالوا فیہ ملہ وکرہ صحبتہ فقال لہ النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یاعلی انما خلفتک
علی اھلی اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیرانہ لا نبی بعدی

اسماء الرجال حدیث نمبر
۴۵
۱؂: بشر بن ہلال: بشر بن ہلا ل الصواف کی کنیت ابو محمدہے۔ ثقہ ہے طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تقریب،صفحہ ۴۵)
۲؂: جعفر بن سلیمان :جعفر بن سلیمان الضبعی ہے ابو سلیمان کنیت ہے، بصری ہے ،صدوق ہے، زاہد ہے، لیکن اہل تشیع سے ہے۔ من الثامتۃ ۱۷۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(تقریب،صفحہ ۵۶)
۳؂: حرب بن شداد:حرب بن شداد ایشکری کی کنیت ابو خطاب البصری ہے، ثقہ ہے، طبقہ السابعۃ سے ہے۔ ۱۶۱ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (تقریب،صفحہ ۶۶)
۴؂: قتادہ: قتادہ بن د عامۃ بن قتادہ السدوسی کی کنیت ابو الخطاب البصری ہے۔ ثقہ اور ثبت ہے وھور اس الطبقۃ الرابعۃ ۱۱۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تقریب،صفحہ ۲۸۱) (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے )


ترجمہ سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ3غزوۂ تبوک میں جہاد کیلئے نکلے تو (حضرت) علی3 کو مدینہ مبارکہ میں اپنا نائب بنایا تو لوگوں نے کہا کہ حضور3اس سے خفا ہیں اور اس کی صحبت کو پسند نہیں فرمایا۔ پس (حضرت) علی نبی کریم3کے پیچھے نکلے یہاں تک کہ ان سے راستہ میں جا ملے اور عرض کیا یارسول اﷲ3! آپ نے مجھے مدینہ منورہ میں بے کار بچوں اور عورتوں پر نائب مقرر کیا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے کہا کہ حضور 3اس سے خفا ہیں اور اس کی صحبت کو پسند نہیں فرماتے۔ تو نبی کریم3نے انہیں فرمایا اے علی! سوائے اس کے نہیں کہ میں نے تجھے اپنی اہل کیلئے نائب بنایا تھا۔ کیا تو اس بات پر خوش نہیں ہے کہ تیرا رتبہ میرے پاس ایسا ہو جیسا کہ ہارون کا رتبہ موسیٰ کے پاس تھا ، ہاں صرف اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔

حل لغت غزی: غزوسے ہے جس کے معنی ہیں لڑائی کیلئے جانا ، قصد کرنا ، طلب کرنا، ارادہ کرنا۔خلف : نائب بنایا ، خلیفہ بنایا۔ مل: ملول ہوئے، خفاہوئے۔ کرہ : پسند نہیں کیا۔ ذراری : کم سن ، بچے ، لڑکے۔ذری : ناکار ، بے کار۔

تشریح ارشاد ہے’’جب رسول اﷲ3غزوۂ تبوک میں جہاد کیلئے نکلے‘‘ یعنی حضور انور سید دوعالم3نے انیس (
۱۹) جہاد فرمائے۔ وہ غزوات جن میں بذاتِ خود، بنفس نفیس تشریف فرما ہوئے ان میں نو (۹) غزوات میں جنگ کی اور باقی بغیر جنگ کے فتح ہوئے اور سرایا یعنی لشکر کی ٹکڑیاں جو آنحضور3نے روانہ فرمائیں اور خود ان کے ساتھ تشریف نہیں لے گئے چھپن (۵۶) ہیں۔ ارشاد ہے’’ لوگوں نے کہا کہ حضور3اس سے خفا ہیں اور اس کی صحبت کو پسند نہیں فرمایا‘‘ یعنی منافقوں نے یا ان لوگوں نے جو جناب علی المرتضیٰ ص کے ساتھ پیغمبر اسلام3کی انتہائی محبت و شفقت کو پسند نہیں کرتے تھے یہ کہنا شروع کر دیاکہ چونکہ حضور3ان سے ناراض ہیں اور ان کو اپنے ساتھ لے جانا پسند نہیں کرتے تھے اس لئے حضرت علی3 کو غزوۂ تبوک میں ساتھ نہیں لے گئے اور مدینہ

بقیہ حاشیہ:
۵؂: سعید ابن المسیب : سعید بن المسیب بن حزن ابن ابی وھب بن عمرو بن عائذ ابن عمران بن مخزوم القرشی المخزومی احد العلماء الاثبات الفقہاء الکبار من کبار الثانےۃ اتفقوا علی ان مرسلا اصح المراسیل وقال ابن المدینی لااعلم فی التابعین اوسع علما منہ مات بعد التسعین و قد ناھز الثمانین۔(تہذیب التہذیب ، ج ۴صفحہ ۸۴تا۸۸)
۶؂: سعد بن ابی وقاص: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
منورہ میں چھوڑ گئے اور اس بات کی خو ب تشہیر کی۔ جناب علی المرتضیٰ3 کو یہ بات بڑی ناگوار گزری اور ہتھیار وغیرہ لگا کر نکل پڑے اور لشکر اسلام سے جاملے۔ ارشاد ہے’’ اے علی سوائے اس کے نہیں کہ میں نے تجھے اپنی اہل کیلئے نائب بنایا تھا ‘‘ یعنی میرے بعدمیرے گھروالوں اور میری اہل وعیال کی دیکھ بھال کرے ان کی خبر گیری کرے، ان کی تکالیف کو دور کرے، ان کی مشکلات کو حل کرے، ان کی ضروریات زندگی پوری کرے تاکہ ان کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ ارشاد ہے’’ کیاتو اس بات پر خوش نہیں ہے کہ تیرا رتبہ میرے پاس ایسا ہو جیساکہ ہارون کا رتبہ موسیٰ کے پاس تھاہاں صرف اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کسی قسم کا کو کوئی نبی نہیں ‘‘ یعنی
۹ ہجری میں تبوک کی جنگ لڑی گئی۔ اس غزوہ کے موقع پر جناب سیدنا ومولانا امیر المؤمنین علی المرتضیٰ3 کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین اورنائب مقرر فرما کر حضورپاک3خود بنفس نفیس لشکر لے کر جہاد کیلئے روانہ ہوگئے۔ منافقین کا تو یہی کام ہوتا ہے کہ افتراق و انتشا ر پیدا کیا جائے اور بددلی اور پریشانی کاکوئی شوشہ چھوڑا جائے تا کہ مسلمانوں کی جماعت تشتت اور نفاق کا شکار ہو جائے۔ اس بدباطنی کا مظاہرہ اس وقت ان لوگوں نے یہ کیا کہ جناب شیر خدا علی المرتضیٰ3 کی ذات ستودہ صفات کو مورد الزام بنایا چنانچہ اس بات کی خوب تشہیر کی اور پروپیگنڈہ کیا کہ سرورِ کائنات3جناب علی المرتضیٰ3 سے ناخوش ہیں اس لئے ان کواپنے ساتھ اس جہاد میں لے جانا پسند نہیں فرمایا اسی لئے ان کو مدینہ منورہ میں پیچھے چھوڑ گئے ہیں اس مکروہ اور ناپاک بات کی خوب تشہیرکی گئی تاکہ جناب امیر المؤمنین علی المرتضیٰ3 کی قدر و منزلت رتبہ اور عزت کو عامتہ المسلمین کی نظروں میں گھٹایاجائے۔ جناب مولائے کائنات اسد اﷲ الغالب علیٰ کل غالب علی المرتضیٰ3 کو یہ بات بڑی ناگوار گزری۔ آپ کی غیر ت ، بہادری اور شجاعت کے جذبات کو بڑی ٹھیس پہنچی اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر مسلمانوں کے لشکر سے جاملے اور وہاں پہنچ کر حضور3کی خدمتِ اقدس میں منافقین کی تمام شرارتوں کا اظہار کیا۔ سید دو عالم3نے تمام باتیں سن کر جنا ب علی المرتضیٰص کے مرتبہ مقام اور درجہ کو اتنا بلند بیان فرمایا کہ کوئی دوسرا اس تک نہ پہنچ سکا۔ فرمایا جس طرح جناب موسیٰ ں کوہِ طور پر خداوند قدوس کے حضور میں گئے تو اپنی ساری قوم میں قابلِ اعتبار، لائقِ یقین اور صاحبِ اعتماد و بھروسہ اگر کوئی ان کو نظر آیا تھا تو وہ ان کے بھائی حضرت ہارون ں تھے ،ان کو اس موقع پر اپنا نائب اور خلیفہ مقرر کیا۔ تو ارشادنبی اکرم3ہے ’’(اے علی) کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہارا رتبہ میرے پاس ایسا ہو جیسا کہ ہارون ں کا رتبہ موسیٰں کے پاس تھا۔ ہاں صرف اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔‘‘ اسی طرح تم میرے نزدیک قابلِ اعتماد لائقِ یقین اور صاحبِ اعتماد و بھروسہ ہو، اس لئے تو میں نے تمہیں اپنا نائب مقرر کیا ہے۔ ہاں ایک فرق ہے کہ میرے بعدکوئی نبی نہیں۔ میں خاتم النبیین ہوں باقی میرے نزدیک تیری قدر و منزلت رتبہ اور عزت بہت ہی اعلیٰ ارفع اور بلند ہے جو کسی اور کیلئے نہیں۔
حد یث نمبر
۴۶؍۲ انبأنا قاسم۱؂ بن زکریا بن دینار الکوفی قال حدثنا ابو نعیم۲؂ قال حدثنا عبد السلام۳؂ عن یحیے۴؂ بن سعید عن سعید۵؂ بن المسیب عن سعد۶؂ بن ابی وقاص ان النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال لعلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ انت منی
بمنزلۃ ھارون من موسی
ترجمہ سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم3نے جناب علی المرتضیٰص کو فرمایا۔ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہے جیسے ہارون ں کا رتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا۔

حد یث نمبر
۴۷؍۳ أنبأنا زکریا۱؂ بن یحیے قال انبأنا ابو مصعب۲؂ ان الدراوردی۳؂ عن محمد۴؂ بن صفوان الجمعی عن سعید۵؂ بن المسیب انہ سمع سعد۶؂ بن ابی وقاص یقول ما قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی اما ترضی ان تکون
منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا النبوۃ

ترجمہ سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم3نے (حضرت) علیصسے فرمایا 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۴۶
۱؂: قاسم بن زکریا: قاسم بن زکریا بن دینار قرشی کی کنیت ابو محمد کوفی ہے اور بعض اوقات اس کی نسبت اپنے جد کی طرف بھی کی جاتی ہے، ثقہ ہے۔ گیارہویں طبقہ سے ہے۔ ۲۵۰ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تقریب،صفحہ ۲۷۸)
۲؂: ابو نعیم: ا س کا نام فضل بن دکین کوفی ہے اور دکین کا نام عمرو بن حماد بن زہیر التیمی ہے۔ ابونعیم کی کنیت سے مشہور ہے۔ ثقہ اور ثبت ہے، طبقہ التاسعہ سے ہے، بخاری کے کبار شیوخ سے ہے۔ ۲۱۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تقریب،صفحہ ۲۷۵)
۳؂: عبدالسلام: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱:۳
۴؂: یحییٰ بن سعید : یحییٰ بن سعید بن قیس الانصاری المدنی کی کنیت ابو سعید ہے۔ قاضی ، ثقہ ، اور ثبت ہے۔ طبقہ الخامسہ سے ہے۔ مات سنۃ اربع و اربعین یعنی ۱۱۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (تقریب،صفحہ ۳۷۶)
۵؂: سعید بن المسیب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵:۵۶؂: سعد بن ابی وقاص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۴۷
۱؂: زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱ ( حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 
کیاتم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک (اتنا قریب ہو ) جتنا کہ ہارونں موسیٰں کے نزدیک
تھے مگر وہ نبی تھے اور تم نبی نہیں ہو۔

حد یث نمبر
۴۸؍۴ اخبرنی زکریا۱؂ بن یحیے قال انبأنا ابو مصعب۲؂ ان الدراوردی۳؂ حدثہ‘ عن ھاشم۴؂ بن ھاشم عن سعید۵؂ بن المسیب عن سعد۶؂ قال لم اخرج رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الی تبوک خرج علی یشیعہ، فبکی وقال یا رسول اﷲ ترکتنی مع الخوالف فقال صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اما ترضی ان
تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا النبوۃ

ترجمہ سعد سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ3 غزوۂ تبوک کیلئے نکلے تو جناب سیدنا علی المرتضیٰصنے حضور3کو پیچھے سے جالیا اور رو پڑے اور عرض کیا یارسول اﷲ3کیا آپ مجھے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ چھوڑ آئے ہیں ۔توآپ3نے ارشاد فرمایا اے علی ! آیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہو جیسا کہ ہارون ں کا رتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا مگر نبوت کا فرق ہے۔

حل لغت شیاع: پیچھے ہونا، پیروی کرنا،کسی کے ساتھ رخصت کرتے وقت کچھ فاصلے تک جانا۔

بقیہ حاشیہ :
۲؂: ابو مصعب: اس کا نام احمد بن ابی بکر بن حارث بن زرارہ بن مصعب بن عبد الرحمن بن عوف الزہری المدنی ہے اور ابو مصعب کنیت ہے۔ فقیہ ، عابد، صدوق اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۲ ؁ہجری میں وفات پائی (التقریب ، صفحہ۱۱)
۳؂: الدراوردی: اس کا نام عبدالعزیز بن محمد بن عبید ہے ۔ الدراوردی لقب ہے اور ابو محمد کنیت ہے ۔ صدوق ہے ، طبقتہ الثامنہ سے ہے ۔ ۱۸۶ ؁ھ یا ۱۸۷ ؁ھ میں فوت ہوا ۔( التقریب صفحہ ۲۱۶)
۴؂: محمد بن صفوان الجمعی: محمد بن صفوان الجمعی المدنی قاضی مدینہ مقبو ل ہے اور طبقۃ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب،۳۰۲) روی عن سعید ابن المسیب وھشام بن عروۃ و روی عنہ مالک و محمد بن عمرو بن علقمہ و الدراوردی وذکرہ ابن حبان فی الثقات۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۹صفحہ ۲۳۲)
۵؂: سعید بن المسیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵:۵۶؂: سعد بن ابی وقاص: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۴۸
۱؂: زکریا بن یحییٰ :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۲؂: ابو مصعب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۷:۲ ۳؂: الدراوردی: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال نمبر ۴۷:۳
۴؂: ہاشم بن ہاشم : ہاشم بن ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص الزہری ہے المدنی ثقہ ہے، طبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۴۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ ۳۶۲)
۵؂: سعید بن المسیب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵: ۵ ۶؂: سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶

تشریح ارشاد ہے ’’ کیا آپ مجھے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ چھوڑ آئے ہیں‘‘ یعنی جب آنحضور3غزوۂ تبوک کو روانہ ہوئے تو جناب علی المرتضیٰ3 کو اپنا نائب بنا کر مدینہ منورہ میں رہنے کاحکم فرمایا تو منافقوں نے آپ کے متعلق بدگوئی کر کے آپ کو پریشان کیا۔ آپ3 ہتھیار لگا کر لشکر اسلام سے جاملے اور حضور3کی خدمتِ اقدس میں رو رو کر عرض کیا یارسول اﷲ3! کیا آپ مجھے اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا پسند نہیں فرماتے اس لئے مجھے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ چھوڑ آئے ہیں۔ ارشاد ہے’’ آیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہو جیسا کہ ہارون ں کا رتبہ موسیٰں کے نزدیک تھا مگر نبوت کا فرق ہے‘‘ یعنی جو عزت ، مرتبہ اور بھائی ہونے کی نسبت حضرت موسیٰں کی نظروں میں حضرت ہارونں کی تھی وہی عزت ، مرتبہ اور بھائی ہونے کی نسبت میری نظروں میں تمہارے لئے موجود ہے۔ مگر صرف اتنا فرق ہے کہ حضرت ہارونں نبی تھے اور اے علی تم نبی نہیں ہو اس لئے کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی رسول نہیں ہوسکتا۔ 
صحیح رجالہ ثقات (احمد میرین البلوشی خصائص امیرالمؤمنین صفحہ
۶۹)

حد یث نمبر
۴۹؍۵ اخبرنی اسحق۱؂ بن موسی ابن عبد اﷲ بن یزید الانصاری قال حدثنا داؤد۲؂ بن کثیر الرقی عن محمد۳؂ بن المنکدر عن سعید۴؂ بن المسیب عن سعد۵؂ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال لعلی انت منی بمنزلۃ ھارون من
موسی الا انہ لا نبی بعدی

ترجمہ سعد سے روایت ہے کہ رسول کریم3نے جناب علی المرتضیٰ3 کو فرمایا کہ تو میرے نزدیک مرتبہ کے لحاظ سے ایسا ہے جیسا کہ ہارون ں کا مرتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا۔ مگر یہ کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ یہ حدیث داؤد نے منکدر سے روایت کی ہے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۴۹
۱؂: اسحاق بن موسیٰ: اسحق بن موسیٰ بن عبداﷲ بن موسیٰ بن عبداللہ بن یزید الخطمی نیشا پور کا قاضی تھا۔ اس کی کنیت ابو موسیٰ المدنی ہے۔ ثقہ متقن ، اور طبقۃ العاشرہ سے ہے ۲۴۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۳۰)
۲؂: داؤد بن کثیر: داؤد بن کثیر الرقی مجہول الحال ہے طبقۃ الثامنۃ سے ہے (التقریب،صفحہ۹۷)
۳؂: محمد بن المنکدر :محمد بن المنکدر بن عبداﷲ بن الہدیر التیمی المدنی ثقہ اور فاضل ہے طبقہ الثالثہ سے ہے ۱۳۰ہجری میں فوت ہوا (التقریب،صفحہ ۳۲۰)
۴؂: سعید بن المسیب :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵:۵ ۵؂: سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶

حد یث نمبر
۵۰؍۶ اخبرنی صفوان۱؂ ابن محمد بن عمروقال حدثنا احمد۲؂ بن خالد قال حدثنا عبد العزیز۳؂ بن ابی سلمۃ الماجشون عن محمد۴؂ بن المنکدر قال سعید۵؂ بن المسیب اخبرنی ابراھیم۶؂ بن سعد انہ سمع اباہ سعد۷؂ و ھو یقول قال النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبوۃ قال سعید فلم ارض حتی اتیت سعدا فقلت شی حدث بہ ابنک قال و ما ھو و انتھونی فقلت اخبرنا علی ھذا فقال ما ھو یا ابن اخی فقلت ھل سمعت النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول لعلی کذا و کذا قال نعم و اشارالی
اذنیہ الا فسکتالقد سمعتہ یقول کذالک

ترجمہ سعد سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم3نے جناب علی المرتضیٰ کو فرمایا کیا تو راضی نہیں کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہو جیسے ہارون ں کا رتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا مگر اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کسی قسم کی کوئی نبوت نہیں ہے۔ سعید بن المسیب نے کہا میں راضی نہ ہوا یہاں تک کہ میں سعد کے پاس آیا تو میں نے انہیں کہا کہ آپ کے بیٹے نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے۔ کہا کہ وہ کیا ہے، مجھے جھڑکا ، پس میں نے کہا کہ مجھے اس کی خبردے تو انہوں نے کہا کہ اے بھتیجے! وہ کیا ہے۔ پس میں نے کہا کیا آپ نے نبی کریم3سے سنا ہے کہ وہ حضرت علی3 کے متعلق ایسا ایسا ارشاد فرماتے تھے۔ سعد نے کہا ہاں اور اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دونوں کان خاموش ہوجائیں یقیناًمیں نے اسے حضورپیغمبر اسلام3سے سنا ہے وہ اسی طرح ارشاد فرماتے تھے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۰
۱؂: صفوان بن محمد بن عمرو:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۱
۲؂: احمد بن خالد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۲
۳؂: عبدالعزیز بن ابی سلمۃ: عبدالعزیز بن عبداﷲ بن ابی سلمۃ الماجشون المدنی ثقہ ، فقیہ ، مصنف اور طبقہ السا بعۃ سے ہے۔ ۱۶۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۱۵)
۴؂: محمد بن المنکدر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۹:۳ ۵؂: سعید بن المسیب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵:۵
۶؂: ابراہیم بن سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۹:۵۷؂: سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶

تشریح ارشاد ہے ’’ سعید بن المسیب نے کہا کہ میں راضی نہ ہوا‘‘ یعنی میں مطمئن نہ ہوا، میری تسلی نہ ہوئی کہ آیا یہ بات اسی طرح ہے جس طرح کہ ابن سعد نے بیان کی ہے۔ ارشاد ہے ’’ تو انہوں نے کہاکہ اے بھتیجے وہ کیا ہے ‘‘ یعنی وہ فضیلت جو اس نے تجھ سے بیان کی ہے وہ کیا ہے ؟ ارشاد ہے ’’ پس میں نے کہا کہ کیا آپ نے نبی کریم3سے سنا ہے کہ وہ (حضرت) علی المرتضیٰ3 کے متعلق ایسا ایسا ارشاد فرماتے تھے ‘‘ یعنی وہ پوری حدیث جو ابن سعد سے سنی تھی بیان کی۔ ارشاد ہے ’’ سعد نے کہا ہاں اور اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا‘‘ یعنی میرے ان دونوں کانوں نے خود یہ حدیث حضور3کی زبان مبارک سے سنی ہے۔ ارشاد ہے ’’ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دونوں کان خاموش ہوجائیں‘‘ یعنی جو حدیث میرے ان دونوں کانوں نے سنی ہے اگر یہ حدیث اسی طرح نہ ہو اور اس کے خلاف ہو تو یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں۔ گویا انتہائی تاکید فرمارہے ہیں کہ یہ حدیث اسی طرح ہے جس طرح کہ میرے بیٹے نے بیان کی ہے۔
و خالفہ یوسف الماجشون فرواہ عن محمد بن المنکدر عن سعید عن عامر بن سعد عن ابیہ و تابعہ علی روایتہ عن عامربن سعد علی بن زید بن جذعان۔ اسنادہ حسن (احمد میرین البلوشی صفحہ
۷۰)

حد یث نمبر
۵۱؍۷ اخبرنی زکریا۱؂ بن یحیے قال حدثنا ابن ابی الشوارب۲؂ قال حدثنا حماد۳؂ بن زید عن علی۴؂ بن زید عن سعید۵؂ بن المسیب عن عامر۶؂ بن سعد عن سعد۷؂ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال لعلی انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیر انہ لا نبی بعدی فاحببت ان اشافہ ذلک سعدا فاتیتہ فقلت ماحدیث حدثنی بہ عنک عامر فادخل اصبعیہ فی اذنیہ و قال سمعتہ من رسول اﷲ صلی اﷲ
علیہ و الہ وسلم و الا فسکتا
اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۱
۱؂: زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۲؂: ابن ابی الشوارب: اس کانام محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب الاموی البصری ہے اور ابی الشوارب کا نام محمد بن عبد الرحمن بن ابی عثمان ہے صدوق ہے اور طبقۃ العاشرہ کے کبار سے ہے۔ ۲۴۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۹)
۳؂: حماد بن زید: حماد بن زید بن درہم الدزدی الجہضمی کی کنیت ابو اسماعیل ہے۔ ثقہ ، ثبت اورفقیہ ہے۔ طبقۃ الثامنۃ کے کبار سے ہے۔ ۱۷۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۸۲) 
(حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے)

ترجمہ سعد سے روایت ہے یہ کہ رسول کریم3نے جناب علی المرتضیٰ3 کو فرمایا تو رتبہ میں میرے اتنے نزدیک ہے جتنا ہارون ں موسیٰں کے نزدیک تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں۔ سعید بن المسیب نے کہا کہ میں نے یہ بات بہت پسند کی کہ سعد کے منہ سے اس حدیث کی تصدیق کراؤں۔ تو میں ان کے پاس آیا۔ میں نے کہا کہ کیاعامر نے آپ سے جو روایت کی ہے وہ حدیث ہے۔ پس اس نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں اور کہا کہ میں نے خود حضور رسول کریم 3سے سنا ہے ورنہ میرے کان خاموش ہو جائیں۔

حل لغت اشافہ: روبرو ہو کر پوچھو ں۔

تشریح ارشاد ہے ’’ میں نے یہ بات بہت پسند کی کہ سعد کے منہ سے اس حدیث کی تصدیق کراؤں ‘‘ یعنی ان سے بذاتِ خود یہ حدیث سنوں۔ ارشاد ہے ’’ کہ کیا عامر نے آپ سے جو روایت کی ہے وہ حدیث ہے ‘‘ یعنی سعید بن المسیب جناب سعد کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ حدیث واقعی صحیح اور درست ہے؟ ارشاد ہے ’’ ورنہ میرے کان خاموش ہو جائیں‘‘ یعنی بہرے ہو جائیں کچھ نہ سن سکیں۔
و قد روی ھذا الحدیث شعبۃ عن علی عن زید فلم یذکر عامر بن سعد

حد یث نمبر
۵۲؍۸ اخبرنی محمد۱؂ بن وھب الحرانی قال حدثنا مسکین۲؂ بن بکیر الحرانی قال حدثنا شعبۃ۳؂ عن علی۴؂ بن زید قال سمعت سعید۵؂ بن المسیب یحدث عن سعد۶؂ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال لعلی الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی فقال اول من رضیت رضیت فسألتہ بعد ذلک
فقال بلی بلی

بقیہ حاشیہ :
۴؂: علی بن زید: علی بن زید بن عبداﷲ بن زہیر بن عبد اﷲ بن جدعان التیمی البصری دراصل حجازی ہے اور عام طور پر علی بن جدعان کے نام سے معروف ہے۔ طبقۃ الرابعۃ سے ہے۔ ۱۳۱ ؁ہجری میں وفات پائی اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ اس سے قبل فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ ۲۴۶)
۵؂: سعید بن المسیب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵:۵
۶؂: عامر بن سعد: عامر بن سعد بن ابی وقاص الزہری المدنی ثقہ ہے۔ طبقہ الثالثہ سے ہے ۰۴ا ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۱۶۰)
۷؂: سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۲ (اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے)
ترجمہ سعد سے روایت ہے یہ کہ رسول کریم 3نے جناب علی المرتضیٰ3کو فرمایا آیا تواس بات پر راضی نہیں ہے کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہو جیسے ہارون ں کا رتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا تو (جناب علی نے) کہا میں سب سے پہلے راضی ہوں، راضی ہوا۔ پھر میں نے یہ حدیث سننے کے بعد سعد سے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہاں ۔

تشریح ارشاد ہے ’’ پھر میں نے اس حدیث کے سننے کے بعد سعد سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے کہا ہاں ہاں‘‘ یعنی یہ حدیث بالکل صحیح اور درست ہے۔ 
اسنادہ صحیح، (تہذیب خصائص الامام علی از ابواسحاق الحوینی الاثری الحجازی بن محمد بن شریف مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت صفحہ
۵۶)
قال ابو عبد الرحمن ماعلمت ان احدا تابع عبدالعزیز الماجشون علی روایتہ عن محمد بن المنکدر عن سعید علی ان ابراھیم بن سعد قدروی ھذا الحدیث عن ابیہ

حد یث نمبر
۵۳؍۹ انبأنا محمد۱؂ بن بشار البصری قال حدثنا محمد۲؂ یعنی ابن جعفر غندر قال اخبرنا شعبۃ۳؂ عن سعد۴؂ ابن ابراھیم قال سمعت ابراھیم۵؂ بن سعد یحدث عن ابیہ۶؂ عن النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم انہ قال لعلی اما ترضی ان
تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی
ترجمہ سعد سے روایت ہے کہ نبی کریم 3نے جناب علی المرتضیٰ کو فرمایا کہ آیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہو جیسا کہ ہارون ں کا رتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا۔

بقیہ اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۲
۱؂: محمد بن وہب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۳ ۲؂: مسکین بن بکیر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۴
۳؂: شعبہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۳۴؂: علی بن زید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۱:۴
۵؂: سعید بن المسیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵:۵ ۶؂: سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۳
۱؂: محمد بن بشارالبصری:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۱
۲؂: محمد بن جعفر غندر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳:۲۳؂: شعبۃ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۳
۴؂: سعد بن ابراہیم: سعد بن ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف الزہری کی کنیت ابواسحاق بغدادی ہے۔ ثقہ ہے واسط میں قضا کے عہدے پر فائز رہا۔ طبقہ التاسعۃ سے ہے۔ ۲۰۱ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۱۱۷)
۵؂: ابراہیم بن سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۹:۵۶؂: ابیہ(سعد بن ابی وقاص):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶

تشریح اسنادہ صحیح یعنی اس کی سند صحیح ہے (تہذیب خصائص صفحہ
۵۶)صحیح علی شرط الشیخین۔ 
(خصائص امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب تحقیق و تخریج از احمد میرین البلوشی مکتبۃ المعلا الکویت صفحہ
۷۲)

حد یث نمبر
۵۴؍۱۰ انبأنا عبید اﷲ ۱؂ بن سعد البغدادی قال حدثنا عمر۲؂ قال حدثنا ابی۳؂ عن ابن اسحق۴؂ قال حدثنا محمد۵؂ بن طلحۃ بن یزید بن رکانۃ عن ابراھیم۶؂ بن سعد بن ابی وقاص عن ابیہ ۷؂ انہ سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول لعلی حین خلفہ فی غزوۃ تبوک علی اھلہ الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من
موسی الاانہ لا نبی بعدی

ترجمہ سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے یہ کہ انہوں نے نبی کریم 3سے سنا کہ حضور اکرم 3نے حضرت علی المرتضیٰ کو فرمایا جب کہ اپنے اہل پر غزوۂ تبوک میں اپنا نائب بنایا ،آیا تو اس بات پر خوش نہیں کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہو جیسا کہ ہارون ں کارتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا مگر یہ کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔

اسنادہ حسن (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المؤمنین صفحہ
۷۲)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۴
۱؂: عبید اللہ بن سعد: عبیداللہ بن سعدبن ابراہیم بن سعد ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف الزہری ہے ۔ ابو الفضل بغدادی کنیت ہے ۔ اصبہان(اصفہان) کا قاضی تھا ۔ ثقہ ہے ، طبقۃ الحادےۃ عشرہ سے ہے ۔۲۶۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ، صفحہ ۲۲۵)
۲؂: عمر(بن الوہاب):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۱:۲
۳؂: ابی : یہ عمر کے والد عبدالوہاب بن عبدالمجید بن ا لصلت ثقفی ہے، ابو محمد بصری کنیت ہے ،ثقہ ہے تغیر قبل موتہ بثلث سنین طبقۃ الثامنۃ سے ہے ۔ ۱۸۴ ؁ہجری یا ۱۹۴ ؁ہجری میں وفات پائی (التقریب ، صفحہ ۲۲۲)
۴؂: ابن اسحاق: اس کا محمد بن اسحاق بن یسار ہے ۔ کنیت ابوبکر ہے ، عراق میں رہتا تھا ۔ امام المغازی اور صدوق ہے ۔ نیز مدلساور رمی باالتشیع والقدر ہے ۔ طبقہ الخامسہ کے صغار سے ہے ،۱۵۰ ؁ہجری میں یا اس کے بعد وفات پائی ۔ (التقریب ، صفحہ۲۹۰)
۵؂: محمد بن طلحۃ:محمد بن طلحۃ بن یزید بن رکانۃ المطلبی المکی ثقہ ہے ۔ طبقۃ السادسۃ سے ہے ۱۱۱ہجری میں وفات پائی۔(التقریب ،صفحہ ۳۰۳)
۶؂: ابراہیم بن سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۹:۵
۷؂: ابیہ ( سعد بن ابی وقاص):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸: ۶

حد یث نمبر
۵۵؍۱۱ انبأنا محمد۱؂ بن المثنی قال حدثنا ابوبکر۲؂ الحنفی قال حدثنا بکیر۳؂ بن مسمار قال سمعت عامر۴؂ بن سعد یقول قال معوےۃ لسعد ابن ابی وقاص ما یمنعک ان تسب ابن ابی طالب قال لا اسبہ ما ذکرت ثلثا قالھن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لا ن یکون لی واحدۃ منھن احب الی من حمر النعم لا اسبہ ماذکرت حین نزل علیہ الوحی و اخذ علیا و ابنیہ و فاطمۃ فادخلھم تحت ثوبہ ثم قال رب ھؤلاء اھلی و اھل بیتی ولا اسبہ ماذکرت حین خلفہ فی غزوۃ تبوک وقال علی خلفتنی مع النسآء والصبیان فقال اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبوۃ من بعدی و لا اسبہ ماذکرت یوم خیبر حین قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لا عطین ھذہ الرأےۃ رجلا یحبہ اﷲ و رسولہ، و یحب اﷲ و رسولہ ویفتح اﷲ علی یدیہ فتطاولنا فقال این علی فقالوا ارمد فقال ادعوہ فدعوہ فبصق فی عینیہ ثم اعطاہ الرأےۃ و فتح اﷲ علی یدیہ قال فو اﷲ ماذکرہ معوےۃ بحرف
حتی خرج من المدینۃ

ترجمہ عامر بن سعد سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے کہا (جناب امیر المؤمنین) علی ابن ابی طالب کو گالی دینے سے تجھے کونسی چیز روکتی ہے۔ تو کہاجب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں میں علی کو کبھی بھی برا نہیں کہہ سکتا۔ (اور وہ تین باتیں یہ ہیں ) جو کہ رسول کریم 3 نے ان کے متعلق فرمائی ہیں۔ البتہ ان میں سے ایک چیز کا بھی حصول مجھے سرخ اونٹوں کے ملنے سے بھی زیادہ پسند ہے میں ہرگز انہیں برا نہ کہوں گا جب کہ مجھے یہ یاد ہے کہ حضور 3پر وحی نازل ہوئی اور آنحضرت 3نے جناب علی ، ان کے دونوں فرزندوں اور جنابہ فاطمہ علیہم السلام کو لے کر اپنی چادر کے نیچے داخل فرمایا پھر دعا فرمائی اے میرے رب! یہی میرے گھر 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۵
۱؂: محمد بن المثنی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۱
۲؂: ابوبکر الحنفی: اس کا نام عبدالکبیر بن عبدالمجید بن عبید اللہ البصری ہے۔ ابو بکر الحنفی کنیت ہے۔ ثقہ ہے۔ طبقہ التاسعۃ سے ہے۔ ۲۰۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۱۷)
۳؂: بکیر بن مسمار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰:۴ ۴؂: عامر بن سعد: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰:۵
والے اور گھرانے والے ہیں اور ہرگز انہیں برا نہ کہوں گا جبکہ مجھے یہ یاد ہے کہ حضور 3 نے غزوۂ تبوک میں اسے (علی3 کو) اپنا نائب بنایا اور حضرت علی نے عرض کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں۔ حضور 3 نے فرمایا کیا تو راضی نہیں کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہو جیسا ہارون ں کا رتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا مگر میرے بعد کسی قسم کی نبوت نہیں۔ اور ہرگز انہیں برا نہ کہوں گا جبکہ مجھے یہ یاد ہے کہ خیبر کے دن حضورنبی اکرم3نے فرمایا ضرور بالضرور یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو کہ اﷲ اور اس کے رسول 3کو دوست رکھتا ہے اور اﷲ اور اس کا رسو ل 3اسے دوست رکھتے ہیں اور اس کے ہاتھ پر فتح ہوگی۔ پس ہم سب آس لگائے بیٹھے تھے تو ارشاد فرمایا علی کہا ں ہے؟ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں پس حکم دیا کہ اسے بلاؤ تو وہ بلائے گئے۔ تو حضور 3 نے ان کی دونوں آنکھوں پر لعاب دہن لگایا پھر انہیں نشان عطاء فرمایا، اﷲ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ سے فتح مرحمت فرمائی۔ راوی کہتاہے سو قسم بخدا کہ مدینہ منورہ سے جاتے وقت تک معاویہ نے علی المرتضیٰ 3 کا قطعاً ذکر نہیں کیا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے کہا (جناب امیر المؤمنین ) علی ابن ابی طالب کو گالی دینے سے تجھے کون سی چیز روکتی ہے‘‘ یعنی کون سی ایسی بات ہے جو تجھے منع کرتی ہے کہ تو علی ابن ابی طالب3 کو گالی نہ دے۔ معلوم ہوا کہ امیرمعاویہ جناب مولائے کائنات ، ہر مومن کے ولی ، اسد اﷲ علی المرتضیٰ3 کو بر اکہلوانا اور گالیاں دلانا پسند کرتے تھے۔ ارشاد ہے ’’ البتہ ان میں سے ایک چیز کا بھی حصول مجھے سرخ اونٹوں کے ملنے سے بھی زیادہ پسند ہے ‘‘ یعنی جناب علی المرتضیٰ3 کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے کے عوض مجھے زر و جواہر اور بڑے سے بڑا عزت و وجاہت کا منصب دے دیا جائے تو تب بھی میں ہرگز ہرگز اس دولت یا منصبِ جلیلہ کو قبول نہیں کروں گا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میرے پیغمبر 3نے جناب علی المرتضیٰصکی عظیم عظیم فضیلتیں بیان کی ہیں اور بالخصوص جبکہ میں آنحضرت 3سے تین باتیں تو خوب اچھی طرح جانتا ہوں اور مجھے اچھی طرح یاد ہیں جنہیں میں ہرگز ہرگز نہیں بھلا سکتا۔ ارشاد ہے ’’ قسم بخدا کہ مدینہ منورہ سے جاتے وقت تک معاویہ نے علی کا قطعاً ذکر نہیں کیا‘‘ یعنی جب اس نے دیکھا کہ اہلِ مدینہ منورہ جناب علی المرتضیٰ 3 کے مقام ،رتبہ ، عزت اور حضور 3کے نزدیک جو علی کی حرمت ہے اسے جانتے ہیں اور اسے برقرار رکھے ہوئے ہیں اور یہ کسی قسم کی لالچ یارعب وغیرہ میں آنے والے نہیں تو خود ہی خاموش ہوگئے اور جب تک مدینہ منورہ میں رہے لوگوں کو (حضرت) علیصکی برائی پر اکسانے سے باز رہے۔اسنادہ صحیح ، ابو اسحاق الحوینی نے اپنی کتاب تہذیب کے صفحہ
۵۸ پر لکھا کہ اس کی اسناد صحیح ہیں۔

حد یث نمبر
۵۶؍۱۲ حدثنا محمد۱؂ بن بشار قال حدثنا محمد۲؂ بن (جعفر) عن شعبۃ۳؂ عن الحکم۴؂ عن مصعب۵؂ بن سعد قال خلف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم علیا فی غزوۃ تبوک فقال یا رسول اﷲ تخلفنی فی النسآء و الصبیان فقال اما
ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیر انہ لا نبی بعدی

ترجمہ مصعب بن سعد سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب علی المرتضیٰصکو رسول کریم3نے غزوۂ تبوک کے وقت مدینہ منورہ میں نائب بنایا تو انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں پر نائب بناتے ہیں۔ تو ارشاد فرمایا کیا تو راضی نہیں کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہو جیسے ہارونں کا رتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا لیکن اتنی بات ہے کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی پیغمبر نہیں۔
قال ابو عبدالرحمن خالفہ لیث فقال عن الحکم عن عائشۃ بنت سعد
اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین(احمد میرین البلوشی ، صفحہ
۷۵)
حد یث نمبر
۵۷؍۱۳ اخبرنی الحسن۱؂ بن اسمعیل بن سلیمان المصیصی المجالدی قال انبأنا المطلب۲؂ عن لیث۳؂ عن الحکم۴؂ عن عائشۃ۵؂ بنت سعد عن سعد۶؂ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال لعلی فی غزوۃ تبوک انت منی بمنزلۃ
ھارون من موسی الا انہ لا نبی من بعدی

ترجمہ سعد سے روایت ہے یہ کہ رسول کریم 3نے غزوۂ تبوک کے موقع پر جناب علی المرتضیٰ کو ارشاد فرمایاکہ تو میرے نزدیک ایسا ہے جیسا کہ موسیٰں کے نزدیک ہارونں کا رتبہ تھا مگر ہاں یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۶
۱؂: محمد بن بشار: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۱ ۲؂: محمد بن جعفر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳:۲
۳؂: شعبہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۳۴؂: الحکم (بن عتبہ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳:۴
۵؂: مصعب بن سعد: مصعب بن سعدبن ابی وقاص الزہری کی کنیت ابو زرارہ المدنی ہے۔ ثقہ، طبقہ الثالثۃ سے ہے۔ ۱۰۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۳۸)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۷
۱؂: الحسن بن اسماعیل: حسن بن اسماعیل بن سلیمان بن مجالد کی کنیت ابو سعید المجالدی المصیصی ہے، ثقہ ہے۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے )

تشریح ارشاد ہے’’ کہ تو میرے نزدیک ایسا ہے جیسا کہ موسیٰ ں کے نزدیک ہارون ں کا رتبہ تھا مگر ہاں میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘ یعنی جناب ہارون ں کو حضرت موسیٰ ں کی بارگاہ میں جو قدر و منزلت ، جو بلند درجہ ، جو اعتماد و بھر وسہ کا مقام اور جو قرب حاصل تھا اے علی المرتضیٰ وہ سب کا سب درجہ تمہیں میرے حضورمیں حاصل ہے۔ مگر صرف ایک مقام ایسا ہے جو تجھے حاصل نہیں وہ مقامِ نبوت ہے او ر وہ بھی اس لئے کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی آنے والا نہیں اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا تو جس طرح جناب ہارون ں حضرت موسیٰ ں کی موجودگی میں مقام نبوت پر فائز تھے تو تمہیں بھی یہ مقام نصیب ہوتا مگر اب ایسا نہیں گویا آپ3 صرف نبی نہ تھے باقی تمام درجاتِ عالیہ آپ 3 کو نصیب تھے جو کسی اور کو نصیب نہ تھے۔
قال ابو عبدالرحمن و شعبۃ احفظ و لیث ضعیف و الحدیث فقد رواہ عائشۃ بنت سعد۔

حد یث نمبر
۵۸؍۱۴ اخبرنی زکریا۱؂ بن یحیے قال انبأنا ابو مصعب۲؂ عن الدراوردی۳؂ عن الجعید۴؂ عن عائشۃ۵؂ عن ابیھا۶؂ قالت ان علیا خرج مع النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم حتی جآء ثنےۃ الوداع یود من غزوۃ تبوک و خلف علیا فقال اتخلفنی مع الخوالف فقال لہ اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی
الا انہ لا بنی بعدی

بقیہ حاشیہ : طبقہ العاشرہ سے ہے۔
۲۴۰ ؁ہجری کے بعد فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ ۶۸)
۲؂: المطلب: مطلب بن زیاد بن ابی زہیر الثقفی الکوفی صدوق ہے۔ ربما وھم۔ طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ ۱۸۵ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ، صفحہ ۳۳۹)امام احمد ، ابن معین وابن حبان و ابن شاہین اور العجلی نے اسے ثقہ کہا ہے۔ ابوحاتم نے کہا’’ یکتب حدیثہ و لا یحتج بہ ‘‘ اور ابوداؤد نے کہا میرے نزدیک یہ ثقہ ہے اور ابن سعد نے کہا ’’ کان ضعیفا جدا ‘‘ اور ابن عدی نے کہاکہ اس کی حدثیوں میں حسن بھی ہیں اور غریب بھی۔ میں نے اس کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس کی روایت میں کوئی حرج نہیں (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المومنین، صفحہ ۷۵)
۳؂: لیث: لیث بن ابی سلیم بن زنیم کے والد کا نام ایمن ہے اور اسے انس بھی کہا گیا ہے۔ صدوق ہے آخری عمر میں پریشا ن خاطر ہوگیا تھا جس کی وجہ سے احادیث میں تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ پس اس نے حدیث بیان کر نا چھوڑ دیا تھا۔ طبقۃ السادسۃ سے ہے۔ ۱۴۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،،صفحہ ۲۸۷) امام احمد نے کہا کہ مضطرب الحدیث ہے۔ ابو حاتم نے کہا ضعیف الحدیث ہے۔ ابن معین نے کہا’’لیس حدیثہ بذاک ضعیف ‘‘ وقد اخرج لہ مسلم مقرونا (احمد میرین البلوشی خصائص امیر المومنین ،صفحہ ۷۵)
۴؂: الحکم: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳:۴۵؂: عائشہ بنت سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۵
۶؂: سعد(بن ابی وقاص): ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶ (اسماء الرجال حدیث نمبر ۵۸ ، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے ) 

ترجمہ حضرت عائشہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم 3کی معیت میں (جناب) علی المرتضیٰ نکلے یہاں تک کہ ثنےۃ الوداع تک پہنچ گئے۔ (آپ3 )تبوک کی جنگ میں شامل ہونا چاہتے تھے اور حضرت علی کو نائب مقرر کیا تو علی المرتضیٰ نے عرض کیا آپ مجھے پیچھے رہنے والوں میں چھوڑ چلے ہیں۔ تو حضور 3نے جناب علی کو فرمایا کیاتو اس بات پر خوش نہیں کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہے جیسا کہ ہارون ں کا رتبہ موسی ں کے نزدیک تھا مگر ہاں اتنی بات ہے کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہے۔
اسنادہ صحیح علی شرط البخاری (احمد میرین البلوشی، صفحہ
۷۶)

حد یث نمبر
۵۹؍۱۵ اخبرنا القاسم۱؂ بن زکریا بن دینار الکوفی قال حدثنا ابو نعیم۲؂ قال حدثنا فطر ۳؂عن عبد اﷲ۴؂ بن شریک عن عبد اﷲ۵؂ بن رقیم الکنانی عن سعد۶؂ بن ابی وقاص ان النبی 3 قال لعلی انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی

ترجمہ سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے یہ کہ نبی کریم 3نے (جناب) علی المرتضیٰ کو فرمایا کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہے جیساکہ ہارون ں کا رتبہ موسیٰ ں کے نزدیک تھا۔
رواہ اسرائیل عن عبداﷲ بن شریک عن الحراث بن مالک عن سعد 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۸
۱؂: زکریا بن یحییٰ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۲؂: ابو مصعب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۷:۲
۳؂: الدراوردی(عبدالعزیز بن محمد):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۸:۳
۴؂: الجعید:اسے جعد بھی کہتے ہیں، جعد بن عبد الرحمن بن اوس ہے اور کبھی اپنے جد کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، اور مصغر یعنی جعید بھی بولا جاتا ہے، ثقہ ہے، طبقہ الخامسۃ سے ہے ۴۴اہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ۵۵)
۵؂: عائشہ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۵ ۶؂:ابیہا(سعد بن ابی وقاص):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۵۹
۱؂: قاسم بن زکریا:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۱ ۲؂: ابو نعیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۲
۳؂: فطر: فطر بن خلیفہ القرشی المخزومی ابوبکر الحناط الکوفی کا مولی ہے ۔ امام احمد بن حنبل نے انہیں ثقہ اور صالح الحدیث کے القابات سے یاد کیا ہے، ابن معین بھی ثقہ کہتے ہیں، العجلی انہیں ثقہ اور حسن الحدیث کہتے ہیں و کان فیہ تشیع قلیل آپ نے ۱۵۳ یا ۱۵۵ہجری میں انتقال کیا ( تہذیب جلد ۸، صفحہ ۳۰۱)
۴؂: عبد اﷲ بن شریک:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۰: ۴ (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 

حد یث نمبر
۶۰؍۱۶ انبأنا احمد۱؂ بن یحیے الکوفی قال حدثنا علی۲؂ وھو ابن قادم قال حدثنا اسرائیل۳؂ عن عبد اﷲ۴؂ بن شریک عن حارث۵؂ بن مالک قال سعد۶؂ بن مالک قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم غزا علی ناقۃ الحمرآء و خلف علیا فجاء علی حتی تعدی الناقۃ فقال یارسول اﷲ زعمت قریش انک انما خلفتنی انک استثقلتنی و کرھت صحبتی وبکی فنادی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فی الناس ما منکم احد الا ولہ حاجۃ بابن ابی طالب اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی قال علی رضیت عن اﷲ عزو جل و عن رسول
اﷲ صلی اللّّٰہ علیہ والہ وسلم

ترجمہ سعد بن مالک نے فرمایا کہ آنحضرت 3سرخ اونٹنی پر سوار ہو کر جہاد کیلئے روانہ ہوئے اور (حضرت) علی3 کو نائب بنایا۔ جناب علی المرتضیٰ آئے اور حضور 3کی اونٹنی سے بھی آگے بڑھ آئے اور عرض کیا یا رسول اﷲ ! قریش گمان کرتے ہیں کہ آپ نے مجھے اس لئے اپنے پیچھے چھوڑا کہ آپ مجھے بوجھ سمجھتے ہیں اور میرے ساتھ رہنے کو برا جانتے ہیں اور رونے لگے۔ تو رسول کریم3نے تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بلند آواز سے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ اس کو کوئی حاجت ابی طالب کے بیٹے کی طرف نہ ہو۔کیا تو (اے علی) اس بات پر خوش نہیں کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہو جیسا کہ موسیٰ ں کے نزدیک ہارون ں کا رتبہ تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ جناب علی المرتضیٰ3 ٰنے فرمایا میں اﷲ عزو جل اور رسول اﷲ 3سے راضی ہوا۔

بقیہ حاشیہ:
۵؂: عبد اﷲ بن رقیم: عبداﷲ بن رقیم کو ابی الرقیم اور ابن الارقم الکنانی الکوفی بھی کہا جاتا ہے ۔ روی عن علی و سعد و عنہ عبداﷲ بن شریک العامری ۔۔ قال البخاری فیہ نظر ( تہذیب جلد ۵ ، صفحہ ۲۱۲)
۶؂: سعد بن ابی وقاص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۰
۱؂: احمد بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۰:۱
۲؂: علی بن قادم: علی بن قادم الخزاعی الکوفی ہے، صدوق ہے، شیعہ ہے، طبقۃ التاسعۃ سے ہے۔ ۲۱۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب صفحہ ۲۴۸ )
۳؂: اسرائیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۳۴؂: عبد اﷲ بن شریک: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۰:۴
۵؂: حارث بن مالک:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال نمبر ۴۰:۵ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے)

حل لغت ناقۃ: اونٹنی۔ الحمرآء: سرخ۔ تعدی: آگے بڑھ آئے۔ زعم: گمان کرنا ، جھوٹ بات کہنا ، یہ لغت اضداد سے ہے یعنی جس طرح جھوٹی بات کہنے کو کہتے ہیں اسی طرح سچی بات کہنے کو بھی۔ استثقلنی: آپ نے مجھے بوجھ جانا، ثقل یا ثقالۃ: مصدر ہے جس کے معنی بھاری ہونا کے ہیں۔

تشریح ارشاد ہے ’’ اور (حضرت ) علی ص کو نائب بنایا ‘‘ یعنی حضرت علی3 کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرما کر خود غزوۂ تبوک کیلئے تشریف لے گئے۔ ارشاد ہے ’’(جناب)علی المرتضیٰ آئے اور حضور 3کی اونٹنی سے بھی آگے بڑھ آئے ‘‘ یعنی حضرت علی3 مدینہ منورہ سے چل کر لشکر اسلام سے آملے اور حضور اکرم3کی اونٹنی کو آگے بڑھ کر روکا۔ ارشاد ہے ’’ رسول کریم3نے تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بلند آواز سے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ اس کو کوئی حاجت ابی طالب کے بیٹے کی طرف نہ ہو‘‘ یعنی ہر ایک شخص جناب ابوتراب سیدنا علی المرتضیٰ3 کا محتاج ہے۔ جس کسی کو بھی کسی مشکل کے وقت ضرورت پڑتی ہے تو جناب امام الاولیاء اس کی حاجت برآری فرماتے ہیں اور آپ3 ان کی ضرورتوں کو پورا فرماتے ہیں۔ ان کے مسائل حل فرماتے ہیں۔ ارشاد ہے’’ جناب علی المرتضیٰ3 نے فرمایا میں اﷲ عزوجل اور رسول اﷲ 3سے راضی ہوا‘‘ یعنی اﷲ جل جلالہ اور اس کے حبیب 3کے ہر ارشاد پر میرا سر خم ہے اور میں ان کی اطاعت پر راضی اور خوش ہوں۔

حد یث نمبر
۶۱؍۱۷ اخبرنا عمرو۱؂ بن علی قال حدثنا یحیے۲؂ یعنی ابن سعید قال حدثنا موسی۳؂ الجھنی قال دخلت علی فاطمۃ بنت علی فقال لھا وقفینی ھل عندک شیے عن والدک مثبت قالت حدثنی اسمآء بنت عمیس ان رسول اﷲ صلی 
اﷲ علیہ و الہ وسلم قال لعلی انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی

۶؂: سعد بن مالک: یہ سعد بن مالک دراصل سعد بن ابی وقاص ہے۔ ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۱
۱؂: عمرو بن علی:عمرو بن علی بن بحربن کنیز نام ہے۔ ابوحفص کنیت ہے۔ الفلاس الصیر فی الباہل البصری ہے،ثقہ ہے،حافظ ہے اور طبقۃ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۹ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ ۲۶۱)
۲؂: یحییٰ بن سعید: یحیےٰ بن سعید بن فروخ التیمی کی کنیت ابو سعید ہے۔ ثقہ متقن ، حافظ اور امام ہے۔ طبقہ التاسعۃ کے کبار سے ہے۔ ۱۹۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ ۲۷۵)
۳؂: موسیٰ الجہنی:موسیٰ بن عبد اﷲ بن عبد الرحمن کا لقب الجہنی او رکنیت ابو سلمۃ کوفی ہے۔ ثقہ اور عابد ہے لم یصح ان القطان طعن فیہ طبقۃ السادسۃ سے ہے۔ ۱۴۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ ۳۵۱)

ترجمہ موسیٰ الجہنی فرماتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت علی کے پاس گیا تو میں نے ان کو کہا مجھے واقف کرو کہ کیا آپ کے پاس کوئی چیز آپ کے باپ سے ثابت ہے تو انہوں نے فرمایا اسماء بنت عمیس نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول کریم3نے جناب علی المرتضیٰ کو فرمایا کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہے جیسا کہ (حضرت) ہارون ں کا (حضرت) موسیٰ ں کے نزدیک تھا مگر ہاں میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔
اسنادہ صحیح، رجالہ ثقاۃ (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المؤمنین صفحہ
۷۸)
تشریح ارشاد ہے ’’ تو میں نے ان کو کہا مجھے واقف کرو کہ کیا آپ کے پاس کوئی چیز آپ کے باپ سے ثابت ہے‘‘ یعنی آپ کے والد گرامی جناب سیدنا علی المرتضیٰ3 کی فضلیت اور عظمت پر کوئی حکم ہے یا حدیث حضورنبی کریم3ہے یا آپ رضی اﷲ عنہا کے پاس قوی دلیل کے ساتھ کوئی ثبوت موجود ہے۔ ارشاد ہے’’ انہوں نے فرمایا کہ اسماء بنت عمیس نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول کریم3نے جناب علی المرتضیٰ کو فرمایا کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہے جیسا کہ (حضرت)ہارونں کا ( حضرت )موسیٰ ں کے نزدیک تھا مگرہاں میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں‘‘ یعنی جناب علی المرتضیٰ3 کی فضلیت ، عظمت اور بلند
ئشان پر یہ ارشادِ نبوی3ایک جامع و مانع قوی برہا ن اور دلیل ظاہرہ اور حجتِ قاہرہ ہے جو کسی کو نصیب نہیں ہے۔

حد یث نمبر
۶۲؍۱۸ انبأنا احمد۱؂ بن سلیمان قال حدثنا جعفر۲؂ بن عون عن موسی۳؂ الجہنی قال ادرکت فاطمۃ بنت علی وھی ابنۃ ثما نین سنۃ فقلت لھا تحفظین عن ابیک شےئا قالت لا ولکن اخبرتنی اسمآء بنت عمیس انھا سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول یاعلي انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ
لا نبی من بعدی

اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۲
۱؂: احمد بن سلیمان: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۱
۲؂: جعفر بن عون:جعفر بن عون بن عمرو بن الحریث المخزومی صدوق ہے۔ طبقۃ التاسعۃ سے ہے۔ ۲۰۷ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ۵۶) قال ابن معین و ابن قانع ’’ثقۃ‘‘ وعن احمد ’’رجل صالح لیس بہ باس‘‘ و قال ابو حاتم ’’صدوق‘‘(احمد میرین البلوشی خصائص امیر المؤمنین، صفحہ ۷۸)
۳؂: موسیٰ الجہنی :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۱:۳
ترجمہ موسیٰ جہنی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت علی ص سے ملا جب کہ ان کی عمر شریف اسی برس تھی میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے باپ سے کچھ یاد رکھتی ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں مگر ہاں مجھے اسماء بنت عمیس نے خبر دی ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ3سے سنا ہے کہ حضور3نے فرمایا اے علی تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہے جیسا کہ ہارون(ں)کا رتبہ موسیٰ(ں)کے نزدیک تھا مگر ہاں میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ اسنادہ‘ صحیح (احمد میرین البلوشی ، صفحہ
۷۸)

حد یث نمبر
۶۳؍۱۹ انبأنا احمد۱؂ بن عثمان بن حکیم قال حدثنا ابو نعیم۲؂ قال حدثنا حسن۳؂ ہو ابن صالح عن موسی۴؂ الجھنی عن فاطمۃ۵؂ بنت علی عن اسمآء۶؂ بنت عمیس ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال لعلی انت منی
بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی

ترجمہ اسماء بنت عمیس سے روایت ہے یہ کہ رسول کریم3نے (جناب) علی المرتضیٰ کو فرمایا کہ تیرا رتبہ میرے نزدیک ایسا ہے جیسا کہ ہارون کارتبہ موسیٰ کے نزدیک تھا مگر ہاں اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اسنادہ صحیح، رجالہ ثقات(احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمومنین علی ابن ابی طالب صفحہ
۷۹)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۳
۱؂: احمد بن عثمان: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۵:۶
۲؂: ابونعیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۲
۳؂: حسن بن صالح: حسن بن صالح بن صالح بن حی الثوری ثقہ ، فقیہ اور عابد ہے۔ رمی باالتشیع ، طبقہ السابعۃ سے ہے۔ ۱۶۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۷۰)
۴؂: موسیٰ الجہنی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۱:۳
۵؂: فاطمہ بنت علیص: یہ فاطمہ بنت علی صبن ابی طالب ہے، اس کوفاطمۃ الصغریٰ بھی کہتے ہیں۔ اُم ولد کی بیٹی ہے۔ اپنے والد سے روایت کرتی ہے، کہا گیا ہے کہ اس نے باپ سے نہیں سنا بلکہ اپنے بھائی ابن الحنفیہ اور اسماء بنت عمیس سے روایت کرتی ہے اور اس سے حارث بن کعب الکوفی، حکم بن عبد الرحمن بن ابی نعم زر بن عروۃ بن عبید اللہ بن قشیر ،عیسیٰ بن عثمان ، موسیٰ الجہنی اور نافع بن ابی نعیم القاری روایت کرتے ہیں۔ ۱۱۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تہذیب ،جلد ۱۲صفحہ ۴۴۳)
۶؂: اسما ء بنت عمیس: الخشعےۃ میمونہ بنت حارث کی بہن ہے۔ صحابیہ ہے اس سے روایت کرنے والو ں میں اس کا بیٹا عبد اﷲ بن جعفر ، پوتا قاسم بن محمد بن ابی بکر اور بھانجا عبد اﷲ بن عباس ، دوسرا بھانجا عبداﷲ بن شداد بن الہاد، سعید ابن مسیب، فاطمۃ بنت علی، ابویزید المدنی، ابوبردہ بن ابی موسیٰ اور کئی دوسرے لوگ شامل ہیں۔ (تہذیب، جلد ۱۲، صفحہ ۳۹۸)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
باب ذکر الاخوۃ
’’ حضور اکرم پیغمبر اسلام احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی 3اور جناب امیر المومنین ابو تراب امام الاولیاء سیدنا علی المرتضیٰ3 کے بھائی ہونے کا ذکر ہے ‘‘
(اس باب میں تین احادیث شریف ہیں)

حل لغت الاخوۃ: اخ سے ہے جس کے معنی بھائی ، دوست اور ہم نشین کے ہیں۔

حد یث نمبر
۶۴؍۱ انبأنا محمد۱؂ بن یحیے بن عبد اﷲ النیسا بوری و احمد۲؂ بن عثمان بن حکیم اودی و (اللفظ) لمحمد قال حدثنا عمرو۳؂ بن طلحۃ قال حدثنا اسباط۴؂ عن سماک۵؂ عن عکرمۃ ۶؂ عن ابن عباس۷؂ ان علیا کان یقول فی حےٰوۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ان اﷲ تعالی یقول افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم و اﷲ لاننقلب علی اعقا بنا بعد اذ ھدانا اﷲ و اﷲ لئن مات او قتل وانقلبتم علی اعقابکم لا قاتلن علی ما قاتل علیہ حتی اموت او اقتل واﷲ انی لاخوہ و ولیہ و
وارثہ و ابن عمہ و من احق بہ منی

اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۴
۱؂: محمد بن یحییٰ: محمد بن یحییٰ بن عبد اﷲ بن خالد بن فارس النیساپوری ثقہ ، حافظ اور معزز ہے۔ طبقۃ الحادےۃ عشرۃ سے ہے۔ ۲۵۸ ؁ہجر ی میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۳۲۳)
۲؂: احمد بن عثمان: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۵:۱
۳؂: عمرو بن طلحۃ:عمرو بن حماد بن طلحۃ القناد الکوفی کی کنیت ابومحمد ہے اور کبھی اپنے جد کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ صدوق اور رمی بالرفض ہے۔ طبقۃ العاشرہ سے ہے۔ ۲۲۲ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(التقریب ،صفحہ۲۵۹)یہ اسباط بن نصر الہمدانی ،مسہر بن عبدالملک بن سلع، مندل بن علی ، علی بن ہاشم بن البرید، عامر بن یسار، حماد بن ابی سلیمان ، مطلب بن زیاد، جعفر بن سلیمان اور بہت سے دوسرے لوگوں سے روایت کرتا ہے۔ اور اس سے مسلم ، جابر بن سمرہ کی حدیث مسح حدود الولدان روایت کرتا ہے۔ بخاری کتاب الادب میں نیز ابوداؤداور نسائی (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے )

ترجمہ ابن عباس سے روایت ہے کہ علی3 حضور رسول کریم3کی زندگی میں فرماتے تھے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے پس اگرپیغمبر3وصال فرمائیں یا شہید ہو جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔ اﷲ کی قسم کہ ہم اپنی ایڑیوں کے بل نہیں پھریں گے اس کے بعد کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت نصیب فرمائی۔ اﷲ کی قسم اگر وہ وصال پا جائیں یا شہید ہو جائیں اور تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ تو ضرور بالضرور میں اس چیز پر لڑوں گا جس پر حضرت رسول کریم 3نے لڑائی کی یہاں تک کہ میں مرجاؤں یا شہید ہوجاؤں۔ قسم ہے اﷲ کی کہ میں اس (آپ3)کا بھائی ہوں اور اس(3)کا ولی ہوں، اور اس(3)کا وارث ہوں اور اس (3)کے چچا کا بیٹا ہوں اور مجھ سے زیادہ اس (3) کاکوئی اور حقدار نہیں ہے۔


تشریح ارشاد ہے ’’ اﷲ کی قسم کہ ہم اپنی ایڑیوں کے بل نہیں پھریں گے اس کے بعد کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت نصیب فرمائی ‘‘ یعنی جبکہ اﷲ جل جلالہ‘نے ہمیں دولتِ ایمان سے نوازا ہے، قرآن مجید اور حضور3کی سنت مبارکہ ہمارے پاس ہدایت کی روشن مشعلیں موجود ہیں تو پھر ہمارے گمراہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ارشاد ہے ’’تو ضرور بالضرور میں اس چیز پر لڑوں گا جس پر حضور 3نے لڑائی کی یہاں تک کہ میں مرجاؤں یا شہید ہو جاؤں‘‘ یعنی پیغمبر اسلام 3نے اعلائے کلمۃ اﷲ کیلئے جو جہاد کا راستہ متعین فرمایا ہے میں کافروں کے ساتھ اسی طرح جہاد کرتا رہوں گا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا دین غالب ہوجائے۔ اگرچہ اس مقصد عظیم کے حصول میں میرا

بقیہ حاشیہ : بھی روایت کرتے ہیں۔ اور ابن ماجہ اپنی تفسیر میں بواسطہ عبد اﷲ بن محمد المسندی اور کئی دیگر روایت کرتے ہیں۔ ابن معین اور ابوحاتم نے کہا صدوق ہے۔ ابو داؤد نے کہا رافضی ہے۔ ذکر عثمان بشےئی فطلبہ السلطان فھرب۔ اور مطین نے کہا ثقہ ہے۔ (تہذیب، جلد
۸ صفحہ ۲۲)
۴؂: اسباط: اسباط بن محمد بن عبدالرحمن بن خالد بن میسرہ القرشی ہے ، ابو محمد کا مولیٰ ہے ۱۹۹ ؁ہجری میں فوت ہوا(التہذیب ، جلد ۱، صفحہ ۲۱۱)
۵؂: سماک: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۵:۴
۶؂: عکرمۃ:عکرمہ بن عبد اﷲ ، حضرت عبد اﷲ بن عباس کا غلام ہے۔ بربری الاصل ہے، ثقہ ہے، ثبت ، عالم باالتفسیر ہے۔ ابن عمر سے اس کی تکذیب ثابت نہیں ہے اور نہ ہی اس سے بدعت ثابت ہے۔طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۰۷ ؁ہجری یا اس کے لگ بھگ وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۲۴۲) اس کی کنیت ابوعبداﷲ المدنی ہے۔ یہ پہلے حصین بن ابی الحرا العنبری کاغلام تھا۔ جب عبداﷲ بن عباسص جناب علی المرتضیٰص کی طرف سے مصر کے گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے یہ (عکرمہ ) آپ کو بخشا۔ یہ اپنے آقا (ابن عباسص) علی بن ابن طالبص ، حسن بن علیص ، ابن عمرص ، ابی ہریرہص اور دیگر اصحاب سے روایت کرتا ہے۔ اور اس سے ابراہیم النخعی ابوالشعشاء ، جابر بن زید ، شعبی ، ابو اسحاق السبیعی ، ابو الزبیر قتادہ ، سماک بن حرب اور بہت سے لوگ روایت کرتے ہیں۔ (تہذیب، جلد ۷صفحہ ۲۶۳)
۷؂: ابن عباسص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۸
وصال ہوجائے یا میں شہید کر دیا جاؤں۔ ارشاد ہے ’’ قسم ہے اﷲ کی کہ میں اس ( 3 )کابھائی ہوں اور اس ( 3 )کا ولی ہوں اور اس(3 ) کا وارث ہوں اور اس (3) کے چچا کا بیٹا ہوں اور مجھ سے زیادہ اس (3) کا کوئی اور حقدار نہیں ہے‘‘ یعنی جس وقت صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے اور مسجد کی تعمیر ہوچکی تو حضور پیغمبراسلا م3نے مہاجرین اور انصار صحابہ میں مواخاۃ کروائی۔ اس وقت آنحضرت3جناب انس بن مالکص کے گھر پر رونق افروز تھے۔ آپ 3نے انصار کو جمع فرمایا۔ اس موقع پر پینتالیس(
۴۵)مہاجر موجود تھے۔ حضور3نے انصار کو ارشاد فرمایا ’’ یہ تمہارے بھائی ہیں ‘‘ پھر مہاجرین اور انصار سے دو دو اشخاص کو بلا کر فرماتے گئے یہ اور تم بھائی بھائی ہو۔ آپ3کے اس ارشاد گرامی کا اتنا اثر ہوا کہ ان ہر دو حضرات میں حقیقی بھائیوں سے زیادہ آپس میں محبت اور ایثار موجزن رہا۔ اس مواخاۃ کے رشتہ سے جو حضرات آپس میں بھائی بھائی بنے اس میں سے بعض حضرات کے یہ نام ہیں جناب سیدنا ابوبکر صدیق ص خارجہ بن زید انصاری کے بھائی بنے۔ جناب سیدنا عمر فاروق عتبان بن مالک انصاری کے بھائی بنے اور جناب سیدنا عثمان ذی النورین اوس بن ثابت انصاری کے بھائی بنے وغیرہ وغیرہ رضی اﷲ عنہم۔ 
صاحبِ ترمذی جناب ابن عمرص سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول کریم3نے اپنے صحابہ میں مواخاۃ فرمائی تو جناب سیدنا علی المرتضیٰ3 روتے ہوئے تشریف لائے اور عرض کی کہ آپ نے اپنے صحابہ کے درمیان تو مواخاۃ قائم فرما دی اور کسی ایک کو میرا بھائی نہیں بنایا۔ تو جناب سیدنا و مولانا شفیعنا رسول کریم3نے فرمایا’’ انت اخی فی الدنیا والاخرۃ ‘‘ اے علی ! تو دنیا اور آخرت میں میرا بھائی ہے۔ 
وقال ھذا حدیث حسن غریب

حد یث نمبر
۶۵؍۲ اخبرنی الفضل۱؂ بن سھل قال حدثنا عفان۲؂ بن مسلم قال حدثنا ابو عوانۃ۳؂ عن عثمان۴؂ بن المغیرۃ عن ابی صادق۵؂ عن ربیعۃ۶؂ بن ناجد ان رجلا 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۵
۱؂: فضل بن سہل: فضل بن سہل بن ابراہیم الاعرج البغدادی ہے، اصل میں خراسان کا رہنے والا تھا، صدوق ہے، طبقہ الحادےۃ عشرۃ سے ہے۔ ۲۲۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۲۷۵)
۲؂: عفان بن مسلم: عفان بن مسلم بن عبد اﷲ الباہلی ہے، ابو عثمان کنیت ہے، ثقہ اور ثبت ہے۔ ابن المدائنی نے کہا کہ اگر اسے حدیث کے کسی حرف میں شک پڑجاتا تو اسے ترک کر دیتا ربما وھم طبقہ العاشرۃ کے کبار سے ہے۔ ۲۱۹ ؁ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۲۴۰)
۳؂: ابوعوانۃ (الوضاح): ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۳:۳ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 
قال لعلی ابن ابی طالب یا امیر المؤمنین لم ورثت ابن عمک دون عمک قال جمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم او قال دعٰی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بنی عبد المطلب فصنع لھم مدّا من طعام قال فا کلوا حتی شبعوا و بقی الطعام کما ھو کانہ لم یمس ثم دعا بغمرۃ فشربوا حتی رو و ابقی الشراب کانہ لم یمس اولم یشرب فقال یا بنی عبدالمطلب انی بعثت الیکم خاصۃ و الی الناس عامۃ و قدرایتم من ھذہ الامۃ ما قدر أیتم فایکم یبایعنی علی ان یکون اخی وصاحبی و وارثی و وزیری فلم یقم الیہ احد فقمت الیہ و کنت اصغر القوم سنا فقال اجلس قال ثلث مرات کل ذالک اقوم الیہ فیقول اجلس حتی کان فی الثالثۃ فضرب بیدہ
علی یدی ثم قال انت اخی و صاحبی و وزیری فبذالک ورثت ابن عمی دون عمی

ترجمہ ربیعہ بن ناجد سے روایت ہے کہ ایک شخص نے علی ابن ابی طالب سے کہا اے امیر المومنین! تو اپنے چچا کے بیٹے کا کیسے وارث بنا بجائے اپنے چچا کے۔ (امیرالمومنین ص) نے فرمایا اکٹھا کیا رسول اﷲ3نے یا بلایا رسول اﷲ 3 نے عبدالمطلب کی ساری اولا دکوپس ان سب کیلئے ایک مد طعام کا کھانا تیا ر کیا۔ فرماتے ہیں سب نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور کھانا اتنا ہی باقی موجود تھا جتنا پکایا گیا تھا گویا کہ اسے چھوا تک نہیں گیا۔پھر آنحضرت 3 نے پانی کا پیالا منگوایا۔ پس ساری قوم نے اسی سے پانی پیا یہاں تک کہ خوب سیراب ہوگئے اور 

بقیہ حاشیہ :
۴؂: عثمان بن المغیرہ: عثمان بن المغیرہ الثقفی مولاھم ابو المغیرہ الکوفی الاعشی ہے۔ ثقہ ہے، طبقہ السادستہ سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۲۳۶)
۵؂: ابی صادق: اس کا نام مسلم بن یزید اور بعض کے نزدیک عبداﷲ بن ناجد ہے۔ یہ اپنی کنیت ابوصادق سے معروف ہے۔ یہ ربیعہ بن ناجد ، مخنف بن سلیم ، عبد الرحمن بن یزید ، النخعی وغیرہ سے روایت کرتا ہے اور اس سے سلمۃ بن کہیل ، عثمان بن المغیرہ اور شعیب بن الحجاب وغیرہم روایت کرتے ہیں۔ یعقوب بن شیبہ نے کہا ثقہ ہے، ابن حبان نے اسے اپنی ثقات میں ذکر کیا ہے، ابن ابی حاتم نے اسے مستقیم الحدیث کہا ہے،ابن سعد نے کہا وکان و رعا مسلما قلیل الحدیث یتکلمون فیہ ۔ (تہذیب، جلد ۱۲صفحہ ۱۳۰)
۶؂: ربیعہ بن ناجد: ربیعہ بن ناجد الازدی الکوفی ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ ابی صادق کا بھائی ہے جو اس سے روایت کرتا ہے۔ ثقہ ہے۔ طبقہ الثانیہ سے ہے (التقریب ،صفحہ ۱۰۲)یہ حضرت علی ص، ابن مسعودص ، عبادہ بن صامت صسے روایت کرتا ہے اور اس سے ابی صادق روایت کرتا ہے۔ (تہذیب، جلد ۳ ،صفحہ ۲۶۳)
پانی اتنا ہی (موجود) تھا جتنا پہلے اس پیالا میں تھا گویا کہ اسے چھوا تک نہیں گیا یا کسی نے پیا ہی نہیں۔ تو ارشاد فرمایا اے عبدالمطلب کی اولاد ! تمہاری طرف خاص طور پر اور لوگوں کی طرف عام طور پر بھیجا گیا ہوں اور تم نے اس امت سے جو دیکھنا تھا تحقیق وہ دیکھا۔ پس تم میں سے کون میری بیعت کرتا ہے کہ میرابھائی ، میرا صاحب، میرا وارث اور میرا وزیر بن جائے۔ کوئی ایک بھی ان کی طرف نہ اٹھا پس میں ان کی طرف آگے بڑھا حالانکہ میں ان لوگوں میں سب سے کم عمر تھا۔ تو آنحضرت 3 نے فرمایا اے علی بیٹھ جا، تین بار آپ3نے یہ کلمات فرمائے۔ میں ہر بار آپ3کی دعوت پر کھڑا ہوتا تھا سو حضور3فرماتے کہ بیٹھ جا، یہاں تک کہ جب تیسری بار ہوئی تو پھر اپنا ہاتھ مبارک میرے ہاتھ پر رکھا۔ پھر ارشاد فرمایاتو میرا بھائی ہے اور میرا صاحب ہے اور میرا وزیر ہے پس اسی واسطے سے میں اپنے چچا کے بیٹے کا وارث ہوا سوائے اپنے چچا کے۔

حل لغت مد: چوتھا صاع پیمانہ ہوتاہے، امام ابوحنیفہ ص کے نزدیک مد دو رطل کا ہوتا ہے،تو صاع کے آٹھ رطل ہوئے ، ہمارے ہاں مد بقد ر دس چھٹانک کے ہے۔ شبعوا : خوب شکم سیر ہوگئے، شبع : مصدر ہے ،شکم سیر ہونا ، پیٹ بھرا ہونا۔ الغمر : چھوٹا پیالہ غمار اور اغمار جمع ہے۔ (مصباح اللغات صفحہ
۵۹۵) ۔الروی : مصدرہے جبکہ قرینہ شرب (پینا ) ہو تو معنی ہے پوری سیرابی۔

تشریح ارشاد ہے ’’ اے امیر المومنین ! توا پنے چچا کے بیٹے کا کیسے وارث بنا بجائے اپنے چچا کے‘‘یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ آپ اپنے اپنا چچا کے وارث بنتے مگر بجائے اس کے آپ اپنے چچا کے بیٹے یعنی حضور سرور عالم و عالمیان جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی 3کے کس طرح وارث بن گئے ہیں۔ ارشاد ہے ’’ اکٹھا کیا رسول اﷲ3نے، یا بلایا رسول اﷲ3نے عبدالمطلب کی ساری اولاد کو‘‘ یعنی یہ راوی کا شک ہے کہ یہ فرمایا کہ اکٹھا کیا یا یہ فرمایا کہ بلایا بہرحال معنی ایک ہی ہے کہ عبدالمطلب کی ساری اولاد کو توحید و رسالت کی دعوت دینے کیلئے ایک مقام پر بلایا، جمع کیا اور اکٹھا کیا۔ ارشاد ہے ’’ ان سب کیلئے ایک مد طعام کا کھانا تیار کیا‘‘ یعنی تمام بنی عبدالمطلب کی دعوت صرف دس چھٹانک طعام سے فرمائی۔ ارشاد ہے ’’ اور پانی اتنا ہی باقی (موجود ) تھا جتنا پہلے اس پیالہ میں تھا گویا کہ اسے چھوا تک نہیں گیا یا کسی نے پیا ہی نہیں‘‘ یعنی حضور پاک ، صاحبِ لولاک صاحبِ آیات بینات و صاحبِ معجزاتِ عظیمہ جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی3کا کتناعظیم معجزہ بنی عبدالمطلب کیلئے ظاہر وباہر تھا کہ اتنا مختصر سا اور قلیل کھانا تمام بنی عبدالمطلب نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور پانی سیراب ہو کر پیا اور پھر بھی بفضلہ تعالیٰ کھانااور پانی کم نہ ہوا۔ ان کیلئے آپ3کی نبوت بزرگی ، شرافت اور عظمت پر یہی دلیل کافی تھی۔ جب وہ کھانے پینے سے فارغ ہوگئے ۔ ارشاد ہے ’’اے عبدالمطلب کی اولاد تمہاری طر ف خاص طور پر اور لوگوں کی طرف عام طور پر بھیجا گیا ہوں‘‘یعنی تمہیں خصوصی دعوت اسلام دے رہا ہوں چونکہ تم رشتہ میں میرے انتہائی قریب ہو اور میری اس گزری ہوئی چالیس سالہ گھریلو زندگی سے خوب اچھی طرح واقف ہو کہ میں نے کسی کے ساتھ کبھی بھی ناشائستہ بات تک نہیں کی، کسی کے ساتھ کبھی بھی جھوٹا وعدہ نہیں کیا، کسی کو کسی وقت بھی دھوکہ نہیں دیا، کسی شخص کی امانت میں خیانت نہیں کی، ہر ایک کے حقوق کی پاسداری کی ہے اور تم ان سب باتوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہو اور واقف ہو کیونکہ تم لوگ میرے انتہائی قریبی رشتہ دار اور عزیز ہو ۔لہٰذا میں تمہیں خصوصی طور پر توحیدِ الٰہی اور اپنی نبوت کی دعوت دیتا ہوں اسے قبول کرو اور دین اسلام کے غلبہ کا باعث بنو۔ ارشاد ہے’’ اور تم نے اس امت سے جو دیکھنا تھا تحقیق وہ دیکھ لیا‘‘ یعنی مکہ مکرمہ کے رہنے والے بجائے دعوتِ اسلام کے قبول کرنے کے مظالم پر اتر آئے ہیں۔ اور ہر قسم کی تکلیف دینے سے گریز نہیں کرتے۔ ارشاد ہے ’’ کو ئی ایک بھی ان کی طرف نہ اٹھا‘‘یعنی عبدالمطلب کی اولاد سے کسی ایک نے بھی قبولِ اسلام کیلئے حضور3کی طرف قدم نہ بڑھائے۔ ارشاد ہے ’’ پس میں ان کی طرف آگے بڑھا حالانکہ میں ان لوگوں میں سب سے کم عمر تھا ‘‘ یعنی جناب علیٰ المرتضیٰ3 فرماتے ہیں کہ میں بیعت کیلئے آگے بڑھا باوجود اس کے کہ اس مجلس میں میں ان سب سے کم عمر تھا۔ارشاد ہے ’’ میں ہر بار آپ3کی دعوت پر کھڑا ہوتا تھا‘‘ یعنی آپ3کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بیعت کیلئے آگے بڑھتا تھا۔ ارشاد ہے ’’ پھر اپنا ہاتھ مبارک میرے ہاتھ پر رکھا‘‘ یعنی مجھے اپنے دستِ مبارک پر بیعت فرمایا۔ پھر ارشاد فرمایا ’’تو میرا بھائی ہے اور میرا صاحب ہے اور میر اوزیر ہے ‘‘ اس حدیث میں صرف یہ تین باتیں بیان کی گئی ہیں مگر اسی حدیث میں جو کہ مصر کی مطبوعہ ہے اس میں انت اخی ، وصاحبی و وارثی و وزیری کے الفاظ موجود ہیں۔ نیز ’’مجمع الزوائد ‘‘ جلد
۸ صفحہ ۳۰۲، ’’الریاض النضرہ ‘‘جلد ۲ صفحہ ۱۶۷، ’’کنز العمال ‘‘جلد ۶ صفحہ ۴۸ پر بھی یہی الفاظ ہیں۔ ارشاد ہے ’’پس اس واسطے سے میں اپنے چچا کے بیٹے کا ( یعنی محمد رسول اﷲ3)کا وارث ہوا سوائے اپنے چچا کے ‘‘۔

