• Facebook Page: 136926555783
  • YouTube: user/alameeria

Mul­ti­me­dia con­tent Replication

Our com­plete mul­ti­me­dia library is avail­able at alamee­ria youtube chan­nel, how­ever as youtube has been blocked in Pak­istan we plan to repli­cate the con­tent to other stream­ing chan­nels which are acces­si­ble in Pakistan

Abu al Barakat Hazrat Syed Hasan Bad­shah Rah­mat ullah alaih

Arti­cle Index

ابوالبرکات حضرت سید حسن بادشاہ صاحب قادری رحمتہ اللہ علیہ بغداد ثم پشاوری

اِسم مبارک
حضور کا نام نامی اور اسم گرامی سید حسن قاردیؒ ہے مگر مختلف ممالک میں آپ مختلف ناموں سے مشہور ہیں۔ مثلاً بر صغیر ہند و پاک میں آپ کو سید حسنؒ ، علاقہ ہائے کشمیر و پو نچھ میں شاہ ابوالحسنؒ اور صو بہ سرحد میں سید حسن بادشاہؒ سے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اہل پشاور آپ کو ازراہِ خلوص و عقیدت ’’میراں سرکار ‘‘ کے دلپسند نام سے یادکرتے ہیں، مؤخر الذکر نا م حضو ر کی اس نسبت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو آپ کو حضر ت غوث الا عظم رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکات سے ہے۔



نسبِ عالی


آپ صحیح النسب سید ہیں۔آپ کا سلسلۂ نسب پندرہ پشتوں کے بعد حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ اور اٹھائیس پشتوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک پہنچتا ہے، شجرۂ مبارک حسب ذیل ہے:-
(
۱)۔ حضرت علی ابن ابی طالب(۲) حضرت امام حسن(۳) حضرت حسن مثنٰی(۴) حضرت عبداللہ محض(۵) حضرت موسٰی الجون(۶) حضرت عبداللہ(۷) حضرت موسٰی (۸) حضرت داؤد(۹) حضرت محمد (۰۱) حضرت یحےٰی زاہد(۱۱) حضرت ابو عبداللہ(۲۱)حضرت ابو صالح موسٰی(۳۱) حضرت شیخ المشائخ سید عبدا لقادر جیلانی(۴۱) سید عبدا لرزاق(۵۱) سید ابو صالح نصر(۶۱) سید شہاب الدین احمد(۷۱) سید شرف الدین احمد یحےٰی(۸۱) سید شمس الدین(۹۱) سید علاؤ الدین علی(۰۲) سید بدر الدین حسن(۱۲) سید شرف الدین یحےٰی(۲۲) سید شرف الدین قاسم(۳۲) سید احمد(۴۲) سیدحسین (۵۲) سید عبد الباسط(۶۲) سید عبد القادر(۷۲) سید محمود(۸۲)
سیدعبداللہ(۹۲) سید حسن ، رضوان اللہ تعالٰے علیہم اجمین۔

متذکرہ بالا سلسلۃ الذھب اتنا صحیح ، مستند اور مشہور ہے کہ اس کے بار ہ میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ، تاریخ انساب ۱؂ کی



جملہ مستند کتابوں سے اس کی صحت کا ثبوت ملتا ہے نیز اولیائے و سادات کے حالات و سوانح سے متعلق جملہ اہم مطبوعات میں بلا کم و کاست آپ کی یہی شجرہ موقوم ہے اور اس ضمن میں کسی نوع کے اختلاف کا کوئی اظہار آج تک نہیں کیا گیا۔ اِس سلسلہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت اما م حسن علیہ السلام کے فرزند سید حسن مثنٰیؓ کا عقد حضرت امام حسینؓ کی دختر فرخند ہ اختر حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالےٰ عنہا سے ہوا تھا اور ان دونو ں بزرگوں کی جملہ اولاد حسنی اور حسینی کہلاتی ہے اس کے علاوہ حضرت غوث الاعظمؓ کی والدہ ماجدہ حضرت سید الشہداء کی اولاد میں سے ہیں لہٰذا ان ہر دو بنا پر یہ کہدینا بے محل نہ ہو گا کہ حضرت سید حسن قاردی رحمت اللہ علیہ بلحاظ نسب حسنی اور حسینی ہونے کی مقدس خصوصیت سے ممتاز ہیں۔
ولادت با سعادت
حضرت سید حسنؓ قادری رحمت اللہ علیہ ماہ جمادی آلاخر
۳۲۰۱ ؁ھ میں ٹھٹہ کے مقام ہر کتمِ عدم سے منصہ شہود میں آئے جو کراچی سے ۲۵ میل اور جنگ شاہی ریلوے اسٹیشن سے گیارہ میل سے فاصلہ پر واقع ہے ۔ اس شہر کو سند ھ کی ملکی اور سیاسی تاریخ میں کافی اہمیت حاصل ہے۔ آپ کی ولادت با سعادت کے متعلق سید غلام صاحبؒ نے اپنے جدّ امجد حضرت سید شاہ محمد غوث رحمت اللہ علیہ کی زبانی یوں ۲؂روایت کی ہے ’’چون اوشاں (سید عبداللہ صاحبؒ ) بعزم سیاحت از بغداد شریف کہ وطن اصلی آباد و اجداد ایشاں بود۔ برآمدند اتفاقاً در ملک تہتہ (ٹھٹہ) رسید ند۔ درانجا بمو جب قید الماءِ اشد من قید الحدید، چند روز توقف بوقوع آمد ، پس در خانۂ بعضی سادات صحیح النسب کہ متوطن آں ملک بودند متاہل شدند ، حق تعالیٰ بایشان دو فرزند عطا فرمود ، یکے را بحضرت سید حسن و دوئم را بحضرت سید محمد فاضل نامیدند‘‘ قارئین کرام کی سہولت کے لئے اِس اقتباس کا اُردو ترجمہ درج ذیل ہے۔