حد یث نمبر
۶۶؍۳ اخبرنا زکریا۱؂ بن یحیے قال حدثنا عثمان۲؂ قال حدثنا عبد اﷲ۳؂ بن نمیر قال حدثنا مالک۴؂ بن مغول عن الحارث۵؂ بن حصیرۃ عن ابی سلیمان۶؂
الجہنی قال سمعت علیا علی المنبر یقول انا عبداﷲ و اخو رسولہ

ترجمہ ابو سلیمان جہنی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں میں نے( سیدنا )علی المرتضیٰ سے سنا جبکہ وہ منبر پر تشریف فرما تھے ،فرماتے تھے کہ میں اﷲ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول3کا بھائی ہوں۔ 

تشریح بعض دوسری کتابوں میں ان الفاظ سے زیادہ کچھ لکھے ملتے ہیں مگر جس کتاب سے یہ ترجمہ ہو رہا ہے اس کتاب میں چونکہ وہ زائد الفاظ موجود نہیں اس لئے یہاں ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔





اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۶
۱؂: زکریا بن یحییٰ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۲؂: عثمان: عثمان بن محمد بن ابراہیم بن عثمان العبسی کی کنیت ابوالحسن ہے ، ثقہ ، حافظ اور مشہور ہے۔ ولہ اوھاماور کہا گیا ہے کان لا یحفظ القران۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔۲۳۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۲۳۶)
۳؂: عبداﷲ بن نمیر: یہ عبداﷲ بن نمیر الہمدانی ہے، ابو ہشام اس کی کنیت ہے۔ ثقہ ہے۔ صاحب حدیث من اھل السنۃ۔ طبقہ التاسعۃ کے اکابر سے ہے۔ ۱۹۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۱۹۲)
۴؂: مالک بن مغول:مالک بن مغول کوفی کی کنیت ابو عبداﷲ ہے ثقہ اور ثبت ہے۔ طبقہ السابعۃ کے کبار سے ہے۔ ۱۵۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۳۲۷)
۵؂: الحارث بن حصیرۃ: الحارث بن حصیرۃ الازدی کی کنیت ابو نعمان ہے کوفی ہے، صدوق ہے، یخطی و رمی بالرفض۔ طبقہ السادسۃ ہے۔ (التقریب ،ص۵۹)ابن معین اور مصنف نے اسے ثقہ لکھا۔ و قدح فیہ ابو حاتم و ابن عدی و العقیلی۔ اگر اس کے مخالف کوئی حدیث نہ ملے تو یہ حدیث ان شاء اﷲ حسن ہے۔ (ابو اسحاق الحوینی ، خصائص امام علیص، صفحہ ۶۵)
۶؂: ابی سلیمان الجہنی: اس کا نام زید بن وہب الجہنی ہے، اس کی کنیت ابو سلیمان کوفی ہے، مخضرم ہے، ثقہ اورعظیم المرتبت ہے۔ لم یصب من قال فی حدیثہ خلل ۸۰ ؁اور ۹۶ ؁ہجری کے درمیان فوت ہوا۔(التقریب ، صفحہ ۱۱۴)۔ ابن معین نے کہا ’’ثقہ ہے‘‘ ابن خراش نے کہا ’’ثقہ ہے‘‘ ابن سعد نے کہا’’ ثقہ ہے‘‘ العجلی نے کہا ’’ثقہ ہے‘‘ وقال یعقوب بن سفیان فی حدیثہ خلل کثیر (تہذیب ،صفحہ ۴۲۷)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط 
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ 
والہ وسلم علی منی و انا منہ 
’’ حضور سید الا نبیا ء 3کے اس ارشاد گرامی کا 
ذکر ہے کہ علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں‘‘ 
(اس باب میں تین احادیث شریف ہیں)

قبلہ عالم حضرت سید مہر علی شاہ صاحب چشتی گولڑوی3ارشاد فرماتے ہیں 
حب نبی ہے مہر علی اور مہر علی ہے حب نبی 
لحمک لحمی جسمک جسمی فرق نہیں مابین پیا

حد یث نمبر
۶۷؍۱ انبأنا بشر۱؂ بن ھلال عن جعفر۲؂ بن سلیمان عن یزید۳؂ الرشک عن مطرف۴؂ بن عبداﷲ عن عمران۵؂ بن حصین قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ
والہ وسلم ان علیا منی و انا منہ وھو ولی کل مؤمن 

ترجمہ عمران بن حصین سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول کریم3نے فرمایا یہ کہ (جناب) علی المرتضیٰ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ ہر مومن کے ولی ہیں۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۷
۱؂: بشر بن ہلال:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵:۱ ۲؂: جعفر بن سلیمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵:۲
۳؂: یزید الرشک:یزید بن ابی یزید الضبعی کی کنیت ابوالازہر ہے ،بصری ہے اور الرشک کے لقب سے مشہور ہے۔ ثقہ اور عابد ہے وھم من لین اور طبقہ السادستہ سے ہے۔ ۱۳۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ۳۸۵)
۴؂: مطرف بن عبد اﷲ:مطرف بن عبداﷲبن الشخیرالعامر ی الحرشی ہے۔ ابو عبداﷲ کنیت ہے۔ البصری ہے ثقہ ، عابد اور فاضل ہے۔ طبقہ الثانےۃ سے ہے۔ ۹۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ۳۳۹) ۵؂: عمران بن حصین: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۱:۷

تشریح ارشاد ہے’’ یہ کہ (جناب) علی المرتضیٰ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ ہر ایک مومن کے ولی ہیں ‘‘ یعنی حضور سید الکل ،فخر رسل ، امام الانبیاء3کے اس ارشاد گرامی سے جناب امیرالمومنین علی المرتضیٰ3 کے اعلیٰ مقام اور عظیم منزلت کی ایک عظیم الشان نشاندہی ہو رہی ہے گویا وجوداً ، ظاہراً اور باطناً پیغمبر اسلام3اور جناب علی المرتضیٰ3 ایک ہی نور کے دو وجود ہیں
من تو شدم تو من شدی من جان شدم تو تن شدی
تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری!
اسنادہ صحیح ، (ابو اسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الا مام علی صفحہ
۶۶)

حد یث نمبر
۶۸؍۲ اخبرنا احمد۱؂ بن سلیمان قال حدثنا زید۲؂ بن حباب قال حدثنا شریک۳؂ قال حدثنا ابو اسحق۴؂ قال حدثنی حبشی۵؂ بن جنادۃ السلولی قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم یقول علی منی و انا منہ فقلت لابی اسحق انت سمعتہ منہ فقال وقف علی ھھنا فحدثنی بہ و رواہ اسرائیل فقال ابو اسحاق عن البرآء قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی انت منی و انا منک

ترجمہ حبشی بن جنادہ سلولی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول کریم3کو فرماتے سنا ہے کہ علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ تو میں نے ابی اسحاق سے کہا کیا تو نے یہ حدیث اس سے سنی ہے تو اس نے کہا کہ جناب علی المرتضیٰ اس جگہ موجود تھے تو اس نے یہ حدیث مجھے بیان کی۔ نیز اسرائیل ابی اسحاق سے او ر وہ براء سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضور رسول کریم3نے (جناب) علی (المرتضیٰ )ص کو فرمایا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۸
۱؂: احمد بن سلیمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۱
۲؂: زید بن حباب:زید بن حباب کی کنیت ابوالحسین العکلی ہے، خراسان میں رہتا تھا پھر کوفہ آیا۔ صدوق ہے، طبقۃ التاسعۃ سے ہے۔ ۲۰۳ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ۱۱۲)
۳؂: شریک (بن عبد اﷲ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۱: ۳ ۴؂:ابواسحاق(السبیعی):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲: ۴
۵؂: حبشی بن جنادۃص:حبشی بن جنادۃ السلولی صحابی ہے۔ کوفہ میں سکونت پذیر رہا۔ (التقریب ،صفحہ ۶۲)

تشریح ارشاد ہے ’’ میں نے ابی اسحاق سے کہا کیا تو نے یہ حدیث اس سے سنی ہے‘‘ یعنی اسرائیل نے ابی اسحاق سے دریافت کیا کہ کیا یہ حدیث تو نے خود حبشی بن جنادہ السلولی سے سنی ہے۔ رواہ، القاسم بن یزید المخزومی عن اسرائیل عن ابی اسحق عن ھبیرۃ و ھانی عن علی
اسنادہ حسن (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المؤمنین صفحہ
۸۷)

حد یث نمبر
۶۹؍۳ انبأنا احمد۱؂ بن حرب قال حدثنا قاسم۲؂ و ھو ابن یزید الجرمی قال حدثنا اسرائیل۳؂ عن ابی اسحق۴؂ عن ھبیرہ۵؂ بن یریم و ھانی۶؂ بن ھانی عن علی۷؂ قال لما صدرنا من مکۃ اذ بنت حمزۃ تنادی یاعم یاعم فتنا ولھا علی و اخذھا فقال لفاطمۃ دونک ابنۃ عمک فحملھا فاختصم فیھا علی و جعفر و زید فقال علی انا اخذھا وہی ابنۃ عمی قال جعفر ابنہ عمی و خالتھا تحتی و قال زید ابنۃ اخی فقضی بھا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لخالتھا وقال الخالۃ بمنزلۃ الام وقال لعلی انت منی و انا منک وقال لجعفر اشبھت خلقی و خلقی وقال لزید
انت اخونا

ترجمہ حضرت علی3 سے روایت ہے کہ جب ہم مکہ مکرمہ سے لوٹے۔ ناگاہ حمزہ صکی بیٹی پکارتی تھی اے چچا اے چچا پس جناب علی المرتضیٰ صوہاں پہنچے اور اس کو اٹھا لیا تو (جناب) فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے کہا اپنے چچا کی بیٹی کو لے پس اس (فاطمہ سلام اللہ علیہا) نے اسے اٹھا لیا۔ سو جھگڑے علی ، جعفر اورزید (جناب علی المرتضیٰ3 ) نے فرمایا کہ اس کی پرورش میں کروں گا اس لئے کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ (جناب) جعفر ص نے کہا کہ میرے بھی چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے اور زید نے کہا کہ یہ تو میرے بھتیجی ہے۔ جناب رسول کریم3نے اس کی پرورش کرنے کا اس کی خالہ کے حق میں فیصلہ فرمایا کہ خالہ بجائے والدہ کے ہوتی ہے۔ اور (حضرت) علی کو ارشاد فرمایا’’ اے علی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ‘‘ اور جناب جعفر کو فرمایا کہ تو پیدائش اور خلق میں میرے مشابہ ہے اور زید کو فرمایا کہ تو ہمارا بھائی ہے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۶۹
۱؂: احمد بن حرب:احمد بن حرب بن محمد بن علی بن حیان بن مازن بن الغضوبہ الطائی الموصلی ہے۔ صدوق ہے طبقہ العاشرۃ سے ہے۔ ۲۶۳ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۱۲) (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 

حل لغت صدر : لوٹنا ، رجوع کرنا ، لوٹانا۔ نیل، یا نال یا نالۃ : پہنچنا، مراد حاصل کرنا ، گالی دینا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ ناگاہ حمزہ کی بیٹی پیچھے سے پکارتی تھی ‘‘ یعنی جناب حمزہ صکی بیٹی پیچھے سے پکارتی تھی چلا چلا کر آواز کر رہی تھی۔ ارشاد ہے ’’ پس جناب علی وہاں پہنچے اور اس کو اٹھا لیا‘‘ یعنی جناب علی المرتضیٰ3اس صاحبزادی کی پکار پر اس کے پاس پہنچے اور اس کو سنبھال لیا۔ ارشاد ہے ’’سو جھگڑے علی ، جعفر اور زید‘‘ یعنی اس صاحبزادی کی پرورش کرنے کے متعلق ان تینوں حضرات (علی المرتضیٰ ، جناب جعفر اور حضرت زید) کے مابین جھگڑا ہوا۔ ان میں سے ہر ایک صاحب کی یہ خواہش تھی کہ اس لڑکی کی میں پرورش کروں اور ہر ایک اپنی اپنی دلیل دینے لگے۔ ارشاد ہے ’’ کہ خالہ بجائے والد ہ کے ہوتی ہے‘‘ یعنی وہ صاحبزادی حضور3نے جناب جعفر کے حوالے کی اس لئے کہ اس لڑکی کی خالہ جناب جعفر کی بیوی تھی۔ نیز یہ بھی واضح ہوا کہ خالہ ماں کے برابر ہوا کرتی ہے۔ ارشاد ہے ’’ اور حضرت علی کو ارشاد فرمایا اے علی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ‘‘ یعنی حدیث شریف کا یہ ٹکڑا اس باب سے متعلق ہے یعنی حضرت علی3کی کمال فضیلت ہے۔ 
صحیح اسنادہ حسن(احمد میرین البلوشی، خصائص المؤمنین صفحہ
۸۸)







بقیہ حاشیہ :
۲؂: قاسم بن یزید:قاسم بن یزید الجرمی کی کنیت ابویزید الموصلی ہے۔ ثقہ اور عابد ہے، طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۱۹۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ ۲۸۰)
۳؂: اسرائیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۳
۴؂: ابی اسحاق (السبیعی):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۵؂: ہبیرہ بن یریم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۵
۶؂: ہانی بن ہانی: ہانی بن ہانی الہمدانی الکوفی مستور ہے۔ طبقہ الثالثۃ سے ہے۔(التقریب، صفحہ ۳۶۳)
۷؂: علی المرتضیٰص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶ 

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ
والہ وسلم علی کنفسی 
’’ حضور سید دو عالم 3کے اس ارشاد کا بیان 
ہے کہ علی المرتضیٰ3 میری جان کی طرح ہے‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)
حل لغت کنفسی : میری جان کی طرح، میری ذات کی مانند۔ ک : کی مانند،یہ حروف تہجی میں بائیسواں حرف ہے، ک جارہ اور غیرجارہ ہوتا ہے تشبیہ ، تعلیل ، استعلاء مبادرت تاکید اور زائد بھی ہوتا ہے۔ یہاں پر تشبیہ واقع ہے جیسے زید کالاسد۔
حد یث نمبر
۷۰؍۱ انبأنا العباس۱؂ بن محمد الدوری قال حدثنا الاحوص۲؂ بن جواب قال حدثنا یونس۳؂ ابن ابی اسحق۴؂ عن ابی اسحق عن زید۵؂ بن یثیع عن ابی ذر۶؂ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لینتھین بنواوکیعۃ او لا بعثن الیھم رجلا کنفسی یتقدم فیھم امری فیقتل المقاتلۃ و یسبی الذرےۃ فمارا عنی الا و کف عمر فی حجزتی من خلفی قال من تعنی قال ما ایاک اعنی و لا صاحبک قال فمن
تعنی قال خاصف النعل قال و علی یخصف النعل

اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۰
۱؂: عباس بن محمد:عباس بن محمد بن حاتم الدوری کی کنیت ابوالفضل البغدادی ہے، اصل میں خوارزمی ہے۔ ثقہ ، حافظ، طبقہ الحادیہ عشرہ سے ہے۔ ۲۷۱ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۱۶۶)
۲؂: الاحوص بن جواب الضبی : الاحوص بن جواب الضبی کی کنیت ابا الاالجواب کوفی ہے، صدوق ہے ربما وھم طبقہ التاسعۃ سے ہے، ۱۱۱ ہجری میں فوت ہوا (التقریب ،صفحہ ۲۵)
۳؂: یونس بن ابی اسحاق :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۳ ۴؂:ابی اسحاق السبیعی : ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث ۲۲:۴
۵؂: زید بن یثیع الہمدانی الکوفی ثقۃ و مخضرم ہے، طبقہ الثانیہ سے ہے۔ (التقریب صفحہ ۱۱۴)
ترجمہ ابی ذر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم3نے فرمایا البتہ ضرور بالضرور بنو وکیع ا؂ باز آجائیں یا البتہ ضرور بالضرور میں ان کی طرف ایک ایسے معزز شخص کو بھیجوں گا جو میری اپنی جان کی طرح ہے وہ میرا حکم ان لوگوں کے سامنے پیش کرے گا۔ پس لڑنے والوں کو قتل کرے گا اور ان کی اولادوں کو قید کرے گا۔ پس عمرص کے میری کمر پر ہاتھ رکھنے نے مجھے متوجہ کیا۔ جناب عمرصنے کہا کہ آپ کی مراد کس شخص سے ہے۔ (حضور3نے) ارشاد فرمایا نہ توتُو اور نہ ہی تیرے ساتھی میں مراد رکھتا ہوں۔ پھر عرض کیا کہ آپ کی مراد کس شخص سے ہے۔ ارشاد فرمایا (میری مراد) جوتا سینے والے سے ہے۔ (جناب عمر نے) فرمایا اور علی جوتا سیتے تھے۔
حل لغت سبی، یسبی ، سبیا: دشمن کو قید کرنا۔ راعنی : مجھے متوجہ کیا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ بنو وکیع باز آجائیں‘‘ یعنی بنو وکیع کفار عر ب کا ایک قبیلہ تھا اور یہ مسلمانوں کو بہت پریشان اور تنگ کرتا تھا اس کے متعلق ارشادفرمایا کہ یہ اپنی ان بے ہودہ اور آزاردہ حرکتوں سے باز آجائیں۔ ارشاد ہے ’’ میں ان کی طرف ایک ایسے معزز شخص کو بھیجوں گا جو میری اپنی جان کی طرح ہے ‘‘ یعنی رجلاً کی تنوین اس مقام پر تفخیم شان کیلئے ہیں گویا یہ شخص جس کو بھجوانے کا ارادہ ہے وہ بڑی شرافت اور عزت اور مکرمت والا ہے۔ یعنی جس طرح میری عزت وحرمت ہے اسی طرح ا س کی ذات کی بھی عزت و حرمت ہے اور وہ بعینہٖ میری ذات مبارکہ کی مانند ہے۔ ارشاد ہے ’’ میرا حکم ان لوگوں کے سامنے پیش کرے گا‘‘ یعنی بنو وکیع قبیلے کو میرا یہ حکم پہنچائے گا اور سنائے گا۔ ارشاد ہے ’’ لڑنے والوں کو قتل کرے گا اور ان کی اولاد کو قید کرے گا‘‘ یعنی وہ ایسا بہادر، دلیر اور شجاع ہے کہ آخر دم تک لڑ کر فتح حاصل کرے گا اور وہاں میرا حکم نافذ کر کے حکومتِ الٰہی قائم کرے گا اور نظام مصطفی3 کا علَم بلند کرے گا۔ ارشاد ہے ’’ نہ تو تُو اور نہ ہی تیرے ساتھی میں مراد رکھتا ہوں‘‘ یعنی آنحضور3اس وقت نہ تو حضرت عمرص کو اور نہ ہی حضرت ابوبکر صدیقص کو مقرر کرنا چاہتے تھے اسی لئے یہ ارشاد فرمایا۔ ارشاد ہے ’’ میری مراد جوتا سینے والے سے ہے، حضرت عمر نے فرمایا علی جوتا سیتے تھے ‘‘ یعنی جب بھی جناب سید دو عالم3کا جوتا مبارک پھٹ جاتا یا تسمہ وغیرہ ٹوٹ جاتا تو جناب امام الاولیاء سیدناعلی المرتضیٰ3 اس کی مرمت فرماتے۔ اسی وجہ سے آپ3جناب علی المرتضیٰ3 کو پیار اور محبت سے ’’خاصف النعل‘‘ یعنی جوتا سینے والا فرماتے۔

بقیہ حاشیہ:
۶؂:ابی ذرص:اس کا نام جندب بن جنادہ ہے۔ ابوذرالغفاری کنیت ہے، مشہور صحابی ہے، اول اسلام لانے والوں میں سے ہے اور آخری ہجرت کرنے والا ہے۔ جنگ بدر میں شا مل نہیں ہوا۔ اس کے مناقب بہت زیادہ ہیں۔ ۳۲ ؁ہجری میں حضرت عثمان ص کے دور خلافت میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۴۰۵)
ا؂: وکیع : بعض کتابوں میں ربیعۃ اور بعض میں بنو ولیعۃ ہے۔ اس فقیر نے اسی کتا ب سے یہ حدیث نقل کی ہے جو سامنے ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی انت صفیی و امینی 
’’جناب امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ3 کے متعلق حضور سرور
عالم و عالمیان 3 کے اس ارشاد گرامی کا بیان ہے کہ تو 
میرا مخلص ترین دوست اور میرا امانت دار ہے ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حل لغت صفی: مخلص ترین دوست، دوستوں میں منتخب دوست، جگری یار۔ صاحب لغات الحدیث تحریر کرتے ہیں’’صفی‘‘ وہ چیز جو لشکر کا سردار لوٹ کے مال سے خاص اپنے لئے چن لے تقسیم غنیمت سے پہلے ۔اس کو صفےۃ بھی کہتے ہیں۔ (لغات الحدیث کتاب’’ ص ‘‘جلد
۳ صفحہ ۷۳) طیبی نے کہا ’’ یہ صفی ، لینا صرف آنحضرت 3 کو جائز تھا اورکسی حاکم کو ایسا کرنا درست نہیں ‘‘۔

حد یث نمبر
۷۱؍۱ انبأنا زکریا۱؂ بن یحیے قال انبأنا ابن ابی عمرو۲؂و ابو مروان۳؂ قالا حدثنا عبد العزیز۴؂ عن یزید۵؂ بن عبداﷲ بن اسامۃ بن الھاد عن محمد۶؂ بن نافع بن عجیر عن ابیہ۷؂ عن علی۸؂ قال قال النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اما انت
یاعلی صفیے و امینی

ترجمہ (جناب) علی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم3نے فرمایا اے علی! غور سے سنوکہ تو میرا مخلص ترین دوست ہے اور میرا امانت دار ہے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۱
۱؂: زکریا بن یحییٰ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱ (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں)

تشریح ارشاد ہے ’’ اے علی! غور سے سنو کہ تو میرا مخلص ترین دوست ہے اور میرا امانت دار ہے ‘‘ یعنی اپنے منتخب ، مخلص ترین اور جگری دوستوں میں سے میں نے اے علی المرتضیٰ3 تجھے اپنی مخلصانہ دوستی کیلئے چن لیا ہے اور میری جانب سے وہ امانتیں جو میرے ذمے ہیں ان کو ادا کرنے کا منصب عالی بھی تیرے ذمے ہیں۔ ان عظیم امانتوں میں سے ایک عظیم امانت کلمہ توحید کا اﷲ تعالیٰ کی مخلوق کو پہنچانا ہے اور قر آن عظیم جیسی نعمتِ جلیلہ کا پہنچانا ہے۔ نیز معرفتِ الٰہی کی امانت کو آپ نے پہنچانا ہے۔ جناب امیر المومنین امام الاولیاء سیدنا و مولانا و ملجانا و ماویٰ نا و مرشدنا علی المرتضیٰ3 کی وساطت اور وسیلہ سے تاقیام قیامت دست بدست اور سینہ بسینہ اور ارشاد بہ ارشاد حضور پاک3کی یہ عظیم امانتیں امتِ محمدیہ3کے قلوب میں بعینہٖ منتقل ہوتی چلی آرہی ہیں اور قیامت تک اولیاء کرام ان سے سیراب ہوتے رہیں گے۔ ہجرت مبارکہ کی رات کو اپنی تمام امانتیں پیغمبر اسلام رحمت للعالمین3جناب امام الاولیاء3 کے سپردفرما کر مکہ مکرمہ سے نکلے چنانچہ آپ3 نے وہ تمام امانتیں ادا فرما کر پھر ہجرت فرمائی۔




بقیہ حواشی :
۲؂: ابن ابی عمر:یہ محمد بن یحیےٰ بن ابی عمر العدنی ہے، اباعمر کنیت ہے، صدوق ہے اور ’’المسند‘‘ کا مصنف ہے۔ وکان لازم ابن عیینۃ لکن قال ابو حاتم کانت فیہ غفلۃ طبقۃ العاشرہ سے ہے۔ ۱۴۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ ۳۲۳)
۳؂: ابو مروان:اس کا نام محمد بن عثمان بن خالد الاموی ہے اور ابو مروان عثمانی اس کی کنیت ہے۔ المدنی ہے، پہلے مکہ میں سکونت پذیر تھا۔ صدوق ہے یخطی طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۱۴۱ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۳۱۰)
۴؂: عبدالعزیز:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۷:۲
۵؂: یزید بن عبد اﷲ: یزید بن عبد اﷲبن اسامہ بن الہاد اللیثی ہے۔ ابو عبد اﷲ مدنی اس کی کنیت ہے۔ ثقہ ہے مکثر ہے، طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ ۱۳۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۳۸۳)
۶؂: محمد بن نافع: یہ محمد بن نافع بن عجیر ہے۔ نقل البخاری عن ابن اسحاق انہ قال عنہ کان ثقہ۔ (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المومنین ،صفحہ ۹۰)
۷؂: ابیہ: یہ نافع بن عجیرہ بن عبدیزید بن ہاشم بن عبدالمطلب المکلبی المکی ہے۔ قیل لہ صحبۃ اور ابن حبان وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ یہ تابعین سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۳۵۵)
۸؂: علی المرتضیٰص۔ ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لا یودی عنی الا انا او علی 
’’ حضور نبی کریم 3 کے اس ارشاد گرامی کے بیان 
میں ہے کہ نہ پہنچائے میری طرف سے مگر میں خود یا علی ‘‘
(اس باب میں دو احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۷۲؍۱ انبأنا محمد۱؂ بن بشار قال حدثنا عفان۲؂ و عبد الصمد۳؂ قالا حدثنا حدیثا حماد۴؂ بن سلمۃ عن سماک بن حرب۵؂ عن انس۶؂ قال بعث النبی صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم براء ۃ مع ابی بکر ثم دعاہ فقال لا ینبغی ان یبلغ ھذا عنی
الا رجل من اھلی فدعا علیا فاعطاہ ایاہ
ترجمہ جناب انس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم3نے (جناب) ابوبکر (صدیق ص)کو سورۂ براۃ دے کر بھیجا پھر ان کو بلایا پس ارشاد فرمایا کہ کسی کو یہ مناسب نہیں کہ میری طرف سے یہ سورۂ پہنچائے مگر ہاں وہ شخص جو میرے اہل بیت سے ہو۔ سو آپ3نے (جناب) علی (3 ) کو بلا یا اور وہ سورہ ان کو دی۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۲
۱؂: محمد بن بشار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۱ ۲؂: عفان (بن مسلم):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۵:۲
۳؂: عبدالصمد:عبدالصمد بن عبدالوارث بن سعید العنبری ہے ،اس کی کنیت ابوسہل بصری ہے۔ صدوق ، ثبت اور طبقہ التاسعۃ سے ہے۔ ۲۰۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۲۱۳)
۴؂: حماد بن سلمۃ:حماد بن سلمۃ بن دینار البصری کی کنیت ابو سلمۃ ہے ، ثقہ اور عابد ہے اثبت الناس فی ثابت وتغیر حفظہ باخرۃ۔ طبقہ الثامنۃ کے کبار سے ہے۔ ۱۶۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۸۲)
۵؂: سماک بن حرب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۵:۴ 
۶؂: انسص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۶

تشریح ارشادہے’’ (جناب) علی (3 ) کو بلایا اور وہ سورہ ان کو دی ‘‘ یعنی حضور پیغمبر اسلام3نے
۹ ہجری میں جناب ابو بکر صدیق ص کو حج کا امیر مقرر فرمایا تھا او رجناب امیرالمومنین علی المرتضیٰ3 کو سورہ براۃ کے احکام عطا فرمائے تاکہ حضرت علی3 حج کے موقع پر یہ احکام مشرکین کویا وہ لوگ جن سے معاہدے ہیں سنا دیں اور پہنچا دیں۔ جناب امام الاولیاء علی المرتضیٰ3 نے ۱۰ ذی الحجہ ۹ ہجری کے دن جمرہ عقبہ کے نزدیک کھڑے ہو کر وہ احکام سنائے۔ عرب کے ہاں یہ قاعدہ اور دستور ہے کہ جب ان میں نقض ابرام ، صلح اور عہد کے متعلق کوئی گفتگو ہوتی،تو وہی شخص یہ گفتگو کرتا جو سردار قوم ہوتا یا پھر وہ شخص جو اس سردار قوم کے قریبی رشتہ داروں میں قریب تر ہوتا تو وہ اسے گفتگو میں قبول و منظور کرتے۔ چونکہ مشرکین عرب اور مسلمانوں کے درمیان عہد تھا اور ان میں سے اکثر نے عہد شکنی کی لہٰذا جناب مولانا و مرشدنا حضر ت علی المرتضیٰ3 کو آنحضور3نے سورۃ براۃ کے احکام عطا فرما کر مشرکینِ عرب کی طر ف حج کے موقع پر مکہ مکرمہ بھیجا۔ اس موقع پر یہ حدیث بیان فرمائی۔ اس میں جناب اسد اﷲ علی المرتضیٰ3 کی کما ل تکریم اور عزت افزائی اور پیغمبر اسلام3سے قربِ خاص ثابت ہورہا ہے جو ان کو تمام صحابہ کرام اور اہل بیت عظام میں تھا۔
اسنادہ صحیح، (ابو اسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الا مام علی صفحہ
۷۰)

حد یث نمبر
۷۳؍۲ انبأنا احمد۱؂ بن سلیمان قال حدثنا یحیے۲؂ بن ادم قال حدثنا اسرائیل۳؂ عن ابی اسحق۴؂ عن حبشی۵؂ بن جنادہ السلولی قال قال رسول اﷲ صلی
اﷲ علیہ والہ وسلم علی منی و انامنہ ولا یودی عنی الا انا او علی 

ترجمہ حبشی بن جنادہ سلولی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم3نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور نہ پہنچائے میری طرف سے مگر میں خود یاعلی۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۳
۱؂: احمد بن سلیمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۱
۲؂: یحییٰ بن آدم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۳
۳؂: اسرائیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۵:۲
۴؂: ابی اسحاق: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۵؂: حبشی بن جنادہ السلولیص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۸:۵

تشریح ارشاد ہے ’’ اور نہ پہنچائے میری طرف سے مگر میں خود یا علی ‘‘ یعنی علی المرتضیٰ3 میرے اتنا قریب ہے کہ میرے درمیان اور اس کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے لہٰذا سورہ برا ۃ کے احکام میری طرف سے یہی پہنچائے گا۔ چنانچہ حج کے موقع پر وہ تیس یا چالیس آیتیں آپ3 نے پڑھ کر سنائیں اور اعلان عام فرمایا کہ میں چار حکم تمہیں سناتا ہوں: پہلا یہ کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک کعبۃ اﷲ کے پاس نہ آئے۔ دوسرا یہ کہ کوئی بھی برہنہ طواف نہ کرے۔ تیسرا یہ کہ مومن کے سوا کوئی اور جنت میں داخل نہ ہوگا ۔چوتھا یہ کہ جس کا پیغمبر اسلام3کے ساتھ عہد ہے وہ عہد اپنی مدت تک رہے گا اور جس کی مدت معین نہیں ہے اس کی معیاد چار ماہ تک ہے وہ پوری ہو جائے گی۔ مشرکین نے سن کر کہا ’’ اے علی اپنے چچا کے فرزند کو خبر دے دو کہ ہم نے عہد پس پشت پھینک دیا۔ اب ہمارے اور اس کے درمیان کوئی عہد نہیں، بجز نیزہ بازی اور تیغ زنی کے‘‘ ۔
اسنا دہ صحیح (ابو اسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ
۷۰)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر توجیہ النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم مع علی کرم اﷲ وجہہ الکریم
’’ حضور نبی کریم 3کا جناب علی المرتضیٰ3 کو احکام دیکر بھیجنے کا ذکر ہے‘‘
(اس باب میں چار احادیث شریف ہیں)

حل لغت توجیہ : روانہ کرنا ، بھیجنا ، جانا ، عزت دینا۔

حد یث نمبر
۷۴؍۱ اخبرنا محمد۱؂ بن بشار قال حدثنا عفان۲؂ و عبد الصمد۳؂ قالا حدثنا حماد۴؂ بن سلمۃ عن سماک۵؂؂ بن حرب عن انس۶؂ قال بعث النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ببراء ۃ مع ابی بکر ثم دعاہ فقال لا ینبغی ان یبلغ ھذا الا رجل من
اھلی فدعا علیا فاعطاہ ایاھا

ترجمہ (جناب) انس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم3نے (جناب) ابوبکر (صدیقص) کو سورۂ برأۃ دیکر بھیجا پھر انہیں بلایا۔ پس ارشاد فرمایا کہ کسی کو یہ مناسب نہیں کہ یہ سورہ پہنچائے مگر ہاں وہ شخص جو میرے اہل بیت سے ہو۔ تو آپ3نے علی المرتضیٰ3 کو بلایا اور سورہ ان کو عطا فرمائی۔
اسنادہ صحیح۔ (اس کی تشریح حدیث
۷۲ /۱میں دیکھئے )
(ابو اسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الا مام علی صفحہ
۷۰)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۴
۱؂: محمد بن بشار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۱ 
۲؂: عفان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۵:۲ 
۳؂: عبدالصمد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۲:۳
۴؂: حماد بن سلمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۲:۴
۵؂: سماک بن حرب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۵:۴۶؂: انسص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۶

حد یث نمبر
۷۵؍۲ انبأنا العباس۱؂ بن محمد الدوری قال حدثنا ابونوح۲؂ قراد عن یونس۳؂ بن ابی اسحق عن ابی اسحق۴؂ عن زید۵؂ بن یثیع عن علی۶؂ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بعث برآء ۃ الی اھل مکۃ مع ابی بکر ثم اتبعہ بعلی فقال لہ خذھذا الکتاب فامض بہ الی اھل مکۃ قال فلحقتہ و اخذت الکتب منہ قال فانصرف ابو بکر وھو کئیب قال یا رسول اﷲ انزل فی شیے قال لا الا انی امرت ان
ابلغہ انا او رجل من اھل بیتی
ترجمہ (جناب) علی المرتضیٰ سے روایت ہے یہ کہ رسول کریم3نے اہلِ مکہ کی طرف (جناب) ابو بکر صدیق کو سورہ براء ۃ دے کر بھیجا پھر ان کے پیچھے (جناب) علی کو بھیجا۔ سواسے فرمایا تو اس سے یہ کتاب لے لے اور اہلِ مکہ کو پہنچا۔ (جناب) علی نے فرمایا کہ میں انہیں (جناب ابو بکر صدیق کو ) ملا ان سے وہ کتاب لی ، فرمایا پس ابوبکر واپس لوٹے درآنحالیکہ وہ کبیدہ خاطر تھے۔ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ 3کیا میرے حق میں وحی نازل ہوئی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ نہیں مگر مجھے حکم ہوا ہے کہ وہ سورہ میں خود پہنچاؤں یا میرے اہل بیت سے کوئی شخص پہنچائے۔

حل لغت کئیب : غمگین تھے ، کبیدہ خاطر تھے،کاب یا کابۃ یا کآبۃ سے ہے جس کے معنی رنج ، غم اور دل شکستگی کے ہیں۔
تشریح ارشاد ہے ’’ وہ کبیدہ خاطر تھے ‘‘ یعنی یہ بات آپ کو ناگوار گزری اور غمناک ہو کر لوٹے۔ ارشاد ہے ’’ وہ سورہ میں خو د پہنچاؤں یا میرے اہل بیت سے کوئی شخص پہنچائے‘‘ یعنی اے ابو بکر صدیقصتمہیں غمگین نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی قسم کا احساس کرنا چاہئے۔ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ یا تو میں خود یہ احکام پہنچاؤں یا میرے اہل بیت سے کوئی فرد ہو اور وہ یہ احکام پہنچائے لہٰذا اس حکم کے مطابق میں نے علی المرتضیٰ3 کو اپنے اہل بیت سے منتخب 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۵
۱؂: العباس بن محمد الدوری: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۰:۱
۲؂: ابو نوح قراد:اس کا نام عبد الرحمن بن عزوان الضبی ہے۔ اس کی کنیت ابو نوح ہے اور قرادسے معروف ہے۔ ثقہ ہے لہ افراط طبقہ التاسعۃ ہے۔ ۱۸۷ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ۲۰۸)
۳؂: یونس بن ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۳ ۴؂: ابی اسحاق السبیعی: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴ 
۵؂: زید بن یثیع: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۰:۵۶؂: علی المرتضی :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر ۱:۶
کر کے روانہ کیا ہے۔ تمہارے متعلق اس میں کسی قسم کے تردد یا شک و شبہ کی بات ہر گز نہیں ہے۔ 
صحیح (ابو اسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ
۷۰)

حد یث نمبر
۷۶؍۳ اخبرنی زکریا۱؂ بن یحیے قال حدثنا عبد اﷲ۲؂ بن عمر قال حدثنا اسباط۳؂ عن فطر۴؂ عن عبد اﷲ۵؂ بن شریک عن عبد اﷲ۶؂ بن رقیم عن سعد۷؂ قال بعث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ابا بکر ببراء ۃ حتی اذا کان ببعض الطریق ارسل علیا فاخذھا منہ ثم ساربھا فوجد ابوبکر فی نفسہ قال فقال لہ رسول
اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم انہ لاےؤدی عنی الا انا او رجل منی

ترجمہ سعد سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم3نے ابو بکر صدیق (ص) کو سورہ برأ ۃ دے کر بھیجا یہاں تک کہ کچھ راہ گئے تو آنحضرت3نے جناب علی (المرتضیٰص) کو بھیجا۔ (جناب) علیصنے (جناب) ابوبکرص سے اس (سورہ ) کو لے لیا پھر مکہ کی طرف لے گئے۔ (جناب) ابوبکر (ص) کو یہ بات ذرا بری محسوس ہوئی۔ راوی نے کہا پس رسول اﷲ3نے انہیں ارشاد فرمایا یہ کہ نہیں پہنچائے گا میری طرف سے یا میں خود یا میرے گھر والوں میں سے کوئی مرد۔

تشریح ارشاد ہے’’ میں خود یا میرے گھر والوں میں سے کوئی مرد ‘‘ یعنی وہ مرد جناب مولانا و مرشدنا امام الاولیاء حضرت ابوتراب علی المرتضیٰ3 تھے جنہوں نے وہ احکام من و عن عرب کے لوگوں کو پہنچائے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۶
۱؂: زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱ 
۲؂: عبد اﷲ بن عمر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۲
۳؂: اسباط:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۴:۴
۴؂: فطر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۹:۳
۵؂: عبد اﷲ بن شریک:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۰:۴
۶؂: عبد اﷲ بن رقیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۹:۵
۷؂: سعد (بن ابی وقاص ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶

حد یث نمبر
۷۷؍۴ انبأنا اسحق۱؂ بن ابراھیم بن راھویہ قال قرأت علی ابی قرۃ۲؂ بن موسی بن طارق عن ابن جریج۳؂ قال حدثنی عبد اﷲ۴؂ بن عثمان بن خثیم عن ابی الزبیر۵؂ عن جابر۶؂ ان النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم حین رجع من عمرۃ الجعرانۃ بعث ابابکر علی الحج فاقبلنا معہ حتی اذاکنا بالعرج ثوب بالصبح ثم استوی لیکبر فسمع الزعوۃ خلف ظھرہ فوقف عن التکبیر فقال ھذا زعوۃ ناقۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لقد بدأ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فی الحج فلعلہ ان یکون رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم فنصلی معہ فاذا علی کرم اﷲ وجہہ علیھا فقال لہ ابوبکر امیر ام رسول قال لا بل رسول ارسلنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ببرآء ۃ اقراھا علی الناس فی موسم الحج فقد منا مکۃ فلما کان قبل التروےۃ بیوم قام ابوبکر فخطب الناس فحدثھم عن مناسکھم حتی اذا فرغ قام علی فقرأ علی الناس برآء ۃ حتی ختمھا ثم خرجنا معہ حتی اذا کان یوم عرفۃ قام ابو بکر فخطب الناس فحدثھم من مناسکھم حتی اذا فرغ قام علی فقرأسورۃ برأۃ حتی ختمھا فلما کان یوم النحر فافضنا فلما رجع ابوبکر خطب الناس فحدثھم عن افاضتھم وعن نحرھم وعن مناسکھم فلما فرغ قام علی فقرأ علی الناس برآء ۃ حتی ختمھا فلما کان یوم النفر الاول قام ابوبکر فخطب الناس فحدثھم کیف ینفرون و
کیف یرمون فعلمھم مناسکھم فلما فرغ قام فقرأ علی برآء ۃ حتی ختمھا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۷
۱؂: اسحاق بن ابراہیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۹:۱
۲؂: ابی قرہ:ابی قرۃ بن موسیٰ بن طارق الیمانی الزبیدی قاضی اور ثقہ ہے۔ یغرب ہے۔ طبقۃ التاسعۃ سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۳۵۱)
۳؂: ابن جریج: اس کانام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج الاموی المکی ہے۔ ثقہ ہے، فقیہہ اور فاضل ہے، وکان یدلس و یرسل طبقۃ السادسۃ سے ہے۔ ۱۵۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ ۲۱۹)
۴؂: عبداللہ بن عثمان: یہ عبداﷲ بن عثمان بن خثیم مکی ہے اس کی کنیت ابو عثمان ہے، صدوق ہے طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ ۱۳۲ ؁ہجری میں فوت ہوا (التقریب، صفحہ ۱۸۱)
۵؂: ابی الزبیر:اس کا نام محمد بن مسلم بن تدرس الاسدی ہے، اس کی کنیت ابوالزبیر ہے۔ المکی اور صدوق ہے۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 

ترجمہ جابرص سے روایت ہے یہ کہ نبی کریم3جس وقت عمرہ جعرانہ سے پھرے تو(جناب) ابوبکر (صدیقص) کو امیر حج مقرر فرما کر روانہ کیا سوہم ان کی قیادت میں روانہ ہوئے یہاں تک کہ مقامِ عرج میں پہنچے۔ (جناب ابو بکر صدیق ص) نے صبح کی نماز کی اذان کہی پھر کھڑے ہوئے تاکہ تکبیر(تحریمہ) کریں۔ پس پیچھے سے اونٹ کی آواز سنی پس تکبیر سے رکے تو فرمایا کہ یہ تو رسو ل کریم3کی اونٹنی کی آواز ہے۔ البتہ تحقیق رسول اﷲ3نے حج شروع کر دیا ہے سو شاید کہ وہ رسول کریم3ہیں تو ہم ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ پس جب ان پر نظر پڑی تو وہ (حضرت ) علی3 تھے (جناب) ابوبکر صدیق ص نے انہیں فرمایا کہ آپ امیر ہو کر آئے ہیں یا پیامبر۔ فرمایا نہیں میں پیامبر ہوں، مجھے رسول کریم3نے سورہ برأ ۃ دے کر بھیجا ہے تاکہ ایامِ حج میں لوگوں کو سناؤں۔ پس ہم اس لئے مکہ (مکرمہ) میں آئے پس آٹھویں تاریخ سے ایک دن پہلے (جناب) ابوبکر(ص) کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا، جس میں انہیں حج کے مناسک بیان فرمائے یہاں تک کہ فارغ ہوگئے۔ (حضرت) علی (3 ) کھڑے ہوئے پس لوگوں کے سامنے سورۂ برأۃ پڑھی یہاں تک کہ ختم کر دی۔ پھر ہم اس کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ عرفہ کا دن ہوا۔ تو (جناب) ابوبکر(صدیق ص ) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا جس میں مناسکِ حج بیان کئے یہاں تک کہ فارغ ہوگئے۔ تو (جناب) علی المرتضیٰ3 کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے سورۂ برأۃ پڑھی یہاں تک کہ اسے ختم کر دیا۔ جب قربانی کا دن ہوا تو ہم لوٹے۔ پس جب ابوبکر صدیق ص واپس لوٹے تو لوگوں سے خطاب فرمایا۔ پس ان کو عرفات سے لوٹنے اور قربانی اور حج کے احکام بیان فرمائے پس جب فارغ ہوگئے تو علیص کھڑے ہوئے اور لوگوں کو سورۂ براۃ تمام پڑھ کر سنا ئی۔ پس جب پہلا پھرنے کا دن ہوا تو (جناب) ابوبکر ص کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دیا پس واپس ہونے ، کنکر مارنے کا طریقہ بیان کیا اور ان کو ان کے مناسک سکھائے پس جب فارغ ہوئے تو (جناب) علی (المرتضیٰ ں ) اٹھے اور پوری سورۂ برأۃ پڑھی۔

حل لغت الزعوۃ: اونٹ کی آواز ، بڑبڑاہٹ۔ بدأ: شروع کر دیا۔ التروےۃ : آٹھویں ذی الحجہ کو کہتے ہیں

بقیہ حاشیہ ۔ الاوانہ یدلس طبقہ الرابعۃ سے ہے۔
۱۲۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ۳۱۸) 
۶؂: جابر:جابر بن عبداﷲ بن عمرو بن حرام الانصاری السلمی ہے اور صحابی بن صحابی ہے۔ انیس جہادوں میں شریک ہوئے۔ ۷۰ ؁ہجری کے بعد فوت ہوئے اور چورانوے برس کی عمر پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۵۲)
جبکہ مسلمان احرام باندھ کر عرفات کی طرف نکلتے ہیں اور یہ دن اور رات مسجد خیف میں گذارتے ہیں۔ النحر : قربانی کا دن یعنی ذی الحج کی دسویں تاریخ۔ افضنا : ہم واپس لوٹے، اس کا مصدر افاضۃ ہے جس کے معنی واپس لوٹنا کے ہیں۔

تشریح ارشاد ہے ’’ جس وقت عمرہ جعرانہ سے پھرے ‘‘ یعنی جعرانہ حدیبیہ کے نزدیک ایک جگہ کا نام ہے یہ مقام مکہ مکرمہ کے قریب حرم کی حد سے باہر ہے۔ ارشاد ہے ’’ یہاں تک کہ مقامِ عرج میں پہنچے ‘‘ یعنی مدینہ منورہ سے کئی منزل کے فاصلہ پر فرع کے نواح میں ایک گاؤں ہے۔ ارشاد ہے ’’ پیچھے سے اونٹ کی آواز سنی ‘‘ یعنی جس و قت ادائیگی نماز کیلئے کھڑے ہوئے تو اونٹ کے بڑبڑانے کی آواز آئی۔ ارشاد ہے ’’ فرمایا کہ یہ تو رسول کریم 3کی اونٹنی کی آواز ہے ‘‘ یعنی جناب ابو بکر صدیقصحضور نبی کریم3کی اونٹنی کی آواز کو پہچانتے تھے۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ آواز تو نبی کریم3کی اونٹنی کی ہے۔ ارشاد ہے ’’تو ہم ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے ‘‘یعنی جناب حضرت ابوبکر صدیق ص کو یہ خیال ہوا کہ شاید جناب پیغمبر حضرت رسول مقبول 3خود تشریف لا کر حج فرمارہے ہیں۔ لہٰذا اب ہم آنجناب 3 کی امامت میں نماز ادا کریں گے۔ ارشاد ہے’’ جب ان پر نظر پڑی تو وہ سیدنا حضرت علی المرتضیٰ3 تھے‘‘ یعنی جناب ابوبکر صدیق ص نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اچانک ان کو جناب علی المرتضیٰ ص دکھائی دئیے، سیدِ دو عالم جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی 3نہ تھے۔ ارشاد ہے ’’ آپ امیر ہو کر آئے ہیں یا پیامبر‘‘ یعنی جناب رسول کریم3نے آپ کو میری جگہ امیر الحج بنا کر بھیجا ہے یا کوئی پیغام لے کر آئے ہیں۔ ارشاد ہے ’’ فرمایا نہیں میں پیامبر ہوں‘‘ یعنی میں امیر الحج بن کر نہیں آیا ہوں بلکہ حضور پیغمبر اسلام3کی طرف سے لوگوں کو سورۂ برأۃ کے احکام سنانے کیلئے قاصد بن کر آیا ہوں تاکہ اس موسمِ حج میں حج کے موقع پر تمام لوگوں کو وہ احکامِ الٰہی سناؤں، میں آنحضور 3کا خصوصی پیامبر اور قاصدہوں ۔ یہ منصبِ جلیلہ اور عظیمہ سوائے جناب سیدنا علی المرتضیٰ3 کے کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔ ارشاد ہے ’’ پس آٹھویں تاریخ سے ایک دن پہلے جناب ابو بکر ص کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا‘‘ یعنی سات ذی الحجہ کو تمام مسلمانوں کو حج کرنے کے افعال سکھائے۔ ارشاد ہے ’’ یہاں تک کہ فارغ ہوگئے ‘‘ یعنی جناب ابوبکر صدیقصمناسک حج بتانے سے فارغ ہوگئے اور خطبہ کو ختم کیا۔ ارشاد ہے ’’ یہاں تک کہ عرفہ کا دن ہوا تو جناب ابو بکر صدیقصکھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا‘‘ یعنی نویں ذی الحجہ کو عرفات میں جناب سیدنا ابوبکر صدیقصکی امارت میں مکہ مکرمہ سے نکل کر پہنچے تو وہاں بھی جناب ابو بکر صدیقصنے مناسکِ حج پر خطبہ ارشاد فرمایا اور یہ حج کا دن تھا۔ ارشاد ہے ’’ جب قربانی کا دن ہوا توپس ہم لوٹے‘‘ یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو مزدلفہ سے واپس لوٹ کر منیٰ میں قربانی کیلئے آئے۔ نویں ذی الحجہ کو حاجی صاحبان غروب آفتاب کے وقت عرفات کے میدان سے نکلتے ہیں اور مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نماز پڑھتے ہیں۔ پھر وقو
ف مزدلفہ صبح کی نماز کے وقت ادا کر کے سورج نکلنے کے ساتھ ہی دسویں ذی الحجہ کو منیٰ پہنچ کر شیطان کو کنکریاں مار کر قربانی کرتے ہیں۔ پھر سرمنڈھا کر یا بال کترواکر احرام کھول کر اپنے کپڑے پہن لیتے ہیں یہ دن یوم النحرہے ۔ ارشاد ہے ’’جب فارغ ہوگئے ‘‘ یعنی خطبہ ارشاد فرما چکے جو احکامِ حج پر مشتمل تھا۔ ارشاد ہے ’’ جب پہلا پھرنے کا دن ہوا ‘‘ یعنی بارہویں کا دن ہوا۔

 

 


بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ و
الہ وسلم من کنت ولیہ فعلی ولیہ
’’ اس باب میں نبی کریم 3 کے اس ارشاد کا بیان 
ہے کہ جس کا میں ولی ہوں علی بھی اس کا ولی ہے‘‘
(اس باب میں گیارہ احادیث شریف ہیں)

تشریح جناب اسد اﷲ الغالب علیٰ کل غالب امیر المومنین سیدنا و مولانا ابو ترا ب علی المرتضیٰ3 کی ولایتِ حقہ ولایتِ محمدی ہے۔ تاقیامِ قیامت آپص تمام اولیائے کرام رحمہم اﷲ علیہم اجمعین کے امام ، مقتدا اور پیشوا ہیں۔ آپصکی ولایتِ حقہ کا انکار جناب رحمت للعالمین ،شفیع المذنبین ، امام المتقین ،امام الانبیاء والمرسلین احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی 3 کی ولایتِ کاملہ وحقہ کا انکار ہے۔(نعوذ باﷲ من ذلک)

حد یث نمبر
۷۸؍۱ انبأنا محمد۱؂ بن المثنی قال حدثنا یحیے۲؂ بن حماد قال اخبرنا ابو عوانۃ۳؂ عن سلیمان۴؂ قال حدثنا حبیب۵؂ بن ابی ثابت عن ابی الطفیل۶؂ عن زید۷؂ بن ارقم قال لما رجع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم من حجۃ الوداع و نزل غدیر خم امر بدرجت فقمص ثم قال کانی قد رعیت وانی قد ترکت فیکم الثقلین احدھما اکبر من الاخرکتاب اﷲ و عترتی اھل بیتی فانظروا کیف تخلفونی فیھما فانھما لن یتفرقا حتی یردا الخوض ثم قال ان اﷲ مولائی و انا ولی کل مؤمن ثم اخذ بید علی فقال من کنت ولیہ فھذا علی ولیہ اللّٰھم وال من والاہ و عاد من عاداہ فقلت لزید سمعتہ من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال ما کان فی
الدرجات احد الا راہ بعینیہ و سمعہ باذنیہ (اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۸، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے ) 

ترجمہ زید بن ارقم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جب حجتہ الوداع سے جناب رسول کریم3واپس ہوئے اور غدیر خم میں ٹھہرے۔ منبر کے رکھنے کا حکم فرمایا پس اس پر کپڑا ڈالا گیا پھر ارشاد فرمایا گویا میں بلایا گیا ہوں اور یقیناًمیں تم میں دو وَزنی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک دوسرے سے بڑی ہے اﷲ کی کتاب اور میری عترت (یعنی ) میری اہل بیت۔ سو فکر کر و تم میرے بعد ان دونوں سے کیا معاملہ کرو گے پس یقیناًیہ دونوں آپس میں ہر گز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر پہنچیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا بے شک اﷲ تعالیٰ میرا مولیٰ ہے اور میں ہر مومن کا ولی ہوں پھر (حضرت) علی کا ہاتھ پکڑا سو فرمایا جس کا میں ولی ہوں ا س کا یہ بھی ولی ہے۔ اے میرے اﷲ ! جو اس کو دوست رکھے تو بھی اس کو دوست بنا لے اور جو اس کو دشمن رکھے تو بھی اس کو دشمن رکھ۔ ابی الطفیل کہتا ہے کہ میں نے زیدبن ارقم کو کہا کہ کیا تو نے یہ حدیث رسول اﷲ3سے خود سنی ہے۔ زید بن ارقم نے فرمایا کہ میرے اور منبر کے درمیان کوئی ایک شخص بھی نہیں تھا مگر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کانوں سے سنا۔

حل لغت غدیر : تالاب ، جھیل ، کنٹہ ، چونکہ اس تالاب کا پانی فریب دیتا ہے اکثر اوقات ضرورت کے وقت خشک ہو جاتا ہے تو اس کا یہ نام پڑگیا۔ خم : جھاڑنا ، صاف کرنا، دوھنا ، بدبودار ہونا۔ خم: گڑھا ، مرغیوں کا ٹاپہ ، تہہ خانہ۔ درجات: سیڑھی ، منبر۔ الثقلین: دوبھاری چیزیں ، دونفیس چیزیں ، ثقل یا ثقالۃ سے ہے جس کے معنی بھاری ہونا ہے۔ فانظروا: سو فکر کرو، اس کا مصدر نظر ہے جس کے معنی آنکھ سے دیکھنا ، غورکرنا، انتظام کرنا ، متوجہ ہوناوغیرہ وغیرہ کے ہیں۔ کرمانی فرماتے ہیں’’ نظر کا تعدیہ جب لام سے ہو تو مہربانی اور محبت کے معنی 

بقیہ حواشی : اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۸
۱؂: محمد بن المثنی: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۱
۲؂: یحییٰ بن حماد: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۳:۲
۳؂: ابو عوانۃ (الوضاح):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۳:۳
۴؂: سلیمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۲:۴
۵؂: حبیب بن ابی ثابت:یہ حبیب بن ابی ثابت بن قیس ہے اور اسے ہند بن دینار الاسدی بھی کہتے ہیں۔ اس کی کنیت ابو یحیےٰ کوفی ہے۔ثقہ ، فقیہہ ، جلیل ہے۔ وکان کثیر الارسال و التدلیس طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۱۹ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ ۶۳) 
۶؂: ابی الطفیل: اس کا نام عامر بن واثلۃ بن عبداﷲ بن عمرو بن حجش اللیثی ہے۔ ابو الطفیل اس کی کنیت ہے۔ اس نے حضورعلیہ الصلوٰۃ و السلام کو دیکھا ہے۔ یہ سیدنا ابو بکر صدیق اور حضرت عمرفاروق رضی اﷲ عنہما سے روایت کرتا ہے۔ ۱۱۵ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ مسلم نے کہا کہ یہ صحابہ میں سے آخری صحابی ہیں جو سب سے آخر میں فوت ہوئے۔ (التقریب ،صفحہ ۱۶۲)
۷؂: زید بن ارقم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲:۶

ہوتے ہیں اور فی کے ساتھ ہو تو غور اور فکر کے اور الی کے ساتھ ہو تو دیکھنے کے اور بدون صلہ کے ہو تو انتظار کے معنی دیتا ہے‘‘ 
تشریح ارشاد ہے ’’ جب حجتہ الوداع سے جناب رسول کریم 3واپس ہوئے‘‘ یعنی ہجرت کے بعد دسویں سال میںآنحضرت 3نے جو حج کیا وہ’’ حجِ وداع ‘‘ کہلاتا ہے۔ پیغمبر اسلام 3نے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمانے کے بعد ایک ہی حج اداکیا اور وہ یہی حجِ وداع تھا۔ ارشاد ہے’’ اور وہ غدیر خم میں ٹھہرے ‘‘ یعنی غدیر خم کے مقام پر
۱۰ ہجری میں حجِ وداع کر کے واپسی پر ٹھہرے، قیام فرمایا۔ یہ مقام بقول صاحب ’’لغات الحدیث ‘‘کتاب’’ خ‘‘ صفحہ ۱۴۰ ج دوم ’’مدینہ او رمکہ کے درمیان ہے۔ وہاں ایک چشمہ بھی ہے۔ آنحضرت 3 نے حجتہ الوداع میں حضرت علیص کی نسبت اسی مقام پر فرمایا تھا
’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ‘‘

طیبی نے کہا’’ غدیر خم ، حجفہ سے تین میل پر ہے وہاں پر ایک گڑھا ہے اور جھاڑ بہت ہے‘‘ اصمعی نے کہا کہ’’ غدیر خم نہایت بد ہوا مقام ہے۔ وہاں جو پیدا ہوا وہ جوانی کو بھی نہیں پہنچتا۔ البتہ اگر دوسرے مقام پر چلا گیاتو خیر‘‘۔ ارشاد ہے ’’ پس اس پر کپڑا ڈالا گیا‘‘ یعنی منبر لا کر رکھ دیا گیا اور اس پر کپڑا ڈال کر آراستہ و پیراستہ کیا گیا۔ آنحضور3کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی اہم بات امت کو پہنچانی ہوتی یا بیان کرنی ہو تی تو صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کو جمع فرما کر منبر رکھوا کر اس پر وہ ارشادات فرماتے۔مقصود پوری توجہ دلانا ہوتا تاکہ ان پر عمل کریں اور فراموش نہ کریں۔ ارشاد ہے’’ اور گویا میں بلایا گیا ہوں ‘‘ یعنی میں اﷲ تعالیٰ کے حضورمیں جانے والا ہوں او رمیں نے اس بلانے کو قبول کر لیا ہے اور یقیناًمیں تم میں دو وزنی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں یعنی یہ دوچیزیں بہت وزنی اور بھاری ہے نیز یہ بڑی نفیس بھی ہیں۔ ارشاد ہے ’’ ایک دوسرے سے بڑی ہے ‘‘ یعنی اہمیت کے لحاظ سے وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے اہم ، وزنی اور نفیس ہیں ۔ان سے بڑا اور اہم درجہ ومقام کسی دوسری شے کا نہیں اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ ارشاد ہے ’’ اﷲ کی کتاب اور میری عترت (یعنی )میری اہل بیت ‘‘ یعنی گویا قرآن مجید اور حضورنبی کریم3کی اولاد۔ جناب امیر المومنین اسد اﷲ الغالب ابوتراب حضرت علی المرتضیٰ3 سے پوچھا کہ من عترۃ النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم عترت النبی 3 سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو جواب میں ارشاد فرمایا ’’اصحاب العبآء‘‘ وہ لوگ جن کو آنحضرت3نے اپنی کملی میں داخل فرمایا تھا یعنی جناب فاطمہ ، جناب علی ، جناب حسن اور جناب حسین رضوان اﷲتعالیٰ علیہم اجمعین۔ ارشاد ہے ’’سو فکر کرو تم میرے بعد ان دونوں سے کیا معاملہ کرو گے ‘‘ یعنی ایسا نہ ہو کر تم قرآن مجید پر عمل کر نا چھوڑ دو اور میری اہلِ بیت کی نافرمانی پر اتر آؤ۔ اور ان کی تعظیم و تکریم کرنا چھوڑ دو اور درپئے آزار ہو جاؤ اور جب یہ دونوں ایک جگہ حوضِ کوثر پر مجھے ملیں تو ایسا نہ ہو کہ تمہاری طرف سے انہیں کوئی شکایت ہو۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اہلِ بیت نبوی3ہمیشہ عامل بالقرآن ہوں گے اور قرآن حکیم کے احکام پر عمل کروانے میں ہر قسم کے مصائب اور مظالم کا مقابلہ نہایت ہی صبر و استقامت سے کریں گے اور کسی قیمت پر بھی قرآن حکیم کو نہ چھوڑیں گے، ہر وقت سینہ سے لگائے رکھیں گے۔ ہر حکم اور ہر فیصلہ قرآن حکیم کے مطابق کریں گے، ان میں قطعاً قطعاً جدائی اور علیحدگی نہ ہو گی بلکہ اتفاق اور اتحاد رہے گا۔ ارشاد ہے ’’ اے میرے اﷲ! جو اس کو دوست رکھتا ہے تو بھی اس کو دوست بنا لے اور جو اس کو دشمن رکھے تو بھی اس کو دشمن بنا لے‘‘ یعنی حضور اکرم3کی دعا اﷲ تعالیٰ رد نہیں کرتا اور دعا بھی جب اپنی اہلِ بیت کے حق میں ہو ۔لہٰذا جو شخص بھی جناب علی المرتضیٰ3 سے محبت کرتا ہے وہ اﷲ تعالیٰ کا محبوب ہے اور جو بھی ان سے مخالفت کا طریقہ یا وطیرہ اختیار کرتا ہے تو وہ اﷲ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ارشاد ہے ’’ میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا اور ان کانوں سے سنا‘‘ یعنی میں خود منبر کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنی ان آنکھوں سے حضور3کو فرماتے دیکھا ور اپنے ان کانوں سے ارشاد فرماتے سنا ہے۔ گویا اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے بلکہ یقینی اور سچی حدیث ہے۔
صحیح رجالہ ثقات من رجال الشیخین(احمد میرین البوشی صفحہ
۹۶)

حد یث نمبر
۷۹؍۲ انبأنا محمد۱؂ بن العلاء قال حدثنا ابو معوےۃ۲؂ قال حدثنا الاعمش۳؂ عن سعد۴؂ بن عبیدۃ عن ابن بریدۃ۵؂ عن ابیہ۶؂ قال بعثنا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فی سرےۃ و استعمل علینا علیا فلما رجعنا سألنا کیف رأیتم صحبۃ صاحبکم فاما انا شکوتہ و لما شکاہ غیری فرفعت رأسی و کنت رجلا مکبا فاذا وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم قد احمر فقال من کنت ولیہ فعلی ولیہ

ترجمہ بریدہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم 3نے ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا (جناب ) علی (المرتضیٰ3 ) کوہم پر امیر لشکر بنایا۔ پس جب ہم جہاد سے واپس لوٹ کر آئے تو ہم سے رسول اﷲ 3نے پوچھا ، اپنے امیر کی صحبت کو تم نے کیسے پایا، سو میں نے ان کی شکایت کی اور میرے سوا کسی دوسرے نے ان کی شکایت نہیں کی۔ سو میں نے سر اُٹھایا اورمیں سرنیچے رکھنے والا آدمی تھا۔ پس اچانک رسول اﷲ 3کا رخِ انور سرخ ہوگیاپس ارشاد فرمایا جس کا میں ولی ہوں علی بھی اس کا ولی ہے۔ (اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۹ اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے)

حل لغت سرےۃ : وہ لشکر جو چار سو آدمیوں تک ہو ، اس کی جمع سرایا ہے۔ واستعمل : عامل بنایا ، حاکم مقرر کیا ، امیر بنایا۔ اس کا مصدر استعمال ہے۔ مکبا: سرنگوں کرنے والا، کب سے ہے جس کے معنی سرنگوں ہونا کے ہیں۔

تشریح ارشاد ہے کہ ’’ رسول کریم3نے ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا ‘‘ یعنی اس لشکر میں پیغمبر اسلام3خود بنفس نفیس شریک نہیں تھے۔ اس لئے اس جہاد کو سریہ کہتے ہیں اور جس میں حضور3بذاتِ خود شریک ہوں وہ غزوہ کہلاتا ہے۔ نیز اس کو سریہ اس لئے بھی کہتے ہیں کہ لشکر میں چیدہ چیدہ اور بہادر جنگ جو افراد ہوتے ہیں۔ ارشاد ہے’’ (جناب) علی (المرتضیٰ3 ) کو ہم پر امیر لشکر بنا یا‘‘ یعنی آپ3 کی زیر قیادت تقریباً چار سو افراد کا لشکرجہاد کیلئے روانہ فرمایا۔ ارشاد ہے ’’ اپنے امیر کی صحبت کو تم نے کیسے پایا‘‘ یعنی علی المرتضیٰ3 تمہارے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے تھے ؟ ارشاد ہے ’’ سو میں نے سراٹھایا اور میں سر نیچے رکھنے والاآدمی تھا‘‘ یعنی مجھے اس بے موقع اور بے محل شکایت پر ندامت محسوس ہوئی اور جب کسی اور نے بھی کسی قسم کی شکایت نہ کی تو مجھے ایک قسم کی شرمندگی جیسی محسوس ہوئی جس کا اظہار میرے اس عمل سے ہورہا تھا۔
اسنادہ صحیح ، (ابو اسحاق الحوینی، تہذیب خصائص الا مام علی ، صفحہ
۷۳)

حد یث نمبر
۸۰؍۳ انبأنا محمد۱؂ بن المثنی قال حدثنا ابو احمد۲؂ قال حدثنا عبدالملک۳؂ بن ابی غنےۃ عن الحکم۴؂ عن سعید۵؂ بن جبیر عن ابن عباس۶؂ قال حدثنی بریدۃ۷؂ قال بعثنی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم مع علی الی الیمن فرأیت

بقیہ حواشی :اسماء الرجال حدیث نمبر
۷۹۱؂: محمد بن العلاء: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۷:۲ 
۲؂: ابومعاوےۃ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۴:۲۳؂: الاعمش:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۲:۴
۴؂: سعد بن عبیدۃ:سعد بن عبیدۃ اسلمی کی کنیت ابو حمزہ الکوفی ہے، ثقہ ہے، طبقہ الثالثہ سے ہے، یہ عمر بن ہبیرۃ کے دور میں عراق میں فوت ہو۔ا (التقریب ، صفحہ ۱۱۸)
۵؂: ابن بریدۃ: اس کا نام عبداﷲ ہے اور یہ سلیمان بن بریدۃ کا بھائی ہے۔ قال البزازحیث روی علقمۃ بن مرثد و محارب ومحمدبن حجادۃ عن ابن بریدۃ و ھو سلیمان۔ (التقریب ،صفحہ ۴۳۴)عبداﷲ بن بریدۃ بن الحصیب الاسلمی کی کنیت ابوسہل المروزی ہے۔ یہ قاضی تھا،ثقہ ہے طبقہ الثالثۃ سے تعلق رکھتا ہے۔ ۱۰۵ ؁ہجری یا ۱۱۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۱۶۸)
۶؂: ابیہ:یہ عبداﷲ کا والد بریدہ بن الحصیب ہے اس کی کنیت ابوسہل اسلمی ہے، یہ صحابی ہے، غزوۂ بدر سے قبل ایمان لایا تھا۔ ۶۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۴۳) (اسماء الرجال حدیث نمبر ۸۰، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے ) 
منہ جفوۃ فلما رجعت شکوتہ الی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فرفع رأسہ الی و
قال یا بریدۃ من کنت مولاہ فعلی مولاہ

ترجمہ بریدہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم3نے (جناب)علی (المرتضیٰ) کی قیادت میں یمن کی طرف بھیجا۔ میں نے ان میں آرام نہ پاتا دیکھا۔ پس جب میں واپس لوٹا تو میں نے نبی کریم3کی خدمتِ اقدس میں ان کی شکایت کی تو حضور 3نے میری طرف سرمبارک اٹھایا اور فرمایا اے بریدہ! جس کا میں آقا ہوں ، علی بھی اس کا آقا ہے۔

حل لغت جفوۃ : سخت ہونا ، بے مروت ہونا ، آرام نہ پانا۔

تشریح ارشاد ہے’’ مجھے نبی کریم 3نے (جناب) علی (المرتضیٰ) کی قیادت میں یمن کی طرف بھیجا‘‘ یعنی حضرت نبی کریم 3نے یمن کی طرف جناب علی المرتضیٰ3 کی امارت میں ایک لشکر بھیجا جسمیں جناب بریدہ بھی شامل تھے۔ ارشاد ہے’’ میں نے ان میںآرام نہ پانا دیکھا‘‘ یعنی وہ فرمانبرداری کرنے اور اطاعت کروانے میں اور احکام منوانے میں نہایت ہی سخت تھے اور لشکر کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیتے تھے، احکامِ الٰہی اور ضبط و نظم قائم رکھنے میں بڑ ے ہی سخت تھے۔ کسی کی بھی نافرمانی دیکھنے میں قطعاً مروت نہ فرماتے۔ ارشاد ہے ’’ میں نے حضورنبی کریم3کی خدمت میں ان کی شکایت کی ‘‘ یعنی آرام کرنے نہیں دیتے اور احکامِ الٰہی میں بڑے سخت ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ارشاد ہے ’’ جس کا میں آقا ہوں علی بھی اس کا آقا ہے‘‘ یعنی جس طرح تم نے اطاعت اور فرمانبرداری میں میرا حکم ماننا ہے اس طرح جناب علی المرتضیٰ3 کا حکم بھی ماننا ہے اسلئے میں نے ہی اسے امیر مقرر کیا تھا لہٰذا اسکی اطاعت اور فرمانبرداری میں کسی قسم کی سستی یا کاہلی نہیں کرنی چاہئے بلکہ انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ 
صحیح رجالہ رجال الشیخین۔ (احمد میرین البلوشی، خصائص امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب صفحہ
۹۹)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۰
۱؂: محمد بن المثنی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۱ ۲؂: ابواحمد(الزبیری):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۴:۲
۳؂: عبدالملک: عبدالملک بن حمید بن ابی غنےۃالخزائی ، الکوفی ہے، ثقہ ہے۔ طبقہ السابعۃ سے ہے۔ (التقریب صفحہ ۲۱۸)
۴؂: الحکم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳:۴
۵؂: سعید بن جبیر:سعید بن جبیر الاسدی الکوفی ثقہ ، ثبت ، اورفقیہہ ہے۔ طبقۃ الثالثۃ سے ہے۔ اسے ۹۵ ؁ہجری میں حجاج نے قتل کروایا۔ (التقریب ،صفحہ ۱۲۰)
۶؂: ابن عباس: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۸ ۷؂: بریدہ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۹:۶

حد یث نمبر
۸۱؍۴ انبأنا ابو داود۱؂ قال حدثنا ابونعیم۲؂ قال حدثنا عبدالملک۳؂ بن ابی غنےۃ قال حدثنا الحکم۴؂ عن سعید۵؂ بن جبیر عن ابن عباس۶؂ عن بریدۃ۷؂ قال خرجت مع علی الی الیمن فرأیت منہ جفوۃ فقد مت علی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فذ کرت علیا فنقصتہ فجعل رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یتغیر وجھہ و قال یا بریدۃ الست اولی بالمومنین من انفسھم قلت بلٰی یا رسول اﷲ قال من کنت
مولاہ فعلی مولاہ
ترجمہ بریدہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں (جناب) علی (المرتضیٰ3 ) کے ساتھ یمن کی طرف نکلا پس میں نے ان میں سختی کرنا دیکھاجس وقت میں نبی کریم 3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو (سیدنا حضرت) علی3 کاذکر کیا اور ان کی شکایت کی تو حضور3کا رخِ انور متغیر ہونے لگا اور ارشاد فرمایا اے بریدہ! کیا میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک نہیں ہوں۔ میں نے عرض کی یارسول اﷲ3ہاں! تو ارشاد فرمایا جس کا میں مولا ہوں توعلی بھی اس کا مولا ہے۔

تشریح ارشاد ہے’’ کیا میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک نہیں ہوں ‘‘ یعنی دنیا اور دین کے تمام امور میں۔ اور نبی کریم3کا حکم ان پر نافذ اور نبی کی اطاعت واجب اور نبی کے حکم کے مقابل نفس کی خواہش واجب الترک۔یا یہ معنی ہیں کہ نبی مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ راحت و رحمت اور لطف و کرم فرماتے ہیں اورنافع تر ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سید عالم3نے فرمایاکہ میں ہر مومن کیلئے دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ اولیٰ ہوں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم (خزائن العرفان از مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی) ارشاد ہے’’ یا رسو ل اﷲ 3ہاں‘‘ یعنی یقیناًآپ ہماری جانوں کے مالک ہیں۔
اسنادہ صحیح (ابو اسحق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ
۷۴)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۱
۱؂: ابوداؤد:اس کا نام سلیمان بن الاشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد الازدی السجستانی ہے، ابوداؤد کنیت ہے۔ ثقہ ، حافظ اور صاحب السنن صحاح ستہ ہے۔ اکابر علماء میں سے ہے۔ طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے۔ ۲۷۵ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ ۱۳۲)
۲؂: ابونعیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۲ ۳؂: عبدالملک بن ابی غنیہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۰:۳
۴؂: الحکم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳:۴۵؂: سعد بن جبیر: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۰:۵
۶؂: ابن عباس: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۸۷؂: بریدہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۹:۶

حد یث نمبر
۸۲؍۵ اخبرنی زکریا۱؂ ابن یحیے قال حدثنا نصر۲؂ بن علی قال انبأنا عبداﷲ۳؂ بن داود عن عبد الواحد۴؂ بن ایمن عن ابیہ۵؂ ان سعدا۶؂ قال قال رسول اﷲ
صلی اﷲ علیہ والہ وسلم من کنت مولاہ فعلی مولاہ

ترجمہ سعد سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اﷲ3نے فرمایا کہ ’’ جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے ‘‘ 
صحیح (رجال السند من رجال البخاری سویٰ شیخ المؤلف و ھو ثقۃ
(یہ حدیث صحیح ہے۔ اس کی سند کے رجال بخاری کے رجال ہیں، سوائے مؤلف کے شیخ کے اور وہ ثقہ ہے۔ احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمؤمنین صفحہ
۹۹)

حد یث نمبر
۸۳؍۶ انبأنا قتیبۃ۱؂ بن سعید قال حدثنا ابن ابی عدی۲؂ عن عوف۳؂ عن میمون۴؂ بن ابی عبد اﷲ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم من کنت مولاہ
فعلی مولاہ

ترجمہ میمون بن ابی عبداﷲ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ3نے فرمایا کہ ’’ جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے ‘‘۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۲
۱؂: زکریابن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱ ۲؂: نصربن علی: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲:۲
۳؂: عبد اﷲ بن داؤد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲:۳
۴؂: عبدالواحد بن ایمن :عبدالواحد بن ایمن المخزومی کی کنیت ابو القاسم المکی ہے لاباس بہ طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ (التقریب ،ص۲۲۱)
۵؂: ابیہ:یہ عبدالواحد کے باپ جنا ب ایمن الحبشی المکی ہیں۔ ثقہ اور طبقہ الرابعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۴۰)
۶؂: سعد بن ابی وقاص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۳
۱؂: قتیبۃ بن سعید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰:۱
۲؂: ابن ابی عدی: اس کا نام محمد بن ابراہیم بن ابی عدی ہے جو کہ اپنے جد کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ثقہ اور طبقہ التاسعۃ سے ہے۔ ۱۹۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۸۸)
۳؂: عوف:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۳ ۴؂: میمون بن ابی عبد اﷲ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۴

حد یث نمبر
۸۴؍۷ انبأنا قتیبۃ۱؂ بن سعید قال حدثنا ابن ابی عدی۲؂ عن عوف۳؂ عن میمون۴؂ ابی عبداﷲ قال قال زید۵؂ بن ارقم قام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فحمد اﷲ و اثنی علیہ ثم قال الستم تعلمون انی اولی بکل مؤمن و مؤمنۃ من نفسہ قالوا بلی نشھد لانت اولی بکل مؤمن من نفسہ قال فانی من کنت مولاہ فھذا 
مولاہ و اخذ بید علی

ترجمہ زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ حضور3کھڑے ہوئے پھر اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی پھر ارشاد فرمایا ’’کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں ہر ایک مسلمان مرد اور مسلمان عورت کی جان سے زیادہ اس کا مالک ہوں ‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیاہاں! ہم گواہی دیتے ہیں کہ ضرور آپ ہر ایک مسلمان کی جان سے زیادہ مالک ہیں۔ ارشاد فرمایا ’’ پس یقیناًجس کا میں مولا ہوں پس اس کا یہ مولا ہے ‘‘ اور (جناب) علی (المرتضیٰ3 ) کا ہاتھ پکڑا۔ 

تشریح ارشاد ہے’’ ضرور آپ ہر ایک مسلمان کی جان سے زیادہ مالک ہیں‘‘ یعنی آنحضرت 3مسلمانوں کو اسی بات کا حکم فرماتے ہیں جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہو۔ ارشاد ہے ’’ اور جناب علی (المرتضیٰ3 ) کا ہاتھ پکڑا‘‘ یعنی تمام لوگوں کو دکھایا کہ یہ علی3 وہ ہیں کہ تمام مسلمانوں کے آقا ہیں۔

حد یث نمبر
۸۵؍۸ انبأنا محمد۱؂ بن یحیے بن عبد اﷲ النیسا بوری و احمد۲؂ بن عثمان بن حکیم قالا حدثنا عبید اﷲ۳؂ بن موسی قال انبأنا ھانی۴؂ بن ایوب عن طلحۃ۵؂ الایامی قال حدثنا عمیر۶؂ بن سعد انہ سمع علیا و ھو ینشد فی الرحبۃ من سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول من کنت مولاہ فعلی مولاہ فقام
بضعۃ عشر فشھدوا
اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۴
۱؂: قتیبۃ بن سعید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰:۱
۲؂: ابن ابی عدی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۳:۲
۳؂: عوف:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۳
۴؂: میمون ابی عبد اﷲ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۴
۵؂: زید بن ارقم :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲:۶ (اسماء الرجال حدیث نمبر۸۵ ، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے )
ترجمہ عمیر بن سعد سے روایت ہے یہ کہ انہوں نے (جناب) علی (المرتضیٰ) سے سنا اسی حال میں کہ وہ مسجد کوفہ کے صحن میں پوچھتے تھے کہ کسی شخص نے حضور رسالت مآب3سے سنا ہے کہ آنحضرت3فرماتے تھے کہ ’’ جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے ‘‘ تو کچھ اوپر دس اشخاص کھڑے ہوئے اور گواہی دی۔

حل لغت ینشد : وہ پوچھتے تھے ، سوال کرتے تھے۔ الرحبۃ : کوفہ کی جامع مسجد کا صحن ، کوفہ میں ایک محلہ بھی اسی نام کا ہے۔ بضعۃ : تین سے نو تک کو کہتے ہیں۔

تشریح ارشاد ہے’’ وہ مسجد کوفہ کے صحن میں پوچھتے تھے ‘‘ یعنی ایک بہت بڑے صحابہ کرام کے اجتماع میں جو کوفہ کی جامع مسجد کے صحن میں تھا یہ پوچھتے تھے۔ ارشادہے’’ کچھ اوپر دس اشخاص نے گواہی دی ‘‘ یعنی دس سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے گواہی دی کہ یہ حدیث مبارک ہم نے حضور3سے سنی ہے اور صحیح ہے۔ 
اسنادہ صحیح وحسن ( احمد میرین البلوشی، خصائص امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب، صفحہ
۱۰۰)

حد یث نمبر
۸۶؍۹ انبأنا محمد۱؂ بن المثنی قال حدثنا محمد۲؂ قال حدثنا شعبۃ۳؂ عن ابی اسحق۴؂ قال سمعت سعید۵؂ بن وھب قال قام خمسۃ او ستۃ من اصحاب النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فشھدوا ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال من
کنت مولاہ فعلی مولاہ

بقیہ حواشی: اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۵
۱؂: محمد بن یحییٰ بن عبد اﷲ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۴:۱
۲؂: احمد بن عثمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۵:۱۳؂: عبید اللہ بن موسیٰ :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۲
۴؂: ہانی بن ایوب:ہانی بن ایوب الحنفی الکوفی مقبول اور طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۶۲)
۵؂: طلحہ الایامی:طلحہ بن مصرف بن عمرو بن کعب الیامی الکوفی ثقہ ، قاری اور فاضل ہے۔ طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ ۱۱۲ ؁ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۵۷)
۶؂: عمیر بن سعد:عمیر بن سعد الانصاری الاوسی ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۶۵)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۶
۱؂: محمد بن المثنی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۱۲؂: محمد بن جعفر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳:۲
۳؂: شعبۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۳۴؂: ابی اسحق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۵؂: سعید بن وہب: سعید بن وہب الہمدانی الخیوانی الکوفی ثقہ اور مخضرم ہے۔ ۷۵ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۱۲۶)

ترجمہ سعید بن وہب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم 3 کے پانچ یا چھ صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے گواہی دی یہ کہ حضرت رسول اﷲ 3 نے ارشاد فرمایا’’ جس کا میں مولا ہوں پس علی اس کا مولا ہے ‘‘ 
اسنادہ صحیح۔ (ابواسحاق الحوینی۔ تہذیب خصائص الامام صفحہ
۱۰۱)

حد یث نمبر
۸۷؍۱۰ انبأنا علی۱؂ بن محمد بن علی قاضی المصّیصۃ قال حدثنا خلف۲؂ قال حدثنا اسرائیل۳؂ عن ابی اسحق۴؂ قال حدثنی سعید۵؂ بن وھب انہ قام مما یلیہ ستۃ وقال زید ۶؂ بن یثیع و قام مما یلینی ستۃ فشھدوا انھم سمعوا رسول اﷲ
صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول من کنت مولاہ فعلی مولاہ

ترجمہ سعید بن وہب سے روایت ہے کہ میرے قریب سے چھ افراد کھڑے ہوئے اور زید بن یثیع نے فرمایا کہ میرے قریب سے چھ افراد کھڑے ہوئے، تو انہوں نے گواہی دی یہ کہ انہوں نے حضرت رسول کریم3سے سنا ہے کہ حضور3نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے ‘‘۔

تشریح ارشاد ہے’’ سعید بن وہب سے روایت ہے کہ میرے قریب سے چھ افراد کھڑے ہوئے ‘‘ یعنی جب حضرت علی3 نے اس حدیث پر صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین سے پوچھا تو میرے ساتھ والے چھ اصحاب کھڑے ہوگئے۔ ارشاد ہے’’ زید بن یثیع نے فرمایا کہ میرے قریب سے چھ افراد کھڑ ے ہوئے ‘‘ یعنی اس اجتماع میں سے بارہ اصحاب کھڑے ہوئے۔ 
صحیح رجال اسنادہ ، ثقات
(احمد میرین البلوشی، خصائص امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب ، صفحہ
۱۰۲)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۷
۱؂: علی بن محمد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۹:۱
۲؂: خلف (بن تمیم):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۹:۲
۳؂: اسرائیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۳
۴؂: ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۵؂: سعید بن وہب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۶:۵
۶؂: زید بن یثیع : ملاحظہ کیجئے اسما الرجال حدیث نمبر ۷۰:۵

حد یث نمبر
۸۸؍۱۱ انبأنا ابوداؤد۱؂ قال حدثنا عمران۲؂ ابن ابان قال حدثنا شریک۳؂ قال حدثنا ابو اسحق۴؂ عن زید۵؂ بن یثیع قال سمعت علی ابن ابی طالب یقول علی منبر الکوفۃ انی منشد اﷲ رجلا لا انشد الا اصحاب محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ھل سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یوم غدیر خم یقول من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ فقام ستۃ من جانب المنبر و ستۃ من جانب المنبر الاخر فشھدوا انھم سمعوا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول ذالک قال شریک فقلت لابی اسحاق ھل سمعت البرآء بن عازب
یحدث بہذا عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال نعم

ترجمہ زید بن یثیع سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب سے سنا وہ فرماتے تھے جبکہ کوفہ میں منبر پر تشریف فرماتھے یقیناًمیں اس شخص کو اﷲ کی قسم دیتا ہوں نہیں دیتا ہوں قسم مگر اصحاب محمد 3کو کیا اس نے رسول کریم3سے غدیر خم کے دن سنا کہ آنحضرت3فرماتے تھے ’’ جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے۔ اے میرے اﷲ ! جو اس کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ ، اور جو اس سے عدوات کرے تو بھی اس سے دشمنی رکھ‘‘ پس چھ افراد منبر کی ایک طرف سے اور چھ افراد دوسری طرف سے اٹھے ، پس سب نے (جو کھڑے ہوئے ) اس بات کی گواہی دی کہ ہم نے یہ حدیث (شریف ) جناب رسول اﷲ3سے سنی ہے۔ شریک نے کہا کہ میں نے ابی اسحاق سے پوچھا کیا تو نے برأ بن عاذب سے خود سنا ہے کہ وہ حضور رسول کریم3ز سے یہ حدیث شریف بیان فرماتے تھے؟ اس نے فرمایا ہاں!۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۸
۱؂: ابو داؤد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۱:۱
۲؂: عمران بن ابان:عمران بن ابان بن عمران السلمی یا القرشی ہے۔ اس کی کنیت ابو موسیٰ ہے، الطحان الواسطی ہے ،ضعیف ہے اور طبقہ التاسعۃ سے ہے۔ ۲۰۵یا۲۰۷ہجری میں وفات پائی۔(التقریب،صفحہ ۲۶۴)
۳؂: شریک:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۱:۳
۴؂: ابواسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۵؂: زید بن یثیع: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۰:۵

تشریح ارشاد ہے’’ کیا اس نے رسول کریم3سے غدیر خم کے دن سنا کہ آنحضرت3فرماتے تھے ‘‘ یعنی اے پیغمبر اسلام جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی3کے صحابہ کیا تم میں سے کسی نے غدیر خم کے دن حضور3کو یہ فرماتے سنا ہے ،سچ سچ خداوند بزرگ و برتر کو گواہ کرکے بتلاؤ۔ ارشاد ہے’’ چھ افراد منبر کی ایک طرف سے اور چھ افراد منبر کی دوسری طرف سے ‘‘ یعنی منبر مبارک کے ہردو جانب سے وہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین اٹھے جنہوں نے حضور سید المرسلین3سے یہ حدیث مبارک سنی تھی۔ 
قا ل ابو عبدالرحمن، عمران ابن ابان الواسطی لیس یقوی فی الحدیث
امام نسائی3نے فرمایا ہے کہ عمران ابن ابان واسطی حدیث میں قوی نہیں ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم علی ولی کل مؤمن من بعدی 
’’ اس میں حضور انور نبی کریم 3 کے اس ارشاد 
گرامی کا ذکر ہے کہ میرے بعد ہر ایک مومن کا ولی علی ہے‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۸۹؍۱ حدثنا احمد ۱؂ بن شعیب قال اخبرنا قتیبۃ۲؂ بن سعید قال حدثنا جعفر۳؂ یعنی ابن سلیمان عن یزید۴؂ الرشک عن مطرف۵؂ بن عبد اﷲ عن عمران۶؂ بن حصین قال بعث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم جیشا و استعمل علیھم علی ابن ابی طالب فمضی فی السرےۃ فاصاب جارےۃ فانکروا علیہ و تعاقد اربعۃ من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فقالوا اذا لقینا رسول اﷲ فنشکوا علیہ وکان المسلمون اذا رجعوا من سفر بدء وا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فسلموا علیہ ثم انصرفوا الی رحالھم فلما قدمت السرےۃ فسلموا علی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فقام احد الاربعۃ فقال یا رسول اﷲ الم تران علی ابن ابی طالب صنع کذا و کذا فا عرض عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ثم قام الثانی فقال مثل ذالک ثم قام الثالث فقال مثل مقالتہ ثم قام الرابع فقال مثل ما قالوا فاقبل الیھم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و الغضب یعرف فی وجھہ فقال ما تریدون من 
علی ان علیا منی انا منہ وھو ولی کل مؤمن من بعدی 
(اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۹، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے )
ترجمہ عمران بن حصین سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ3نے ایک لشکر بھیجا اور (جناب) علی ابن ابی طالب کو ان پر حاکم مقررفرمایا۔ پس لڑائی اختتام کو پہنچائی، پس (جناب علی المرتضیٰ3 نے ) ایک کنیز کو لے لیا۔ پس آپ کی عیب جوئی کی اور رسول اﷲ3کے صحابہ میں سے چار صحابہ نے آپس میں عہد کیا کہ جب ہم حضرت رسول اﷲ3کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو (جناب علی المرتضیٰ3 کی ) شکایت کریں گے اور مسلمانوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب سفر سے واپس لوٹتے تو سب سے پہلے رسول کریم3 کی خدمتِ مبارکہ میں حاضر ہوتے ،سلام عرض کرتے پھر اپنے اپنے گھروں کو جاتے۔ پس جب یہ دستہ آیا تو نبی کریم3کے سلام کو حاضر ہوا ۔پس ان چار میں سے ایک کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یارسول اﷲ3کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ علی بن ابی طالب نے یہ کیا ،یہ کیا، تو رسول کریم3نے اس سے منہ(مبارک) پھیر لیا۔ پھر دوسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی بات کہی۔ پھر تیسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی اس کی بات کی طرح بات کہی۔ پھر چوتھا کھڑا ہوا ، سو اس نے بھی ان کی مانند بات کہی۔ تو حضرت رسول کریم3نے ان کی طرف رخ انور موڑا۔ در آنحا لیکہ آنحضور 3 کے چہرۂ انور سے غصہ ظاہر ہو رہا تھا پھر ارشاد فرمایا تمہیں (جناب )علی3 کے متعلق کونسی بات نے برانگیختہ کر رکھا ہے۔ یقیناًعلی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور میرے (وصال) کے بعد (بھی ) وہ ہر ایک مومن کا ولی ہے۔

حل لغت مضی: یمضی و یمضو مضاع و مضوا: علی الامر ، مداومت کرنا، جاری کرنا اور پورا کرنا۔ انکر علیہ فعلہ: عیب لگانا اور منع کرنا۔ بدأو : شروع کرتے۔ بدء ا، وا بتداء، وبتداء : شروع کرنا ، پہلے کرنا۔ اراد، ارادۃ: چاہنا ، خواہش کرنا ، راغب ہونا۔ علی الامر : برانگیختہ ہونا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ پس لڑائی اختتام کو پہنچائی ‘‘ یعنی جہاد کامیابی کے ساتھ انجام پذیر ہوا اور یہ لشکر جو آپ3 کی قیادت میں آیا تھا فتح مند ہوا۔ اور حضور پیغمبر اسلام3نے جو مہم آپ3 کو سونپی تھی آنجناب3 نے انتہائی حسنِ تدبیر کے ساتھ سر انجام دی اور فتح وظفر سے ہمکنار ہوئے۔ ارشاد ہے ’’پس (جناب علی المرتضیٰ نے)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۸۹
۱؂: احمد بن شعیب: احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر بن دنیار کی کنیت ابوعبد الرحمن النسائی ہے۔ حافظ ہے ، صاحب سنن ہے۔ ۳۰۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(التقریب،صفحہ۱۳)بعض کتب میں احمد بن شعیب کا ذکر نہیں۔ اس کے مفصل حالات جاننے کے لئے مقدمہ کتاب ہذا کی طرف رجوع کریں۔
۲؂: قتیبۃ بن سعید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰:۱
۳؂: جعفر بن سلیمان: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۵:۲۴؂: یزید الرشک: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۷:۳
۵؂: مطرف بن عبد اﷲ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۷:۴ ۶؂: عمران بن حصین:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۱:۶
ایک کنیز کو لے لیا‘‘ یعنی کفار پر فتح حاصل کرنے کے بعد جو اُن کی عورتیں مال غنیمت میں آئیں، ان میں سے ایک عورت کو بطور لونڈی کے آنجناب3 نے لے لیا۔ ارشاد ہے’’آپ کی عیب جوئی کی ‘‘ یعنی آپ ص کے اس کام کو برا جان کر عیب جوئی کرنے لگے۔ ارشاد ہے ’’ پہلے رسول کریم3کی خدمتِ مبارکہ میں حاضر ہوتے، سلام کرتے پھر اپنے اپنے گھروں کو جاتے ‘‘ یعنی صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کا یہ معمول تھا کہ جب کسی جہاد یا کسی بھی سفر سے واپس آتے تو اپنے گھروں میں پہلے نہ جاتے بلکہ اپنے محبوب ، ہادئ برحق پیغمبر اسلام جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی3کے حضورِ اقدس میں حاضر ہوتے ،قدم بوسی کا شرف حاصل کرتے، آداب و احترام بجا لاتے، ہدیہ و تحفہ پیش کرتے ، دعاو برکت حاصل کرتے ، پھر اپنے گھر بال بچوں میں تشریف لے جاتے اور آج تک یہ سلسلہ قائم ہے۔ ساداتِ کرام اور مشائخِ عظام سے مخلص تعلق رکھنے والے اسی طرح کرتے ہیں اورصحابہ کرام کی اس سنت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ فجزاہ اﷲ احسن الجزاء ۔ارشاد ہے ’’ علی ابن ابی طالب نے یہ کیا ،یہ کیا‘‘ یعنی اس لونڈی کے متعلق شکایت کی۔ ارشاد ہے ’’ تو رسول کریم3نے اس سے منہ (مبارک ) پھیر لیا یعنی اس شخص کی اس شکایت پر کوئی توجہ نہ فرمائی۔ اس لئے کہ یہ ایک ناجائز اور قطعاً غیر مناسب بات تھی جو کہ شرعاً و عرفاً غلط تھی۔ا رشاد ہے ’’ پھر چوتھا کھڑا ہوا سو اس نے بھی ان کی مانند بات کہی ‘‘ یعنی ان چاروں نے اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان کے مطابق شکایت کردی۔ ارشاد ہے ’’ پھر ارشاد فرمایا تمہیں (جناب) علی3 کے متعلق کون سی بات نے برانگیختہ کر رکھا ہے ‘‘ یعنی حضور3نے ان چارصحابہ کی شکایت سن کر انہیں ارشاد فرمایا تمہیں کون سی بات جناب علی المرتضیٰ3 کی مخالفت پر اکسارہی ہے اور برانگیختہ کر رہی ہے۔ کیاتم نے اس کے مرتبہ و مقام کو نہیں سمجھا، اس کو تو میرے قرب کی وجہ سے وہ مقام و مرتبہ حاصل ہے جو مجھے تم پر ہے اور میرے وصال کے بعد بھی وہ ہی ہر ایک مومن کا ولی ہے جب وہ ولی برحق ہے تو اسے ہر قسم کا تصرف بھی حاصل ہے۔ 
اسنادہ صحیح 
(ابواسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام علی ، صفحہ
۷۸)


بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم علی ولیکم مرتضی من بعدی 
’’ حضور سید الانبیاء جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی3کے
اس ارشاد کا ذکر ہے کہ علی تمہارا ولی اور میرے بعد مرتضیٰ ہے ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۹۰؍۱ حدثنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا واصل۲؂ بن عبد الاعلی الکوفی عن ابن فضیل۳؂ عن الاجلح۴؂ عن عبد اﷲ۵؂ بن بریدۃ عن ابیہ۶؂ قال بعثنا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الی الیمن مع خالد بن الولید و بعث علیا علی جیش اخر وقال ان التقیتما فعلی کرم اﷲ وجہہ علی الناس وان تفرقتما فکل واحد منکما علی حدۃ فلقینا ببنی زبیدمن اہل الیمن و ظھر المسلمون علی المشرکین فقاتلنا المقاتلۃ و سبینا الذرےۃ فاصطفی علی جارےۃ لنفسہ منھن فکتب بذالک خالد بن ولید الی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و امرنی ان انال منہ قال فدفعت الکتب الیہ و قلت من علی فتغیر وجھہ ای النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فقلت ھذا مکان العایذ بعثتنی مع رجل و الزمتنی بطاعتہ فبلغت ما ارسلت بہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ 
وسلم لی لا تقعن یا بریدۃ فی علی فان علیا منی و انا منہ وھو ولیکم بعدی

اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۰
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: واصل بن عبدالاعلیٰ:واصل بن عبدالاعلی بن ہلا ل الاسدی کی کنیت ابوالقاسم یاابو المحمد الکوفی ہے۔ ثقہ اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔۲۴۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۶۸) (حواشی اسماء الرجال اگلے صفحہ پر جاری ہیں)

ترجمہ عبد اﷲ بن بریدہ اپنے باپ بریدہ سے روایت کرتا ہے کہ بریدہ نے کہا کہ ہمیں جناب رسول کریم3 نے خالد بن ولید کی معیت میں یمن کی طرف بھیجا اور ایک دوسرے لشکر پر علی (المرتضیٰ3 ) کو امیر بنا کر بھیجا اور حضور نبی کریم 3نے فرمایا، اگر تم دونوں لشکر مل جاؤ تو تم سب پر علی3 امیر ہوگا اور اگر تم الگ الگ رہے تو ہر ایک لشکر کا تم میں سے اپنا اپنا امیر ہوگا۔ پس ہم اہلِ یمن کے قبیلے بنی زبید سے بالمقابل اکٹھے ہوئے اور مسلمان مشرکین پر غالب آگئے۔ پس جو لڑنے والے تھے وہ قتل ہوئے اور ان کی اولاد کو بندی بنایا ان میں سے (جناب) علی نے اپنے لئے ایک کنیز چن لی۔ تو خالد بن ولید نے یہ واقعہ نبی کریم 3 کو لکھا اور مجھے حکم دیا کہ میں یہ خط حضور نبی کریم 3 کو پہنچا دوں۔ (بریدہ نے ) کہا کہ میں نے وہ خط جناب رسول کریم3کی خدمت میں پیش کر دیا اور میں نے بھی (جناب) علی (المرتضیٰ 3 ) کی بدی کی۔ پس حضرت نبی کریم3کے چہرۂ اقدس پر غصہ کے آثار نمایاں ہوئے۔ پس میں نے کہا کہ یہ مقام پناہ مانگنے کا ہے۔ (اے پیغمبر 3) آپ نے مجھے ایک شخص کے ساتھ بھیجا اور اس کا حکم مجھ پر ضروری ٹھہرایا۔ سوجو چیز اس نے مجھے دی ، میں نے وہ پہنچا دی۔ پس مجھے رسول اﷲ3 نے ارشاد فرمایا ’’ اے بریدہ ! (حضرت ) علی (3 ) کی نافرمانی نہ کر یقیناًعلی مجھ سے اور میں اسی سے ہوں اور وہ میرے بعد بھی تمہارا ولی ہے۔

حل لغت ظھر: ظہر کا صلہ جب علی ’’ آئے تو اس کے معنی غلبہ پانا ہیں‘‘۔ اصطفی : چننا،منتخب کرنا، برگزیدہ کرنا۔ جارےۃ : باندی ، کنیز۔ انال: پہنچا دوں، انالۃ : پہنچانا ، نیل یا نال یا نالۃ: پہنچنا ، مراد حاصل کرنا ، گالی دینا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ہمیں جناب رسول کریم3نے خالد بن ولید کی معیت میں یمن کی طرف بھیجا‘‘ یعنی یمن کی طرف ایک لشکر بھیجا جس کی امارت خالد بن ولید کو پیغمبر اسلام3نے سوپنی۔ ارشاد ہے’’ اور ایک دوسرے لشکر پر علی المرتضیٰ کو امیر بنا کر بھیجا‘‘ یعنی یمن کو فتح کرنے کیلئے مختلف سمتوں سے دو لشکر روانہ ہوئے۔ ایک کی قیادت خالد بن ولیدصکر رہے تھے اور دوسرے کی قیادت جناب علی المرتضیٰ3 کر رہے تھے۔ ارشاد ہے ’’ اگر تم

بقیہ حواشی:
۳؂: ابن فضیل (محمد بن فضیل): ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷:۲
۴؂: الاجلح:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷:۳
۵؂: عبد اﷲ بن بریدہ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۹:۵
۶؂: ابیہ: بریدہ بن الحصیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۹:۶
دونوں لشکر مل جاؤ تو تم سب پر علی3 امیر ہوگا‘‘ یعنی جب مختلف سمتوں سے آکر یہ دونوں لشکر ایک جگہ مل جائیں تو یہ دونوں لشکر ایک لشکر ہو جائے گا اور خالد بن ولید اپنے لشکر کی قیادت جناب علی المرتضیٰ3 کو سونپ دیں گے اور تمام لوگوں کی قیادت اور سرداری جناب علی المرتضیٰ3 فرمائیں گے اور پھر جہاد میں حضرت علی3 امیر ہوں گے۔ ارشاد ہے ’’ اور اگر تم الگ الگ رہے تو ہر ایک لشکر کا تم میں سے اپنا اپنا امیر ہوگا‘‘ یعنی جب تک یہ دونوں اکٹھے نہ ہوجائیں، ہر ایک لشکر اپنے اپنے امیر کی قیادت میں لڑتا رہے گا ۔ایک لشکر کا امیر خالد بن ولیدص ہو گا اور دوسرے کا علی بن ابی طالب ص۔ ارشاد ہے’’ پس ہم اہل یمن کے قبیلے بنو زبید سے بالمقابل اکٹھے ہوئے ‘‘ یعنی دونوں لشکر یکجا ہوگئے اور یمن کے قبیلہ بنی زبید کے مقابلہ میں جناب علی المرتضیٰ3 کی قیادت میں صف آراء ہوگئے۔ ارشاد ہے ’’ مسلمان مشرکین پر غالب آگئے‘‘ یعنی مشرکوں نے شکست کھائی اور مسلمانوں کو فتح و ظفر نصیب ہوئی۔ ارشاد ہے’’ پس جو لڑنے والے تھے وہ قتل ہوئے ‘‘ یعنی خوب گھمسان کی لڑائی ہوئی اور ہر طاقتور جوان لڑا اور مسلمانوں نے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا۔ ارشاد ہے’’ اور ان کی اولاد کو بندی بنایا‘‘ یعنی جو باقی عورتیں اور چھوٹے بچے رہ گئے وہ مسلمانوں نے قیدی بنا لئے۔ ارشاد ہے ’’ ان میں سے (جناب) علی نے اپنے لئے ایک کنیز چن لی‘‘ یعنی اس قبیلہ کی قیدی عورتوں سے ایک عورت کو علی المرتضیٰ3 نے اپنے لئے بطورِ باندی کے لے لیا۔ ارشاد ہے ’’مجھے حکم دیا کہ میں یہ خط حضور 3 کو پہنچا دوں‘‘ یعنی جناب علی المرتضیٰ 3 کے خلاف یہ شکایت سے بھرا ہوا خط پیغمبر اسلام3کو پہنچا دوں۔ ارشاد ہے ’’ پس میں نے کہا یہ مقام پناہ مانگنے کا ہے ‘‘ یعنی میں آنحضور3کے غصہ اور غضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ گویا مجھ سے ایک بڑی غلطی ہوگئی ہے جس سے آپ3ناراض ہوگئے ہیں۔ ارشاد ہے ’’ سو جو چیز اس نے مجھے دی میں نے وہ پہنچا دی ‘‘یعنی اس خط کے پہنچانے میں میں نے اپنے امیر کی اطاعت کی ہے۔ اگرچہ وہ صرف خط پہنچا دیتا تو اپنا فرض ادا کرتا مگر ساتھ ہی اس صاحب نے زبانی شکایت بھی کی جو کہ اسے مناسب نہیں تھا جطتبکہ حضور3نے جناب علی المرتضیٰ3 کو تو ان سب کا امیر مقرر فرما دیا تھا۔ جبکہ دونوں لشکر اکٹھے ہوگئے تھے اور جناب امیر ں کی قیادت میں یہ جہاد ہوا۔ اس میں تو خالد بن ولید ایک سپاہی کی حیثیت سے شامل ہوئے نہ کہ امیر کی حیثیت سے لہٰذا ان سب پر جناب امیرص کی اطاعت لازمی اور ضروری تھی نہ کہ شکایتیں اور برائیاں بیان کرتے جو کہ اطاعت امیر کے خلاف بات ہے۔ جس سے سینکڑوں فتنے اور فساد پیدا ہو سکتے ہیں، فافھم۔ ارشاد ہے ’’ اے بریدہ! (حضرت ) علی (3 ) کی نافرمانی نہ کر یقیناًعلی مجھ سے ہے اور میں اس سے، اور وہ میرے بعد بھی تمہارا ولی ہے ‘‘ یعنی سبحان اﷲ جناب امیر المومنین علی3 کی عظمت و شان کتنی عظیم اور اعلیٰ ہے کہ آنجناب3 کی ولایتِ حقہ تاقیام قیامت قائم ہے۔ 
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
اسنادہ حسن ( ابو اسحاق الحوینی، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ
۷۸)
جناب عبیداﷲ صاحب بسملؔ امرتسری
۱؂ حدیث نقل کرتے ہیں
عن علی قال خرجت مع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ذات یوم تمشی فی طرقات المدینۃ اذ مررنا بنخل من نخلھا فصاحت نخلۃ باخری ھذا النبی المصطفی و ھذا علی المرتضی الخ (اخرجہ الخوارزمی و ابن یوسف الکنجی فی کفاےۃ الطالب)
(سیدنا ) علی (المرتضیٰ3 )سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں جناب رسول اﷲ3کے ساتھ ایک دفعہ نکلا ،ہم مدینہ مبارکہ کے بعض راستوں میں جارہے تھے۔ اچا نک ہمارا گزر ایک کجھوروں کے باغ پر ہوا تو ایک کجھور کے درخت نے دوسرے کو پکار کر کہا کہ یہ نبی مصطفی3ہیں اور یہ علی المرتضیٰ3 ہیں (الی آخرہ الحدیث) 
مندرجہ بالا باب کے عنوان میں ’’ مرتضیٰ‘‘ کا ذکر آیا ہے مگر حدیث مبارکہ میں نہیں آیا۔ بیروت اور مصر وغیرہ کی چھپی ہوئی خصائص میں اس باب کے عنوان میں بھی یہ لفظ نہیں چونکہ میرے سامنے ہندوستانی چھاپہ خانہ کی کتاب ہے لہٰذا میں نے لکھ دیا ہے۔۔۔۔ واﷲ اعلم بالصواب








۱؂: ( ارجح المطالب فی عد مناقب اسد اﷲ الغالب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب صفحہ ۳۶)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم من سب علیا فقد سبنی 
’’یہ باب آنحضرت 3کے اس ارشادِ گرامی پر ہے کہ جس نے علی
(المرتضیٰ 3 ) کو گالی دی اس نے مجھے کو گالی دی ‘‘ (استغفر اﷲ )
(اس باب میں چھ احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۹۱؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا العباس۲؂ بن محمد الدوری قال حدثنی یحیے۳؂ بن ابی بکیر قال حدثنا اسرائیل۴؂ عن ابی اسحاق۵؂ عن ابی عبداﷲ۶؂ الجدلی قال دخلت علی ام سلمۃ رضی اﷲ عنہا فقالت اتسب رسول اﷲ قلت سبحان اﷲ او معاذ اﷲ قالت سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول
من سب علیا فقد سبنی
ترجمہ ابو عبداﷲ جدلی سے روایت ہے وہ کہتا ہے کہ میں ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا کہ (اے ابو عبداﷲ ) تو جناب رسول اﷲ 3کو گالی دیتا ہے تو میں نے عرض کی اﷲ منزہ ہے یاکہا اﷲ سے پناہ مانگتا ہوں۔ ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم3سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ 
اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۱
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ ۲؂: العباس بن محمد الدوری:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۰:۱
۳؂: یحییٰ بن ابی بکیر:اس کا نام نسر الکرمانی ہے، کوفی الاصل ہے، بغداد میں سکونت اختیار کی۔ ثقہ ہے ، طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۲۰۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۷۴)
۴؂: اسرائیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۳۵؂: ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: ابی عبد اﷲ الجدلی:اس کا نام عبد بن عبدیاعبد الرحمن بن عبد ہے۔ ثقہ ہے رمی بالتشیع ، طبقہ الثالثہ کے کبار سے ہے۔(التقریب صفحہ ۴۱۴) احمد اور معین وغیرہما نے اسے ثقہ لکھا ہے (ابو اسحاق الحوینی تہذیب خصائص الامام علی ص،صفحہ ۷۹)
’’ جس شخص نے (جناب) علی(3 ) کوگالی دی اس نے مجھے گالی دی ‘‘۔

تشریح ارشاد ہے ’’ اﷲ منزہ ہے یا کہا میں اﷲ سے پناہ مانگتا ہوں ‘‘ یعنی یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ میں ہرگز یہ کام نہیں کرتا۔ ارشاد ہے ’’ جس شخص نے (جناب) علی(3 )کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی ‘‘ یعنی جناب امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیٰ3 کو برا کہنا اپنے ایمان ، اعمال اور اخلاق کو تباہ و برباد کر نا ہے ، دنیا اور آخرت میں رو سیاہ بننا ہے۔ جناب مولوی محمد ابو الحسن مصنف ’’فیض الباری شرح اردو صحیح البخاری ‘‘لکھتے ہیں’’ مقتضاء اس حدیث کا یہ ہے کہ ہے براکہنا علی کا کفر اور بعض کہتے ہیں کہ یہ محمول ہے وعید پر ‘‘ (مناقب مرتضوی، خصائص نسائی صفحہ
۵۴)

اسنادہ صحیح (ابو اسحاق الحوینی، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ
۷۹)


حد یث نمبر
۹۲؍۲ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا عبدالاعلی۲؂ بن واصل بن عبدالاعلی الکوفی قال حدثنا جعفر۳؂ بن عون عن شقیق۴؂ بن ابی عبداﷲ قال حدثنی ابو بکر۵؂ بن خالد بن عرفطۃ قال رأیت سعد بن مالک بالمدینۃ فقال ذکرلی انکم تسبون علیا فقلت قد فعلنا قال لعلک سببتہ قلت معاذ اﷲ قال لا تسبہ فلو وضع المنشار علی مفرقی علی ان اسب علیا ما اسبہ بعد ما سمعت من رسول
اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الترغیب فی موالاتہ و الترھیب فی معاداتہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۲
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: عبدالاعلی بن واصل:عبدالاعلیٰ بن واصل بن عبدالاعلیٰ الاسدی الکوفی ثقہ ہے، طبقہ العاشرہ کے کبار سے ہے۔ ۲۴۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۱۹۵)
۳؂: جعفر بن عون:جعفر بن عون بن جعفر بن عمرو بن حریث المخزومی صدوق ہے۔ طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۲۰۶ ؁یا ۲۰۷ ؁ہجری میں فوت ہوئے۔ (التقریب ،صفحہ۵۶)
۴؂: شقیق بن ابی عبد اﷲ:شقیق بن ابی عبداﷲ الکوفی ہے اور آل حضرمی کا مولیٰ ہے۔ ثقہ ہے، طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ (التقریب ،صفحہ ۱۴۷)
۵؂: ابی بکر بن خالد:ابی بکر بن خالد بن عرفطۃ العذری القضاعی بنی زہرہ کا حلیف ہے اور یہ جناب سعد ابن ابی وقاصص اور جناب ابن الارت سے روایت کرتا ہے اور اس سے اس کا بیٹا طالوت اور شقیق بن ابی عبداﷲ روایت کرتے ہیں۔ عبداﷲ بن احمد نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے اس (ابوبکر بن خالد ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا ’’یروی عنہ‘‘ (تہذیب التہذیب،جلد ۱۲،صفحہ ۲۴)

ترجمہ ابی بکر سے روایت ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے سعد بن مالک کو مدینہ (منورہ) میں دیکھا تو سعد نے فرمایا کہ مجھے یہ بتایا گیا کہ تم لوگ (جناب) علی(3 ) کو برا کہتے ہو۔ پس میں نے کہا کہ ہم نے یہ کام کیا ہے۔ فرمایا کہ شاید تو نے انہیں گالی دی ہو میں نے عرض کیا کہ پناہ بخدا۔ فرمایا کہ انہیں برا بھی نہ کہو، اگر میرے سر پر آرہ بھی چلادیا جائے اس بات کے کہنے کیلئے کہ (جناب) علی(3 ) کو گالی دوں تو نہ دوں گا۔ اس لئے کہ جب سے میں نے رسول اﷲ3سے یہ بات سنی ہے کہ رغبت دلاتے ان کی دوستی پر ، اور ڈراتے ان کی دشمنی سے۔

حل لغت المنشار: آرہ ، اس کی جمع مناشیر ہے ، پنجہ دار لکڑی جس سے گیہوں وغیرہ کو بھوسہ سے علیحدہ کرتے ہیں۔ مفرق: مانگ ، اس کی جمع مفارقہے ، چوٹی۔ موالاۃ: دوستی کرنا، مدد کرنا۔ الترھیب: ڈرانا ، خوف دلانا۔ معاداۃ : جھگڑا کرنا ، دشمنی کرنا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ تم لوگ (جناب) علی کو بر اکہتے ہو‘‘ یعنی جناب سعد نے جعفر بن ابوبکر بن خالد بن عرفطہ کو کہا۔ ارشاد ہے ’’ رغبت دلاتے ان کی دوستی پر اور ڈراتے ان کی دشمنی سے ‘‘ یعنی جناب سعد بن مالک ص نے فرمایا کہ جب سے میں نے حضورپیغمبر اسلام3سے یہ گرامی قدر ارشاد سنا ہے کہ آنحضورعلی المرتضیٰص کی دوستی اور محبت کا شوق دلاتے تھے اور آپ ص کی دشمنی اور عداوت سے ڈراتے تھے۔ تو اگر مجھے آرا سے چیر بھی دیا جائے تو میں برا نہ کہوں گا اور نہ ہی گالی دوں گا۔ یعنی حکومت وقت مجھ پر کتنا ہی ظلم ، جبر و زیادتی کرے کہ تم جناب علی المرتضیٰ3 کی شان میں گستاخی کرو تو وہ سب ظلم ، جبر،زیادتی حتیٰ کہ جان تک دے دوں گا مگر گستاخی نہ کروں گا۔ اس لئے کہ مجھے حضور3کی اطاعت اور حضور3کے ارشادات پر عمل کرنا ہے۔ بنو امیہ یا کسی بھی حکومت کے ایسے حکم پر عمل نہیں کرنا جو کہ میرے پیغمبر3کے احکامات کے خلاف ہو۔
اسنادہ حسن (احمد میرین البلوشی ، صفحہ
۱۱۲)

حد یث نمبر
۹۳؍۳ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی ھارون۲؂ بن عبد اﷲ البغدادی الجبالی قال حدثنا مصعب۳؂ بن المقدام قال حدثنا فطر۴؂ بن خلیفۃ عن ابی الطفیل۵؂ ۔۔۔ و اخبرنا ابو داود۱؂ قال حدثنا محمد۲؂ بن سلیمان قال حدثنا فطر۳؂ عن ابی الطفیل۴؂ عامر بن واثلۃ قال جمع علی الناس فی الرحبۃ فقال انشد

اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۳
۱ؔ ؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ (حواشی اسماء الرجال اگلے صفحہ پر جاری ہیں)
باﷲ کل امری ما سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول فی غدیرخم فقام
اناس فشھدوا ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال یوم غدیر خم الستم تعلمون انی اولی بالمؤمنین من انفسہم و ھو قآئم ثم اخذ بید علی فقال من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ قال ابوالطفیل خرجت وفی نفسی منہ شےئی فلقیت زید بن ارقم فاخبرتہ فقال ما تنکر انا سمعتہ من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم

ترجمہ ابی الطفیل عامر بن واثلہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (جناب) علی (المرتضیٰ) نے ایک کھلی جگہ پر لوگوں کو جمع کیا۔ سو فرمایا میں ہر اس شخص کو اﷲ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں اس بات کی جو اس نے غدیر خم کے دن حضرت رسول اﷲ3سے سنی۔ پس کافی لوگ کھڑے ہوگئے اور اُنہوں نے شہادت دی کہ غدیر خم کے دن حضور رسول کریم 3نے ارشاد فرمایا ’’کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں‘‘ اور حضور3کھڑے تھے۔ پھر (جناب) علی (3 ) کا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے۔ اے اﷲ ! تو بھی اس شخص کو دوست رکھ جو علی سے محبت کرے اور دشمن رکھ اس کو جو کہ علی سے عداوت رکھے۔ ابوالطفیل نے کہا کہ میں نکلا اور میرے دل میں اس کے بارے میں ترددتھا پس میں زید بن ارقم کو ملا اور یہ تمام روئیداد اس کو کہی۔ پس (زید بن ارقم نے ) کہا کیاتو اس حدیث کا انکار کرتا ہے۔ میں نے خود جناب رسول اﷲ3 سے یہ حدیث سنی ہے۔ 

حل لغت الرحبۃ: کشادہ زمین جس میں بکثرت گھاس ہو اور اس جگہ بہت لوگ آتے ہوں ،مکانوں کے

بقیہ حاشیہ :
۲؂: ہارون بن عبد اﷲ البغدادی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۴:۱
۳؂: مصعب بن المقدام :مصعب بن المقدام الخثعمی کی کنیت ابوعبد اﷲ الکوفی ہے۔ صدوق ہے لہ اوھام طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۲۰۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۳۳۸) ابن معین نے کہا ثقہ ہے۔ ابو حاتم نے کہا صالح الحدیث ہے۔ ابو داؤد نے کہ لا باس بہ علی بن المدینی نے کہا ضعیف ہے۔ مسلم نے اس سے اخراج کیا ہے۔(احمد میرین البلوشی، خصائص امیر المؤمنین علیص ابن ابی طالب ،صفحہ۱۱۳)
۴؂: فطر بن خلیفہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۹:۳۵؂: ابی الطفیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۸:۶
یہی حدیث درج ذیل اسماء الرجال سے بھی روایت کی گئی ہے۔ 
۱؂: ابوداؤد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۱:۱۲؂: محمد بن سلیمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۹:۱
۳؂: فطر (بن خلیفہ): ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۹:۳۴: ؂ ابی الطفیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۸:۶
درمیان کھلی جگہ، بہت بڑا صحن۔

تشریح ارشاد ہے’’ سو فرمایا میں ہر اس شخص کو اﷲ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں اس بات کی جو اس نے غدیر خم کے دن رسول اﷲ3سے سنی ‘‘ یعنی غدیر خم کے مقام پر حضور3نے جو فرمایا ہے میں اس شخص کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ سنی ہوئی بات اسی طرح بیان کر دے جیسا کہ آنحضرت3نے فرمایاتھا۔ ارشاد ہے’’ اور انہوں نے شہادت دی کہ غدیر خم کے دن حضور3نے ارشاد فرمایا ‘‘ یعنی بہت سے صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین نے یہ حدیث شریف بیان فرمائی۔ ارشاد ہے ’’ میرے دل میں اس کے بارے میں تردد تھا‘‘ یعنی میں اس مجلس سے آگیا مگر میرے دل میں جناب علی المرتضیٰ3 کے متعلق شک اور تردد تھا یا اس حدیث کے متعلق مجھے ترددتھا ۔ ارشاد ہے ’’ کیاتو اس حدیث کا انکار کرتا ہے ‘‘ یعنی نہایت ہی حیرت و استعجاب سے انہوں نے فرمایا۔ 
و اللفظ لابی داؤد اور ابی داؤد کے بھی یہ الفاظ ہیں اسنادہ حسن(احمد میرین البلوشی، خصائص امیرالمومنین علیص ابن ابی طالب، صفحہ
۱۱۳) 

حد یث نمبر
۹۴؍۴ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی ابو عبد الرحمن۲؂ زکریا بن یحیے السجستانی قال حدثنی محمد۳؂ بن عبد الرحیم قال انبأنا ابراھیم۴؂ قال حدثنا معن۵؂ قال حدثنی موسی۶؂ بن یعقوب عن المھاجر۷؂ بن مسمار عن عائشۃ۸؂ بنت سعد و عامر۹؂ بن سعد عن سعد ۱۰؂ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم خطب فقال اما بعد ایھا الناس فانی ولیکم قالوا صدقت ثم اخذبید علی فرفعھا ثم
قال ھذا ولیے والمؤدی عنی وال اللھم من والاہ و عاد اللھم من عاداہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۴
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: ابو عبد الرحمن زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۳؂: محمد بن عبدالرحیم: محمد بن عبدالرحیم بن ابی زہیر البغدادی البزار ہے۔ اس کی کنیت ابویحیےٰ ہے۔ صاعقہ کے لقب سے مشہور ہے۔ ثقہ ، حافظ اور طبقہ الحادیہ عشرہ سے ہے۔ ۲۵۵ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۸)۔ قال فی التھذیب وروی عنہ النسائی فی خصائص علی عن زکریا السجزی عنہ وھو ثقۃ مامون من رجال البخاری۔ (ابو اسحاق الحوینی ،تہذیب خصائص الامام علیص، صفحہ ۸۲)
۴؂: ابراہیم:ابراہیم بن المنذر بن المغیرۃ بن عبداﷲ بن خالد بن حزام الاسدی الخرامی صدوق ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۳۵ ؁ یا ۲۳۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب ،صفحہ ۲۳)دارقطنی اور ابن الوضاح نے کہا کہ یہ ثقہ ہے۔ ابو حاتم نے کہا صدوق ہے (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 

ترجمہ سعد سے روایت ہے کہ رسول کریم3نے خطبہ ارشاد فرمایا، پس حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا ، اے لوگو! پس یقیناًمیں تمہارا مالک ہوں، سب نے عرض کیا کہ آپ نے سچ فرمایا ہے، پھر آپ3نے (جناب سیدنا) علی
(3 )کا ہاتھ پکڑا اور بلند کیا۔ پھر فرمایا یہ میرا ولی ہے اور میری طرف سے احکام پہنچانے والا ہے۔ اے میرے اﷲ ! جو اِس کو دوست رکھتا ہے تو اُس کو اپنا دوست بنالے اوراے میرے اﷲ ! جو اِس سے عداوت رکھتا ہے تو اُس سے دشمنی رکھ۔

تشریح ارشاد ہے’’ سب نے عرض کیا کہ آپ نے سچ فرمایا ہے‘‘ یعنی تمام صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے آپ3کے اس ارشاد کی تصدیق کی کہ اے حضور پاک3آپ ہمارے مالک ، آقا ، ولی اور سب کچھ ہیں۔ ارشاد ہے’’ پھر آپ3نے (جناب) علی کا ہاتھ پکڑا اور بلندکیا‘‘ یعنی اپنا ہاتھ مبارک اور سیدنا علی المرتضیٰں کا ہاتھ اکٹھا کر کے تمام صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کو بلند کر کے دکھایا۔ ارشاد ہے’’ جو اس سے عداوت رکھتاہے تو اس سے دشمنی رکھ‘‘ یعنی حضرت امیرالمومنین علی المرتضیٰ3 کی محبت اﷲ تعالیٰ کی محبت ہے اور ان3 کی عداوت اﷲ تعالیٰ کی دشمنی کی دلیل ہے۔ اﷲ تعالیٰ آپ3 کی محبت نصیب فرمائے اور آپ ں کی عداوت اور دشمنی سے محفوظ رکھے۔ آمین بحرمت نبی الرؤف الرحیم
اسنادہ حسن فی الشواھد
۱( ابو اسحاق الحوینی تہذیب خصائص علی ابن ابی طالب صفحہ ۸۲)

حد یث نمبر
۹۵؍۵ انبأنا احمد۱؂ بن عثمان البصری ابو الجوزا قال اخبرنا۲؂ ابن عثمۃ و ھو محمد بن خالد البصری قال حدثنا موسی۳؂ بن یعقوب عن المھاجر۴؂ بن مسمار البصری عن عائشۃ۵؂ بنت سعد عن سعد۶؂ قال اخذ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ 

بقیہ حاشیہ: نسائی نے کہا لیس بہ باس۔ اخرج لہ ، البخاری (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المؤمنین علیص ابن ابی طالب،صفحہ
۱۱۴)
۵؂: معن: معن بن عیسیٰ بن یحیےٰ الاشجعی کی کنیت ابو یحیےٰ المدنی ہے۔ ثقہ اور ثبت ہے۔ ابو حاتم نے کہا ھواثبت اصحاب مالک یعنی یہ اصحاب مالک میں اثبت ہے۔ یہ طبقہ العاشرہ کے کبار میں سے ہے۔ ۱۹۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ ۳۴۴)
۶؂: موسیٰ ابن یعقوب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۳
۷؂: مہا جر بن مسمار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۴۸؂: عائشہ بنت سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۵
۹؂: عامر بن سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۱:۶۱۰؂: سعد(بن ابی وقاص) :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۵
۱؂: احمد بن عثمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۵:۱ (اسماء الرجال حدیث نمبر ۹۵، اگلے صفحہ پر جاری ہیں )

والہ وسلم بید علی فخطب فحمد اﷲ تعالی و اثنی علیہ قال الستم تعلمون انی
اولی بکم من انفسکم قالوا نعم صدقت یارسول اﷲ ثم اخذ بید علی فرفعھا و قال
من کنت مولاہ فھذا ولیہ و ان اﷲ یوالی من والاہ و یعادی من عاداہ

ترجمہ سعد سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم 3نے (جناب) علی کا ہاتھ پکڑا پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پس اﷲ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرمائی (پھر) ارشادفرمایا کیاتم نہیں جانتے ہو کہ ’’ میں تمہاری جانوں کا مالک ہوں تم سے زیادہ ‘‘ (صحابہ نے ) عرض کیا کہ ہاں یارسول اﷲ3آپ نے سچ فرمایا ہے۔ پھر (جناب) علی کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور فرمایا جس کا میں ولی ہوں علی بھی اس کا ولی ہے۔ پس بے شک اﷲ تعالیٰ اس شخص کا دوست ہے جس کا علی دوست ہے اور دشمن ہے اس کا جو علی سے عداوت رکھے۔

حد یث نمبر
۹۶؍۶ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا زکریا۲؂ بن یحیے قال حدثنا یعقوب۳؂ بن جعفر بن ابی کثیر عن مھاجر۴؂ بن مسمار قال اخبرنی عائشۃ۵؂ بنت سعد عن سعد۶؂ قال کنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بطریق مکۃ وھو متوجہ الیھا فلما بلغ غدیرخم وقف الناس ثم ردمن مضی ولحقہ، من تخلف فلما اجتمع الناس الیہ قال ایھا الناس ھل بلغت قالوا نعم قال اللھم اشھد ثلث مرات یقولھا ثم قال ایھا الناس من ولیکم قالوا اﷲ ورسولہ اعلم ثلثا ثم اخذ بید علی فاقامہ
فقال من کان اﷲ و رسولہ ولیہ فھذا ولیہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ

بقیہ حاشیہ :
۲؂: ابن عثمۃ (محمد بن خالد):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۔۲ 
۳؂: موسیٰ بن یعقوب : ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۳۴؂:مہاجر بن مسمار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۴
۵؂: عائشہ بنت سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۵۶؂:سعد(ابن ابی وقاصص):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۶
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ ۲؂: زکریا بن یحییٰ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۳؂: یعقوب بن جعفر:یعقوب بن جعفر ابن ابی کثیر الانصاری المدنی مقبول ہے۔ طبقہ التاسعہ سے ہے۔(التقریب،صفحہ ۳۸۶) روی عن موسی بن یعقوب الزمعی وعنہ ، محمد بن یحیی بن ابی عمر (تہذیب التہذیب، جلد ۱۱، صفحہ ۳۸۲)
۴؂: مہاجر بن مسمار الزہری: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۴۵؂: عائشہ بنت سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۵
۶؂: سعد(بن ابی وقاصص):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۶

ترجمہ سعد سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم 3کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھے اور حضورنبی کریم3مکہ مکرمہ جارہے تھے سو جب ہم غدیر خم پر پہنچے تو لوگوں کو ٹھہرا لیا۔ پھر جو آگے گیا تھا اسے واپس لوٹایا اور جو پیچھے تھا وہ بھی آپ3کے پاس پہنچ گیا۔ پس جب ہم تمام لوگ آنحضرت3کے پاس جمع ہوگئے تو ارشاد فرمایا اے لوگو ! کیا میں نے تم کو احکامِ الٰہی پہنچادےئے ہیں؟ سب نے جواب دیا بے شک۔ فرمایا اے میرے اﷲ ! گواہ رہ، تین بار یہ ارشاد فرمایا۔ پھر ارشاد فرمایا اے لوگو! تمہارا ولی کون ہے؟ سب نے تین بار عرض کیا کہ اﷲ اور اس کا رسول3 جانتا ہے۔ پھر ( جناب) علی(3 ) کا ہاتھ پکڑا اور انہیں کھڑا کیا۔ پھر ارشاد فرمایا جس کاا ﷲ جل جلالہ اور اس کا رسول3ولی ہے تو یہ (علی المرتضیٰ3 ) اس کا ولی ہے۔ اے میرے اﷲ ! جو اس کو دوست رکھتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے عداوت رکھتا ہے تو اس سے دشمنی رکھ۔

تشریح ارشاد ہے’’ حضور3مکہ کے راستے میں تھے ‘‘ یعنی حضور3مکہ مکرمہ جاتے ہوئے راستہ میں ٹھہرے۔ ارشاد ہے ’’ سو جب غدیرخم پر پہنچے ‘‘ یعنی غدیر خم وہ مقام ہے جہاں آنحضرت3نے حضرت علیص کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جس کا میں مولیٰ ہوں (دوست ہوں ) علی3 بھی اس کامولیٰ ہے۔ اور حضرت عمرص نے حضرت علی3 کو مبارک باد دی کہ اے ابو الحسن !تم کو مبارک ہو تم میرے مولیٰ اور ہر مومن مرد اور مومنہ عورت کے مولیٰ ہوئے۔ (لغات الحدیث جلد
۴، صفحہ ۱۴، کتاب ’’ع‘‘) یہ مقام مکہ اور مدینہ کے درمیان حجفہ سے تین کوس پر واقع ہے۔ ارشاد ہے’’ اور جو پیچھے تھا وہ بھی آپ3کے پاس پہنچ گیا ‘‘ یعنی وہ تمام صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین جو اس سفر میں شریک تھے سب آگئے۔ ارشاد ہے ’’ اے میرے اﷲ ! گواہ رہ،تین بار یہ ارشاد فرمایا ‘‘ یعنی تین بار یہ کلمہ ارشاد فرمایا کہ اے میرے اﷲ ! تو بھی اس بات پر گواہ رہ کہ میں نے تیرے احکام بلاکم وکاست پہنچا دئیے ہیں۔ ارشاد ہے ’’ اﷲ اور اس کا رسول ہی جانتا ہے ‘‘ یعنی اﷲ جل جلالہ اور اس کا رسول جناب محمد رسول اﷲ3ہی خوب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا ولی کون ہے ۔یہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کا طریقہ تھا کہ جب حضور3اس قسم کے ارشادات فرماتے تو باوجود جاننے کے بھی وہ معاملہ اﷲ اور اس کے رسول3کے حوالے کر دیتے کہ شاید وحی کے ذریعہ کچھ اور فیصلہ نہ ہو جائے اور کسی قسم کی سوء ادبی ان سے سر زد نہ ہو جائے۔ 

یہ انتہائے اداب و احترام کا طریقہ تھا جو کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین ایسے مواقع پر اختیار فرماتے۔ ارشاد ہے’’ پھر (جناب) علی (3 ) کا ہاتھ پکڑا اور انہیں کھڑا کیا‘‘ یعنی تمام لوگوں کے سامنے لائے۔ ارشاد ہے ’’ اے میرے اﷲ ! جو اس کودوست رکھتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے عداوت رکھتا ہے تو اس سے دشمنی رکھ۔‘‘ حافظ شیرازی3نے کیا خوب فرمایا ہے
کانرا کہ دوستی علی نیست کافر است
گو زاہد زمانہ و گو شیخ راہ باش


بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر الترغیب فی حب علی و ذکر دعاء النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لمن احبہ و ذکر دعآۂ علی من ابغضہ
’’ اس باب میں جناب سید نا امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ3کے ساتھ محبت کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور اس شخص کیلئے جو آپ ص سے محبت کرتا ہے نبی کریم3دعا فرماتے ہیں ،کا ذکر ہے نیز اس شخص کیلئے جو اُن (کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم )سے دشمنی رکھتا ہے بددعا کرنے کا بیان ہے ‘‘

(اس باب میں تین احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۹۷؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال حدثنا اسحاق۲؂ بن ابراھیم بن راھویہ قال أنبأنا النضر۳؂ بن شمیل قال حدثنا عبدالجلیل۴؂ بن عطےۃ قال حدثنا عبداﷲ۵؂ بن بریدۃ قال حدثنی ابی۶؂قال لم یکن من الناس ابغض الی من علی ابن ابی 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۷
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: اسحاق بن ابراہیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۹:۱
۳؂: النضربن شمیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۲
۴؂: عبد الجلیل بن عطیہ: عبدالجلیل بن عطیہ القیسی کی کنیت ابوصالح البصری ہے۔ صدوق ہے۔ یھم۔ طبقہ السابعۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۱۹۶) روی عن عبد اﷲ بن بریدہ و شھر بن حوشب و جعفر بن میمون و مزاحم بن معاوےۃ و عنہ حماد بن زید و داؤد بن قیس الفراء و ابوعبیدۃ الحداد و ابو عامر العقدی و النضر بن شمیل و الطیالسی وغیرھم۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے )

طالب حتی احببت رجلا من قریش لا احبہ الا لبغض علی فبعث ذالک الرجل علی خیل فصحبتہ وما صحبتہ الا علی بغض علی فاصاب سبیا فکتب الی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ان یبعث الیہ من یخمسہ فبعث الینا علیا وفی السبی وصفےۃ من افضل السبی فلما خمسہ صارت فی الخمس ثم خمس فصارت فی اھل بیت النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ثم خمس فصارت فی ال علی فاتانا و راسہ یقطر فقلنا ما ھذا فقال الم تروا لوصیفۃ صارت فی الخمس ثم صارت فی اھل بیت النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ثم صارت فی ال علی فوقعت علیھا فکتب و بعثنی مصدقا لکتابہ الی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم مصدقا لما قال فی علی فجعلت اقول علیہ صدقا و یقول صدق فامسک بیدی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم وقال اتبغض علیا فقلت نعم فقال لا تبغضہ و ان کنت تحبہ فازددلہ حبا فوالذی نفسی بیدہ لنصیب ال علی فی الخمس افضل من وصیفۃ فما کان احد بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم احب الی من علی رضی اﷲ عنہ قال عبداﷲ بن بریدۃ واﷲ 
ماکان فی الحدیث بینی و بین النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم غیر ابی

ترجمہ بریدہ سے روایت ہے اس نے کہا کہ (جناب) علی ابن ابی طالب (کے ساتھ بغض رکھنے والے ) لوگوں میں مجھ سے زیادہ بغض رکھنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ایک قریشی کو صرف اس لئے میں دوست رکھتا تھا کہ (جناب3 ) کے ساتھ وہ بغض رکھتا تھا۔ یہ شخص ایک لشکر پر سردار بنا کر بھیجا گیا پس میں اس شخص کے ہمراہ ہوگیا۔ صرف جناب علی کی عداوت کی وجہ سے میں نے اس کی ہمراہی اختیار کی، پس کافروں کی عورتیں قیدی بنائیں۔ تو نبی کریم3کو ایک خط لکھا تا کہ وہ کوئی شخص مقرر فرمائیں جو اس مال غنیمت سے پانچواں حصہ لے 

بقیہ حاشیہ :ابن معین نے کہا ثقہ ہیم ابن حبان نے اپنے ثقات میں اس کا نام ذکر کیا ہے اور کہا ہے یعتبر حدیث عند بیان السماع فی خبرہ اذ رواہ عن الثقات و دونہ ثبت۔ قلت و قال احمد الحاکم حدیثہ لیس بالقائم۔ (تہذیب التہذیب،جلد
۶،صفحہ ۱۰۶)
۵؂: عبد اﷲ بن بریدۃ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴:۴
۶؂: ابی (والد عبداﷲ یعنی بریدہ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴:۴
لے تو (جناب) علی کو ہماری طرف بھیجا گیا۔ قیدی عورتوں میں سے ایک ایسی لونڈی تھی جو کہ تمام قیدی عورتوں میں بہت خوبصورت تھی۔ سو جب اس نے پانچواں حصہ نکالا تو وہ لونڈی پانچویں حصہ میں آئی، پھراس پانچویں میں سے پانچواں حصہ نکالا تو وہ لونڈی اہلِ بیتِ نبوی3کے حصہ میں آئی، پھر اس پانچویں میں سے پانچواں حصہ نکلا تو وہ لونڈی آلِ علی (المرتضیٰ) 3 کے حصہ میں آئی ۔پس وہ اس حال میں ہمارے پاس آئے کہ ان کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے، تو ہم نے کہا یہ کیا حال ہے۔ تو فرمایا کیاتم نے دیکھا نہیں وہ لونڈی اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول3کے پانچویں حصہ میں آئی پھر اہل بیت نبی 3کے خمس میں آئی پھر آلِ علی کے خمس میں آئی تو میں نے اس سے صحبت کی۔ پس اس نے خط لکھا اور مجھے اپنے خط کی تصدیق کیلئے نبی کریم 3کی خدمت میں بھیجا اس حال میں کہ تصدیق کرنے والا تھا (جناب) علی کے اس واقعہ کی۔ پس میں نے اس پر سچ کہنا شروع کر دیا اور ارشادفرماتے اس نے سچ کہا۔ پس رسول کریم3 نے میرا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا کہ کیاتم علی سے دشمنی رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ ہاں ! سو اِرشاد فرمایا کہ اس سے عداوت نہ کر اور اگر تو اس سے محبت کرتا ہے تو اس محبت کو اس کے ساتھ او رزیادہ کر۔ پس قسم ہے اس ذاتِ اقدس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ البتہ آلِ علی کاحصہ خمس میں سے افضل ہے لونڈی سے۔ حضور3کے بعد (جناب) علی (3 ) سے زیادہ مجھے کوئی بھی محبوب نہیں۔ عبداﷲ بن بریدہ نے فرمایا کہ اس حدیث میں میرے اور نبی کریم3کے درمیان میرے والد کے سوا کوئی اور نہ تھا۔

حل لغت خیل: گھوڑوں کا گروہ ۔بقول صاحب مصباح اللغات ’’ مجازاً خیلکا اطلاق سواروں پر بھی ہوتا ہے‘‘ کہا جاتا ہے’’ اتی بخیلہ و رجلہ ‘‘ وہ اپنے سواروں اور پیادوں کے ساتھ آیا۔ سبی : قیدی کرنا ، لونڈی بنانا، غلام بنانا، لوٹنا ، غارت کرنا، سبی، سبےۃ اور سبایایہ سب الفاظ احادیث میں آتے ہیں، سبےۃ : قیدی عورت جس کو پکڑ کر لائیں، اس کی جمع سبایا۔وصفےۃ: لونڈی ، کنیز۔

تشریح ارشاد ہے ’’ ایک قریشی کو صرف اس لئے میں دوست رکھتا تھا کہ (جناب) کے ساتھ وہ بغض رکھتا تھا‘‘ یعنی جناب سیدنا امیرالمومنین علی3 کی دشمنی مجھ سے زیادہ کسی دوسرے میں نہ تھی اور یہ عادتِ قبیحہ مجھ میں اتنی رچی ہوئی تھی کہ مجھے ہر اس شخص سے محبت تھی جو آپصسے عداوت رکھتا اس لئے میں اس قریشی یعنی خالد بن ولید کو دوست رکھتا تھا کیونکہ وہ جناب علی3 سے بغض رکھتا تھا۔ارشاد ہے’’ یہ شخص ایک لشکر پر سردار بنا کر بھیجا گیا‘‘ یعنی حضور3نے دو لشکر بھیجے تھے۔ ایک لشکر کے امیر حضرت علی3 تھے اور دوسرے کا خالد بن ولید، اور فرمایا تھا کہ جس وقت تم دونوں یکجا ہوجاؤ تو پھر ان دونوں لشکر وں کا امیر حضرت علی3 ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور فتح و نصرت جناب علی المرتضیٰ ص کے ہاتھ سے ہوئی۔ (دیکھو حدیث
۹۰ /۱)۔ ارشاد ہے’’ پس میں اس شخص کے ہمراہ ہو گیا ‘‘ یعنی جس لشکر کا امیر خالد بن ولید تھا میں اس لشکر میں شامل ہو گیا ۔ ارشاد ہے ’’ صرف (جناب) علی کی عداوت کی وجہ سے میں نے اس کی ہمراہی اختیار کی ‘‘یعنی خالد کے لشکر میں میں صرف اس لئے شامل ہوا کہ وہ بھی میری طرح جناب سیدنا علی المرتضیٰصسے عداوت رکھتا تھا۔ گویا بغض علی کی وجہ سے میں حضرت علیصکے لشکر میں شریک نہ ہوا۔ ارشاد ہے ’’ پس کافروں کی عورتیں قیدی بنائیں‘‘ یعنی کافروں کی عورتیں فتح کے بعد قیدی بنیں اور کافی مالِ غنیمت ملا۔ ارشاد ہے ’’ کوئی شخص مقرر فرمائیں جو اس مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ لے لے‘‘ یعنی مالِ غنیمت میں سے جوپانچواں حصہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول3کا ہے لے لے۔ ارشاد ہے’’ وہ لونڈی پانچویں حصہ میںآئی ‘‘ یعنی جب کل مالِ غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا تو وہ لونڈی اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول3کے حصہ میں آگئی۔ ارشاد ہے ’’میں نے اس سے صحبت کی ‘‘ یعنی میں نے اس صحبت کے بعدغسل کیا ہے اور میرے سر پر اس پانی کا اثر ہے۔ ارشاد ہے ’’ پس اس نے خط لکھا‘‘ یعنی خالد بن ولید نے آنحضرت3کی خدمت میں یہ واقعہ بطور شکایت کے لکھ بھیجا۔ ارشاد ہے ’’ پس میں نے اس پر سچ کہنا شروع کر دیا‘‘ یعنی جناب علی المرتضیٰ 3 کا سارا واقعہ جو حقیقتاً گزرا تھا بیان کرنا شروع کردیا۔ ارشاد ہے ’’ اور وہ ارشاد فرماتے اس نے سچ کہا‘‘ یعنی حضور 3 ارشاد فرمارہے تھے کہ (جناب) علی المرتضیٰ3 نے سچ کہا او رجو کچھ انہوں نے کیا صحیح اور درست کیا ہے اور تمہاری شکایت بے جا اور قطعاً غلط ہے۔ ارشاد ہے’’ آلِ علی کاحصہ خمس میں سے افضل ہے لونڈی سے ‘‘ یعنی اگر خمس میں لونڈی سے افضل کوئی چیز ہوتو وہ بھی ان کا حق ہے، لونڈی کیا شے ہے۔ ارشاد ہے’’ حضور نبی کریم3کے بعد (جناب) علی(3 ) سے زیادہ مجھے کوئی بھی محبوب نہیں ‘‘ یعنی سرور انبیاء امام المرسلین و النبیین سرکارِ دو عالم جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی 3 کی اس توجہ مبارکہ اور ارشاد کے بعد فوراً جناب امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰصکی محبت مجھ پر اتنی غالب آگئی کہ اب میری نظروں میں سوائے پیغمبر اسلام3کے بعد جناب علی المرتضیٰصجیسی محبت اور احترام و تعظیم کسی دوسری ہستی کیلئے نہیں۔
اسنادہ صحیح، رجالہ ثقات
(احمد میرین البلوشی، خصائص امیرالمومنین علی ابن ابی طالب صفحہ
۱۱۶)

حد یث نمبر
۹۸؍۲ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا الحسین۲؂ بن حریث المروزی قال حدثنا الفضل۳؂ بن موسی عن الاعمش۴؂ عن ابی اسحق۵؂ عن سعید۶؂ بن وھب قال قال علی کرم اﷲ وجھہ الکریم فی الرحبۃ انشد باﷲ من سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یوم غدیر خم یقول اﷲ ولی و انا ولی المؤمنین ومن کنت ولیہ فھذا ولیہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ وا نصر من نصرہ (قال سعید فقام) الی جنبی ستۃ و قال زید بن یثیع قام عندی ستۃ قال و عمرو بن مرۃ و
ساق الحدیث ذی مرہ احب من احبہ و ابغض من ابغضہ

ترجمہ سعید بن وہب سے روایت ہے، اس نے کہا کہ (جناب) علی (المرتضیٰ )3 نے ایک صحن میں فرمایا میں ہر اس شخص کو قسم دیتا ہوں جس نے غدیرخم کے دن رسول اﷲ 3سے سنا ہو کہ حضور3فرماتے تھے کہ اﷲ میرا ولی ہے اور میں مومنوں کا ولی ہوں اورجس کا میں ولی ہوں یہ اس کا ولی ہے، اے میر ے اﷲ اس شخص سے محبت رکھ جو علی سے محبت کرے اور دشمنی رکھ اس شخص سے جو علی سے عداوت رکھے اور اس شخص کی مدد فرما جو علی کی مدد کرے۔ سعید نے کہا کہ چھ آدمی میرے پہلو سے کھڑے ہوئے اور زید بن یثیع نے کہا کہ میرے قریب سے چھ آدمی کھڑے ہوئے۔ عمرو بن مرہ نے کہا دوست رکھ اس شخص کو جو اسے دوست رکھے اوردشمن رکھ اس کو جو اسے دشمن رکھے۔

تشریح ارشاد ہے ’’ جناب علی المرتضیٰ3 نے ایک صحن میں فرمایا‘‘ یعنی ایک کھلی جگہ پر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو جمع کیا اور فرمایا۔ ارشاد ہے’’ جس کا میں ولی ہوں یہ اس کا ولی ہے ‘‘ یعنی میں جسکا ولی ہوں علی المرتضیٰ3 اس کا ولی ہے۔ ارشاد ہے’’ زید بن یثیع نے کہا کہ میرے قریب سے چھ آدمی کھڑے ہوئے ‘‘ یعنی گویا ان سب افراد نے شہادت دی کہ حضور3نے یقیناًیہ ارشاد فرمایا ہے اور ہم نے یہ حدیث خود حضور سید الانبیاء 3 سے سنی ہے۔ 
و ساق الحدیث رواہ اسرائیل عن ابی اسحاق عن عمرو۔ اسنادہ صحیح (ابو اسحاق الحوینی، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ
۸۵)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۸
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: الحسین بن حریث:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۰:۱ ۳؂: الفضل بن موسیٰ :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۰:۲
۴؂: الاعمش: اس کا نام سلیمان بن مہران الاسدی الکاہلی اور کنیت ابومحمد الکوفی ہے اور لقب اعمش ہے۔ ثقہ ، حافظ اور عارف بالقرآۃ اور متقی ہے۔ ولکنہ یدلس، منہ الخامسۃ ۱۴۷ ؁ ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۱۳۶) (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں )

حد یث نمبر
۹۹؍۳ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا علی۲؂ بن محمد بن علی قال حدثنا خلف۳؂ بن تمیم قال حدثنا اسرائیل۴؂ قال حدثنا ابو اسحق۵؂ عن عمرو۶؂ ذی مری قال شھدت علیا فی الرحبۃ ینشد اصحاب محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ایکم سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یوم غدیرخم ما قال فقام اناس فشھدوا (انھم سمعوا) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ و احب من احبہ و ابغض من ابغضہ و انصر من نصرہ

ترجمہ عمرو سے روایت ہے وہ فرماتے ہے کہ میں (جناب) علی کے ساتھ ایک کھلی جگہ میں موجود تھا کہ وہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کو قسم دیتے تھے کہ تم میں سے کسی نے وہ ارشاد حضور3کا سنا ہے جو انہوں نے غدیر خم کے دن فرمایا تھا۔تو بہت سے حضرات کھڑے ہو گئے اور شہادت دی کہ ہم نے رسول اﷲ3کو ارشاد فرماتے سنا ہے۔۔ جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے، اے میرے اﷲ ! جو اسے دوست رکھتا ہے توبھی اسے دوست رکھ اورجو اسے دشمن رکھتا ہے تو بھی اسے دشمن رکھ۔ اور محبوب رکھ اس شخص کو جو اس کو محبوب رکھے اور جو اس سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ اور مد د فرما اس شخص کی جو اس کی مدد کرے۔

تشریح ارشاد ہے’’ تم میں سے کسی نے وہ ارشاد حضور3کا سنا ہے جو انہوں نے غدیر خم کے دن فرمایا تھا‘‘ یعنی پیغمبر اسلام3نے غدیرخم کے دن میرے متعلق جو ارشاد فرمایا تھا صحابہ کرام حضور3کا وہ ارشاد بیان کریں۔

بقیہ حاشیہ :
۵؂:ابی اسحاق: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: سعید بن وہب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۶:۵
اسماء الرجال حدیث نمبر
۹۹
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: علی بن محمد بن علی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۹:۱۳؂: خلف بن تمیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۹:۲
۴؂: اسرائیل: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۳۵؂: ابواسحاق: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: عمرو بن ذی مر:عمروذو مر الہمدانی الکوفی ہے (روی) عن علی وغیرہ و عنہ ابواسحاق السبیعی وحدہ بخاری نے لایصر ف اور ابن عدی نے کہا ھو فی جملہ مشائخ ، ابی اسحاق المجہولین الذین لا یحدیث عنہم غیرہمیں کہتا ہوں کہ بخاری نے کہا فیہ نظرمسلم اور ابو حاتم نے کہا لم یروعنہ غیر ، ابی اسحاقاور ابن حبان نے کہا فی حدیثہ مناکیر اورالعجلی نے کہا ، کوفی ہے۔ تابعی اور ثقہ ہے۔(تہذیب التہذیب،جلد ۸ ،صفحہ ۱۲۰)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر الفرق بین المؤمن و المنافق
’’ اس باب میں مومن اور منافق کے درمیان فرق کرنے کا بیان ہے ‘‘
(اس باب میں تین احادیث شریف ہیں)

تشریح جناب سیدنا علی المرتضیٰ3 کی محبت مومن ہونے کی علامت ہے۔ اور آپ ص کی عداوت منافق ہونے کی نشانی ہے۔

حد یث نمبر
۱۰۰؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا ابوکریب۲؂ محمد بن العلاء الکوفی قال حدثنا ابو معوےۃ۳؂ عن الاعمش۴؂ عن عدی۵؂ بن ثابت عن زر۶؂ بن حبیش عن علی۷؂ رضی اﷲ عنہ قال و اﷲ الذی فلق الحبۃ و برأ النسمۃ انہ لعھد الی
النبی الامی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لا یحبنی الا مؤمن ولا یبغضنی الا منافق

ترجمہ جناب علی المرتضیٰ ص سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اﷲ تعالیٰ کی جس نے دانہ چیرا اور جان پیدا کی۔ بے شک شان یہ ہے کہ حضرت نبی امی 3نے میرے بارے میں وصیت فرمائی کہ مجھ سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن اور مجھ سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۰
۱؂: احمد بن شعیب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: ابوکریب(محمد بن العلاء):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۷:۲
۳؂: ابومعاویہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۴:۲
۴؂: الاعمش:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹۸:۴
۵؂: عدی بن ثابت:عدی بن ثابت الانصاری الکوفی ثقہ ہے، رمی بالتشیع، طبقہ الرابعہ سے ہے، ۱۱۶ہجری میں فوت ہوا (التقریب،صفحہ ۲۳۷ )
۶؂: زر بن حبیش: زر بن حبیش بن جیشۃ الاسدی الکوفی کی کنیت ابو مریم ہے۔ ثقہ ہے، جلیل اور مخضرم ہے ۸۱ہجری اور ۸۳ہجری کے درمیان فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۱۰۶)
۷؂: علی المرتضیٰص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶

حل لغت فلق : چیرا، پھاڑا۔ الحبۃ : دانہ۔ برأ: پیدا کرنا۔ النسمۃ: جاندار، نسمۃ : نفس ، روح۔ عھد: الیٰ فلان، وصیت کرنا اور شرط لگانا اور جب عہد کا صلہ الیہ فی کذا آئے تو اس کے معنی وصیت کرنا اور ذمہ دار بنانا کے ہوتے ہیں۔

تشریح ارشاد ہے’’ قسم ہے اﷲ تعالیٰ کی جس نے دانہ چیرااور جان پیدا کی ‘‘ یعنی جناب امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ3 اکثر اسی طرح کی قسم کھاتے تھے جس سے اﷲ تبارک و تعالیٰ کی قدرتِ تامہ و کاملہ کا اظہار ہو اور جلالت و عظمتِ شان ظاہر ہو۔ ارشاد ہے’’ حضرت نبی امی3نے میرے بارے میں وصیت فرمائی ‘‘ یعنی میرے متعلق یہ وصیت ارشاد فرمائی ، اور ایک حدیث شریف میں ہے عہد الی النبی الامی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم مجھ کو جناب نبی امی3نے وصیت فرمائی۔ارشاد ہے’’ مجھ سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن ‘‘ یعنی جناب سیدنا علی المرتضیٰ3 سے محبت کرنے والا مومن ہی ہو گا۔ ارشاد ہے’’ اور مجھ سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق ‘‘ یعنی جناب سیدنا علی المرتضیٰصسے بغض کرنے والا منافق ہی ہو گا۔ گویا مومن اور منافق کی نشانی محبتِ علی 3 اور بغض علی3 ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب پاک جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی3کے طفیل جناب امام الاولیاء سیدنا علی المرتضیٰ3 کی محبت نصیب فرمائے ، اسی پر قائم رکھے۔۔۔ آمین ثم آمین!۔
مترجم خصائص ، مولانا مولوی محمد ابو الحسن فرماتے ہیں
’’ مومنِ کامل مجھ سے محبت مشروع مطابقہ واقعہ کے رکھے گا بغیر زیادتی اور نقصان کے ، تاکہ خارجی نکل جاویں ، پس جس نے دوست رکھا حضرت علی کو اور بغض رکھا شیخین (رضی اﷲ عنہما ) سے مثلا نہ تو دوستی رکھی اس نے دوستی مشروع۔ پس محبت علیصکی علامت ایمان کی ہے اور عداوت ان کی نشانی نفاق کی ‘‘ (مناقب مرتضوی ترجمہ خصائص نسائی صفحہ
۶۰)
صاحبِ ’’لغات الحدیث‘‘ (جلد اول کتاب’’ ح‘‘ صفحہ
۷) پر تحریرفرماتے ہیں’’ حب علی حسنۃ لا یضر معھا سےءۃ‘‘’’ حضرت علی سے محبت رکھنا ایسی نیکی ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ ضرر نہ کرے گا‘‘اس حدیث کا تتمہ یہ ہے کہ بغض علی سےۃ لا تنفح معھا حسنۃ یعنی حضرت علی3 سے بغض رکھنا ایسا گناہ ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی نیکی کام نہ آئے گی۔ ’’مجمع البحرین ‘‘میں ہے کہ حدیث فریقین میں مشہور ہے حالانکہ اہلِ سنت کی کتابوں میں مجھ کو یہ حدیث اس لفظ سے میں نہیں ملی البتہ اس کے معنی صحیح ہیں کیونکہ دوسری حدیث میں ہے لا یحب علیا منافق و لا یبغضہ مؤمن یعنی حضرت علی سے منافق محبت نہیں کرے گا اور مومن ان سے بغض نہیں رکھے گا۔ اور ایک روایت میں ہے من احب علیا فقدا حبنی و من ابغض علیا فقد ابغضنی یعنی جس نے علی سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (اور ظا ہر ہے پیغمبر اسلام 3سے بغض رکھنے والا کافر ہے۔ اس کی کوئی نیکی اس کے کام نہ آئے گی )۔ یہ حدیث شریف مسلم نے بھی بیان کی ہے۔
اسنادہ صحیح ( ابو اسحاق الحوینی، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ
۸۷)

حد یث نمبر
۱۰۱؍۲ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا واصل۲؂ بن عبدالاعلی بن واصل الکوفی قال حدثنا وکیع۳؂ عن الاعمش۴؂ عن عدی۵؂ بن ثابت عن زر۶؂ بن حبیش عن علی۷؂ قال عہد النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم انہ لا یحبنی الامؤمن و لا
یبغضنی الا منافق

ترجمہ زر بن حبیش سے روایت ہے کہ جناب علی المرتضیٰ (3 ) نے فرمایا تحقیق شان یہ ہے کہ نبی کریم3نے وصیت فرمائی ہے کہ مومن ہی مجھ سے محبت کرے گااور مجھ سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہے۔

حد یث نمبر
۱۰۲؍۳ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا یوسف۲؂ بن عیسی قال انبأنا الفضل۳؂ بن موسی قال انبأنا الاعمش۴؂ عن عدی۵؂ عن زر۶؂ قال قال علی انہ لعھد
النبی الامی انہ لا یحبک الا مؤمن ولا یبغضک الا منافق
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۱
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: واصل بن عبدالاعلیٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹۰:۲
۳؂: وکیع:وکیع بن الجراح بن ملیح الرواسی کی کنیت ابو سفیان الکوفی ہے۔ ثقہ ، حافظ اور عابد ہے۔ طبقہ التاسعہ کے کبار سے ہے۔ ۱۹۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۶۹)
۴؂: الاعمش:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹۸:۴
۵؂: عدی بن ثابت:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۰:۵
۶؂: زر بن حبیش:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۰:۶
۷؂: علی المرتضیٰ ص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶
(اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۲، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے )

ترجمہ زر بن حبیش سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب علی المرتضیٰصنے ارشاد فرمایا کہ نبی امی3نے البتہ مجھ سے عہد کیا۔ یہ کہ (اے علی) تجھ سے محبت نہ کرے گا سوائے مومن کے اور (اے علی) تجھ سے بغض نہ رکھے گا ، مگر منافق۔

تشریح ارشاد ہے’’ تجھ سے محبت نہ کرے گا سوائے مومن کے ‘‘ یعنی جو کامل مومن ہو گا وہ تجھ سے ضرور محبت رکھے گا۔ ارشاد ہے’’ اور تجھ سے بغض نہ رکھے گا مگر منافق‘‘ یعنی جو پکا منافق ہو گا وہ ضرور تجھ سے نفاق رکھے گا۔ مولانا مولوی محمد ابوالحسن صاحب تحریر فرماتے ہیں 
’’ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت علی صسے دوستی رکھنی ایمان کی نشانی ہے اور ان سے عداوت نفاق کی نشانی ہے‘‘۔ (مناقب مرتضوی اردو ترجمہ خصائص نسائی ، صفحہ
۶۱)
اسنادہ صحیح (ابو اسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام ص،صفحہ
۸۷)