’’ جب آپ (یعنی آپ کے والد محترم سید عبداللہ صاحب) اپنے آبائی وطن بغداد شریف سے بغر ض سیر و سیاحت نکل پڑے ۔ تو اتفاق سے ’’ٹھٹہ‘‘ پہنچے اور وہا ں پر بمصداق اس عربی مقولہ کے’’ کہ آب و دانہ کی زنجیریں فولادی زنجیروں سے بھی مضبوط تر ہوتی ہیں۔‘‘ تو قف وقوع میں آیا ۔ یہاں پر آپ نے مقامی صحیح النسب سادات کے ایک گھرانے میں شادی کی، خداوند بزرگ وبرترنے آپ کو دو فرزند عطا فرمائے۔ آپ نے ایک کا نام سید حسن اور دوسرے کا نام سید محمد فاضل رکھا۔‘‘
حضرت سید شاہ محمد غوثؒ نے آپ کی ولادت کے متعلق ایک قلمی رسالہ میں یوں تحریر فرمایا ہے کہ’’ جدِّ فقیر سید عبد اللہ از بغداد بملک تہتہ تشریف آوردند و در آ نجا در خانۂ بعضے سادات منسوب شدند والدِ فقیر در آنجا متولد گشتند‘‘ یعنی ’’ مجھ فقیر کے دادا سید عبداللہؒ بغداد سے ٹھٹہ تشریف لائے اور وہاں سادات کے ایک گھرانے میں رشتہ کیا۔ مجھ فقیر کے والد وہیں تولد ہوئے۔‘‘
کسی کو کیا معلوم تھا کہ اشاعتِ دین متین ، علم اور تصوف کی خدمت کا جو فریضہ خاندان قادریہ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے یہ نومولود اس کی ادائیگی میں اس عالی ہمتی ، ثابت قدمی اور فہم وفراست کا ثبوت دیگا کہ جس کی مثال ڈھونڈھے سے نہ ملیگی ، کوئی کیاجانتا تھا کہ آسمان ولایت کا یہ چمکتا ہو ا سورج ہند قدیم کے ظلمت کدۂ کفر و شرک کو اپنی نورانی کرنوں سے روزِ روشن میں بدل دیگا۔ اور اپنی قّوتِ ایمانی سے لاکھوں ترستی ہوئی روحوں کو نشۂ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ سے سرشار کرکے ایمان کی دولت سے مالامال کردیگا!کوئی کیا تصور کر سکتا تھا کہ حضور سرور کائنات ﷺ کی سنت مطہرہ ، حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے نقشِ قدم، حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے مسلک اور اپنے آباواجداد کی جاأہ مستقیم پر چلتے ہوئے یہ روشن ضمیر، فقر اور علم کے پھریرے اڑاتا ہوا طول و عرض ہند میں اسلام کی سر بلندی کے لئے منزل بہ منزل آگے بڑھتا چلاجائیگا۔ اور اس کی حیات کا ہر لمحہ صرف ذکر الہٰی اور اشاعت دینِ نبوی ﷺ کے لئے وقف رہیگا۔
_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​_​
نوٹ-​: حضرت سید حسن قادری ؒ کے والد ماجد حضرت سید عبداللہ الملقب بہ شاہ نورالدین جنہیں صوبہ سندھ میں صحابی رسول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ بغداد سے تشریف لائے تھے کہ موؤخ کشمیر مفتی محمد شاہ سعادتؔ تحریر فرماتے ہیں ’’ سید شاہ عبداللہ کو شاہ نورالدین کے لقب سے یاد کرتے ہیں‘‘۔ سر نیگر (کشمیر) میں ایک خاندان سید نورالدین کو شاہ عبداللہ کابھائی بتلاکر اُن کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ جو کہ بالکل غلط ہے۔ شاہ عبداللہ اکیلے بغداد سے تشریف لائے تھیا اور اُنکا کوئی دوسرابھائی نہ تھا ۔ بعض مصنفین اور مولفین نے آپ کی قبر کی جگہ حجرہ شاہ مقیم بتلائی ہے جو قطعاً غلط ہے ۔آپ کے دفن کی جگہ ہمارے خاندان اور آبائے کرام کی کتابوں میں اتنی وضاحت سے درج ہے کہ خاندان کا بچہ بچہ اس سے واقف ہے ۔ حتیٰ کہ حضور کی اولا د کے خاندانی شجروں میں بھی آپ کے اسم گرامی کے قبر کی جگہ دکھائی گئی ہے ایسا اندراج ہمارے اپنے شجرے میں بھی موجود ہے اور آقہ سعادت شاہ قادری نے بھی جب اپنا شجرہ مطالعہ کیلئے دیا تو اس میں بھی آپ کے اسم گرامی کے ساتھ اِسی قسم کا اندراج موجود تھا۔

Tazkara mashaikh e Sarhad

(Mem­oir of the Shuyūkh and Islamic Schol­ars of the Fron­tier, Vol­ume I ) Pages 291

Down­load Here

Salat e Ghousia

(The Ghawthiya Prayer) 72 pages .Pub­lished by Mak­taba e Al Has­san, 1992.

Down­load Here

Hayat-​un-​Nabi

Life( of the Prophet) Trans­la­tion of Ara­bic Jour­nal ‘Tuhfat-​ul– Fahul Fi Istaghasa Bir Rasul’

Down­load Here

Free busi­ness joomla tem­plates

Dis­trib­uted by Site­Ground