بقیہ حواشی حدیث نمبر
۱۰۲
۱؂: احمد بن شعیب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: یو سف بن عیسیٰ:یوسف بن عیسیٰ بن دینار الزہری کی کنیت ابو یعقوب المروزی ہے۔ ثقہ اور فاضل ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔(التقریب،صفحہ۳۸۸)
۳؂: فضل بن موسیٰ :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۰:۲
۴؂: الاعمش:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹۸۔۴
۵؂: عدی بن ثابت:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۰:۵
۶؂: زر(بن حبیش): ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۰:۶

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ضرب المثل الذی ضربہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی
’’ آنحضرت رسول کریم3کا جناب سیدنا علی
المرتضیٰ3کیلئے مثال بیان کرنے کا ذکر ہے ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۰۳؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا ابو جعفر۲؂ محمد بن عبد اﷲ بن المبارک المخزومی قال حدثنا یحیے۳؂ بن معین قال ابو جعفر۴؂ الابار عن الحکم۵؂ بن عبدالملک عن الحارث۶؂ بن حصیرۃ عن ابی صادق۷؂ عن ربیعۃ۸؂ بن ناجد عن علی۹؂ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یا علی فیک مثل من عیسی (علیہ السلام) ابغضتہ الیھود حتی اتہموا امہ و احبتہ النصآری حتی انزلوہ
بالمنزلۃ التی لیس لہ

ترجمہ علی (المرتضیٰص) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم3نے فرمایا اے علی (المرتضیٰص) عیسیٰ ں کے ساتھ تجھے ایک مشابہت ہے۔ یہودیوں نے ان سے یہاں تک عداوت کی کہ ان کی والدہ پر بہتان لگایا اور نصاریٰ (عیسائیوں ) نے ان کے ساتھ اتنی زیادہ محبت کی کہ ان کیلئے جو مرتبہ ہرگز نہ تھا وہ انہیں دے دیا۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۳
۱؂: احمد بن شعیب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱۲؂: ابوجعفر محمدبن عبد اﷲ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۰:۱
۳؂: یحییٰ بن معین: یحیےٰ بن معین بن عون الغطعانی کی کنیت ابوزکریا البغدادی ہے، ثقہ اور حافظ ہے، جرح اور تعدیل کا مشہور امام ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۳۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(التقریب ،صفحہ۳۷۹)
۴؂: ابو جعفرالابار:اس کا نام عمر بن عبدالرحمان ہے۔(ابواسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ ۸۸)۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے )

حل لغت اتہموا: اتہام لگایا ،بہتان باندھا۔

تشریح ارشاد ہے’’ اے علی (المرتضیٰص) عیسیٰں کے ساتھ تجھے ایک مشابہت ہے ‘‘ یعنی اے علی المرتضیٰ ! تیری ذات میں ہو بہو ایک ایسی بات موجود ہے جو کہ حضرت عیسیٰ ں کی ذاتِ گرامی میں پائی جاتی تھی۔ ارشاد ہے ’’ یہودیوں نے ان سے یہاں تک عداوت کی کہ ان کی والدہ پر بہتان لگایا‘‘ یعنی جناب عیسیٰ ں کی دشمنی اور عداوت میں اس حد تک بڑھ گئے کہ ان کی پاک اور معصومہ والدہ ماجدہ جنابہ بی بی مریم علیہا السلام پر زنا کاری کی تہمت لگادی۔ ارشاد ہے’’ کہ جو مرتبہ ان کیلئے ہرگز نہ تھا وہ انہیں دے دیا‘‘ یعنی شدتِ محبت میں صاحبِ الوہیت بنا بیٹھے یا ابنُ اﷲ ہونے کا اقرار کرلیا۔ گویا اے علی المرتضیٰ3 یہودی جس طرح عیسیٰ ں کا انکار کر کے گمراہ ہو گئے ،اسی طرح ایک گروہ آپ کی عظمت ، شان ،ولایت، عدالت اور کمالات کا انکار کر کے گمراہ ہوجائے گا اورجس طرح عیسائیوں نے شدتِ محبت میں عیسیٰ ں کو ابنُ اﷲ قرار دیا، یا صاحبِ الوہیت کہہ دیا حالانکہ ان کا یہ مرتبہ ہرگز نہ تھا۔ اسی طرح ایک گروہ آپ کی محبت میں آپ کو بھی صاحبِ الوہیت بنا دے گا۔ آپ3 میں اور حضرت عیسیٰں میں یہ مشابہت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، خوارج نے آپصپر اتہامات کی بوچھاڑ کر دی اور راہِ مستقیم سے بھٹک کر گمراہ ہوگئے۔ نصیریوں نے آپصکی ذات و الاتبار میں اﷲ پاک کے حلول کو تسلیم کر لیا اور راہِ مستقیم سے بھٹک کر گمراہ ہوگئے۔ الحمد ﷲ کہ اہلِ سنت و جماعت کو آپ3 کی صحیح مشروع محبت مرحمت فرمائی اور یہ طریقہ مستقیم پر قائم ودائم ہے۔یہ نہ افراط میں مبتلا ہیں نہ تفریط میں بلکہ راہِ اعتدال پر گامزن ہے۔ مولوی محمد ابوالحسن صاحب تحریر فرماتے ہیں
’’اس سے معلوم ہوا کہ محبت اسی قدر محمود ہے کہ حد سے نہ گزرے اور موافق شرع کے ہواور جو محبت کہ حد سے زیادہ ہو گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ پس ہر ایمان دار کو چاہئے کہ میانہ روی اختیار کرے اور افراط و تفریط سے بچے‘‘ (مناقب مرتضوی ترجمہ خصائص شریف، صفحہ
۶۱)

بقیہ حاشیہ : عمربن عبد الرحمن بن قیس الابار الکوفی صدوق ہے۔وکان یحفظ وقدعمی طبقہ الثامنۃ کے صغار سے ہے۔(التقریب، صفحہ
۲۵۵)
۵؂: الحکم بن عبدالملک:الحکم بن عبدالملک القرشی البصری کوفی ضعیف ہے۔ طبقہ السابعۃ سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۸۰)
۶؂: حارث بن حصیرۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۶:۵
۷؂: ابی صادق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۵:۵
۸؂: ربیعہ بن ناجد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۵:۶
۹؂: علی (المرتضیٰ ص): ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶ 

 

 بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط

ذکرمنزلۃ علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ و قربہ من النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ولزوقہ وحب رسول اﷲ
صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لہ
’’ اس باب میں حضرت علی ابن ابی طالب3 کے مرتبہ اور نبی کریم3کے ساتھ جو قربِ خاص تھا اور آپ ص کا جو انتہائی قریبی ملاپ تھا ، نیز نبی کریم 3کی جو آپ3 کے ساتھ خصوصی محبت تھی ،اس کا بیان ہے ‘‘
(اس باب میں دس احادیث شریف ہیں)
حل لغت لزوق: مل جانا، یک جان ہونا۔ صاحب ’’ِمصباح اللغات‘‘ نے صفحہ
۷۶۳پر لکھا ہے’’ اللزوق و لازوق ، زخم کا مرہم جو اچھے ہونے تک چپکا رہے‘‘۔

حد یث نمبر
۱۰۴؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا اسماعیل۲؂ بن مسعود 
البصری قال حدثنا خالد
۳؂ عن شعبۃ۴؂ عن ابی اسحاق۵؂ عن العلآء۶؂ قال سال رجل

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۴
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂:اسماعیل بن مسعود:اسماعیل بن مسعود الحجدری البصری کی کنیت ابو مسعود ہے، ثقہ ہے، طبقہ العاشرہ سے ہے، ۲۴۸ھ میں فوت ہوا (التقریب ص ۳۵)
۳؂: خالد:خالد بن حارث بن عبید بن سلیم الھجیے کی کنیت ابو عثمان البصری ہے۔ ثقہ ، ثبت اور طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ ۱۸۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ۸۷)
۴؂: شعبۃ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۳۵؂: ابی اسحق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: العلاء:العلاء بن عرار الخارفی الکوفی ہے اور اسحاق بن منصور، ابن معین سے روایت کرتا ہے کہ یہ ثقہ ہے۔ (تہذیب التہذیب، صفحہ۱۸۹)
ابن عمر عن عثمان قال کان من الذین تولوا یوم التقی الجمعان فتاب علیہ ثم اصاب ذنبا فقتلوہ و سالوہ عن علی فقال لا تسأل عنہ الا تری قرب منزلہ من رسول
اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم

ترجمہ علاء سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمرص سے جناب عثمان ص کے متعلق پوچھا، ابن عمرص نے فرما یا کہ وہ ان اصحاب میں سے تھے جنہوں نے منہ پھیرا اس دن جبکہ دو گروہ متقابل ہوئے تواﷲ تبارک و تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ پھر ان سے ایک لغزش ہوئی تو لوگوں نے انہیں شہید کر دیا اور اس شخص نے ان سے جناب علیصکے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا اس کے متعلق نہ پوچھ۔ کیاتو ان کا مرتبہ رسول کریم3کے قرب میں نہیں دیکھتا؟

تشریح ارشاد ہے ’’ اس دن جبکہ دوگروہ متقابل ہوئے ‘‘ یعنی مسلمان اور کافر اُحد کے دن جب آمنے سامنے ہوئے۔

حد یث نمبر
۱۰۵؍۲ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی ھلال۲؂ بن العلاء بن ھلال قال حدثنا حسین۳؂ قال حدثنا زھیر۴؂ عن ابی اسحاق۵؂ عن العلاء۶؂ بن عرار قال سألت عبداﷲ بن عمر ص فقلت الا تحدثنی عن علی و عثمان قال اما علی فھذا بیتہ من بیت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ولا احدثک عنہ بغیرہ و اما
عثمان فانہ اذنب ذنبا عظیما یوم احد فعفی اﷲ و اذنب فیکم ذنبا صغیرا فقتلتموہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۵
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: ہلال بن العلاء:ہلال بن العلاء بن ہلال بن عمرالباہلی کی کنیت ابو عمر الرقی ہے۔ صدوق ہے۔ طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے۔ محرم ۲۸۰ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۶۶)
۳؂: حسین:حسین بن عیاس بن حازم اسلمی کی کنیت ابوبکر الباجدائی ہے۔ ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۰۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۷۴)
۴؂: زہیر:زہیر بن معاویہ بن حدیج کی کنیت ابوخثیمۃ الجعفی الکوفی ہے ثقہ ہے۔ ثبت الا ان سماعہ ان ابی اسحاق بآخرہ۔ طبقہ السابعہ سے ہے۔ ۱۷۲ ؁ہجری یا ۱۷۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۱۰۹)
۵؂: ابی اسحاق: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲: ۴ ۶؂: العلاء بن عرار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۴:۶
ترجمہ علاء بن عرار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداﷲ بن عمرص سے پوچھا۔ پس میں نے عرض کیا آپ مجھے (حضرت ) علیص اور (حضرت) عثمان ص کے بارے میں کچھ بیان نہیں کریں گے؟ فرمایا خبردار رہ! (کیا تو نہیں جانتا) کہ یہ (حضرت) علیص کا گھر ہے جو کہ رسول اﷲ3کے گھر سے ملا ہوا ہے اس کے علاوہ اس کے متعلق میں تجھے اور کیابیان کر سکتا ہوں۔ اور خبردار رہ! (کیا تو نہیں جانتا) کہ حضرت عثمان (ذی النورینص) سے اُحد کے دن ایک بڑی لغزش ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے ان کی یہ لغزش معاف فرمادی اور تم میں ان سے ایک بہت ہی ہلکی سی لغزش واقع ہوئی تو تم نے اسے شہید کر دیا۔

تشریح ارشاد ہے’’ اس کے علاوہ اس کے متعلق میں تجھے اور کیا بیان کر سکتا ہوں ‘‘ یعنی اس سے زیادہ کمال قرب ، کمال فضیلت اور کمال حضورخاص اور کمال محبت اور کیا ہو سکتی ہے کہ جناب سید الانبیاء3نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ3کے مکان مبارک کو اپنے گھر میں ملا لیا تھا، یہی ان کی فضیلت پر کافی دلیل ہے۔ ارشاد ہے’’ اﷲ تعالیٰ نے ان کی یہ لغزش معاف فرمادی ‘‘ یعنی اس پر کوئی باز پرس یا مؤاخذہ نہیں فرمایا بلکہ عفو فرمایا۔

حد یث نمبر
۱۰۶؍۳ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا احمد۱؂ بن سلیمان الرھاوی قال حدثنا عبید اﷲ۳؂ قال انبأنا اسرائیل۴؂ عن ابی اسحاق۵؂ عن العلاء۶؂ بن عرار قال سألت بن عمر رضی اﷲ عنھما وھو فی مسجد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم عن علی و عثمان فقال اما علی فلا تسألنی عنہ و انظر الی قرب منزلۃ من النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ما فی المسجد بیت غیر بیتہ و اما عثمان فانہ اذنب ذنبا عظیما تولی یوم التقی الجمعان فعفی اﷲ عنہ و غفر لکم و اذنب فیکم ذنبا دون
ذلک فقتلتموہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۶
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: احمد بن سلیمان الرہاوی: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۱
۳؂: عبید اللہ (بن موسیٰ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۲
۴؂: اسرائیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۳
۵؂: ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: العلاء بن عرار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۴:۶

ترجمہ علاء بن عرار سے روایت ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے پوچھا اس وقت جبکہ وہ رسول کریم3کی مسجد شریف میں تشریف فرما تھے (حضرت) علی (ص) اور (حضرت) عثمان(ص) کے متعلق۔ فرمایا ، یاد رکھ (کیونکہ تو نہیں جانتا) کہ علی صجو ہیں انکے متعلق مجھ سے نہ پوچھ اور دیکھ حضورنبی کریم3کے نزدیک ان کے مرتبہ کو ،مسجد نبوی میں سوائے ان کے گھر کے کسی اور کا گھر نہیں۔اور یہ کہ جو (حضرت) عثمان ص ہیں سو یہ کہ ان سے ایک بڑی لغزش ہوئی کہ انہوں نے منہ پھیرا اس دن جب کہ دو گروہ مقابل ہوئے تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا اور مغفرت فرما دی اور تم میں نہایت ہی ہلکی لغزش ان سے ہوئی تو تم نے ان کو شہید کر ڈالا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ کہ مسجد نبوی میں سوائے ان کے گھر کے کسی اور کا گھر نہیں ‘‘ یعنی سوائے حضرت علی 3کے گھر کے دروازہ کے اور کسی صاحب ص کے گھر کا دروازہ مسجد کی طرف رکھنے کی اجازت نہیں۔ ترمذی شریف میں ایک حدیث ہے جس کے راوی ابن عباس رضی اﷲ عنہما ہیں۔ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم امر بسد الابواب الا باب علی (وقا ل ھذا حدیث غریب) وہ فرماتے ہیں’’ کہ رسول کریم3نے تمام دروازوں کے بند کرنے کا حکم فرمایا (جو مسجد نبوی میں کھلتے تھے) سوائے جناب علیص کے گھر کے دروازے کے‘‘
اسنادہ صحیح (ابو اسحاق الحوینی، تہذیب خصائص امام علی صفحہ
۹۰)

حد یث نمبر
۱۰۷؍۴ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا اسمعیل۲؂ بن یعقوب بن اسمعیل قال حدثنا ابن موسی۳؂ وھو محمد بن موسی بن اعین قال حدثنا ابی۴؂ عن عطاء۵؂ عن سعد ۶؂بن عبیدۃ قال جآء رجل الی ابن عمر فسألہ عن علی فقال لا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۷
۱؂: احمد بن شعیب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: اسماعیل بن یعقوب: اسماعیل بن یعقوب بن اسماعیل بن صبیح الصبحی کی کنیت ابو محمد الحارثی ہے، ثقہ ہے اور طبقہ الحادےۃ عشرۃ سے ہے، ۲۸۰ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۵)
۳؂: ابن موسیٰ :اس کا نام محمد بن موسیٰ بن اعین الجذری ہے اور ابویحیےٰ الحرانی کنیت ہے۔ صدوق ہے، طبقہ العاشرہ کے کبار سے ہے۔ ۲۲۳ ؁ہجری میں فوت ہوئے۔ (التقریب،صفحہ۳۲۰)
بقیہ حاشیہ :
۴؂: ابی: یہ موسیٰ بن اعین الجذری ہے۔ ابو سعید اس کی کنیت ہے ، ثقہ ، عابداور طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ ۱۷۵ ؁ہجری یا ۱۷۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۴۹)
۵؂: عطاء:عطاء بن السائب الثقفی الکوفی کی کنیت ابو محمد ہے اور اسے ابو سائب الثقفی الکوفی بھی کہتے ہیں، صدوق ہے۔ (حاشیہ جاری ہے ) 

تسئلنی عن علی ولکن انظرالی بیتہ من بیوت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم
قال فانی ابغضہ قال ابغضک اﷲ عز وجل

ترجمہ سعد بن عبیدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن عمر کے پاس ایک شخص آیا۔ سو اس نے (جناب) علی (المرتضیٰ3 ) کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا (جناب) علی صکے متعلق مجھ سے نہ پوچھ مگر ہاں اس کے گھر کی طرف دیکھ کہ حضور3کے گھروں میں شامل ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں ان سے عداوت رکھتا ہوں۔ ابن عمر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا اﷲ عزو جل تمہیں دشمن رکھے گا۔

تشریح ارشاد ہے’’ اﷲ عزو جل تمہیں دشمن رکھے گا‘‘ یعنی جناب علی المرتضیٰ3 کی عداوت اور دشمنی اﷲ تبارک وتعالیٰ کی عداوت اور دشمنی ہے۔ خواجہ حافظ شیرازی فرماتے ہیں 
کانرا کہ دوستی علی نیست کافر است
گو زاہد زمانہ و گو شیخ راہ باش
اسنادہ صحیح (ابو اسحاق الحوینی، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ
۹۰)
اسنادہ‘ حسن و الحدیث صحیح (احمد میرین البلوشی، خصائص امیرالمومنین صفحہ
۱۲۴)

حد یث نمبر
۱۰۸؍۵ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی ھلال۲؂ بن العلاء بن ھلال قال حدثنا حسین۳؂ بن عیاش قال حدثنا زھیر۴؂ قال حدثنا ابواسحق۵؂ قال سئل ابو عبدالرحمن بن خالد (قثم) بن عباس من این ورث علی رسول اﷲ صلی اﷲ
علیہ والہ وسلم قال انہ کان اولنا بہ لحوقا و اشدنا بہ لزوما

بقیہ حاشیہ: اختلط طبقہ الخامسۃ سے ہے۔
۱۳۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۳۹)
۶؂: سعد بن عبیدۃ: سعد بن عبیدۃ السلمی کی کنیت ابوحمزہ الکوفی ہے۔ ثقہ ہے،طبقہ الثالثہ سے ہے۔ عمرو بن ہبیرۃ کے دور حکومت میں عراق میں فوت ہوا۔(التقریب،صفحہ ۱۱۸)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۸
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: ہلا ل بن العلاء:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۲۳؂: حسین بن عیاش: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۳
۴؂: زہیر: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۴۵؂: ابواسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴

ترجمہ ابی اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابو عبدالرحمان بن خالد نے ابن عباس سے پوچھا(جناب) علی (المرتضی3 ) کس وجہ سے رسول3کے وارث ہوئے۔ فرمایا یقیناًوہ ہم میں سے حضور 3کے ساتھ سب سے پہلے ملنے والے تھے اور ہم میں حضور3کے ساتھ انتہائی طور پرہر وقت ساتھ رہنے والے تھے۔

حل لغت لحوق: لحق سے ہے جس کے معنی پالینا ، مل جانا ، پہنچ جانا ، لازم ہونا ، واجب الادا ہونے کے ہیں لزوم یا لزم یا لزام یا لزامۃ یا لزمان: ہمیشہ رہنا ، قائم رہنا ، واجب ہونا ،لئے رہنا ، پیدا ہونا ، حاصل ہونا۔

تشریح ارشاد ہے’’ ابو عبدالرحمن بن خالد نے ابن عباس سے پوچھا‘‘ یعنی قثم بن عباس سے پوچھا۔ ارشاد ہے ’’(جناب) علی (المرتضیٰ3 ) کس وجہ سے رسول کریم3کے وارث ہوئے ‘‘ یعنی کس وجہ سے سیدنا علی المرتضی3 حضور3کے ترکہ کے وارث ہیں۔ ارشاد ہے ’’ انتہائی طور پر ہر وقت ساتھ رہنے والے تھے ‘‘ یعنی اپنے خاندان میں سب سے پہلے حضور3کے ساتھی اور ہر وقت ہر آن اور ہر لمحہ حضور3کے ساتھ رہنے والے تھے۔ اسی لئے وہ ان کے وارث ٹھہرے۔

حد یث نمبر
۱۰۹؍۶ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا ھلال۲؂ بن العلاء قال حدثنا ابی۳؂ قال حدثنا عبید اﷲ۴؂ عن زید۵؂ عن ابی اسحاق۶؂ عن خالد۷؂ بن قثم انہ قیل لہ ما لعلی ورث جدک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم دون جدک و ھو
عمہ قال ان علیا کان اولنا بہ لحوقا و اشدنا بہ لزوقا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۹
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ ۲؂: ہلا ل بن العلاء:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۲
۳؂: ابی: اس کا نام علاء بن ہلا ل بن عمر بن ہلال بن ابی عطیہ الباہلی ہے اور اس کی کنیت ابو محمد الرقی ہے روی عن ابیہ و عبید اللّٰہ بن عمر الرقی وغیرھم وعنہ ابنہ ھلا ل و محمد بن جبلۃ الرافعی و ابراہیم بن یعقوب وغیرھمحاتم نے کہا منکر الحدیث اور ضعیف الحدیث ہے ،نسائی نے کہا ھلال بن العلاء روی عن ابیہ غیر حدیث منکر فلا ادری منہ اتی اومن ابیہ ۲۱۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ 
۴؂:عبید اللہ: عبیداﷲ بن عمرو بن ابی الولید الرقی کی کنیت ابو وہب الاسدی ہے ،ثقہ ہے، فقیہہ ہے۔ ربما وھم۔ طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۸۰ ؁ہجری میں وفات پائی (التقریب،صفحہ ۲۲۶)
۵؂: زید(بن ابی انیسہ):زید بن ابی انیسہ الجذری کی کنیت ابواُسامہ ہے۔ اصل کوفہ کا باشندہ تھا پھر الرھا میں آباد ہوگیا، ثقہ ہے لہ افراد طبقہ السادستہ سے ہے۔ ۱۲۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۱۱۲)
۶؂: ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴ (حدیث شریف کے اسماء الرجال اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 

ترجمہ خالد بن قثم سے روایت ہے یہ کہ اسے کسی شخص نے کہا کیا وجہ ہے کہ (حضرت ) علی (المرتضیٰص) رسول اﷲ3کے وارث ٹھہرائے گئے اور تیرے دادا وارث نہ ہوئے حالانکہ وہ حضور3کے چچا تھے۔ فرما یا یقیناًوہ ہم میں حضور3کے ساتھ سب سے پہلے ملنے والے تھے اور ہم میں حضور3کے انتہائی طور پر ساتھ رہنے والے تھے۔

تشریح ارشاد ہے’’ تیرے دادا وارث نہ ہوئے حالانکہ وہ حضور3کے چچا تھے ‘‘ یعنی خالد بن قثم جناب سیدنا عباس ص کے پوتے تھے جس سے یہ سوال کیا گیا۔

حد یث نمبر
۱۱۰؍۷ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی عبدۃ۲؂ بن عبدالرحیم المروزی قال انبأنا عمرو۳؂ بن محمد قال انبأنا یونس۴؂ بن ابی اسحق عن العیزار۵؂ بن حریث عن النعمان۶؂ بن بشیر قال استأذن ابوبکر علی النبیصلی اﷲ علیہ والہ وسلم فسمع صوت عائشۃ عالیا وھی تقول و اﷲ قد علمت ان علیا احب الیک من ابی فاھوی الیھا ابوبکر لیلطمھا وقال یا بنت فلانۃ اراک ترفعین صوتک علی رسول

بقیہ حاشیہ:
۷؂: خالد بن قثم:یہ خالد بن قثم بن عباس بن عبدالمطلب الہاشمی ہے۔ روی حدیثہ ابواسحاق السبیعی و اختلف علیہ فیہ فضیل عن ابی اسحاق عن خالد بن قثم بن العباس من این ورث علی النبی صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم الحدیث اخرجہ النسائی فی الخصائص علی الوجھین۔(تہذیب ،جلد ۳، صفحہ۱۱۲)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۰
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: عبدۃ بن عبدالرحیم المروزی:عبدۃ بن عبدالرحیم بن حسان المروزی کی کنیت ابو سعید ہے۔ دمشق میں آکر آباد ہوگیاتھا۔ صدو ق ہے، طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۴ ؁ہجری میں فو ت ہوا۔(التقریب،صفحہ ۲۲۳)نسائی اور مسلمۃ نے کہا ’’ثقہ ‘‘ ہے اور ابن حبان نے اسے اپنی ثقات میں ذکر کیا ہے۔ ابو حاتم نے کہا ’’صدوق‘‘ اور عبداﷲ بن احمد سے روایت ہے کہ ’’شیخ صالح‘‘ ہے (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المؤمنین علی صابن ابی طالب صفحہ ۱۲۶)
۳؂: عمرو بن محمد: عمرو بن محمد العنقزی کی کنیت ابو سعید الکوفی ہے۔ ثقہ ہے ، طبقہ التاسعہ سے ہے اور ۱۹۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۶۲ )
۴؂: یونس بن ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۳
۵؂: العیزاربن الحریث:عیزار بن حریث العبدی الکوفی ۔ثقہ ہے، طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۱۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۷۰)
۶؂: نعمان بن بشیر: نعمان بن بشیر بن سعد بن ثعلبہ الانصاری الخزرجی اور اس کا باپ صحابی ہے، شام میں سکونت اختیار کی پھر کوفہ کا حاکم مقرر ہوا۔ اور ۶۵ہجری میں حمص میں قتل کیا گیا۔(التقریب،صفحہ ۳۵۸)
اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فامسکہ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ والہ وسلم و خرج ابوبکرمغضبا فقال رسول اﷲصلی اﷲ علیہ والہ وسلم یا عائشۃ کیف رأیتنی ابغد تک من الرجل ثم استاذن ابوبکر بعد ذلک و قد اصطلح رسول اﷲصلی اﷲ علیہ والہ وسلم و عائشۃ فقال ادخلانی
فی السلم کما ادخلتما نی فی الحرب فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قد فعلنا

ترجمہ نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ (جناب) ابوبکر (صدیقص) نے نبی کریم3سے اجازت طلب کی۔ پس (ام المومنین) عائشہ (صدیقہ رضی اﷲ عنہا) کی آواز سنی (جوکہ ) اونچی (آرہی ) تھی۔ وہ کہہ رہی تھیں اﷲ کی قسم ہے کہ میں خوب جانتی ہوں کہ آپ3کو میرے باپ سے زیادہ علی سے محبت ہے۔ تو (جناب) ابوبکر (صدیقص ) نے انہیں طمانچہ مارنا چاہا۔اے فلاں کی بیٹی ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تیری آواز رسول اﷲ3پر اونچی ہورہی ہے، سو رسول اﷲ3نے اس کو منع کیا اور (جناب) ابو بکر (صدیقص) غصہ کے عالم میں وہاں سے نکل آئے۔ تو حضورنبی کریم3نے ارشاد فرمایا اے عائشہ (رضی اﷲ عنہا) تو نے مجھے دیکھا کہ میں نے تجھے اس شخص سے کس طرح بچا لیا۔ اس کے بعد (جناب) ابوبکر (صدیق ص) نے آنے کیلئے اجازت طلب کی۔ جبکہ حضرت رسول کریم3اور ام المومنین (حضرت ) عائشہ (صدیقہ رضی اﷲ عنہا) دونوں متفق ہوگئے تھے تو (جناب) ابوبکرص نے عرض کیا کہ مجھے بھی اس صلح میں شامل کر لیں جس طرح کہ تم دونوں نے مجھے لڑائی میں شامل کر لیا تھا۔ تو رسول کریم 3 نے ارشاد فرمایا، ہم نے ایسا ہی کر لیا ہے۔

حل لغت ھواء: قصد کرنا ، ارادہ کرنا۔ لطم: طمانچہ مارنا، تھپڑمارنا ، ہتھیلی سے مارنا۔ اصطلاح: کسی جماعت خاص کا کس چیز پر یا کسی کلمہ کے وضع پر اتفاق کر لینا،باہم صلح کرنا۔ ادخلا: تثنیہ ہے بمعنی آپ دونوں مجھے داخل کر لیں، شامل کر لیں۔

تشریح ارشاد ہے’’ نبی کریم3سے اجازت طلب کی‘‘ یعنی حجرہ مبارکہ میں اندر آنے کیلئے اجازت چاہی۔ ارشاد ہے’’ آپ3کو میرے باپ سے زیادہ علی سے محبت ہے ‘‘ یعنی جناب سیدہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا اپنے والد گرامی کے متعلق اس قسم کے خیالاتِ مبارکہ کااظہار کمال درجے کی محبتِ پدری پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے کہ ہر ایک فرد کو اپنے ماں باپ کی عزت اور حرمت ہر ایک سے زیادہ عزیز ہوتی ہے ۔نیز ام المومنین نہایت ہی اچھی طرح جانتی تھیں کہ جس شخص کے ساتھ سرور کونین3سب سے زیادہ محبت فرمائیں گے وہ انتہائی بخشش و عنایت اور عزت و مکرمت کا حامل ہو گاا ور آخرت میں بھی سر خرو، کامگار ، فائز المرام اور مقام بلند پر فائز ہوگا۔لہٰذا ان کی یہ قلبی خواہش نہایت ہی صحیح اور درست تھی کہ میرے والد کے ساتھ جناب سیدالمرسلین احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی3سب سے زیادہ محبت فرمائیں۔ چونکہ ام المومنین رضی اﷲ عنہا جناب پیغمبر اسلام3کی حرم محترم ہیں لہٰذا اس نسبتِ عالیہ کی وجہ سے اس اصرار کو سوئے ادب نہیں کہا جا سکتا۔ فافہم،ارشاد ہے ’’ تو جناب ابوبکر صدیق صنے انہیں طمانچہ مارنا چاہا‘‘ یعنی ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو تھپڑمارنے کا قصد کیا۔ ارشاد ہے ’’ سو رسول اﷲ 3نے اس کو منع کیا‘‘ یعنی جناب ابوبکر ص کو روک دیا۔ ارشاد ہے ’’ اور جناب ابو بکر صدیق ص غصہ کے عالم میں وہاں سے نکل آئے‘‘ یعنی سبحان اﷲ! جناب سیدنا ابوبکر صدیق ص نے ادبِ نبوی ملحوظ خاطر رکھا کہ وہ اپنی صاحبزادی پر غصہ فرما رہے ہیں کہ حضور3کے مزاجِ اقدس کے مطابق گفتگو کرو۔ ان کی آواز پر آواز اونچی نہ کرو۔ ارشاد ہے ’’ میں نے تجھے اس شخص سے کس طرح بچا لیا‘‘ یعنی جناب ابو بکر صدیق ص کے غیض و غضب سے بچا لیا۔ ارشاد ہے ’’ کہ مجھے بھی اس صلح میں شامل کریں‘‘ یعنی یہ انتہائی پیار اور محبت کا فقر ہ ہے جس کے ایک ایک لفظ سے محبت کی خوشبو آرہی ہے۔ ارشاد ہے ’’ ہم نے ایسا ہی کر لیا ہے‘‘ یعنی اس صلح اور اتفاق میں آپ بھی شامل ہیں۔
اسنادہ صحیح (احمد میرین البلوشی، خصائص امیرالمومنین علی ابن ابی طالب صفحہ
۱۲۶)
حد یث نمبر
۱۱۱؍۸ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی محمد۲؂ بن آدم بن سلیمان المصیصی قال حدثنا ابن ابی غنےۃ۳؂ عن ابی۴؂ عن ابی اسحاق۵؂ عن جمیع۶؂ و ھوا بن عمیر قال دخلت مع امی علی عائشۃ وا نا غلام فذکرت لھا علیا فقالت ما رأیت رجلا کان احب الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم منہ و لا 
امرأۃ احب الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم من امرأتہ
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۱
۱ؔ ؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: محمد بن آدم:محمد بن آدم بن سلیمان المصیصی الجہنی۔ صدوق ہے، طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۵۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۸۹) نسائی نے کہا ثقہ ہے۔ (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمؤمنین علیص بن ابی طالب صفحہ۱۲۷)
۳؂: ابن ابی غنےۃ:اس کا نام عبدالملک بن حمید ابن ابی غنیہ الخزاعی الکوفی کا اصل وطن اصفہان تھا، ثقہ ہے اور طبقہ السادستہ سے ہے (التقریب صفحہ ۲۱۸)
۴؂: ابیہ:یہ عبدالملک کا باپ حمید بن ابی غنیہ اصفہانی ہے۔ یہ صدوق ہے اور طبقہ السابعۃ سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۸۴)
۵؂: ابی اسحاق: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: جمیع: جمیع بن عمیر التیمی کی کنیت ابو الاسود الکوفی ہے۔ صدوق ہے یخطی و یتشیع طبقہ الثالثہ سے ہے۔ (التقریب ، صفحہ ۵۷)

ترجمہ جمیع بن عمیر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ عائشہ (صدیقہ رضی اﷲ عنہا) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت میں لڑکا تھا۔ تو میں نے ان کے سامنے (جناب) علی (المرتضیٰ ص) کا ذکر کیا۔ تو انہوں نے فرمایا(جناب) علی (3 ) سے زیادہ محبوب حضور رسول کریم3کے نزدیک کسی اور شخص کو میں نے نہیں دیکھا۔ اور (جنابہ) بی بی (صاحبہ رضی اﷲ عنہا )سے زیادہ محبوبہ حضور3کے نزدیک کسی دوسری عورت کو نہیں دیکھا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ اور (جنابہ)بی بی (صاحبہ رضی اﷲ عنہا) سے زیادہ محبوبہ حضور3کے نزدیک کسی دوسری عورت کو نہیں دیکھا‘‘ یعنی جناب سیدۃ النساء جگر گوشہ رسول خدا حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا سے زیادہ محبوب کوئی دوسری عورت نہ تھی۔

حد یث نمبر
۱۱۲؍۹ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا عمرو۲؂ بن علی البصری قال حدثنی عبدالعزیز۳؂ بن الخطاب قال حدثنا محمد۴؂ بن اسمعیل ابن رجاء الزبیدی عن ابی اسحاق۵؂ الشیبانی عن جمیع۶؂ بن عمیر قال دخلت مع امی علی عآئشۃ (فسمعھا ما تسألھا) من ورآء الحجاب عن علی فقالت سالتنی عن رجل ما اعلم احدا کان احب الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم منہ ولا احب الیہ من امرأتہ

ترجمہ جمیع بن عمیر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ (ام المومنین ) عائشہ (صدیقہ رضی اﷲ عنہا) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پردے کے پیچھے سے میں نے وہ بات سنی جو میری والدہ نے ان سے 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۲
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: عمرو بن علی: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۲:۲
۳؂: عبدالعزیز بن الخطاب:عبدالعزیز بن الخطاب کوفی کی کنیت ابوالحسن ہے۔ بصرے میں زندگی بسر کی، صدوق ہے اورطبقہ العاشرہ کے کبار سے ہے۔ ۲۲۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۱۴)
۴؂: محمد بن اسمٰعیل: محمد بن اسمٰعیل بن رجاء الزبیدی الکوفی صدوق ہے اور شیعہ ہے۔ طبقہ الثامنہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۹۰)
۵؂: ابی اسحاق الشیبانی: اس کا نام سلیمان بن ابی سلیمان الشیبانی ہے اور ابو اسحاق کنیت ہے۔ یہ کوفی ہے، ثقہ ہے اور طبقۃ الخامسۃ سے ہے۔ مات فی حدود الاربعین(التقریب،صفحہ ۱۳۴)
۶؂: جمیع بن عمیر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۱:۶
(حضرت) علی (3 ) کے متعلق پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ تو نے ایسے شخص کے متعلق پوچھا ہے۔ میں کسی ایک شخص کو حضور3کے نزدیک اس شخص سے محبوب تر نہیں جانتی اور حضور3کے نزدیک اُن کی بیوی سے کوئی عورت محبوب تر نہیں۔

تشریح ارشا دہے ’’ اور حضور3کے نزدیک اُن کی بیوی سے کوئی عورت محبوب تر نہیں‘‘ یعنی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا یہ ارشاد گرامی جناب سیدنا امیر المومنین علی المرتضیٰ3 اور ان کی زوجہ محترمہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ حضور3کی کمال محبت ثابت کر رہا ہے۔
اسنادہ صحیح( ابو اسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام علی ص ،صفحہ
۹۴)

حد یث نمبر
۱۱۳؍۱۰ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی زکریا۲؂ بن یحیے قال حدثنا ابراھیم۳؂ بن سعید قال حدثنا شاذان۴؂ عن جعفر الاحمر۵؂ عن عبداﷲ۶؂ بن عطاء عن ابن بریدۃ۷؂ قال جآ رجل الی ابی فسالہ ای الناس اھب الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فقال کان احب الناس الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ
وسلم من النسآء فاطمۃ ومن الرجال علی

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۳
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۳؂: ابراہیم بن سعید:ابراہیم بن سعید الجوہری کی کنیت ابو اسحاق الطبری ہے ، ثقہ اور حافظ ہے۔ تکلم فیہ بلا حجۃ۲۵۰ ؁ہجری میں فوت ہوا، طبقہ العاشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۰)
۴؂: شاذان: اس کانام اسود بن عامر شامی کنیت اباعبد الرحمن اورلقب شاذان ہے۔ ثقہ ہے،طبقہ التاسعۃ سے ہے۔ ۲۰۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب صفحہ ۳۶)
۵؂: جعفر الاحمر:جعفر بن زیاد الاحمر الکوفی ہے ۔صدوق ہے، شیعہ ہے، طبقہ السابعۃ سے ہے، ۱۶۷ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ ۵۵)۔ ابن معین نے کہا ثقہ ہے اور احمد نے اسے صالح الحدیث کہا ہے۔ (احمد میرین البلوشی ،خصائص امیرالمؤمنین علیص ابن ابی طالب ،صفحہ۱۲۹)
۶؂:عبد اﷲ بن عطاء:عبداﷲ بن عطاء الطائفی دراصل کوفہ کا باشندہ ہے۔ صدوق ہے یخطی ویدلس طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۱۸۲) ابن معین اور ترمذی نے کہا ثقہ ہے۔ابن حبان نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے اور احمد نے کہا صالح الحدیث ہے۔(تہذیب التہذیب، جلد ۵،صفحہ ۳۲۲)
۷؂: ابن بریدہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۹:۵

ترجمہ ابن بریدہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے اس سے پوچھا حضور3کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ تو اس نے فرمایا کہ حضور3کے نزدیک عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ (رضی اﷲ عنہا) تھیں اور مردوں میں علی (المرتضیٰ ) ص تھے۔

تشریح مولانا مولوی محمد ابو الحسن اس حدیث کے فائدہ میں لکھتے ہیں
’’ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت 3 کے نزدیک سب مردوں سے پیارے علی ص تھے اور عورتوں میں بہت پیاری فاطمۃ الزہرا سلام اﷲ علیہا تھیں۔ پس اس حدیث سے عمدہ فضلیت ثابت ہوئی ‘‘(مناقب مرتضوی ، صفحہ
۶۵)

بسم اﷲ الر حمن الرحیم ط
ذکر منزلۃ علی کرم اﷲ وجہہ الکریم من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
عند دخولہ مسآء بیتہ و سکونہ
’’ جناب سیدنا علی المرتضیٰ3کے اس مرتبہ کا بیان ہے کہ آنجناب ص حضرت رسول کریم3کے گھر مبارک رات کو تشریف لاتے اور آرام پاتے ‘‘
(اس باب میںآٹھ احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۱۴؍۱ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی محمد۲؂ بن وھب قال حدثنا محمد۳؂ بن سلمۃ قال حدثنی ابو عبد الرحیم۴؂ قال حدثنی زید۵؂ عن الحارث۶؂ عن ابی زرعۃ۷؂ بن عمرو بن جریر عن عبد اﷲ۸؂ بن نجی انہ سمع علیا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۴
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ ۲؂: محمد بن وہب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۳
۳؂: محمد بن سلمۃ:محمد بن سلمۃ بن عبداﷲ الباہلی ثقہ ہے۔ الحرانی ہے۔ طبقہ الحادیہ عشرہ سے ہے۔ ۱۹۱ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۹۹)
۴؂: ابوعبدالرحیم:اس کا نام خالد بن ابی یزید بن سماک بن رستم الاموی ہے۔ کنیت ابو عبدالرحیم الحرانی ہے مثقہ ہے، طبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۴۴ ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۹۱)
۵؂: زید (بن ابی انیسہ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۹:۵
۶؂: الحارث:الحارث بن یزید العکلی التیمی ہے۔ روی عن ابی زرعۃ ، ابن عمرو و الشعبی و ابراہیم النخعی و عبداﷲ بن یحیی الحضرمی وعمارۃ بن القعقاع وھومن اقرأ نہ و عنہ عمارۃ بن القعقاع الیضا۔ و عبد اﷲ وابن عجلان و مغیرۃ و مقسم الضیے وغیرھم۔ ابن معین نے کہا ثقہ ہے اور ابن حبان نے اسے اپنی ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۲صفحہ ۱۶۳)
۷؂: ابی زرعہ بن عمرو:ابی زرعہ بن عمرو بن جریر بن عبد اﷲ البجلی الکوفی کا نام ہرم ، عمرو ، عبداﷲ،عبد الرحمن یا جریر ہے۔ یہ ثقہ ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۴۰۶) (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں)
یقول کنت ادخل علی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کل لیلۃ فان کان یصلی سبح
فدخلت و ان لم یکن یصلی اذن لی فدخلت

ترجمہ عبداﷲ بن نجی سے روایت ہے یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے (جناب) علی (المرتضیٰص) سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں ہررات کو حضور3کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ سو اگر آنحضور3نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اﷲ فرمادیتے تو میں مکان میں داخل ہوجاتا۔ اور اگر نماز میں نہ ہوتے تو مجھے اجازت فرما دیتے تو میں آنحضرت3 کی خدمت میں حاضر ہوتا۔

تشریح اسنادہ ،حسن۔ اس کے اسنادہ حسن ہیں۔(البلوشی، صفحہ
۱۲۹)

حد یث نمبر
۱۱۵؍۲ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی زکریا۲؂ بن یحیے قال حدثنا محمد۳؂ بن عبید و ابو کامل۴؂ قالا حدثنا عبد الواحد۵؂ بن زیاد قال حدثنا عمارۃ۶؂ بن القعقاع عن الحرث۷؂ العکلی عن ابی زرعۃ۸؂ بن عمرو بن جریر عن عبد اﷲ۹؂ 

بقیہ حاشیہ:
۸؂: عبد اﷲ بن نجی:عبداﷲبن نجی بن سلمۃ الحضرمی الکوفی کی کنیت ابولقیمان ہے۔ صدوق ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۱۹۲) روی عن ابیہ وکان علی مظھرۃ علی و عمار و حذیفہ و الحسین بن علی و غیرھم و عنہ ابو زرعۃ بن عمرو بن جریر والحارث العکلی و شرجیل بن مدرک و جابر الجعفی۔ بخاری اور ابواحمد بن عدی نے کہا’’فیہ نظر‘‘ نسائی نے کہا ثقہ ہے۔ دارقطنی نے کہا کہ ’’لیس بقوی فی الحدیث‘‘ اور ابن حبان نے اس کا ذکر ثقاۃ میں کیا ہے اور کہا کہ یہ علی3 سے روایت کرتا ہے اور اپنے باپ سے بھی اور وہ بھی علی3 سے روایت کرتا ہے۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۶صفحہ ۵۵)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۵
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲: زکریابن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۳؂: محمد بن عبید:محمد بن عبید بن حساب العنبری البصری ۔ثقہ ہے اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۳۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۱۰)
۴؂: ابوکامل:اس کانام فضیل بن حسین بن طلحہ الحجدری اور کنیت ابوکامل ہے۔ ثقہ ، حافظ اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ اور یہ اپنے چچا کامل بن طلحہ سے اوثق ہے۔ ۲۳۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۷۶)
۵؂: عبدالواحد بن زیاد:عبدالواحد بن زیاد العبدی البصری ثقہ ہے۔ طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ ۱۷۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۲۱)
۶؂:عمارۃ بن القعقاع: عمارۃ بن القعقاع بن شبرمۃ الضبی الکوفی ثقہ ہے۔ ارسل عن ابن مسعود طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۵۱)
۷؂: الحارث العکلی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۶
۸؂: ابی زرعہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴۔۷ ۹؂: عبد اﷲ بن نجی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۸
بن نجی قال قال علی لی ساعۃ من السحر ادخل فیھا علی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ
والہ وسلم فان کان فی صلوتہ سبح و کان اذنہ لی وان لم یکن فی صلوتہ اذن لی

ترجمہ عبداﷲ بن نجی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (جناب) علی (المرتضیٰص) نے فرمایا ،میرے لئے صبح ایک وقت مقرر تھا جس میں کہ میں رسول کریم3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتا سواگر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اﷲ فرمادیتے اور یہی میرے لئے اجازت تھی اور اگر نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو مجھے اجازت مرحمت فرما دیتے۔ 

تشریح اسنادہ حسن، سوائے عبداﷲ بن نجی کے کہ جو صدوق ہے، باقی سب رجال ثقہ ہیں۔(احمد میرین البلوشی، صفحہ
۱۳۰)

حد یث نمبر
۱۱۶؍۳ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی محمد۲؂ بن قدامۃ المصیصی قال حدثنا جریر۳؂ عن المغیرۃ۴؂ عن الحارث۵؂ عن ابی زرعۃ۶؂ بن عمرو قال حدثنا عبد اﷲ۷؂ بن نجی عن علی قال کانت لی من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ساعۃ من السحر اتیتہ فیھا و اذا تیتہ أستأذنت و ان وجدتہ یصلی سبح و ان
وجدتہ فارغا اذن لی
ترجمہ (حضرت) علی (3 ) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور3کے ہاں سحر کے وقت میرے لئے ایک ساعت مقرر تھی۔ اس وقت میں آنحضرت3کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ جب میں حاضر ہوتا تو اجازت طلب کرتا اور اگر میں انہیں نماز میں پاتا تو وہ سبحان اﷲ فرماتے۔اور اگر میں انہیں نماز سے فارغ پاتا تو مجھے اجازت مرحمت فرماتے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۶
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: محمد بن قدامۃ:محمد بن قدامۃ بن اعین الہاشمی المصیصی ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے اور ۲۵۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(التقریب، صفحہ ۳۱۶)
۳؂: جریر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۹:۲
۴؂: المغیرہ:المغیرہ بن مقسم الضبی کی کنیت ابوہاشم الکوفی ہے الاعمیٰ ، ثقہ اور متقن ہے الاانہ کان یدلس و لاسیما عن ابراھیم۔ طبقہ السادستہ سے ہے اور ۱۳۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(التقریب،صفحہ ۳۴۵)
۵؂: الحارث:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۶ 
۶؂: ابی زرعہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۷ ۷؂: عبد اﷲ بن نجی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۸

تشریح اسنادہ حسن، رجالہ ثقات
(احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المومنین علی ابن ابی طالب صفحہ
۱۳۲)

حد یث نمبر
۱۱۷؍۴ اخبرنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی محمد۲؂ بن عبید بن محمد الکوفی قال حدثنا ابن عیاش۳؂ عن المغیرۃ۴؂ عن الحارث۵؂ العکلی عن ابن نجی۶؂ قال قال علی کرم اﷲ وجہہ کان لی من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
مدخلان مدخل باللیل و مدخل بالنہار فکنت اذا دخلت باللیل تنحنح لی

ترجمہ ابن نجی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ علی (المرتضیٰ)3 نے فرمایا کہ آنحضرت3کے حضور میں میرے حاضر ہونے کے دو وقت تھے۔ ایک وقت رات کو حاضر ہونے کا تھا اور ایک وقت دن کو حاضر ہونے کا تھا۔ سو جب میں رات کو حاضر ہوتا تو آنحضرت3میرے لئے گلا صاف فرماتے یعنی کھنکھارتے۔قال ابو عبدالرحمن خالفہ شرجیل بن مدرک فی اسنادہ ووافقہ علی قولہ تنخ

حد یث نمبر
۱۱۸؍۵ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا القاسم۲؂ بن زکریا بن دینار قال حدثنا ابو اسامۃ۳؂ قال حدثنی شرحبیل۴؂ یعنی بن مدرک الجعفی قال حدثنی عبد اﷲ۵؂ بن نجی الحضرمی عن ابیہ۶؂ و کان صاحب مطھرۃ علی قال قال علی 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۷
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱۲؂: محمد بن عبید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵:۱
۳؂: ابن عیاش:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۳۴؂: المغیرہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۶:۴
۵؂: الحارث:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۶۶؂: ابن نجی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۸
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۸
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱۲؂: قاسم بن زکریا:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۱
۳؂: ابواسامۃ:اس کا نام حماد بن اسامہ القرشی الکوفی ہے اور یہ اپنی کنیت ابواسامہ سے مشہور ہے۔ ثقہ ہے، ثبت ہے۔ ربما دلس و کان باخرہ یحدث من کتب غیرہ طبقہ التاسعۃ کے کبار سے ہے۔ ۲۰۱ ؁ہجر ی میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۸۱)
۴؂: شرحبیل:شرحبیل بن مدرک الجعفی الکوفی ثقہ ہے اور طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۱۴۴)
۵؂: عبد اﷲ بن نجی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۸
۶؂: ابیہ: یہ عبداﷲ کا باپ نجی الحضرمی الکوفی ہے۔ یہ مقبول ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۵۶)
کانت لی منزلۃ من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لم یکن لاحد من الخلائق فکنت ایتہ کل سحر فاقول السلام علیک یا نبی اﷲ فان تنحنح انصرفت الی اھلی
و الا دخلت علیہ

ترجمہ عبداﷲ بن نجی سے روایت ہے او روہ (جناب) علی (المرتضیٰص) کا لوٹا اٹھانے والا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ (جناب) علی (المرتضیٰص) نے ارشاد فرمایا جناب رسول کریم3کے حضور میں میرا ایک ایسا مرتبہ تھا جو مخلوق میں کسی دوسرے کیلئے نہ تھا۔ تو میں ہر سحر کو آنحضرت3کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوتا سوعرض کرتا السلام علیک یا نبی اﷲ پس اگر گلا صاف فرماتے تو میں اپنے گھر واپس چلا جاتا اور اگر گلا صاف نہ فرماتے تو میں اندر چلا جاتا۔

حل لغت مطھرۃ: لوٹا ، طہارت کا برتن ، کوزہ۔

تشریح ارشاد ہے ’’ سو عرض کرتا السلام علیک یانبی اﷲ!‘‘ یعنی اندر آنے کی اجازت چاہتا۔ ارشاد ہے ’’اگر گلا صاف فرماتے تو میں اپنے گھر واپس چلا جاتا‘‘ یعنی میں سمجھ جاتا کہ آنحضرت3مصرو ف ہیں تو میں واپس ہو جاتا۔ ارشاد ہے’’ اور اگر گلا صاف نہ فرماتے تو میں اندر چلا جاتا‘‘ یعنی سید الکونین3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوجاتا۔ مولانا مولوی محمد ابوالحسن صاحب تحریر فرماتے ہیں
’’یہ مرتبہ حضرت علیص کے سوا اور کسی کو حاصل نہ تھا اس لئے کہ وہ بہت قریب ہیں حضرت3کے گھر سے اور اخوۃ اور مصاحبت رکھتے تھے بہ سبب نسبتِ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے‘‘(مناقب مرتضوی ، صفحہ
۶۷)

حد یث نمبر
۱۱۹؍۶ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا محمد۲؂ بن بشار قال حدثنی ابو المساور۳؂ قال حدثنا عوف۴؂ عن عبد اﷲ۵؂ بن عمرو بن ھند الجملی عن علی۶؂ 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۹
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ ۲؂: محمد بن بشار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۱
۳؂: ابوالمساور:اسکا نام فضل بن مساور ہے اور ابو المساور البصری اس کی کنیت ہے ختن ابی عوانہ صدوق ہے ربما وھم طبقہ التاسعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۷۶)
۴؂: عوف( ابن ابی جمیلہ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۳
۵؂: عبد اﷲ بن عمرو:یہ عبداﷲ بن عمرو بن ہند الجملی الکوفی ہے۔ ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ ابن حبان نے ثقات (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 
قال علی کنت اذا اسئلت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اعطانی و اذا سکت ابتدأنی

ترجمہ علی (المرتضیٰص) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں جس وقت میں رسول کریم3سے کوئی چیز مانگتا تھا تو مجھے عطا فرماتے تھے اور جب میں خاموش رہتا تو مجھے بن مانگے عطا فرماتے۔

حد یث نمبر
۱۲۰؍۷ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا محمد۲؂ بن المثنی قال حدثنا ابو معوےۃ۳؂ قال حدثنی الاعمش۴؂ عن عمرو۵؂ بن مرۃ عن ابی البختری۶؂ عن
علی
۷؂ قال کنت اذا سئلت اعطیت و اذا سکت ابتدیت

ترجمہ (جناب) علی (المرتضیٰص) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب میں کچھ مانگتا تھا تو مرحمت فرماتے تھے اور جب میں خاموش رہتا تو مجھے بن مانگے مرحمت فرماتے۔

تشریح ارشاد ہے ’’ جب میں کچھ مانگتا تھا تو مرحمت فرماتے تھے‘‘ یعنی جس وقت بھی میں جو کچھ حضور3سے طلب کرتا تو آنحضرت3مرحمت فرماتے۔

حد یث نمبر
۱۲۱؍۸ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا یوسف۲؂ بن سعید قال حدثنا حجاج۳؂ عن ابن جریج۴؂ قال حدثنا ابوحرب۵؂ عن ابی الاسود۶؂ و رجل اخر 
عن زاذان قال قال علی کنت و اﷲ اذا سئلت اعطیت و اذا سکت ابتدیت

بقیہ حاشیہ : میں ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا صدوق ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ 3 سے اس کی سماعت ثابت نہیں ہے۔ (تہذیب التہذیب،جلد
۵ ،صفحہ ۳۴۰)۔ بحوالہ احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمؤمنین علیص بن ابی طالب ، صفحہ ۱۳۳
۶؂: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر ۱:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۰
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: محمد بن المثنی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۱
۳؂: ابومعاویہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۴:۲
۴؂: الاعمش:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۲:۴
۵؂: عمرو بن مرۃ:عمرو بن مرۃ بن عبداﷲ بن طارق الجمل المرادی ابوعبداﷲ الکوفی الاعمیٰ ۔ثقہ ہے، عابد ہے، کان لا یدلس ورمی بالارجاء طبقہ الخامسہ سے ہے۔ ۱۱۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۶۲)
۶؂: ابی البختری:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۲:۶ (اسماء الرجال حدیث نمبر ۱۲۱ اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے)

ترجمہ زاذان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ (جناب) علی (المرتضیٰ ص) نے ارشاد فرمایا مجھے خداوند تعالیٰ کی قسم! جب میں (حضور3) سے مانگتا تو آپ3عنایت فرماتے اور جب میں خاموش رہتا تو بن مانگے عطاہوتا۔
قال ابو عبد الرحمن ابن جریج لم یسمع من ابی حرب

تشریح ’’ اس اثر کے اسناد صحیح ہیں، اس کے رجال ثقات ہیں۔ ابن جریج کا سماع ابی حرب سے واضح ہے لہٰذا اس پر تدلیس کی تہمت ہے، وہ رفع ہو گئی۔ حافظ نے نسائی کی روایت سے التہذیب، ج
۱۲ صفحہ ۷۰ پر جو یہ نقل کیا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ ابن جریج نے ابی حرب سے سماع کیا ہے تو یہ قول حافظ3 کا تشدد پر مبنی ہے حالانکہ ابن جریج امام ہے ،ثقہ ہے۔ سوائے تدلیس کے اس میں کوئی عیب نہیں بتایا گیا اور جب تدلیس سماع کے ساتھ واضح ہوجائے تو پھر قبول کی جاتی ہے۔ اور تحقیق میرے سامنے جو خصائص کے تین نسخے ہیں ان میں ابی حرب سے سماع واضح ہے اور اسی طرح ’’زوائد فضائل الصحابہ ‘‘ نے القطیعی نے روایت نقل کی ہے پس کسی بھی تردد کی گنجائش نہیں ہے کہ ابی حرب سے سماع ثابت نہ ہو‘‘ 
(احمد میرین البلوشی، خصائص امیر المومنین صفحہ
۱۳۴)

بقیہ حواشی: اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۱
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂:یوسف بن سعید:یوسف بن سعید بن المسلم المصیصی ثقہ ، حافظ اور طبقہ الحادیہ عشرۃ سے ہے، ۲۷۱ھ یا اس سے قبل فوت ہوا (التقریب ،صفحہ ۳۸۸)
۳؂: حجاج:حجاج بن محمد المصیصی الاعور کی کنیت ابو محمد ہے ترمذ کا باشندہ تھا۔ بغداد میں آیا پھر المصیصہ میں سکونت اختیار کی۔ ثقہ اور ثبت ہے لکنہ اختلط فی اخر عمرہ لما قدم بغداد قبل موتہ طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۲۰۶ ؁ہجری میں بغداد میں وفات پائی۔ (التقریب ، صفحہ۶۵)
۴؂: ابن جریج:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۷:۳
۵؂: ابوحرب:ابوحرب بن ابی الاسود الایلی البصری ثقہ ہے۔ اس کا نام محجن یا عطا بتایا جاتا ہے۔ طبقہ الثالثۃ سے ہے۔ ۱۰۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۴۰۱)ابن حبان نے کہا یہ ثقہ ہے ،عبدالبر نے بھی اسے ثقہ کہا ہے اور مسلم نے اس سے روایت کی ہے۔ (ابو اسحا ق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام علی ص،صفحہ ۹۸)
۶؂: ابی الاسود:یہ ظالم بن عمرو بن سفیان ہے اور عمرو بن ظالم بھی کہا گیا ہے۔ اس کی کنیت ابو الاسود الدیلی ہے اور ابوالاسود الدولی بھی بتائی جاتی ہے، البصری ہے ثقہ ، فاضل اور مخضرم ہے۔ ۶۹ ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۹۳)
۷؂: زاذان:یہ ابو عمر الکندی البزار ہے اور اس کی کنیت اباعبداﷲ بھی ہے۔ صدوق ہے اور یرسل ہے اس میں شیعیت پائی جاتی ہے۔ طبقہ الثانیہ سے ہے۔ ۸۲ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۰۵)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خص بہ امیر المؤمنین رضی اﷲ عنہ من صعودہ علی منکبی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و نہوض
النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
’’ اس باب میں (جناب) امیر المومنین علی (المرتضیٰ3) کی اس فضیلت کا بیان ہے کہ آپ (ص) آنحضور3کے کندھوں پر چڑھے اور حضرت نبی 
کریم3ان کو اٹھا کر کھڑے ہوئے ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حل لغت خص: خاص کرنا ، فضیلت دینا۔

حد یث نمبر
۱۲۲؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا احمد۲؂ بن حرب قال حدثنا اسباط۳؂ عن نعیم۴؂ بن حکیم المدائنی قال حدثنا ابو مریم۵؂ قال قال علی انطلقت 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۲
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: احمد بن حرب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۱ ۳؂: اسباط:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۴:۴
۴؂: نعیم بن حکیم:نعیم بن حکیم المدائنی صدوق ہے۔ لہ اوھام طبقہ السادسہ سے ہے ۱۴۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۳۵۹)ابن معین نے کہا ثقہ ہے اور اسی سے ایک روایت میں آیا ہے کہ ضعیف ہے۔ نسائی نے کہا ’’لیس بالقوی ‘‘ اور ازدی سے روایت ہے’’ احادیثہ منا کیر واطلق الذھبی القول بتوثیقہ‘‘ (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المؤمنین علی ص بن ابی طالب، صفحہ ۱۳۵)
۵؂: ابومریم:س کا نام قیس ثقفی المدائنی ہے۔ یہ مجہول ہے اور طبقہ الثانیہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ۴۲۶)
مع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم حتی اتینا الکعبۃ فصعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم علی منکبی فنھضت بہ فلما رای رسول اﷲ ضعفی قال لی اجلس فجلست فنزل نبی اﷲ وجلس لی و قال اصعد علی منکبی فصعدت علی منکبیہ۔ فنھض بی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و قال علیں لیخیل الی انی لوشئت لنلت افق السمآء فصعدت علی الکعبۃ و علیھا تمثال من صفرا و نحاس فجلعت اعالجہ لازیلہ ، بیمین و شمال و قدام او من بین یدیہ و من خلفہ حتی اذا استمکنت منہ قال نبی اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اقذفہ ، فقذفت بہ فتکسر کما تنکسر القواریر ثم نزلت فا نطلقت انا و رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نستبق
حتی توارینا بالبیوت خشےۃ ان نلقی احدا من الناس واﷲ تعالی اعلم

ترجمہ ابو مریم نے کہا کہ حضرت علی ص نے فرمایا میں رسول اﷲ3کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم کعبہ پہنچ گئے۔ پس رسول اﷲ3میرے کندھوں پر چڑھے پس میں انہیں(3) اٹھا کر کھڑا ہوا سو جب حضرت رسول اﷲ 3نے مجھے کمزور پایا تو مجھے ارشاد فرمایا،بیٹھ۔ پس میں بیٹھ گیا، تو نبی کریم3اترے اور میرے لئے بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا کہ میرے کندھوں پر سوار ہو جا۔ پس میں آپ3کے کندھوں پر چڑھا پھر اﷲ کے رسول3مجھے اٹھا کر کھڑے ہوئے۔ اور جناب علی المرتضیٰ3 نے فرمایا البتہ مجھ کو معلوم ہوتا تھا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کنارے تک پہنچ جاؤں۔ پس میں کعبہ پر چڑھا اس میں پیتل یا تانبے کی تصاویر تھیں پس میں ان کو اٹھانے لگا تاکہ میں ان کو دائیں ، بائیں ، آگے یا سامنے اور پیچھے سے ہٹادوں۔ یہاں تک کہ جب میں نے ان سب پر قابو پا لیا۔ تو اﷲ کے نبی3نے مجھے فرمایا ان کو پھینک دے۔ پس میں نے انہیں پھینک دیا پس اس طرح ٹوٹ گئے جس طرح کہ شیشے ٹوٹ جاتے ہیں۔ پھر میں اترا، پھر میں اور رسول کریم3وہاں سے جلد ی جلدی چلے یہاں تک کہ گھروں میں پہنچ گئے۔ یہ فکر کرتے ہوئے کہ مبادا کوئی ایک شخص ہمیں مل نہ جائے اور اﷲ بہتر جانتا ہے۔

حل لغت صعد، یا صعود : چڑھنا، نھض یا نھوض: کھڑا ہونا ، سیدھا ہونا ، اٹھنا ، جلدی کرنا وغیرہ۔ تمثال: تصاویر۔ صفر: پیتل۔ نحاس: تانبا، آگ ، وہ دھواں جس میں شعلہ نہ ہو،طبیعت۔ قذف: قے کرنا پھینک مارنا ،تہمت لگانا ، وغیرہ وغیرہ۔ کسر: توڑنا۔ قواریر: شیشہ۔

تشریح ارشا دہے’’ پس رسول کریم3میرے کندھوں پر چڑھے‘‘ یعنی کعبہ کے اندر داخل ہو کر حضرت رسول کریم3جناب سیدنا علی3 کے کندھوں پر سوار ہوئے۔ ارشاد ہے’’ پس میں انہیں (3)اٹھا کر کھڑا ہوا‘‘ یعنی جناب علی المرتضیٰصنے حضور اکرم3کو کندھوں پر اٹھا لیا۔ ارشا دہے’’ تو نبی کریم3اترے ‘‘ یعنی میرے کندھوں پر سے اترے۔ ارشاد ہے ’’ اور میرے لئے بیٹھے ‘‘ یعنی اپنے کندھوں مبارکہ پر مجھے اٹھانے کیلئے بیٹھ گئے۔ ارشاد ہے’’ اس میں پیتل یا تانبے کی تصاویر تھیں‘‘ یعنی کعبہ میں دیواروں پر پیتل یا تانبے کی بنے ہوئے بت لٹکے ہوئے تھے۔ ارشاد ہے’’ تاکہ میں ان کو دائیں ، بائیں آگے یا سامنے اور پیچھے سے ہٹادوں ‘‘ یعنی کعبہ کے اندر چاروں طرف سے ان بتوں یا تصویروں کو میں ہٹانے لگا۔ ارشاد ہے’’ پھر میں اترا ‘‘ یعنی پیغمبر اسلام3کے کندھوں سے نیچے اتر آیا۔ مولانا مولوی محمد ابو الحسن مترجم صحیح البخاری اس حدیث کی تشریح میں تحریر کرتے ہیں
’’ اس حدیث سے حضرت علی ص کی بڑی فضیلت ثابت ہوئی کہ ان کے سوا کسی کو حاصل نہیں کہ حضرت 3کے مونڈھوں پر چڑھے اور آسمان کے پاس پہنچ گئے‘‘۔(مناقب مرتضوی صفحہ
۶۹)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط

ذکر ماخص بہ دون الاولین و الاخرین من فاطمۃ بنت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و بضعۃ منہ و سیدۃ
نسآء اھل الجنۃ الا مریم بنت عمران

’’ اس باب میں اس بات کا ذکر ہے کہ جناب سیدنا علی المرتضیٰ3کوتمام پہلے اور پچھلے لوگوں میں جنابہ سیدہ فاطمۃ الزہرا بنت محمد رسول اﷲ3کیلئے خاص طور پر منتخب کیا گیا ہے اور جنابہ سیدہ طاہرہ رضی اﷲ عنہا رسول کریم3کے وجود پاک کا ایک ٹکڑا ہیں نیز سوائے مریم بنت عمران کے جنت کی 
تمام عورتوں کی سردار جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا ہیں‘‘

(اس باب میں چار احادیث شریف ہیں)

تشریح صاحب خصائص نے اگرچہ عنوان باب میں ’’ سوائے مریم بنت عمران‘‘ کاذکر کیا ہے۔ مگر اس باب کی تمام احادیث میں ان الفاظ کا کہیں بھی ذکر نہیں البتہ اس سے اگلے باب میں جس کا عنوان ہی یہ ہے کہ ’’سوائے مریم بنت عمران کے جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمہ بنت محمد رسول اﷲ 3 جنت میں تمام عورتوں کی سردار ہیں ‘‘ قائم کیا ہے۔ شاید یہاں کاتب کی زیادتی ہو۔ واﷲ اعلم

حد یث نمبر
۱۲۳؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا الحسین۲؂ بن حریث قال انبأنا الفضل۳؂ بن موسی عن الحسین۴؂ بن واقد عن عبد اﷲ۵؂ بن بریدۃ عن ابیہ۶؂ قال خطب ابوبکر و عمر فاطمۃ علیھا السلام فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ
وسلم انھا صغیرۃ فخطبھا علی علیہ السلام فزوجھا منہ 

ترجمہ بریدہ سے روایت ہے کہ (جناب) ابوبکر (صدیق ص) اور (جناب) عمر (فاروق ص) نے (جنابہ سیدہ طاہرہ) فاطمتہ الزہرا علیہا السلام کی نسبت کیلئے پیغام بھیجا۔ تو رسول کریم3نے (جواباً) ارشاد فرمایا کہ وہ چھوٹی ہیں۔ پھر (جناب) علی (المرتضیٰ) ں نے نسبت کیلئے پیغام بھیجا پس ان کا نکاح ان سے کردیا۔

حل لغت خطب: شادی کا پیغام بھیجنا ، تقریر کرنا، خطبہ سنانا۔

تشریح ارشاد ہے’’ تو رسو ل کریم 3نے ارشاد فرمایا کہ وہ چھوٹی ہیں‘‘ یعنی ان کی عمر چھوٹی ہے اور تم صاحبان کی عمر ان کے مقابلہ میں بہت بڑی ہے۔ مولانا مولوی محمد ابوالحسن صاحب مناقب مرتضوی صفحہ
۶۹ پر تحریر فرماتے ہیں ’’یعنی اور تمہاری عمر بڑی ہے پس یہ میل ٹھیک نہیں‘‘ارشاد ہے ’’ علی (المرتضیٰ)ں نے نسبت کیلئے پیغام بھیجا ‘‘ یعنی جناب سیدنا علی المرتضیٰصنے اپنے نکاح کیلئے پیغام بھیجا۔ ارشاد ہے’’ پس ان کا نکاح ان سے کر دیا گیا‘‘ یعنی حضور سرور عالم وعالمیان3نے جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا کا نکاح جناب سیدنا علی المرتضیٰ ص سے کردیا۔ 
اسنادہ صحیح، رجال ثقاۃ، جیسے کہ پہلے حدیث میں گذر چکا ہے۔ عبداﷲ بن بریدہ نے اپنے والد سے سماع کیا ہے۔ (البلوشی صفحہ
۱۳۷)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۳
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: الحسین بن حریث:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۰:۱
۳؂: الفضل بن موسیٰ :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۰:۲
۴؂: الحسین بن واقد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۰:۳
۵؂: عبد اﷲ بن بریدہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴:۴
۶؂: ابیہ(بریدہ بن الحصیب):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴:۵

حد یث نمبر
۱۲۴؍۲ انبأنا ابو مسعود۱؂ اسمعیل بن مسعود قال حدثنا حاتم۲؂ بن وردان قال حدثنا ایوب۳؂ السخستیانی عن ابی بریدہ۴؂ (ابی یزید المدنی ) عن اسماء۵؂ بنت عمیس قالت کنت فی زفاف فاطمۃ بنت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فلما اصبحنا جآء رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فضرب الباب ففتحت لہ ام ایمن یقال کان فی لسانھا لثغۃ فقال ادعی اخی قالت ھو اخوک و تنکحہ قال نعم یا ام ایمن وسمعن النسآء صوت النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فتحبین قال اخبا فاختبأت انافی ناحےۃ قالت فجآء علیں فدعالہ النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و نضح علیہ بالمآء ثم قال ادعولی فاطمۃ فجآء ت علیھا السلام و علیھا خرقۃ من الحےآء فقال لھا قد انکحتک احب اھل بیتی الی و دعا لھا و نضح علیھا من المآء فخرج رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فرای سوادا فقال من ھذا قالت قلت اسمآء قال بنت عمیس قلت نعم قال کنت فی زفاف فاطمۃ بنت رسول اﷲ 
صلی اﷲعلیہ والہ وسلم تکر مینھا قلت نعم قالت فدعالی
ترجمہ اسماء بن عمیس سے روایت ہے کہ میں فاطمہ بنت رسول3کے نکاح میں موجود تھی تو حضور3صبح کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے۔ پس جناب رسول کریم3نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ام ایمن نے ان کیلئے دروازہ کھولا کہا جاتا ہے کہ ان کی زبان میں ہکلاپن تھا۔ تو رسول کریم3نے ارشاد فرمایا کہ میرے بھائی کو بلا۔ 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۴
۱ؔ ؂: ابو مسعود اسماعیل بن مسعود:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۴:۲
۲؂: حاتم بن وردان:حاتم بن وردان بن مروان السعدی کی کنیت ابو صالح البصری ہے۔ ثقہ ہے اور طبقہ الثامنہ سے ہے۔ ۱۸۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۵۹)
۳؂: ایوب السختیانی: ایوب بن ابی تمیمہ کیسان السختیانی کی کنیت ابو بکر البصری ہے۔ ثقہ ، ثبت ، حجت اور پانچ اکابر فقہا العباد میں سے ایک ہے۔ طبقہ الخامسہ سے ہے۔ ۱۳۱ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۴۱)
۴؂: ابویزید المدنی: ابویزید المدنی مقبول اور طبقہ الرابعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۴۳۳)ابن معین نے کہا ثقہ ہے اور الذہبی نے بھی اسے ثقہ کہا ہے اور ابو حاتم نے کہا شیخ ، یکتب حدیثہ ، اخرج لہ البخاری (تہذیب التہذیب،جلد۱۲، صفحہ۲۸۰)
۵؂: اسماء بن عمیس: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۳:۶
انہوں نے عرض کیا کہ وہ آپ کا بھائی ہے اور اس کے ساتھ آپ اپنی بیٹی کا نکاح کر رہے ہیں۔ فرمایا اے ام ایمن ہاں اور عورتوں نے نبی کریم3کی آواز سنی پس وہ چھپ گئیں۔ ارشادفرمایا تو بھی چھپ جا سو میں بھی ایک کونے میں چھپ گئی۔ پھر (حضرت ) علی ں آئے تو حضور نبی کریم3نے ان کیلئے دعافرمائی اور ان پر پانی چھڑکااور پھر فرمایا کہ (سیدہ)فاطمہ کو میرے پاس بلاؤ پس وہ (علیہا السلام)آئیں اور حیاء کی وجہ سے وہ کپڑا لئے ہوئے تھیں۔ تو اسے فرمایا کہ میں نے اہلِ بیت میں سے جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا تیرا نکاح اس کے ساتھ کردیا ہے اور ان کیلئے دعا کی اور ان پر بھی پانی چھڑکا۔ پس رسول کریم3باہر تشریف لائے پس ایک وجود دیکھا۔ تو ارشاد فرمایا یہ کون ہے؟ کہا کہ میں نے عرض کیا کہ اسماء ہے۔ فرمایا عمیس کی بیٹی۔ میں نے کہا ہاں۔ ارشاد فرمایا کہ کیاتو رسول اللہ3کی بیٹی فاطمہ (سلام اللہ علیہا)کے نکاح کی تقریب میں شامل ہوئی ہے تاکہ ان کی تعظیم کرے۔ میں نے عرض کیا کہ ہاں ۔جناب فرماتی ہیں کہ پس میرے لئے دعا فرمائی۔

حل لغت زفاف : ہدیہ بھیجنا ، دلہن کو شو ہر کے پاس بھیجنا ، نکاح کی رات۔ لثغۃ : ہکلاپن ، توتلا پن رک رک کر بولنا،جو ہم مخرج الفاظ کو صحیح تلفظ کے ساتھ ادا نہ کر سکے، اس کو لثغ کہتے ہیں۔ خبا: ڈھانپنا، چھپانا۔ اختباء: چھپا نا۔ سواد: وجود ، سیاہی۔ 

تشریح ارشاد ہے ’’ میں فاطمہ بنت رسول 3 کے نکاح میں موجود تھی ‘‘ یعنی حضور3نے جس رات جنابہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا کا نکاح کیا اس وقت میں وہاں تھی۔ ارشاد ہے ’’ تو رسول کریم3نے فرمایا کہ میرے بھائی کو بلا ‘‘ یعنی جناب سید نا علی المرتضیٰ3 کو اپنا بھائی فرمایا تو انہوں نے تعجب سے عرض کیا۔ ارشاد ہے ’’اہل بیت میں سے جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا تیرا نکاح اس کے ساتھ کردیا ہے ‘‘ یعنی اہل بیت میں سے بھی جناب علی المرتضیٰ3 کے ساتھ آپ3کی محبت بہت زیادہ تھی۔ ارشاد ہے ’’ پس ایک وجوددیکھا‘‘ یعنی رسول کریم3نے ایک وجود دیکھا۔ ارشاد ہے ’’ فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کے نکاح کی تقریب میں شامل ہوئی ہے تاکہ ان کی تعظیم کرے‘‘ یعنی سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا سلام اﷲ علیہا کے اکرام کیلئے تو آئی ہے۔ ارشاد ہے’’ پس میر ے لئے دعافرمائی ‘‘ یعنی سرورِ عالم وعالمیان حضرت محمد مصطفی3اسماء بنت عمیس کے اس تقریب میں شمولیت کرنے اور اہل بیت کے اکرام و تعظیم کرنے پر بہت خوش ہوئے اور دعا سے سرفراز فرمایا۔
قال عبد الرحمن (ابو عبدالرحمن ) خالفہ سعید 
بن ابی عروۃ فرواہ عن ایوب عن عکرمۃ عن بن عباس

حد یث نمبر
۱۲۵؍۳ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی زکریا۲؂ بن یحیے قال حدثنا محمد۳؂ بن صدران قال حدثنا سھیل۴؂ بن خلاد العبدی قال حدثنا محمد۵؂ بن سوا عن سعید۶؂ بن ابی عروبۃ عن ابی ایوب۷؂ السخستیانی عن عکرمۃ۸؂ عن ابن عباس۹؂ قال لما زوج رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فاطمۃ من علی کان فیما اھدی سریر مشروط و وسادۃ من ادم حشوھا لیف و قربۃ فقال وجآء وا ببطحآء الرمل فبسطوہ فی البیت و قال لعلی اذا اتیتھا بھا فلا تقربھا حتی اتیک فجآء رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فدق الباب فخرجت الیہ ام ایمن فقال لھا ثم اخی قالت و کیف یکون اخوک و قد زوجتہ ابنتک قال فانہ ، اخی قال ثم اقبل علی الباب و رای سوادا فقال من ھذا؟ فقالت اسماء ابنت عمیس فاقبل علیھا فقال لھا جئت تکرمین ابنۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قالت نعم فدعا لھا خیرا ثم قال دخل رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال وکان الیھود ےأخذون الرجل من امرأتہ اذا دخل بھا قال فدعی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بتور من مآء فتفل فیہ وعوذ فیہ ثم دعا علیا فرش من ذالک المآء علی وجھہ و صدرہ و ذراعیہ ثم دعا فاطمۃ فاقبلت تعثر فی ثوبھا حےآء من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ففعل بھا مثل 
ذالک ثم قال لھا یا ابنتی و اﷲ ما اردت ان ازوجک الا خیر اھلی ثم قام فخرج

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۵
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۳؂: محمد بن صدران:محمد بن ابراہیم بن صدران الازدی السلمی کی کنیت ابو جعفر البصری ہے۔ یہ المؤذن ہے اور اس کی نسبت اپنے دادا یعنی صدران کی طرف کی جاتی ہے۔ صدوق ہے اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۳ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۸۸)
۴؂: سہیل بن خلادالعبدی:سہیل بن خلاد العبدی البصری مقبول اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۱۳۹)
۵؂: محمد بن سواء:محمد بن سواء السدوسی العنبری کی کنیت ابو الخطاب البصری ہے ۔یہ صدوق ہے اور رمی بالقدر ہے۔ طبقہ التاسعہ سے ہے ۱۸۷ ؁ ہجری یا ۱۸۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۰)ابن حبان اور ابن شاہین نے اسے ثقات میں ذکر کیاہے۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 


ترجمہ ابن عباس صسے روایت ہے کہ جب (سیدہ) فاطمہ (رضی اﷲ عنہا) کی شادی رسول کریم3نے (جناب) علی (المرتضیٰ ص) سے کی۔ جہیز میں آپ3نے ایک بُنی ہوئی چارپائی ، ایک چمڑے کی توشک جو کہ کھجور کی کھال سے بھری ہوئی تھی اور ایک مشکیزہ سیدہ طاہر ہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا کو دیا۔ پس ابن عباس صنے فرمایا ، میدان سے لوگ ریت لائے پس اسے گھر میں بچھا دیا اور (جناب) علی (ص) کو فرمایا جب تک میں نہ آجاؤں تو اس کے نزدیک نہ جانا۔ پس رسول کریم3تشریف لائے دروازہ کھٹکھٹایا تو اُمِ ایمن باہر آئیں تو ارشاد فرمایا میرا بھائی اس جگہ ہے؟ ام ایمن نے عرض کیا کہ وہ آپ کا بھائی کیسے بن سکتا ہے جبکہ آپ نے اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دیا ہے؟ حضور3نے فرمایا پس یقیناًوہ میرا بھائی ہے۔ ابن عباسص فرماتے ہیں کہ پھر رسول کریم3دروازے کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک وجود دیکھا تو ارشاد فرمایا یہ کون ہے؟ تو اُمِ ایمن نے عرض کیا کہ اسماء بنت عمیس ہے۔ پس حضرت3ان کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا کیا تو خدا کے رسول3 کی بیٹی کی تعظیم کیلئے آئی ہے۔ اس نے عرض کیا کہ ہاں، تو آنحضرت3نے اس کیلئے دعا فرمائی پھر حضور3 گھر میں تشریف لائے۔ فرمایا کہ یہود عورتوں کے قریب جانے سے منع کرتے تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اﷲ 3 نے پانی کا پیالہ منگوایا۔ پھر آپ3نے اس میں لعاب مبارک ڈالی اور اس پر اعوذ پڑھاپھر (جناب) علی المرتضیٰ3 کو بلایا۔ پس ان کے چہرہ پر ، ان کے سینہ پر اور ان کے بازؤوں پر اس پانی کو چھڑکا۔ پھر (جنابہ ) سیدہ فاطمتہ الزہرا (رضی اﷲ عنہا) کو بلایا پس وہ آئیں در آنحا لیکہ حضور3سے حیاء کرتیں، اپنی چادر میں گرتی پڑتیں تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ پھر اسے ارشاد فرمایا اے میری پیاری بیٹی ! اﷲ تعالیٰ کی قسم! میں نے اپنی اہل بیت سے جو بہت بہتر تھا اس کے ساتھ تیری شادی کی۔ پھرُ اٹھے اور گھر سے تشریف لے گئے۔

حل لغت اھدی: جہیز۔ سریر: چارپائی۔ مشروط: بُنی ہوئی۔ وسادۃ: تو شک، گدیلا۔ ادم: چمڑہ۔ حشو: بھرنا۔ لیف: کھجور کے درخت کی کھال۔ قربۃ: مشکیزہ۔ الرمل: ریت۔ تور: چھوٹا پیالہ یا پیتل ، یا پتھر کا لوٹاجس سے پانی پیتے ہیں۔ تفل: تھو تھوکرنا ، جس میں کچھ تھوک بھی نکلے۔ رش: چھڑکا۔ تعثر: گررہی تھی۔ 

بقیہ حاشیہ : ۔ الذہبی نے کہا احد الثقاۃ المعروفین اخرجہ لہ الشیخان (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمومنین علی ابن ابی طالب، صفحہ
۱۳۹ )
۶؂: سعید بن ابی عروتہ:سعید بن ابی عروتہ مہران الیسکری ثقہ، حافظ اور کثیر التصانیف ہے مگر اس میں تدلیس بہت پائی جاتی ہے واختلط طبقہ السادستہ سے ہے۔ ۱۵۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۱۲۴)
۷؂: ایوب سختیانی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۴:۲
۸؂: عکرمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۴:۶ ۹؂: ابن عباسص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۴:۷
عثریا عثبیر یاعثار : پھسل جانا ، گر پڑنا،ٹھوکر کھا کے گرنا ، ہلاک ہونا۔

تشریح ارشاد ہے’’ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا کو دیا‘‘ یعنی حسبِ توفیق لڑکی کو جہیز دینا سنت رسول کریم3ہے۔ اس سے سنت رسول3کو نہ ماننے والا ہی انکار کرے گا۔ آج کل بعض لوگ جہیز دینے کی مخالفت کر رہے ہیں حالانکہ حضوراکرم3نے اپنی صاحبزادی کو بنفس نفیس حسبِ توفیق اور حسبِ ضرورت جہیز دیا۔ہاں خواہ مخواہ دکھاوے کیلئے اُدھار قرض لے کر اپنے آپ کو زیر بار اور تباہ نہ کرے بلکہ سنتِ نبوی3کی اتباع کرے۔ ارشاد ہے ’’ پس یقیناًوہ میرا بھائی ہے‘‘یعنی یہ فقرہ قابلِ توجہ ہے کہ ’’ یقیناًوہ میرا بھائی ہے ‘‘ اس سے کتنی محبت کا اظہار ہو رہا ہے ، کتنے پیار کی بارش ہو رہی ہے، کتنا زیادہ اعتماد اور بھروسہ کا ثبوت مل رہا ہے۔ ارشاد ہے ’’آنحضرت3نے اس کیلئے دعا فرمائی ‘‘ یعنی حضور3اسماء بنت عمیس کے اس تقریب سعید کے موقع پر آنے سے بہت خوش ہوئے۔ ثابت ہوا کہ نکاح کی تقریب میں شمولیت باعثِ برکت ہے۔ ارشاد ہے ’’ یہود عورتوں کے قریب جانے سے منع کرتے تھے‘‘ یعنی یہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے فرمایا۔ ارشاد ہے ’’ پھر آپ3نے اس میں لعاب مبارک ڈالی اور اعوذ پڑھا‘‘ یعنی اس پانی کے پیالہ میں حضور نبی کریم3نے اپنی تھوک مبارک ڈالی اور اعوذ پڑھ کر دم کیا۔ ارشاد ہے ’’تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا‘‘ یعنی وہ پانی جس طرح جناب علی المرتضیٰ3 کے اعضاء پر چھڑکا اسی طرح جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے اعضاء پر بھی چھڑکا۔ مولانا مولوی محمد ابو الحسن صاحب شارح خصائص نسائی صفحہ
۷۲ پر تحریر فرماتے ہیں
’’ اس حدیث شریف سے حضرت علی ص کی بڑی فضلیت ثابت ہوئی کہ حضرت3نے اپنی بیٹی اس کو نکاح کر دی اور اس کو سب اہلِ بیت میں سے بہتر فرمایا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی بیٹی کو جہیز دینا سنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح کے وقت دلہن کی تعظیم کیلئے عورتوں کا جمع ہونا درست ہے‘‘۔

حد یث نمبر
۱۲۶؍۴ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی عمران۲؂ بن بکار ابن راشد قال حدثنا احمد۳؂ بن خالد قال حدثنا محمد۴؂ عن عبد اﷲ۵؂ بن ابی نجیح عن ابیہ۶؂ ان معوےۃ ذکر علی ابن ابی طالب فقال سعد بن ابی وقاص و اﷲ لان یکون (لی احدی من) خصالہ الثلث احب الی من ان یکون لی ماطلعت علیہ الشمس لان 
(اسماء الرجال اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے)
یکون لی ما قالہ (فی غزوہ تبوک اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی احب الی من ان یکون لی ماطلعت علیہ الشمس لان یکون لی ما قالہ یوم خیبر لا عطین الرأےۃ رجلا یحب اﷲ و رسولہ ، یفتح اﷲ علی یدیہ کرار لیس بفرار احب الی من ان یکون لی ما طلعت علیہ الشمس لان اکون صھرہ علی ابنۃ
ولی من الولد منھا مالہ احب الی من ان یکون لی ما طلعت علیہ الشمس

ترجمہ ابن نجیح سے روایت ہے کہ معاویہ نے علی3 کا ذکر کیا تو سعد بن ابی وقاص نے کہا اﷲ کی قسم! مجھے اس (علی المرتضیٰ3 ) کی تین خصلتوں میں سے ایک خصلت کا حصول دنیا کی ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے جس پر سورج چڑھتا ہے۔ یہ کہ ہو میرے لئے وہ بات جو حضور3نے اس کیلئے ارشاد فرمائی ہے۔(غزوہ تبوک میں ) کہ جو مرتبہ (جناب) موسیٰ (ں)کے نزدیک (جناب) ہارون(ں) کا تھا وہ تیرا میرے نزدیک ہو ،کیاتو اس پر راضی نہیں مگر ہاں ایک بات یاد رکھ کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے مجھے اس سے یہ خصلت زیادہ پسند ہے۔ البتہ میرے لئے ہو وہ جو آنحضرت3نے فرمائی کہ میں ضرور بالضرور یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جو خدا اور اس کے رسول3کو دوست رکھتا ہے،اﷲ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۶
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: عمران بن بکار:عمران بن بکار بن راشد الکلاعی البراد الحمصی مؤذن ، ثقہ اور طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے۔ ۲۷۱ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ۲۶۴)
۳؂: احمد بن خالد: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۲
۴؂: محمد (بن اسحاق):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۴:۴
۵؂: عبد اﷲ بن ابی نجیح:عبداﷲ بن ابی نجیح یسار المکی کی کنیت ، ابویسار الثقفی ہے۔ یہ ثقہ اور رمی بالقدر ہے ربما دلسطبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۳۱ ؁ہجری میں وفات پائی (التقریب،ص۱۹۱)روی عن ابیہ عطاء ومجاہد و جماعۃ وعنہ شعبۃ ابواسحاق ، محمد بن مسلم ، سفیانان، ورقہ ، ابراہیم بن نافع وغیرھم۔ احمد نے کہاکہ ابن ابی نجیح ثقہ ہے اور اس کا باپ اﷲ کے نیک بندوں میں سے ہے۔ابن معین ، ابوزرعۃ اور نسائی نے کہا ثقہ ہے ، احمد بن حنبل سے روایت ہے کہ ابن نجیح کے سب اصحاب قدریہ تھے۔ العجلی المکی نے کہا ثقہ ہے کہا جاتا ہے کان یرمی القدر افسدہ عمرو بن عبید۔ ۱۳۱ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۶ صفحہ۵۴)
۶؂: ابیہ: اس کا نام یسا رمکی ہے۔ یہ عبداﷲ بن نجیح کا باپ ہے۔ اس کی کنیت ابی نجیح ہے اور یہ اپنی کنیت سے مشہور ہے۔ ثقہ ہے طبقہ الثالثۃ سے ہے۔ ۱۰۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۳۸۶)

بار بار حملہ کرنے والا ہے ، بھاگنے والا نہیں۔ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے مجھے اس سے یہ خصلت پسند ہے البتہ کہ میں داماد ہوں حضور3کا آپ3کی دخترمبارکہ پر اور اس سے میرے لئے اولاد ہو جیسا کہ (جناب) علی(المرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم) کیلئے ہے ۔دنیا اور جو کچھ اس میں ہے مجھے یہ خصلت محبوب تر ہے۔

تشریح ارشاد ہے’’ معاویہ نے علی3 کا ذکر کیا ‘‘ مولانا مولوی محمد ابو الحسن صاحب اپنی شرح صفحہ
۷۲ پر تحریر فرماتے ہیں ’’ یعنی اس کو بر اکہا‘‘ ارشاد ہے’’ کہ مجھ پر سورج چڑھے‘‘ یعنی جناب امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰص میں جو تین خصلتیں ہیں اگر ان میں سے مجھے ایک خصلت بھی حاصل ہوجائے تو میں اس ایک خصلت کے حاصل کرنے پر دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے سب کچھ دے کر وہ ایک خصلت حاصل کرنا نہایت ہی پسند کروں گا۔ ارشاد ہے ’’ جو مرتبہ جناب موسیٰ ں کے نزدیک جناب ہارون ں کا تھا وہ تیر ا میرے نزدیک ہو، کیا تو اس پر راضی نہیں‘‘ یعنی یہ بات حضور3نے علی المرتضیٰصکے حق میں غزوۂ تبوک کے مو قع پر فرما کر انتہائے شرف سے نوازا تو سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ میں تمام کائنات کی بجائے اس ایک شرف سے نوازا جانا زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ارشاد ہے ’’ میں کل ضرور بالضرور یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جوخدا اور اسکے رسول 3کو دوست رکھتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا ،باربار حملہ کرنے والا ہے ،بھاگنے والا نہیں۔ دنیا اور زمین میں جو کچھ ہے مجھے اس سے یہ خصلت پسند ہے‘‘ یعنی آنحضرت 3نے فتح خیبر کے وقت جناب سیدنا علی المرتضیٰ 3 کو ان تین اعزازات سے سرفراز فرمایا جو کسی دوسرے صحابیکو حاصل نہیں۔ جناب سعد بن ابی وقاص ص فرماتے ہیں کہ تمام کائنات میں جو کچھ بھی ہے مجھے اس سے زیادہ حضور نبی کریم3 کی طرف سے ان اعزازات سے نوازاجانا پسند ہے۔ ارشاد ہے ’’ البتہ کہ میں داماد ہوں حضور3کا آپ3کی دختر مبارکہ پر اور اس سے میرے لئے اولادہو جیسا کہ جناب علی المرتضیٰ3 کیلئے ہے‘‘ یعنی یہ بات ناممکن ہے کہ ایساہو لہٰذا یہ فضیلت اور عزت افزائی سوائے جناب سیدنا علی المرتضیٰصکے کسی اور کو حاصل نہیں۔ تو ثابت ہو گیا کہ اس مرتبہ عالی کے مالک کو اورجو قربِ خاص اس بزرگِ خاص و مقربِ رسول3کو حاصل ہے کے باوجود ان کو کسی بھی وجہ سے برا کہنا اچھا نہیں۔ اسی لئے جناب سعد بن ابی وقاص نے امیر شام جناب معاویہ بن ابی سفیان کو امیر المومنین سیدنا علی ابن ابی طالب3کی وہ شرافتیں ، عزتیں اور عظمتیں یاد دلائیں جو کہ انہیں حضرت سرور کون ومکان ، امام الانبیاء، سید المرسلین حضرت محمد مصطفی3کی جناب پاک سے عطا ہوئیں تھیں اور ذکر فرمایا وہ بھی صرف تین مبارک خصلتوں کا ورنہ آپصکی مبارک زندگی کا ایک ایک لمحہ جناب پیغمبر اسلام 3کی زندگی مبارک کا مظہر اتم ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر الاخبار المأثورۃ بان فاطمۃ بنت محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سیدۃ
نسآء اھل الجنۃ الامریم بنت عمران
’’ اس باب میں ان احادیث کا ذکر ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ سوائے
مریم بنت عمران کے فاطمہ بنت محمد3جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں ‘‘
(اس باب میں چھ احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۲۷؍۱ انبأنا محمد۱؂ بن بشار قال حدثنا عبد الوھاب۲؂ قال حدثنا محمد۳؂ بن عمرو عن ابی سلمۃ۴؂ عن عائشۃ رضی اﷲ عنھا قالت مرض رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فجآء ت فاطمۃ فاکبت علی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فسارھا فبکت ثم اکبت علیہ فسارھا فضحکت فلما توفی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سألتھا فقالت لما اکببت علیہ اولا اخبرنی انہ سیموت من وجعہ فبکیت ثم اکببت علیہ اخری فاخبرنی انی اسرع بہ لحوقا و انی سیدۃ نسآء اھل
الجنۃ الا مریم بنت عمران فرفعت رأسی فضحکت

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۷
۱؂: محمد بن بشار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۱
۲؂: عبدالوہاب:عبدالوہاب بن عبدالمجید بن ا لصلت الثقفی کی کنیت ابو محمد البصری ہے۔ ثقہ ہے،طبقہ الثامنہ سے ہے۔ تغیر قبل موتہ بثلث سنین ۱۹۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۲۲)
۳؂: محمد بن عمرو: محمد بن عمرو بن حزم الانصاری کی کنیت ابوعبدالملک المدنی ہے۔ اس کا حضور3کو دیکھناثابت ہے۔ (حاشیہ جاری ہے ) 

ترجمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول کریم3 بیمار ہوئے تو (سیدہ طاہرہ) فاطمہ (الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) آئیں، حضور 3 پر سرنگوں ہو گئیں۔ پس رسول کریم3نے ان کے ساتھ کچھ سرگوشی فرمائی پس (سیدہ طاہرہ فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) روئیں۔ پھر آپ(رضی اﷲ عنہا) جھکیں پھرحضرت3نے ان سے کچھ سرگوشی فرمائی تو جنابہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہنس پڑیں۔ پس جب آنحضرت3کا وصال شریف ہوا تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب میں پہلی مرتبہ ان سے لپٹی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ عنقریب میں اس بیماری سے وصا ل پا جاؤں گا تو میں روئی۔ پھر دوبارہ جب میں ان پر جھکی تو مجھے حضور3نے بتا یاکہ تو ہی مجھ کو اوّل ملے گی اور یہ کہ تو جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہے سوائے مریم بنت عمران کے تو میں نے اپنا سر اٹھا یا پس میں ہنسی۔

حل لغت اکب علیہ: کسی کو بچانے کیلئے اس پر چھا جانا، کب : جھک جانا، سرنگوں ہونا۔ تسار: باہم سرگوشی کرنا، ایک دوسرے کے بھید پر مطلع ہونا۔ 

تشریح ارشاد ہے’’ حضور3 پر سرنگوں ہوگئیں‘‘ یعنی سرورِ عالم وعالمیان3لیٹے ہوئے تھے اور آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرطِ محبت سے آپ3سے جھک کر لپٹ گئیں۔ ارشاد ہے’’ پس رسول کریم3نے انکے ساتھ سرگوشی کی ‘‘ یعنی سیدۃ النساء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے کان میں کچھ بات کہی۔ ارشا دہے ’’پس سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا

بقیہ حاشیہ: لیکن سماع صحابہ کرام سے ہے آپ3سے نہیں۔
۶۳ ؁ہجری میں یوم الحرہ کے دن قتل ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۳)
۴؂: ابی سلمۃ:اس کا نام عبداﷲ بن عبد الرحمن بن عوف الزہری المدنی ہے اور ابو سلمہ کنیت ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام اسماعیل بن عبد الرحمن ہے یہ ثقہ ، مکثر اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۹۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۴۰۹)
۵؂: عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا:جناب سیدنا ابوبکر صدیق ص کی صاحبزادی ہے۔ التیمیہ ہے، ام المؤمنین ہے۔ ا م عبداﷲ کنیت ہے، الفقیہہ ہے ۔ام رومان بنت عامر بن عونمیر اس کی والدہ ماجدہ ہے۔ حضور 3سے کثرت سے روایت کرتی ہے۔ یہ اپنے باپ (ابوبکرصدیقص)عمرص ، حمزہ بن عمرو السلمی ، سعد بن ابی وقاصص، جدامتہ بنت وہب الاسدیہ اور سیدہ فاطمۃ الزہریٰ سلام اﷲ علیہا سے روایت کرتی ہے اور اس سے اس کی بہن ام کلثوم بنت ابوبکرص ، رضاعی بھائی عوف بن الحارث بن طفیل دونوں بھتیجے قاسم ،عبداﷲ ، بھتیجیاں حفصہ و اسما ء بنت عبد الرحمن ،اس کا بھائی کا پوتا عبداﷲ بن عتیق محمد بن عبدالرحمان ابوبکر وغیرہم روایت کرتے ہیں۔ عطاء ابن ابی رباح نے کہا’’کانت عائشہ افقہ الناس و اعلم الناس واحسن الناس رأی فی العامۃ‘‘ اور زہری نے کہا نبی کریم 3 کی تمام ازواج مطہرات کے علم کو اگر جمع کیا جائے تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علم کے برابر ہے اور اگر تمام عورتوں کے علم کو جمع کیا جائے تو البتہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا علم ان سے افضل ہے۔ رمضان شریف ۵۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۱۲، صفحہ ۴۳۳)
رضی اﷲ عنہا روئیں‘‘ یعنی اس بات کے سنتے ہی آپ رضی اﷲ عنہا پر گریہ طاری ہو گیا اور آپ خوب روئیں۔ ارشاد ہے ’’ پھر آپ جھکیں ‘‘ یعنی حضور3سے لپٹ گئیں۔ ارشاد ہے ’’ تو میں نے ان سے پوچھا ‘‘ یعنی ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ یہ کیا سرگوشی تھی۔ حضور نبی اکرم3کے ساتھ کیا گفتگو ہوئی تھی۔ ارشاد ہے’’ تو ہی مجھ کو اوّل ملے گی ‘‘ یعنی میرے اہلِ بیت میں سے تو ہی مجھ کو سب سے پہلے اور جلدی ملے گی گویا آپ کا وصال میرے بعد جلد ہوگا اور تو مجھ سے ملاقات کرے گی۔ اس حدیث سے حضور3کا علمِ غیب ثابت ہو رہا ہے کہ نبی کریم3کو اپنے وصال شریف کا علم ہے اور نیز یہ بھی علم ہے کہ سب سے پہلے اپنے خاندان میں سیدۃ النساء فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوگا اور جنت جو کہ غائب ہے اس میں سیدۃ النساء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سب عورتوں کی سردار ہو ں گی سوائے مریم بنت عمران کے۔ گویا تین غائب باتو ں کی اپنی اُمت کو خبر ارشاد فرمائی 
قیاس کن زِ گلستانِ من بہار مرا
اسنادہ‘ حسن( الحوینی صفحہ
۱۰۳) اسنادہ حسن و الحدیث صحیح( احمد میرین البلوشی، خصائص امیر المومنین صفحہ ۱۴۱)
حد یث نمبر
۱۲۸؍۲ اخبرنا ھلا ل۱؂ بن بشرقال حدثنا محمد۲؂ بن خالد قال اخبرنی موسی۳؂ بن یعقوب قال حدثنی ھاشم۴؂ بن ھاشم عن عبد اﷲ۵؂ بن وھب ان ام سلمۃ۶؂ رضی اﷲ تعالی عنھا اخبرتہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم دعی فاطمۃ فنا جاھا فبکت ثم جذبھا فضحکت فقالت ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا فلما توفی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سألتھا عن بکآءھا و ضحکھا فقالت اخبرنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ان یموت فبکیت ثم اخبرنی انی سیدۃ
نسآء اھل الجنۃ بعد مریم بنت عمران فضحکت
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۸
۱؂: ہلال بن بشر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۱۲؂: محمد بن خالد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۲
۳؂: موسیٰ بن یعقوب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۳۴؂: ہاشم بن ہاشم: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۸:۴ 
۵؂:عبد اﷲ بن وہب:عبد اﷲ بن وہب بن زمعہ بن الاسود بن المطلب الاسدی الاصغر ثقہ ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے (التقریب،صفحہ۱۹۳)
۶؂: ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا :آپ کا نام ہند بن ابی امیہ حذیفہ ہے، نبی کریم 3کی زوجہ ہے، بہت صحابہ سے روایت کرتی ہے اور بہت سے صحابہ کرام و تابعین ان سے روایت کرتے ہیں، ابن حبان نے کہا ۶۱ھ کے آخر میں حسین بن علی صکی شہادت کی خبر ملنے کے بعد وصال فرمایا (تہذیب التہذیب،جلد ۱۲ صفحہ ۴۵۵) ملخصاً
ترجمہ عبداﷲ بن وہب سے روایت ہے کہ ان کو اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ آنحضرت3نے (جنابہ) فاطمۃ (الزہرا رضی اﷲ عنہا ) کو بلا بھیجا پس سرگوشی کی اس سے ،سو وہ روئیں۔ پھر اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ ہنس پڑیں۔ پس ام المومنین اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جس وقت رسول اﷲ3نے وصال فرمایا تو میں نے ان سے رونے اور ہنسنے کے بارے میں پوچھا۔ پس انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اﷲ 3نے بتایا کہ وہ وصال فرما رہے ہیں تو میں روئی۔ پھر مجھے بتایا کہ جنت کی سب عورتوں کی میں سردار ہوں مریم بنت عمران کے سوا تو میں ہنس پڑی۔

حل لغت نجو اور نجوی: سرگوشی کرنا، کان میں بات کہنا۔ جذب: کھینچنا، گذرنا ، چوس لینا ، دودھ چھڑانا ، دودھ کم ہونا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ پس سرگوشی کی اس سے سو وہ روئیں‘‘ یعنی حضرت3نے جنابہ سیدہ فاطمہ علیہا السلام سے پوشیدہ کان میں بات فرمائی تو سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا رو پڑیں۔ ارشاد ہے’’ پھر اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ ہنس پڑیں‘‘ یعنی جناب رسول کریم3نے سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا کو اپنی طرف کھینچ کر خفیہ بات فرمائی تو سیدہ سلام اﷲ علیہا وہ بات سن کر ہنس پڑیں۔ ارشاد ہے’’ تو میں نے ان سے رونے اور ہنسنے کے بارے میں پوچھا ‘‘ یعنی اے سیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا آپ روئیں کیوں اورہنسیں کیوں؟ اس حدیث مبارک سے ثابت ہوا کہ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا دنیا کی تمام عورتوں سے افضل ہیں سوائے مریم بنت عمران کے۔ مگر دوسری احادیث میں مریم بنت عمران کا بھی استثناء نہیں ہے جیسے مولانا مولوی محمد ابو الحسن صاحب نے اپنی شرح میں لکھا ہے
’’ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ کو دنیا کی سب عورتوں پر فضیلت ہے سوائے مریم بنت عمران علیہا السلام کے۔ لیکن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں مریم علیہا السلام کا بھی استثناء نہیں۔ سوا حتمال ہے کہ آنحضرت 3 کو بتدریج اطلاع ہوئی ہے۔ اوپر فضیلت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ وحی کے تو آخر میں عموم فضل ان کا تمام عالم کی عورتوں پر ثابت ہوا‘‘(مناقب مرتضوی، صفحہ
۷۴)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث اس کتاب کی حدیث نمبر
۱۳۲ پر ملاحظہ فرمائیں

حد یث نمبر
۱۲۹؍۳ حدثنا اسحاق۱؂ بن ابراھیم قال انبأنا جریر۲؂ عن یزید۳؂ عن عبدالرحمان۴؂ بن ابی نعیم عن ابی سعید۵؂ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن و الحسین سید اشباب اھل الجنۃ و فاطمۃ سیدۃ نسآء اھل الجنۃ 
الاما کان من فضل مریم بنت عمران
ترجمہ ابی سعید سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم3نے فرمایا کہ (جناب) حسن (ں) اور (جناب) حسین (ں) دونوں جنت کے تمام نوجوانوں کے سردار ہیں اور (سیدہ) فاطمتہ(الزہرا رضی اﷲ عنہا) جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں سوائے مریم بنت عمران کے۔

حد یث نمبر
۱۳۰؍۴ انبأنا محمد۱؂ بن منصور الطوسی قال حدثنا الزبیری۲؂ محمد بن عبداﷲ قال اخبرنی ابو جعفر۳؂ و اسمہ محمد بن مروان قال حدثنا ابو حازم۴؂ عن ابی ھریرۃ۵؂ قال ابطا علینا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یوما صدر النھار فلما

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۹
۱؂: اسحاق بن ابراہیم: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۹:۱
۲؂: جریر: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر ۱۹:۲ 
۳؂: یزید: یزید ابی زیاد الہاشمی الکوفی ضعیف ہیکبر فتغیر صار یتلفن شیعہ تھا اور طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ ۱۳۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۸۲)
۴؂: عبد الرحمن بن ابی نعیم:اس کا نام عبد الرحمن بن ابی نعیم البجلی ہے اور ابوالحکم الکوفی کنیت ہے۔ عابد صدوق اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۰۰ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۱۱)
۵؂: ابی سعید:اس کا نام سعد بن مالک بن سنان بن عبید الانصاری اور ابو سعید الخدری کنیت ہے ۔یہ اور اس کا باپ دونوں حضور3کے صحابی تھے۔ احد کے وقت یہ چھوٹا تھا ،باقی تمام جہادوں میں شریک ہوا۔ کثیر الروایت ہے۔ مدینہ منورہ میں ۶۳یا ۶۵ ھ میں وفات پائی (التقریب، صفحہ ۱۱۹)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۰
۱؂: محمد بن منصور:محمد بن منصوربن داؤد الطوسی ہے۔ بغداد میں رہائش پزیر رہا۔ ابو جعفر اس کی کنیت ہے۔ عابد اور ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ کے صغار سے ہے۔ ۲۵۴ہجری میں وفات پا ئی۔(التقریب،صفحہ ۳۲۰)
۲؂: محمد بن عبد اﷲ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۴:۲
۳؂: ابوجعفر:اس کا نام محمد بن مروان الذہلی ہے اور ابو جعفر کنیت ہے ، کوفی ہے، مقبول ہے طبقہ السابعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ۳۱۸)
۴؂: ابوحازم:اس کا نام سلیمان الاشجعی اور ابوحازم کوفی کنیت ہے، ثقہ ہے، طبقہ الثالثہ سے ہے، ۱۰۰ ھ کے اوائل میں وفات پائی۔ (التقریب ص ۱۳۰)
۵؂: ابوہریرہص: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۷:۵


کان العشآء قال لہ قائلنا یارسول اﷲ قد شق علینا قال ان ملکا من السمآء لم یکن رانی فاستأذن اﷲ تبارک و تعالی فی زیارتی فاخبرنی و بشرنی ان فاطمۃ ابنتی سیدۃ
نسآء امتی و ان حسنا و حسینا سیدا شباب اھل الجنۃ

ترجمہ ابی ہریرہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول کریم3نے ایک دن صبح کو تشریف لانے میں دیر فرمائی۔ سو جب عشاء ہوئی تو ہم سے کسی صاحب نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ 3 (آپ 3کا دیر سے تشریف لانا) ہم پر بہت ہی شاق گزرا۔ ارشادفر مایا کہ آسمان کے ایک فرشتہ نے مجھے نہیں دیکھا تھا تو اس نے میری زیارت کرنے کیلئے اﷲ تبارک و تعالیٰ سے اجازت چاہی۔ تو اس نے مجھے خبردی اوربشارت دی یہ کہ میری بیٹی (سیدہ) فاطمتہ (الزہراء سلام اللہ علیہا) میری امت کی تمام عورتوں کی سردار ہے اور بے شک (جناب) حسن اور (جناب) حسین (علیہما السلام ) دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔

حل لغت بظاً: دیر کرنا۔ شق: سخت ہونا، گراں ہونا، شاق ہونا ، تکلیف میں ڈالنا، دشوار ہونا۔

تشریح ارشاد ہے’’ ہم پر بہت ہی شاق گزرا‘‘ یعنی آج جو ہم آپ3کی زیارت سے محروم رہے تو یہ فراق جو آپ3کے دیر سے تشریف لانے کی وجہ سے ہوا ہم پر بہت گراں اور شاق تھا۔ آپ3کا تشریف فرما نہ ہونا ہم پر ایک دشوار امر تھا اور ہم سب آتشِ فراق میں جلتے رہے۔ ارشاد ہے ’’ اس نے میری زیارت کیلئے اﷲ تبارک و تعالیٰ سے اجازت چاہی ‘‘ یعنی اﷲ تبارک و تعالیٰ نے فرشتے کو اپنے پیارے محبوب3کی زیارت کرنے کیلئے اجازت مرحمت فرمائی اور وہ آپ3کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ 
اسنادہ حسن، شواہدہ (احمد میرین البلوشی، خصائص امیر المومنین علی ابن ابی طالب صفحہ
۱۴۳)

حد یث نمبر
۱۳۱؍۵ انبأنا احمد۱؂ بن سلیمان قال حدثنا الفضل۲؂ بن دکین قال حدثنا زکریا۳؂ عن فراس۴؂ عن الشعبی۵؂ عن مسروق۶؂ عن عائشۃ۷؂ رضی اﷲ عنہا قالت اقبلت فاطمۃ کان مشیتھا مشےۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فقال مرحبا با بنتی ثم اجلسھا عن یمینہ او عن شمالہ ثم اسر الیھا حدیثا فبکت فقلت لھا استضحک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بحدیثہ و تبکین ثم انہ اسر الیھا
(اسماء الرجال اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے) 
حدیثا فضحکت فقلت مارأیت مثل الیوم فرحا اقرب من حزن فسألتھا عما قال فقالت ماکنت لافشی سر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم حتی اذا قبض سألتھا فقالت انہ اسر الی اولا فقال ان جبرئیل کان یعارضنی بالقران کل سنۃ مرۃ و انہ قدعارضنی بہ العام مرتین وما ارانی الا وقد حضرت اجلی و انک اول اھل بیتی لحاقا بی و نعم السلف انا لک قالت فبکیت لذالک ثم قال اما ترضی ان تکون
سیدۃ نسآء ھذہ الامۃ اونسآء المؤمنین قالت فضحکت

ترجمہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ (سیدہ) فاطمتہ(الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) آئیں ان کی رفتار جناب رسول کریم 3کی رفتار کی طرح تھی۔ تو جناب رسول کریم3نے ارشاد فرمایا۔ اے میری بیٹی مرحبا! پھر آنحضرت3نے اس کو اپنے دائیں یا بائیں بٹھایا۔ پھر آنحضرت3نے ان سے سرگوشی فرمائی تو (سیدہ) روئیں۔ تو میں نے ان سے کہا کہ حضرت رسول کریم3نے آپ کو اپنی بات سے ہنسانا چاہا اور تو رو دی۔ پھر ان کے ساتھ حضرت3نے سرگوشی فرمائی تو آپ (سلام اللہ علیہا)ہنس دیں۔ تو میں نے کہا میں نے آج کے دن کی خوشی ، نزدیک غم کے نہیں دیکھی۔ سو میں نے ان سے دریافت کیا کہ آنحضرت3

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۱
۱؂: احمد بن سلیمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۱
۲؂: فضل بن دکین(ابونعیم):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۲
۳؂: زکریا:اس کا پورا نام زکریا بن ابی زائدہ خالد ہے اور اسے ہبیرۃ بن میمون بن فیروز بھی کہا گیا ہے الہمدانی الوادعی ہے۔ ا س کی کنیت ابویحیےٰ الکوفی ہے ثقہ وکان یدلس اپنی آخری عمر میں ابی اسحاق سے سماع کیا ہے۔ طبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۴۷ ؁ہجری یا ۱۴۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۱۰۷)
۴؂: فراس:فراس بن یحیےٰ الہمدانی الخارفی ہے۔ ابو یحیےٰ الکوفی کنیت ہے۔ المکتب ہے۔ صدوق ہے ربما وھم طبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۲۹ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۲۷۴)
۵؂: الشعبی: اس کا نام عامر بن شراحیل الشعبی ہے۔ ابو عمرو کنیت ہے۔ ثقہ ہے۔ مشہور ہے۔ فقیہہ ، فاضل اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ مکحول نے کہااس سے زیادہ فقیہہ میں نے نہیں دیکھا۔۱۰۳ ؁ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۶۱)
۶؂: مسروق: مسروق بن الاجدع بن مالک الہمدانی الوادعی ہے ابو عائشہ الکوفی اس کی کنیت ہے۔ ثقہ ،فقیہہ ، عابد اور مخضر م ہے طبقہ الثانیہ سے ہے۔ ۶۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،،صفحہ ۳۳۴)
۷؂: عائشہ رضی اللہ عنہا:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۷:۵
نے آپ کو کیا فرمایا تھا۔ تو (سیدہ نے ) فرمایا میں حضور3کے اس راز کو اس وقت تک افشا نہ کروں گی جب تک کہ آپ 3کا وصال نہ ہوجائے۔ تو میں نے ان سے پوچھا پس انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت3نے جو پہلی بار مجھ سے سرگوشی فرمائی تھی ، یہ تھی کہ آنحضرت3نے فرمایایقیناًہر سال جبرئیل میرے ساتھ ایک بار دور کرتا تھا۔ اور بے شک اس نے اس سال دوبار میرے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا ہے اور میں سمجھ رہا ہوں کہ میرے وصال کا وقت قریب ہے اور بے شک میرے اہل بیت سے تو مجھ کو سب سے پہلے ملے گی۔ اور میں تیرا لئے اچھا پیشوا ہوں۔ فرمایا اس بات نے مجھے رلا دیا۔ پھر ارشاد فرمایاکیا تو اس بات سے راضی نہیں کہ تو اس اُمت کی تمام عورتوں کی سردار ہویا یہ فرمایا کہ تمام مؤمن عورتوں کی سردار ہو، پس میں ہنس دی۔

حل لغت مشےۃ: وضع ، چلن ، رفتار۔ مرحبا: ’’مجمع البحرین‘‘ میں ہے کہ مرحبا ایک انس اور محبت کا کلمہ ہے جو آنے والے سے کہتے ہیں تاکہ وہ خوش ہو اور مزید خیر سگالی کے جذبات پیدا ہوں۔ فرح: خوش ہونا، اِترانا۔ حزن: رنج ، صدمہ ، غم۔

تشریح ارشاد ہے ’’ ان کی رفتار جناب رسول کریم3کی رفتار کی طرح تھی ‘‘ یعنی جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی چال اپنے والد گرامی منزلت حضرت رسول کریم3کی چال کے ہو بہو تھی۔ ارشاد ہے ’’ میں نے آج کے دن کی خوشی ، نزدیک غم کے نہیں دیکھی ‘‘ یعنی خوشی کاغم کے فوراً بعد پیدا ہونا میں نے اس طرح کبھی نہیں دیکھا کہ یا تو آپ رو رہی تھیں اور پھر فوراً ہی آپ ہنس رہی ہیں۔ ارشاد ہے’’ تو میں نے ان سے پوچھا ‘‘ یعنی حضور نبی کریم3کے وصال فرمانے کے بعد میں نے ان سے کہا کہ اب تو وہ سرگوشی جو حضور3نے کی تھی بتا دیجئے۔ ارشاد ہے ’’ تواس اُمت کی تمام عورتوں کی سردار ہو یا یہ فرمایا کہ تما م مؤمن عورتوں کی سردار ہو ‘‘ یعنی یہ راوی کا شک ہے کہ یہ فرمایا کہ ’’ھذا الامۃ ‘‘ یا ’’نسآء المؤمنین‘‘
اسنادہ صحیح ، رجالہ ثقاۃ ( البلوشی صفحہ
۱۴۴)

حد یث نمبر
۱۳۲؍۶ انبأنا محمد۱؂ بن معمر البحرانی قال حدثنی ابوداود۲؂ قال حدثنا ابو عوانۃ۳؂ عن فراس۴؂ عن الشعبی۵؂ عن مسروق۶؂ قال اخبرتنی عائشۃ۷؂ 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۲
۱؂: محمد بن معمر:محمد بن معمر بن ربعی القیسی البصری البحرانی صدوق اور طبقہ الحادیہ کے کبار سے ہے۔ ۲۵۰ھ میں وفات پائی (التقریب،ص ۳۱۹)
۲؂: ابوداؤد:اس کا نام سلیمان بن داؤد بن الجارود ہے۔ ابوداؤد الطیالسی کنیت ہے۔ البصری ہے۔ ثقہ اور حافظ ہے۔(حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے)

قالت کنا عند رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم جمیعا ما یغادر منا واحدۃ فجآء ت فاطمۃ تمشی ولا و اﷲ ان تخطی مشیتھا من مشےۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم حتی انتھت الیہ فقال لھا مرحبا با بنتی فاقعدھا عن یمینہ او عن یسارہ ثم سارھا بشیے فبکت بکآء شدیدا ثم سارھا بشیے فضحکت فلما قام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قلت لھا ما خصک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم من بیننا بالسرا ر انت تبکین اخبرینی ما قال لک قالت ما کنت لافشی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بسرہ فلما توفی قلت لھا اسئلک بالذی لی علیک من الحق ما سارک بہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فقالت اما الان فنعم سارنی المرۃ الاولی فقال ان جبرئیل کان یعارضنی بالقران فی کل عام مرۃ وانہ عارضنی بہ العام مرتین ولا اری الا اجل قد اقترب فاتقی اﷲ تعالی و اصبری فبکیت ثم قال لی یا فاطمۃ اما ترضین
ان تکون سیدۃ نسآء ھذہ الامۃ و سیدۃ نسآء العالمین فضحکت

ترجمہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم سب جناب رسول کریم3کے پاس جمع تھیں۔ ہم میں سے کوئی باقی نہیں تھی پس (سیدہ) فاطمتہ (الزہراسلام اللہ علیہا) تشریف لائیں۔ اﷲ جل جلالہ کی قسم! کہ (سیدہ) فاطمتہ(الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) کی رفتار حضرت سیدنا و مولانا جناب رسول کریم3کی ہو بہو رفتار تھی۔ یہاں تک کہ حضور3کے بہت قریب پہنچ گئیں۔ پس فرمایا اے میری بیٹی مرحبا، پھر جناب حضرت

بقیہ حاشیہ : قال ابراہیم بن سعید الجوہری اخطاء فی الف حدیث و قال امام برہان الدین ابی الوفاء ابراہیم قلت ھذا قالہ ابراہیم علی سبیل المبالغۃ و لو اخطاء فی سبع ھٰذا الضفوہ ‘‘ الکاشف محولہ بالا جلد
۱، صفحہ ۴۵۸) ۔طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۲۰۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۱۳۳)
۳؂: ابوعوانۃ(الوضاح):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۳:۳
۴؂: فراس:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۱:۴
۵؂: الشعبی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۱:۵
۶؂: مسروق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۱:۶
۷؂: عائشۃرضی اللہ تعالیٰ عنہا:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۷:۵
رسول کریم3نے ان کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھا یا، پھر ان سے کچھ سرگوشی فرمائی،پس آپ(سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ) بہت ہی زیادہ روئیں پھر ان سے کچھ سرگوشی فرمائی پس آپ ہنسیں۔ سو جب جناب رسول کریم 3اٹھے، تو میں نے (سیدہ سے) کہا کہ وہ کون سی بات تھی جو حضرت رسول کریم3نے خاص تجھ سے فرمائی ؟ ہم سب کے درمیان سے تیرے ساتھ سرگوشی کی اورتو روئی مجھے ضرور بتا دے کہ تجھے حضور3نے کیا فرمایا۔ تو سیدہ (سلام اللہ تعالیٰ علیہا)نے فرمایا کہ میں حضرت رسول کریم3کی اس سرگوشی کو بیان کرنے والی نہیں ہوں۔ پس جب جناب رسول کریم3کا وصال ہوا تو میں نے (سیدہ سلام اللہ تعالیٰ علیہاسے) کہا کہ میرا تجھ پر حق ہے اس لئے میں تجھ سے (یہ بات ) پوچھتی ہوں کہ حضرت رسول کریم3نے تیرے ساتھ کیا سرگوشی فرمائی تھی؟ تو (سیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) نے فرمایا ہاں اب سن پہلی بار جو میرے ساتھ سرگوشی فرمائی( تووہ یہ تھی) ارشاد فرمایابے شک جبرئیلں ہر سال قرآن کا دورہ میرے ساتھ ایک بار کرتا تھا مگر اس سال اس نے دو بار کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا وصال قریب ہے، تو اﷲ سے ڈر اورصبرکر۔ تو میں روئی، پھر مجھے جناب رسول کریم3 نے فرمایا کہ اے فاطمہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) کیا تو یہ پسند نہیں کرتی کہ تو میری امت کی تمام عورتوں اور تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہو، پس میں ہنسی۔

حل لغت غدر: پیچھے رہ جانا، آسمان کا پانی پینا ، تاریک ہونا۔

تشریح ارشاد ہے’’ ہم سب جناب رسول کریم 3کے پاس جمع تھیں‘‘ یعنی تمام (امہات المومنین ) ازواج مطہرات حضور سرورِ عالم و عالمیان3کے حضور میں موجود تھیں۔ ارشاد ہے ’’ ہم میں سے کوئی بھی باقی نہیں تھی ‘‘ یعنی کوئی زوجہ محترمہ باقی نہیں تھی جو موجود نہ ہو۔ ارشاد ہے ’’ کہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی رفتار حضرت سیدنا و مولانا جناب رسول کریم3کی ہو بہو رفتار تھی ‘‘ یعنی دونوں حضرت گرامی مرتبت ایک ہی طرح چلتے تھے۔ ارشاد ہے ’’ پس ان سے کچھ سرگوشی فرمائی ‘‘ یعنی حضور3نے سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو آہستہ سے کچھ فرمایا۔ارشاد ہے ’’ سو جب حضرت رسول کریم3اٹھے ‘‘ یعنی وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے۔ ارشاد ہے ’’تو میری اُمت کی تمام عورتوں کی سردار ہو او ر تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہو ‘‘ یعنی سیدۃ النساء جنابہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا تمام مسلمان عورتوں کی جو کہ حضور پاک3کی اُمت میں ہیں کی سردار ہیں اور عالمین (جہانیوں) کی عورتوں کی بھی سردار ہیں۔ یہ فضیلت کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ اب اس حدیث سے مریم بنت 
عمران کا استثناء بھی ختم ہوگیا ۔ اسنادہ صحیح ( البلوشی صفحہ
۱۴۵)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر الاخبار المأثورۃ بان فاطمۃ بضعۃ من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
’’ اس باب میں ان احادیث کا ذکر ہے جن میں یہ ارشاد ہے کہ (سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا ) حضرت سرور کونین جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد رسول 
اﷲ 3کے وجود مبارک کا ایک ٹکڑا ہے ‘‘
(اس باب میں پانچ احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۳۳؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا قتیبۃ۲؂ بن سعید قال حدثنا اللیث۳؂ عن ابی ملیکۃ۴؂ عن المسور۵؂ بن مخرمۃ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم وھو علی المنبر یقول ان بنی ھشام بن المغیرۃ استأذ نونی ان ینکحوا ابنتھم عن علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ الکریم فلا اذن ثم لااذن الا رأی ان یرید ابن ابی طالب ان یفارق ابنتی و ان ینکح ابنتھم قال ہی بضعۃ منی یریبنی ما رابھا وےؤذینی ما اذی ھا ومن اذی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
فقد ھبط عملہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۳
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ 
۲؂: قتیبۃ بن سعید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰:۱
۳؂: اللیث: لیث بن سعد بن عبد الرحمن الفہمی کی کنیت ابو الحارث ہے ، ثقہ ، ثبت ، فقیہہ امام اور مشہور ہے۔ طبقہ السابعۃ سے ہے۔ ۱۷۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۸۷)
۴؂: ابن ابی ملیکہ: اس کا نام عبداﷲ بن عبیداﷲ بن ابی ملیکہ ہے۔ ابی ملیکہ کا نام زہیر بن عبداﷲ بن جدعان ہے۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 

ترجمہ مسور بن مخرمہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رسو ل کریم3سے سنا ہے۔ درآنحالیکہ آپ3منبر پر تشریف فرماتھے۔ ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک بنی ہشام بن مغیرہ مجھ سے اجازت مانگتی ہے کہ اپنی بیٹی کا نکاح علی ابن ابی طالب3 سے کردے۔ پس میں قطعاً اجازت نہیں دیتا،پھر میں قطعاً اجازت نہیں دیتا مگر سوائے اس صورت کے کہ ابن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے دے اور ان کی بیٹی سے نکاح کر لے۔ ارشاد فرمایا کہ وہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جو چیز اس کو قلق میں ڈالتی ہے وہ مجھے بھی قلق میں ڈالتی ہے اور جو چیز اسے دکھ پہنچاتی ہے وہ چیز مجھے بھی دکھ پہنچاتی ہے اور جس شخص نے حضرت رسول کریم3کو دکھ پہنچایا تو یقیناًاس کے کئے کرائے عمل ضائع ہو گئے۔

حل لغت بضعۃ: گوشت کا ایک ٹکڑا۔

تشریح ارشاد ہے ’’آپ3منبر پر تشریف فرماتے تھے‘‘ یعنی وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ ارشاد ہے’’ بنی ہشام بن مغیرہ مجھ سے اجازت مانگتی ہے کہ اپنی بیٹی کا نکاح علی ابن ابی طالب3 سے کردے‘‘ یعنی یہ ابو جہل کی بیوی تھی اور اپنی لڑکی کا جناب علی المرتضیٰصسے نکاح کرنا چاہتی تھی جبکہ علی المرتضی3 کی شادی سیدۃ النساء فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے ہو چکی تھی۔ ارشاد ہے ’’ وہ میرے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ‘‘ یعنی میرے وجود کا ہی ایک حصہ ہے اور ایک اور حدیث شریف میں آیا ہے مضغۃ منی۔ ارشاد ہے ’’ جو چیز اس کو قلق میں ڈالتی ہے وہ مجھے بھی قلق میں ڈالتی ہے‘‘ یعنی جو چیز سیدہ سلام اللہ تعالیٰ علیہا کو بری معلوم ہوتی ہے اور جس سے وہ رنجیدہ ہوتی ہے وہ چیز مجھے بھی بری معلوم ہوتی ہے اور میری بھی رنجیدگی کا باعث ہے۔ ارشاد ہے’’ جس شخص نے حضرت رسول کریم3 کو دکھ پہنچایا تو یقیناًاسکے کئے کرائے عمل ضائع ہوگئے ‘‘ یعنی دو فعل ایسے ہیں کہ ایک مسلمان کے تمام اعمالِ حسنہ کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتے ہیں اور وہ شعور بھی نہیں رکھتا ایک تو پیغمبر اسلام3کی بے ادبی کرنا اور دوسرا ان کو ایذا پہنچانا۔
اسنادہ، صحیح، علی شرط الشیخین (البلوشی، صفحہ
۱۴۶)

بقیہ حاشیہ : عبداﷲ بن زبیر کا قاضی اور مؤذن تھا۔ روی عن العبادلۃ الاربعۃ۔ عبداﷲ بن جعفر بن ابی اطالب ، عبداﷲ بن سائب المخزومی و المسور بن مخرمہ وغیرھم۔ وروی عنہ ابنہ یحیےٰ و اللیث و جماعۃ۔ ابو زرعہ اور ابو حاتم نے کہا ثقہ ہے۔
۱۱۷ ؁ہجری یا ۱۱۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۵ صفحہ ۳۰۶)
۵؂: المسور بن مخرمۃ:مسور بن مخرمہ بن نوفل بن اہیب بن عبدمناف بن زہرہ الزہری کی کنیت ابوعبد الرحمن ہے۔ یہ باپ بیٹا دونوں صحابی تھے۔ ۶۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۳۷)

حد یث نمبر
۱۳۴؍۲ انبأنا احمد۱؂ بن سلیمان قال حدثنا یحیے۲؂ بن ادم قال حدثنا بشر۳؂ بن السری قال حدثنا اللیث۴؂ بن سعد قال حدثنا ابن ابی ملیکۃ۵؂ قال سمعت المسور۶؂ بن مخرمۃ یقول سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بمکۃ یخطب ان بنی ھشام استأذ نونی ان ینکحوا ابنتھم علیا وانی لااذن ثم لااذن الا ان یرید ابن ابی طالب ان یفارق ابنتی و ان ینکح ابنتھم ثم قال ان فاطمۃ بضعۃ او قال بضعۃ منی ےؤذینی ما اذنھا ویریبنی ما رابھا وما کان لہ ان یجمع بین بنت عدو
اﷲ و بین بنت رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ والہ وسلم)

ترجمہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسور بن مخرمہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول کریم3سے سنا کہ مکہ مکرمہ میں آپ3نے خطبہ میں فرمایا کہ بیشک بنی ہشام مجھ سے اجازت مانگتی ہے کہ اپنی لڑکی کا نکاح (حضرت) علی3 سے کردیں اور یقیناًقطعاً میں اجازت نہیں دیتا۔ پھر یقیناًمیں اجازت نہیں دیتا سوائے اس صورت کے کہ ابن ابی طالب میری لڑکی کو طلاق دے دے اور اس کو نکاح کرے۔ پھر فرمایا کہ فاطمہ (رضی اﷲ عنہا ) گوشت کا ٹکڑا ہے یا فرمایا کہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے جو اسے دکھ دیتا ہے وہ مجھے دکھ دیتا ہے اورجو اسے قلق پہنچاتا ہے وہ مجھے قلق پہنچاتا ہے اور (حضرت علی3 ) کو یہ مناسب نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے دشمن کی لڑکی کو (جناب) رسول اﷲ3کی لڑکی کے ساتھ رکھے۔

تشریح ارشاد ہے’’ فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے ‘‘ یعنی میرے وجود کا ایک حصہ ہے۔ 
اسنادہ صحیح رجالہ ثقاۃ (البلوشی صفحہ
۱۴۷)


سماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۴
۱؂: احمد بن سلیمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۱۲؂: یحییٰ بن آدم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۵:۲
۳؂: بشر بن السری: بشر بن السری کی کنیت ابو عمر ہے اور (کثرت وعظ کی وجہ سے اسے) الافوہ بھی کہتے ہیں۔ یہ بصری ہے، مکہ میں رہائش پزیر رہا۔ واعظ ، ثقہ اور متقن ہے۔ اس پر جہمی فرقے کا طعن لگایا گیا تھا۔ جس پر اس نے توبہ کی۔ طبقہ التاسعۃ سے ہے۔ ۱۹۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ ۴۴)
۴؂: لیث بن سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۳
۵؂: ابن ابی ملیکہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۴۶؂: المسور بن مخرمہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۵

حد یث نمبر
۱۳۵؍۳ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال حدثنا الحارث۲؂ بن مسکین قرأۃ علیہ وانا اسمع عن سفیان۳؂ عن عمرو۴؂ عن ابن ابی ملیکۃ۵؂ عن المسور۶؂ بن مخرمۃ ان النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال ان فاطمۃ بضعۃ منی من اغضبھا اغضبنی

ترجمہ مسور بن مخرمہ سے روایت ہے یہ کہ نبی کریم3نے فرمایا یقیناً(سیدہ) فاطمتہ(الزہرارضی اﷲ عنہا) میرے گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غصے میں ڈالا۔

تشریح اسنادہ صحیح، رجالہ ثقات( البلوشی، صفحہ
۱۴۷)

حد یث نمبر
۱۳۶؍۴ انبأنا محمد۱؂ بن خالد قال حدثنا بشر۲؂ بن شعیب عن ابیہ۳؂ عن الزھری۴؂ قال اخبرنی علی بن الحسین۵؂ ان المسور۶؂ بن مخرمۃ اخبرہ ان
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال ان فاطمۃ بضعۃ او بضعۃ منی

ترجمہ یہ کہ مسور بن مخرمہ نے اسے خبردی یہ کہ رسول اﷲ3نے فرمایا بے شک فاطمہ گوشت کا ٹکڑا ہے یا یہ فرمایا کہ فاطمہ میرے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ 

تشریح اسنادہ صحیح، رجالہ ثقاۃ( البلوشی، صفحہ
۱۴۷)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۵
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: الحارث بن مسکین:حارث بن مسکین بن محمد بن یوسف کی کنیت ابوعمر المصری ہے۔ ثقہ اور فقیہہ ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۵۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔(التقریب ، صفحہ ۶۱)
۳؂: سفیان:سفیان بن عیینہ بن ابی عمران میمون الہلالی کی کنیت ابو محمد الکوفی ثم المکی ہے۔ ثقہ ، حافظ ، فقیہہ ، امام اور حجۃ ہے۔ الا انہ تغیرحفظہ باخرہ و کان ربما دلس لکن عن الثقات من روس الطبقۃ الثامنۃ وکان اثبت الناس فی عمرو بن دینار۔ ۱۹۸ ؁ ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۲۸)
۴؂: عمرو:یہ عمرو بن دینار المکی ہے۔ ابو محمد کنیت ہے ۔ثقہ ، ثبت اور طبقہ الرابعۃ سے ہے۔ ۱۲۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۳۵۹)
۵؂: ابن ابی ملیکہ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۴۶؂: المسور بن مخرمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۵
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۶
۱؂: محمد بن خالد:محمد بن خالدخلی الکلاعی کی کنیت ابوالحسین الحمصی ہے۔ صدوق ہے، طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے (التقریب،صفحہ ۲۹۵)
۲؂: بشر بن شعیب: بشر بن شعیب بن حمزہ بن ابی حمزہ بن دینار القرشی کی کنیت ابوقاسم الحمصی ہے۔ ثقہ اور طبقہ العاشرہ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 

حد یث نمبر
۱۳۷؍۵ اخبرنی عبد اﷲ۱؂ بن سعد بن ابراھیم بن سعد قال حدثنی عمی۲؂ قال حدثنا ابی۳؂ عن الولید۴؂ بن کثیر عن محمد۵؂ بن عمرو بن حلحلۃ انہ حدثہ ان ابن شھاب۶؂ حد ثہ ان علی۷؂ ابن الحسین حدثہ ان المسور۸؂ بن مخرمۃ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یخطب علی منبرہ ھذا و انا یومئذ
محتلم فقال ان فاطمۃ بضعۃ منی


بقیہ حاشیہ : کے اکابرین سے ہے۔
۲۱۳ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۴۴)
۳؂: ابیہ:یہ شعیب بن ابی حمزہ الاموی القرشی ہے اور بشر کا والد ہے۔ ابو البشر الحمصی اس کی کنیت ہے عابدا ور ثقہ ہے۔ ابن معین نے کہا ، من اثبت الناس فی الزھری۔ طبقہ السابعہ سے ہے۔ ۱۶۲ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(التقریب،صفحہ ۱۴۶)
۴؂: الزہری:اس کا نام محمد بن مسلم بن عبید اﷲ بن عبداﷲ بن شہاب بن عبداﷲ بن الحارث بن زہرہ کلاب القرشی الزہری ہے۔ اس کی کنیت ابوبکر ہے۔ بہت بڑا فقیہہ اور حافظ ہے۔ اس کا تقوی اور بزرگی متفقہ ہے، طبقہ الرابعہ کے اکابرین سے ہے۔ ۱۲۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۳۱۸) 
۵؂: علی بن حسین ص: علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کا لقب زین العابدین ہے۔ ثقہ ،ثبت ، عابد ، فقیہہ ، فاضل اور مشہور ہے۔ ابن عیینہ نے زہری سے روایت کی ہے کہ ’’ما رایت قرشیا افضل منہ‘‘ میں نے اس سے افضل قریش میں کوئی نہیں دیکھا۔ طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۹۳ہجری میں وفات پائی (التقریب،صفحہ ۲۴۵)۔آپ کی کنیت ابوالحسین ہے، ابو محمد اور ابو عبداﷲ المدنی بھی آپ کو کہا جاتا ہے۔ روی عن ابیہ و عمہ الحسن و ارسل عن جدہ علی بن ابی طالب اور روایت کرتے ہیں۔ ابن عباسص، المسور بن مخرمہ ، ابی ہریرہ ص، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، صفیہ بنت حئی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، ام سلمۃرضی اللہ تعالیٰ عنہا وغیرہم سے اور آپ سے روایت کرتے ہیں آپ کی اولاد سے محمد، زید ، عبداﷲ اور عمر اور روایت کرتے ہیں، ابو سلمۃ بن عبد الرحمن الزہری وغیرہم ۔ابن سعد نے طبقہ الثانیہ میں اہل مدینہ کے تابعین میں آپ کا ذکر کیا ہے۔ آپ کی والدہ ام ولد ہے اور آپ ثقہ ، مامون ،کثیر الحدیث ، عالیاً ، رفیقاً اور ازروئے ورع بلند مرتبہ ہیں۔ آپ کربلا میں اپنے باپ علیہ اسلام کی شہادت کے وقت موجود تھے۔ بیمار تھے ، پس بچ گئے۔ ابن وہب جناب مالک سے روایت کرتے ہیں ’’لم یکن فی اہل بیت رسول اﷲ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم مثل علی بن حسین‘‘ یعنی اہل بیت رسول 3 میں میں نے علی ص بن حسین صکی مانند کوئی نہیں دیکھا اور مصعب الزبیری امام مالک سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ مرتے دم تک علی ص بن حسین ص دن اور رات میں ایک ہزار رکعت پڑھتے تھے اور اس لئے کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کا لقب زین العابدین پڑ گیا۔ (تہذیب التہذیب ،جلد ۷ صفحہ۳۰۴یا ۳۰۷ ملخصاً)
۶؂: المسور بن مخرمہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۵
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۷
۱؂: عبد اﷲ بن سعد بن ابراہیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۴:۱ (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں)

ترجمہ مسور بن مخرمہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول کریم3سے سنا ہے (جبکہ ) وہ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور میں اس وقت سن بلوغ کو پہنچ چکا تھا۔ تو فرمایا یقیناً(جنابہ سیدہ) فاطمتہ (الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) میرے گوشت کا ٹکڑا ہے۔ 

تشریح مسلم شریف کی شرح میں ہے کہ ایذا دینا حضور نبی کریم3کو بہر حال اور ہر وجہ سے حرام ہے۔ اگرچہ ایذا اس چیز سے پیدا ہو کہ اصل اس کی مباح ہو اور یہ آپ3کے خواص سے ہے۔ 
صحیح، اسنادہ ثقاۃ( البلوشی، صفحہ
۱۴۸)










بقیہ حواشی:
۲؂: عمی:یہ یعقوب بن ابراہیم بن سعد بن ابراہیم عبد الرحمن بن عوف الزہری ہے اور یہ عبداﷲ کا چچا ہے ۔اس کی کنیت ابویوسف المدنی ہے۔ بغداد میں رہائش پزیر تھا۔ ثقہ ہے فاضل ہے، طبقہ التاسعہ کے صغار سے ہے۔ ۲۰۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۳۸۶)
۳؂: ابی: یہ ابراہیم بن عبدالرحمان بن عوف الزہری ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس نے حضرت عمر صکو دیکھا بھی ہے اور ان سے سماع بھی کیا ہے۔یعقوب بن شیبہ نے اسے اثبت کہا ہے۔ ۱۹۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۱) 
۴؂: ولید بن کثیر:ولید بن کثیر المخزومی کی کنیت ابومحمد المدنی ہے ۔کوفہ میں سکونت اختیار کی۔ روی عن سعید بن ابی ھند و سعید المعثر، عمر و بن حلحلۃ وغیرھم وروی عن ابراہیم بن سعد و عیسی بن یونس و ابن عیینۃ وغیرھمابراہیم بن سعد نے کہا ثقہ ہے اور المغازی بہت جانتا تھا۔ ابن عیینہ نے کہا صدوق ہے۔ ۱۵۱ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۱۱صفحہ ۱۴۸)
۵؂: محمد بن عمرو بن حلحلۃ:محمد بن عمرو بن حلحلۃ الدیلی المدنی ثقہ ہے۔ طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب ،صفحہ۳۱۳)
۶؂: ابن شہاب (الزہری):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۶:۴
۷؂: علی بن حسین ص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۶:۵
۸؂: المسور بن مخرمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۵

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خص بہ علی بن ابی طالب من الحسن و الحسین ابني رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و ریحانیہ من الدنیا و سیدی شباب اھل الجنہ الا عیسی بن مریم و یحیے بن زکریا علیھما السلام
’’ ان ابواب میں اس چیز کا ذکر ہے کہ جناب علی المرتضی3حسنں اور حسین ں کے ساتھ مختص کئے گئے ہیں۔ یہ دونوں بیٹے ہیں رسول اﷲ3کے اور دونوں پھول ہیں دنیا کے نیز سوائے عیسیٰ ں بن مریم اور یحیےٰ بن
زکریا ں کے تمام نوجوانان جنت کے سردار ہیں ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۳۸؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن بکار الحرانی قال حدثنا محمد۲؂ بن سلمۃ عن ابن اسحاق۳؂ عن یزید۴؂ بن عبد اﷲ بن قسیط عن محمد۵؂ بن اسامۃ بن زید عن ابیہ۶؂ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اما انت یا علی فختنی و ابو

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۸
۱؂: احمد بن بکار:احمد بن بکار بن ابی میمونہ کی کنیت ابو عبدالرحمان الحرانی ہے۔ صدوق ہے ، حافظ اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۱۱) (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 

ولدی و انت منی و انا منک

ترجمہ اسامہ بن زید سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم3نے فرما یا اے علی! تو میرا داماد ہے اور میرے دونوں بیٹوں کا باپ ہے اور تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔

















بقیہ حواشی:
۲؂: محمد بن سلمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۳
۳؂: ابن اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۴:۴
۴؂: یزید بن عبد اﷲ:یزید بن عبداﷲ بن قسیط بن اسامہ اللیثی کی کنیت ابوعبداﷲ المدنی ہے، الاعرج ہے۔ ثقہ ہے اور طبقہ الرابعہ سے ہے۔ ۱۲۲ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۸۳)
۵؂: محمد بن اسامہ:محمد بن اسامہ بن زید بن حارثہ المدنی ثقہ ہے۔ طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۹۰ ہجری کے بعد وفات پائی۔ (التقریب،ص۲۸۹)
۶؂: ابیہ:یہ محمد کا والد اسامہ بن زید بن حارثہ بن شراحیل الکلبی ہے ،ابو محمد اور ابوزید اس کی کنیت ہے۔ مشہور صحابی ہے۔ ۵۴ ؁ہجر ی میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۶)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن والحسین ابنای
’’ اس باب میں اس ارشاد کا بیان ہے کہ 
حسن اور حسین علیہما السلام دونوں میرے بیٹے ہیں ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۳۹؍۱ اخبرنی القاسم۱؂ بن زکریا بن دینار قال حدثنا خالد۲؂ بن مخلد قال حدثنی موسی۳؂ ھوا بن یعقوب الزمعی عن عبد اﷲ۴؂ بن ابی بکر بن زید بن المھاجر قال اخبرنی مسلم۵؂ بن ابی سھل النبال قال اخبرنی الحسن۶؂ بن اسامۃ بن زید عن اسامۃ۷؂ بن زید بن حارثۃ طرقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لیلۃ لبعض الحاجۃ فخرج وھو مشتمل علی شیے لا ادری ماھو فلما فرغت من حاجتی قلت ما ھذا الذی انت مشتمل علیہ فکشف فاذا الحسن و الحسین علی و رکیہ
فقال ھذان ابنای و ابنا ابنتی اللھم انک تعلم انی احبھما فا حبھما

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۹
۱؂: قاسم بن زکریا:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۱
۲؂: خالد بن مخلد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۵:۲
۳؂: موسیٰ بن یعقوب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۳
۴؂: عبد اﷲ بن ابی بکر:عبداﷲ بن ابی بکر بن زید المہاجر مجہول ہے اور طبقہ السادستہ سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۱۶۹)
۵؂: مسلم بن ابی سہل النبال:مسلم بن ابی سہل النبال کو محمد بھی کہا جاتا ہے، مقبول ہے۔ طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب صفحہ ۳۳۵)
۶؂: حسن بن اسامہ:حسن بن اسامہ بن زید الکلبی المدنی مقبول ہے۔ طبقہ الثالثہ سے ہے (التقریب،صفحہ ۶۸)
۷؂: اسامہ بن زیدص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۸:۶

ترجمہ اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ میں کسی کام کیلئے حضور3کی خدمتِ بابرکت میں رات کے وقت حاضر ہوا پس آنحضرت3باہر تشریف لائے درآنحا لیکہ آنجناب3کسی چیز کو لپیٹے ہوئے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھی۔ پس جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا۔ میں نے عرض کیا یہ کیا ہے جو آپ 3 لپیٹے ہوئے ہیں۔ پس حضور3نے اس چادر کو ہٹایا، پس اچانک آپ3کے کولہوں پر حسن اور حسین (علیہما السلام) تھے۔ تو ارشاد فرمایا کہ دونوں میرے بیٹے ہیں، میرے بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے میرے اﷲ ! بے شک تو جانتا ہے کہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں سو تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔

حل لغت طرق: رات کو آنا۔ ورک : کو لہو، سرین۔

تشریح ارشاد ہے ’’ پس اچانک آپ3کے کولہوں پر حسن اور حسین علیہما السلام تھے‘‘ یعنی جب آپ3نے چادر کو ہٹایا تو امامین کریمین علیہما السلام اس میں چھپے ہوئے تھے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط

ذکر المأثور فی الحسن و
الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ
’’ اس باب میں ان احادیث کا ذکر ہے جس میں فرمایا کہ جناب
حسن اور حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نوجوانان جنت کے سردار ہیں ‘‘
(اس باب میں تین احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۴۰؍۱ انبأنا عمرو۱؂ بن منصور قال حدثنا ابو نعیم۲؂ قال حدثنا یزید۳؂ بن مردانےۃ عن عبد الرحمن۴؂ بن ابی نعیم عن ابی سعید۵؂ الخدری قال قال رسول
اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ

ترجمہ ابی سعید خدری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول کریم3نے ارشاد فرمایا کہ (جناب امام) حسن ں اور (جناب امام) حسین ں نوجوانانِ بہشت کے سردار ہیں۔

تشریح اسنادہ حسن و الحدیث صحیح لطرقہ (البلوشی، صفحہ
۱۵۰)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۰
۱ؔ ؂: عمرو بن منصور النسائی:عمرو بن منصور النسائی کی کنیت ابوسعید ہے۔ ثقہ ، ثبت اور طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۶۳)
۲؂: ابی نعیم (فضل بن دکین):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۲
۳؂: یزید بن مردانیہ:یزید بن مردانیہ الکوفی اصلاً اصفہانی ہے۔ صدوق ہے۔ طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۸۵) وکیع ، ابن معین اور العجلی نے کہا ثقہ ہے۔ ابوحاتم نے کہا ’’ لا باس بہ‘‘(احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب ص صفحہ۱۵۰)۔
۴؂: عبد الرحمن بن ابونعیم :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۴
۵؂: ابی سعید الخدری ص: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۵

حد یث نمبر
۱۴۱؍۲ اخبرنا احمد۱؂ بن الحرب قال حدثنا ابن فضیل۲؂ عن یزید۳؂ عن عبدالرحمان۴؂ بن ابی نعیم عن ابی سعید۵؂ الخدری عن النبی صلی اﷲ علیہ والہ
وسلم قال ان حسنا و حسینا سیدا شباب اھل الجنۃ ما استثنی من ذالک

ترجمہ ابی سعید خدری نبی کریم3سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا بے شک حسن اور حسین (علیہما السلام ) نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔ حضور3نے کسی مرد کا استثناء نہیں فرمایا۔

حد یث نمبر
۱۴۲؍۳ اخبرنا یعقوب۱؂ بن ابراھیم و محمد۲؂ بن ادم عن مروان۳؂ عن الحکم۴؂ بن عبد الرحمن و ھو ابن نعیم عن ابیہ۵؂ عن ابی سعید۶؂ الخدری قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن و الحسین سیداشباب اھل الجنۃ الا
ابنی الخالۃ عیسی و یحیے بن زکریا

ترجمہ ابی سعید خدری سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم3نے فرمایا۔ حسن اور حسین (علیہما السلام) دونوں اہلِ جنت کے سردار ہیں۔ سوائے خالہ کے دوبیٹوں عیسیٰ اور یحیےٰ بن زکریا علیہما السلام کے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۱
۱؂: احمد بن حرب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۱ 
۲؂: ابن فضیل(محمد بن فضیل):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷:۲ ۳؂:یزید بن مردانیہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴۰:۳
۴؂: عبد الرحمن بن ابی نعیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۴ ۵؂:ابی سعید الخدری ص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۵
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۲
۱؂: یعقوب بن ابراہیم: یقوب بن ابراہیم بن کثیر بن افلح العبدی کی کنیت ابو یوسف الدورقی ہے۔ ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۵۲ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۸۶)
۲؂: محمد بن آدم:(محمد بن آدم بن سلیمان)ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۱:۲
۳؂: مروان:مروان بن معاویہ بن الحارث بن اسماء الغزاری کی کنیت ابوعبداﷲ کوفی ہے۔ ثقہ اور حافظ ہے۔ وکان یدلس اسماء الشیوخ طبقہ الثامنہ سے ہے۔ ۱۹۳ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۳۳)
۴؂: الحکم بن عبدالرحمن: الحکم بن عبد الرحمن بن ابی نعیم الکوفی البجلی صدوق اور صحیح الحفظ ہے۔ طبقہ السابعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۸۰)
۵؂: ابیہ(عبد الرحمن بن ابی نعیم):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۴
۶؂: ابی سعید الخدری ص: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۵

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن و الحسین ریحانتی من
ھذہ الا مۃ
’’ اس باب میں حضور3کے اس ارشاد مبارک کا ذکر ہے کہ اس امت میں سے جناب حسن اور حسین (علیہما السلام ) دونوں میرے پھول ہیں‘‘
(اس باب میں دو احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۴۳؍۱ انبأنا محمد۱؂ بن عبد الاعلی الصنعانی قال حدثنا خالد۲؂ عن اشعث۳؂ عن الحسن۴؂ عن بعض اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یعنی انس۵؂ بن مالک قال دخلت اوربما دخلت علی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ 
وسلم و الحسن و الحسین ینقلبان علی بطنہ قال و یقول ھما ریحا نتی من ھذہ لامۃ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۳
۱؂: محمد بن عبدالاعلیٰ:محمد بن عبدالاعلیٰ الصنعانی القیسی کی کنیت ابو عبداﷲ البصری ہے۔ ابو زرعہ اور ابو حاتم نے کہا ثقہ ہے۔ ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ ۲۴۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۹، صفحہ ۲۸۹)
۲؂: خالد (بن حارث):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۴:۳
۳؂: اشعث: اشعث بن عبدالملک الحمرانی کی کنیت ابا ہانی ہے، ثقہ ، فقیہہ اور طبقہ السادستہ سے ہے، ۱۴۲ھ میں فوت ہوئے۔(التقریب،صفحہ ۳۷)
۴؂: الحسن:یہ حسن بن ابی الحسن البصری ہے اور اس کے باپ کا نام یسا ر ہے۔ ثقہ ، فقیہہ ، فاضل اور مشہور ہے۔ وکان یرسل کثیرا و یدلس البزار نے کہا کان یروی عن جماعۃ لم یسمع یقول حدثنا و خطبنا یعنی قومہ الذین حدثوا و خطبوا باالبصرۃاو ر طبقہ الثالثہ کے اکابرین سے ہے۔ ۱۱۰ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۶۹)
۵؂: انس بن مالکص۔ ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۶
ترجمہ انس بن ما لک فرماتے ہیں کہ میں حضور رسول کریم3کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو ایا اکثر اوقات جب میں آنحضرت3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتا تو (جناب امام ) حسن اور (جناب امام) حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما دونوں آپ3کے شکم مبارک پر کھیلتے تھے۔ راوی نے کہا کہ حضرت3فرماتے تھے اس امت میں میرے یہ دو پھول ہیں۔

حل لغت ریحان: رحمت ، روزی ، راحت ، آرام ، چین ، آسائش اور اولاد کو بھی ریحانکہتے ہیں کیونکہ ان سے دل کو راحت اور آنکھوں کو ٹھنڈ ک حاصل ہوتی ہے۔

تشریح ارشاد ہے’’ اس اُمت میں میرے یہ دو پھول ہیں‘‘ یعنی میں ان کو چومتا اور دل کو خوش کرتا ہوں ان سے مجھے راحت حاصل ہوتی ہے۔

حد یث نمبر
۱۴۴؍۲ انبأنا ابراھیم۱؂ بن یعقوب الجوزجانی قال حدثنا وھب۲؂ بن جریر ان اباہ۳؂ حدثہ قال سمعت محمد۴؂ بن عبد اﷲ بن ابی یعقوب عن ابن ابی نعیم۵؂ قال کنت عند ابن عمر فاتاہ رجل یسالہ عن دم البعوض یکون فی ثوبہ و یصلی فیہ فقال ابن عمر ممن انت قال من اھل العراق قال من یعذرنی من ھذا یسألنی عن دم البعوض و قد قتلوا ابن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول
الحسن و الحسین ھما ریحانتی من الدنیا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۴
۱؂: ابراہیم بن یعقوب: ابراہیم بن یعقوب بن اسحاق الجوز جانی ثقہ اور حافظ ہے رمی بالنصب طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے۔ ۲۵۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۲۴)
۲؂: وہب بن جریر: وہب بن جریر بن حازم بن زید کی کنیت ابوعبداﷲ الازدی البصری ہے۔ ثقہ ہے، طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۲۰۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۷۲)
۳؂: اباہ: یہ جریر بن حازم بن زید بن عبداﷲ الازدی ہے جس کی کنیت ابو النضرالبصری ہے۔ ثقہ ہے۔ لیکن جب یہ قتادہ سے روایت کرتا ہے تو اس کی حدیث میں ضعف پایا جاتا ہے جب حفظ سے بیان کرے تو وہم پیدا ہوتا ہے ،طبقہ السادسہ سے ہے۔ بعد ما اختلط لکن لم یحدث فی حال اختلاطہ(لیکن جب ذہن میں کمزوری پیدا ہوئی تواُس کے بعد حدیث بیان نہیں کرتا تھا)۱۷۰ ہجری میں فوت ہو۔ (التقریب،صفحہ ۵۴)
۴؂: محمد بن عبد اﷲ: محمد بن عبد اﷲ بن ابی یعقوب التیمی البصری ہے اور اپنے جد کی طرف نسبت کرتا ہے۔ ثقہ ہے، طبقہ السادستہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۶)
۵؂: ابن ابی نعیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۴

ترجمہ ابن ابی نعیم سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عمرص کے پاس تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا۔ اس نے جس کپڑے پر مچھر کا خون لگا ہوا ہو اس میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا۔ تو ابن عمرصنے پوچھا تو کہا ں سے آیا ہے۔ اس نے کہا کہ میں عراقی ہوں۔ فرمایا کہ مجھے اس مسئلہ میں معذور رکھئے کہ وہ مجھ سے مچھر کے خون کے متعلق دریافت کرتا ہے حالانکہ انہوں نے جناب رسول اﷲ3کا بیٹا قتل کیا ہے اور میں نے حضرت رسول کریم3سے سنا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حسن اور حسین (علیہما السلام) یہ دونوں اس دنیا کے میرے دو پھول ہیں۔

حل لغت البعوض: مچھر۔

تشریح ارشا د ہے ’’ اس نے جس کپڑے پر مچھر کا خون لگا ہوا ہو اس میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا‘‘ یعنی کیا ایسے کپڑے میں نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ ارشاد ہے’’ تو کہا ں سے آیا ہے ‘‘ یعنی کن لوگوں سے ہے۔ ارشاد ہے’’ میں عراقی ہوں‘‘ یعنی ملک عراق کا رہنے والا ہوں۔ ارشاد ہے کہ ’’ حسن اور حسین (علیہماالسلام ) یہ دونوں اس دنیا کے میرے پھول ہیں‘‘ یعنی یہ دونوں میری خوشبو ہیں، میں ان سے محظوظ ہوتا ہوں یا دنیا میں میری روزی ہیں، میرا چین ہیں ، میری راحت ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جناب علی المرتضیٰصکو ارشاد فرمایا ’’اوصیک بریحانتی خیرا فی الدنیا قبل ان تنھدر رکناک‘‘’’ اے علی ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تم میرے ان دونوں پھولوں سے اچھی طرح دنیا میں پیش آؤ اس سے پہلے کہ تیرے دونوں ستون گرجائیں‘‘ جب آنحضرت3نے وصال فرمایا تو جناب علی المرتضیٰ3 نے فرمایا کہ ایک ستون آپ3تھے او رپھر جب جنابہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا تو فر ما یا کہ یہ دوسرا ستون تھا۔
صحیح رجال اسنادہ رجال الشخین الاابراہیم بن یعقوب جوزجانی وھو ثقہ
(احمد میرین البلوشی ، صفحہ
۱۵۵)
نوٹ بعض کتابوں میں اس باب کا عنوان ’’ھذہ الامۃ ‘‘ کی بجائے’’ ھذہ الدنیا‘‘کے الفاظ سے آیا ہے اور یہ دونوں الفاظ مبارکہ احادیث مذکوربالا موجود ہیں ۔ اس فقیر کے زیر نظر جو کتاب ہے اس میں چونکہ ’’ھذہ الامۃ‘‘ کے الفاظ ہیں لہٰذا باب کا عنوان انہی الفاظ میں نقل کیا گیا ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی کرم اﷲ وجہہ الکریم انت اعز علی
من فاطمۃ و فاطمۃ احب الی منک
’’ اب باب میں اس حدیث شریف کا ذکر ہے کہ جس میں ارشاد ہے کہ اے علی المرتضیٰ3تو عزیز ہے میرے نزدیک فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے اور
فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا مجھے تجھ سے محبوب تر ہے ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۴۵؍۱ اخبرنی زکریا۱؂ بن یحیے قال حدثنا ابن ابی عمر۲؂ قال حدثنا سفیان۳؂ عن ابن ابی نجیح۴؂ عن ابیہ۵؂ عن رجل قال قال سمعت علیا علی المنبر بالکوفۃ یقول خطبت الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فاطمۃ علیھا السلام فزوجنی فقلت یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم انا احب الیک ام ھی فقال ھی
احب الی منک و انت اعزالی منھا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۵
۱؂: زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲:۱
۲؂: ابن ابی عمر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۱:۲
۳؂: سفیان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۵:۳
۴؂: ابن ابی نجیح:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۶:۵
۵؂: ابیہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۶:۶

ترجمہ ایک صاحب سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب علی3 سے سنا جب کہ وہ کوفہ میں منبر پر فرما رہے تھے کہ میں نے جنابہ فاطمہ علیہا السلام کے نکاح کا پیغام جناب رسول اﷲ3کو بھیجا تو نبی کریم3نے ان کا نکاح مجھ سے کردیا۔ تو میں نے عرض کی یارسول اﷲ3! کیا آپ کے نزدیک میں محبوب ہوں یا فاطمۃ (الزہرا رضی اﷲ عنہا)؟ تو ارشاد فرمایا وہ تجھ سے محبوب ہے اور تو مجھ کو اس سے عزیز تر ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی کرم اﷲ وجھہ الکریم ما سألت لنفسی شےئا الا و قد سألت لک
’’ اس باب میں نبی کریم 3 کے حضرت علی المرتضیٰ کے حق میں ان ارشادات کا بیان ہے کہ جو کچھ میں اپنے لئے مانگتا ہوں وہی تیرے لئے مانگتا ہوں‘‘
(اس باب میں دو احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۴۶؍۱ انبأنا عبد الاعلی۱؂ بن واصل قال حدثنا علی۲؂ بن ثابت قال حدثنا منصور۳؂ بن ابی اسود عن یزید۴؂ بن ابی زیاد عن سلیمان۵؂ بن ابی عبداﷲ بن الحارث عن جدہ۶؂ عن علی۷؂ قال مرضت فعادنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۶
۱؂: عبدالاعلیٰ بن واصل بن عبدالاعلیٰ:عبدالاعلیٰ بن واصل بن عبدالا علیٰ الاسدی ، الکوفی ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ کے اکابرین سے ہے۔ ۲۴۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۹۵)
۲؂: علی بن ثابت: علی بن ثابت الدھان العطار الکوفی صدوق ہے۔ طبقہ العاشرہ کے اکابرین سے ہے۔ ۲۱۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۴۴)
۳؂: منصور بن ابی اسود: منصور بن ابی اسود اللیثی الکوفی کے والد کا نام حازم ہے۔ یہ صدوق ہے اور رمی بالتشیع ہے۔ طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۴۷)
۴؂: یزید بن ابی زیاد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۳
۵؂: سلیمان بن ابی عبد اﷲ: سلیمان بن ابی عبد اﷲ بن الحارث الہاشمی مجہول الحال ہے اور طبقہ السابعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۱۳۴)
۶؂: جدہ:یہ سلیمان کا دادا الحارث بن نوفل بن الحارث ابن عبدالمطلب الہاشمی المکی ہے۔ صحابی ہے، بصرہ میں رہائش رکھتا تھا۔ حضرت عثمان ص کی خلافت کے آخر میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۶۱)
۷؂: علی المرتضیٰص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶
وسلم فدخل علی و انا مضطجع فاتکی الی جنبی ثم سجانی بثوبہ فلما رای قد ھدیت قام الی المسجد یصلی فلما قضی صلوتہ جآء فرفع الثوب عنی وقال قم یا علی (فقد برأت فقمت کان) لم اشتک شےئا قبل ذالک فقال ما سئلت ربی شےئا
فی صلاتی الا اعطانی وما سئلت لنفسی شیا الا قد سئلتہ لک

ترجمہ جناب علی المرتضیٰ3 سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہواتو حضور رسول کریم3میری عیادت کو تشریف لائے اور اندر آگئے در آنحا لیکہ میں لیٹا ہو ا تھا۔ پس حضور3نے میرے پہلو سے تکیہ لگایا پھر اپنے کپڑے کے ساتھ مجھے ڈھانپ دیا پس جب دیکھا کہ مجھے سکون آیا تو مسجد کو تشریف لے گئے تاکہ نماز پڑھیں۔ جب نماز ادا کرچکے تشریف لائے پھر مجھ پر سے (وہ ) کپڑا ہٹایا اور ارشاد فرمایا، اے علی ! اٹھ کھڑا ہو، میں کھڑا ہوا۔ اس حال میں کہ تندرست تھاگویا مجھے کوئی بیماری اس سے پیشتر تھی ہی نہیں۔ پس ارشاد فرمایا میں نے جب بھی اپنے رب تعالیٰ سے نماز میں کوئی چیز مانگی تو اس (جل جلالہ) نے مجھے عطا فرمائی اور (اے علی3 ) میں نے اپنے لئے اﷲ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں مانگی مگر وہ چیز میں نے تیرے لئے بھی مانگی۔

حل لغت ضجع: زمین پر پہلو لگانا، ڈوبنے کے قریب ہونا۔ تسجےۃ: ڈھاپنا۔ ھدأ، یھدأ، ھدأ و ھدوی: سکون ہونا، آرام پانا۔

تشریح ارشاد ہے’’ پھر اپنے کپڑے کے ساتھ مجھے ڈھانپ دیا‘‘ یعنی اپنی چادر مبارک مجھے اوڑھا دی جس سے آپصکو آرام آگیا۔ ارشاد ہے ’’ (اے علی3 ) میں نے اپنے لئے اﷲ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں مانگی مگر وہ چیز میں نے تیرے لئے بھی مانگی ‘‘ یعنی یہ کتنی عظیم فضیلت اور بزرگی ہے کہ جو چیز پیغمبر اسلام3اپنے لئے اﷲ تبارک و تعالیٰ سے طلب فرماتے وہی شے جناب سیدنا علی المرتضیٰ3 کیلئے بھی طلب فرماتے ہیں۔ آنحضرت3کی جناب علی المرتضیٰ3 کے ساتھ انتہائی محبت کا اظہار ہو رہا ہے۔
قال عبد الرحمن خالفہ جعفر الاحمر فقال عن یزید بن ابی زیاد عن عبداﷲ بن الحرب عن علی

حد یث نمبر
۱۴۷؍۲ اخبرنا القاسم۱؂ بن زکریا بن دینار قال حدثنا علی۲؂ بن قادم عن جعفر۳؂ الاحمر عن یزید۴؂ بن ابی زیاد عن عبد اﷲ۵؂ بن الحارث قال قال لی علی
(اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۷ ،اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے )
قال وجعت وجعا شدیدا فاتیت النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فانا می فی مکانہ وقام یصلی و القی علی طرف ثوبہ ثم قال قم یا علی فقد برئت لاباس علیک وما دعوت اﷲ لنفسی شےئا الا دعوت لک بمثلہ و ما دعوت شےئا الا قد استجیبت لی
او قال اعطیت الا انہ قیل لی لانبی بعدک

ترجمہ عبداﷲ بن حارث سے روایت ہے اس نے کہا کہ مجھے جناب علی (المرتضیٰ3 ) نے فرمایا میں بہت ہی بیمار ہو گیا تو میں نبی کریم3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آنحضرت3نے مجھے اپنی جگہ سلا دیا۔ آنحضرت3نماز پڑھنے لگے اور مجھ پر اپنی چادر مبارک کا ایک کنارہ ڈال دیا۔ پھر ارشاد فرمایا اے علی اٹھ، تجھ سے بیماری چلی گئی اب تجھے کوئی (بیماری ) کا ڈر نہیں اور میں اپنے لئے اﷲ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں مانگتا ہوں مگر اسی طرح کی چیز تیرے لئے بھی مانگتا ہوں اور میں نے ( اﷲ تعالیٰ سے ) کوئی دعا نہیں مانگی، مگروہ دعا میرے لئے قبول ہوئی یا فرمایا مجھے وہ شے (اﷲ تعالیٰ نے) عطافرمائی مگر یہ کہ مجھے کہا گیا کہ تیرے بعد کوئی نبی نہیں۔

تشریح ارشاد ہے’’ مگر یہ کہ مجھے کہا گیا کہ تیرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘ یعنی چونکہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہے لہٰذا اے علی3 میں تیرے لئے یہ دعا نہیں کر سکتا۔







اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۷
۱؂: قاسم بن زکریا بن دینار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۱
۲؂: علی بن قادم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۰:۲
۳؂: جعفر الاحمر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۳:۵
۴؂: یزید بن ابی زیاد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۳
۵؂: عبد اﷲ بن حارث:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۶۵:۷

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خص بہ النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی کرم اﷲ وجھہ الکریم
’’ اس باب میں ان ارشادات کا ذکر ہے جو کہ صرف علی 3کیلئے ہی فرمائے ‘‘
(اس باب میں دو احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۴۸؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن حرب قال حدثنا قاسم۲؂ و ھو ابن یزید قال حدثنا لی سفیان۳؂ عن ابی اسحاق۴؂ عن ناجےۃ۵؂ بن کعب الاسدی عن علی۶؂ انہ اتی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال ان عمک الشیخ الضال قدمات فمن یواریہ قال اذھب فواز ایاک و لا تحدثن حدیثا حتی تأتینی قال ففعلت ثم اتیتہ
فامرنی ان اغتسل و دعا لی بدعوات ما یسر نی ما علی وجہ الارض بشیے منھن

ترجمہ جناب علی المرتضیٰ ص سے روایت ہے یہ کہ وہ جناب رسول کریم3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی آپ3کی محبت میں وارفتہ آنجناب3کے بزرگ چچا انتقال فرماگئے ہیں۔ سوان کو کون دفنائے ؟ ارشاد فرمایا اے علی (3 )تو خود جا اور اسے دفن کر، جب تک تو میرے پاس واپس نہ آجائے کوئی بات نہ کر۔ جناب علی المرتضیٰ(3 ) نے فرمایا کہ جس طرح حضور3نے حکم فرما یا تھا میں نے کیا پھر میں حضرت رسول کریم3 کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا۔ پھر مجھے حکم فر مایا کہ جا نہا لے اور میرے لئے دعا فرمائی ایسی دعائیں فرمائیں کہ زمین کی تمام نعمتوں کے مقابلہ میں وہ دعائیں مجھے بھلی لگتی ہیں۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۸
۱؂: احمد بن حرب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۱
۲؂: قاسم بن یزید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۲
۳؂: سفیان:یہ سفیان بن سعید بن مسروق الثوری ہے، اس کی کنیت ابوعبد اﷲ کوفی ہے۔ ثقہ ، حافظ ، فقیہہ ، عابد ، امام (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے )

تشریح ارشاد ہے ’’ آنجناب3کے بزرگ چچا انتقال فرماگئے ہیں‘‘ یعنی میرے والد محترم جناب ابو طالب کا انتقال ہوگیا ہے۔ ارشاد ہے’’ جب تک تو میرے پاس واپس نہ آجائے کوئی بات نہ کر‘‘ یعنی بس تو نے اور کوئی دوسرا کام نہیں کرنا ہے اور نہ ہی کسی اور کی طرف متوجہ ہونا ہے سوائے اس بات کے کہ اپنے والد محترم کو دفن کر کے میرے پاس واپس آنا ہے۔ ایک روایت میں ہے ’’جب ابوطالبص فوت ہوئے تو اس کی اطلاع دینے کیلئے حضرت علی المرتضیٰ3 حضور 3 کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اﷲ 3 آپ کی محبت میں وارفتہ آپ کے بزرگ چچا انتقال کر گئے ہیں۔ تو حضور3رونے لگے اور فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے اور اس پر رحم فرمائے، جاؤ اور اس کو غسل دو اور تکفین و تدفین کا بندوست کرو اور جب فارغ ہوجاؤ تو سب سے پہلے ہمیں آکر ملو۔ جب فارغ ہو کر واپس آئے تو رسول اﷲ3نے آپ کو فرمایا پہلے جا کر غسل کرو پھر ایسی دعائیں دیں جو بقول سیدنا علی المرتضیٰ ص ان کیلئے دنیا اور مافیہا سے بہتر تھیں‘‘ ۔ ’’سیرت حلبیہ‘‘ ، ’’تاریخ الخمیس‘‘ اور ’’مدارج النبوۃ‘‘ سے ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام3نے جناب ابوطالب کے جنازہ میں بھی شرکت فرمائی۔ چنانچہ ’’سیرت حلیبہ‘‘
۶؍۴۷میں ہے
’’ و اما روی عنہ انہ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم عارض جنازۃ عمہ ابی طالب
فقال صلتک رحم و جزیت خیرا یا عم ‘‘ 
مگر روایت ہے کہ رسول اﷲ3اپنے چچا ابو طالب کے جنازہ کے ہمراہ تشریف لے گئے اور فرمایا اے چچا آپ نے حق صلہ رحمی ادا کردیا، اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔
’’تاریخ الخمیس‘‘
۱؍۳۶ مؤلفہ حسین بن محمدبن حسین دیار بکری لکھتے ہیں
’’ قال ابن عباس عارض رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم جنازۃ ابی طالب
و قال صلتک رحم جزاک اﷲ خیرا یاعم‘‘ 
یعنی ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضور3جناب ابو طالب کے جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے اور فرمایاآپ نے صلہ رحمی کی، اے چچا جان! اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے‘‘ ۔ 
بقیہ حاشیہ: اور حجۃ ہے۔ طبقہ السابعۃ کارئیس ہے۔وکان ربما دلس۔
۱۶۱ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۲۸)
۴؂: ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۵؂: ناجےۃ بن کعب الاسدی۔ناجیہ بن کعب الاسدی ثقہ ہے۔ طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ایضا ووھم من خلطہ بالاول۔(التقریب،صفحہ ۳۵۵)
۶؂: علی المرتضیٰص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶
حضرت شیخ الہند شاہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی3’’مدارج النبوۃ ‘‘شریف جلد
۲ صفحہ ۶۹ میں تحریر فرماتے ہیں
’’ و نیز آور دہ کہ سیدِ عالم 3 ہمراۂ جنازۂ ابو طالب میرفت ومی گفت اے عمِ من صلہ رحم بجا آوردی و درحق تقصیر نہ کردی ، خدائے تعالیٰ ترا جزائے خیردہاد‘‘ 
یعنی روایات میں آتا ہے کہ سیدِ عالم3حضرت ابوطالب کے جنازہ کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اے میرے چچا! آپ صلہ رحمی بجالائے اور میرے حق میں آپ نے کوئی کمی یا غلطی نہیں کی اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
اور حضور3نے آپ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی کہ اس وقت نماز جنازہ مشروع نہیں تھی۔ صاحبِ ’’سیرت حلبیہ‘‘
۱؍۴۰ پر لکھتے ہیں 
’’ و فی کلام بعضھم صلاۃ الجنازۃ فرضت فی السنۃ الاولی من الھجرۃ و انہ مات قبل خدیجۃ رضی اﷲ عنھا ای بثلاثۃ ایام و دفن بالحجون و لم تکن الصلوۃ علی الجنازۃ شرعت‘‘
یعنی بعض کے کلام میں ہے کہ نمازِ جنازہ ہجرت کے پہلے سال فرض ہوئی اور ابو طالب حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے تین یوم پہلے فوت ہوئے اورحجون میں دفن ہوئے اور نماز جنازہ (اس وقت) مشروع نہیں تھی۔ارشاد ہے ’’کہ زمین کی تمام نعمتوں کے مقابلہ میں وہ دعائیں مجھے بھلی لگتی ہیں‘‘ یعنی تمام جہان کی سب نعمتیں ایک طرف اور میرے لئے حضور پاک3کی وہ دعائیں جو مجھے دی ہیں اس کے مقابلہ میں وہ سب نعمتیں ہیچ ہیں۔ اور دنیا کی وہ تمام نعمتیں میری نظر میں کوئی وقعت اور قیمت نہیں رکھتیں، اور دنیا اور مافیہا سے وہ مبارک دعائیں بہتر ہیں۔

حد یث نمبر
۱۴۹؍۲ انبأنا محمد۱؂ بن المثنی عن ابی داود۲؂ قال اخبرنی شعبۃ۳؂ قال اخبرنی فضیل۴؂ ابو معاذ عن الشعبی۵؂ عن علی۶؂ قال لما رجعت الی النبی صلی اﷲ
علیہ والہ وسلم قال لی کلمۃ ما احب بھا الدنیا

ترجمہ جناب علی المرتضیٰ 3 سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب میں نبی کریم3کی خدمتِ اقدس میں لوٹ کر آیا تو آپ3نے مجھے ایک بات ارشاد فرمائی۔ اس بات کے مقابلہ میں میں دنیا کو پسند نہیں کرتا۔

( اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۹، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے )

تشریح ارشاد ہے کہ ’’ اس بات کے مقابلہ میں میں دنیا کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی جس وقت میں اپنے والد محترم کو دفن کر کے واپس سیدِ عالمین3کی خدمت میں حاضر ہوا تو آنجناب3نے مجھے ایک ایسی بات ارشادفرمائی کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی سب نعمتیں میری نظر میں ہیچ ہیں اور مجھے قطعاً دنیا سے محبت نہیں رہی۔یعنی اپنے والد گرامی مرتبت کی اس آخری خدمت(تدفین) کے بعد آپ3نے جناب علی المرتضیٰ 3کو ایسی گراں قدر، عظیم الشان اور جلیل القدر دعا دی جسے امام الاولیاء سیدنا علی المرتضیٰ3اپنے لئے سرمایہ افتخار سمجھتے تھے اور اس دعائے نبویہ 3کے سامنے دنیا اور اس کی تمام نعمتیں پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں اور حضور3کی دعا بارگاہ الٰہی میں مقبول ہے۔ اس سے امام الاولیاء 3 کے عظیم الشان مقام و منصب پر روشنی پڑتی ہے اور اس سے آنجناب 3کی دنیا سے بے رغبتی کا بھی پتہ چلتا ہے۔












اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۹
۱؂: محمد بن المثنی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۱
۲؂: ابی داؤد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۲:۲
۳؂: شعبۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۳
۴؂: فضیل: یہ فضیل بن میسرہ ہے۔ ابو معاذ اس کی کنیت ہے، البصری ہے، صدوق ہے، طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۷۷)
۵؂: الشعبی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۱:۵
۶؂: علی المرتضیٰ ص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خص بہ علی کرم اﷲ 
وجہہ من صرف اذی الحر و البرد
’’ اس باب میں جناب سید نا امیر المومنین علی المرتضیٰ3کی اس خاص خصوصیت کا ذکر ہے کہ آپ ص کا وجود مبارک گرمی اور سردی کی ایذا سے محفوظ تھا ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۵۰؍۱ اخبرنا محمد۱؂ بن یحیے بن ایوب بن ابراھیم قال حدثنا ھاشم۲؂ بن مخلد الثقفی عن ایوب۳؂ بن ابراھیم قال محمد بن یحیے و ھوجدی عن ابراھیم۴؂ الصایغ عن ابی اسحق۵؂الھمدانی عن عبد الرحمن۶؂ بن ابی لیلی ان علیا خرج علینا فی حرشدید و علیہ ثیاب الشتآء و خرج علینا فی الشتآء و علیہ ثیاب الصیف ثم دعا بمآء فشرب ثم مسح العرق عن جبھتہ فلما رجع الی ابیہ قال یاابت ارأیت ما صنع امیر المؤمنین کرم اﷲ وجھہ الکریم خرج علینا فی الشتآء و علیہ ثیاب الصیف و خرج علینا فی الصیف و علیہ ثیاب الشتآء قال ابو لیلی ھل تطیب و اخذ بید ابنہ عبدالرحمن فاتی علیا فقال لہ علی ان النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کان بعث الی و انا ارمد شدید الرمد فبزق فی عینی ثم قال افتح عینیک ففتحتھما فما اشتکیتھا حتی الساعۃ و دعالی فقال اللھم اذھب عنہ الحر والبرد فما وجدت
حرا ولا بردا حتی یومی ھذا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۵۰
۱؂: محمد بن یحییٰ: محمد بن یحیےٰ بن ایوب بن ابراہیم الثقفی کی کنیت ابویحیےٰ المروزی ہے۔ القصری ہے، المعلم، ثقہ اور حافظ ہے طبقہ العاشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۲۳) (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 
ترجمہ ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ بے شک جناب علی المرتضیٰ(3 ) بہت ہی سخت گرمی میں ہم پر تشریف لائے اس حال میں کہ آپصسردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے،اور سردی میں ہم پر تشریف لائے اس حال میں کہ آپ صگرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے پھر پانی مانگا، پھر اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا۔پس جب عبدالرحمن اپنے والد کیطرف واپس لوٹ کر آیا تو اس نے کہا کہ اے ابا جان آپ بتائیے کہ امیر المومنین3 نے یہ کیاکیِا ہے کہ سردی میں ہم پر تشریف لائے درآنحا لیکہ گرمی کا لباس پہنے ہوئے تھے اور گرمی میں ہم پر تشریف لائے درآنحالیکہ سردی کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ ابو لیلیٰ نے کہا کہ تو دل لگی کرتا ہے اور اپنے بیٹے عبدالرحمن کا ہاتھ پکڑ کر جناب علی المرتضیٰ ص کے پاس لے آیا ، تو جناب علی المرتضیٰ3نے اسے فرمایا یہ کہ جناب حضر ت نبی کریم3نے کسی شخص کو میرے پاس بھیجا (یعنی مجھے بلایا) اور اس وقت میری آنکھیں بہت ہی سخت دکھ رہی تھیں۔ تو حضور3نے اپنا لعابِ دہن میری آنکھوں پر لگایا پھر ارشاد فرمایا اپنی آنکھیں کھول دے۔ پس میں نے آنکھیں کھولیں تو اس وقت مجھے آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی اور میرے لئے دعا فرمائی۔ سو فرمایا اے میرے اﷲ ! اس(علی3 ) کو گرمی کی حرارت اورسردی کی ٹھنڈک سے محفوظ رکھ۔ پس اس کے بعد آج تک نہ تو مجھے گرمی لگتی ہے اور نہ سردی۔
حل لغت حر: گرمی۔ثیاب: کپڑے۔ الشتآء: سردی۔ الرمد: آنکھ دکھنا ، آشوب چشم والا۔ 
بزق: تھوکنا، لعابِ دہن لگانا۔
تشریح ارشاد ہے’’ آپصنے سردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ‘‘ یعنی انتہائی گرمی میں بہت ہی گرم لباس زیب تن فرمائے ہوئے تھے۔ ارشاد ہے’’ آپصگرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ‘‘ یعنی سردی میں نہایت ہلکے پھلکے کپڑے پہنے ہوئے تھے ‘‘ ارشادہے ’’ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا ‘‘ یعنی انتہائی سردی میں آپصکی پیشانی مبارک سے پسینہ نچڑ رہا تھا۔ ارشاد ہے ’’ اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر جناب علی المرتضیٰصکے پاس لے آیا‘‘ یعنی وہ سارا واقعہ جناب سیدنا علی المرتضیٰصکے متعلق جو اس کے بیٹے نے کہا تھا آپصکی خدمت میں عرض کر دیا۔ ارشاد ہے ’’ میری آنکھیں بہت ہی سخت دکھ رہی تھیں‘‘ یعنی یہ جنگِ خیبر کا واقعہ ہے جس کی تفصیل گزشتہ صفحات میں پیش 

بقیہ حواشی:
۲؂: ہاشم بن مخلد الثقفی: ہاشم بن مخلد بن ابراہیم الثقفی المروزی ہے، البزار ہے، صدوق ہے اور طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ (التقریب صفحہ ۳۶۲)
۳؂: ایوب بن ابراہیم: ایوب بن ابراہیم الثقفی کی کنیت ابویحیےٰ ہے اور عبدویہ لقب ہے صدوق ہے طبقہ العاشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ۴۰)
۴؂: ابراہیم الصائغ: ابراہیم بن میمون الصائغ المروزی ہے ،صدوق ہے، طبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۳۱ ؁ہجری میں قتل ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۴)
۵؂: ابی اسحاق(السبیعی): ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳:۶
کی جاچکی ہے۔ ارشاد ہے ’’مجھے آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی ‘‘ یعنی آپ3کے لعابِ دہن کی بدولت مجھے ایسی شفاء ہوئی کہ ایک تو فوراً آرام ہوگیا اور دوسرا پھر آنکھوں کا درد ہی نہیں ہوا۔ ارشاد ہے ’’ اس کے بعد آج تک نہ تو مجھے گرمی لگتی ہے اور نہ سردی ‘‘ یعنی حضور3کی دعا کی برکت ہے کہ نہ تو مجھے گرمی ستاتی ہے اور نہ لگتی ہے اور نہ ہی سردی۔ یہ خصوصیت کسی اور کیلئے نہیں جو کہ جناب امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیٰ3 کی ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خفف بامیر المؤمنین 
علی ابن ابی طالب عن ھذہ الامۃ
’’ اس باب میں اس بات کا ذکر ہے کہ جناب علی 
المرتضیٰ 3 کے طفیل اس اُمت پر تخفیف کی گئی ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۵۱؍۱ اخبرنی محمد۱؂ بن عبد اﷲ بن عمار قال حدثنا قاسم۲؂ الجرمی عن سفیان۳؂ عن عثمان۴؂ وھو ابن المغیرۃ عن سالم۵؂ عن علی۶؂ ابن علقمۃ عن علی۷؂ قال لما نزلت یا ایھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول فقد موابین یدی نجوکم صدقۃ قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی مرھم ان یتصد قواقال بکم یارسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال بدینارقال لا یطیقون قال فنصف دینار قال لا یطیقون قال فبکم قال بشعیرۃ فقال لہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم انک لزھید فانزل اﷲ تعالی ااشفقتم ان تقدموابین یدی
نجوکم صدقت و کان علی رضی اﷲ تعالی عنہ یقول بی خفف عن ھذہ الامۃ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۵۱
۱؂: محمد بن عبد اﷲ بن عمار: محمد بن عبد اﷲ بن عمار الخزاعی کی کنیت ابو جعفر ہے۔ آپ موصل میں رہائش پزیر رہے۔ ثقہ ، حافظ اور طبقہ العاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۲۴۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۵)
۲؂: قاسم الجرمی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۲
۳؂: سفیان(الثوری):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴۷:۳ 
۴؂: عثمان بن مغیرہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۵:۴
۵؂: سالم: سالم بن ابی الجعد رافع الغطفانی الاشجعی الکوفی ہے۔ ثقہ ہے وکان یرسل کثیرا طبقۃ الثالثۃ سے ہے۔ ۹۷ہجری یا ۹۸ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۱۴) (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 
ترجمہ جناب علی المرتضیٰص سے روایت ہے کہ جس وقت یہ آےۂ کریمہ اُتری’’ اے ایمان والو! جب تم حضرت رسول اﷲ3سے کوئی بات آہستہ کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو‘‘ آنحضرت3 نے (جناب) علی (المرتضیٰ3 ) کو فرمایا کہ ان کو امر کرو کہ صدقہ دیں۔ عرض کیا یا رسول اﷲ3کس قدر؟ ارشاد فرمایا کہ ایک دینار۔ عرض کیا کہ جناب! اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا کہ آدھا دینار۔ عرض کیا کہ جناب اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا پھر کس قدر۔ عرض کیا جناب! ایک جو بھر سونا۔ جناب حضرت رسول کریم رحمت للعالمین3نے انہیں ارشاد فرمایا ، بے شک تو بہت بے رغبتی کرنے والا ہے، تو اﷲ تعالیٰ نے یہ حکم اتارا ’’کیاتم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دو‘‘ اور جناب علی المرتضیٰ ص فرماتے تھے کہ میری طفیل اس امت پر یہ تخفیف کی گئی ہے۔
حل لغت الزھید : کم ، حقیر ، تنگ خو، آخرت کی محبت کی وجہ سے دنیا سے بے رغبت۔

تشریح ارشاد ہے’’ ان کو امر کرو کہ صدقہ دیں‘‘ یعنی جب سرگوشی کرنا چاہیں تو اس سے پہلے کچھ نہ کچھ ضرور صدقہ خیرات کریں۔ ارشاد ہے ’’ یا رسول اﷲ3کس قدر؟ ‘‘ یعنی جناب سیدنا علی المرتضیٰ ص نے دریافت کیا کہ صدقہ کی مقدار کتنی ہو۔ ارشاد ہے ’’ایک جو بھر سونا‘‘ یعنی معاف فرمادیجئے کیونکہ ایک جو بھر سونا بہت ہی کم مقدار ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ارشاد ہے ’’ تو بہت بے رغبتی کرنے والاہے‘‘ یعنی اے علی المرتضیٰ3 تجھ پر تو آخرت کی محبت اتنی غالب ہے کہ تو اس دنیا کی ہوس اور مال و دولت کے حصول سے قطعاً منہ موڑ چکا ہے اور بے رغبت ہے۔ ارشاد ہے ’’ کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو‘‘ یعنی تم اپنی ناداری اور مفلسی کی وجہ سے ڈر گئے کہ اب تمہیں پیغمبر اسلام3کے حضور میں باریابی کا موقع نہ ملے گا اور اپنے مسائل حضرت رسول کریم3کی خدمتِ عالیہ میں پوشیدہ طور پر بیان کرنے کا وقت نہ ملے گا تو اﷲ تعالیٰ نے یہ حکم موقوف فرما دیا۔ ارشاد ہے ’’ اور جناب علی المرتضیٰ3 فرماتے تھے کہ میری طفیل اس اُمت پر یہ تخفیف کی گئی ہے ‘‘ یعنی حضور انور3کی خدمتِ عالیہ میں میری بار بار گزارش کرنے سے یہ حکم موقوف ہوا۔ صاحب ’’روح المعانی‘‘ اپنی تفسیر کی جلد
۲۸ صفحہ ۲۸ مطبوعہ ایران ،اس آےۂ کریمہ کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں

بقیہ حواشی:
۶؂: علی بن علقمہ: علی بن علقمہ الانماری الکوفی مقبول ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔(التقریب،صفحہ ۲۴۷)یہ حضرت علیص اور ابن مسعودص سے روایت کرتاہے اور اس سے سالم بن ابی الجعد روایت کرتا ہے۔ امام بخاری نے کہا ’’فیہ نظر‘‘ ابن حبان نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ عقیلی اور ابن جارود نے اسے تبعا للبخاری علی العادۃ ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۷ صفحہ ۳۶۵)
۷؂: علی المرتضیٰص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶
’’ اخرج الحاکم و صححہ ابن المنذر وعبد بن حمید و غیر ھم عنہ کرم اﷲ وجہہ انہ قال ان فی کتاب اﷲ لایہ ما عمل بھا احد قبلی ولا یعمل بھا احد بعدی اےۃ النجوی یا ایھا الذین امنوا اذا نا جیتم الرسول کان عندی دینار فبعتہ بعشرۃ دراھم فکنت کلمانا جیت النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قدمت بین 
یدی نجوا ی درھما ثم نسخت فلم یعمل بھا احد فنزلت ااشفقتم الاےۃ‘‘
’’یعنی ابن المنذر اور عبد بن حمید وغیرہم نے جناب علی المرتضیٰصسے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ یقیناًاﷲ تعالیٰ کی کتاب میں ایک ایسی آےۂ کریمہ ہے (کہ اس کے نازل ہونے پر) مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ ہی میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گا۔ وہ آیہ کریمہ آیت ’’ النجویٰ‘‘ ہے۔ یعنی اے ایمان والو! جب تم حضرت رسول اﷲ3سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو۔۔ الخ۔ جب یہ آیت اتری تو اس وقت میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اسے تڑوایا تو دس درہم ملے۔ پھر ایک ایک سرگوشی پر ایک ایک درہم صدقہ کیا۔ تو یہ آیۂ کریمہ ڈرے تم ۔۔الخ، اتری تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ گویا میرے بعد کسی نے بھی اس آیت پر عمل نہیں کیا ‘‘ (اخرج الحاکم وصححہ ) اﷲ تعالیٰ نے حضور3کے طفیل اس عزت سے جناب سیدنا علی المرتضیص کو ہی سرفرازفرمایا کہ قرآن حکیم کی اس آےۂ مبارکہ پر کسی اور صحابی کو عمل کرنے کا موقع نصیب نہیں ہوا۔ ابن مردویہ ، جناب عبداﷲ بن عمر ص سے تخریج فرماتے ہیں کہ ابن عمر ص فرماتے ہیں کہ جناب علی المرتضیٰ (3 ) میں تین باتیں ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے حاصل ہوتی تو مجھے سرخ پشم والے اونٹ سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ ’’تزویجہ فاطمۃ واعطا الرأےۃ و اےۃ النجوی ‘‘ جناب سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا سلام اﷲ علیہا سے ان کا نکاح ہونا اور (خیبر کے موقع پر ) ان کو علَم دیا جانا اور آیتِ نجویٰ کے ساتھ ان کا عمل کرنا‘‘۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر اشقی الناس
’’ اس باب میں اس ارشادِ گرامی کا ذکر ہے کہ 
آیا میں تمہیں سب سے زیادہ بد بخت شخص کے متعلق نہ بتاؤں ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

تشریح یعنی وہ آدمی سب سے بڑھ کر بدبخت آدمی ہے جو کہ سیدنا امیر المومنین حضرت علی ں کو شہید کرے گا۔

حد یث نمبر
۱۵۲؍۱ اخبرنی محمد۱؂ بن وہب ابن عبد اﷲ بن سماک قال حدثنا محمد۲؂ بن سلمۃ قال حدثنا ابن اسحاق۳؂ عن یزید۴؂ بن محمد بن خثیم عن محمد۵؂ بن کعب القرظی عن محمد۶؂ بن خثیم عن عمار۷؂ بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہ قال کنت انا وعلی ابن ابی طالب رفیقین فی غزوۃ فلما نزلھا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و اقام بھا راینا اناسا من بنی مدلج یعملون فی عین لھم اوفی نخل لھم فقال لی علی یا ابایقظان ھل تک ان تأتی ھؤلٓاء فتنظر کیف یعملون قال قلت ان شئت فجئناھم فنظرنا الی عملھم ساعۃ ط ثم غشینا النوم فانطلقت انا و علی حتی اضطجعنا فی ظل سور من النخلۃ فی دقعات من التراب فنمنا فواﷲ ما انتبھنا الارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یحرکنا برجلہ فقد تربنا من تلک الدقعات التی نمنا علیھا فیومئذ قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی یا ابا تراب لما یری مما علیہ من التراب ثم قال الا احدثکم باشقی الناس قلنا بلی یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال احمر ثمود الذی عقر الناقۃ و الذی یضربک یاعلی علی ھذہ و وضع یدہ
علی ضربۃ حتی تبل منھا ھذہ و اخذ بلحیتہ

ترجمہ عمار بن یاسرص سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور علی ابن ابی طالب ایک جہاد میں ہم سفر تھے تو حضور3ایک مقام پر اُترے او رٹھہرے (وہاں پر) ہم نے بنی مدلج کے لوگوں کو دیکھا۔ وہ اپنی نہر یا کجھوروں
(اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۵۲، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے )
(کے باغ) میں کام کر رہے تھے۔ تو (جناب) علی المرتضیٰ (ص) نے مجھے فرمایا کہ اے ابا یقظان ، کیا تیری مرضی ہے کہ ان لوگوں کے پاس جا کر تو دیکھے کہ یہ کس طرح کھیتی باڑی کرتے ہیں؟ تو میں نے کہا اگر آپ کی خواہش ہے تو ہم جا کر ان کے کھیتی باڑی کرنے کو دیکھیں۔ پس ہم نے کچھ دیر ان کی کارکردگی کو دیکھا۔ پھر ہم پر نیند کا غلبہ ہوا، تو میں اور علی المرتضیٰ(3 ) وہاں سے چلے یہاں تک کہ ہم مٹی کے ڈھیلوں میں لیٹ گئے جو کہ کھجور کی دیوار کے سائے میں پڑے ہوئے تھے، پس ہم دونوں سو گئے۔ پس قسم ہے اﷲ تعالیٰ کی! کہ حضور رسول کریم3کے سوا کسی نے ہم دونوں کو نہیں جگایا۔ ہمیں حضور3اپنے پاؤں مبارک سے حرکت دے رہے تھے۔ (جس کی وجہ سے ہم نیند سے بیدار ہوگئے) پس تحقیق ان ڈھیلوں سے جن پر ہم سوئے ہوئے تھے ہمار ا تمام جسم مٹی سے اٹ گیا تھا۔ تو اس دن حضرت رسول کریم3نے جناب علی المرتضیٰ(3 ) کو فرمایا اے مٹی کے باپ! جب ان پر مٹی ملاخطہ فرمائی۔ تو ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں بد بخت انسانوں میں سب سے زیادہ بد بخت کی خبر نہ دوں؟ ہم نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ3ضرور بتائیے۔ فرمایا قوم ثمود کا سرخ وہ شخص جس نے اونٹنی کی کھچیں کاٹ دی تھیں او روہ شخص علی (3 )جو کہ تمہیں اس مقام پر مارے گا، اور مارنے کے مقام پر ہاتھ رکھا یہاں تک کہ تربتر ہوگی اس کے مارنے سے اورآپ کی ڈاڑھی مبارک پکڑی۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۵۲
۱؂: محمد بن وہب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۳
۲؂: محمد بن سلمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۳
۳؂: ابن اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۴:۴
۴؂: یزید بن محمد: یزید بن محمد بن خثیم مقبول ہے۔ طبقہ السادسہ سے ہے (التقریب،صفحہ ۳۸۴)یہ محمد بن کعب القرظی سے روایت کرتا ہے اور وہ محمد بن خثیم سے روایت کرتا ہے، وہ عمار سے روایت کرتا ہے اور اس (یزید)سے محمد بن اسحاق روایت کرتا ہے۔ عثمان دارمی نے ابن معین سے روایت کی ہے ’’لیس بہ باس‘‘ بخاری نے کہا ’’لا یعرف سماع بعضہم من بعض‘‘ ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب،ج ۱۱ ص ۳۵۷ )
۵؂: محمد بن کعب القرظی: محمد بن کعب بن سلیم بن اسد القرظی المدنی ہے، ابو حمزہ اس کی کنیت ہے۔ پہلے کوفہ میں رہتا تھا پھر مدینہ آیا ثقہ ، عالم اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۲۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۱۶)
۶؂: محمدبن خثیم: اس کی کنیت ابو یزید المحاربی ہے۔ مقبول ہے ولد علی عہد النبی صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم طبقہ الثانیہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۹۶)
۷؂: عمار بن یاسرص : عمار بن یاسرص بن عامر بن مالک العنسی ہے ،ابو الیقظان کنیت ہے۔ بنی مخزوم کا مولیٰ ہے، صحابی جلیل ہے، مشہور ہے السابقین الاولین سے ہے، بدری ہے حضرت علی المرتضیٰ 3 کے ہمراہ رہا اور ۳۷ہجری میں صفین میں شہید ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۵۰)

حل لغت غشی ، اور غشی اور غشیان: بے ہوش ہونا ، غالب ہونا غشی کا۔ اضطجعنا : ہم لیٹ گئے۔ ظل: سایہ۔ سور: دیوار۔ دقعات: ڈھیلے ، خاک نشین ہونا۔ نوم: سونا ، نیند کرنا۔ تربنا: ہم خاک آلود ہو گئے، مٹی سے اَٹ گئے۔

تشریح ارشاد ہے’’ ہم نے بنی مدلج کے لوگوں کو دیکھا‘‘ یعنی حضور نبی کریم3نے جس مقام پر نزول اجلال فرمایا وہ بنی مدلج قبیلہ کے دیہات تھے۔ ارشاد ہے’’ وہ اپنی نہر یا کھجور وں ( کے باغ) میں کام کر رہے تھے ‘‘ یعنی اپنے باغات کو پانی دے رہے تھے یا باغات میں زمینداری میں مصروف تھے،اپنے کام کاج کر رہے تھے۔ ارشاد ہے ’’ اے ابا یقظان ‘‘ یعنی ابا یقظان جناب عمار بن یاسرص کی کنیت ہے۔ ارشاد ہے’’ حضرت رسول کریم3نے جناب علی المرتضیٰ (3 )کو فرمایا اے مٹی کے باپ‘‘ یعنی حضور3کے اس ارشادِ گرامی کی وجہ سے آپصکی کنیت ’’ ابو تراب‘‘ مشہور ہو گئی۔ ارشاد ہے’’ قوم ثمود کا سرخ وہ شخص جس نے اونٹنی کی کھچیں کاٹ دی تھیں ‘‘ یعنی بدبخت انسانوں میں قوم ثمود کا وہ سرخ بدبخت انسان تھا جس نے جناب صالح ں کی اونٹنی کی کھچیں کاٹ دی تھیں۔ ارشاد ہے’’ یہاں تک کہ تربتر ہوگی اس کے مارنے سے اور آپ کی ڈاڑھی مبارک پکڑی ‘‘ یعنی جناب سیدنا علی المرتضیٰ3 کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا اے علی3 وہ شخص انتہائی بد بخت ہے جو تجھے مارے گا اور تیری ڈاڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی اور مارنے کا مقام اپنے دست مبارک سے بتایا۔ اس ارشاد گرامی سے دو امور روزِ روشن کی طرح ثابت ہو رہے ہیں۔ ایک تو حضور سرورِ عالم و عالمیان3کا غیب کی خبر دینا، اور ایسی غیب کی خبر دینا جو کہ تقریباً تیس یا پینتیس سال بعد وقو ع پزیر ہورہی ہے اور دوسرا جناب سیدنا امیر المومنین علی المرتضیٰ3 کی شہادت۔ کتنا بدبخت ترین تھا وہ شخص جس نے جناب امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ3 کو شہید کیا۔

 

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکرمنزلۃ علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ و قربہ من النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ولزوقہ وحب رسول اﷲ
صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لہ
’’ اس باب میں حضرت علی ابن ابی طالب3 کے مرتبہ اور نبی کریم3کے ساتھ جو قربِ خاص تھا اور آپ ص کا جو انتہائی قریبی ملاپ تھا ، نیز نبی کریم 3کی جو آپ3 کے ساتھ خصوصی محبت تھی ،اس کا بیان ہے ‘‘
(اس باب میں دس احادیث شریف ہیں)
حل لغت لزوق: مل جانا، یک جان ہونا۔ صاحب ’’ِمصباح اللغات‘‘ نے صفحہ
۷۶۳پر لکھا ہے’’ اللزوق و لازوق ، زخم کا مرہم جو اچھے ہونے تک چپکا رہے‘‘۔

حد یث نمبر
۱۰۴؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا اسماعیل۲؂ بن مسعود 
البصری قال حدثنا خالد
۳؂ عن شعبۃ۴؂ عن ابی اسحاق۵؂ عن العلآء۶؂ قال سال رجل

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۴
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂:اسماعیل بن مسعود:اسماعیل بن مسعود الحجدری البصری کی کنیت ابو مسعود ہے، ثقہ ہے، طبقہ العاشرہ سے ہے، ۲۴۸ھ میں فوت ہوا (التقریب ص ۳۵)
۳؂: خالد:خالد بن حارث بن عبید بن سلیم الھجیے کی کنیت ابو عثمان البصری ہے۔ ثقہ ، ثبت اور طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ ۱۸۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ۸۷)
۴؂: شعبۃ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۳۵؂: ابی اسحق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: العلاء:العلاء بن عرار الخارفی الکوفی ہے اور اسحاق بن منصور، ابن معین سے روایت کرتا ہے کہ یہ ثقہ ہے۔ (تہذیب التہذیب، صفحہ۱۸۹)
ابن عمر عن عثمان قال کان من الذین تولوا یوم التقی الجمعان فتاب علیہ ثم اصاب ذنبا فقتلوہ و سالوہ عن علی فقال لا تسأل عنہ الا تری قرب منزلہ من رسول
اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم

ترجمہ علاء سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمرص سے جناب عثمان ص کے متعلق پوچھا، ابن عمرص نے فرما یا کہ وہ ان اصحاب میں سے تھے جنہوں نے منہ پھیرا اس دن جبکہ دو گروہ متقابل ہوئے تواﷲ تبارک و تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ پھر ان سے ایک لغزش ہوئی تو لوگوں نے انہیں شہید کر دیا اور اس شخص نے ان سے جناب علیصکے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا اس کے متعلق نہ پوچھ۔ کیاتو ان کا مرتبہ رسول کریم3کے قرب میں نہیں دیکھتا؟

تشریح ارشاد ہے ’’ اس دن جبکہ دوگروہ متقابل ہوئے ‘‘ یعنی مسلمان اور کافر اُحد کے دن جب آمنے سامنے ہوئے۔

حد یث نمبر
۱۰۵؍۲ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی ھلال۲؂ بن العلاء بن ھلال قال حدثنا حسین۳؂ قال حدثنا زھیر۴؂ عن ابی اسحاق۵؂ عن العلاء۶؂ بن عرار قال سألت عبداﷲ بن عمر ص فقلت الا تحدثنی عن علی و عثمان قال اما علی فھذا بیتہ من بیت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ولا احدثک عنہ بغیرہ و اما
عثمان فانہ اذنب ذنبا عظیما یوم احد فعفی اﷲ و اذنب فیکم ذنبا صغیرا فقتلتموہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۵
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: ہلال بن العلاء:ہلال بن العلاء بن ہلال بن عمرالباہلی کی کنیت ابو عمر الرقی ہے۔ صدوق ہے۔ طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے۔ محرم ۲۸۰ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۶۶)
۳؂: حسین:حسین بن عیاس بن حازم اسلمی کی کنیت ابوبکر الباجدائی ہے۔ ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۰۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۷۴)
۴؂: زہیر:زہیر بن معاویہ بن حدیج کی کنیت ابوخثیمۃ الجعفی الکوفی ہے ثقہ ہے۔ ثبت الا ان سماعہ ان ابی اسحاق بآخرہ۔ طبقہ السابعہ سے ہے۔ ۱۷۲ ؁ہجری یا ۱۷۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۱۰۹)
۵؂: ابی اسحاق: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲: ۴ ۶؂: العلاء بن عرار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۴:۶
ترجمہ علاء بن عرار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداﷲ بن عمرص سے پوچھا۔ پس میں نے عرض کیا آپ مجھے (حضرت ) علیص اور (حضرت) عثمان ص کے بارے میں کچھ بیان نہیں کریں گے؟ فرمایا خبردار رہ! (کیا تو نہیں جانتا) کہ یہ (حضرت) علیص کا گھر ہے جو کہ رسول اﷲ3کے گھر سے ملا ہوا ہے اس کے علاوہ اس کے متعلق میں تجھے اور کیابیان کر سکتا ہوں۔ اور خبردار رہ! (کیا تو نہیں جانتا) کہ حضرت عثمان (ذی النورینص) سے اُحد کے دن ایک بڑی لغزش ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے ان کی یہ لغزش معاف فرمادی اور تم میں ان سے ایک بہت ہی ہلکی سی لغزش واقع ہوئی تو تم نے اسے شہید کر دیا۔

تشریح ارشاد ہے’’ اس کے علاوہ اس کے متعلق میں تجھے اور کیا بیان کر سکتا ہوں ‘‘ یعنی اس سے زیادہ کمال قرب ، کمال فضیلت اور کمال حضورخاص اور کمال محبت اور کیا ہو سکتی ہے کہ جناب سید الانبیاء3نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ3کے مکان مبارک کو اپنے گھر میں ملا لیا تھا، یہی ان کی فضیلت پر کافی دلیل ہے۔ ارشاد ہے’’ اﷲ تعالیٰ نے ان کی یہ لغزش معاف فرمادی ‘‘ یعنی اس پر کوئی باز پرس یا مؤاخذہ نہیں فرمایا بلکہ عفو فرمایا۔

حد یث نمبر
۱۰۶؍۳ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا احمد۱؂ بن سلیمان الرھاوی قال حدثنا عبید اﷲ۳؂ قال انبأنا اسرائیل۴؂ عن ابی اسحاق۵؂ عن العلاء۶؂ بن عرار قال سألت بن عمر رضی اﷲ عنھما وھو فی مسجد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم عن علی و عثمان فقال اما علی فلا تسألنی عنہ و انظر الی قرب منزلۃ من النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ما فی المسجد بیت غیر بیتہ و اما عثمان فانہ اذنب ذنبا عظیما تولی یوم التقی الجمعان فعفی اﷲ عنہ و غفر لکم و اذنب فیکم ذنبا دون
ذلک فقتلتموہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۶
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: احمد بن سلیمان الرہاوی: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۱
۳؂: عبید اللہ (بن موسیٰ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۲
۴؂: اسرائیل:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۳
۵؂: ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: العلاء بن عرار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۴:۶

ترجمہ علاء بن عرار سے روایت ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے پوچھا اس وقت جبکہ وہ رسول کریم3کی مسجد شریف میں تشریف فرما تھے (حضرت) علی (ص) اور (حضرت) عثمان(ص) کے متعلق۔ فرمایا ، یاد رکھ (کیونکہ تو نہیں جانتا) کہ علی صجو ہیں انکے متعلق مجھ سے نہ پوچھ اور دیکھ حضورنبی کریم3کے نزدیک ان کے مرتبہ کو ،مسجد نبوی میں سوائے ان کے گھر کے کسی اور کا گھر نہیں۔اور یہ کہ جو (حضرت) عثمان ص ہیں سو یہ کہ ان سے ایک بڑی لغزش ہوئی کہ انہوں نے منہ پھیرا اس دن جب کہ دو گروہ مقابل ہوئے تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا اور مغفرت فرما دی اور تم میں نہایت ہی ہلکی لغزش ان سے ہوئی تو تم نے ان کو شہید کر ڈالا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ کہ مسجد نبوی میں سوائے ان کے گھر کے کسی اور کا گھر نہیں ‘‘ یعنی سوائے حضرت علی 3کے گھر کے دروازہ کے اور کسی صاحب ص کے گھر کا دروازہ مسجد کی طرف رکھنے کی اجازت نہیں۔ ترمذی شریف میں ایک حدیث ہے جس کے راوی ابن عباس رضی اﷲ عنہما ہیں۔ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم امر بسد الابواب الا باب علی (وقا ل ھذا حدیث غریب) وہ فرماتے ہیں’’ کہ رسول کریم3نے تمام دروازوں کے بند کرنے کا حکم فرمایا (جو مسجد نبوی میں کھلتے تھے) سوائے جناب علیص کے گھر کے دروازے کے‘‘
اسنادہ صحیح (ابو اسحاق الحوینی، تہذیب خصائص امام علی صفحہ
۹۰)

حد یث نمبر
۱۰۷؍۴ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا اسمعیل۲؂ بن یعقوب بن اسمعیل قال حدثنا ابن موسی۳؂ وھو محمد بن موسی بن اعین قال حدثنا ابی۴؂ عن عطاء۵؂ عن سعد ۶؂بن عبیدۃ قال جآء رجل الی ابن عمر فسألہ عن علی فقال لا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۷
۱؂: احمد بن شعیب: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: اسماعیل بن یعقوب: اسماعیل بن یعقوب بن اسماعیل بن صبیح الصبحی کی کنیت ابو محمد الحارثی ہے، ثقہ ہے اور طبقہ الحادےۃ عشرۃ سے ہے، ۲۸۰ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۵)
۳؂: ابن موسیٰ :اس کا نام محمد بن موسیٰ بن اعین الجذری ہے اور ابویحیےٰ الحرانی کنیت ہے۔ صدوق ہے، طبقہ العاشرہ کے کبار سے ہے۔ ۲۲۳ ؁ہجری میں فوت ہوئے۔ (التقریب،صفحہ۳۲۰)
بقیہ حاشیہ :
۴؂: ابی: یہ موسیٰ بن اعین الجذری ہے۔ ابو سعید اس کی کنیت ہے ، ثقہ ، عابداور طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ ۱۷۵ ؁ہجری یا ۱۷۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۴۹)
۵؂: عطاء:عطاء بن السائب الثقفی الکوفی کی کنیت ابو محمد ہے اور اسے ابو سائب الثقفی الکوفی بھی کہتے ہیں، صدوق ہے۔ (حاشیہ جاری ہے ) 

تسئلنی عن علی ولکن انظرالی بیتہ من بیوت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم
قال فانی ابغضہ قال ابغضک اﷲ عز وجل

ترجمہ سعد بن عبیدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن عمر کے پاس ایک شخص آیا۔ سو اس نے (جناب) علی (المرتضیٰ3 ) کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا (جناب) علی صکے متعلق مجھ سے نہ پوچھ مگر ہاں اس کے گھر کی طرف دیکھ کہ حضور3کے گھروں میں شامل ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں ان سے عداوت رکھتا ہوں۔ ابن عمر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا اﷲ عزو جل تمہیں دشمن رکھے گا۔

تشریح ارشاد ہے’’ اﷲ عزو جل تمہیں دشمن رکھے گا‘‘ یعنی جناب علی المرتضیٰ3 کی عداوت اور دشمنی اﷲ تبارک وتعالیٰ کی عداوت اور دشمنی ہے۔ خواجہ حافظ شیرازی فرماتے ہیں 
کانرا کہ دوستی علی نیست کافر است
گو زاہد زمانہ و گو شیخ راہ باش
اسنادہ صحیح (ابو اسحاق الحوینی، تہذیب خصائص الامام علی صفحہ
۹۰)
اسنادہ‘ حسن و الحدیث صحیح (احمد میرین البلوشی، خصائص امیرالمومنین صفحہ
۱۲۴)

حد یث نمبر
۱۰۸؍۵ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی ھلال۲؂ بن العلاء بن ھلال قال حدثنا حسین۳؂ بن عیاش قال حدثنا زھیر۴؂ قال حدثنا ابواسحق۵؂ قال سئل ابو عبدالرحمن بن خالد (قثم) بن عباس من این ورث علی رسول اﷲ صلی اﷲ
علیہ والہ وسلم قال انہ کان اولنا بہ لحوقا و اشدنا بہ لزوما

بقیہ حاشیہ: اختلط طبقہ الخامسۃ سے ہے۔
۱۳۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۳۹)
۶؂: سعد بن عبیدۃ: سعد بن عبیدۃ السلمی کی کنیت ابوحمزہ الکوفی ہے۔ ثقہ ہے،طبقہ الثالثہ سے ہے۔ عمرو بن ہبیرۃ کے دور حکومت میں عراق میں فوت ہوا۔(التقریب،صفحہ ۱۱۸)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۸
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: ہلا ل بن العلاء:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۲۳؂: حسین بن عیاش: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۳
۴؂: زہیر: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۴۵؂: ابواسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴

ترجمہ ابی اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابو عبدالرحمان بن خالد نے ابن عباس سے پوچھا(جناب) علی (المرتضی3 ) کس وجہ سے رسول3کے وارث ہوئے۔ فرمایا یقیناًوہ ہم میں سے حضور 3کے ساتھ سب سے پہلے ملنے والے تھے اور ہم میں حضور3کے ساتھ انتہائی طور پرہر وقت ساتھ رہنے والے تھے۔

حل لغت لحوق: لحق سے ہے جس کے معنی پالینا ، مل جانا ، پہنچ جانا ، لازم ہونا ، واجب الادا ہونے کے ہیں لزوم یا لزم یا لزام یا لزامۃ یا لزمان: ہمیشہ رہنا ، قائم رہنا ، واجب ہونا ،لئے رہنا ، پیدا ہونا ، حاصل ہونا۔

تشریح ارشاد ہے’’ ابو عبدالرحمن بن خالد نے ابن عباس سے پوچھا‘‘ یعنی قثم بن عباس سے پوچھا۔ ارشاد ہے ’’(جناب) علی (المرتضیٰ3 ) کس وجہ سے رسول کریم3کے وارث ہوئے ‘‘ یعنی کس وجہ سے سیدنا علی المرتضی3 حضور3کے ترکہ کے وارث ہیں۔ ارشاد ہے ’’ انتہائی طور پر ہر وقت ساتھ رہنے والے تھے ‘‘ یعنی اپنے خاندان میں سب سے پہلے حضور3کے ساتھی اور ہر وقت ہر آن اور ہر لمحہ حضور3کے ساتھ رہنے والے تھے۔ اسی لئے وہ ان کے وارث ٹھہرے۔

حد یث نمبر
۱۰۹؍۶ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا ھلال۲؂ بن العلاء قال حدثنا ابی۳؂ قال حدثنا عبید اﷲ۴؂ عن زید۵؂ عن ابی اسحاق۶؂ عن خالد۷؂ بن قثم انہ قیل لہ ما لعلی ورث جدک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم دون جدک و ھو
عمہ قال ان علیا کان اولنا بہ لحوقا و اشدنا بہ لزوقا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۰۹
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ ۲؂: ہلا ل بن العلاء:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۲
۳؂: ابی: اس کا نام علاء بن ہلا ل بن عمر بن ہلال بن ابی عطیہ الباہلی ہے اور اس کی کنیت ابو محمد الرقی ہے روی عن ابیہ و عبید اللّٰہ بن عمر الرقی وغیرھم وعنہ ابنہ ھلا ل و محمد بن جبلۃ الرافعی و ابراہیم بن یعقوب وغیرھمحاتم نے کہا منکر الحدیث اور ضعیف الحدیث ہے ،نسائی نے کہا ھلال بن العلاء روی عن ابیہ غیر حدیث منکر فلا ادری منہ اتی اومن ابیہ ۲۱۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ 
۴؂:عبید اللہ: عبیداﷲ بن عمرو بن ابی الولید الرقی کی کنیت ابو وہب الاسدی ہے ،ثقہ ہے، فقیہہ ہے۔ ربما وھم۔ طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۸۰ ؁ہجری میں وفات پائی (التقریب،صفحہ ۲۲۶)
۵؂: زید(بن ابی انیسہ):زید بن ابی انیسہ الجذری کی کنیت ابواُسامہ ہے۔ اصل کوفہ کا باشندہ تھا پھر الرھا میں آباد ہوگیا، ثقہ ہے لہ افراد طبقہ السادستہ سے ہے۔ ۱۲۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۱۱۲)
۶؂: ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴ (حدیث شریف کے اسماء الرجال اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 

ترجمہ خالد بن قثم سے روایت ہے یہ کہ اسے کسی شخص نے کہا کیا وجہ ہے کہ (حضرت ) علی (المرتضیٰص) رسول اﷲ3کے وارث ٹھہرائے گئے اور تیرے دادا وارث نہ ہوئے حالانکہ وہ حضور3کے چچا تھے۔ فرما یا یقیناًوہ ہم میں حضور3کے ساتھ سب سے پہلے ملنے والے تھے اور ہم میں حضور3کے انتہائی طور پر ساتھ رہنے والے تھے۔

تشریح ارشاد ہے’’ تیرے دادا وارث نہ ہوئے حالانکہ وہ حضور3کے چچا تھے ‘‘ یعنی خالد بن قثم جناب سیدنا عباس ص کے پوتے تھے جس سے یہ سوال کیا گیا۔

حد یث نمبر
۱۱۰؍۷ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی عبدۃ۲؂ بن عبدالرحیم المروزی قال انبأنا عمرو۳؂ بن محمد قال انبأنا یونس۴؂ بن ابی اسحق عن العیزار۵؂ بن حریث عن النعمان۶؂ بن بشیر قال استأذن ابوبکر علی النبیصلی اﷲ علیہ والہ وسلم فسمع صوت عائشۃ عالیا وھی تقول و اﷲ قد علمت ان علیا احب الیک من ابی فاھوی الیھا ابوبکر لیلطمھا وقال یا بنت فلانۃ اراک ترفعین صوتک علی رسول

بقیہ حاشیہ:
۷؂: خالد بن قثم:یہ خالد بن قثم بن عباس بن عبدالمطلب الہاشمی ہے۔ روی حدیثہ ابواسحاق السبیعی و اختلف علیہ فیہ فضیل عن ابی اسحاق عن خالد بن قثم بن العباس من این ورث علی النبی صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم الحدیث اخرجہ النسائی فی الخصائص علی الوجھین۔(تہذیب ،جلد ۳، صفحہ۱۱۲)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۰
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: عبدۃ بن عبدالرحیم المروزی:عبدۃ بن عبدالرحیم بن حسان المروزی کی کنیت ابو سعید ہے۔ دمشق میں آکر آباد ہوگیاتھا۔ صدو ق ہے، طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۴ ؁ہجری میں فو ت ہوا۔(التقریب،صفحہ ۲۲۳)نسائی اور مسلمۃ نے کہا ’’ثقہ ‘‘ ہے اور ابن حبان نے اسے اپنی ثقات میں ذکر کیا ہے۔ ابو حاتم نے کہا ’’صدوق‘‘ اور عبداﷲ بن احمد سے روایت ہے کہ ’’شیخ صالح‘‘ ہے (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المؤمنین علی صابن ابی طالب صفحہ ۱۲۶)
۳؂: عمرو بن محمد: عمرو بن محمد العنقزی کی کنیت ابو سعید الکوفی ہے۔ ثقہ ہے ، طبقہ التاسعہ سے ہے اور ۱۹۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۶۲ )
۴؂: یونس بن ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۳
۵؂: العیزاربن الحریث:عیزار بن حریث العبدی الکوفی ۔ثقہ ہے، طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۱۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۷۰)
۶؂: نعمان بن بشیر: نعمان بن بشیر بن سعد بن ثعلبہ الانصاری الخزرجی اور اس کا باپ صحابی ہے، شام میں سکونت اختیار کی پھر کوفہ کا حاکم مقرر ہوا۔ اور ۶۵ہجری میں حمص میں قتل کیا گیا۔(التقریب،صفحہ ۳۵۸)
اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فامسکہ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ والہ وسلم و خرج ابوبکرمغضبا فقال رسول اﷲصلی اﷲ علیہ والہ وسلم یا عائشۃ کیف رأیتنی ابغد تک من الرجل ثم استاذن ابوبکر بعد ذلک و قد اصطلح رسول اﷲصلی اﷲ علیہ والہ وسلم و عائشۃ فقال ادخلانی
فی السلم کما ادخلتما نی فی الحرب فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قد فعلنا

ترجمہ نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ (جناب) ابوبکر (صدیقص) نے نبی کریم3سے اجازت طلب کی۔ پس (ام المومنین) عائشہ (صدیقہ رضی اﷲ عنہا) کی آواز سنی (جوکہ ) اونچی (آرہی ) تھی۔ وہ کہہ رہی تھیں اﷲ کی قسم ہے کہ میں خوب جانتی ہوں کہ آپ3کو میرے باپ سے زیادہ علی سے محبت ہے۔ تو (جناب) ابوبکر (صدیقص ) نے انہیں طمانچہ مارنا چاہا۔اے فلاں کی بیٹی ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تیری آواز رسول اﷲ3پر اونچی ہورہی ہے، سو رسول اﷲ3نے اس کو منع کیا اور (جناب) ابو بکر (صدیقص) غصہ کے عالم میں وہاں سے نکل آئے۔ تو حضورنبی کریم3نے ارشاد فرمایا اے عائشہ (رضی اﷲ عنہا) تو نے مجھے دیکھا کہ میں نے تجھے اس شخص سے کس طرح بچا لیا۔ اس کے بعد (جناب) ابوبکر (صدیق ص) نے آنے کیلئے اجازت طلب کی۔ جبکہ حضرت رسول کریم3اور ام المومنین (حضرت ) عائشہ (صدیقہ رضی اﷲ عنہا) دونوں متفق ہوگئے تھے تو (جناب) ابوبکرص نے عرض کیا کہ مجھے بھی اس صلح میں شامل کر لیں جس طرح کہ تم دونوں نے مجھے لڑائی میں شامل کر لیا تھا۔ تو رسول کریم 3 نے ارشاد فرمایا، ہم نے ایسا ہی کر لیا ہے۔

حل لغت ھواء: قصد کرنا ، ارادہ کرنا۔ لطم: طمانچہ مارنا، تھپڑمارنا ، ہتھیلی سے مارنا۔ اصطلاح: کسی جماعت خاص کا کس چیز پر یا کسی کلمہ کے وضع پر اتفاق کر لینا،باہم صلح کرنا۔ ادخلا: تثنیہ ہے بمعنی آپ دونوں مجھے داخل کر لیں، شامل کر لیں۔

تشریح ارشاد ہے’’ نبی کریم3سے اجازت طلب کی‘‘ یعنی حجرہ مبارکہ میں اندر آنے کیلئے اجازت چاہی۔ ارشاد ہے’’ آپ3کو میرے باپ سے زیادہ علی سے محبت ہے ‘‘ یعنی جناب سیدہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا اپنے والد گرامی کے متعلق اس قسم کے خیالاتِ مبارکہ کااظہار کمال درجے کی محبتِ پدری پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے کہ ہر ایک فرد کو اپنے ماں باپ کی عزت اور حرمت ہر ایک سے زیادہ عزیز ہوتی ہے ۔نیز ام المومنین نہایت ہی اچھی طرح جانتی تھیں کہ جس شخص کے ساتھ سرور کونین3سب سے زیادہ محبت فرمائیں گے وہ انتہائی بخشش و عنایت اور عزت و مکرمت کا حامل ہو گاا ور آخرت میں بھی سر خرو، کامگار ، فائز المرام اور مقام بلند پر فائز ہوگا۔لہٰذا ان کی یہ قلبی خواہش نہایت ہی صحیح اور درست تھی کہ میرے والد کے ساتھ جناب سیدالمرسلین احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی3سب سے زیادہ محبت فرمائیں۔ چونکہ ام المومنین رضی اﷲ عنہا جناب پیغمبر اسلام3کی حرم محترم ہیں لہٰذا اس نسبتِ عالیہ کی وجہ سے اس اصرار کو سوئے ادب نہیں کہا جا سکتا۔ فافہم،ارشاد ہے ’’ تو جناب ابوبکر صدیق صنے انہیں طمانچہ مارنا چاہا‘‘ یعنی ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو تھپڑمارنے کا قصد کیا۔ ارشاد ہے ’’ سو رسول اﷲ 3نے اس کو منع کیا‘‘ یعنی جناب ابوبکر ص کو روک دیا۔ ارشاد ہے ’’ اور جناب ابو بکر صدیق ص غصہ کے عالم میں وہاں سے نکل آئے‘‘ یعنی سبحان اﷲ! جناب سیدنا ابوبکر صدیق ص نے ادبِ نبوی ملحوظ خاطر رکھا کہ وہ اپنی صاحبزادی پر غصہ فرما رہے ہیں کہ حضور3کے مزاجِ اقدس کے مطابق گفتگو کرو۔ ان کی آواز پر آواز اونچی نہ کرو۔ ارشاد ہے ’’ میں نے تجھے اس شخص سے کس طرح بچا لیا‘‘ یعنی جناب ابو بکر صدیق ص کے غیض و غضب سے بچا لیا۔ ارشاد ہے ’’ کہ مجھے بھی اس صلح میں شامل کریں‘‘ یعنی یہ انتہائی پیار اور محبت کا فقر ہ ہے جس کے ایک ایک لفظ سے محبت کی خوشبو آرہی ہے۔ ارشاد ہے ’’ ہم نے ایسا ہی کر لیا ہے‘‘ یعنی اس صلح اور اتفاق میں آپ بھی شامل ہیں۔
اسنادہ صحیح (احمد میرین البلوشی، خصائص امیرالمومنین علی ابن ابی طالب صفحہ
۱۲۶)
حد یث نمبر
۱۱۱؍۸ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی محمد۲؂ بن آدم بن سلیمان المصیصی قال حدثنا ابن ابی غنےۃ۳؂ عن ابی۴؂ عن ابی اسحاق۵؂ عن جمیع۶؂ و ھوا بن عمیر قال دخلت مع امی علی عائشۃ وا نا غلام فذکرت لھا علیا فقالت ما رأیت رجلا کان احب الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم منہ و لا 
امرأۃ احب الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم من امرأتہ
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۱
۱ؔ ؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: محمد بن آدم:محمد بن آدم بن سلیمان المصیصی الجہنی۔ صدوق ہے، طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۵۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۸۹) نسائی نے کہا ثقہ ہے۔ (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمؤمنین علیص بن ابی طالب صفحہ۱۲۷)
۳؂: ابن ابی غنےۃ:اس کا نام عبدالملک بن حمید ابن ابی غنیہ الخزاعی الکوفی کا اصل وطن اصفہان تھا، ثقہ ہے اور طبقہ السادستہ سے ہے (التقریب صفحہ ۲۱۸)
۴؂: ابیہ:یہ عبدالملک کا باپ حمید بن ابی غنیہ اصفہانی ہے۔ یہ صدوق ہے اور طبقہ السابعۃ سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۸۴)
۵؂: ابی اسحاق: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: جمیع: جمیع بن عمیر التیمی کی کنیت ابو الاسود الکوفی ہے۔ صدوق ہے یخطی و یتشیع طبقہ الثالثہ سے ہے۔ (التقریب ، صفحہ ۵۷)

ترجمہ جمیع بن عمیر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ عائشہ (صدیقہ رضی اﷲ عنہا) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت میں لڑکا تھا۔ تو میں نے ان کے سامنے (جناب) علی (المرتضیٰ ص) کا ذکر کیا۔ تو انہوں نے فرمایا(جناب) علی (3 ) سے زیادہ محبوب حضور رسول کریم3کے نزدیک کسی اور شخص کو میں نے نہیں دیکھا۔ اور (جنابہ) بی بی (صاحبہ رضی اﷲ عنہا )سے زیادہ محبوبہ حضور3کے نزدیک کسی دوسری عورت کو نہیں دیکھا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ اور (جنابہ)بی بی (صاحبہ رضی اﷲ عنہا) سے زیادہ محبوبہ حضور3کے نزدیک کسی دوسری عورت کو نہیں دیکھا‘‘ یعنی جناب سیدۃ النساء جگر گوشہ رسول خدا حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا سے زیادہ محبوب کوئی دوسری عورت نہ تھی۔

حد یث نمبر
۱۱۲؍۹ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا عمرو۲؂ بن علی البصری قال حدثنی عبدالعزیز۳؂ بن الخطاب قال حدثنا محمد۴؂ بن اسمعیل ابن رجاء الزبیدی عن ابی اسحاق۵؂ الشیبانی عن جمیع۶؂ بن عمیر قال دخلت مع امی علی عآئشۃ (فسمعھا ما تسألھا) من ورآء الحجاب عن علی فقالت سالتنی عن رجل ما اعلم احدا کان احب الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم منہ ولا احب الیہ من امرأتہ

ترجمہ جمیع بن عمیر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ (ام المومنین ) عائشہ (صدیقہ رضی اﷲ عنہا) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پردے کے پیچھے سے میں نے وہ بات سنی جو میری والدہ نے ان سے 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۲
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: عمرو بن علی: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۲:۲
۳؂: عبدالعزیز بن الخطاب:عبدالعزیز بن الخطاب کوفی کی کنیت ابوالحسن ہے۔ بصرے میں زندگی بسر کی، صدوق ہے اورطبقہ العاشرہ کے کبار سے ہے۔ ۲۲۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۱۴)
۴؂: محمد بن اسمٰعیل: محمد بن اسمٰعیل بن رجاء الزبیدی الکوفی صدوق ہے اور شیعہ ہے۔ طبقہ الثامنہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۹۰)
۵؂: ابی اسحاق الشیبانی: اس کا نام سلیمان بن ابی سلیمان الشیبانی ہے اور ابو اسحاق کنیت ہے۔ یہ کوفی ہے، ثقہ ہے اور طبقۃ الخامسۃ سے ہے۔ مات فی حدود الاربعین(التقریب،صفحہ ۱۳۴)
۶؂: جمیع بن عمیر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۱:۶
(حضرت) علی (3 ) کے متعلق پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ تو نے ایسے شخص کے متعلق پوچھا ہے۔ میں کسی ایک شخص کو حضور3کے نزدیک اس شخص سے محبوب تر نہیں جانتی اور حضور3کے نزدیک اُن کی بیوی سے کوئی عورت محبوب تر نہیں۔

تشریح ارشا دہے ’’ اور حضور3کے نزدیک اُن کی بیوی سے کوئی عورت محبوب تر نہیں‘‘ یعنی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا یہ ارشاد گرامی جناب سیدنا امیر المومنین علی المرتضیٰ3 اور ان کی زوجہ محترمہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ حضور3کی کمال محبت ثابت کر رہا ہے۔
اسنادہ صحیح( ابو اسحاق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام علی ص ،صفحہ
۹۴)

حد یث نمبر
۱۱۳؍۱۰ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی زکریا۲؂ بن یحیے قال حدثنا ابراھیم۳؂ بن سعید قال حدثنا شاذان۴؂ عن جعفر الاحمر۵؂ عن عبداﷲ۶؂ بن عطاء عن ابن بریدۃ۷؂ قال جآ رجل الی ابی فسالہ ای الناس اھب الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فقال کان احب الناس الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ
وسلم من النسآء فاطمۃ ومن الرجال علی

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۳
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۳؂: ابراہیم بن سعید:ابراہیم بن سعید الجوہری کی کنیت ابو اسحاق الطبری ہے ، ثقہ اور حافظ ہے۔ تکلم فیہ بلا حجۃ۲۵۰ ؁ہجری میں فوت ہوا، طبقہ العاشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۰)
۴؂: شاذان: اس کانام اسود بن عامر شامی کنیت اباعبد الرحمن اورلقب شاذان ہے۔ ثقہ ہے،طبقہ التاسعۃ سے ہے۔ ۲۰۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب صفحہ ۳۶)
۵؂: جعفر الاحمر:جعفر بن زیاد الاحمر الکوفی ہے ۔صدوق ہے، شیعہ ہے، طبقہ السابعۃ سے ہے، ۱۶۷ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب، صفحہ ۵۵)۔ ابن معین نے کہا ثقہ ہے اور احمد نے اسے صالح الحدیث کہا ہے۔ (احمد میرین البلوشی ،خصائص امیرالمؤمنین علیص ابن ابی طالب ،صفحہ۱۲۹)
۶؂:عبد اﷲ بن عطاء:عبداﷲ بن عطاء الطائفی دراصل کوفہ کا باشندہ ہے۔ صدوق ہے یخطی ویدلس طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۱۸۲) ابن معین اور ترمذی نے کہا ثقہ ہے۔ابن حبان نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے اور احمد نے کہا صالح الحدیث ہے۔(تہذیب التہذیب، جلد ۵،صفحہ ۳۲۲)
۷؂: ابن بریدہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۹:۵

ترجمہ ابن بریدہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے اس سے پوچھا حضور3کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ تو اس نے فرمایا کہ حضور3کے نزدیک عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ (رضی اﷲ عنہا) تھیں اور مردوں میں علی (المرتضیٰ ) ص تھے۔

تشریح مولانا مولوی محمد ابو الحسن اس حدیث کے فائدہ میں لکھتے ہیں
’’ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت 3 کے نزدیک سب مردوں سے پیارے علی ص تھے اور عورتوں میں بہت پیاری فاطمۃ الزہرا سلام اﷲ علیہا تھیں۔ پس اس حدیث سے عمدہ فضلیت ثابت ہوئی ‘‘(مناقب مرتضوی ، صفحہ
۶۵)

بسم اﷲ الر حمن الرحیم ط
ذکر منزلۃ علی کرم اﷲ وجہہ الکریم من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
عند دخولہ مسآء بیتہ و سکونہ
’’ جناب سیدنا علی المرتضیٰ3کے اس مرتبہ کا بیان ہے کہ آنجناب ص حضرت رسول کریم3کے گھر مبارک رات کو تشریف لاتے اور آرام پاتے ‘‘
(اس باب میںآٹھ احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۱۴؍۱ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی محمد۲؂ بن وھب قال حدثنا محمد۳؂ بن سلمۃ قال حدثنی ابو عبد الرحیم۴؂ قال حدثنی زید۵؂ عن الحارث۶؂ عن ابی زرعۃ۷؂ بن عمرو بن جریر عن عبد اﷲ۸؂ بن نجی انہ سمع علیا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۴
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ ۲؂: محمد بن وہب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۳
۳؂: محمد بن سلمۃ:محمد بن سلمۃ بن عبداﷲ الباہلی ثقہ ہے۔ الحرانی ہے۔ طبقہ الحادیہ عشرہ سے ہے۔ ۱۹۱ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۹۹)
۴؂: ابوعبدالرحیم:اس کا نام خالد بن ابی یزید بن سماک بن رستم الاموی ہے۔ کنیت ابو عبدالرحیم الحرانی ہے مثقہ ہے، طبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۴۴ ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۹۱)
۵؂: زید (بن ابی انیسہ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۹:۵
۶؂: الحارث:الحارث بن یزید العکلی التیمی ہے۔ روی عن ابی زرعۃ ، ابن عمرو و الشعبی و ابراہیم النخعی و عبداﷲ بن یحیی الحضرمی وعمارۃ بن القعقاع وھومن اقرأ نہ و عنہ عمارۃ بن القعقاع الیضا۔ و عبد اﷲ وابن عجلان و مغیرۃ و مقسم الضیے وغیرھم۔ ابن معین نے کہا ثقہ ہے اور ابن حبان نے اسے اپنی ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۲صفحہ ۱۶۳)
۷؂: ابی زرعہ بن عمرو:ابی زرعہ بن عمرو بن جریر بن عبد اﷲ البجلی الکوفی کا نام ہرم ، عمرو ، عبداﷲ،عبد الرحمن یا جریر ہے۔ یہ ثقہ ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۴۰۶) (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں)
یقول کنت ادخل علی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کل لیلۃ فان کان یصلی سبح
فدخلت و ان لم یکن یصلی اذن لی فدخلت

ترجمہ عبداﷲ بن نجی سے روایت ہے یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے (جناب) علی (المرتضیٰص) سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں ہررات کو حضور3کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ سو اگر آنحضور3نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اﷲ فرمادیتے تو میں مکان میں داخل ہوجاتا۔ اور اگر نماز میں نہ ہوتے تو مجھے اجازت فرما دیتے تو میں آنحضرت3 کی خدمت میں حاضر ہوتا۔

تشریح اسنادہ ،حسن۔ اس کے اسنادہ حسن ہیں۔(البلوشی، صفحہ
۱۲۹)

حد یث نمبر
۱۱۵؍۲ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی زکریا۲؂ بن یحیے قال حدثنا محمد۳؂ بن عبید و ابو کامل۴؂ قالا حدثنا عبد الواحد۵؂ بن زیاد قال حدثنا عمارۃ۶؂ بن القعقاع عن الحرث۷؂ العکلی عن ابی زرعۃ۸؂ بن عمرو بن جریر عن عبد اﷲ۹؂ 

بقیہ حاشیہ:
۸؂: عبد اﷲ بن نجی:عبداﷲبن نجی بن سلمۃ الحضرمی الکوفی کی کنیت ابولقیمان ہے۔ صدوق ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۱۹۲) روی عن ابیہ وکان علی مظھرۃ علی و عمار و حذیفہ و الحسین بن علی و غیرھم و عنہ ابو زرعۃ بن عمرو بن جریر والحارث العکلی و شرجیل بن مدرک و جابر الجعفی۔ بخاری اور ابواحمد بن عدی نے کہا’’فیہ نظر‘‘ نسائی نے کہا ثقہ ہے۔ دارقطنی نے کہا کہ ’’لیس بقوی فی الحدیث‘‘ اور ابن حبان نے اس کا ذکر ثقاۃ میں کیا ہے اور کہا کہ یہ علی3 سے روایت کرتا ہے اور اپنے باپ سے بھی اور وہ بھی علی3 سے روایت کرتا ہے۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۶صفحہ ۵۵)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۵
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲: زکریابن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۳؂: محمد بن عبید:محمد بن عبید بن حساب العنبری البصری ۔ثقہ ہے اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۳۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۱۰)
۴؂: ابوکامل:اس کانام فضیل بن حسین بن طلحہ الحجدری اور کنیت ابوکامل ہے۔ ثقہ ، حافظ اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ اور یہ اپنے چچا کامل بن طلحہ سے اوثق ہے۔ ۲۳۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۷۶)
۵؂: عبدالواحد بن زیاد:عبدالواحد بن زیاد العبدی البصری ثقہ ہے۔ طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ ۱۷۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۲۱)
۶؂:عمارۃ بن القعقاع: عمارۃ بن القعقاع بن شبرمۃ الضبی الکوفی ثقہ ہے۔ ارسل عن ابن مسعود طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۵۱)
۷؂: الحارث العکلی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۶
۸؂: ابی زرعہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴۔۷ ۹؂: عبد اﷲ بن نجی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۸
بن نجی قال قال علی لی ساعۃ من السحر ادخل فیھا علی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ
والہ وسلم فان کان فی صلوتہ سبح و کان اذنہ لی وان لم یکن فی صلوتہ اذن لی

ترجمہ عبداﷲ بن نجی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (جناب) علی (المرتضیٰص) نے فرمایا ،میرے لئے صبح ایک وقت مقرر تھا جس میں کہ میں رسول کریم3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتا سواگر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اﷲ فرمادیتے اور یہی میرے لئے اجازت تھی اور اگر نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو مجھے اجازت مرحمت فرما دیتے۔ 

تشریح اسنادہ حسن، سوائے عبداﷲ بن نجی کے کہ جو صدوق ہے، باقی سب رجال ثقہ ہیں۔(احمد میرین البلوشی، صفحہ
۱۳۰)

حد یث نمبر
۱۱۶؍۳ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی محمد۲؂ بن قدامۃ المصیصی قال حدثنا جریر۳؂ عن المغیرۃ۴؂ عن الحارث۵؂ عن ابی زرعۃ۶؂ بن عمرو قال حدثنا عبد اﷲ۷؂ بن نجی عن علی قال کانت لی من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ساعۃ من السحر اتیتہ فیھا و اذا تیتہ أستأذنت و ان وجدتہ یصلی سبح و ان
وجدتہ فارغا اذن لی
ترجمہ (حضرت) علی (3 ) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور3کے ہاں سحر کے وقت میرے لئے ایک ساعت مقرر تھی۔ اس وقت میں آنحضرت3کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ جب میں حاضر ہوتا تو اجازت طلب کرتا اور اگر میں انہیں نماز میں پاتا تو وہ سبحان اﷲ فرماتے۔اور اگر میں انہیں نماز سے فارغ پاتا تو مجھے اجازت مرحمت فرماتے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۶
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: محمد بن قدامۃ:محمد بن قدامۃ بن اعین الہاشمی المصیصی ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے اور ۲۵۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(التقریب، صفحہ ۳۱۶)
۳؂: جریر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۹:۲
۴؂: المغیرہ:المغیرہ بن مقسم الضبی کی کنیت ابوہاشم الکوفی ہے الاعمیٰ ، ثقہ اور متقن ہے الاانہ کان یدلس و لاسیما عن ابراھیم۔ طبقہ السادستہ سے ہے اور ۱۳۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(التقریب،صفحہ ۳۴۵)
۵؂: الحارث:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۶ 
۶؂: ابی زرعہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۷ ۷؂: عبد اﷲ بن نجی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۸

تشریح اسنادہ حسن، رجالہ ثقات
(احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المومنین علی ابن ابی طالب صفحہ
۱۳۲)

حد یث نمبر
۱۱۷؍۴ اخبرنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی محمد۲؂ بن عبید بن محمد الکوفی قال حدثنا ابن عیاش۳؂ عن المغیرۃ۴؂ عن الحارث۵؂ العکلی عن ابن نجی۶؂ قال قال علی کرم اﷲ وجہہ کان لی من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
مدخلان مدخل باللیل و مدخل بالنہار فکنت اذا دخلت باللیل تنحنح لی

ترجمہ ابن نجی سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ علی (المرتضیٰ)3 نے فرمایا کہ آنحضرت3کے حضور میں میرے حاضر ہونے کے دو وقت تھے۔ ایک وقت رات کو حاضر ہونے کا تھا اور ایک وقت دن کو حاضر ہونے کا تھا۔ سو جب میں رات کو حاضر ہوتا تو آنحضرت3میرے لئے گلا صاف فرماتے یعنی کھنکھارتے۔قال ابو عبدالرحمن خالفہ شرجیل بن مدرک فی اسنادہ ووافقہ علی قولہ تنخ

حد یث نمبر
۱۱۸؍۵ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا القاسم۲؂ بن زکریا بن دینار قال حدثنا ابو اسامۃ۳؂ قال حدثنی شرحبیل۴؂ یعنی بن مدرک الجعفی قال حدثنی عبد اﷲ۵؂ بن نجی الحضرمی عن ابیہ۶؂ و کان صاحب مطھرۃ علی قال قال علی 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۷
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱۲؂: محمد بن عبید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵:۱
۳؂: ابن عیاش:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۵:۳۴؂: المغیرہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۶:۴
۵؂: الحارث:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۶۶؂: ابن نجی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۸
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۸
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱۲؂: قاسم بن زکریا:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۱
۳؂: ابواسامۃ:اس کا نام حماد بن اسامہ القرشی الکوفی ہے اور یہ اپنی کنیت ابواسامہ سے مشہور ہے۔ ثقہ ہے، ثبت ہے۔ ربما دلس و کان باخرہ یحدث من کتب غیرہ طبقہ التاسعۃ کے کبار سے ہے۔ ۲۰۱ ؁ہجر ی میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۸۱)
۴؂: شرحبیل:شرحبیل بن مدرک الجعفی الکوفی ثقہ ہے اور طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۱۴۴)
۵؂: عبد اﷲ بن نجی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۸
۶؂: ابیہ: یہ عبداﷲ کا باپ نجی الحضرمی الکوفی ہے۔ یہ مقبول ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۵۶)
کانت لی منزلۃ من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لم یکن لاحد من الخلائق فکنت ایتہ کل سحر فاقول السلام علیک یا نبی اﷲ فان تنحنح انصرفت الی اھلی
و الا دخلت علیہ

ترجمہ عبداﷲ بن نجی سے روایت ہے او روہ (جناب) علی (المرتضیٰص) کا لوٹا اٹھانے والا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ (جناب) علی (المرتضیٰص) نے ارشاد فرمایا جناب رسول کریم3کے حضور میں میرا ایک ایسا مرتبہ تھا جو مخلوق میں کسی دوسرے کیلئے نہ تھا۔ تو میں ہر سحر کو آنحضرت3کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوتا سوعرض کرتا السلام علیک یا نبی اﷲ پس اگر گلا صاف فرماتے تو میں اپنے گھر واپس چلا جاتا اور اگر گلا صاف نہ فرماتے تو میں اندر چلا جاتا۔

حل لغت مطھرۃ: لوٹا ، طہارت کا برتن ، کوزہ۔

تشریح ارشاد ہے ’’ سو عرض کرتا السلام علیک یانبی اﷲ!‘‘ یعنی اندر آنے کی اجازت چاہتا۔ ارشاد ہے ’’اگر گلا صاف فرماتے تو میں اپنے گھر واپس چلا جاتا‘‘ یعنی میں سمجھ جاتا کہ آنحضرت3مصرو ف ہیں تو میں واپس ہو جاتا۔ ارشاد ہے’’ اور اگر گلا صاف نہ فرماتے تو میں اندر چلا جاتا‘‘ یعنی سید الکونین3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوجاتا۔ مولانا مولوی محمد ابوالحسن صاحب تحریر فرماتے ہیں
’’یہ مرتبہ حضرت علیص کے سوا اور کسی کو حاصل نہ تھا اس لئے کہ وہ بہت قریب ہیں حضرت3کے گھر سے اور اخوۃ اور مصاحبت رکھتے تھے بہ سبب نسبتِ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے‘‘(مناقب مرتضوی ، صفحہ
۶۷)

حد یث نمبر
۱۱۹؍۶ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا محمد۲؂ بن بشار قال حدثنی ابو المساور۳؂ قال حدثنا عوف۴؂ عن عبد اﷲ۵؂ بن عمرو بن ھند الجملی عن علی۶؂ 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۱۹
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ ۲؂: محمد بن بشار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۱
۳؂: ابوالمساور:اسکا نام فضل بن مساور ہے اور ابو المساور البصری اس کی کنیت ہے ختن ابی عوانہ صدوق ہے ربما وھم طبقہ التاسعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۷۶)
۴؂: عوف( ابن ابی جمیلہ):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۳
۵؂: عبد اﷲ بن عمرو:یہ عبداﷲ بن عمرو بن ہند الجملی الکوفی ہے۔ ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ ابن حبان نے ثقات (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 
قال علی کنت اذا اسئلت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اعطانی و اذا سکت ابتدأنی

ترجمہ علی (المرتضیٰص) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں جس وقت میں رسول کریم3سے کوئی چیز مانگتا تھا تو مجھے عطا فرماتے تھے اور جب میں خاموش رہتا تو مجھے بن مانگے عطا فرماتے۔

حد یث نمبر
۱۲۰؍۷ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا محمد۲؂ بن المثنی قال حدثنا ابو معوےۃ۳؂ قال حدثنی الاعمش۴؂ عن عمرو۵؂ بن مرۃ عن ابی البختری۶؂ عن
علی
۷؂ قال کنت اذا سئلت اعطیت و اذا سکت ابتدیت

ترجمہ (جناب) علی (المرتضیٰص) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب میں کچھ مانگتا تھا تو مرحمت فرماتے تھے اور جب میں خاموش رہتا تو مجھے بن مانگے مرحمت فرماتے۔

تشریح ارشاد ہے ’’ جب میں کچھ مانگتا تھا تو مرحمت فرماتے تھے‘‘ یعنی جس وقت بھی میں جو کچھ حضور3سے طلب کرتا تو آنحضرت3مرحمت فرماتے۔

حد یث نمبر
۱۲۱؍۸ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا یوسف۲؂ بن سعید قال حدثنا حجاج۳؂ عن ابن جریج۴؂ قال حدثنا ابوحرب۵؂ عن ابی الاسود۶؂ و رجل اخر 
عن زاذان قال قال علی کنت و اﷲ اذا سئلت اعطیت و اذا سکت ابتدیت

بقیہ حاشیہ : میں ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا صدوق ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ 3 سے اس کی سماعت ثابت نہیں ہے۔ (تہذیب التہذیب،جلد
۵ ،صفحہ ۳۴۰)۔ بحوالہ احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمؤمنین علیص بن ابی طالب ، صفحہ ۱۳۳
۶؂: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر ۱:۶
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۰
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: محمد بن المثنی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۱
۳؂: ابومعاویہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۴:۲
۴؂: الاعمش:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۲:۴
۵؂: عمرو بن مرۃ:عمرو بن مرۃ بن عبداﷲ بن طارق الجمل المرادی ابوعبداﷲ الکوفی الاعمیٰ ۔ثقہ ہے، عابد ہے، کان لا یدلس ورمی بالارجاء طبقہ الخامسہ سے ہے۔ ۱۱۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۶۲)
۶؂: ابی البختری:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۲:۶ (اسماء الرجال حدیث نمبر ۱۲۱ اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے)

ترجمہ زاذان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ (جناب) علی (المرتضیٰ ص) نے ارشاد فرمایا مجھے خداوند تعالیٰ کی قسم! جب میں (حضور3) سے مانگتا تو آپ3عنایت فرماتے اور جب میں خاموش رہتا تو بن مانگے عطاہوتا۔
قال ابو عبد الرحمن ابن جریج لم یسمع من ابی حرب

تشریح ’’ اس اثر کے اسناد صحیح ہیں، اس کے رجال ثقات ہیں۔ ابن جریج کا سماع ابی حرب سے واضح ہے لہٰذا اس پر تدلیس کی تہمت ہے، وہ رفع ہو گئی۔ حافظ نے نسائی کی روایت سے التہذیب، ج
۱۲ صفحہ ۷۰ پر جو یہ نقل کیا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ ابن جریج نے ابی حرب سے سماع کیا ہے تو یہ قول حافظ3 کا تشدد پر مبنی ہے حالانکہ ابن جریج امام ہے ،ثقہ ہے۔ سوائے تدلیس کے اس میں کوئی عیب نہیں بتایا گیا اور جب تدلیس سماع کے ساتھ واضح ہوجائے تو پھر قبول کی جاتی ہے۔ اور تحقیق میرے سامنے جو خصائص کے تین نسخے ہیں ان میں ابی حرب سے سماع واضح ہے اور اسی طرح ’’زوائد فضائل الصحابہ ‘‘ نے القطیعی نے روایت نقل کی ہے پس کسی بھی تردد کی گنجائش نہیں ہے کہ ابی حرب سے سماع ثابت نہ ہو‘‘ 
(احمد میرین البلوشی، خصائص امیر المومنین صفحہ
۱۳۴)

بقیہ حواشی: اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۱
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂:یوسف بن سعید:یوسف بن سعید بن المسلم المصیصی ثقہ ، حافظ اور طبقہ الحادیہ عشرۃ سے ہے، ۲۷۱ھ یا اس سے قبل فوت ہوا (التقریب ،صفحہ ۳۸۸)
۳؂: حجاج:حجاج بن محمد المصیصی الاعور کی کنیت ابو محمد ہے ترمذ کا باشندہ تھا۔ بغداد میں آیا پھر المصیصہ میں سکونت اختیار کی۔ ثقہ اور ثبت ہے لکنہ اختلط فی اخر عمرہ لما قدم بغداد قبل موتہ طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۲۰۶ ؁ہجری میں بغداد میں وفات پائی۔ (التقریب ، صفحہ۶۵)
۴؂: ابن جریج:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۷:۳
۵؂: ابوحرب:ابوحرب بن ابی الاسود الایلی البصری ثقہ ہے۔ اس کا نام محجن یا عطا بتایا جاتا ہے۔ طبقہ الثالثۃ سے ہے۔ ۱۰۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۴۰۱)ابن حبان نے کہا یہ ثقہ ہے ،عبدالبر نے بھی اسے ثقہ کہا ہے اور مسلم نے اس سے روایت کی ہے۔ (ابو اسحا ق الحوینی ، تہذیب خصائص الامام علی ص،صفحہ ۹۸)
۶؂: ابی الاسود:یہ ظالم بن عمرو بن سفیان ہے اور عمرو بن ظالم بھی کہا گیا ہے۔ اس کی کنیت ابو الاسود الدیلی ہے اور ابوالاسود الدولی بھی بتائی جاتی ہے، البصری ہے ثقہ ، فاضل اور مخضرم ہے۔ ۶۹ ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۹۳)
۷؂: زاذان:یہ ابو عمر الکندی البزار ہے اور اس کی کنیت اباعبداﷲ بھی ہے۔ صدوق ہے اور یرسل ہے اس میں شیعیت پائی جاتی ہے۔ طبقہ الثانیہ سے ہے۔ ۸۲ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۰۵)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خص بہ امیر المؤمنین رضی اﷲ عنہ من صعودہ علی منکبی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و نہوض
النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
’’ اس باب میں (جناب) امیر المومنین علی (المرتضیٰ3) کی اس فضیلت کا بیان ہے کہ آپ (ص) آنحضور3کے کندھوں پر چڑھے اور حضرت نبی 
کریم3ان کو اٹھا کر کھڑے ہوئے ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حل لغت خص: خاص کرنا ، فضیلت دینا۔

حد یث نمبر
۱۲۲؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا احمد۲؂ بن حرب قال حدثنا اسباط۳؂ عن نعیم۴؂ بن حکیم المدائنی قال حدثنا ابو مریم۵؂ قال قال علی انطلقت 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۲
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: احمد بن حرب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۱ ۳؂: اسباط:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۴:۴
۴؂: نعیم بن حکیم:نعیم بن حکیم المدائنی صدوق ہے۔ لہ اوھام طبقہ السادسہ سے ہے ۱۴۸ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۳۵۹)ابن معین نے کہا ثقہ ہے اور اسی سے ایک روایت میں آیا ہے کہ ضعیف ہے۔ نسائی نے کہا ’’لیس بالقوی ‘‘ اور ازدی سے روایت ہے’’ احادیثہ منا کیر واطلق الذھبی القول بتوثیقہ‘‘ (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیر المؤمنین علی ص بن ابی طالب، صفحہ ۱۳۵)
۵؂: ابومریم:س کا نام قیس ثقفی المدائنی ہے۔ یہ مجہول ہے اور طبقہ الثانیہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ۴۲۶)
مع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم حتی اتینا الکعبۃ فصعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم علی منکبی فنھضت بہ فلما رای رسول اﷲ ضعفی قال لی اجلس فجلست فنزل نبی اﷲ وجلس لی و قال اصعد علی منکبی فصعدت علی منکبیہ۔ فنھض بی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و قال علیں لیخیل الی انی لوشئت لنلت افق السمآء فصعدت علی الکعبۃ و علیھا تمثال من صفرا و نحاس فجلعت اعالجہ لازیلہ ، بیمین و شمال و قدام او من بین یدیہ و من خلفہ حتی اذا استمکنت منہ قال نبی اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اقذفہ ، فقذفت بہ فتکسر کما تنکسر القواریر ثم نزلت فا نطلقت انا و رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نستبق
حتی توارینا بالبیوت خشےۃ ان نلقی احدا من الناس واﷲ تعالی اعلم

ترجمہ ابو مریم نے کہا کہ حضرت علی ص نے فرمایا میں رسول اﷲ3کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم کعبہ پہنچ گئے۔ پس رسول اﷲ3میرے کندھوں پر چڑھے پس میں انہیں(3) اٹھا کر کھڑا ہوا سو جب حضرت رسول اﷲ 3نے مجھے کمزور پایا تو مجھے ارشاد فرمایا،بیٹھ۔ پس میں بیٹھ گیا، تو نبی کریم3اترے اور میرے لئے بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا کہ میرے کندھوں پر سوار ہو جا۔ پس میں آپ3کے کندھوں پر چڑھا پھر اﷲ کے رسول3مجھے اٹھا کر کھڑے ہوئے۔ اور جناب علی المرتضیٰ3 نے فرمایا البتہ مجھ کو معلوم ہوتا تھا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کنارے تک پہنچ جاؤں۔ پس میں کعبہ پر چڑھا اس میں پیتل یا تانبے کی تصاویر تھیں پس میں ان کو اٹھانے لگا تاکہ میں ان کو دائیں ، بائیں ، آگے یا سامنے اور پیچھے سے ہٹادوں۔ یہاں تک کہ جب میں نے ان سب پر قابو پا لیا۔ تو اﷲ کے نبی3نے مجھے فرمایا ان کو پھینک دے۔ پس میں نے انہیں پھینک دیا پس اس طرح ٹوٹ گئے جس طرح کہ شیشے ٹوٹ جاتے ہیں۔ پھر میں اترا، پھر میں اور رسول کریم3وہاں سے جلد ی جلدی چلے یہاں تک کہ گھروں میں پہنچ گئے۔ یہ فکر کرتے ہوئے کہ مبادا کوئی ایک شخص ہمیں مل نہ جائے اور اﷲ بہتر جانتا ہے۔

حل لغت صعد، یا صعود : چڑھنا، نھض یا نھوض: کھڑا ہونا ، سیدھا ہونا ، اٹھنا ، جلدی کرنا وغیرہ۔ تمثال: تصاویر۔ صفر: پیتل۔ نحاس: تانبا، آگ ، وہ دھواں جس میں شعلہ نہ ہو،طبیعت۔ قذف: قے کرنا پھینک مارنا ،تہمت لگانا ، وغیرہ وغیرہ۔ کسر: توڑنا۔ قواریر: شیشہ۔

تشریح ارشا دہے’’ پس رسول کریم3میرے کندھوں پر چڑھے‘‘ یعنی کعبہ کے اندر داخل ہو کر حضرت رسول کریم3جناب سیدنا علی3 کے کندھوں پر سوار ہوئے۔ ارشاد ہے’’ پس میں انہیں (3)اٹھا کر کھڑا ہوا‘‘ یعنی جناب علی المرتضیٰصنے حضور اکرم3کو کندھوں پر اٹھا لیا۔ ارشا دہے’’ تو نبی کریم3اترے ‘‘ یعنی میرے کندھوں پر سے اترے۔ ارشاد ہے ’’ اور میرے لئے بیٹھے ‘‘ یعنی اپنے کندھوں مبارکہ پر مجھے اٹھانے کیلئے بیٹھ گئے۔ ارشاد ہے’’ اس میں پیتل یا تانبے کی تصاویر تھیں‘‘ یعنی کعبہ میں دیواروں پر پیتل یا تانبے کی بنے ہوئے بت لٹکے ہوئے تھے۔ ارشاد ہے’’ تاکہ میں ان کو دائیں ، بائیں آگے یا سامنے اور پیچھے سے ہٹادوں ‘‘ یعنی کعبہ کے اندر چاروں طرف سے ان بتوں یا تصویروں کو میں ہٹانے لگا۔ ارشاد ہے’’ پھر میں اترا ‘‘ یعنی پیغمبر اسلام3کے کندھوں سے نیچے اتر آیا۔ مولانا مولوی محمد ابو الحسن مترجم صحیح البخاری اس حدیث کی تشریح میں تحریر کرتے ہیں
’’ اس حدیث سے حضرت علی ص کی بڑی فضیلت ثابت ہوئی کہ ان کے سوا کسی کو حاصل نہیں کہ حضرت 3کے مونڈھوں پر چڑھے اور آسمان کے پاس پہنچ گئے‘‘۔(مناقب مرتضوی صفحہ
۶۹)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط

ذکر ماخص بہ دون الاولین و الاخرین من فاطمۃ بنت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و بضعۃ منہ و سیدۃ
نسآء اھل الجنۃ الا مریم بنت عمران

’’ اس باب میں اس بات کا ذکر ہے کہ جناب سیدنا علی المرتضیٰ3کوتمام پہلے اور پچھلے لوگوں میں جنابہ سیدہ فاطمۃ الزہرا بنت محمد رسول اﷲ3کیلئے خاص طور پر منتخب کیا گیا ہے اور جنابہ سیدہ طاہرہ رضی اﷲ عنہا رسول کریم3کے وجود پاک کا ایک ٹکڑا ہیں نیز سوائے مریم بنت عمران کے جنت کی 
تمام عورتوں کی سردار جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا ہیں‘‘

(اس باب میں چار احادیث شریف ہیں)

تشریح صاحب خصائص نے اگرچہ عنوان باب میں ’’ سوائے مریم بنت عمران‘‘ کاذکر کیا ہے۔ مگر اس باب کی تمام احادیث میں ان الفاظ کا کہیں بھی ذکر نہیں البتہ اس سے اگلے باب میں جس کا عنوان ہی یہ ہے کہ ’’سوائے مریم بنت عمران کے جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمہ بنت محمد رسول اﷲ 3 جنت میں تمام عورتوں کی سردار ہیں ‘‘ قائم کیا ہے۔ شاید یہاں کاتب کی زیادتی ہو۔ واﷲ اعلم

حد یث نمبر
۱۲۳؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا الحسین۲؂ بن حریث قال انبأنا الفضل۳؂ بن موسی عن الحسین۴؂ بن واقد عن عبد اﷲ۵؂ بن بریدۃ عن ابیہ۶؂ قال خطب ابوبکر و عمر فاطمۃ علیھا السلام فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ
وسلم انھا صغیرۃ فخطبھا علی علیہ السلام فزوجھا منہ 

ترجمہ بریدہ سے روایت ہے کہ (جناب) ابوبکر (صدیق ص) اور (جناب) عمر (فاروق ص) نے (جنابہ سیدہ طاہرہ) فاطمتہ الزہرا علیہا السلام کی نسبت کیلئے پیغام بھیجا۔ تو رسول کریم3نے (جواباً) ارشاد فرمایا کہ وہ چھوٹی ہیں۔ پھر (جناب) علی (المرتضیٰ) ں نے نسبت کیلئے پیغام بھیجا پس ان کا نکاح ان سے کردیا۔

حل لغت خطب: شادی کا پیغام بھیجنا ، تقریر کرنا، خطبہ سنانا۔

تشریح ارشاد ہے’’ تو رسو ل کریم 3نے ارشاد فرمایا کہ وہ چھوٹی ہیں‘‘ یعنی ان کی عمر چھوٹی ہے اور تم صاحبان کی عمر ان کے مقابلہ میں بہت بڑی ہے۔ مولانا مولوی محمد ابوالحسن صاحب مناقب مرتضوی صفحہ
۶۹ پر تحریر فرماتے ہیں ’’یعنی اور تمہاری عمر بڑی ہے پس یہ میل ٹھیک نہیں‘‘ارشاد ہے ’’ علی (المرتضیٰ)ں نے نسبت کیلئے پیغام بھیجا ‘‘ یعنی جناب سیدنا علی المرتضیٰصنے اپنے نکاح کیلئے پیغام بھیجا۔ ارشاد ہے’’ پس ان کا نکاح ان سے کر دیا گیا‘‘ یعنی حضور سرور عالم وعالمیان3نے جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا کا نکاح جناب سیدنا علی المرتضیٰ ص سے کردیا۔ 
اسنادہ صحیح، رجال ثقاۃ، جیسے کہ پہلے حدیث میں گذر چکا ہے۔ عبداﷲ بن بریدہ نے اپنے والد سے سماع کیا ہے۔ (البلوشی صفحہ
۱۳۷)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۳
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: الحسین بن حریث:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۰:۱
۳؂: الفضل بن موسیٰ :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۰:۲
۴؂: الحسین بن واقد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۰:۳
۵؂: عبد اﷲ بن بریدہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴:۴
۶؂: ابیہ(بریدہ بن الحصیب):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴:۵

حد یث نمبر
۱۲۴؍۲ انبأنا ابو مسعود۱؂ اسمعیل بن مسعود قال حدثنا حاتم۲؂ بن وردان قال حدثنا ایوب۳؂ السخستیانی عن ابی بریدہ۴؂ (ابی یزید المدنی ) عن اسماء۵؂ بنت عمیس قالت کنت فی زفاف فاطمۃ بنت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فلما اصبحنا جآء رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فضرب الباب ففتحت لہ ام ایمن یقال کان فی لسانھا لثغۃ فقال ادعی اخی قالت ھو اخوک و تنکحہ قال نعم یا ام ایمن وسمعن النسآء صوت النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فتحبین قال اخبا فاختبأت انافی ناحےۃ قالت فجآء علیں فدعالہ النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و نضح علیہ بالمآء ثم قال ادعولی فاطمۃ فجآء ت علیھا السلام و علیھا خرقۃ من الحےآء فقال لھا قد انکحتک احب اھل بیتی الی و دعا لھا و نضح علیھا من المآء فخرج رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فرای سوادا فقال من ھذا قالت قلت اسمآء قال بنت عمیس قلت نعم قال کنت فی زفاف فاطمۃ بنت رسول اﷲ 
صلی اﷲعلیہ والہ وسلم تکر مینھا قلت نعم قالت فدعالی
ترجمہ اسماء بن عمیس سے روایت ہے کہ میں فاطمہ بنت رسول3کے نکاح میں موجود تھی تو حضور3صبح کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے۔ پس جناب رسول کریم3نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ام ایمن نے ان کیلئے دروازہ کھولا کہا جاتا ہے کہ ان کی زبان میں ہکلاپن تھا۔ تو رسول کریم3نے ارشاد فرمایا کہ میرے بھائی کو بلا۔ 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۴
۱ؔ ؂: ابو مسعود اسماعیل بن مسعود:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۴:۲
۲؂: حاتم بن وردان:حاتم بن وردان بن مروان السعدی کی کنیت ابو صالح البصری ہے۔ ثقہ ہے اور طبقہ الثامنہ سے ہے۔ ۱۸۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۵۹)
۳؂: ایوب السختیانی: ایوب بن ابی تمیمہ کیسان السختیانی کی کنیت ابو بکر البصری ہے۔ ثقہ ، ثبت ، حجت اور پانچ اکابر فقہا العباد میں سے ایک ہے۔ طبقہ الخامسہ سے ہے۔ ۱۳۱ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۴۱)
۴؂: ابویزید المدنی: ابویزید المدنی مقبول اور طبقہ الرابعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۴۳۳)ابن معین نے کہا ثقہ ہے اور الذہبی نے بھی اسے ثقہ کہا ہے اور ابو حاتم نے کہا شیخ ، یکتب حدیثہ ، اخرج لہ البخاری (تہذیب التہذیب،جلد۱۲، صفحہ۲۸۰)
۵؂: اسماء بن عمیس: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۳:۶
انہوں نے عرض کیا کہ وہ آپ کا بھائی ہے اور اس کے ساتھ آپ اپنی بیٹی کا نکاح کر رہے ہیں۔ فرمایا اے ام ایمن ہاں اور عورتوں نے نبی کریم3کی آواز سنی پس وہ چھپ گئیں۔ ارشادفرمایا تو بھی چھپ جا سو میں بھی ایک کونے میں چھپ گئی۔ پھر (حضرت ) علی ں آئے تو حضور نبی کریم3نے ان کیلئے دعافرمائی اور ان پر پانی چھڑکااور پھر فرمایا کہ (سیدہ)فاطمہ کو میرے پاس بلاؤ پس وہ (علیہا السلام)آئیں اور حیاء کی وجہ سے وہ کپڑا لئے ہوئے تھیں۔ تو اسے فرمایا کہ میں نے اہلِ بیت میں سے جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا تیرا نکاح اس کے ساتھ کردیا ہے اور ان کیلئے دعا کی اور ان پر بھی پانی چھڑکا۔ پس رسول کریم3باہر تشریف لائے پس ایک وجود دیکھا۔ تو ارشاد فرمایا یہ کون ہے؟ کہا کہ میں نے عرض کیا کہ اسماء ہے۔ فرمایا عمیس کی بیٹی۔ میں نے کہا ہاں۔ ارشاد فرمایا کہ کیاتو رسول اللہ3کی بیٹی فاطمہ (سلام اللہ علیہا)کے نکاح کی تقریب میں شامل ہوئی ہے تاکہ ان کی تعظیم کرے۔ میں نے عرض کیا کہ ہاں ۔جناب فرماتی ہیں کہ پس میرے لئے دعا فرمائی۔

حل لغت زفاف : ہدیہ بھیجنا ، دلہن کو شو ہر کے پاس بھیجنا ، نکاح کی رات۔ لثغۃ : ہکلاپن ، توتلا پن رک رک کر بولنا،جو ہم مخرج الفاظ کو صحیح تلفظ کے ساتھ ادا نہ کر سکے، اس کو لثغ کہتے ہیں۔ خبا: ڈھانپنا، چھپانا۔ اختباء: چھپا نا۔ سواد: وجود ، سیاہی۔ 

تشریح ارشاد ہے ’’ میں فاطمہ بنت رسول 3 کے نکاح میں موجود تھی ‘‘ یعنی حضور3نے جس رات جنابہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا کا نکاح کیا اس وقت میں وہاں تھی۔ ارشاد ہے ’’ تو رسول کریم3نے فرمایا کہ میرے بھائی کو بلا ‘‘ یعنی جناب سید نا علی المرتضیٰ3 کو اپنا بھائی فرمایا تو انہوں نے تعجب سے عرض کیا۔ ارشاد ہے ’’اہل بیت میں سے جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا تیرا نکاح اس کے ساتھ کردیا ہے ‘‘ یعنی اہل بیت میں سے بھی جناب علی المرتضیٰ3 کے ساتھ آپ3کی محبت بہت زیادہ تھی۔ ارشاد ہے ’’ پس ایک وجوددیکھا‘‘ یعنی رسول کریم3نے ایک وجود دیکھا۔ ارشاد ہے ’’ فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کے نکاح کی تقریب میں شامل ہوئی ہے تاکہ ان کی تعظیم کرے‘‘ یعنی سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا سلام اﷲ علیہا کے اکرام کیلئے تو آئی ہے۔ ارشاد ہے’’ پس میر ے لئے دعافرمائی ‘‘ یعنی سرورِ عالم وعالمیان حضرت محمد مصطفی3اسماء بنت عمیس کے اس تقریب میں شمولیت کرنے اور اہل بیت کے اکرام و تعظیم کرنے پر بہت خوش ہوئے اور دعا سے سرفراز فرمایا۔
قال عبد الرحمن (ابو عبدالرحمن ) خالفہ سعید 
بن ابی عروۃ فرواہ عن ایوب عن عکرمۃ عن بن عباس

حد یث نمبر
۱۲۵؍۳ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی زکریا۲؂ بن یحیے قال حدثنا محمد۳؂ بن صدران قال حدثنا سھیل۴؂ بن خلاد العبدی قال حدثنا محمد۵؂ بن سوا عن سعید۶؂ بن ابی عروبۃ عن ابی ایوب۷؂ السخستیانی عن عکرمۃ۸؂ عن ابن عباس۹؂ قال لما زوج رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فاطمۃ من علی کان فیما اھدی سریر مشروط و وسادۃ من ادم حشوھا لیف و قربۃ فقال وجآء وا ببطحآء الرمل فبسطوہ فی البیت و قال لعلی اذا اتیتھا بھا فلا تقربھا حتی اتیک فجآء رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فدق الباب فخرجت الیہ ام ایمن فقال لھا ثم اخی قالت و کیف یکون اخوک و قد زوجتہ ابنتک قال فانہ ، اخی قال ثم اقبل علی الباب و رای سوادا فقال من ھذا؟ فقالت اسماء ابنت عمیس فاقبل علیھا فقال لھا جئت تکرمین ابنۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قالت نعم فدعا لھا خیرا ثم قال دخل رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال وکان الیھود ےأخذون الرجل من امرأتہ اذا دخل بھا قال فدعی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بتور من مآء فتفل فیہ وعوذ فیہ ثم دعا علیا فرش من ذالک المآء علی وجھہ و صدرہ و ذراعیہ ثم دعا فاطمۃ فاقبلت تعثر فی ثوبھا حےآء من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ففعل بھا مثل 
ذالک ثم قال لھا یا ابنتی و اﷲ ما اردت ان ازوجک الا خیر اھلی ثم قام فخرج

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۵
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۱
۳؂: محمد بن صدران:محمد بن ابراہیم بن صدران الازدی السلمی کی کنیت ابو جعفر البصری ہے۔ یہ المؤذن ہے اور اس کی نسبت اپنے دادا یعنی صدران کی طرف کی جاتی ہے۔ صدوق ہے اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۳ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۸۸)
۴؂: سہیل بن خلادالعبدی:سہیل بن خلاد العبدی البصری مقبول اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۱۳۹)
۵؂: محمد بن سواء:محمد بن سواء السدوسی العنبری کی کنیت ابو الخطاب البصری ہے ۔یہ صدوق ہے اور رمی بالقدر ہے۔ طبقہ التاسعہ سے ہے ۱۸۷ ؁ ہجری یا ۱۸۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۰)ابن حبان اور ابن شاہین نے اسے ثقات میں ذکر کیاہے۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 


ترجمہ ابن عباس صسے روایت ہے کہ جب (سیدہ) فاطمہ (رضی اﷲ عنہا) کی شادی رسول کریم3نے (جناب) علی (المرتضیٰ ص) سے کی۔ جہیز میں آپ3نے ایک بُنی ہوئی چارپائی ، ایک چمڑے کی توشک جو کہ کھجور کی کھال سے بھری ہوئی تھی اور ایک مشکیزہ سیدہ طاہر ہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا کو دیا۔ پس ابن عباس صنے فرمایا ، میدان سے لوگ ریت لائے پس اسے گھر میں بچھا دیا اور (جناب) علی (ص) کو فرمایا جب تک میں نہ آجاؤں تو اس کے نزدیک نہ جانا۔ پس رسول کریم3تشریف لائے دروازہ کھٹکھٹایا تو اُمِ ایمن باہر آئیں تو ارشاد فرمایا میرا بھائی اس جگہ ہے؟ ام ایمن نے عرض کیا کہ وہ آپ کا بھائی کیسے بن سکتا ہے جبکہ آپ نے اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دیا ہے؟ حضور3نے فرمایا پس یقیناًوہ میرا بھائی ہے۔ ابن عباسص فرماتے ہیں کہ پھر رسول کریم3دروازے کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک وجود دیکھا تو ارشاد فرمایا یہ کون ہے؟ تو اُمِ ایمن نے عرض کیا کہ اسماء بنت عمیس ہے۔ پس حضرت3ان کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا کیا تو خدا کے رسول3 کی بیٹی کی تعظیم کیلئے آئی ہے۔ اس نے عرض کیا کہ ہاں، تو آنحضرت3نے اس کیلئے دعا فرمائی پھر حضور3 گھر میں تشریف لائے۔ فرمایا کہ یہود عورتوں کے قریب جانے سے منع کرتے تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اﷲ 3 نے پانی کا پیالہ منگوایا۔ پھر آپ3نے اس میں لعاب مبارک ڈالی اور اس پر اعوذ پڑھاپھر (جناب) علی المرتضیٰ3 کو بلایا۔ پس ان کے چہرہ پر ، ان کے سینہ پر اور ان کے بازؤوں پر اس پانی کو چھڑکا۔ پھر (جنابہ ) سیدہ فاطمتہ الزہرا (رضی اﷲ عنہا) کو بلایا پس وہ آئیں در آنحا لیکہ حضور3سے حیاء کرتیں، اپنی چادر میں گرتی پڑتیں تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ پھر اسے ارشاد فرمایا اے میری پیاری بیٹی ! اﷲ تعالیٰ کی قسم! میں نے اپنی اہل بیت سے جو بہت بہتر تھا اس کے ساتھ تیری شادی کی۔ پھرُ اٹھے اور گھر سے تشریف لے گئے۔

حل لغت اھدی: جہیز۔ سریر: چارپائی۔ مشروط: بُنی ہوئی۔ وسادۃ: تو شک، گدیلا۔ ادم: چمڑہ۔ حشو: بھرنا۔ لیف: کھجور کے درخت کی کھال۔ قربۃ: مشکیزہ۔ الرمل: ریت۔ تور: چھوٹا پیالہ یا پیتل ، یا پتھر کا لوٹاجس سے پانی پیتے ہیں۔ تفل: تھو تھوکرنا ، جس میں کچھ تھوک بھی نکلے۔ رش: چھڑکا۔ تعثر: گررہی تھی۔ 

بقیہ حاشیہ : ۔ الذہبی نے کہا احد الثقاۃ المعروفین اخرجہ لہ الشیخان (احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمومنین علی ابن ابی طالب، صفحہ
۱۳۹ )
۶؂: سعید بن ابی عروتہ:سعید بن ابی عروتہ مہران الیسکری ثقہ، حافظ اور کثیر التصانیف ہے مگر اس میں تدلیس بہت پائی جاتی ہے واختلط طبقہ السادستہ سے ہے۔ ۱۵۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۱۲۴)
۷؂: ایوب سختیانی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۴:۲
۸؂: عکرمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۴:۶ ۹؂: ابن عباسص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۴:۷
عثریا عثبیر یاعثار : پھسل جانا ، گر پڑنا،ٹھوکر کھا کے گرنا ، ہلاک ہونا۔

تشریح ارشاد ہے’’ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا کو دیا‘‘ یعنی حسبِ توفیق لڑکی کو جہیز دینا سنت رسول کریم3ہے۔ اس سے سنت رسول3کو نہ ماننے والا ہی انکار کرے گا۔ آج کل بعض لوگ جہیز دینے کی مخالفت کر رہے ہیں حالانکہ حضوراکرم3نے اپنی صاحبزادی کو بنفس نفیس حسبِ توفیق اور حسبِ ضرورت جہیز دیا۔ہاں خواہ مخواہ دکھاوے کیلئے اُدھار قرض لے کر اپنے آپ کو زیر بار اور تباہ نہ کرے بلکہ سنتِ نبوی3کی اتباع کرے۔ ارشاد ہے ’’ پس یقیناًوہ میرا بھائی ہے‘‘یعنی یہ فقرہ قابلِ توجہ ہے کہ ’’ یقیناًوہ میرا بھائی ہے ‘‘ اس سے کتنی محبت کا اظہار ہو رہا ہے ، کتنے پیار کی بارش ہو رہی ہے، کتنا زیادہ اعتماد اور بھروسہ کا ثبوت مل رہا ہے۔ ارشاد ہے ’’آنحضرت3نے اس کیلئے دعا فرمائی ‘‘ یعنی حضور3اسماء بنت عمیس کے اس تقریب سعید کے موقع پر آنے سے بہت خوش ہوئے۔ ثابت ہوا کہ نکاح کی تقریب میں شمولیت باعثِ برکت ہے۔ ارشاد ہے ’’ یہود عورتوں کے قریب جانے سے منع کرتے تھے‘‘ یعنی یہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے فرمایا۔ ارشاد ہے ’’ پھر آپ3نے اس میں لعاب مبارک ڈالی اور اعوذ پڑھا‘‘ یعنی اس پانی کے پیالہ میں حضور نبی کریم3نے اپنی تھوک مبارک ڈالی اور اعوذ پڑھ کر دم کیا۔ ارشاد ہے ’’تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا‘‘ یعنی وہ پانی جس طرح جناب علی المرتضیٰ3 کے اعضاء پر چھڑکا اسی طرح جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے اعضاء پر بھی چھڑکا۔ مولانا مولوی محمد ابو الحسن صاحب شارح خصائص نسائی صفحہ
۷۲ پر تحریر فرماتے ہیں
’’ اس حدیث شریف سے حضرت علی ص کی بڑی فضلیت ثابت ہوئی کہ حضرت3نے اپنی بیٹی اس کو نکاح کر دی اور اس کو سب اہلِ بیت میں سے بہتر فرمایا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی بیٹی کو جہیز دینا سنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح کے وقت دلہن کی تعظیم کیلئے عورتوں کا جمع ہونا درست ہے‘‘۔

حد یث نمبر
۱۲۶؍۴ اخبرنی احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنی عمران۲؂ بن بکار ابن راشد قال حدثنا احمد۳؂ بن خالد قال حدثنا محمد۴؂ عن عبد اﷲ۵؂ بن ابی نجیح عن ابیہ۶؂ ان معوےۃ ذکر علی ابن ابی طالب فقال سعد بن ابی وقاص و اﷲ لان یکون (لی احدی من) خصالہ الثلث احب الی من ان یکون لی ماطلعت علیہ الشمس لان 
(اسماء الرجال اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے)
یکون لی ما قالہ (فی غزوہ تبوک اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی احب الی من ان یکون لی ماطلعت علیہ الشمس لان یکون لی ما قالہ یوم خیبر لا عطین الرأےۃ رجلا یحب اﷲ و رسولہ ، یفتح اﷲ علی یدیہ کرار لیس بفرار احب الی من ان یکون لی ما طلعت علیہ الشمس لان اکون صھرہ علی ابنۃ
ولی من الولد منھا مالہ احب الی من ان یکون لی ما طلعت علیہ الشمس

ترجمہ ابن نجیح سے روایت ہے کہ معاویہ نے علی3 کا ذکر کیا تو سعد بن ابی وقاص نے کہا اﷲ کی قسم! مجھے اس (علی المرتضیٰ3 ) کی تین خصلتوں میں سے ایک خصلت کا حصول دنیا کی ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے جس پر سورج چڑھتا ہے۔ یہ کہ ہو میرے لئے وہ بات جو حضور3نے اس کیلئے ارشاد فرمائی ہے۔(غزوہ تبوک میں ) کہ جو مرتبہ (جناب) موسیٰ (ں)کے نزدیک (جناب) ہارون(ں) کا تھا وہ تیرا میرے نزدیک ہو ،کیاتو اس پر راضی نہیں مگر ہاں ایک بات یاد رکھ کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے مجھے اس سے یہ خصلت زیادہ پسند ہے۔ البتہ میرے لئے ہو وہ جو آنحضرت3نے فرمائی کہ میں ضرور بالضرور یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جو خدا اور اس کے رسول3کو دوست رکھتا ہے،اﷲ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۶
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: عمران بن بکار:عمران بن بکار بن راشد الکلاعی البراد الحمصی مؤذن ، ثقہ اور طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے۔ ۲۷۱ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ۲۶۴)
۳؂: احمد بن خالد: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۶:۲
۴؂: محمد (بن اسحاق):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۴:۴
۵؂: عبد اﷲ بن ابی نجیح:عبداﷲ بن ابی نجیح یسار المکی کی کنیت ، ابویسار الثقفی ہے۔ یہ ثقہ اور رمی بالقدر ہے ربما دلسطبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۳۱ ؁ہجری میں وفات پائی (التقریب،ص۱۹۱)روی عن ابیہ عطاء ومجاہد و جماعۃ وعنہ شعبۃ ابواسحاق ، محمد بن مسلم ، سفیانان، ورقہ ، ابراہیم بن نافع وغیرھم۔ احمد نے کہاکہ ابن ابی نجیح ثقہ ہے اور اس کا باپ اﷲ کے نیک بندوں میں سے ہے۔ابن معین ، ابوزرعۃ اور نسائی نے کہا ثقہ ہے ، احمد بن حنبل سے روایت ہے کہ ابن نجیح کے سب اصحاب قدریہ تھے۔ العجلی المکی نے کہا ثقہ ہے کہا جاتا ہے کان یرمی القدر افسدہ عمرو بن عبید۔ ۱۳۱ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۶ صفحہ۵۴)
۶؂: ابیہ: اس کا نام یسا رمکی ہے۔ یہ عبداﷲ بن نجیح کا باپ ہے۔ اس کی کنیت ابی نجیح ہے اور یہ اپنی کنیت سے مشہور ہے۔ ثقہ ہے طبقہ الثالثۃ سے ہے۔ ۱۰۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۳۸۶)

بار بار حملہ کرنے والا ہے ، بھاگنے والا نہیں۔ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے مجھے اس سے یہ خصلت پسند ہے البتہ کہ میں داماد ہوں حضور3کا آپ3کی دخترمبارکہ پر اور اس سے میرے لئے اولاد ہو جیسا کہ (جناب) علی(المرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم) کیلئے ہے ۔دنیا اور جو کچھ اس میں ہے مجھے یہ خصلت محبوب تر ہے۔

تشریح ارشاد ہے’’ معاویہ نے علی3 کا ذکر کیا ‘‘ مولانا مولوی محمد ابو الحسن صاحب اپنی شرح صفحہ
۷۲ پر تحریر فرماتے ہیں ’’ یعنی اس کو بر اکہا‘‘ ارشاد ہے’’ کہ مجھ پر سورج چڑھے‘‘ یعنی جناب امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰص میں جو تین خصلتیں ہیں اگر ان میں سے مجھے ایک خصلت بھی حاصل ہوجائے تو میں اس ایک خصلت کے حاصل کرنے پر دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے سب کچھ دے کر وہ ایک خصلت حاصل کرنا نہایت ہی پسند کروں گا۔ ارشاد ہے ’’ جو مرتبہ جناب موسیٰ ں کے نزدیک جناب ہارون ں کا تھا وہ تیر ا میرے نزدیک ہو، کیا تو اس پر راضی نہیں‘‘ یعنی یہ بات حضور3نے علی المرتضیٰصکے حق میں غزوۂ تبوک کے مو قع پر فرما کر انتہائے شرف سے نوازا تو سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ میں تمام کائنات کی بجائے اس ایک شرف سے نوازا جانا زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ارشاد ہے ’’ میں کل ضرور بالضرور یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جوخدا اور اسکے رسول 3کو دوست رکھتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا ،باربار حملہ کرنے والا ہے ،بھاگنے والا نہیں۔ دنیا اور زمین میں جو کچھ ہے مجھے اس سے یہ خصلت پسند ہے‘‘ یعنی آنحضرت 3نے فتح خیبر کے وقت جناب سیدنا علی المرتضیٰ 3 کو ان تین اعزازات سے سرفراز فرمایا جو کسی دوسرے صحابیکو حاصل نہیں۔ جناب سعد بن ابی وقاص ص فرماتے ہیں کہ تمام کائنات میں جو کچھ بھی ہے مجھے اس سے زیادہ حضور نبی کریم3 کی طرف سے ان اعزازات سے نوازاجانا پسند ہے۔ ارشاد ہے ’’ البتہ کہ میں داماد ہوں حضور3کا آپ3کی دختر مبارکہ پر اور اس سے میرے لئے اولادہو جیسا کہ جناب علی المرتضیٰ3 کیلئے ہے‘‘ یعنی یہ بات ناممکن ہے کہ ایساہو لہٰذا یہ فضیلت اور عزت افزائی سوائے جناب سیدنا علی المرتضیٰصکے کسی اور کو حاصل نہیں۔ تو ثابت ہو گیا کہ اس مرتبہ عالی کے مالک کو اورجو قربِ خاص اس بزرگِ خاص و مقربِ رسول3کو حاصل ہے کے باوجود ان کو کسی بھی وجہ سے برا کہنا اچھا نہیں۔ اسی لئے جناب سعد بن ابی وقاص نے امیر شام جناب معاویہ بن ابی سفیان کو امیر المومنین سیدنا علی ابن ابی طالب3کی وہ شرافتیں ، عزتیں اور عظمتیں یاد دلائیں جو کہ انہیں حضرت سرور کون ومکان ، امام الانبیاء، سید المرسلین حضرت محمد مصطفی3کی جناب پاک سے عطا ہوئیں تھیں اور ذکر فرمایا وہ بھی صرف تین مبارک خصلتوں کا ورنہ آپصکی مبارک زندگی کا ایک ایک لمحہ جناب پیغمبر اسلام 3کی زندگی مبارک کا مظہر اتم ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر الاخبار المأثورۃ بان فاطمۃ بنت محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سیدۃ
نسآء اھل الجنۃ الامریم بنت عمران
’’ اس باب میں ان احادیث کا ذکر ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ سوائے
مریم بنت عمران کے فاطمہ بنت محمد3جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں ‘‘
(اس باب میں چھ احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۲۷؍۱ انبأنا محمد۱؂ بن بشار قال حدثنا عبد الوھاب۲؂ قال حدثنا محمد۳؂ بن عمرو عن ابی سلمۃ۴؂ عن عائشۃ رضی اﷲ عنھا قالت مرض رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فجآء ت فاطمۃ فاکبت علی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فسارھا فبکت ثم اکبت علیہ فسارھا فضحکت فلما توفی النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سألتھا فقالت لما اکببت علیہ اولا اخبرنی انہ سیموت من وجعہ فبکیت ثم اکببت علیہ اخری فاخبرنی انی اسرع بہ لحوقا و انی سیدۃ نسآء اھل
الجنۃ الا مریم بنت عمران فرفعت رأسی فضحکت

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۷
۱؂: محمد بن بشار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۵:۱
۲؂: عبدالوہاب:عبدالوہاب بن عبدالمجید بن ا لصلت الثقفی کی کنیت ابو محمد البصری ہے۔ ثقہ ہے،طبقہ الثامنہ سے ہے۔ تغیر قبل موتہ بثلث سنین ۱۹۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۲۲)
۳؂: محمد بن عمرو: محمد بن عمرو بن حزم الانصاری کی کنیت ابوعبدالملک المدنی ہے۔ اس کا حضور3کو دیکھناثابت ہے۔ (حاشیہ جاری ہے ) 

ترجمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول کریم3 بیمار ہوئے تو (سیدہ طاہرہ) فاطمہ (الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) آئیں، حضور 3 پر سرنگوں ہو گئیں۔ پس رسول کریم3نے ان کے ساتھ کچھ سرگوشی فرمائی پس (سیدہ طاہرہ فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) روئیں۔ پھر آپ(رضی اﷲ عنہا) جھکیں پھرحضرت3نے ان سے کچھ سرگوشی فرمائی تو جنابہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہنس پڑیں۔ پس جب آنحضرت3کا وصال شریف ہوا تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب میں پہلی مرتبہ ان سے لپٹی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ عنقریب میں اس بیماری سے وصا ل پا جاؤں گا تو میں روئی۔ پھر دوبارہ جب میں ان پر جھکی تو مجھے حضور3نے بتا یاکہ تو ہی مجھ کو اوّل ملے گی اور یہ کہ تو جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہے سوائے مریم بنت عمران کے تو میں نے اپنا سر اٹھا یا پس میں ہنسی۔

حل لغت اکب علیہ: کسی کو بچانے کیلئے اس پر چھا جانا، کب : جھک جانا، سرنگوں ہونا۔ تسار: باہم سرگوشی کرنا، ایک دوسرے کے بھید پر مطلع ہونا۔ 

تشریح ارشاد ہے’’ حضور3 پر سرنگوں ہوگئیں‘‘ یعنی سرورِ عالم وعالمیان3لیٹے ہوئے تھے اور آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرطِ محبت سے آپ3سے جھک کر لپٹ گئیں۔ ارشاد ہے’’ پس رسول کریم3نے انکے ساتھ سرگوشی کی ‘‘ یعنی سیدۃ النساء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے کان میں کچھ بات کہی۔ ارشا دہے ’’پس سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا

بقیہ حاشیہ: لیکن سماع صحابہ کرام سے ہے آپ3سے نہیں۔
۶۳ ؁ہجری میں یوم الحرہ کے دن قتل ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۳)
۴؂: ابی سلمۃ:اس کا نام عبداﷲ بن عبد الرحمن بن عوف الزہری المدنی ہے اور ابو سلمہ کنیت ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام اسماعیل بن عبد الرحمن ہے یہ ثقہ ، مکثر اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۹۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۴۰۹)
۵؂: عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا:جناب سیدنا ابوبکر صدیق ص کی صاحبزادی ہے۔ التیمیہ ہے، ام المؤمنین ہے۔ ا م عبداﷲ کنیت ہے، الفقیہہ ہے ۔ام رومان بنت عامر بن عونمیر اس کی والدہ ماجدہ ہے۔ حضور 3سے کثرت سے روایت کرتی ہے۔ یہ اپنے باپ (ابوبکرصدیقص)عمرص ، حمزہ بن عمرو السلمی ، سعد بن ابی وقاصص، جدامتہ بنت وہب الاسدیہ اور سیدہ فاطمۃ الزہریٰ سلام اﷲ علیہا سے روایت کرتی ہے اور اس سے اس کی بہن ام کلثوم بنت ابوبکرص ، رضاعی بھائی عوف بن الحارث بن طفیل دونوں بھتیجے قاسم ،عبداﷲ ، بھتیجیاں حفصہ و اسما ء بنت عبد الرحمن ،اس کا بھائی کا پوتا عبداﷲ بن عتیق محمد بن عبدالرحمان ابوبکر وغیرہم روایت کرتے ہیں۔ عطاء ابن ابی رباح نے کہا’’کانت عائشہ افقہ الناس و اعلم الناس واحسن الناس رأی فی العامۃ‘‘ اور زہری نے کہا نبی کریم 3 کی تمام ازواج مطہرات کے علم کو اگر جمع کیا جائے تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علم کے برابر ہے اور اگر تمام عورتوں کے علم کو جمع کیا جائے تو البتہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا علم ان سے افضل ہے۔ رمضان شریف ۵۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۱۲، صفحہ ۴۳۳)
رضی اﷲ عنہا روئیں‘‘ یعنی اس بات کے سنتے ہی آپ رضی اﷲ عنہا پر گریہ طاری ہو گیا اور آپ خوب روئیں۔ ارشاد ہے ’’ پھر آپ جھکیں ‘‘ یعنی حضور3سے لپٹ گئیں۔ ارشاد ہے ’’ تو میں نے ان سے پوچھا ‘‘ یعنی ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ یہ کیا سرگوشی تھی۔ حضور نبی اکرم3کے ساتھ کیا گفتگو ہوئی تھی۔ ارشاد ہے’’ تو ہی مجھ کو اوّل ملے گی ‘‘ یعنی میرے اہلِ بیت میں سے تو ہی مجھ کو سب سے پہلے اور جلدی ملے گی گویا آپ کا وصال میرے بعد جلد ہوگا اور تو مجھ سے ملاقات کرے گی۔ اس حدیث سے حضور3کا علمِ غیب ثابت ہو رہا ہے کہ نبی کریم3کو اپنے وصال شریف کا علم ہے اور نیز یہ بھی علم ہے کہ سب سے پہلے اپنے خاندان میں سیدۃ النساء فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوگا اور جنت جو کہ غائب ہے اس میں سیدۃ النساء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سب عورتوں کی سردار ہو ں گی سوائے مریم بنت عمران کے۔ گویا تین غائب باتو ں کی اپنی اُمت کو خبر ارشاد فرمائی 
قیاس کن زِ گلستانِ من بہار مرا
اسنادہ‘ حسن( الحوینی صفحہ
۱۰۳) اسنادہ حسن و الحدیث صحیح( احمد میرین البلوشی، خصائص امیر المومنین صفحہ ۱۴۱)
حد یث نمبر
۱۲۸؍۲ اخبرنا ھلا ل۱؂ بن بشرقال حدثنا محمد۲؂ بن خالد قال اخبرنی موسی۳؂ بن یعقوب قال حدثنی ھاشم۴؂ بن ھاشم عن عبد اﷲ۵؂ بن وھب ان ام سلمۃ۶؂ رضی اﷲ تعالی عنھا اخبرتہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم دعی فاطمۃ فنا جاھا فبکت ثم جذبھا فضحکت فقالت ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا فلما توفی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سألتھا عن بکآءھا و ضحکھا فقالت اخبرنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم ان یموت فبکیت ثم اخبرنی انی سیدۃ
نسآء اھل الجنۃ بعد مریم بنت عمران فضحکت
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۸
۱؂: ہلال بن بشر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۱۲؂: محمد بن خالد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۲
۳؂: موسیٰ بن یعقوب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۳۴؂: ہاشم بن ہاشم: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۸:۴ 
۵؂:عبد اﷲ بن وہب:عبد اﷲ بن وہب بن زمعہ بن الاسود بن المطلب الاسدی الاصغر ثقہ ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے (التقریب،صفحہ۱۹۳)
۶؂: ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا :آپ کا نام ہند بن ابی امیہ حذیفہ ہے، نبی کریم 3کی زوجہ ہے، بہت صحابہ سے روایت کرتی ہے اور بہت سے صحابہ کرام و تابعین ان سے روایت کرتے ہیں، ابن حبان نے کہا ۶۱ھ کے آخر میں حسین بن علی صکی شہادت کی خبر ملنے کے بعد وصال فرمایا (تہذیب التہذیب،جلد ۱۲ صفحہ ۴۵۵) ملخصاً
ترجمہ عبداﷲ بن وہب سے روایت ہے کہ ان کو اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ آنحضرت3نے (جنابہ) فاطمۃ (الزہرا رضی اﷲ عنہا ) کو بلا بھیجا پس سرگوشی کی اس سے ،سو وہ روئیں۔ پھر اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ ہنس پڑیں۔ پس ام المومنین اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جس وقت رسول اﷲ3نے وصال فرمایا تو میں نے ان سے رونے اور ہنسنے کے بارے میں پوچھا۔ پس انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اﷲ 3نے بتایا کہ وہ وصال فرما رہے ہیں تو میں روئی۔ پھر مجھے بتایا کہ جنت کی سب عورتوں کی میں سردار ہوں مریم بنت عمران کے سوا تو میں ہنس پڑی۔

حل لغت نجو اور نجوی: سرگوشی کرنا، کان میں بات کہنا۔ جذب: کھینچنا، گذرنا ، چوس لینا ، دودھ چھڑانا ، دودھ کم ہونا۔

تشریح ارشاد ہے ’’ پس سرگوشی کی اس سے سو وہ روئیں‘‘ یعنی حضرت3نے جنابہ سیدہ فاطمہ علیہا السلام سے پوشیدہ کان میں بات فرمائی تو سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا رو پڑیں۔ ارشاد ہے’’ پھر اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ ہنس پڑیں‘‘ یعنی جناب رسول کریم3نے سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا کو اپنی طرف کھینچ کر خفیہ بات فرمائی تو سیدہ سلام اﷲ علیہا وہ بات سن کر ہنس پڑیں۔ ارشاد ہے’’ تو میں نے ان سے رونے اور ہنسنے کے بارے میں پوچھا ‘‘ یعنی اے سیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا آپ روئیں کیوں اورہنسیں کیوں؟ اس حدیث مبارک سے ثابت ہوا کہ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا دنیا کی تمام عورتوں سے افضل ہیں سوائے مریم بنت عمران کے۔ مگر دوسری احادیث میں مریم بنت عمران کا بھی استثناء نہیں ہے جیسے مولانا مولوی محمد ابو الحسن صاحب نے اپنی شرح میں لکھا ہے
’’ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ کو دنیا کی سب عورتوں پر فضیلت ہے سوائے مریم بنت عمران علیہا السلام کے۔ لیکن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں مریم علیہا السلام کا بھی استثناء نہیں۔ سوا حتمال ہے کہ آنحضرت 3 کو بتدریج اطلاع ہوئی ہے۔ اوپر فضیلت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ وحی کے تو آخر میں عموم فضل ان کا تمام عالم کی عورتوں پر ثابت ہوا‘‘(مناقب مرتضوی، صفحہ
۷۴)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث اس کتاب کی حدیث نمبر
۱۳۲ پر ملاحظہ فرمائیں

حد یث نمبر
۱۲۹؍۳ حدثنا اسحاق۱؂ بن ابراھیم قال انبأنا جریر۲؂ عن یزید۳؂ عن عبدالرحمان۴؂ بن ابی نعیم عن ابی سعید۵؂ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن و الحسین سید اشباب اھل الجنۃ و فاطمۃ سیدۃ نسآء اھل الجنۃ 
الاما کان من فضل مریم بنت عمران
ترجمہ ابی سعید سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم3نے فرمایا کہ (جناب) حسن (ں) اور (جناب) حسین (ں) دونوں جنت کے تمام نوجوانوں کے سردار ہیں اور (سیدہ) فاطمتہ(الزہرا رضی اﷲ عنہا) جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں سوائے مریم بنت عمران کے۔

حد یث نمبر
۱۳۰؍۴ انبأنا محمد۱؂ بن منصور الطوسی قال حدثنا الزبیری۲؂ محمد بن عبداﷲ قال اخبرنی ابو جعفر۳؂ و اسمہ محمد بن مروان قال حدثنا ابو حازم۴؂ عن ابی ھریرۃ۵؂ قال ابطا علینا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یوما صدر النھار فلما

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۲۹
۱؂: اسحاق بن ابراہیم: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۹:۱
۲؂: جریر: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر ۱۹:۲ 
۳؂: یزید: یزید ابی زیاد الہاشمی الکوفی ضعیف ہیکبر فتغیر صار یتلفن شیعہ تھا اور طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ ۱۳۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۸۲)
۴؂: عبد الرحمن بن ابی نعیم:اس کا نام عبد الرحمن بن ابی نعیم البجلی ہے اور ابوالحکم الکوفی کنیت ہے۔ عابد صدوق اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۰۰ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۱۱)
۵؂: ابی سعید:اس کا نام سعد بن مالک بن سنان بن عبید الانصاری اور ابو سعید الخدری کنیت ہے ۔یہ اور اس کا باپ دونوں حضور3کے صحابی تھے۔ احد کے وقت یہ چھوٹا تھا ،باقی تمام جہادوں میں شریک ہوا۔ کثیر الروایت ہے۔ مدینہ منورہ میں ۶۳یا ۶۵ ھ میں وفات پائی (التقریب، صفحہ ۱۱۹)
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۰
۱؂: محمد بن منصور:محمد بن منصوربن داؤد الطوسی ہے۔ بغداد میں رہائش پزیر رہا۔ ابو جعفر اس کی کنیت ہے۔ عابد اور ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ کے صغار سے ہے۔ ۲۵۴ہجری میں وفات پا ئی۔(التقریب،صفحہ ۳۲۰)
۲؂: محمد بن عبد اﷲ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۴:۲
۳؂: ابوجعفر:اس کا نام محمد بن مروان الذہلی ہے اور ابو جعفر کنیت ہے ، کوفی ہے، مقبول ہے طبقہ السابعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ۳۱۸)
۴؂: ابوحازم:اس کا نام سلیمان الاشجعی اور ابوحازم کوفی کنیت ہے، ثقہ ہے، طبقہ الثالثہ سے ہے، ۱۰۰ ھ کے اوائل میں وفات پائی۔ (التقریب ص ۱۳۰)
۵؂: ابوہریرہص: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۷:۵


کان العشآء قال لہ قائلنا یارسول اﷲ قد شق علینا قال ان ملکا من السمآء لم یکن رانی فاستأذن اﷲ تبارک و تعالی فی زیارتی فاخبرنی و بشرنی ان فاطمۃ ابنتی سیدۃ
نسآء امتی و ان حسنا و حسینا سیدا شباب اھل الجنۃ

ترجمہ ابی ہریرہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول کریم3نے ایک دن صبح کو تشریف لانے میں دیر فرمائی۔ سو جب عشاء ہوئی تو ہم سے کسی صاحب نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ 3 (آپ 3کا دیر سے تشریف لانا) ہم پر بہت ہی شاق گزرا۔ ارشادفر مایا کہ آسمان کے ایک فرشتہ نے مجھے نہیں دیکھا تھا تو اس نے میری زیارت کرنے کیلئے اﷲ تبارک و تعالیٰ سے اجازت چاہی۔ تو اس نے مجھے خبردی اوربشارت دی یہ کہ میری بیٹی (سیدہ) فاطمتہ (الزہراء سلام اللہ علیہا) میری امت کی تمام عورتوں کی سردار ہے اور بے شک (جناب) حسن اور (جناب) حسین (علیہما السلام ) دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔

حل لغت بظاً: دیر کرنا۔ شق: سخت ہونا، گراں ہونا، شاق ہونا ، تکلیف میں ڈالنا، دشوار ہونا۔

تشریح ارشاد ہے’’ ہم پر بہت ہی شاق گزرا‘‘ یعنی آج جو ہم آپ3کی زیارت سے محروم رہے تو یہ فراق جو آپ3کے دیر سے تشریف لانے کی وجہ سے ہوا ہم پر بہت گراں اور شاق تھا۔ آپ3کا تشریف فرما نہ ہونا ہم پر ایک دشوار امر تھا اور ہم سب آتشِ فراق میں جلتے رہے۔ ارشاد ہے ’’ اس نے میری زیارت کیلئے اﷲ تبارک و تعالیٰ سے اجازت چاہی ‘‘ یعنی اﷲ تبارک و تعالیٰ نے فرشتے کو اپنے پیارے محبوب3کی زیارت کرنے کیلئے اجازت مرحمت فرمائی اور وہ آپ3کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ 
اسنادہ حسن، شواہدہ (احمد میرین البلوشی، خصائص امیر المومنین علی ابن ابی طالب صفحہ
۱۴۳)

حد یث نمبر
۱۳۱؍۵ انبأنا احمد۱؂ بن سلیمان قال حدثنا الفضل۲؂ بن دکین قال حدثنا زکریا۳؂ عن فراس۴؂ عن الشعبی۵؂ عن مسروق۶؂ عن عائشۃ۷؂ رضی اﷲ عنہا قالت اقبلت فاطمۃ کان مشیتھا مشےۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فقال مرحبا با بنتی ثم اجلسھا عن یمینہ او عن شمالہ ثم اسر الیھا حدیثا فبکت فقلت لھا استضحک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بحدیثہ و تبکین ثم انہ اسر الیھا
(اسماء الرجال اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے) 
حدیثا فضحکت فقلت مارأیت مثل الیوم فرحا اقرب من حزن فسألتھا عما قال فقالت ماکنت لافشی سر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم حتی اذا قبض سألتھا فقالت انہ اسر الی اولا فقال ان جبرئیل کان یعارضنی بالقران کل سنۃ مرۃ و انہ قدعارضنی بہ العام مرتین وما ارانی الا وقد حضرت اجلی و انک اول اھل بیتی لحاقا بی و نعم السلف انا لک قالت فبکیت لذالک ثم قال اما ترضی ان تکون
سیدۃ نسآء ھذہ الامۃ اونسآء المؤمنین قالت فضحکت

ترجمہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ (سیدہ) فاطمتہ(الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) آئیں ان کی رفتار جناب رسول کریم 3کی رفتار کی طرح تھی۔ تو جناب رسول کریم3نے ارشاد فرمایا۔ اے میری بیٹی مرحبا! پھر آنحضرت3نے اس کو اپنے دائیں یا بائیں بٹھایا۔ پھر آنحضرت3نے ان سے سرگوشی فرمائی تو (سیدہ) روئیں۔ تو میں نے ان سے کہا کہ حضرت رسول کریم3نے آپ کو اپنی بات سے ہنسانا چاہا اور تو رو دی۔ پھر ان کے ساتھ حضرت3نے سرگوشی فرمائی تو آپ (سلام اللہ علیہا)ہنس دیں۔ تو میں نے کہا میں نے آج کے دن کی خوشی ، نزدیک غم کے نہیں دیکھی۔ سو میں نے ان سے دریافت کیا کہ آنحضرت3

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۱
۱؂: احمد بن سلیمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۱
۲؂: فضل بن دکین(ابونعیم):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۲
۳؂: زکریا:اس کا پورا نام زکریا بن ابی زائدہ خالد ہے اور اسے ہبیرۃ بن میمون بن فیروز بھی کہا گیا ہے الہمدانی الوادعی ہے۔ ا س کی کنیت ابویحیےٰ الکوفی ہے ثقہ وکان یدلس اپنی آخری عمر میں ابی اسحاق سے سماع کیا ہے۔ طبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۴۷ ؁ہجری یا ۱۴۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۱۰۷)
۴؂: فراس:فراس بن یحیےٰ الہمدانی الخارفی ہے۔ ابو یحیےٰ الکوفی کنیت ہے۔ المکتب ہے۔ صدوق ہے ربما وھم طبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۲۹ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ۲۷۴)
۵؂: الشعبی: اس کا نام عامر بن شراحیل الشعبی ہے۔ ابو عمرو کنیت ہے۔ ثقہ ہے۔ مشہور ہے۔ فقیہہ ، فاضل اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ مکحول نے کہااس سے زیادہ فقیہہ میں نے نہیں دیکھا۔۱۰۳ ؁ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۶۱)
۶؂: مسروق: مسروق بن الاجدع بن مالک الہمدانی الوادعی ہے ابو عائشہ الکوفی اس کی کنیت ہے۔ ثقہ ،فقیہہ ، عابد اور مخضر م ہے طبقہ الثانیہ سے ہے۔ ۶۳ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،،صفحہ ۳۳۴)
۷؂: عائشہ رضی اللہ عنہا:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۷:۵
نے آپ کو کیا فرمایا تھا۔ تو (سیدہ نے ) فرمایا میں حضور3کے اس راز کو اس وقت تک افشا نہ کروں گی جب تک کہ آپ 3کا وصال نہ ہوجائے۔ تو میں نے ان سے پوچھا پس انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت3نے جو پہلی بار مجھ سے سرگوشی فرمائی تھی ، یہ تھی کہ آنحضرت3نے فرمایایقیناًہر سال جبرئیل میرے ساتھ ایک بار دور کرتا تھا۔ اور بے شک اس نے اس سال دوبار میرے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا ہے اور میں سمجھ رہا ہوں کہ میرے وصال کا وقت قریب ہے اور بے شک میرے اہل بیت سے تو مجھ کو سب سے پہلے ملے گی۔ اور میں تیرا لئے اچھا پیشوا ہوں۔ فرمایا اس بات نے مجھے رلا دیا۔ پھر ارشاد فرمایاکیا تو اس بات سے راضی نہیں کہ تو اس اُمت کی تمام عورتوں کی سردار ہویا یہ فرمایا کہ تمام مؤمن عورتوں کی سردار ہو، پس میں ہنس دی۔

حل لغت مشےۃ: وضع ، چلن ، رفتار۔ مرحبا: ’’مجمع البحرین‘‘ میں ہے کہ مرحبا ایک انس اور محبت کا کلمہ ہے جو آنے والے سے کہتے ہیں تاکہ وہ خوش ہو اور مزید خیر سگالی کے جذبات پیدا ہوں۔ فرح: خوش ہونا، اِترانا۔ حزن: رنج ، صدمہ ، غم۔

تشریح ارشاد ہے ’’ ان کی رفتار جناب رسول کریم3کی رفتار کی طرح تھی ‘‘ یعنی جنابہ سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی چال اپنے والد گرامی منزلت حضرت رسول کریم3کی چال کے ہو بہو تھی۔ ارشاد ہے ’’ میں نے آج کے دن کی خوشی ، نزدیک غم کے نہیں دیکھی ‘‘ یعنی خوشی کاغم کے فوراً بعد پیدا ہونا میں نے اس طرح کبھی نہیں دیکھا کہ یا تو آپ رو رہی تھیں اور پھر فوراً ہی آپ ہنس رہی ہیں۔ ارشاد ہے’’ تو میں نے ان سے پوچھا ‘‘ یعنی حضور نبی کریم3کے وصال فرمانے کے بعد میں نے ان سے کہا کہ اب تو وہ سرگوشی جو حضور3نے کی تھی بتا دیجئے۔ ارشاد ہے ’’ تواس اُمت کی تمام عورتوں کی سردار ہو یا یہ فرمایا کہ تما م مؤمن عورتوں کی سردار ہو ‘‘ یعنی یہ راوی کا شک ہے کہ یہ فرمایا کہ ’’ھذا الامۃ ‘‘ یا ’’نسآء المؤمنین‘‘
اسنادہ صحیح ، رجالہ ثقاۃ ( البلوشی صفحہ
۱۴۴)

حد یث نمبر
۱۳۲؍۶ انبأنا محمد۱؂ بن معمر البحرانی قال حدثنی ابوداود۲؂ قال حدثنا ابو عوانۃ۳؂ عن فراس۴؂ عن الشعبی۵؂ عن مسروق۶؂ قال اخبرتنی عائشۃ۷؂ 

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۲
۱؂: محمد بن معمر:محمد بن معمر بن ربعی القیسی البصری البحرانی صدوق اور طبقہ الحادیہ کے کبار سے ہے۔ ۲۵۰ھ میں وفات پائی (التقریب،ص ۳۱۹)
۲؂: ابوداؤد:اس کا نام سلیمان بن داؤد بن الجارود ہے۔ ابوداؤد الطیالسی کنیت ہے۔ البصری ہے۔ ثقہ اور حافظ ہے۔(حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے)

قالت کنا عند رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم جمیعا ما یغادر منا واحدۃ فجآء ت فاطمۃ تمشی ولا و اﷲ ان تخطی مشیتھا من مشےۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم حتی انتھت الیہ فقال لھا مرحبا با بنتی فاقعدھا عن یمینہ او عن یسارہ ثم سارھا بشیے فبکت بکآء شدیدا ثم سارھا بشیے فضحکت فلما قام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قلت لھا ما خصک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم من بیننا بالسرا ر انت تبکین اخبرینی ما قال لک قالت ما کنت لافشی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بسرہ فلما توفی قلت لھا اسئلک بالذی لی علیک من الحق ما سارک بہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فقالت اما الان فنعم سارنی المرۃ الاولی فقال ان جبرئیل کان یعارضنی بالقران فی کل عام مرۃ وانہ عارضنی بہ العام مرتین ولا اری الا اجل قد اقترب فاتقی اﷲ تعالی و اصبری فبکیت ثم قال لی یا فاطمۃ اما ترضین
ان تکون سیدۃ نسآء ھذہ الامۃ و سیدۃ نسآء العالمین فضحکت

ترجمہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم سب جناب رسول کریم3کے پاس جمع تھیں۔ ہم میں سے کوئی باقی نہیں تھی پس (سیدہ) فاطمتہ (الزہراسلام اللہ علیہا) تشریف لائیں۔ اﷲ جل جلالہ کی قسم! کہ (سیدہ) فاطمتہ(الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) کی رفتار حضرت سیدنا و مولانا جناب رسول کریم3کی ہو بہو رفتار تھی۔ یہاں تک کہ حضور3کے بہت قریب پہنچ گئیں۔ پس فرمایا اے میری بیٹی مرحبا، پھر جناب حضرت

بقیہ حاشیہ : قال ابراہیم بن سعید الجوہری اخطاء فی الف حدیث و قال امام برہان الدین ابی الوفاء ابراہیم قلت ھذا قالہ ابراہیم علی سبیل المبالغۃ و لو اخطاء فی سبع ھٰذا الضفوہ ‘‘ الکاشف محولہ بالا جلد
۱، صفحہ ۴۵۸) ۔طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۲۰۴ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۱۳۳)
۳؂: ابوعوانۃ(الوضاح):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۳:۳
۴؂: فراس:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۱:۴
۵؂: الشعبی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۱:۵
۶؂: مسروق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۱:۶
۷؂: عائشۃرضی اللہ تعالیٰ عنہا:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۷:۵
رسول کریم3نے ان کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھا یا، پھر ان سے کچھ سرگوشی فرمائی،پس آپ(سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ) بہت ہی زیادہ روئیں پھر ان سے کچھ سرگوشی فرمائی پس آپ ہنسیں۔ سو جب جناب رسول کریم 3اٹھے، تو میں نے (سیدہ سے) کہا کہ وہ کون سی بات تھی جو حضرت رسول کریم3نے خاص تجھ سے فرمائی ؟ ہم سب کے درمیان سے تیرے ساتھ سرگوشی کی اورتو روئی مجھے ضرور بتا دے کہ تجھے حضور3نے کیا فرمایا۔ تو سیدہ (سلام اللہ تعالیٰ علیہا)نے فرمایا کہ میں حضرت رسول کریم3کی اس سرگوشی کو بیان کرنے والی نہیں ہوں۔ پس جب جناب رسول کریم3کا وصال ہوا تو میں نے (سیدہ سلام اللہ تعالیٰ علیہاسے) کہا کہ میرا تجھ پر حق ہے اس لئے میں تجھ سے (یہ بات ) پوچھتی ہوں کہ حضرت رسول کریم3نے تیرے ساتھ کیا سرگوشی فرمائی تھی؟ تو (سیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) نے فرمایا ہاں اب سن پہلی بار جو میرے ساتھ سرگوشی فرمائی( تووہ یہ تھی) ارشاد فرمایابے شک جبرئیلں ہر سال قرآن کا دورہ میرے ساتھ ایک بار کرتا تھا مگر اس سال اس نے دو بار کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا وصال قریب ہے، تو اﷲ سے ڈر اورصبرکر۔ تو میں روئی، پھر مجھے جناب رسول کریم3 نے فرمایا کہ اے فاطمہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) کیا تو یہ پسند نہیں کرتی کہ تو میری امت کی تمام عورتوں اور تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہو، پس میں ہنسی۔

حل لغت غدر: پیچھے رہ جانا، آسمان کا پانی پینا ، تاریک ہونا۔

تشریح ارشاد ہے’’ ہم سب جناب رسول کریم 3کے پاس جمع تھیں‘‘ یعنی تمام (امہات المومنین ) ازواج مطہرات حضور سرورِ عالم و عالمیان3کے حضور میں موجود تھیں۔ ارشاد ہے ’’ ہم میں سے کوئی بھی باقی نہیں تھی ‘‘ یعنی کوئی زوجہ محترمہ باقی نہیں تھی جو موجود نہ ہو۔ ارشاد ہے ’’ کہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی رفتار حضرت سیدنا و مولانا جناب رسول کریم3کی ہو بہو رفتار تھی ‘‘ یعنی دونوں حضرت گرامی مرتبت ایک ہی طرح چلتے تھے۔ ارشاد ہے ’’ پس ان سے کچھ سرگوشی فرمائی ‘‘ یعنی حضور3نے سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو آہستہ سے کچھ فرمایا۔ارشاد ہے ’’ سو جب حضرت رسول کریم3اٹھے ‘‘ یعنی وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے۔ ارشاد ہے ’’تو میری اُمت کی تمام عورتوں کی سردار ہو او ر تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہو ‘‘ یعنی سیدۃ النساء جنابہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا تمام مسلمان عورتوں کی جو کہ حضور پاک3کی اُمت میں ہیں کی سردار ہیں اور عالمین (جہانیوں) کی عورتوں کی بھی سردار ہیں۔ یہ فضیلت کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ اب اس حدیث سے مریم بنت 
عمران کا استثناء بھی ختم ہوگیا ۔ اسنادہ صحیح ( البلوشی صفحہ
۱۴۵)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر الاخبار المأثورۃ بان فاطمۃ بضعۃ من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
’’ اس باب میں ان احادیث کا ذکر ہے جن میں یہ ارشاد ہے کہ (سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ عنہا ) حضرت سرور کونین جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد رسول 
اﷲ 3کے وجود مبارک کا ایک ٹکڑا ہے ‘‘
(اس باب میں پانچ احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۳۳؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال اخبرنا قتیبۃ۲؂ بن سعید قال حدثنا اللیث۳؂ عن ابی ملیکۃ۴؂ عن المسور۵؂ بن مخرمۃ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم وھو علی المنبر یقول ان بنی ھشام بن المغیرۃ استأذ نونی ان ینکحوا ابنتھم عن علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ الکریم فلا اذن ثم لااذن الا رأی ان یرید ابن ابی طالب ان یفارق ابنتی و ان ینکح ابنتھم قال ہی بضعۃ منی یریبنی ما رابھا وےؤذینی ما اذی ھا ومن اذی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم
فقد ھبط عملہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۳
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱ 
۲؂: قتیبۃ بن سعید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰:۱
۳؂: اللیث: لیث بن سعد بن عبد الرحمن الفہمی کی کنیت ابو الحارث ہے ، ثقہ ، ثبت ، فقیہہ امام اور مشہور ہے۔ طبقہ السابعۃ سے ہے۔ ۱۷۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۸۷)
۴؂: ابن ابی ملیکہ: اس کا نام عبداﷲ بن عبیداﷲ بن ابی ملیکہ ہے۔ ابی ملیکہ کا نام زہیر بن عبداﷲ بن جدعان ہے۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 

ترجمہ مسور بن مخرمہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رسو ل کریم3سے سنا ہے۔ درآنحالیکہ آپ3منبر پر تشریف فرماتھے۔ ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک بنی ہشام بن مغیرہ مجھ سے اجازت مانگتی ہے کہ اپنی بیٹی کا نکاح علی ابن ابی طالب3 سے کردے۔ پس میں قطعاً اجازت نہیں دیتا،پھر میں قطعاً اجازت نہیں دیتا مگر سوائے اس صورت کے کہ ابن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے دے اور ان کی بیٹی سے نکاح کر لے۔ ارشاد فرمایا کہ وہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جو چیز اس کو قلق میں ڈالتی ہے وہ مجھے بھی قلق میں ڈالتی ہے اور جو چیز اسے دکھ پہنچاتی ہے وہ چیز مجھے بھی دکھ پہنچاتی ہے اور جس شخص نے حضرت رسول کریم3کو دکھ پہنچایا تو یقیناًاس کے کئے کرائے عمل ضائع ہو گئے۔

حل لغت بضعۃ: گوشت کا ایک ٹکڑا۔

تشریح ارشاد ہے ’’آپ3منبر پر تشریف فرماتے تھے‘‘ یعنی وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ ارشاد ہے’’ بنی ہشام بن مغیرہ مجھ سے اجازت مانگتی ہے کہ اپنی بیٹی کا نکاح علی ابن ابی طالب3 سے کردے‘‘ یعنی یہ ابو جہل کی بیوی تھی اور اپنی لڑکی کا جناب علی المرتضیٰصسے نکاح کرنا چاہتی تھی جبکہ علی المرتضی3 کی شادی سیدۃ النساء فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے ہو چکی تھی۔ ارشاد ہے ’’ وہ میرے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ‘‘ یعنی میرے وجود کا ہی ایک حصہ ہے اور ایک اور حدیث شریف میں آیا ہے مضغۃ منی۔ ارشاد ہے ’’ جو چیز اس کو قلق میں ڈالتی ہے وہ مجھے بھی قلق میں ڈالتی ہے‘‘ یعنی جو چیز سیدہ سلام اللہ تعالیٰ علیہا کو بری معلوم ہوتی ہے اور جس سے وہ رنجیدہ ہوتی ہے وہ چیز مجھے بھی بری معلوم ہوتی ہے اور میری بھی رنجیدگی کا باعث ہے۔ ارشاد ہے’’ جس شخص نے حضرت رسول کریم3 کو دکھ پہنچایا تو یقیناًاسکے کئے کرائے عمل ضائع ہوگئے ‘‘ یعنی دو فعل ایسے ہیں کہ ایک مسلمان کے تمام اعمالِ حسنہ کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتے ہیں اور وہ شعور بھی نہیں رکھتا ایک تو پیغمبر اسلام3کی بے ادبی کرنا اور دوسرا ان کو ایذا پہنچانا۔
اسنادہ، صحیح، علی شرط الشیخین (البلوشی، صفحہ
۱۴۶)

بقیہ حاشیہ : عبداﷲ بن زبیر کا قاضی اور مؤذن تھا۔ روی عن العبادلۃ الاربعۃ۔ عبداﷲ بن جعفر بن ابی اطالب ، عبداﷲ بن سائب المخزومی و المسور بن مخرمہ وغیرھم۔ وروی عنہ ابنہ یحیےٰ و اللیث و جماعۃ۔ ابو زرعہ اور ابو حاتم نے کہا ثقہ ہے۔
۱۱۷ ؁ہجری یا ۱۱۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۵ صفحہ ۳۰۶)
۵؂: المسور بن مخرمۃ:مسور بن مخرمہ بن نوفل بن اہیب بن عبدمناف بن زہرہ الزہری کی کنیت ابوعبد الرحمن ہے۔ یہ باپ بیٹا دونوں صحابی تھے۔ ۶۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۳۷)

حد یث نمبر
۱۳۴؍۲ انبأنا احمد۱؂ بن سلیمان قال حدثنا یحیے۲؂ بن ادم قال حدثنا بشر۳؂ بن السری قال حدثنا اللیث۴؂ بن سعد قال حدثنا ابن ابی ملیکۃ۵؂ قال سمعت المسور۶؂ بن مخرمۃ یقول سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم بمکۃ یخطب ان بنی ھشام استأذ نونی ان ینکحوا ابنتھم علیا وانی لااذن ثم لااذن الا ان یرید ابن ابی طالب ان یفارق ابنتی و ان ینکح ابنتھم ثم قال ان فاطمۃ بضعۃ او قال بضعۃ منی ےؤذینی ما اذنھا ویریبنی ما رابھا وما کان لہ ان یجمع بین بنت عدو
اﷲ و بین بنت رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ والہ وسلم)

ترجمہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسور بن مخرمہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول کریم3سے سنا کہ مکہ مکرمہ میں آپ3نے خطبہ میں فرمایا کہ بیشک بنی ہشام مجھ سے اجازت مانگتی ہے کہ اپنی لڑکی کا نکاح (حضرت) علی3 سے کردیں اور یقیناًقطعاً میں اجازت نہیں دیتا۔ پھر یقیناًمیں اجازت نہیں دیتا سوائے اس صورت کے کہ ابن ابی طالب میری لڑکی کو طلاق دے دے اور اس کو نکاح کرے۔ پھر فرمایا کہ فاطمہ (رضی اﷲ عنہا ) گوشت کا ٹکڑا ہے یا فرمایا کہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے جو اسے دکھ دیتا ہے وہ مجھے دکھ دیتا ہے اورجو اسے قلق پہنچاتا ہے وہ مجھے قلق پہنچاتا ہے اور (حضرت علی3 ) کو یہ مناسب نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے دشمن کی لڑکی کو (جناب) رسول اﷲ3کی لڑکی کے ساتھ رکھے۔

تشریح ارشاد ہے’’ فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے ‘‘ یعنی میرے وجود کا ایک حصہ ہے۔ 
اسنادہ صحیح رجالہ ثقاۃ (البلوشی صفحہ
۱۴۷)


سماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۴
۱؂: احمد بن سلیمان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶:۱۲؂: یحییٰ بن آدم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۳۵:۲
۳؂: بشر بن السری: بشر بن السری کی کنیت ابو عمر ہے اور (کثرت وعظ کی وجہ سے اسے) الافوہ بھی کہتے ہیں۔ یہ بصری ہے، مکہ میں رہائش پزیر رہا۔ واعظ ، ثقہ اور متقن ہے۔ اس پر جہمی فرقے کا طعن لگایا گیا تھا۔ جس پر اس نے توبہ کی۔ طبقہ التاسعۃ سے ہے۔ ۱۹۶ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب ،صفحہ ۴۴)
۴؂: لیث بن سعد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۳
۵؂: ابن ابی ملیکہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۴۶؂: المسور بن مخرمہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۵

حد یث نمبر
۱۳۵؍۳ انبأنا احمد۱؂ بن شعیب قال حدثنا الحارث۲؂ بن مسکین قرأۃ علیہ وانا اسمع عن سفیان۳؂ عن عمرو۴؂ عن ابن ابی ملیکۃ۵؂ عن المسور۶؂ بن مخرمۃ ان النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال ان فاطمۃ بضعۃ منی من اغضبھا اغضبنی

ترجمہ مسور بن مخرمہ سے روایت ہے یہ کہ نبی کریم3نے فرمایا یقیناً(سیدہ) فاطمتہ(الزہرارضی اﷲ عنہا) میرے گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غصے میں ڈالا۔

تشریح اسنادہ صحیح، رجالہ ثقات( البلوشی، صفحہ
۱۴۷)

حد یث نمبر
۱۳۶؍۴ انبأنا محمد۱؂ بن خالد قال حدثنا بشر۲؂ بن شعیب عن ابیہ۳؂ عن الزھری۴؂ قال اخبرنی علی بن الحسین۵؂ ان المسور۶؂ بن مخرمۃ اخبرہ ان
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال ان فاطمۃ بضعۃ او بضعۃ منی

ترجمہ یہ کہ مسور بن مخرمہ نے اسے خبردی یہ کہ رسول اﷲ3نے فرمایا بے شک فاطمہ گوشت کا ٹکڑا ہے یا یہ فرمایا کہ فاطمہ میرے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ 

تشریح اسنادہ صحیح، رجالہ ثقاۃ( البلوشی، صفحہ
۱۴۷)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۵
۱؂: احمد بن شعیب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸۹:۱
۲؂: الحارث بن مسکین:حارث بن مسکین بن محمد بن یوسف کی کنیت ابوعمر المصری ہے۔ ثقہ اور فقیہہ ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۵۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔(التقریب ، صفحہ ۶۱)
۳؂: سفیان:سفیان بن عیینہ بن ابی عمران میمون الہلالی کی کنیت ابو محمد الکوفی ثم المکی ہے۔ ثقہ ، حافظ ، فقیہہ ، امام اور حجۃ ہے۔ الا انہ تغیرحفظہ باخرہ و کان ربما دلس لکن عن الثقات من روس الطبقۃ الثامنۃ وکان اثبت الناس فی عمرو بن دینار۔ ۱۹۸ ؁ ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۲۸)
۴؂: عمرو:یہ عمرو بن دینار المکی ہے۔ ابو محمد کنیت ہے ۔ثقہ ، ثبت اور طبقہ الرابعۃ سے ہے۔ ۱۲۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۳۵۹)
۵؂: ابن ابی ملیکہ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۴۶؂: المسور بن مخرمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۵
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۶
۱؂: محمد بن خالد:محمد بن خالدخلی الکلاعی کی کنیت ابوالحسین الحمصی ہے۔ صدوق ہے، طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے (التقریب،صفحہ ۲۹۵)
۲؂: بشر بن شعیب: بشر بن شعیب بن حمزہ بن ابی حمزہ بن دینار القرشی کی کنیت ابوقاسم الحمصی ہے۔ ثقہ اور طبقہ العاشرہ (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے ) 

حد یث نمبر
۱۳۷؍۵ اخبرنی عبد اﷲ۱؂ بن سعد بن ابراھیم بن سعد قال حدثنی عمی۲؂ قال حدثنا ابی۳؂ عن الولید۴؂ بن کثیر عن محمد۵؂ بن عمرو بن حلحلۃ انہ حدثہ ان ابن شھاب۶؂ حد ثہ ان علی۷؂ ابن الحسین حدثہ ان المسور۸؂ بن مخرمۃ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یخطب علی منبرہ ھذا و انا یومئذ
محتلم فقال ان فاطمۃ بضعۃ منی


بقیہ حاشیہ : کے اکابرین سے ہے۔
۲۱۳ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۴۴)
۳؂: ابیہ:یہ شعیب بن ابی حمزہ الاموی القرشی ہے اور بشر کا والد ہے۔ ابو البشر الحمصی اس کی کنیت ہے عابدا ور ثقہ ہے۔ ابن معین نے کہا ، من اثبت الناس فی الزھری۔ طبقہ السابعہ سے ہے۔ ۱۶۲ ؁ہجری میں فوت ہوا۔(التقریب،صفحہ ۱۴۶)
۴؂: الزہری:اس کا نام محمد بن مسلم بن عبید اﷲ بن عبداﷲ بن شہاب بن عبداﷲ بن الحارث بن زہرہ کلاب القرشی الزہری ہے۔ اس کی کنیت ابوبکر ہے۔ بہت بڑا فقیہہ اور حافظ ہے۔ اس کا تقوی اور بزرگی متفقہ ہے، طبقہ الرابعہ کے اکابرین سے ہے۔ ۱۲۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب، صفحہ ۳۱۸) 
۵؂: علی بن حسین ص: علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کا لقب زین العابدین ہے۔ ثقہ ،ثبت ، عابد ، فقیہہ ، فاضل اور مشہور ہے۔ ابن عیینہ نے زہری سے روایت کی ہے کہ ’’ما رایت قرشیا افضل منہ‘‘ میں نے اس سے افضل قریش میں کوئی نہیں دیکھا۔ طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۹۳ہجری میں وفات پائی (التقریب،صفحہ ۲۴۵)۔آپ کی کنیت ابوالحسین ہے، ابو محمد اور ابو عبداﷲ المدنی بھی آپ کو کہا جاتا ہے۔ روی عن ابیہ و عمہ الحسن و ارسل عن جدہ علی بن ابی طالب اور روایت کرتے ہیں۔ ابن عباسص، المسور بن مخرمہ ، ابی ہریرہ ص، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، صفیہ بنت حئی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، ام سلمۃرضی اللہ تعالیٰ عنہا وغیرہم سے اور آپ سے روایت کرتے ہیں آپ کی اولاد سے محمد، زید ، عبداﷲ اور عمر اور روایت کرتے ہیں، ابو سلمۃ بن عبد الرحمن الزہری وغیرہم ۔ابن سعد نے طبقہ الثانیہ میں اہل مدینہ کے تابعین میں آپ کا ذکر کیا ہے۔ آپ کی والدہ ام ولد ہے اور آپ ثقہ ، مامون ،کثیر الحدیث ، عالیاً ، رفیقاً اور ازروئے ورع بلند مرتبہ ہیں۔ آپ کربلا میں اپنے باپ علیہ اسلام کی شہادت کے وقت موجود تھے۔ بیمار تھے ، پس بچ گئے۔ ابن وہب جناب مالک سے روایت کرتے ہیں ’’لم یکن فی اہل بیت رسول اﷲ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم مثل علی بن حسین‘‘ یعنی اہل بیت رسول 3 میں میں نے علی ص بن حسین صکی مانند کوئی نہیں دیکھا اور مصعب الزبیری امام مالک سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ مرتے دم تک علی ص بن حسین ص دن اور رات میں ایک ہزار رکعت پڑھتے تھے اور اس لئے کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کا لقب زین العابدین پڑ گیا۔ (تہذیب التہذیب ،جلد ۷ صفحہ۳۰۴یا ۳۰۷ ملخصاً)
۶؂: المسور بن مخرمہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۵
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۷
۱؂: عبد اﷲ بن سعد بن ابراہیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۴:۱ (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں)

ترجمہ مسور بن مخرمہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول کریم3سے سنا ہے (جبکہ ) وہ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور میں اس وقت سن بلوغ کو پہنچ چکا تھا۔ تو فرمایا یقیناً(جنابہ سیدہ) فاطمتہ (الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) میرے گوشت کا ٹکڑا ہے۔ 

تشریح مسلم شریف کی شرح میں ہے کہ ایذا دینا حضور نبی کریم3کو بہر حال اور ہر وجہ سے حرام ہے۔ اگرچہ ایذا اس چیز سے پیدا ہو کہ اصل اس کی مباح ہو اور یہ آپ3کے خواص سے ہے۔ 
صحیح، اسنادہ ثقاۃ( البلوشی، صفحہ
۱۴۸)










بقیہ حواشی:
۲؂: عمی:یہ یعقوب بن ابراہیم بن سعد بن ابراہیم عبد الرحمن بن عوف الزہری ہے اور یہ عبداﷲ کا چچا ہے ۔اس کی کنیت ابویوسف المدنی ہے۔ بغداد میں رہائش پزیر تھا۔ ثقہ ہے فاضل ہے، طبقہ التاسعہ کے صغار سے ہے۔ ۲۰۸ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۳۸۶)
۳؂: ابی: یہ ابراہیم بن عبدالرحمان بن عوف الزہری ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس نے حضرت عمر صکو دیکھا بھی ہے اور ان سے سماع بھی کیا ہے۔یعقوب بن شیبہ نے اسے اثبت کہا ہے۔ ۱۹۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۱) 
۴؂: ولید بن کثیر:ولید بن کثیر المخزومی کی کنیت ابومحمد المدنی ہے ۔کوفہ میں سکونت اختیار کی۔ روی عن سعید بن ابی ھند و سعید المعثر، عمر و بن حلحلۃ وغیرھم وروی عن ابراہیم بن سعد و عیسی بن یونس و ابن عیینۃ وغیرھمابراہیم بن سعد نے کہا ثقہ ہے اور المغازی بہت جانتا تھا۔ ابن عیینہ نے کہا صدوق ہے۔ ۱۵۱ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۱۱صفحہ ۱۴۸)
۵؂: محمد بن عمرو بن حلحلۃ:محمد بن عمرو بن حلحلۃ الدیلی المدنی ثقہ ہے۔ طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب ،صفحہ۳۱۳)
۶؂: ابن شہاب (الزہری):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۶:۴
۷؂: علی بن حسین ص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۶:۵
۸؂: المسور بن مخرمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۳:۵

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خص بہ علی بن ابی طالب من الحسن و الحسین ابني رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و ریحانیہ من الدنیا و سیدی شباب اھل الجنہ الا عیسی بن مریم و یحیے بن زکریا علیھما السلام
’’ ان ابواب میں اس چیز کا ذکر ہے کہ جناب علی المرتضی3حسنں اور حسین ں کے ساتھ مختص کئے گئے ہیں۔ یہ دونوں بیٹے ہیں رسول اﷲ3کے اور دونوں پھول ہیں دنیا کے نیز سوائے عیسیٰ ں بن مریم اور یحیےٰ بن
زکریا ں کے تمام نوجوانان جنت کے سردار ہیں ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۳۸؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن بکار الحرانی قال حدثنا محمد۲؂ بن سلمۃ عن ابن اسحاق۳؂ عن یزید۴؂ بن عبد اﷲ بن قسیط عن محمد۵؂ بن اسامۃ بن زید عن ابیہ۶؂ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم اما انت یا علی فختنی و ابو

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۸
۱؂: احمد بن بکار:احمد بن بکار بن ابی میمونہ کی کنیت ابو عبدالرحمان الحرانی ہے۔ صدوق ہے ، حافظ اور طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۴۴ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۱۱) (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 

ولدی و انت منی و انا منک

ترجمہ اسامہ بن زید سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم3نے فرما یا اے علی! تو میرا داماد ہے اور میرے دونوں بیٹوں کا باپ ہے اور تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔

















بقیہ حواشی:
۲؂: محمد بن سلمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۳
۳؂: ابن اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۴:۴
۴؂: یزید بن عبد اﷲ:یزید بن عبداﷲ بن قسیط بن اسامہ اللیثی کی کنیت ابوعبداﷲ المدنی ہے، الاعرج ہے۔ ثقہ ہے اور طبقہ الرابعہ سے ہے۔ ۱۲۲ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۸۳)
۵؂: محمد بن اسامہ:محمد بن اسامہ بن زید بن حارثہ المدنی ثقہ ہے۔ طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۹۰ ہجری کے بعد وفات پائی۔ (التقریب،ص۲۸۹)
۶؂: ابیہ:یہ محمد کا والد اسامہ بن زید بن حارثہ بن شراحیل الکلبی ہے ،ابو محمد اور ابوزید اس کی کنیت ہے۔ مشہور صحابی ہے۔ ۵۴ ؁ہجر ی میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۶)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن والحسین ابنای
’’ اس باب میں اس ارشاد کا بیان ہے کہ 
حسن اور حسین علیہما السلام دونوں میرے بیٹے ہیں ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۳۹؍۱ اخبرنی القاسم۱؂ بن زکریا بن دینار قال حدثنا خالد۲؂ بن مخلد قال حدثنی موسی۳؂ ھوا بن یعقوب الزمعی عن عبد اﷲ۴؂ بن ابی بکر بن زید بن المھاجر قال اخبرنی مسلم۵؂ بن ابی سھل النبال قال اخبرنی الحسن۶؂ بن اسامۃ بن زید عن اسامۃ۷؂ بن زید بن حارثۃ طرقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لیلۃ لبعض الحاجۃ فخرج وھو مشتمل علی شیے لا ادری ماھو فلما فرغت من حاجتی قلت ما ھذا الذی انت مشتمل علیہ فکشف فاذا الحسن و الحسین علی و رکیہ
فقال ھذان ابنای و ابنا ابنتی اللھم انک تعلم انی احبھما فا حبھما

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۳۹
۱؂: قاسم بن زکریا:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۱
۲؂: خالد بن مخلد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۵:۲
۳؂: موسیٰ بن یعقوب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۸:۳
۴؂: عبد اﷲ بن ابی بکر:عبداﷲ بن ابی بکر بن زید المہاجر مجہول ہے اور طبقہ السادستہ سے ہے۔ (التقریب، صفحہ ۱۶۹)
۵؂: مسلم بن ابی سہل النبال:مسلم بن ابی سہل النبال کو محمد بھی کہا جاتا ہے، مقبول ہے۔ طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب صفحہ ۳۳۵)
۶؂: حسن بن اسامہ:حسن بن اسامہ بن زید الکلبی المدنی مقبول ہے۔ طبقہ الثالثہ سے ہے (التقریب،صفحہ ۶۸)
۷؂: اسامہ بن زیدص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۸:۶

ترجمہ اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ میں کسی کام کیلئے حضور3کی خدمتِ بابرکت میں رات کے وقت حاضر ہوا پس آنحضرت3باہر تشریف لائے درآنحا لیکہ آنجناب3کسی چیز کو لپیٹے ہوئے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھی۔ پس جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا۔ میں نے عرض کیا یہ کیا ہے جو آپ 3 لپیٹے ہوئے ہیں۔ پس حضور3نے اس چادر کو ہٹایا، پس اچانک آپ3کے کولہوں پر حسن اور حسین (علیہما السلام) تھے۔ تو ارشاد فرمایا کہ دونوں میرے بیٹے ہیں، میرے بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے میرے اﷲ ! بے شک تو جانتا ہے کہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں سو تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔

حل لغت طرق: رات کو آنا۔ ورک : کو لہو، سرین۔

تشریح ارشاد ہے ’’ پس اچانک آپ3کے کولہوں پر حسن اور حسین علیہما السلام تھے‘‘ یعنی جب آپ3نے چادر کو ہٹایا تو امامین کریمین علیہما السلام اس میں چھپے ہوئے تھے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط

ذکر المأثور فی الحسن و
الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ
’’ اس باب میں ان احادیث کا ذکر ہے جس میں فرمایا کہ جناب
حسن اور حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نوجوانان جنت کے سردار ہیں ‘‘
(اس باب میں تین احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۴۰؍۱ انبأنا عمرو۱؂ بن منصور قال حدثنا ابو نعیم۲؂ قال حدثنا یزید۳؂ بن مردانےۃ عن عبد الرحمن۴؂ بن ابی نعیم عن ابی سعید۵؂ الخدری قال قال رسول
اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ

ترجمہ ابی سعید خدری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول کریم3نے ارشاد فرمایا کہ (جناب امام) حسن ں اور (جناب امام) حسین ں نوجوانانِ بہشت کے سردار ہیں۔

تشریح اسنادہ حسن و الحدیث صحیح لطرقہ (البلوشی، صفحہ
۱۵۰)

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۰
۱ؔ ؂: عمرو بن منصور النسائی:عمرو بن منصور النسائی کی کنیت ابوسعید ہے۔ ثقہ ، ثبت اور طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۶۳)
۲؂: ابی نعیم (فضل بن دکین):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۲
۳؂: یزید بن مردانیہ:یزید بن مردانیہ الکوفی اصلاً اصفہانی ہے۔ صدوق ہے۔ طبقہ الخامسۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۸۵) وکیع ، ابن معین اور العجلی نے کہا ثقہ ہے۔ ابوحاتم نے کہا ’’ لا باس بہ‘‘(احمد میرین البلوشی ، خصائص امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب ص صفحہ۱۵۰)۔
۴؂: عبد الرحمن بن ابونعیم :ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۴
۵؂: ابی سعید الخدری ص: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۵

حد یث نمبر
۱۴۱؍۲ اخبرنا احمد۱؂ بن الحرب قال حدثنا ابن فضیل۲؂ عن یزید۳؂ عن عبدالرحمان۴؂ بن ابی نعیم عن ابی سعید۵؂ الخدری عن النبی صلی اﷲ علیہ والہ
وسلم قال ان حسنا و حسینا سیدا شباب اھل الجنۃ ما استثنی من ذالک

ترجمہ ابی سعید خدری نبی کریم3سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا بے شک حسن اور حسین (علیہما السلام ) نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔ حضور3نے کسی مرد کا استثناء نہیں فرمایا۔

حد یث نمبر
۱۴۲؍۳ اخبرنا یعقوب۱؂ بن ابراھیم و محمد۲؂ بن ادم عن مروان۳؂ عن الحکم۴؂ بن عبد الرحمن و ھو ابن نعیم عن ابیہ۵؂ عن ابی سعید۶؂ الخدری قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن و الحسین سیداشباب اھل الجنۃ الا
ابنی الخالۃ عیسی و یحیے بن زکریا

ترجمہ ابی سعید خدری سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم3نے فرمایا۔ حسن اور حسین (علیہما السلام) دونوں اہلِ جنت کے سردار ہیں۔ سوائے خالہ کے دوبیٹوں عیسیٰ اور یحیےٰ بن زکریا علیہما السلام کے۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۱
۱؂: احمد بن حرب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۱ 
۲؂: ابن فضیل(محمد بن فضیل):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷:۲ ۳؂:یزید بن مردانیہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴۰:۳
۴؂: عبد الرحمن بن ابی نعیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۴ ۵؂:ابی سعید الخدری ص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۵
اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۲
۱؂: یعقوب بن ابراہیم: یقوب بن ابراہیم بن کثیر بن افلح العبدی کی کنیت ابو یوسف الدورقی ہے۔ ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ سے ہے۔ ۲۵۲ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۸۶)
۲؂: محمد بن آدم:(محمد بن آدم بن سلیمان)ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۱:۲
۳؂: مروان:مروان بن معاویہ بن الحارث بن اسماء الغزاری کی کنیت ابوعبداﷲ کوفی ہے۔ ثقہ اور حافظ ہے۔ وکان یدلس اسماء الشیوخ طبقہ الثامنہ سے ہے۔ ۱۹۳ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۳۳)
۴؂: الحکم بن عبدالرحمن: الحکم بن عبد الرحمن بن ابی نعیم الکوفی البجلی صدوق اور صحیح الحفظ ہے۔ طبقہ السابعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۸۰)
۵؂: ابیہ(عبد الرحمن بن ابی نعیم):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۴
۶؂: ابی سعید الخدری ص: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۵

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم الحسن و الحسین ریحانتی من
ھذہ الا مۃ
’’ اس باب میں حضور3کے اس ارشاد مبارک کا ذکر ہے کہ اس امت میں سے جناب حسن اور حسین (علیہما السلام ) دونوں میرے پھول ہیں‘‘
(اس باب میں دو احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۴۳؍۱ انبأنا محمد۱؂ بن عبد الاعلی الصنعانی قال حدثنا خالد۲؂ عن اشعث۳؂ عن الحسن۴؂ عن بعض اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یعنی انس۵؂ بن مالک قال دخلت اوربما دخلت علی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ 
وسلم و الحسن و الحسین ینقلبان علی بطنہ قال و یقول ھما ریحا نتی من ھذہ لامۃ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۳
۱؂: محمد بن عبدالاعلیٰ:محمد بن عبدالاعلیٰ الصنعانی القیسی کی کنیت ابو عبداﷲ البصری ہے۔ ابو زرعہ اور ابو حاتم نے کہا ثقہ ہے۔ ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ ۲۴۵ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۹، صفحہ ۲۸۹)
۲؂: خالد (بن حارث):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۰۴:۳
۳؂: اشعث: اشعث بن عبدالملک الحمرانی کی کنیت ابا ہانی ہے، ثقہ ، فقیہہ اور طبقہ السادستہ سے ہے، ۱۴۲ھ میں فوت ہوئے۔(التقریب،صفحہ ۳۷)
۴؂: الحسن:یہ حسن بن ابی الحسن البصری ہے اور اس کے باپ کا نام یسا ر ہے۔ ثقہ ، فقیہہ ، فاضل اور مشہور ہے۔ وکان یرسل کثیرا و یدلس البزار نے کہا کان یروی عن جماعۃ لم یسمع یقول حدثنا و خطبنا یعنی قومہ الذین حدثوا و خطبوا باالبصرۃاو ر طبقہ الثالثہ کے اکابرین سے ہے۔ ۱۱۰ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۶۹)
۵؂: انس بن مالکص۔ ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۹:۶
ترجمہ انس بن ما لک فرماتے ہیں کہ میں حضور رسول کریم3کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو ایا اکثر اوقات جب میں آنحضرت3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتا تو (جناب امام ) حسن اور (جناب امام) حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما دونوں آپ3کے شکم مبارک پر کھیلتے تھے۔ راوی نے کہا کہ حضرت3فرماتے تھے اس امت میں میرے یہ دو پھول ہیں۔

حل لغت ریحان: رحمت ، روزی ، راحت ، آرام ، چین ، آسائش اور اولاد کو بھی ریحانکہتے ہیں کیونکہ ان سے دل کو راحت اور آنکھوں کو ٹھنڈ ک حاصل ہوتی ہے۔

تشریح ارشاد ہے’’ اس اُمت میں میرے یہ دو پھول ہیں‘‘ یعنی میں ان کو چومتا اور دل کو خوش کرتا ہوں ان سے مجھے راحت حاصل ہوتی ہے۔

حد یث نمبر
۱۴۴؍۲ انبأنا ابراھیم۱؂ بن یعقوب الجوزجانی قال حدثنا وھب۲؂ بن جریر ان اباہ۳؂ حدثہ قال سمعت محمد۴؂ بن عبد اﷲ بن ابی یعقوب عن ابن ابی نعیم۵؂ قال کنت عند ابن عمر فاتاہ رجل یسالہ عن دم البعوض یکون فی ثوبہ و یصلی فیہ فقال ابن عمر ممن انت قال من اھل العراق قال من یعذرنی من ھذا یسألنی عن دم البعوض و قد قتلوا ابن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یقول
الحسن و الحسین ھما ریحانتی من الدنیا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۴
۱؂: ابراہیم بن یعقوب: ابراہیم بن یعقوب بن اسحاق الجوز جانی ثقہ اور حافظ ہے رمی بالنصب طبقہ الحادےۃ عشرہ سے ہے۔ ۲۵۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ۲۴)
۲؂: وہب بن جریر: وہب بن جریر بن حازم بن زید کی کنیت ابوعبداﷲ الازدی البصری ہے۔ ثقہ ہے، طبقہ التاسعہ سے ہے۔ ۲۰۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۷۲)
۳؂: اباہ: یہ جریر بن حازم بن زید بن عبداﷲ الازدی ہے جس کی کنیت ابو النضرالبصری ہے۔ ثقہ ہے۔ لیکن جب یہ قتادہ سے روایت کرتا ہے تو اس کی حدیث میں ضعف پایا جاتا ہے جب حفظ سے بیان کرے تو وہم پیدا ہوتا ہے ،طبقہ السادسہ سے ہے۔ بعد ما اختلط لکن لم یحدث فی حال اختلاطہ(لیکن جب ذہن میں کمزوری پیدا ہوئی تواُس کے بعد حدیث بیان نہیں کرتا تھا)۱۷۰ ہجری میں فوت ہو۔ (التقریب،صفحہ ۵۴)
۴؂: محمد بن عبد اﷲ: محمد بن عبد اﷲ بن ابی یعقوب التیمی البصری ہے اور اپنے جد کی طرف نسبت کرتا ہے۔ ثقہ ہے، طبقہ السادستہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۶)
۵؂: ابن ابی نعیم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۴

ترجمہ ابن ابی نعیم سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عمرص کے پاس تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا۔ اس نے جس کپڑے پر مچھر کا خون لگا ہوا ہو اس میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا۔ تو ابن عمرصنے پوچھا تو کہا ں سے آیا ہے۔ اس نے کہا کہ میں عراقی ہوں۔ فرمایا کہ مجھے اس مسئلہ میں معذور رکھئے کہ وہ مجھ سے مچھر کے خون کے متعلق دریافت کرتا ہے حالانکہ انہوں نے جناب رسول اﷲ3کا بیٹا قتل کیا ہے اور میں نے حضرت رسول کریم3سے سنا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حسن اور حسین (علیہما السلام) یہ دونوں اس دنیا کے میرے دو پھول ہیں۔

حل لغت البعوض: مچھر۔

تشریح ارشا د ہے ’’ اس نے جس کپڑے پر مچھر کا خون لگا ہوا ہو اس میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا‘‘ یعنی کیا ایسے کپڑے میں نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ ارشاد ہے’’ تو کہا ں سے آیا ہے ‘‘ یعنی کن لوگوں سے ہے۔ ارشاد ہے’’ میں عراقی ہوں‘‘ یعنی ملک عراق کا رہنے والا ہوں۔ ارشاد ہے کہ ’’ حسن اور حسین (علیہماالسلام ) یہ دونوں اس دنیا کے میرے پھول ہیں‘‘ یعنی یہ دونوں میری خوشبو ہیں، میں ان سے محظوظ ہوتا ہوں یا دنیا میں میری روزی ہیں، میرا چین ہیں ، میری راحت ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جناب علی المرتضیٰصکو ارشاد فرمایا ’’اوصیک بریحانتی خیرا فی الدنیا قبل ان تنھدر رکناک‘‘’’ اے علی ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تم میرے ان دونوں پھولوں سے اچھی طرح دنیا میں پیش آؤ اس سے پہلے کہ تیرے دونوں ستون گرجائیں‘‘ جب آنحضرت3نے وصال فرمایا تو جناب علی المرتضیٰ3 نے فرمایا کہ ایک ستون آپ3تھے او رپھر جب جنابہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا تو فر ما یا کہ یہ دوسرا ستون تھا۔
صحیح رجال اسنادہ رجال الشخین الاابراہیم بن یعقوب جوزجانی وھو ثقہ
(احمد میرین البلوشی ، صفحہ
۱۵۵)
نوٹ بعض کتابوں میں اس باب کا عنوان ’’ھذہ الامۃ ‘‘ کی بجائے’’ ھذہ الدنیا‘‘کے الفاظ سے آیا ہے اور یہ دونوں الفاظ مبارکہ احادیث مذکوربالا موجود ہیں ۔ اس فقیر کے زیر نظر جو کتاب ہے اس میں چونکہ ’’ھذہ الامۃ‘‘ کے الفاظ ہیں لہٰذا باب کا عنوان انہی الفاظ میں نقل کیا گیا ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی کرم اﷲ وجہہ الکریم انت اعز علی
من فاطمۃ و فاطمۃ احب الی منک
’’ اب باب میں اس حدیث شریف کا ذکر ہے کہ جس میں ارشاد ہے کہ اے علی المرتضیٰ3تو عزیز ہے میرے نزدیک فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے اور
فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا مجھے تجھ سے محبوب تر ہے ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۴۵؍۱ اخبرنی زکریا۱؂ بن یحیے قال حدثنا ابن ابی عمر۲؂ قال حدثنا سفیان۳؂ عن ابن ابی نجیح۴؂ عن ابیہ۵؂ عن رجل قال قال سمعت علیا علی المنبر بالکوفۃ یقول خطبت الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فاطمۃ علیھا السلام فزوجنی فقلت یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم انا احب الیک ام ھی فقال ھی
احب الی منک و انت اعزالی منھا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۵
۱؂: زکریا بن یحییٰ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲:۱
۲؂: ابن ابی عمر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۷۱:۲
۳؂: سفیان:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۵:۳
۴؂: ابن ابی نجیح:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۶:۵
۵؂: ابیہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۶:۶

ترجمہ ایک صاحب سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب علی3 سے سنا جب کہ وہ کوفہ میں منبر پر فرما رہے تھے کہ میں نے جنابہ فاطمہ علیہا السلام کے نکاح کا پیغام جناب رسول اﷲ3کو بھیجا تو نبی کریم3نے ان کا نکاح مجھ سے کردیا۔ تو میں نے عرض کی یارسول اﷲ3! کیا آپ کے نزدیک میں محبوب ہوں یا فاطمۃ (الزہرا رضی اﷲ عنہا)؟ تو ارشاد فرمایا وہ تجھ سے محبوب ہے اور تو مجھ کو اس سے عزیز تر ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر قول النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی کرم اﷲ وجھہ الکریم ما سألت لنفسی شےئا الا و قد سألت لک
’’ اس باب میں نبی کریم 3 کے حضرت علی المرتضیٰ کے حق میں ان ارشادات کا بیان ہے کہ جو کچھ میں اپنے لئے مانگتا ہوں وہی تیرے لئے مانگتا ہوں‘‘
(اس باب میں دو احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۴۶؍۱ انبأنا عبد الاعلی۱؂ بن واصل قال حدثنا علی۲؂ بن ثابت قال حدثنا منصور۳؂ بن ابی اسود عن یزید۴؂ بن ابی زیاد عن سلیمان۵؂ بن ابی عبداﷲ بن الحارث عن جدہ۶؂ عن علی۷؂ قال مرضت فعادنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۶
۱؂: عبدالاعلیٰ بن واصل بن عبدالاعلیٰ:عبدالاعلیٰ بن واصل بن عبدالا علیٰ الاسدی ، الکوفی ثقہ ہے۔ طبقہ العاشرہ کے اکابرین سے ہے۔ ۲۴۷ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۹۵)
۲؂: علی بن ثابت: علی بن ثابت الدھان العطار الکوفی صدوق ہے۔ طبقہ العاشرہ کے اکابرین سے ہے۔ ۲۱۹ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۲۴۴)
۳؂: منصور بن ابی اسود: منصور بن ابی اسود اللیثی الکوفی کے والد کا نام حازم ہے۔ یہ صدوق ہے اور رمی بالتشیع ہے۔ طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۴۷)
۴؂: یزید بن ابی زیاد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۳
۵؂: سلیمان بن ابی عبد اﷲ: سلیمان بن ابی عبد اﷲ بن الحارث الہاشمی مجہول الحال ہے اور طبقہ السابعہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۱۳۴)
۶؂: جدہ:یہ سلیمان کا دادا الحارث بن نوفل بن الحارث ابن عبدالمطلب الہاشمی المکی ہے۔ صحابی ہے، بصرہ میں رہائش رکھتا تھا۔ حضرت عثمان ص کی خلافت کے آخر میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۶۱)
۷؂: علی المرتضیٰص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶
وسلم فدخل علی و انا مضطجع فاتکی الی جنبی ثم سجانی بثوبہ فلما رای قد ھدیت قام الی المسجد یصلی فلما قضی صلوتہ جآء فرفع الثوب عنی وقال قم یا علی (فقد برأت فقمت کان) لم اشتک شےئا قبل ذالک فقال ما سئلت ربی شےئا
فی صلاتی الا اعطانی وما سئلت لنفسی شیا الا قد سئلتہ لک

ترجمہ جناب علی المرتضیٰ3 سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہواتو حضور رسول کریم3میری عیادت کو تشریف لائے اور اندر آگئے در آنحا لیکہ میں لیٹا ہو ا تھا۔ پس حضور3نے میرے پہلو سے تکیہ لگایا پھر اپنے کپڑے کے ساتھ مجھے ڈھانپ دیا پس جب دیکھا کہ مجھے سکون آیا تو مسجد کو تشریف لے گئے تاکہ نماز پڑھیں۔ جب نماز ادا کرچکے تشریف لائے پھر مجھ پر سے (وہ ) کپڑا ہٹایا اور ارشاد فرمایا، اے علی ! اٹھ کھڑا ہو، میں کھڑا ہوا۔ اس حال میں کہ تندرست تھاگویا مجھے کوئی بیماری اس سے پیشتر تھی ہی نہیں۔ پس ارشاد فرمایا میں نے جب بھی اپنے رب تعالیٰ سے نماز میں کوئی چیز مانگی تو اس (جل جلالہ) نے مجھے عطا فرمائی اور (اے علی3 ) میں نے اپنے لئے اﷲ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں مانگی مگر وہ چیز میں نے تیرے لئے بھی مانگی۔

حل لغت ضجع: زمین پر پہلو لگانا، ڈوبنے کے قریب ہونا۔ تسجےۃ: ڈھاپنا۔ ھدأ، یھدأ، ھدأ و ھدوی: سکون ہونا، آرام پانا۔

تشریح ارشاد ہے’’ پھر اپنے کپڑے کے ساتھ مجھے ڈھانپ دیا‘‘ یعنی اپنی چادر مبارک مجھے اوڑھا دی جس سے آپصکو آرام آگیا۔ ارشاد ہے ’’ (اے علی3 ) میں نے اپنے لئے اﷲ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں مانگی مگر وہ چیز میں نے تیرے لئے بھی مانگی ‘‘ یعنی یہ کتنی عظیم فضیلت اور بزرگی ہے کہ جو چیز پیغمبر اسلام3اپنے لئے اﷲ تبارک و تعالیٰ سے طلب فرماتے وہی شے جناب سیدنا علی المرتضیٰ3 کیلئے بھی طلب فرماتے ہیں۔ آنحضرت3کی جناب علی المرتضیٰ3 کے ساتھ انتہائی محبت کا اظہار ہو رہا ہے۔
قال عبد الرحمن خالفہ جعفر الاحمر فقال عن یزید بن ابی زیاد عن عبداﷲ بن الحرب عن علی

حد یث نمبر
۱۴۷؍۲ اخبرنا القاسم۱؂ بن زکریا بن دینار قال حدثنا علی۲؂ بن قادم عن جعفر۳؂ الاحمر عن یزید۴؂ بن ابی زیاد عن عبد اﷲ۵؂ بن الحارث قال قال لی علی
(اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۷ ،اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے )
قال وجعت وجعا شدیدا فاتیت النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم فانا می فی مکانہ وقام یصلی و القی علی طرف ثوبہ ثم قال قم یا علی فقد برئت لاباس علیک وما دعوت اﷲ لنفسی شےئا الا دعوت لک بمثلہ و ما دعوت شےئا الا قد استجیبت لی
او قال اعطیت الا انہ قیل لی لانبی بعدک

ترجمہ عبداﷲ بن حارث سے روایت ہے اس نے کہا کہ مجھے جناب علی (المرتضیٰ3 ) نے فرمایا میں بہت ہی بیمار ہو گیا تو میں نبی کریم3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آنحضرت3نے مجھے اپنی جگہ سلا دیا۔ آنحضرت3نماز پڑھنے لگے اور مجھ پر اپنی چادر مبارک کا ایک کنارہ ڈال دیا۔ پھر ارشاد فرمایا اے علی اٹھ، تجھ سے بیماری چلی گئی اب تجھے کوئی (بیماری ) کا ڈر نہیں اور میں اپنے لئے اﷲ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں مانگتا ہوں مگر اسی طرح کی چیز تیرے لئے بھی مانگتا ہوں اور میں نے ( اﷲ تعالیٰ سے ) کوئی دعا نہیں مانگی، مگروہ دعا میرے لئے قبول ہوئی یا فرمایا مجھے وہ شے (اﷲ تعالیٰ نے) عطافرمائی مگر یہ کہ مجھے کہا گیا کہ تیرے بعد کوئی نبی نہیں۔

تشریح ارشاد ہے’’ مگر یہ کہ مجھے کہا گیا کہ تیرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘ یعنی چونکہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہے لہٰذا اے علی3 میں تیرے لئے یہ دعا نہیں کر سکتا۔







اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۷
۱؂: قاسم بن زکریا بن دینار:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۶:۱
۲؂: علی بن قادم:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۰:۲
۳؂: جعفر الاحمر:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۳:۵
۴؂: یزید بن ابی زیاد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۲۹:۳
۵؂: عبد اﷲ بن حارث:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۶۵:۷

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خص بہ النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی کرم اﷲ وجھہ الکریم
’’ اس باب میں ان ارشادات کا ذکر ہے جو کہ صرف علی 3کیلئے ہی فرمائے ‘‘
(اس باب میں دو احادیث شریف ہیں)

حد یث نمبر
۱۴۸؍۱ انبأنا احمد۱؂ بن حرب قال حدثنا قاسم۲؂ و ھو ابن یزید قال حدثنا لی سفیان۳؂ عن ابی اسحاق۴؂ عن ناجےۃ۵؂ بن کعب الاسدی عن علی۶؂ انہ اتی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال ان عمک الشیخ الضال قدمات فمن یواریہ قال اذھب فواز ایاک و لا تحدثن حدیثا حتی تأتینی قال ففعلت ثم اتیتہ
فامرنی ان اغتسل و دعا لی بدعوات ما یسر نی ما علی وجہ الارض بشیے منھن

ترجمہ جناب علی المرتضیٰ ص سے روایت ہے یہ کہ وہ جناب رسول کریم3کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی آپ3کی محبت میں وارفتہ آنجناب3کے بزرگ چچا انتقال فرماگئے ہیں۔ سوان کو کون دفنائے ؟ ارشاد فرمایا اے علی (3 )تو خود جا اور اسے دفن کر، جب تک تو میرے پاس واپس نہ آجائے کوئی بات نہ کر۔ جناب علی المرتضیٰ(3 ) نے فرمایا کہ جس طرح حضور3نے حکم فرما یا تھا میں نے کیا پھر میں حضرت رسول کریم3 کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا۔ پھر مجھے حکم فر مایا کہ جا نہا لے اور میرے لئے دعا فرمائی ایسی دعائیں فرمائیں کہ زمین کی تمام نعمتوں کے مقابلہ میں وہ دعائیں مجھے بھلی لگتی ہیں۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۸
۱؂: احمد بن حرب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۱
۲؂: قاسم بن یزید:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۲
۳؂: سفیان:یہ سفیان بن سعید بن مسروق الثوری ہے، اس کی کنیت ابوعبد اﷲ کوفی ہے۔ ثقہ ، حافظ ، فقیہہ ، عابد ، امام (حاشیہ اگلے صفحہ پر جاری ہے )

تشریح ارشاد ہے ’’ آنجناب3کے بزرگ چچا انتقال فرماگئے ہیں‘‘ یعنی میرے والد محترم جناب ابو طالب کا انتقال ہوگیا ہے۔ ارشاد ہے’’ جب تک تو میرے پاس واپس نہ آجائے کوئی بات نہ کر‘‘ یعنی بس تو نے اور کوئی دوسرا کام نہیں کرنا ہے اور نہ ہی کسی اور کی طرف متوجہ ہونا ہے سوائے اس بات کے کہ اپنے والد محترم کو دفن کر کے میرے پاس واپس آنا ہے۔ ایک روایت میں ہے ’’جب ابوطالبص فوت ہوئے تو اس کی اطلاع دینے کیلئے حضرت علی المرتضیٰ3 حضور 3 کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اﷲ 3 آپ کی محبت میں وارفتہ آپ کے بزرگ چچا انتقال کر گئے ہیں۔ تو حضور3رونے لگے اور فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے اور اس پر رحم فرمائے، جاؤ اور اس کو غسل دو اور تکفین و تدفین کا بندوست کرو اور جب فارغ ہوجاؤ تو سب سے پہلے ہمیں آکر ملو۔ جب فارغ ہو کر واپس آئے تو رسول اﷲ3نے آپ کو فرمایا پہلے جا کر غسل کرو پھر ایسی دعائیں دیں جو بقول سیدنا علی المرتضیٰ ص ان کیلئے دنیا اور مافیہا سے بہتر تھیں‘‘ ۔ ’’سیرت حلبیہ‘‘ ، ’’تاریخ الخمیس‘‘ اور ’’مدارج النبوۃ‘‘ سے ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام3نے جناب ابوطالب کے جنازہ میں بھی شرکت فرمائی۔ چنانچہ ’’سیرت حلیبہ‘‘
۶؍۴۷میں ہے
’’ و اما روی عنہ انہ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم عارض جنازۃ عمہ ابی طالب
فقال صلتک رحم و جزیت خیرا یا عم ‘‘ 
مگر روایت ہے کہ رسول اﷲ3اپنے چچا ابو طالب کے جنازہ کے ہمراہ تشریف لے گئے اور فرمایا اے چچا آپ نے حق صلہ رحمی ادا کردیا، اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔
’’تاریخ الخمیس‘‘
۱؍۳۶ مؤلفہ حسین بن محمدبن حسین دیار بکری لکھتے ہیں
’’ قال ابن عباس عارض رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم جنازۃ ابی طالب
و قال صلتک رحم جزاک اﷲ خیرا یاعم‘‘ 
یعنی ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضور3جناب ابو طالب کے جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے اور فرمایاآپ نے صلہ رحمی کی، اے چچا جان! اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے‘‘ ۔ 
بقیہ حاشیہ: اور حجۃ ہے۔ طبقہ السابعۃ کارئیس ہے۔وکان ربما دلس۔
۱۶۱ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۲۸)
۴؂: ابی اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۵؂: ناجےۃ بن کعب الاسدی۔ناجیہ بن کعب الاسدی ثقہ ہے۔ طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ایضا ووھم من خلطہ بالاول۔(التقریب،صفحہ ۳۵۵)
۶؂: علی المرتضیٰص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶
حضرت شیخ الہند شاہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی3’’مدارج النبوۃ ‘‘شریف جلد
۲ صفحہ ۶۹ میں تحریر فرماتے ہیں
’’ و نیز آور دہ کہ سیدِ عالم 3 ہمراۂ جنازۂ ابو طالب میرفت ومی گفت اے عمِ من صلہ رحم بجا آوردی و درحق تقصیر نہ کردی ، خدائے تعالیٰ ترا جزائے خیردہاد‘‘ 
یعنی روایات میں آتا ہے کہ سیدِ عالم3حضرت ابوطالب کے جنازہ کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اے میرے چچا! آپ صلہ رحمی بجالائے اور میرے حق میں آپ نے کوئی کمی یا غلطی نہیں کی اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
اور حضور3نے آپ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی کہ اس وقت نماز جنازہ مشروع نہیں تھی۔ صاحبِ ’’سیرت حلبیہ‘‘
۱؍۴۰ پر لکھتے ہیں 
’’ و فی کلام بعضھم صلاۃ الجنازۃ فرضت فی السنۃ الاولی من الھجرۃ و انہ مات قبل خدیجۃ رضی اﷲ عنھا ای بثلاثۃ ایام و دفن بالحجون و لم تکن الصلوۃ علی الجنازۃ شرعت‘‘
یعنی بعض کے کلام میں ہے کہ نمازِ جنازہ ہجرت کے پہلے سال فرض ہوئی اور ابو طالب حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے تین یوم پہلے فوت ہوئے اورحجون میں دفن ہوئے اور نماز جنازہ (اس وقت) مشروع نہیں تھی۔ارشاد ہے ’’کہ زمین کی تمام نعمتوں کے مقابلہ میں وہ دعائیں مجھے بھلی لگتی ہیں‘‘ یعنی تمام جہان کی سب نعمتیں ایک طرف اور میرے لئے حضور پاک3کی وہ دعائیں جو مجھے دی ہیں اس کے مقابلہ میں وہ سب نعمتیں ہیچ ہیں۔ اور دنیا کی وہ تمام نعمتیں میری نظر میں کوئی وقعت اور قیمت نہیں رکھتیں، اور دنیا اور مافیہا سے وہ مبارک دعائیں بہتر ہیں۔

حد یث نمبر
۱۴۹؍۲ انبأنا محمد۱؂ بن المثنی عن ابی داود۲؂ قال اخبرنی شعبۃ۳؂ قال اخبرنی فضیل۴؂ ابو معاذ عن الشعبی۵؂ عن علی۶؂ قال لما رجعت الی النبی صلی اﷲ
علیہ والہ وسلم قال لی کلمۃ ما احب بھا الدنیا

ترجمہ جناب علی المرتضیٰ 3 سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب میں نبی کریم3کی خدمتِ اقدس میں لوٹ کر آیا تو آپ3نے مجھے ایک بات ارشاد فرمائی۔ اس بات کے مقابلہ میں میں دنیا کو پسند نہیں کرتا۔

( اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۹، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے )

تشریح ارشاد ہے کہ ’’ اس بات کے مقابلہ میں میں دنیا کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی جس وقت میں اپنے والد محترم کو دفن کر کے واپس سیدِ عالمین3کی خدمت میں حاضر ہوا تو آنجناب3نے مجھے ایک ایسی بات ارشادفرمائی کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی سب نعمتیں میری نظر میں ہیچ ہیں اور مجھے قطعاً دنیا سے محبت نہیں رہی۔یعنی اپنے والد گرامی مرتبت کی اس آخری خدمت(تدفین) کے بعد آپ3نے جناب علی المرتضیٰ 3کو ایسی گراں قدر، عظیم الشان اور جلیل القدر دعا دی جسے امام الاولیاء سیدنا علی المرتضیٰ3اپنے لئے سرمایہ افتخار سمجھتے تھے اور اس دعائے نبویہ 3کے سامنے دنیا اور اس کی تمام نعمتیں پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں اور حضور3کی دعا بارگاہ الٰہی میں مقبول ہے۔ اس سے امام الاولیاء 3 کے عظیم الشان مقام و منصب پر روشنی پڑتی ہے اور اس سے آنجناب 3کی دنیا سے بے رغبتی کا بھی پتہ چلتا ہے۔












اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۴۹
۱؂: محمد بن المثنی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۱
۲؂: ابی داؤد:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۲:۲
۳؂: شعبۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۳
۴؂: فضیل: یہ فضیل بن میسرہ ہے۔ ابو معاذ اس کی کنیت ہے، البصری ہے، صدوق ہے، طبقہ السادسۃ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۷۷)
۵؂: الشعبی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳۱:۵
۶؂: علی المرتضیٰ ص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خص بہ علی کرم اﷲ 
وجہہ من صرف اذی الحر و البرد
’’ اس باب میں جناب سید نا امیر المومنین علی المرتضیٰ3کی اس خاص خصوصیت کا ذکر ہے کہ آپ ص کا وجود مبارک گرمی اور سردی کی ایذا سے محفوظ تھا ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۵۰؍۱ اخبرنا محمد۱؂ بن یحیے بن ایوب بن ابراھیم قال حدثنا ھاشم۲؂ بن مخلد الثقفی عن ایوب۳؂ بن ابراھیم قال محمد بن یحیے و ھوجدی عن ابراھیم۴؂ الصایغ عن ابی اسحق۵؂الھمدانی عن عبد الرحمن۶؂ بن ابی لیلی ان علیا خرج علینا فی حرشدید و علیہ ثیاب الشتآء و خرج علینا فی الشتآء و علیہ ثیاب الصیف ثم دعا بمآء فشرب ثم مسح العرق عن جبھتہ فلما رجع الی ابیہ قال یاابت ارأیت ما صنع امیر المؤمنین کرم اﷲ وجھہ الکریم خرج علینا فی الشتآء و علیہ ثیاب الصیف و خرج علینا فی الصیف و علیہ ثیاب الشتآء قال ابو لیلی ھل تطیب و اخذ بید ابنہ عبدالرحمن فاتی علیا فقال لہ علی ان النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کان بعث الی و انا ارمد شدید الرمد فبزق فی عینی ثم قال افتح عینیک ففتحتھما فما اشتکیتھا حتی الساعۃ و دعالی فقال اللھم اذھب عنہ الحر والبرد فما وجدت
حرا ولا بردا حتی یومی ھذا

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۵۰
۱؂: محمد بن یحییٰ: محمد بن یحیےٰ بن ایوب بن ابراہیم الثقفی کی کنیت ابویحیےٰ المروزی ہے۔ القصری ہے، المعلم، ثقہ اور حافظ ہے طبقہ العاشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۳۲۳) (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 
ترجمہ ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ بے شک جناب علی المرتضیٰ(3 ) بہت ہی سخت گرمی میں ہم پر تشریف لائے اس حال میں کہ آپصسردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے،اور سردی میں ہم پر تشریف لائے اس حال میں کہ آپ صگرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے پھر پانی مانگا، پھر اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا۔پس جب عبدالرحمن اپنے والد کیطرف واپس لوٹ کر آیا تو اس نے کہا کہ اے ابا جان آپ بتائیے کہ امیر المومنین3 نے یہ کیاکیِا ہے کہ سردی میں ہم پر تشریف لائے درآنحا لیکہ گرمی کا لباس پہنے ہوئے تھے اور گرمی میں ہم پر تشریف لائے درآنحالیکہ سردی کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ ابو لیلیٰ نے کہا کہ تو دل لگی کرتا ہے اور اپنے بیٹے عبدالرحمن کا ہاتھ پکڑ کر جناب علی المرتضیٰ ص کے پاس لے آیا ، تو جناب علی المرتضیٰ3نے اسے فرمایا یہ کہ جناب حضر ت نبی کریم3نے کسی شخص کو میرے پاس بھیجا (یعنی مجھے بلایا) اور اس وقت میری آنکھیں بہت ہی سخت دکھ رہی تھیں۔ تو حضور3نے اپنا لعابِ دہن میری آنکھوں پر لگایا پھر ارشاد فرمایا اپنی آنکھیں کھول دے۔ پس میں نے آنکھیں کھولیں تو اس وقت مجھے آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی اور میرے لئے دعا فرمائی۔ سو فرمایا اے میرے اﷲ ! اس(علی3 ) کو گرمی کی حرارت اورسردی کی ٹھنڈک سے محفوظ رکھ۔ پس اس کے بعد آج تک نہ تو مجھے گرمی لگتی ہے اور نہ سردی۔
حل لغت حر: گرمی۔ثیاب: کپڑے۔ الشتآء: سردی۔ الرمد: آنکھ دکھنا ، آشوب چشم والا۔ 
بزق: تھوکنا، لعابِ دہن لگانا۔
تشریح ارشاد ہے’’ آپصنے سردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ‘‘ یعنی انتہائی گرمی میں بہت ہی گرم لباس زیب تن فرمائے ہوئے تھے۔ ارشاد ہے’’ آپصگرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ‘‘ یعنی سردی میں نہایت ہلکے پھلکے کپڑے پہنے ہوئے تھے ‘‘ ارشادہے ’’ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا ‘‘ یعنی انتہائی سردی میں آپصکی پیشانی مبارک سے پسینہ نچڑ رہا تھا۔ ارشاد ہے ’’ اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر جناب علی المرتضیٰصکے پاس لے آیا‘‘ یعنی وہ سارا واقعہ جناب سیدنا علی المرتضیٰصکے متعلق جو اس کے بیٹے نے کہا تھا آپصکی خدمت میں عرض کر دیا۔ ارشاد ہے ’’ میری آنکھیں بہت ہی سخت دکھ رہی تھیں‘‘ یعنی یہ جنگِ خیبر کا واقعہ ہے جس کی تفصیل گزشتہ صفحات میں پیش 

بقیہ حواشی:
۲؂: ہاشم بن مخلد الثقفی: ہاشم بن مخلد بن ابراہیم الثقفی المروزی ہے، البزار ہے، صدوق ہے اور طبقہ الثامنۃ سے ہے۔ (التقریب صفحہ ۳۶۲)
۳؂: ایوب بن ابراہیم: ایوب بن ابراہیم الثقفی کی کنیت ابویحیےٰ ہے اور عبدویہ لقب ہے صدوق ہے طبقہ العاشرہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ۴۰)
۴؂: ابراہیم الصائغ: ابراہیم بن میمون الصائغ المروزی ہے ،صدوق ہے، طبقہ السادسۃ سے ہے۔ ۱۳۱ ؁ہجری میں قتل ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۴)
۵؂: ابی اسحاق(السبیعی): ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۲۲:۴
۶؂: عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ: ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۳:۶
کی جاچکی ہے۔ ارشاد ہے ’’مجھے آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی ‘‘ یعنی آپ3کے لعابِ دہن کی بدولت مجھے ایسی شفاء ہوئی کہ ایک تو فوراً آرام ہوگیا اور دوسرا پھر آنکھوں کا درد ہی نہیں ہوا۔ ارشاد ہے ’’ اس کے بعد آج تک نہ تو مجھے گرمی لگتی ہے اور نہ سردی ‘‘ یعنی حضور3کی دعا کی برکت ہے کہ نہ تو مجھے گرمی ستاتی ہے اور نہ لگتی ہے اور نہ ہی سردی۔ یہ خصوصیت کسی اور کیلئے نہیں جو کہ جناب امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیٰ3 کی ہے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر ما خفف بامیر المؤمنین 
علی ابن ابی طالب عن ھذہ الامۃ
’’ اس باب میں اس بات کا ذکر ہے کہ جناب علی 
المرتضیٰ 3 کے طفیل اس اُمت پر تخفیف کی گئی ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

حد یث نمبر
۱۵۱؍۱ اخبرنی محمد۱؂ بن عبد اﷲ بن عمار قال حدثنا قاسم۲؂ الجرمی عن سفیان۳؂ عن عثمان۴؂ وھو ابن المغیرۃ عن سالم۵؂ عن علی۶؂ ابن علقمۃ عن علی۷؂ قال لما نزلت یا ایھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول فقد موابین یدی نجوکم صدقۃ قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی مرھم ان یتصد قواقال بکم یارسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال بدینارقال لا یطیقون قال فنصف دینار قال لا یطیقون قال فبکم قال بشعیرۃ فقال لہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم انک لزھید فانزل اﷲ تعالی ااشفقتم ان تقدموابین یدی
نجوکم صدقت و کان علی رضی اﷲ تعالی عنہ یقول بی خفف عن ھذہ الامۃ

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۵۱
۱؂: محمد بن عبد اﷲ بن عمار: محمد بن عبد اﷲ بن عمار الخزاعی کی کنیت ابو جعفر ہے۔ آپ موصل میں رہائش پزیر رہے۔ ثقہ ، حافظ اور طبقہ العاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۲۴۶ ؁ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۳۰۵)
۲؂: قاسم الجرمی:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۹:۲
۳؂: سفیان(الثوری):ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۴۷:۳ 
۴؂: عثمان بن مغیرہ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۶۵:۴
۵؂: سالم: سالم بن ابی الجعد رافع الغطفانی الاشجعی الکوفی ہے۔ ثقہ ہے وکان یرسل کثیرا طبقۃ الثالثۃ سے ہے۔ ۹۷ہجری یا ۹۸ہجری میں وفات پائی۔ (التقریب،صفحہ ۱۱۴) (حواشی اگلے صفحہ پر جاری ہیں ) 
ترجمہ جناب علی المرتضیٰص سے روایت ہے کہ جس وقت یہ آےۂ کریمہ اُتری’’ اے ایمان والو! جب تم حضرت رسول اﷲ3سے کوئی بات آہستہ کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو‘‘ آنحضرت3 نے (جناب) علی (المرتضیٰ3 ) کو فرمایا کہ ان کو امر کرو کہ صدقہ دیں۔ عرض کیا یا رسول اﷲ3کس قدر؟ ارشاد فرمایا کہ ایک دینار۔ عرض کیا کہ جناب! اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا کہ آدھا دینار۔ عرض کیا کہ جناب اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا پھر کس قدر۔ عرض کیا جناب! ایک جو بھر سونا۔ جناب حضرت رسول کریم رحمت للعالمین3نے انہیں ارشاد فرمایا ، بے شک تو بہت بے رغبتی کرنے والا ہے، تو اﷲ تعالیٰ نے یہ حکم اتارا ’’کیاتم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دو‘‘ اور جناب علی المرتضیٰ ص فرماتے تھے کہ میری طفیل اس امت پر یہ تخفیف کی گئی ہے۔
حل لغت الزھید : کم ، حقیر ، تنگ خو، آخرت کی محبت کی وجہ سے دنیا سے بے رغبت۔

تشریح ارشاد ہے’’ ان کو امر کرو کہ صدقہ دیں‘‘ یعنی جب سرگوشی کرنا چاہیں تو اس سے پہلے کچھ نہ کچھ ضرور صدقہ خیرات کریں۔ ارشاد ہے ’’ یا رسول اﷲ3کس قدر؟ ‘‘ یعنی جناب سیدنا علی المرتضیٰ ص نے دریافت کیا کہ صدقہ کی مقدار کتنی ہو۔ ارشاد ہے ’’ایک جو بھر سونا‘‘ یعنی معاف فرمادیجئے کیونکہ ایک جو بھر سونا بہت ہی کم مقدار ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ارشاد ہے ’’ تو بہت بے رغبتی کرنے والاہے‘‘ یعنی اے علی المرتضیٰ3 تجھ پر تو آخرت کی محبت اتنی غالب ہے کہ تو اس دنیا کی ہوس اور مال و دولت کے حصول سے قطعاً منہ موڑ چکا ہے اور بے رغبت ہے۔ ارشاد ہے ’’ کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو‘‘ یعنی تم اپنی ناداری اور مفلسی کی وجہ سے ڈر گئے کہ اب تمہیں پیغمبر اسلام3کے حضور میں باریابی کا موقع نہ ملے گا اور اپنے مسائل حضرت رسول کریم3کی خدمتِ عالیہ میں پوشیدہ طور پر بیان کرنے کا وقت نہ ملے گا تو اﷲ تعالیٰ نے یہ حکم موقوف فرما دیا۔ ارشاد ہے ’’ اور جناب علی المرتضیٰ3 فرماتے تھے کہ میری طفیل اس اُمت پر یہ تخفیف کی گئی ہے ‘‘ یعنی حضور انور3کی خدمتِ عالیہ میں میری بار بار گزارش کرنے سے یہ حکم موقوف ہوا۔ صاحب ’’روح المعانی‘‘ اپنی تفسیر کی جلد
۲۸ صفحہ ۲۸ مطبوعہ ایران ،اس آےۂ کریمہ کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں

بقیہ حواشی:
۶؂: علی بن علقمہ: علی بن علقمہ الانماری الکوفی مقبول ہے اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔(التقریب،صفحہ ۲۴۷)یہ حضرت علیص اور ابن مسعودص سے روایت کرتاہے اور اس سے سالم بن ابی الجعد روایت کرتا ہے۔ امام بخاری نے کہا ’’فیہ نظر‘‘ ابن حبان نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ عقیلی اور ابن جارود نے اسے تبعا للبخاری علی العادۃ ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب،جلد ۷ صفحہ ۳۶۵)
۷؂: علی المرتضیٰص:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱:۶
’’ اخرج الحاکم و صححہ ابن المنذر وعبد بن حمید و غیر ھم عنہ کرم اﷲ وجہہ انہ قال ان فی کتاب اﷲ لایہ ما عمل بھا احد قبلی ولا یعمل بھا احد بعدی اےۃ النجوی یا ایھا الذین امنوا اذا نا جیتم الرسول کان عندی دینار فبعتہ بعشرۃ دراھم فکنت کلمانا جیت النبی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قدمت بین 
یدی نجوا ی درھما ثم نسخت فلم یعمل بھا احد فنزلت ااشفقتم الاےۃ‘‘
’’یعنی ابن المنذر اور عبد بن حمید وغیرہم نے جناب علی المرتضیٰصسے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ یقیناًاﷲ تعالیٰ کی کتاب میں ایک ایسی آےۂ کریمہ ہے (کہ اس کے نازل ہونے پر) مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ ہی میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گا۔ وہ آیہ کریمہ آیت ’’ النجویٰ‘‘ ہے۔ یعنی اے ایمان والو! جب تم حضرت رسول اﷲ3سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو۔۔ الخ۔ جب یہ آیت اتری تو اس وقت میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اسے تڑوایا تو دس درہم ملے۔ پھر ایک ایک سرگوشی پر ایک ایک درہم صدقہ کیا۔ تو یہ آیۂ کریمہ ڈرے تم ۔۔الخ، اتری تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ گویا میرے بعد کسی نے بھی اس آیت پر عمل نہیں کیا ‘‘ (اخرج الحاکم وصححہ ) اﷲ تعالیٰ نے حضور3کے طفیل اس عزت سے جناب سیدنا علی المرتضیص کو ہی سرفرازفرمایا کہ قرآن حکیم کی اس آےۂ مبارکہ پر کسی اور صحابی کو عمل کرنے کا موقع نصیب نہیں ہوا۔ ابن مردویہ ، جناب عبداﷲ بن عمر ص سے تخریج فرماتے ہیں کہ ابن عمر ص فرماتے ہیں کہ جناب علی المرتضیٰ (3 ) میں تین باتیں ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے حاصل ہوتی تو مجھے سرخ پشم والے اونٹ سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ ’’تزویجہ فاطمۃ واعطا الرأےۃ و اےۃ النجوی ‘‘ جناب سیدہ طاہرہ فاطمتہ الزہرا سلام اﷲ علیہا سے ان کا نکاح ہونا اور (خیبر کے موقع پر ) ان کو علَم دیا جانا اور آیتِ نجویٰ کے ساتھ ان کا عمل کرنا‘‘۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
ذکر اشقی الناس
’’ اس باب میں اس ارشادِ گرامی کا ذکر ہے کہ 
آیا میں تمہیں سب سے زیادہ بد بخت شخص کے متعلق نہ بتاؤں ‘‘
(اس باب میں ایک حدیث شریف ہے)

تشریح یعنی وہ آدمی سب سے بڑھ کر بدبخت آدمی ہے جو کہ سیدنا امیر المومنین حضرت علی ں کو شہید کرے گا۔

حد یث نمبر
۱۵۲؍۱ اخبرنی محمد۱؂ بن وہب ابن عبد اﷲ بن سماک قال حدثنا محمد۲؂ بن سلمۃ قال حدثنا ابن اسحاق۳؂ عن یزید۴؂ بن محمد بن خثیم عن محمد۵؂ بن کعب القرظی عن محمد۶؂ بن خثیم عن عمار۷؂ بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہ قال کنت انا وعلی ابن ابی طالب رفیقین فی غزوۃ فلما نزلھا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم و اقام بھا راینا اناسا من بنی مدلج یعملون فی عین لھم اوفی نخل لھم فقال لی علی یا ابایقظان ھل تک ان تأتی ھؤلٓاء فتنظر کیف یعملون قال قلت ان شئت فجئناھم فنظرنا الی عملھم ساعۃ ط ثم غشینا النوم فانطلقت انا و علی حتی اضطجعنا فی ظل سور من النخلۃ فی دقعات من التراب فنمنا فواﷲ ما انتبھنا الارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم یحرکنا برجلہ فقد تربنا من تلک الدقعات التی نمنا علیھا فیومئذ قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم لعلی یا ابا تراب لما یری مما علیہ من التراب ثم قال الا احدثکم باشقی الناس قلنا بلی یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم قال احمر ثمود الذی عقر الناقۃ و الذی یضربک یاعلی علی ھذہ و وضع یدہ
علی ضربۃ حتی تبل منھا ھذہ و اخذ بلحیتہ

ترجمہ عمار بن یاسرص سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور علی ابن ابی طالب ایک جہاد میں ہم سفر تھے تو حضور3ایک مقام پر اُترے او رٹھہرے (وہاں پر) ہم نے بنی مدلج کے لوگوں کو دیکھا۔ وہ اپنی نہر یا کجھوروں
(اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۵۲، اگلے صفحہ پر ملاحظہ کیجئے )
(کے باغ) میں کام کر رہے تھے۔ تو (جناب) علی المرتضیٰ (ص) نے مجھے فرمایا کہ اے ابا یقظان ، کیا تیری مرضی ہے کہ ان لوگوں کے پاس جا کر تو دیکھے کہ یہ کس طرح کھیتی باڑی کرتے ہیں؟ تو میں نے کہا اگر آپ کی خواہش ہے تو ہم جا کر ان کے کھیتی باڑی کرنے کو دیکھیں۔ پس ہم نے کچھ دیر ان کی کارکردگی کو دیکھا۔ پھر ہم پر نیند کا غلبہ ہوا، تو میں اور علی المرتضیٰ(3 ) وہاں سے چلے یہاں تک کہ ہم مٹی کے ڈھیلوں میں لیٹ گئے جو کہ کھجور کی دیوار کے سائے میں پڑے ہوئے تھے، پس ہم دونوں سو گئے۔ پس قسم ہے اﷲ تعالیٰ کی! کہ حضور رسول کریم3کے سوا کسی نے ہم دونوں کو نہیں جگایا۔ ہمیں حضور3اپنے پاؤں مبارک سے حرکت دے رہے تھے۔ (جس کی وجہ سے ہم نیند سے بیدار ہوگئے) پس تحقیق ان ڈھیلوں سے جن پر ہم سوئے ہوئے تھے ہمار ا تمام جسم مٹی سے اٹ گیا تھا۔ تو اس دن حضرت رسول کریم3نے جناب علی المرتضیٰ(3 ) کو فرمایا اے مٹی کے باپ! جب ان پر مٹی ملاخطہ فرمائی۔ تو ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں بد بخت انسانوں میں سب سے زیادہ بد بخت کی خبر نہ دوں؟ ہم نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ3ضرور بتائیے۔ فرمایا قوم ثمود کا سرخ وہ شخص جس نے اونٹنی کی کھچیں کاٹ دی تھیں او روہ شخص علی (3 )جو کہ تمہیں اس مقام پر مارے گا، اور مارنے کے مقام پر ہاتھ رکھا یہاں تک کہ تربتر ہوگی اس کے مارنے سے اورآپ کی ڈاڑھی مبارک پکڑی۔

اسماء الرجال حدیث نمبر
۱۵۲
۱؂: محمد بن وہب:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۴۳:۳
۲؂: محمد بن سلمۃ:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۱۱۴:۳
۳؂: ابن اسحاق:ملاحظہ کیجئے اسماء الرجال حدیث نمبر۵۴:۴
۴؂: یزید بن محمد: یزید بن محمد بن خثیم مقبول ہے۔ طبقہ السادسہ سے ہے (التقریب،صفحہ ۳۸۴)یہ محمد بن کعب القرظی سے روایت کرتا ہے اور وہ محمد بن خثیم سے روایت کرتا ہے، وہ عمار سے روایت کرتا ہے اور اس (یزید)سے محمد بن اسحاق روایت کرتا ہے۔ عثمان دارمی نے ابن معین سے روایت کی ہے ’’لیس بہ باس‘‘ بخاری نے کہا ’’لا یعرف سماع بعضہم من بعض‘‘ ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب،ج ۱۱ ص ۳۵۷ )
۵؂: محمد بن کعب القرظی: محمد بن کعب بن سلیم بن اسد القرظی المدنی ہے، ابو حمزہ اس کی کنیت ہے۔ پہلے کوفہ میں رہتا تھا پھر مدینہ آیا ثقہ ، عالم اور طبقہ الثالثہ سے ہے۔ ۱۲۰ ؁ہجری میں فوت ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۳۱۶)
۶؂: محمدبن خثیم: اس کی کنیت ابو یزید المحاربی ہے۔ مقبول ہے ولد علی عہد النبی صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم طبقہ الثانیہ سے ہے۔ (التقریب،صفحہ ۲۹۶)
۷؂: عمار بن یاسرص : عمار بن یاسرص بن عامر بن مالک العنسی ہے ،ابو الیقظان کنیت ہے۔ بنی مخزوم کا مولیٰ ہے، صحابی جلیل ہے، مشہور ہے السابقین الاولین سے ہے، بدری ہے حضرت علی المرتضیٰ 3 کے ہمراہ رہا اور ۳۷ہجری میں صفین میں شہید ہوا۔ (التقریب،صفحہ ۲۵۰)

حل لغت غشی ، اور غشی اور غشیان: بے ہوش ہونا ، غالب ہونا غشی کا۔ اضطجعنا : ہم لیٹ گئے۔ ظل: سایہ۔ سور: دیوار۔ دقعات: ڈھیلے ، خاک نشین ہونا۔ نوم: سونا ، نیند کرنا۔ تربنا: ہم خاک آلود ہو گئے، مٹی سے اَٹ گئے۔

تشریح ارشاد ہے’’ ہم نے بنی مدلج کے لوگوں کو دیکھا‘‘ یعنی حضور نبی کریم3نے جس مقام پر نزول اجلال فرمایا وہ بنی مدلج قبیلہ کے دیہات تھے۔ ارشاد ہے’’ وہ اپنی نہر یا کھجور وں ( کے باغ) میں کام کر رہے تھے ‘‘ یعنی اپنے باغات کو پانی دے رہے تھے یا باغات میں زمینداری میں مصروف تھے،اپنے کام کاج کر رہے تھے۔ ارشاد ہے ’’ اے ابا یقظان ‘‘ یعنی ابا یقظان جناب عمار بن یاسرص کی کنیت ہے۔ ارشاد ہے’’ حضرت رسول کریم3نے جناب علی المرتضیٰ (3 )کو فرمایا اے مٹی کے باپ‘‘ یعنی حضور3کے اس ارشادِ گرامی کی وجہ سے آپصکی کنیت ’’ ابو تراب‘‘ مشہور ہو گئی۔ ارشاد ہے’’ قوم ثمود کا سرخ وہ شخص جس نے اونٹنی کی کھچیں کاٹ دی تھیں ‘‘ یعنی بدبخت انسانوں میں قوم ثمود کا وہ سرخ بدبخت انسان تھا جس نے جناب صالح ں کی اونٹنی کی کھچیں کاٹ دی تھیں۔ ارشاد ہے’’ یہاں تک کہ تربتر ہوگی اس کے مارنے سے اور آپ کی ڈاڑھی مبارک پکڑی ‘‘ یعنی جناب سیدنا علی المرتضیٰ3 کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا اے علی3 وہ شخص انتہائی بد بخت ہے جو تجھے مارے گا اور تیری ڈاڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی اور مارنے کا مقام اپنے دست مبارک سے بتایا۔ اس ارشاد گرامی سے دو امور روزِ روشن کی طرح ثابت ہو رہے ہیں۔ ایک تو حضور سرورِ عالم و عالمیان3کا غیب کی خبر دینا، اور ایسی غیب کی خبر دینا جو کہ تقریباً تیس یا پینتیس سال بعد وقو ع پزیر ہورہی ہے اور دوسرا جناب سیدنا امیر المومنین علی المرتضیٰ3 کی شہادت۔ کتنا بدبخت ترین تھا وہ شخص جس نے جناب امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ3 کو شہید کیا۔

 

 

Professionals

Joomla! 1.6 continues development of the Joomla Framework and CMS as a powerful and flexible way to bring your vision of the web to reality. With the administrator now fully MVC, the ability to control its look and the management of extensions is now complete.

Register to read more...

Articles

 

Articles in news about Hazrat syed Muhammad Ali shah Gillani Rehmat aullah alaih

Administrator Components

All components also are used in the administrator area of your website. In addition to the ones listed here, there are components in the administrator that do not have direct front end displays, but do help shape your site. The most important ones for most users are

  • Media Manager
  • Extensions Manager
  • Menu Manager
  • Global Configuration
  • Banners
  • Redirect

Â

Media Manager

The media manager component lets you upload and insert images into content throughout your site. Optionally, you can enable the flash uploader which will allow you to to upload multiple images. Help


Extensions Manager

The extensions manager lets you install, update, uninstall and manage all of your extensions. The extensions manager has been extensively redesigned for Joomla! 1.6, although the core install and uninstall functionality remains the same as in Joomla 1.5. Help


Menu Manager

The menu manager lets you create the menus you see displayed on your site. It also allows you to assign modules and template styles to specific menu links. Help


Global Configuration

The global configuration is where the site administrator configures things such as whether search engine friendly urls are enabled, the site meta data (descriptive text used by search engines an indexers) and other functions. For many beginning users simply leaving the settings on default is a good way to begin, although when your site is ready for the public you will want to change the meta data to match its content. Help


Banners

The banners component provides a simple way to display a rotating image in a module and, if you wish to have advertising, a way to track the number of times an image is viewed and clicked. Help



Redirect

The redirect component is used to manage broken links that produce Page Not Found (404) errors. If enabled it will allow you to redirect broken links to specific pages. It can also be used to manage migration related URL changes. Help

Audio Corner

GAnalytics Counter

Tazkara mashaikh e Sarhad

(Memoir of the Shuyūkh and Islamic Scholars of the Frontier, Volume I ) Pages 291 

  Download Here 

Salat e Ghousia

 (The Ghawthiya Prayer) 72 pages .Published by Maktaba e Al Hassan, 1992.

Download Here

Hayat-un-Nabi

Life( of the Prophet) Translation of Arabic Journal ‘Tuhfat-ul- Fahul Fi Istaghasa Bir Rasul’ 

Download Here

Free business joomla templates

Distributed by SiteGround